جمعرات, مارچ 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 353

بورس جانسن نے خفیہ طریقے سے اپنی گرل فرینڈ کیری سائمنڈ سے شادی رچا لی

0
بورس جانسن نے خفیہ طریقے سے اپنی گرل فرینڈ کیری سائمنڈ سے شادی رچا لی
بورس جانسن نے خفیہ طریقے سے اپنی گرل فرینڈ کیری سائمنڈ سے شادی رچا لی

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے چھپ چھپا کر اپنی گرل فرینڈ کیری سائمنڈ سے شادی کر لی۔ ایک سو نناوے برس میں پہلا موقع ہے کہ کسی برطانوی لیڈر نے وزارت عظمیٰ کے دور میں شادی کی ہو۔ 56 سالہ بورس جانسن کی یہ تیسری اور کیری سائمنڈ کی پہلی شادی ہے۔

لندن: برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے چھپ چھپا کر اپنی گرل فرینڈ کیری سائمنڈ سے شادی کر لی۔ برطانوی اخبار ’دی سن‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ بورس جانسن اور کیری سائمنڈ کی شادی ویسٹ منسٹر کے کیتھیڈرل میں ہوئی، جس میں صرف 30 افراد نے شرکت کی۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ تاریخی عمارت سیاحوں سے یہ کہہ کر خالی کرائی گئی کہ لاک ڈاؤن کیا جارہا ہے۔

ایک سو نناوے برس میں پہلا موقع ہے کہ کسی برطانوی لیڈر نے وزارت عظمیٰ کے دور میں شادی کی ہو۔ مقامی میڈیا نے اتوار کے روز اپنی رپورٹوں میں یہ اطلاع دی۔ خیال رہے برطانوی وزیر اعظم کی یہ شادی 30 جولائی 2022 کو ہونے والی تھی۔

اخبار’دی سن‘ کے مطابق بورس جانسن اور سائمنڈ کی تقریب تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی اور اس دوران چرچ بند کردیا گیا تھا۔ اخبار نے چرچ کے ایک کارکن کے حوالے سے بتایا ’’وہ پریشان نظر آئے‘‘۔

56 سالہ بورس جانسن کی یہ تیسری اور کیری سائمنڈ کی پہلی شادی ہے۔

غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ریکارڈ سطح پر

0
غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ریکارڈ سطح پر
غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ریکارڈ سطح پر

ریزرو بینک آف انڈیا سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق 21 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 2.87 ارب ڈالر کے اضافے سے یہ 592.89 ہوگیا، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔

ممبئی: ملک کا غیر ملکی زرمبادلہ کا ذخائر ساتویں ہفتہ میں بڑھتا ہوا تقریبا 593 ارب ڈالر کے ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق 21 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 2.87 ارب ڈالر کے اضافے سے یہ 592.89 ہوگیا۔ جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے اس سے قبل 14 مئی کو ختم ہونے والے ہفتہ میں یہ 56.3 ارب ڈالر کے اضافے سے 590.03 ارب ڈالر رہا تھا۔

مرکزی بینک نے اطلاع دی ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر کا سب سے بڑا جزو غیر ملکی کرنسی کے اثاثے 21 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 1.65 ارب ڈالر اضافے سے 548.52 ارب ڈالر ہوگیا۔ اسی عرصے کے دوران سونے کے ذخائر میں بھی 1.19 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور یہ 37.84 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پاس مختص 2.2 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 5.02 ارب ڈالر اور خصوصی ڈرائنگ کے حقوق 70 لاکھ ڈالر کے اضافے سے 1.51 ارب ڈالر ہوگیا۔

اویسی نے بھیجے سیمانچل میں ایمبولینس، وینٹی لیٹر، آکسیجن کنسنٹریٹرز اور میڈیکل کٹ

0
اویسی نے بھیجے سیمانچل میں ایمبولینس، وینٹی لیٹر، آکسیجن کنسنٹریٹرز اور میڈیکل کٹ
اویسی نے بھیجے سیمانچل میں ایمبولینس، وینٹی لیٹر، آکسیجن کنسنٹریٹرز اور میڈیکل کٹ

اے آئی ایم آئی ایم کے ذریعہ ایمبولینس، وینٹی لیٹر، آکسیجن کنسٹریٹر سمیت میڈیکل کٹ اور مختلف طبی آلات کشن گنج، پورنیہ و ارریہ صدر ہسپتالوں کے سپرد

کشن گنج: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ وممبرپارلیمنٹ اسدالدین اویسی کے ذریعہ کورونا وبا میں بھیجے گئے ایمبولینس، وینٹی لیٹر، آکسیجن کنسٹریٹر، آکسی میٹر، تھرمامیٹر، میڈیسن ودیگر میڈیکل کٹ کو آج ہری جھنڈی دکھا کر کشن گنج اور ارریہ کے صدراسپتالوں میں سول سرجنوں کے حوالہ کردیا گیا۔ ان طبی سامانوں کو پارٹی کے ریاستی صدر وامور اسمبلی حلقہ کے ممبراسمبلی اخترالایمان نے پارٹی کے دیگر ممبران اسمبلی کے ساتھ ہسپتالوں کے سپرد کردیا۔

