جمعہ, مارچ 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 343

پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں آج ایک بار پھر اضافہ، دہلی میں پٹرول کی قیمت 97 روپے سے متجاوز

0
پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں آج ایک بار پھر اضافہ، دہلی میں پٹرول کی قیمت 97 روپے سے متجاوز
پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں آج ایک بار پھر اضافہ، دہلی میں پٹرول کی قیمت 97 روپے سے متجاوز

جون میں اب تک دہلی میں پٹرول کی قیمت میں 2.99 روپے اور ڈیزل کی قیمتوں میں 2.82 روپے کا اضافہ ہوچکا ہے۔ اس سے قبل مئی میں پٹرول 3.83 روپے اور ڈیزل 4.42 روپے مہنگا ہوا تھا۔

نئی دہلی: پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں آج ایک بار پھر اضافہ کردیا گیا، جس سے دہلی اور کولکتہ میں پہلی بار پٹرول 97 روپے فی لیٹر سے زیادہ ہوگیا۔ دوسرے شہروں میں بھی دونوں ایندھنوں کی قیمتیں ریکارڈ نئی سطح تک پہنچ گئیں۔

اتوار کے روز ملک کے چار میٹرو میں پٹرول 29 پیسے اور ڈیزل 30 پیسے مہنگا ہوگیا۔ اس سے قبل ہفتہ کے روز قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔

آئل مارکیٹنگ کی سرخیل کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق دہلی میں پٹرول کی قیمت 29 پیسے کے اضافے کے ساتھ 97.22 روپے اور ڈیزل کی قیمت 28 پیسے کے اضافے سے ریکارڈ 87.97 روپے فی لیٹر ہوگئی۔ جون میں اب تک دہلی میں پٹرول کی قیمت میں 2.99 روپے اور ڈیزل کی قیمتوں میں 2.82 روپے کا اضافہ ہوچکا ہے۔ اس سے قبل مئی میں پٹرول 3.83 روپے اور ڈیزل 4.42 روپے مہنگا ہوا تھا۔

ممبئی میں آج پٹرول کی قیمت 28 پیسے کے اضافے سے 103.36 روپے اور ڈیزل 30 پیسے کے اضافے سے 95.44 روپے فی لیٹر ہوگئی۔

چنئی میں پٹرول 26 پیسے اور ڈیزل 27 پیسے مہنگا ہوگیا۔ آج ایک لیٹر پٹرول 98.40 روپے اور ڈیزل 92.58 روپے میں فروخت ہورہا پے۔

کولکتہ میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 28-28 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔ وہاں پٹرول 97.12 روپے اور ڈیزل 90.82 روپے فی لیٹر پر پہنچ گیا۔

خییال رہے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا روزانہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اسی بنا پر روزانہ صبح 6 بجے سے نئی قیمتوں پر عمل درآمد ہوتا ہے۔

آج ملک کے چار میٹرو شہر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اس طرح ہیں:

شہر کا نام —— پٹرول روپے / لیٹر —— ڈیزل روپے / لیٹر

دہلی ————— 97.36 —————— 87.97
ممبئی ۔————— 103.36 —————— 95.44
چنئی —————- 98.40 -—————– 92.58
کولکاتا ———— 97.12 —————— 90.82

وزارت داخلہ: اَن لاک کے دوران خطرناک ثابت ہو سکتی ہے لاپرواہی

0
وزارت داخلہ: اَن لاک کے دوران خطرناک ثابت ہو سکتی ہے لاپرواہی
وزارت داخلہ: اَن لاک کے دوران خطرناک ثابت ہو سکتی ہے لاپرواہی

مرکزی وزارت داخلہ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کو آگاہ کیا ہے کہ پورے ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں کمی کے پیش نظر کیے جانے والے اَن لاک کے دوران کسی بھی طرح کی لاپرواہی یا نرمی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

نئی دہلی: مرکزی وزارت داخلہ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کو آگاہ کیا ہے کہ پورے ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں کمی کے پیش نظر کیے جانے والے اَن لاک کے دوران کسی بھی طرح کی لاپرواہی یا نرمی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ لہٰذا مناسب کووڈ برتاؤ کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ، ٹریک، ٹریٹمنٹ اور ٹیکہ کاری کی پانچ نکاتی پالیسی کو مکمل طور پر اختیار کیے جانے کی سخت ضرورت ہے۔

