جمعہ, مارچ 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 334

شہنشاہ جذبات دلیپ کمار اداکاری کے ساتھ ساتھ ہمیشہ قومی اور ملی سرگرمیوں میں مصروف رہے

0
شہنشاہ جذبات دلیپ کمار اداکاری کے ساتھ ساتھ ہمیشہ قومی اور ملی سرگرمیوں میں مصروف رہے
شہنشاہ جذبات دلیپ کمار اداکاری کے ساتھ ساتھ ہمیشہ قومی اور ملی سرگرمیوں میں مصروف رہے

شہنشاہ جذبات دلیپ کمار نے آج صبح ساڑھے سات بجے مضافاتی علاقہ ولے پارلے میں واقع ہندوجااسپتال میں آخری سانس لی۔ تقریبا نصف صدی تک فلمی دنیا پر چھائے رہے، دلیپ کمار کی پہلی فلم جوار بھاٹا 1944 میں ریلیز ہوئی تھی جس میں انہوں نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔

ممبئی: شہنشاہ جذبات دلیپ کمار نے آج صبح ساڑھے سات بجے مضافاتی علاقہ ولے پارلے میں واقع ہندوجااسپتال میں آخری سانس لی۔ گزشتہ ایک مہینے میں دوسری مرتبہ دلیپ کمار کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ انہیں باندرہ پالی ہل میں ان کے بنگلہ پر لے جایا جائے گا اور تدفین شام پانچ بجے جوہو قبرستان میں کی جائے گی۔

تقریبا نصف صدی تک فلمی دنیا پر چھائے رہے، دلیپ کمار کی پہلی فلم جوار بھاٹا 1944 میں ریلیز ہوئی تھی جس میں انہوں نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اور انہوں نے محض 64 فلموں میں اداکاری کی اور سب سے زیادہ ایوارڈز حاصل کیے۔ فلم کے ساتھ ساتھ سیاسی، سماجی اور تعلیمی میدانوں میں رینجرز قومی اور ملی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ ان کے قریبی فیصل فاروقی نے انسانیت کی خدمت میں بھی گزار دیئے۔

دلیپ کمار پیشاور کے محلہ خداداد میں لالہ غلام سرور کے گھر پیدا ہوئے

واضح رہے کہ 11 دسمبر 1922 کو دلیپ کمار پیشاور کے محلہ خداداد میں لالہ غلام سرور کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ غالباً 1935 میں بمبئی چلے آئے اور دراصل کاروبار کے سلسلے میں منتقل ہوئے تھے۔ اداکاری سے قبل دلیپ کمار عرف یوسف خان پھلوں کے سوداگر تھے۔ انہوں نے پونہ کی فوجی کینٹین میں پھلوں کی ایک سٹال لگایا، پونہ کو وہ کبھی بھلا نہیں پائے، 2002 میں انہیں پونے میں اعزاز سے نوازا گیا اور شہر کی چابی بھی سونپی گئی تھی۔

سال 1944 کے زمانے کی معروف اداکارہ اور فلمساز دیویکا رانی کی جوہر شناس نگاہوں نے 20 سالہ یوسف خان میں چھپی اداکاری کی صلاحیت کو بھانپ لیا اور فلم ’جوار بھاٹا‘ میں دلیپ کمار کے نام سے ہیرو کے رول میں کاسٹ کیا، ان کے ساتھ مشہور کامیڈین آغا بھی تھے۔ اس کے بعد سے دلیپ کمار نے فلمی صنعت پر ایک طویل عرصے تک راج کیا۔ اور آن، انداز، دیوداس، نیادور، رام اور شیام، بیراگ، شکتی، کرما، سوداگر جیسی مشہور فلموں میں کام کیا۔

دلیپ کمار لوگوں کو ہنسا نے کا فن بھی جانتے تھے

دلیپ کمار کی سنگ دل، امر، اڑن کھٹولہ، آن، انداز، نیا دور، مدھومتی، یہودی اور مغل اعظم جیسی چند فلمیں ہیں جن میں کام کرنے کے دوران انہیں شہنشاہ جذبات کا خطاب دیا گیا۔ لیکن انہوں نے فلم کوہ نور، آزاد، گنگا جمنا، گوپی اور رام اور شیام میں ایک مزاحیہ اداکار کی شناخت بنائی اور یہ ثابت کیا کہ وہ لوگوں کو ہنسا نے کا فن بھی جانتے ہیں۔ لیڈر میں وہ ایک انوکھے رول میں نظر آئے۔