اس موقع پر اخترالایمان کے علاوہ کوچادھامن کے ممبراسمبلی اظہار آصفی، سابق میئر حیدرآباد مہندی پٹنم، کارپوریٹر ماجد حسین، بائسی کے ممبراسمبلی سید رکن الدین، بہادر گنج کے ممبراسمبلی انظار نعیمی اور ارریہ کے جوکی ہاٹ ممبراسمبلی شہنواز عالم موجود تھے ۔ ہسپتال کے اہلکار نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ذریعہ اٹھائے گئے اس قدم کی تعریف کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اسپتال کی طبی ٹیم پوری ایمانداری سے مریض کے علاج میں میڈیکل کٹ کا استعمال کرے گی۔

واضح رہے کہ پارٹی سربراہ اسدالدین اویسی نے حیدرآباد سے اپنے وفد کے ذریعہ سبھی ممبران اسمبلی کے ضلع ہیڈکوارٹر تک کورونا وبا سے لڑنے کے لیے وینٹی لیٹر، آکسجین کنسنٹریٹر اور مختلف طبی سازوسامان و میڈیکل کٹ بھجوایا ہے۔ پارٹی کے ریاستی صدر اخترالایمان نے بتایا کہ ملک میں جب بھی کوئی مسئلہ پیش آیا ہے، ان کی پارٹی قدرتی آفات میں ہمیشہ سے مدد کے لیے آگے آتی رہی ہے۔ اس کے بارے میں اے آئی ایم آئی ایم نے اپنے آفیشیئل ٹویٹر ہینڈل میں اطلاع بھی دی:

اخترالایمان نے کہا کہ "ہمارے پارٹی لیڈر اسدالدین اویسی نے سیمانچل کے تینوں اضلاع پورنیہ، ارریہ، کشن گنج کے لیے کورونا کے وبا کے دور میں اچھے قسم کا وینٹی لیٹر دیا ہے، جو بچوں کے علاج میں بھی کام آسکتا ہے۔ جو طبی سازوسامان دئے گئے ہیں ان میں تین ایمبولینس کے علاوہ اور وینٹی لیٹر کے علاوہ تین آکسیجن کنسٹریٹر، آکسی میٹر، تھرمامیٹر، اور دیگر ادویات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ مندر، مسجد کی تعمیر سے زیادہ اہم کام مریضوں کی خدمت کی جائے۔ ہم یہاں کے ڈاکٹروں کی بھی تعریف کرتے ہیں جو بہت محنت سے اپنا کام کررہے ہیں۔

کل 28 مئی کو یہی سامان پورنیہ میں بھی دیے گئے تھے جہاں کے صدر ہسپتال کے سول سرجن ایس کے ورما نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ذریعہ اٹھائے گئے اس قدم کی تعریف کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اور اسپتال میں ان کی پوری ٹیم پوری ایمانداری سے مریض کے علاج میں میڈیکل کٹ کا استعمال کریں گے۔

واضح رہے کہ یہاں آکسیجن کی کمی ہے۔ موجودہ وقت میں حکومت بہار نے ایم ایل اے کے پیسے کاٹ لیے ہیں۔ آکسیجن کی کالا بازاری جاری ہے۔ آفات کے قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جارہی ہے اور لوگ پریشان ہو رہے ہیں۔ پانچ روپے کا سامان 7 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔ دودھ 60 روپے فی لیٹر پر فروخت ہورہا ہے۔ سرسوں کے تیل اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں نے آسمان چھو رکھا ہے۔ ایسے وقت میں حکومت کو اس پر دھیان دینا چاہیے۔ جہاں تک عام لوگوں کا رویہ ہے وہ اپنے ٹیکس کے پیسوں کے سرکاری خزانے سے کچھ نہیں چاہتے ہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ریلیف کا کچھ مال مل جائے۔ کچھ لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں اور سوالات کرنا شروع کردیئے ہیں۔ ایک طرف، وزیر اعلی نے اعلان کیا اور اپنے ملازمین کو ہدایت دی کہ وہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اعلانات کریں اور لوگوں کو روزگار فراہم کریں۔ اور یہ کام کہیں بھی ٹھیک سے نہیں ہو رہا ہے۔

اسرائیل اور فلسطین کے مابین جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لئے مصری وفد کا ایک ہفتے میں غزہ کا تیسرا دورہ

0
اسرائیل اور فلسطین کے مابین جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لئے مصری وفد کا ایک ہفتے میں غزہ کا تیسرا دورہ
اسرائیل اور فلسطین کے مابین جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لئے مصری وفد کا ایک ہفتے میں غزہ کا تیسرا دورہ