مرکزی ہوم سکریٹری اجے بھلّا نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہفتے کے روز خط لکھ کر کہا ہے کہ کورونا وائرس کے کیسز میں کمی کے پیش نظر مختلف شعبوں کو کھولا جانا جتنا ضروری ہے اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ اس دوران مکمل احتیاط برتی جائے اور زمینی صورتحال کے اندازے کی بنیاد پر ہی فیصلے کیے جائیں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اَن لاک کے دوران پانچ نکاتی پالیسی کو سختی سے اختیار کیے جانے کی ضرورت ہے۔ اس میں مناسب کووڈ برتاؤ کے ساتھ ساتھ کورونا ٹیسٹ، متاثرہ شخص کے رابطوں کا پتہ لگانا، متاثرین کا علاج اور ٹیکہ کاری ضروری ہے۔

کووڈ برتاؤ کی تعمیل کی باضابطہ نگرانی کرنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ یقینی کیا جانا چاہیے کہ عوام ماسک کا استعمال کریں، ہاتھوں کو صاف کریں، سماجی دوری قائم رکھیں اور بند مقامات میں روشن دان کے ذریعے ہوا کی آمد و رفت کا انتظام ہو۔

اَن لاک کے دوران کسی طرح کی نرمی نہیں برتی جانی چاہیے

ہوم سکریٹری نے کہا کہ تمام ضلع اور متعلقہ افسران کو یہ ہدایت جاری کی جانی چاہیے کہ اَن لاک کے دوران کسی طرح کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وائرس پر ٹھوس ڈھنگ سے پابندی لگانے کے لیے ٹیسٹ، ٹریس کا پتہ لگانے اور ٹریٹمنٹ کی پالیسی کو بدستور جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹنگ ریٹ میں کمی نہیں آنی چاہیے اور ساتھ ہی فعال کیسز میں تیزی آنے یا پوزیٹیوِٹی ریٹ کے بڑھنے پر سخت نظر رکھا جانا چاہیے۔

مائیکرو لیول پر اس طرح کا انتظام ہونا چاہیے کہ چھوٹے مقامات پر اضافے کے پیش نظر مرکزی صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کی ہدایات کے مطابق مقامی کنٹرول تدابیر سے ہی روک دیا جائے۔ موجودہ حالات میں ٹیکہ کاری کو بے حد اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیکہ کاری بہت ضروری ہے۔ لہذا ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ٹیکہ کاری کی رفتار بڑھا کر زیادہ سے زیادہ افراد کو ٹیکہ لگایا جانا چاہیے۔

تھپڑ کھا کر کیسا لگا؟ فرانسیسی صدر سے بچی کا معصومانہ سوال: رپورٹ

0
تھپڑ کھا کر کیسا لگا؟ فرانسیسی صدر سے بچی کا معصومانہ سوال: رپورٹ
تھپڑ کھا کر کیسا لگا؟ فرانسیسی صدر سے بچی کا معصومانہ سوال: رپورٹ

میڈیا رپورٹ کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بوائس ڈی پکارڈی قصبے کے ایک اسکول کا دورہ کیا۔ دورے کے موقع پر میکرون کو اس وقت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب ایک بچی نے سوال کیا کہ تھپڑ کھا کر کیسا لگا؟ آپ کی طبیعت کیسی ہے؟

پیرس: فرانسیسی صدر سے بچی نے معصومانہ سوال کرتے ہوئے کہا تھپڑ کھا کر کیسا لگا؟ جس پر میکرون نے جواب دیتے ہوئے کہا بالکل اچھا نہیں لگا، کسی کو بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بوائس ڈی پکارڈی قصبے کے ایک اسکول کا دورہ کیا۔ دورے کے موقع پر میکرون کو اس وقت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب ایک بچی نے سوال کیا کہ تھپڑ کھا کر کیسا لگا؟ آپ کی طبیعت کیسی ہے؟

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بچی کی جانب مسکراتے ہوئے جواب میں کہا کہ میں ٹھیک ہوں لیکن مجھے بالکل اچھا نہیں لگا یہ اچھی بات نہیں ہوتی ہے، کسی کو بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

یاد رہے 8 جون کو صدر ایمانوئل میکرون کو اس وقت ایک شہری نے چہرے پر تھپڑ رسید کیا جب وہ سرکاری دورے پر ڈروم پہنچے تھے۔ جس کی ویڈیو بہت وائرل ہوئی تھی، جس میں دیکھا جاسکتا تھا کہ مذکورہ شخص نے ایک ہاتھ سے صدر کا ہاتھ مضبوطی سے تھامنے کے بعد انہیں اپنی طرف کھینچا اور دوسرے ہاتھ سے طمانچہ دے مارا۔

پولیس نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو تھپڑ مارنے والے شخص کو گرفتار کرلیا تھا اور بعد ازاں اسے قید کی سزا سنا دی گئی۔ زیر حراست ملزم کی شناخت 28 سالہ ڈیمن ٹیرل کے نام سے ہوئی ہے جو قوم پرست دائیں بازو کے نظریات سے متاثر تھا۔