دلیپ کمار کی اداکاری میں ایک ہمہ جہت فنکار دیکھا جاسکتا ہے جو کبھی جذباتی بن جاتا ہے تو کبھی سنجیدہ اور روتے روتے آپ کو ہنسانے کا گر بھی جانتا ہو۔ ہندوستانی فلم صنعت انہیں آج بھی بہترین اداکار مانتی ہے اور اس کا لوگ اعتراف کرتے ہیں۔ دلیپ کمار اپنے دور کے فلم انڈسٹری کے ایسے اداکار تھے، جن کے سٹائل کی نقل نوجوان کرتے تھے اور ان کی ساتھی ہیروئینوں کے ساتھ ساتھ عام لڑکیاں ان پر فدا تھیں۔ ہیروئن مدھوبالا سے ان کے عشق کے چرچے رہے لیکن کسی وجہ سے ان کی یہ محبت دم توڑ گئی اور زندگی میں ہی دونوں علاحدہ ہو گئے۔ اس میں مدھوبالا کے والد کا رول ٹھیک نہیں رہا۔

بتایا جاتا ہے کہ ان کی وجیہہ شخصیت کو دیکھ کر برطانوی اداکار ڈیوڈ لین نے انہیں فلم ’لارنس آف عریبیہ‘ میں ایک رول کی پیشکش کی لیکن دلیپ کمار نے اسے ٹھکرا دیا۔ اور وہ رول مصر کے ادارے عمر شریف نے کیا تھا۔

دلیپ کمار بے شمار اعزازات سے نوازے گئے

دلیپ کمار نے 1998 میں فلم ‘ قلعہ’ میں کام کرنے کے بعد فلمی دنیا سے کنارہ کشی کر لی۔ انھیں بے شمار اعزازات سے نوازا گیا۔ وہاں انھیں ملک کی فلمی صنعت کے سب سے بڑا اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ بھی دیا گیا گیا اور پڑوسی ملک پاکستان کی حکومت نے 1998ء میں ان کو سب سے بڑے سیویلین اعزاز نشان پاکستان سے بھی نوازا تھا جو کہ سابق وزیر اعظم مرارجی ڈیسائی کو بھی مل چکا ہے۔ ملک کا دوسرا سب سے بڑا شہری اعزاز، 2015 میں پدم و بھوشن سے بھی نوازا گیا۔

ایک زمانے میں دلیپ کمار، راج کپور اور دیوآنند کی تینوں ہندوستانی فلمی دنیا پر چھائے ہوئے تھے۔

افغانستان: امریکہ جا رہا ہے، طالبان آ رہے ہیں!

0
افغانستان: امریکہ جا رہا ہے، طالبان آ رہے ہیں!
افغانستان: امریکہ جا رہا ہے، طالبان آ رہے ہیں!

امریکہ بہادر افغانستان سے ۲۰؍ سال کے بعد اپنی ناکامی کا پلندہ تو باندھ رہا ہے، لیکن پیچھے چھوڑا ہے افغان قوم کی تباہی و بربادی کا سلسلہ

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

امریکہ دنیا کی سپر پاور ہے۔ سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ بظاہر وہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار اور انصاف پسند بھی ہے۔ وہ رات کو دن کہے تو دن ہے، اور دن کو رات کہے تو رات ہے۔ اس کو لگتا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک یا کوئی حکمراں اس کو آنکھ دکھانے اور اس سے ٹکرانے کی جرأت نہ کرے۔ اس سرزمین پر اس کی مرضی کے بغیر کوئی پتہ بھی نہ ہلے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے یا کوئی ایسا نہیں کرتا ہے تو وہ امریکہ کا نہیں، انسانیت کا دشمن ہو جاتا ہے۔ امریکہ دوسرے ملکوں میں کس قسم کی جمہوریت چاہتا ہے یہ آج تک ایک معمہ ہی بنا ہوا ہے۔ بھلے ہی کسی ملک کے عوام نے رائے شماری کے ذریعہ اپنا رہنما منتخب کیا ہو، لیکن اگر امریکہ اس کے گلے میں تانا شاہ کا پٹہ ڈال دیتا ہے تو دنیا کو ماننا ہوگا کہ وہ تانا شاہ ہے۔ وہیں اگر کسی تانا شاہ کو وہ جمہوریت پسند کا تمغہ دے دیتا ہے تو وہ جمہوری لیڈر بن جاتا ہے۔