رپورٹ کے مطابق مصری وفد غزہ میں مختلف فلسطینی جماعتوں کی قیادت سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں امریکہ کی جانب سے غزہ اور فلسطینی اراضی میں جنگ بندی کے حوالے سے سامنے آنے والی تجاویز اور دیگر امور پر بحث کی گئی۔

غزہ: مصری وفد نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لئے ایک ہفتے میں تیسری بار غزہ کا دورہ کیا ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق فلسطین کے علاقے غزہ پٹی میں فلسطینی تنظیموں اور اسرائیل کے درمیان 22 مئی کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔ مصر سمیت عالمی برادری اس پر گہری نظر رکھ رہی ہیں کہ کسی طرح پھر سے کشیدگی نہ بڑھ جائے۔ اسی ضمن میں مصر کے اعلیٰ سطح کے حکام بار بار غزہ پٹی کا دورہ کر رہے ہیں۔ کل جمعہ کے روز مصر کا ایک وفد بیت حانون گذرگاہ سے غزہ پہنچا۔ ایک ہفتے میں یہ مصری وفد کا غزہ کا تیسرا دورہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق مصری وفد غزہ میں مختلف فلسطینی جماعتوں کی قیادت سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں امریکہ کی جانب سے غزہ اور فلسطینی اراضی میں جنگ بندی کے حوالے سے سامنے آنے والی تجاویز اور دیگر امور پر بحث کی گئی۔

مصر کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے بعد اسے مستحکم کرنے، حماس، اسلامی جہاد اور اسرائیل کے درمیان محاذ آرائی کو ٹالنے اور غزہ کی تعمیر نو کا عمل آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مصری وفد فلسطینی تنظیموں کی قیادت سے قاہرہ میں کل جماعتی کانفرنس بلانے اور ان کے سامنے غزہ میں جامع جنگ بندی کے حوالے سے مسودہ پیش کرے گا۔

مصری انٹیلی جنس چیف عباس کامل آئندہ ہفتے میں غزہ کا دورہ کریں گے

ایک باخبر فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ مصری انٹیلی جنس چیف عباس کامل آئندہ ہفتے کے وسط میں غزہ کا دورہ کریں گے۔ ان کے اس دورے کا مقصد فلسطینی قیادت سے ملاقات، جنگ بندی کو مضبوط بنانا اور جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور تعمیر نو کا جائزہ لینا ہے۔ مصری انٹیلی جنس چیف فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کواٹر رام اللہ کا بھی دورہ کریں گے۔

خیال رہے کہ 10 مئی کو اسرائیلی فوج نے فلسطین کے علاقے غزہ پر حملہ کردیا تھا۔ 21 مئی تک جاری رہنے والی اسرائیلی فوجی کارروائی میں ڈھائی سو سے زائد فلسطینی شہید اور ڈیڑھ ہزار سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ 22 مئی کو مصر اور دوسرے ملکوں کی کوششوں سے اسرائیل اور فلسطینی تنظیموں کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔

ایف سی آئی حکام کے ٹھکانوں پر چھاپے کے دوران تین کروڑ روپے نقد اور اہم دستاویزات برآمد

0

ذرائع نے بتایا کہ ایف سی آئی حکام کے ٹھکانوں سے ضبط کی گئی نقدی مختلف لفافوں اور لکڑی کی الماری میں چھپاکر رکھی گئی تھی۔ اس کے علاوہ جو دستاویز ملے ہیں ان میں کئی لوگوں کے نام، تاریخ، رقم کا ذکر ہے۔ چھاپے میں ایک اہم دستاویز کے طور پر ڈائری بھی ملی ہے جس میں روپیوں کے لین دین سے منسلک افراد کے نام، تاریخ، رقم اور دیگر چیزوں کا ذکر ہے۔ ایک نوٹ گننے کی مشین بھی ملی ہے۔

بھوپال: مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی طرف سے ایک لاکھ روپے کی رشوت لینے کے معاملہ میں گرفتار فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) کے چار حکام کے ٹھکانوں پر چھاپے کی کارروائی کے دوران تقریباً تین کروڑ روپے نقدروپے، روپیوں کے لین دین سے متعلق دستاویزات، نوٹ گننے کی مشین اور دیگر اہم دستاویزات برآمد ہوئے ہیں۔