انتونیو گٹیرس اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل دوبارہ منتخب

0
انتونیو گٹیرس اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل دوبارہ منتخب
انتونیو گٹیرس اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل دوبارہ منتخب

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گٹیرس کو 193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے دوسری پانچ سالہ مدت کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔ اس ماہ کے اوائل میں 15 رکنی سلامتی کونسل نے جنرل اسمبلی کو گوتریس کی دوبارہ تقرری کی سفارش کی تھی، ان کی دوسری میعاد کا آغاز یکم جنوری 2022 سے ہو گا۔

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گٹیرس کو 193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے دوسری پانچ سالہ مدت کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جمعہ کو اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گٹیرس نے کہا کہ میں بڑی اور چھوٹی اقوام کے مابین اعتماد کے فروغ کو یقینی بنانے، راہ ہموار اور اعتماد سازی کی فضا قائم کرنے کی ہرممکن کوشش کروں گا۔
اس ماہ کے اوائل میں 15 رکنی سلامتی کونسل نے جنرل اسمبلی کو گوتریس کی دوبارہ تقرری کی سفارش کی تھی، ان کی دوسری میعاد کا آغاز یکم جنوری 2022 سے ہو گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے سے چند ہفتوں قبل گوتریس نے جنوری 2017 میں بان کی مون کی جگہ لی تھی۔ گوتریس کی پہلی مدت کی زیادہ تر توجہ ٹرمپ انتظامیہ کو منانے پر مرکوز تھی جنہوں نے اقوام متحدہ کی اہمیت اور کثیرالجہتی پر سوال اٹھایا تھا۔ امریکہ دراصل اقوام متحدہ کو سب سے زیادہ مالی اعانت فراہم کرنے والا ملک ہے۔ جو اس کے باقاعدہ بجٹ کا 22 فیصد اور قیام امن کے لیے رکھے گئے بجٹ کا ایک چوتھائی حصہ دیتا ہے۔ رواں سال جنوری میں اقتدار میں آنے والے صدر جو بائیڈن نے اقوا متحدہ کی ان فنڈنگ کو بحال کرنا شروع کردیا ہے جنہیں ٹرمپ نے روک دیا تھا۔

اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک سے سخت محنت، سیاسی عزم اور احتساب کی ضرورت

امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا کہ اقوام متحدہ کو تاریخی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے امید ظاہر کی کہ گوتریس کی موجودگی کی بدولت اگلے پانچ سال ماضی کے مقابلے میں زیادہ امن، تحفظ اور خوشحالی کے حامل ہوں گے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے لیے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک سے سخت محنت، سیاسی عزم اور احتساب کی ضرورت ہو گی اور ہر رکن ملک کو انسانی حقوق کے لیے مضبوط عہد کرنا چاہیے۔

72 سالہ انتونیو گوتریس 1995 سے 2002 تک پرتگال کے وزیر اعظم اور 2005 سے 2015 تک اقوام متحدہ کی مہاجر ایجنسی کے سربراہ رہے تھے۔ سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے وہ آب و ہوا کے لیے اقدامات، کووڈ-19 ویکسین کی یکساں فراہمی اور ڈیجیٹل تعاون کے لیے آواز بلند کرتے رہے ہیں۔

جب انہوں نے اقوام متحدہ کے سربراہ کی حیثیت سے باگ ڈور سنبھالی تو عالمی ادارہ شام اور یمن میں انسانیت سوز بحرانوں سے نمٹنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے جدوجہد کر رہا تھا۔ یہ تنازعات ابھی تک حل نہیں ہوئے اور گوتریس کو اب میانمار اور ایتھوپیا کے خطے میں ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے۔

سید ابراهیم رئیسی ایران کے نئے صدر منتخب

0
سید ابراهیم رئیسی ایران کے نئے صدر منتخب
سید ابراهیم رئیسی ایران کے نئے صدر منتخب

ایران میں جمعہ کو ہوئے صدارتی انتخاب میں جیت حاصل کرنے کے بعد سید ابراهیم رئیسی نئے صدر منتخب کرلئے گئے ہیں۔ عدلیہ کے سربراہ رئیس کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حمایت حاصل تھی۔ وہ سبکدوش ہونے والے صدر حسن روحانی کی جگہ لیں گے۔

تہران: ایران میں جمعہ کو ہوئے صدارتی انتخاب میں جیت حاصل کرنے کے بعد سید ابراهیم رئیسی نئے صدر منتخب کرلئے گئے ہیں۔