امریکہ نے بھلے ہی دنیا پر اپنے فیصلے تھوپنے کی نہ جانے کتنی کوششیں کی ہیں، کتنے ہی ملکوں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے، کتنے ہی سربراہان مملکت کو ابدی نیند سلا دیا ہے، لیکن حقیقت میں آج تک کوئی اس کو عالمی طاقت یا عالمی رہنما تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔

افغان قوم کی تباہی اور بربادی کا لا متناہی سلسلہ

۲۰۰۳ء میں امریکہ نے ایک خوش حال اور ترقی یافتہ ملک عراق میں ’جمہوریت‘ قائم کرنے کیلئے دھاوا بولا۔ صدر صدام حسین کی حکومت کو تہہ و بالا کر دیا، انھیں پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا، لیکن دس سال کے بعد وہاں سے دس لاکھ لاشوں کا قبرستان بناکر نکل بھاگا۔ ۲۰۱۱ء میں وہ شام کو صدر بشار الاسد کی تاناشاہی سے نجات دلانے پہنچا، لیکن امریکہ نے وہاں داعش جیسی نہ جانے کتنی دہشت گرد تنظیموں کو پیدا کرکے یوں ہی چھوڑ دیا۔ پورا ملک کھنڈہر میں تبدیل ہو گیا۔ نہ ڈکٹیٹر بشار الاسد سے نجات ملی اور نہ ہی وہاں کوئی جمہوریت کا نام لینے والا باقی رہا۔ ۲۰۰۱ء میں افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف مہم کے نام پر یلغار کر دی۔ اب ۲۰؍ سال کے بعد امریکہ وہاں سے اپنی ناکامی کا پلندہ تو باندھ رہا ہے، لیکن پیچھے چھوڑ دیا ہے افغان قوم کی تباہی اور بربادی کا لا متناہی سلسلہ۔ اب جبکہ امریکہ نے افغانستان سے راہ فرار اختیار کر لی ہے تو اس جنگ میں اس نے اور افغانستان نے کیا کھویا اور کیا پایا، اس کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

افغانستان جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے امریکہ نے تقریباً اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا

پچھلے ۲۰؍ برس سے جاری افغانستان جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے امریکہ نے تقریباً اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا ہے۔ یہ جنگ امریکہ کے گلے میں پھنسی ایسی ہڈی بن گئی تھی جسے وہ نہ نگل سکتا تھا اور نہ ہی اُگل سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے امریکہ کا صدر بنتے ہی جو بائیڈن نے اعلان کر دیا کہ ۱۱؍ ستمبر ۲۰۲۱ء تک تمام امریکی فوجی دستے افغانستان سے واپس بلالیے جائیں گے۔ حالانکہ اس کا فیصلہ گزشتہ سال طالبان کے ساتھ قطر میں کیے گئے معاہدے میں ہوگیا تھا۔ اب افغانستان میں سب سے بڑا فوجی اڈہ بند کرنے کے ساتھ ہی گویا امریکہ نے افغان جنگ کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کردیا۔ کابل سے تقریباً ۶۰؍ کلومیٹر دور بگرام ایئر بیس سے امریکی افواج کی وطن واپسی افغانستان میں امریکی مداخلت کا خاتمہ مانا جا رہاہے، کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اسی ایئر بیس سے یہاں کی اپنی تمام تر کارروائیاں انجام دیتے تھے۔

۱۱؍ ستمبر ۲۰۰۱ء کو امریکہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کا انتقام لینے کی غرض سے اس نے افغانستان پر دھاوا بولا تھا۔ دراصل ان حملوں کی ذمہ داری القاعدہ کے سر جاتی تھی، جس کا سربراہ اسامہ بن لادن اس وقت افغانستان میں طالبان کی پناہ میں تھا۔ لہذا امریکہ نے ’دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ‘ کا آغاز کرتے ہوئے ۷؍ اکتوبر۲۰۰۱ء کو طالبان اور القاعدہ پر فضائی حملوں کا آغاز کیا۔ اس جنگ میں ایک جانب تھے شمالی اتحاد، امریکہ، برطانیہ، کناڈا، آسٹریلیا، اٹلی، نیوزی لینڈ اور جرمنی تو دوسری جانب مقابلے میں تھے اسلامی امارت افغانستان، القاعدہ، ۰۵۵؍ برگیڈ، حرکت اسلامی ازبکستان، تحریک نفاذ شریعت محمدی اور ترکستان اسلامی پارٹی۔ ۱۳؍ نومبر ۲۰۰۱ء کو – امریکہ کے حمایت یافتہ شمالی اتحاد کی فوجیں کابل میں داخل ہو گئیں اور طالبان جنوب کی طرف پسپا ہو گئے۔ یعنی تقریباً ایک مہینے کی کار روائی نے طالبان رہنماؤں کو فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ ۲؍ مئی ۲۰۰۳ء کو – امریکی حکام نے افغانستان میں اہم جنگی آپریشن کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔

طالبان ایک مضبوط طاقت بن کر ایک بار پھر آئے سامنے

اسی دوران مسلمانوں کے خون کے پیاسے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی زیر قیادت امریکہ نے عراق پر حملے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ جس کے لیے بڑے پیمانے پر امریکی فوجی اور جنگی ساز و سامان وہاں منتقل کر دیا گیا۔  ادھر افغانستان میں بھلے ہی جنگ کے خاتمہ کا اعلان ہو گیا، لیکن حقیقتاً یہ جنگ کا آغاز ثابت ہوا۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی توجہ منتقل ہونے کے سبب طالبان، القاعدہ اور دوسری مزاحمتی تنظیموں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا، جس نے ملک کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں اپنے قدم مضبوط کر لیے۔ تا دم تحریر طالبان ایک مضبوط طاقت بن کر ایک بار پھر سامنے آئے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ امریکہ کے جاتے ہی وہاں وہ دوبارہ بر سر اقتدار آ جائیں۔ ایسے خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ اگر طالبان اقتدار میں نہ آ سکے تو وہاں ایک بار پھر شدید خانہ جنگی کا آغاز ہو جائے گا۔ یعنی افغان قوم کے مقدر میں تباہی و بربادی کا سلسلہ جاری رہے گا۔

افغان جنگ میں بظاہر امریکہ کا اصل مقصد القاعدہ، القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری تھا، لیکن افغانستان کے ریگزاروں سے لے کر تورا بورا کے پہاڑوں تک اس نے اسامہ کو تلاش کیا، مگر اس کی گرفتاری نہیں کر سکا۔ اسامہ کا کردار، اس کی زندگی اور اس کا خاتمہ آج بھی ایک معمہ ہی بنا ہوا ہے۔ بہر حال، ایک رپورٹ کے مطابق اس ۲۰؍ سالہ جنگ میں ۲؍ لاکھ ۴۱؍ ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں ۷۱؍ ہزار۳۴۴؍ عام شہری، ۲؍ ہزار ۴۴۲؍ امریکی فوجی اہلکار، ۷۸؍ ہزار۳۱۴؍ افغان سیکیورٹی اہلکار اور ۸۴؍ ہزار ۱۹۱؍ مخالفین کی ہلاکتیں شامل ہیں۔ پچھلے دنوں جاری اس رپورٹ کے مطابق اس جنگ پر اب تک امریکہ کے ۲۲؍ کھرب ۶۰؍ ارب ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔

طالبان کو اقتدار سے بے دخل کرنے والا امریکہ ہی ان کی واپسی کا بھی ذمہ دار

امریکہ جس طرح افغانستان کو بے یار و مددگار چھوڑ کر جا رہا ہے، اس سے یقیناً طالبان کے حوصلے بلند ہیں۔ اس وقت طالبان وہاں مضبوط طاقت ہیں اور جس انداز میں امریکہ نے راہ فرار اختیار کی ہے، اسے طالبان نے اپنی فتح سے تعبیر کیا ہے۔ جیسے ہی امریکہ کے انخلا کا اعلان ہوا اور فوجوں کی روانگی شروع ہوئی، طالبان نے یکے بعد دیگرے ملک کے مختلف صوبوں اور شہروں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ یہ قبضے کئی جگہ خونریز تصادم کے بعد ہوئے اور کئی جگہ موجودہ اشرف غنی حکومت کی فوجوں نے خود ہی ہتھیار ڈال دئے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے ۱۵۳؍ اضلاع کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جس میں سےتقریباً ۱۰۰؍ اضلاع ملک کے شمال میں ہیں۔ یہ خبر بھی آئی ہے کہ تقریباً ایک ہزار افغان فوجی اپنی جان بچانے کی خاطر تاجکستان میں داخل ہو گئے۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ بہت جلد پورے افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہو جائے گا۔ اور اگر ایسا ہوا تو طالبان کو اقتدار سے بے دخل کرنے والا امریکہ ہی ان کی واپسی کا بھی ذمہ دار ہوگا۔