سی بی آئی کے ذرائع کے مطابق ایف سی آئی کے یہاں تعینات چار حکام ہریش ہنونیا، ارون سریواستو، موہن پرتے اور کشور مینا کو کل یہاں ایک سیکیورٹی ایجنسی سے منسلک لوگوں سے ایک لاکھ روپے کی رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں ان کے ٹھکانوں پر چھاپے کی کارروائی کی گئی۔ آج دوپہر تک ان کے قبضہ سے تقریباً تین کروڑ روپے نقد، 387 گرام سونے کے زیورات اور 670 گرام چاندی کے زیورات ملے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ضبط کی گئی نقدی مختلف لفافوں اور لکڑی کی الماری میں چھپاکر رکھی گئی تھی۔ اس کے علاوہ جو دستاویز ملے ہیں ان میں کئی لوگوں کے نام، تاریخ، رقم کا ذکر ہے۔ چھاپے میں ایک اہم دستاویز کے طورپر ڈائری بھی ملی ہے جس میں روپیوں کے لین دین سے منسلک افراد کے نام، تاریخ، رقم اور دیگر چیزوں کا ذکر ہے۔ ایک نوٹ گننے کی مشین بھی ملی ہے۔

ذرائع نے کہا کہ ایک کمپنی نے شکایت درج کرائی تھی کہ ایف سی آئی کے بھوپال ڈویزن آفس کے منیجر (اکاونٹس) بقایہ واجبات کی ادائیگی کے عوض ڈیڑھ لاکھ روپے کی رقم مانگ رہا ہے۔ اس پر سی بی آئی نے شکایت درج کرکے آگے کی کارروائی کی اور کل چار حکام کو رشوت کے معاملے میں گرفتار کرلیا۔ اس کے بعد ان کے ٹھکانوں پر چھاپے کی کارروائی کی گئی۔

الہاس نگر میں عمارت گرنے سے 7 افراد ہلاک

0
الہاس نگر میں عمارت گرنے سے 7 افراد ہلاک
الہاس نگر میں عمارت گرنے سے 7 افراد ہلاک

مہاراشٹر کے ضلع تھانے کے الہاس نگر میں جمعہ کی رات پانچ منزلہ عمارت کے گرنے سے سات افراد کی موت ہوگئی۔ شہری ترقیاتی وزیر اور تھانے کے انچارج ایکناتھ شندے نے کہا کہ ریاستی حکومت مرنے والوں کے لواحقین کو پانچ پانچ لاکھ روپئے کا معاوضہ فراہم کرے گی۔

تھانے: مہاراشٹر کے ضلع تھانے کے الہاس نگر میں جمعہ کی رات پانچ منزلہ عمارت کے گرنے سے سات افراد کی موت ہوگئی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق یہ واقعہ گذشتہ رات تقریبا نو بجے وقت پیش آیا۔ چوتھی، تیسری، دوسری اور پہلی منزل کی چھت ٹوٹ گئی اور پانچویں منزل کا سلیب نیچے گر گیا۔ حادثے کے وقت بہت سے لوگ پانچویں منزل پر تھے۔ یہ راحت کی بات ہے کہ کسی دوسرے فلورو پر لوگ نہیں تھے۔ اب تک 7 لاشیں برآمد ہوچکی ہیں۔ اس عمارت کو سیل کردیا گیا ہے۔

مرنے والوں کی شناخت پنیت بجومل پنجوانی (17)، دنیش (40)، دیپک (42)، موہینی (65)، کرشنا اندوچند بجاج (24)، امرتا (54) اور لولی (20) کے طور پر ہوئی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ 3-4 افراد پھنسے ہوئے ہوسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی تھانہ میونسپل کارپوریشن کا ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ پولیس اسٹیشن میونسپل کارپوریشن کا ایک آفیسر فائر بریگیڈ ٹیم کے ساتھ جائے وقوع پر موجود ہے۔ وہ ملبے میں پھنسے لوگوں کو بچانے میں مصروف ہیں۔ اس عمارت میں کل 29 فلیٹ ہیں۔ عمارت میں 26 کنبے رہتے تھے۔

دریں اثنا شہری ترقی کے وزیر اور تھانے کے انچارج ایکناتھ شندے نے کہا کہ ریاستی حکومت مرنے والوں کے لواحقین کو پانچ پانچ لاکھ روپئے کا معاوضہ فراہم کرے گی۔

ممبئی میں پہلی بار پٹرول کی قیمت 100 روپے سے متجاوز

0
ممبئی میں پہلی بار پٹرول کی قیمت 100 روپے سے متجاوز
ممبئی میں پہلی بار پٹرول کی قیمت 100 روپے سے متجاوز

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کیا گیا جس سے ملک کے تجارتی دارالحکومت ممبئی میں پہلی بار پٹرول کی قیمت 100 روپے فی لیٹر کو عبور کر گئی۔ وہیں قومی دارالحکومت میں پٹرول 26 پیسے اور ڈیزل 27 پیسے مہنگا ہوگیا۔

نئی دہلی: پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہفتہ کے روز ایک بار پھر اضافہ کیا گیا جس سے ملک کے تجارتی دارالحکومت ممبئی میں پہلی بار پٹرول کی قیمت 100 روپے فی لیٹر کو عبور کر گئی۔
دہلی اور کولکتہ میں بھی پٹرول 94 روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ گیا ہے، جبکہ ممبئی میں ڈیزل 92 روپے فی لیٹر مہنگا ہوگیا۔