سرکاری میڈیا نے بتایا کہ ان کے خاص حریف نے سنیچر کو اپنی شکست تسلیم کرلی ہے۔
عدلیہ کے سربراہ رئیس کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حمایت حاصل تھی۔ وہ سبکدوش ہونے والے صدر حسن روحانی کی جگہ لیں گے۔ ایک قدامت پسند لیڈر سمجھے جانے والے مسٹر رئیسی رائے عامہ میں بھی سب سے آگے تھے۔

سنٹرل بینک کے سابق سربراہ عبدالناصر ہمتی نے نتائج کے باضابطہ اعلان سے قبل ہی مسٹر رئیسی کو مبارکباد دے دی ہے۔

وزارت داخلہ نے بتایا کہ 13 ویں صدارتی انتخابات میں 90 فیصد ووٹوں کی گنتی ہو چکی ہے۔ ابتدائی گنتی سے پتہ چلتا ہے کہ 17 کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے مسٹر رئیسی کو ووٹ دیئے۔ مسٹر رئیسی نے بدعنوانی اور غربت سے لڑنے کا وعدہ کیا ہے۔

انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے بارے میں امریکہ کے ساتھ بالواسطہ بات چیت جاری رکھیں گے۔ حالانکہ انہوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف پابندیاں ختم کرنے پر زور دیں گے۔

روحانی انتظامیہ کے ذریعہ کئے جانے والے اس معاہدے کا ایران کی معیشت پر مثبت اثر پڑا تھا۔ لیکن 2018 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے سے دستبرداری اختیار کرنے کے ساتھ ہی پابندیاں عائد کردی تھیں، جس سے ایران میں افراط زر میں اضافہ ہوا، کرنسی میں کمی آئی اور بے روزگاری بھی بہت زیادہ بڑھ گئی۔

ادھر سبکدوش ہونے والے صدر روحانی نے منتخب صدر کی کامیابی کی خواہش کی ہے۔
انہوں نے جمعہ کے صدارتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر شرکت پر ایرانی رائے دہندگان کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اس انتخاب میں دشمنوں اور بدعنوانوں کو مایوسی ہوئی ہے۔

ہندوستانی ’فلائنگ سکھ‘ ملکھا سنگھ کا کورونا سے انتقال،  صدر، وزیر اعظم، وزیر کھیل سے لے کر ملک کی نامور شخصیات کا اظہار غم

0
ہندوستانی ’فلائنگ سکھ‘ ملکھا سنگھ کا کورونا سے انتقال
ہندوستانی ’فلائنگ سکھ‘ ملکھا سنگھ کا کورونا سے انتقال

فلائنگ سکھ کے نام سے مشہور ہندوستانی کھلاڑی ملکھا سنگھ کا مہلک کورونا وائرس سے انتقال ہوگیا۔ وہ 91 سال کے تھے۔ ملکھا کی موت سے ایتھلیٹکس کی دنیا میں ایک عظیم دور کا خاتمہ ہو گیا۔

چندی گڑھ: فلائنگ سکھ کے نام سے مشہور ہندوستانی کھلاڑی ملکھا سنگھ کا جمعہ کی رات مہلک کورونا وائرس سے انتقال ہوگیا۔ وہ 91 سال کے تھے۔ ان کے کنبہ کے ترجمان نے یہ اطلاع دی۔

1958 دولت مشترکہ کھیلوں کے چیمپیئن اور 1960 کے روم اولمپکس کی 400 میٹر دوڑ میں ریکارڈ توڑنے کے باوجود تمغے سے محروم رہے ملکھا سنگھ نے چنڈی گڑھ کے پی جی آئی اسپتال میں جمعہ کی رات آخری سانس لی۔

ان کی صحت کے تعلق سے معلومات فراہم کرتے ہوئے پی جی آئی ایم ای آر ہسپتال نے کہا تھا کہ جمعہ کی شام کووڈ 19 کے بعد پیدا شدہ پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کی حالت نازک ہوگئی تھی۔ ان کا آکسیجن لیول کم ہونے لگا اور انہیں بخار آگیا تھا۔

گزشتہ مہینے سے کووڈ ۔ 19 سے متاثر ملکھا سنگھ کی کورونا جانچ رپورٹ بدھ کے روز منفی آئی تھی۔ اس کے بعد انہیں کووڈ آئی سی یو سے جنرل آئی سی یو میں منتقل کردیا گیا تھا اور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم ان کی صحت کی نگرانی کر رہی تھی۔

جمعرات کی رات انہیں بخار آگیا اور ان کا آکسیجن لیول گر گیا تھا۔ تاہم اس سے پہلے ان کی حالت مستحکم تھی۔ انہیں گزشتہ ماہ کووڈ ۔19 انفیکشن ہوگیا تھا۔ ان کی اہلیہ 85 سالہ بین الاقوامی کھلاڑی نرمل کور کا بھی اتوار کے روز موہالی کے ایک نجی اسپتال میں کووڈ 19 انفیکشن سے انتقال ہو گیا تھا۔ ملکھا اسپتال میں ہونے کی وجہ سے اہلیہ کے آخری رسومات میں شرکت نہیں کرسکے تھے۔