اس کے ساتھ ہی سبھی پڑوسی ملکوں اور جن کے مفادات افغانستان سے وابستہ ہیں جیسے پاکستان، ایران، ہندوستان، چین، روس اور تاجکستان وغیرہ کی نظریں نہ صرف افغانستان کے موجودہ حالات پر مرکوز ہیں، بلکہ اپنے اپنے مفادات کے پیش نظر وہ آئندہ کی حکمت عملی میں بھی مصروف ہیں۔ مستقبل میں افغانستان میں امن قائم ہوگا یا خونریزی کا سلسلہ جاری رہے گا، اس کا انحصار بہت حد تک انہی ممالک پر ہوگا۔ دیکھنا ہے کہ آئندہ یہ تمام طاقتیں طالبان کے ساتھ کس قسم کا رویہ اختیار کرتی ہیں۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) ای میل:  yameen@inquilab.com

مغربی بنگال اسمبلی سے قانون ساز کونسل بل منظور، اب لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور کرانا ہوگا

0
مغربی بنگال اسمبلی سے قانون ساز کونسل بل منظور، اب لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور کرانا ہوگا
مغربی بنگال اسمبلی سے قانون ساز کونسل بل منظور، اب لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور کرانا ہوگا

مغربی بنگال اسمبلی نے آج ’’ودھان پریشد‘‘ کی تشکیل کا بل پاس کردیا ہے۔ تاہم بی جے پی نے مالی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ودھان پریشد کی تشکیل کے حالات نہیں ہیں۔ بی جے پی اس کی سخت مخالفت کرتی رہے گی۔

کلکتہ: مغربی بنگال اسمبلی نے آج ’’ودھان پریشد‘‘ کی تشکیل کا بل پاس کردیا ہے۔ ترنمول کانگریس نے انتخابی منشور میں ودھان پریشد کی تشکیل کا وعدہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے ذریعہ سینئر اور تجربہ کار افراد جو اسمبلی انتخابات نہیں لڑسکتے ہیں انہیں یہاں بھیج کر ان کی خدمات حاصل کرے گی۔ تاہم بی جے پی نے مالی بحران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ودھان پریشد کی تشکیل کے حالات نہیں ہیں۔

بی جے پی نے کہا کہ مالی بحران کے باوجود قانون ساز اسمبلی کی تشکیل کا کیا جواز ہے۔ بی جے پی نے کہا کہ وہ اس کی سخت مخالفت کرتی رہے گی۔ جب کہ ترنمول کانگریس نے کہا کہ اترپردیش اور بہار ودھان پریشد ہے تو بنگال میں کیوں نہیں ہے۔ ترنمول کانگریس کے سیکریٹری جنرل و پارلیمانی امور پارتھو چٹرجی نے جو لوگ خود ایک زمانے ودھان پریشد کی تشکیل کی حمایت کرتی تھی آج اس کی مخالفت کررہی ہے۔ کیوں کہ آج وہ اپوزیشن کے بنچ پر ہے اس لئے اس کی مخالفت کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ودھان پریشد کی تشکیل بنگال کے مفاد میں ہے۔

بل کے حق میں 198 ووٹ پڑے

بی جے پی نے اس بل کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر بل کو واپس نہیں لیا جاتا ہے تو اس پر ووٹنگ کرائی ہے۔ اس کے بعد ہی اسپیکر نے ووٹنگ کرائی۔ جس میں اس بل کے حق میں 198 ووٹ پڑے جب کہ مخالفت میں 69 ووٹ پڑے۔ اسمبلی میں کل 265 ممبران موجود تھے۔

واضح رہے کہ یہ تجویز 2011 میں ممتا بنرجی کی حکومت کی تشکیل کے بعد ایک ایڈہاک کمیٹی کی بنائی گئی تھی اس کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر ہی آج بل پیش کیا گیا ہے۔