معروف آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کی ویب سائٹ کے مطابق ممبئی میں آج پٹرول کی قیمت 25 پیسے اضافے سے 100.19 روپے فی لیٹر ہوگئی۔ یہ پہلا موقع ہے جب کسی بڑے شہر میں یہ 100 روپے سے اوپر پہنچ گیا ہے۔ ڈیزل کی قیمت بھی 30 پیسے اضافے کے بعد 92.17 روپے فی لیٹر کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

قومی دارالحکومت میں پٹرول 26 پیسے اور ڈیزل 27 پیسے مہنگا ہوگیا۔ آج ایک لیٹر پٹرول کی قیمت 93.94 روپے اور ڈیزل کی قیمت 84.89 روپے فی لیٹر تھی۔

گزشتہ 4 مئی سے اب تک ان کی قیمتوں میں 15 دن اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ان کی قیمتوں میں 11 دن کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اس دوران دہلی میں پٹرول 3.54 روپے اور ڈیزل 4.15 روپے مہنگا ہوچکا ہے۔

چنئی اور کولکتہ میں پٹرول کی قیمتوں میں بالترتیب 23 پیسے اور 25 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔ چنئی میں ایک لیٹر پٹرول 95.51 روپے اور کولکتہ میں 93.97 روپے میں فروخت ہوا جبکہ ڈیزل کی قیمت چنئی میں 26 پیسے بڑھ کر 89.65 روپے اور کولکتہ میں 28 پیسے اضافے کے بعد 87.74 روپے فی لیٹر ہوگئی۔

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنا پر، ہر روز صبح چھ بجے سے نئی قیمتوں کا اطلاق ہوتا ہے۔

ملک کے چار میٹرو شہروں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں درج ذیل رہیں:

شہر ……….. پیٹرول……….. ڈیزل

دہلی ………..93.94 ……….. 84.89
ممبئی ………..100.19 ………..92.17
چنئی ………..95.51 ………..89.65
کولکاتا ……….. 93.97………..87.74।

یکم جون کے بعد لاک ڈاؤن میں دی جائے گی ڈھیل: ادھو ٹھاکرے

0
یکم جون کے بعد لاک ڈاؤن میں دی جائے گی ڈھیل: ادھو
یکم جون کے بعد لاک ڈاؤن میں دی جائے گی ڈھیل: ادھو

مہاراشٹرا کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کی یکم جون کے بعد کچھ اضلاع میں لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں بتدریج نرمی کی ہدایت

اورنگ آباد: مہاراشٹرا کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے یکم جون کے بعد کچھ اضلاع میں آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن کی پابندی میں نرمی برتنے کی ہدایت دی ہے۔

وزیر اعلی کے دفتر کی جانب سے جمعرات کو دیر گئے کئے گئے ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا کے وبا کی شرح بتدریج کم ہو رہی ہے۔ لیکن مریضوں کی تعداد 10 سے 15 اضلاع میں تیزی سے بڑھ رہی ہے اس سے میوکرومائکوسس (بلیک فنگس) کے خطرے میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

دریں اثنا مرکزی حکومت نے کوڈ کنٹینمنٹ رہنما خطوط کو 30 جون تک بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ اس میں، ریاستوں اور مرکز کے علاقوں سے کہا گیا ہے کہ وہ مقامی صورتحال کے مطابق مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی دیں۔

یاس طوفان: ممتا بنرجی کا وزیر اعظم سے 20 ہزار کروڑ روپے کے مجموعی مالی پیکج کا مطالبہ

0
یاس طوفان: ممتا بنرجی کا وزیر اعظم سے 20 ہزار کروڑ روپے کے مجموعی مالی پیکج کا مطالبہ

وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو ابتدائی طور پر بتایا گیا ہے کہ طوفان یاس کی وجہ سے ریاست کو 20 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، ریاستی حکومت نے وزیر اعظم سے دیگھا کے لئے 10,000 کروڑ اور سندربن کے لئے مزید 10,000 کروڑ کا مالیاتی پیکیج کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

کلکتہ: وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے آج وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور ان سے 20،000 کروڑ روپے کے مجموعی مالی پیکیج کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعظم یاس طوفان سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لئے اڑیسہ اور بنگال کے دورے پر ہیں۔

وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مشرقی مدنی پور کے کائیکنڈہ میں ملاقات کی اور ریاست کو ہونے والے نقصانات سے متعلق ایک رپورٹ سونپی۔ دیگھا میں بی ڈی اوز سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو ابتدائی طور پر بتایا گیا ہے کہ طوفان یاس کی وجہ سے ریاست کو 20 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، ریاستی حکومت نے وزیر اعظم سے دیگھا کے لئے 10,000 کروڑ اور سندربن کے لئے مزید 10,000 کروڑ کا مالیاتی پیکیج کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مشرقی مدنی پور اور جنوبی 24 پرگنہ میں سب سے تباہی