ملکھا کی موت سے ایتھلیٹکس کی دنیا میں ایک عظیم دور کا خاتمہ ہو گیا۔ صدر، وزیر اعظم، وزیر کھیل سے لے کر ملک کی نامور شخصیات نے کووڈ کی گرفت میں آنے سے پہلے نوجوانوں کی طرح فٹ ملکھا کی موت پر رنج و غم کا اظہار کیا۔

مودی کا ملکھا کی موت پر ظاہر اظہار رنج و غم

وزیر اعظم نریندر مودی نے ملکھا سنگھ کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ کر کے کہا ’’ہم نے ایک عظیم کھلاڑی کھو دیا ہے۔ ہندوستانیوں کے دلوں میں ملکھا سنگھ کے لئے خاص مقام تھا۔ انہوں ںے لوگوں کو اپنی شخصیت سے متاثر کیا۔ میں ان کی وفات سے بہت دکھی ہوں‘‘۔

نائیڈو کا ملکھا سنگھ کی موت پر اظہار افسوس

نائب صدر ایم وینکیا نائیڈو  نے یہاں جاری ایک پیغام میں کہا کہ ملکھا سنگھ کے انتقال سے وہ دکھی ہیں۔ مسٹر نائیڈو نے کہا کہ ملکھا سنگھ نے عالمی سطح پر اپنی جادوئی کارکردگی سے ہر ہندوستانی کو متاثر کیا۔ انہیں فخر محسوس کرنے کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے کھیل کے شعبے میں نہ صرف مثالیں قائم کی بلکہ وہ زندگی کے کئی شعبوں میں رول ماڈل بنے۔

نائب صدر نے کہا کہ ملکھا سنگھ کی زندگی کا سفر کھلاڑیوں کو تحریک دیتا رہے گا۔ انہیں رکاوٹوں سے آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔ مسٹر نائیڈو نے کہا  ’’ملکھا سنگھ کے اہل خانہ اور ان کے مداحوں کے تیئں میری تعزیت‘‘۔

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ شرد پوار نے ٹویٹ کیا کہ اسپورٹس آئیکن ’فلائنگ سکھ‘ ملکھا سنگھ کے انتقال کے بارے میں سن کر بہت دکھ ہوا۔ انہوں نے کہا ’’ فلائنگ سکھ ملکھا سنگھ کے انتقال کے بارے میں سن کر دکھ ہوا۔ اپنی رفتار اور جرت سے انہوں نے کئی ریکارڈ قائم کئے اور ملک کے لئے شہرت حاصل کی۔ ان کا نام کھیل تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ان کے سوگوارکنبے سے تعزیت‘‘۔

پیرس: کوکا کولا اور پانی کی بوتل ہٹانے کے بعد فٹ بال کھلاڑیوں کو یوئیفا کی وارننگ

0
پیرس: کوکا کولا اور پانی کی بوتل ہٹانے کے بعد فٹ بال کھلاڑیوں کو یوئیفا کی وارننگ
پیرس: کوکا کولا اور پانی کی بوتل ہٹانے کے بعد فٹ بال کھلاڑیوں کو یوئیفا کی وارننگ

یونین آف دی یورپین فٹ بال ایسوسی ایشن (یوئیفا) نے یورو کپ 2020 کے دوران کھلاڑیوں کے ذریعہ منعقدہ پریس کانفرنسوں میں اسپانسرڈ مشروبات کی بوتلوں کو ہٹانے کے بارے میں انتباہ جاری کیا ہے۔

پیرس: یونین آف دی یورپین فٹ بال ایسوسی ایشن (یوئیفا) نے یورو کپ 2020 کے دوران کھلاڑیوں کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنسوں میں اسپانسرڈ مشروبات کی بوتلوں کو ہٹانے کے واقعات پر وارننگ جاری کی ہے۔

یوئیفا نے وارننگ جاری کی ہے کہ پریس کانفرنس کے دوران جس بھی ٹیم کا کھلاڑی اسپانسرز کی جانب سے فراہم کردہ مشروبات کی بوتلیں ہٹائے گا اس کی ٹیم کو بھاری جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

خیال رہے کہ رواں ہفتہ پیر کو میچ سے قبل پریس کانفرنس کے لئے آنے والے پرتگال کے اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے کوکا کولا کی بوتلیں ہٹا کر پانی کی بوتل سامنے رکھ دی تھی جس کے بعد کوکا کولا کے شیئرز کی قیمت گر گئی تھی اور اسے 4 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا تھا۔