مشرقی مدنی پور اور جنوبی 24 پرگنہ میں سب سے تباہی مچی ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ ریاست کے سیاحتی مقامات دیگھا اور مندار منی میں بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں۔ وہیں سندربن کا بڑا علاقہ مکمل طور پر ڈوب گیا ہے۔ فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔ امفان کے بعد سندربن کی تعمیر نو کی جا رہی تھی وہ بھی اس کی زد میں آکر تباہ و برباد ہوگئے ہیں۔ یاس کی وجہ سے سندر بن کے حالات مزید خراب ہوگئے ہیں۔

ممتا بنرجی وزیر اعظم مودی کے ساتھ کائیکنڈہ میٹنگ میں شریک نہیں ہوئیں۔ لیکن دونوں لیڈروں کے درمیان مختصر ملاقات ہوئی۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی نے ان کے ساتھ یاس طوفان سے ہونے والے نقصانات کی تفصیل پیش کی۔

دیگھا میں ممتا بنرجی نے کہا کہ چیف سکریٹری اور میں یاس طوفان میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ہم نے وزیرا عظم مودی سے ملاقات کرکے ریاست میں ہونے والے نقصانات کا اجمالی جائزہ پیش کرتے ہوئے 20 ہزار کروڑ روپے کے مجموعی پیکج کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے سیاحتی مقام دیگھا کی تعمیر نو اور سندربن کی تعمیر کے لئے علاحدہ علاحدہ دس دس ہزار کروڑ روپے کا مطالبہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ جو آپ مناسب سمجھیں کریں۔ ایسے مجھے نہیں لگتا ہے کہ مرکزی حکومت اس معاملے میں ہمارے مسائل کو سمجھے گی۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ دیگھا کی تعمیر نو کی جلد سے جلد ضرورت ہے۔ یہاں بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا کے سہارے برسراقتدار آنے والے اب اسی سوشل میڈیا سے گھبرائے

0
سوشل میڈیا کے سہارے برسراقتدار آنے والے اب اسی سوشل میڈیا سے گھبرائے
سوشل میڈیا کے سہارے برسراقتدار آنے والے اب اسی سوشل میڈیا سے گھبرائے

جس سوشل میڈیا کے ذریعہ بی جے پی نے اپنی شبیہ بنائی تھی، آج اسی سوشل میڈیا نے لوگوں پر حقیقت آشکار کر دی ہے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

خبروں کی دنیا

ایک زمانہ تھا جب خبریں حاصل کرنے کے لیے شام کا یا اگلے روز کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔ شام کو ریڈیو یا صبح کو جب ہاتھوں میں اخبار آتا تو معلوم ہوتا کہ شہر، ملک اور دنیا میں کیا ہلچل ہے اور کیا واقعات و حادثات پیش آئے۔ اس کے بعد دوردرشن اور پرائیویٹ نیوز چینلوں کا دور آیا۔ پہلے شام کو پورے دن کی خبریں اورپھر ہر گھنٹے واقعات سے آگاہی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ خبروں کی دنیا تبدیل ہوتی گئی۔

پہلے صرف خبروں کا سلسلہ اطلاعات تک محدود رہا۔ پھر خبروں پر منفی و مثبت اور حکومت کی حمایت و مخالفت کا رنگ چڑھنے لگا۔ سونے پہ سہاگا، جب پرائیویٹ نیوز چینلوں نے ایک خاص ایجنڈے کے تحت خبروں کے ساتھ  بحث و مباحثے کا سلسلہ شروع کیا تو ذرائع ابلاغ کا پورا منظر نامہ ہی بدل گیا۔

اس مصروف ترین زندگی میں بھی یہ چینل ملک میں اپنا ایجنڈا تھوپنے میں کافی حد تک کامیاب ہو گئے۔ پہلےمیٹرو شہروں، پھر چھوٹے شہروں و قصبات اور پھر گاؤوں تک ایک خاص منشا کے تحت اور مخصوص سیاسی جماعت کے ایجنڈے کے مطابق ان کی یہ مہم رنگ لائی۔ اس سے بھی دل نہیں بھرا تو سوشل میڈیا کا سہارا لیا گیا۔

سوشل میڈیا کا سیاسی استعمال

تمام تر مصروفیات زندگی کے باوجود خبریں حاصل کرنے میں سوشل میڈیا کار آمد تو ثابت ہوا، لیکن حد سے زیادہ منفی استعمال نے سوشل میڈیا کی افادیت کو خاک میں ملا دیا۔ اس سے سوشل میڈیا کی اہمیت و افادیت پر بھلے ہی حرف آیا ہو، لیکن 2014 کے عام انتخابات اور اس سے پہلے بی جے پی نے اس کا بھرپور استعمال کیا۔ سوشل میڈیا کے استعمال میں بی جے پی نے کانگریس سمیت باقی سبھی جماعتوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