بعد ازاں اگلے روز مسلم فٹبالر اور فرانس کے مڈفیلڈر پوگبا نے پریس کانفرنس میں اپنے سامنے سے بیئر کی بوتل ہٹائی جبکہ بدھ کو اٹلی کے فٹبالر مینوئل لوکاٹیلی نے بھی کوکا کولا کی بوتلوں کو پانی کی بوتل سے تبدیل کردیا تھا۔

متواتر ان واقعات کے بعد یوئیفا ایکشن میں آیا اور اس نے ٹیموں کو وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسپانسرز اور پارٹنرشپس یوروپ بھر میں فٹبال کے فروغ اور ٹورنامنٹ کے انعقاد کا اہم جزو ہوتے ہیں‘‘۔

یوئیفا کا کہنا ہے کہ کھلاڑی کنٹریکٹ کے تحت ٹورنامنٹ کے قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کے پابند ہیں اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو انضباطی کارروائی کی جاسکتی ہے. البتہ یوئیفا کی جانب سے کھلاڑیوں پر براہ راست جرمانے نہیں ہوں گے بلکہ ٹیموں کو جرمانہ کیا جائے گا۔

بہرحال، آنے والے دنوں میں ایسے واقعات ہوتے ہیں یا نہیں یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔

ایران میں صدارتی انتخابات کے لئے آج صبح 7 بجے سے ووٹنگ کا آغاز

0
ایران میں صدارتی انتخابات کے لئے آج صبح 7 بجے سے ووٹنگ کا آغاز

اسلامی جمہوریہ ایران کے 13 ویں صدارتی انتخابات کے لئے حق رائے دہی کا آغاز آج صبح مقامی وقت کے مطابق یہاں سات بجے ہوگیا۔ ایران کے رہبر انقلاب آیت اللہ سعید علی خامنہ ای نے آج صبح اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

تہران: اسلامی جمہوریہ ایران کے 13 ویں صدارتی انتخابات کے لئے حق رائے دہی کا آغاز آج صبح مقامی وقت کے مطابق یہاں سات بجے ہوگیا۔ اس الیکشن پر دنیا کی نظر ہے اور اس سلسلے میں مغرب میں خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

ایران کے رہبر انقلاب آیت اللہ سعید علی خامنہ ای نے آج صبح اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق آج صبح سات بجے سے اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران سمیت تمام چھوٹے و بڑے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں تیرہویں صدارتی انتخابات کے سلسلے میں ووٹنگ کا آغاز ہوگیا ہے۔ ایران میں 59 ملین 10 ہزار اور 307 افراد ووٹنگ میں حصہ لینے کے اہل ہیں۔ ایران کے تیرہویں صدارتی انتخابات میں عوام کی بھر پور شرکت کے پیش نظر 72 ہزار پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ صدارتی انتخابات سے تین امیدوار دستبردار ہوگئے ہیں جن میں مہر علی زادہ، علی رضا زاکانی اور سعید جلیلی شامل ہیں۔ دو امیدوار علی رضا زاکانی اور سعید جلیلی آخری وقت میں آیت اللہ رئیسی کے حق میں دستبردار ہوگئے اور انھوں نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرکے انھیں کامیاب بنائیں۔ تین امیدواروں کے صدارتی انتخابات سے دستبردار ہوجانے کے بعد اب چار امیدوار سید ابراہیم رئیسی، محسن رضائی، قاضی زادہ ہاشمی اور عبدالناصر ہمتی صدارتی میدان میں موجود ہیں۔

ایرانی صدر حسن روحانی کی اپنے ہم وطنوں سے پولنگ میں بھرپور انداز میں حصہ لینے کی اپیل

قبل ازیں ایران کے صدر حسن روحانی نے اپنے ہم وطنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیں اور جمعہ کو صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ میں بھرپور انداز میں حصہ لیں۔ یہ اپیل انہوں نے پولنگ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل کی۔ انہوں نے ایک نشری تقریر میں ایرانی ووٹروں سے مخاطب ہوکر کہا کہ ”وہ کسی ایک ادارے یا گروپ کی کمیوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ووٹنگ کے عمل سے کنارہ کشی اختیار نہ کریں۔“ ان کا بظاہر اشارہ شورائے نگہبان کی جانب تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں ووٹنگ پر اپنے تحفظات کو مقدم نہیں رکھنا چاہیے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی بدھ کو اپنے ہم وطنوں پر زور دیا تھا کہ وہ جمعہ کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں بھرپور حصہ لیں۔ کیونکہ ان انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ اور ایران پر بیرونی دباؤ کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”اگر لوگ پولنگ کے عمل میں بھرپور طریقے سے شریک نہیں ہوتے ہیں تو دشمن کی جانب سے دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ اگر ہم دباؤ اور پابندیوں میں کمی چاہتے ہیں تو لوگوں کی شرکت میں اضافہ ہونا چاہیے اور نظام کو حاصل عوامی مقبولیت دشمن پر ظاہر ہونی چاہیے۔“