بر سر اقتدار آنے کے بعد بھی بی جے پی نے منفی یا مثبت، جس طریقے سے بھی استعمال کیا، سوشل میڈیا کا خوب فائدہ اٹھایا۔ اب 2021 آتے آتے یہی سوشل میڈیا اس کی آنکھوں میں کھٹکنے لگا ہے۔ جس سوشل میڈیا کے ذریعہ بی جے پی نے لوگوں کو گمراہ کرکےاپنی شبیہ بنائی تھی، آج اسی سوشل میڈیا نے لوگوں پر حقیقت آشکار کر دی ہے۔

وقت وقت کی بات ہے جو ایک سا نہیں رہتا!، سوشل میڈیا نے ہی اگر کسی کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچادیا تو کسی کا مکرو چہرہ بھی سامنے لادیا۔ خاص طور پر کورونا کی وبا کے دور میں بی جے پی، اس کی حکومتوں اور اس کے لیڈران کے دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔

غیر جانب دار سوشل میڈیا؟

سخت مشکل کی اس گھڑی میں لوگ دوا، علاج، اسپتال، آکسیجن، وینٹی لیٹرکے لئے در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے، اسپتالوں کے باہر لائن میں لگے دم توڑتے رہے۔ حد تو یہ کہ مہلوکین اپنے مذہب کے مطابق آخری رسوم سے بھی محروم ہو گئے۔ ان کے ورثا گھنٹوں قطاروں میں لگ کر بھی اپنے عزیزوں کواحترام کے ساتھ آخری وداعی بھی نہ دے سکے۔ ان سب کو بھی حکومت نے اپنے زرخرید میڈیا کے ذریعہ چھپانے کی کوشش کی، لیکن سوشل میڈیا اور غیر جانبدار مین اسٹریم میڈیا نے حکومت کی سچائی دنیا کے سامنے لاکر رکھ دی ہے۔ یہاں تک کہ عالمی میڈیا نے بھی سچائی بیان کر کے موجودہ حکومت اور اس کے کارندوں کی پیشانی پر پریشانی کی لکیریں کھینچ دی ہیں۔

اب حکومت کو فکر لاحق ہوئی ہے۔ فکر اس بات کی نہیں ہے کہ ملک کےباشندوں پر مصیبت کے جو پہاڑ ٹوٹے ان کا سد باب کیسے ہو، بلکہ فکر اس بات کی ہے کہ اس نے مفروضے کی بنیادوں پر دنیا کے سامنے جو شبیہ بنائی ہے، اس کو کیسے برقرار رکھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بی جے پی حکومت کو اپنی کوتاہیاں، اپنی ناکامیاں اور اپنی تنقیدیں برداشت نہیں ہو رہی ہیں۔

حکومت سوشل میڈیا سے خوفزدہ

جس سوشل میڈیا کو وہ اپنا خاص آلہ کار سمجھتی تھی، اب اسی سے خوفزدہ نظر آتی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے کے دوران سوشل میڈیا کے تعلق سے حکومت کی سرگرمیاں اور کارروائیاں تو یہی ظاہر کرتی ہیں۔ دہلی پولیس کے ذریعہ پیرکی شام ٹوئٹر انڈیا کے مختلف دفاتر پر چھاپے مارے گئے۔ پولیس کا کہنا ہے یہ چھاپے’ٹول کٹ‘ معاملے کی جانچ کے سلسلے میں مارے گئے۔

اس سے پہلے دہلی پولیس نے بی جے پی لیڈرسمبت پاترا کے ٹویٹ کو’مینی پلوٹیڈ میڈیا‘ ( مفروضے کی بنیاد پر) قراردینے کے معاملے میں ٹوئٹر انڈیا کو شواہد پیش کرنے کے لئے نوٹس جاری کیا تھا۔ جس پر ٹویٹر نے کہا تھا کہ اس سلسلہ میں معلومات فراہم کرنا ضروری نہیں ہے۔

ٹول کٹ معاملہ

سمبت پاترا نے 18 مئی کو ایک مبینہ ’ٹول کٹ‘ شیئر کیا تھا جوکہ کانگریس کے لیٹر ہیڈ پرتھا۔ جس میں بتایا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پر ٹویٹ اور معلومات کو کس طرح شیئر کرنا ہے۔ بی جے پی کے سبھی لیڈران اس پر کانگریس پر حملہ کر رہے تھے۔ دوسری طرف کانگریس نے اس کو فرضی قراردیا تھا۔ پارٹی نے اس کے خلاف پولیس میں شکایت بھی درج کرائی تھی۔ اس کے اگلے ہی دن ٹوئٹر نے کارروائی کی اور سمبت پاترا کے ٹویٹ کو گمراہ کن یعنی ’مینی پلوٹیڈ میڈیا‘ قراردیا۔