دریں اثناء خامنہ ای نے ایک نشری تقریر میں کہا کہ ”تمام ایرانیوں کو اپنی سیاسی ترجیحات سے قطع نظر جمعہ کو اپنا اپنا ووٹ ڈالنا چاہیے۔ انھوں نے امریکی اور برطانوی میڈیا پر الزام عاید کیا کہ ”وہ ایرانیوں کی ووٹنگ میں حصہ لینے کی حوصلہ شکنی کررہا ہے اور صدارتی انتخابات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہا ہے۔“

تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی قیادت کی اپیلوں کے باوجود صدارتی انتخابات میں ریکارڈ کم ٹرن آؤٹ متوقع ہے کیونکہ لوگ انتخابی عمل میں کوئی زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کررہے ہیں۔

رکن پارلیمنٹ پشوپتی کمار پارس ایل جے پی پارس گروپ کے صدر منتخب

0
رکن پارلیمنٹ پشوپتی کمار پارس ایل جے پی پارس گروپ کے صدر منتخب
رکن پارلیمنٹ پشوپتی کمار پارس ایل جے پی پارس گروپ کے صدر منتخب

ایل جے پی میں جاری سیاسی ہنگامے کے درمیان، بہار کے حاجی پور سے پارٹی کے رکن پارلیمنٹ پشوپتی کمار پارس آج پارٹی کے قومی صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ مسٹر پارس نے صدر منتخب ہونے کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ ایل جے پی میں کسی طرح کا کوئی اختلاف نہیں ہے اور اگر اختلاف ہوتا تو وہ بلا مقابلہ منتخب نہیں ہوتے۔

پٹنہ: لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی) میں جاری سیاسی رسہ کشی کے درمیان آج بہار کے حاجی پور سے پارٹی کے رکن پارلیمنٹ پشوپتی کمار پارس کو قومی صدر (پارس گروپ) منتخب کرلیا گیا ہے۔

ایل جے پی کے قومی نائب صدر اور پارس گروپ کے ایگزیکٹو صدر سابق رکن پارلیمنٹ سورج بھان سنگھ کی رہائش گاہ پر جمعرات کو قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی۔ لگ بھگ 6 گھنٹے تک میٹنگ چلی۔ میٹنگ میں قومی ایگزیکٹو کمیٹی کے 78 میں سے 56 اراکین موجود تھے۔ اجلاس کے بعد صدر عہدہ کیلئے مسٹر پارس نے پرچہ داخل کیا۔ اس عہدہ کے لئے کوئی اور دعویدار نہیں ہونے کی وجہ سے مسٹر پارس کو بلا مقابلہ منتخب کرلیا گیا۔

اس کے بعد مسٹر پارس کو ایگزیکٹو صدر مسٹر سنگھ نے سرٹیفکٹ عطا کیا۔ مسٹر پارس کے پرچہ داخل کرنے کے وقت رکن پارلیمنٹ چندن سنگھ، وینا دیوی اور محبوب علی قیصر موجود تھے۔ حالانکہ اس دوران پارٹی کے رکن پارلیمنٹ پرنس راج موجود نہیں تھے۔

مسٹر پارس نے صدر منتخب ہونے کے بعد پریس کانفرنس میں اپنے بھتیجے اور جموئی سے رکن پارلیمنٹ چراغ پاسوان کو تاناشاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب بھتیجہ تانا شاہ ہوجائے گا، تو چچا کیا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایل جے پی میں کسی طرح کا کوئی اختلاف نہیں ہے اور اگر اختلاف ہوتا تو وہ بلا مقابلہ منتخب نہیں ہوتے۔ ایک کی جگہ کچھ اور پرچے داخل کئے جا سکتے تھے۔

رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ پارٹی کا قومی صدر بناکر پارٹی کے ساتھیوں نے انہیں ایک بڑی ذمہ داری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ بڑے بھائی اور سابق وزیر آنجہانی رام ولاس پاسوان کے خوابوں کو ہر قیمت میں شرمندہ تعبیر کرسکیں۔

مسٹر پارس نے کہا کہ پارٹی 21 سال کی ہوئی ہے اور اب انہیں ایک بڑی ذمہ داری ملی ہے۔ انہوں نے کسی وجہ سے پارٹی چھوڑ کر گئے لیڈران کو پھر سے واپس آنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو قومی سطح پر لے جانا ہے اور سماجی انصاف کے تحت پارٹی کو آگے بڑھانا ہے۔