در اصل ٹوئٹر کی ایک پالیسی ہے، جس کے مطابق اگر آپ کوئی بھی معلومات ٹویٹ کرتے ہیں اور وہ حقائق کے برعکس ہے تو اس پر ایک لیبل لگادیا جاتا ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ اس سے بی جے پی اور حکومت سخت برہم ہے۔ اس سے پہلے بھی بی جے پی کی خوشنودی حاصل کرنے اور اپنی نفرت انگیز مہم پروان چڑھانے کے سبب ٹوئٹر نے کنگنا راناوت نامی اداکارہ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہمیشہ کے لئے سسپینڈ کر دیا تھا۔

ابھی ٹول کٹ کا تنازعہ چل ہی رہا تھا کہ اب مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کے سامنے ایک نئی پریشانی آ گئی ہے۔ حکومت نے رواں سال 25 فروری کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے لئے گائیڈ لائن جاری کی تھی اور ان پر عمل درآمد کے لئے تین ماہ کا وقت دیا۔ یہ 25 مئی کو ختم ہورہی ہے۔ ٹویٹر اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے ابھی تک نہیں بتایا ہے کہ آیا اس ہدایت نامے پر عمل درآمد ہوا ہے یا نہیں۔ ایسی صورت حال میں حکومت ان پر کارروائی کر سکتی ہے۔

فیس بک کا جواب

فیس بک نےاپنے جواب میں کہا ہے کہ وہ آئی ٹی کے ضابطوں پر عمل کرے گی۔ نیز، کچھ امور پر حکومت سے بات بھی کرتے رہیں گے۔ فیس بک نے یہ بھی بتایا ہے کہ آئی ٹی کے ضابطوں کے مطابق آپریشنل طریقہ کار نافذ کرنے اور استعداد کار بڑھانے پرکام جاری ہے۔ کمپنی اس بات کا خیال رکھے گی کہ لوگ ہمارے پلیٹ فارم کے ذریعے آزادانہ اور محفوظ طریقے سے اپنی بات کہہ سکیں۔

حکومت نے سوشل میڈیا کے لئے جو گائیڈ لائنز جاری کی ہے، اس کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹوں مثلاً ٹوئٹر، فیس بک، انسٹا گرام اور وہاٹس ایپ کو حکومت کے مطابق مزید ’شفافیت‘ لانا ہوگی۔ اس کے لئے حکومت کی جانب سے مختلف شرائط پیش کی گئی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ کمپنیاں کس حد تک حکومت ہند کی شرائط کو مانتی ہیں اور اس کی ہدایات پر عمل کرتی ہیں۔ ٹوئٹر کے رخ کو دیکھتے ہوئے تو نہیں لگتا کہ وہ حکومت کی شرائط پر کام کرے گی۔

تنقید ناقابل برداشت؟

بہر حال، مذکورہ کارروائیوں کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ ہمارا ملک اب ایک ایسا ملک بنتا جا رہا ہے جہاں مخالفت میں کی جانے والی تنقید بالکل برداشت نہیں کی جائے گی۔ دنیا بھر میں اداروں، حکومتوں، جماعتوں اور تنظیموں پر ایک دائرے میں تنقید اور ان کی مخالفت ہونا عام بات ہے، لیکن یہاں ایسا لگتا ہے کہ اس دائرے کو بہت محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سوشل میڈیا سے قبل اخبارات، ٹیلی ویژن اور عوامی جلسوں کے ذریعے تنقید کی جاتی تھی، مگر سوشل میڈیا کے متعارف ہونے کے بعد مخالفت اور تنقید کرنے کا یہ بڑا سہارا بن گیا۔ اگر ہم غور کریں تو موجود کورونا وبا کے بحران میں لوگوں کو اسی سوشل میڈیا نے بڑا سہارا دیا ہے۔

ہر طرف سے مایوس اور نا امید ہو چکے لوگوں کو سوشل میڈیا کے ذریعہ بڑے پیمانے پر مدد ملی اور اسپتال سے لے کر دوا اور علاج تک ضرورت مندوں کو مہیا کیا جا سکا۔ اس کے بعد بھی ہم نے دیکھا کہ کس طرح مدد کرنے والوں کو پریشان کیا گیا۔ ایسے میں  سوال پیدا ہوتا کہ کیا سوشل میڈیا کے ساتھ مدد کرنے والوں پر بھی پہرا بٹھا دیا جائے گا؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ایک جمہوری اور آزاد ملک کے مستقبل کے لئے کہیں سے بہتر نہیں ہے۔

[مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں | ای میل: yameen@inquilab.com]

ادارے کا مضمون نگار کے آراء و افکار سے متفق ہونا ضروری نہیں