اب ممتا حکومت ہر سال ریاست کے کسانوں کو 10 ہزارروپے دے گی: ممتا بنرجی

0
اب ممتا حکومت ہر سال ریاست کے کسانوں کو 10 ہزارروپے دے گی: ممتا بنرجی
اب ممتا حکومت ہر سال ریاست کے کسانوں کو 10 ہزارروپے دے گی: ممتا بنرجی

اسمبلی انتخابات سے قبل کسانوں سے کیے گئے وعدے کو پورا کرتے ہوئے، وزیر اعلی ممتا بنرجی نے "کرشک بانڈو” منصوبے کا اعلان کیا۔ اس کے تحت ریاست کے کسانوں کو ہر سال 10 ہزار روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔

کلکتہ: اسمبلی انتخابات سے قبل کسانوں سے کئے گئے وعدے کو پورا کرتے ہوئے، وزیر اعلی ممتا بنرجی نے جمعرات کو ’’کرشک بانڈو‘‘ منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت ریاست کے کسانوں کو ہر سال 10 ہزار روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ ریاست کے 60 لاکھ کسان اس سے مستفید ہوں گے۔

ریاستی سکریٹریٹ میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ فیصلہ ریاست کے کسانوں کے مفاد میں لیا گیا ہے۔ کچھ دن پہلے ہی کابینہ کے اجلاس میں اس منصوبے کی منظوری دی گئی تھی، جسے آج بالآخر عملی شکل دے دی گئی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ریاست کے کسانوں کو پہلے ہر سال پانچ ہزار روپے مل رہے تھے، جسے بڑھا کر 10 ہزار کردیئے گئے ہیں۔ پہلے دن ہی 9.79 لاکھ کسانوں کو 290 کروڑ روپے دیئے گئے تھے۔

ممتا بنرجی نے کہا، "ہم یہ رقم 60 لاکھ کسانوں کو دیں گے۔ مرکزی حکومت سب کو پیسہ نہیں دے رہی ہے اور کم رقم دے رہی ہے۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی نے ایک بار پھر مرکزی حکومت پر مالی مدد فراہم نہیں کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ طوفان یاس سے ہونے والے نقصان کے مطابق ابھی تک مرکزی حکومت سے موصول نہیں ہوئی ہے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ اسکیم آج سے شروع ہوچکی ہے اور جلد ہی یہ رقم تمام کسانوں کو منتقل کردیا جائے گا۔ زراعت ہمارا وسیلہ ہے۔ اس لئے میں ان کے کنبہ کا احترام کرتی ہوں۔ یہ ایک بہت بڑا منصوبہ ہے۔ ملک میں پہلی بار، بنگال کے کسانوں کو سالانہ اتنی بڑی رقم دی جائے گی۔ کسان کی موت پر مالی امداد دی جاتی ہے۔ کرشک بانڈو یوجنا کے تحت پہلے ہی 4500 کروڑ روپئے کا فائدہ دیا جا چکا ہے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ کسانوں کی آمدنی تین گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہوا ہے اور آنے والے وقت میں آمدنی میں مزید اضافہ ہوگا۔ بنگال میں کسان کی موت کی صورت میں معاوضہ، حکومت بنگال میں فصلوں کے انشورنس کی ادائیگی کررہی ہے۔ یاس سے متاثرہ کسانوں کی رقم پانچ سے چھ ہفتوں میں بینک کو ارسال کردی جائے گی۔

ترنمول کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں کرشک بانڈو اسکیم کے تحت کسانوں کو سالانہ امداد بڑھانے کا وعدہ کیا تھا۔ بنگال میں بھاری اکثریت سے تیسری بار اقتدار میں آنے والی ممتا بنرجی نے یہ وعدہ پورا کیا۔ اس فیصلے سے لگ بھگ 60 لاکھ چھوٹے اور معمولی کسان مستفید ہوں گے۔ یہ اسکیم 2018 میں شروع کی گئی تھی۔ یہ اسکیم مغربی بنگال کے کسانوں کو مالی مدد فراہم کرنے کے لئے شروع کی گئی تھی۔ اس کے تحت، ریاستی حکومت کسان خاندان کے کسی ممبر کی موت پر 2 لاکھ روپے معاوضہ دیتی ہے۔ اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لئے کسانوں کو کرشک بانڈو پورٹل پر اندراج کرنا ہوگا۔ منظوری کے بعد، رقم کاشتکار کے بینک اکاؤنٹ میں ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) اسکیم کے تحت دو قسطوں میں بھیج دی جاتی ہے۔