لیکن اس وقت یہ بحث آگے نہیں بڑھ سکی۔ اس وقت ریاستی حکومت کی دلیل یہ تھی کہ حکومت قرضوں کے بہت بڑے بوجھ کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے۔ لہذا، اس وقت قانون ساز کونسل کی تشکیل ممکن نہیں ہے۔ آج پارتھو چٹرجی نے کہا، اسمبلی میں ہر شعبہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی نمائندگی کی ضرورت ہے۔ لہذا، حکومت نے قانون ساز کونسل کی تشکیل کے لئے پہل کی ہے۔

اب اس بل کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظوری ملنی ضروری ہے۔ قانون کے مطابق اسمبلی کی ایک تہائی سییٹ کونسل میں ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے بنگال میں 98 سیٹ ہوگی۔ خیال رہے کہ بنگال میں 1952 میں قانون ساز کونسل کی تشکیل ہوئی تھی مگر 21 مارچ 1969 کو قانون ساز کونسل کو تحلیل کردیا گیا ہے۔

حسب ضرورت ایران کو نشانہ بنائیں گے: اسرائیلی وزیر دفاع

0
حسب ضرورت ایران کو نشانہ بنائیں گے: اسرائیلی وزیر دفاع
حسب ضرورت ایران کو نشانہ بنائیں گے: اسرائیلی وزیر دفاع

اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے اسرائیل جب اور جہاں ضروری ہوا، وہاں کارروائی کرے گا۔

تل ابیب: ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور ایک دوسرے کو برباد کرنے کی دھمکی کے درمیان اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے اسرائیل جب اور جہاں ضروری ہوا، وہاں کارروائی کرے گا۔

خبر رساں ادارے ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق یہ بیان ایک ایسے موقع پر منظر عام پر آیا ہے جب گزشتہ ماہ ایرانی جوہری تنصیب پر حملے کے ممکنہ ردعمل کے طور پر ایران نے چند دن قبل اسرائیلی کارگو جہاز کو روک لیا تھا۔

انہوں نے چینل 13 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ ہمارا تنازع چل رہا ہے۔ ہمیں خود اپنا دفاع کرنا ہے۔ ہم ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھنے کے لیے پرعزم ہیں اور خطے میں ایران کا منفی اور جارحانہ رویہ بھی ختم کرنا چاہتے ہیں۔

ڈان میں شائع رپورٹ کے مطابق اس سے قبل اتوار کو اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے ایران کے حوالے سے دفاعی اور سفارتی عہدیداروں کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کی۔ جس میں خصوصی طور پر ایران کے جوہری منصوبے، امریکہ اور ایران کے حوالے سے اس حوالے سے چل رہی بات چیت پر گفتگو کی گئی۔

2018 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین ہونے والے جوہری معاہدے کو ختم کرتے ہوئے ایران پر سخت پابندیاں عائد کردی تھیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں دونوں ہی فریقین کا دعویٰ ہے کہ اس حوالے سے خاصی پیشرفت ہوئی ہے لیکن تاحال کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

اس اجلاس کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع نے ایک مرتبہ ایران کے خلاف اپنے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل خود کو نقصان سے بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایران کو فضا، زمین، سائبر سطح اور سمندر سمیت کہیں سے اسرائیل کو نقصان پہنچانے نہیں دیں گے اور کارروائی کریں گے، ہم ایسا اس وقت اور مقام سے کریں جو ہمیں مناسب معلوم ہو گا اور خطے کے استحکام اور سیکیورٹی کے لیے اپنی فوجی برتری کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔

یاد رہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی ‘موساد’ کے سبکدوش ہونے والے سربراہ یوسی کوہین نے عندیہ دیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام اور فوجی سائنسدان کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملوں کے پیچھے اسرائیل تھا۔

بورس جانسن کا ماسک پہننے اور سماجی فاصلے کی شرط ختم کرنے کا اعلان

0
بورس جانسن کا ماسک پہننے اور سماجی فاصلے کی شرط ختم کرنے کا اعلان
بورس جانسن کا ماسک پہننے اور سماجی فاصلے کی شرط ختم کرنے کا اعلان

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 19 جولائی سے ماسک پہننا ہر شخص کی اپنی مرضی ہوگی۔

لندن: عالمی وبا کورونا وائرس کے کم ہوتے اثرات کے سبب برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے ماسک پہننے اور سماجی فاصلے کی شرط ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 19 جولائی سے ماسک پہننا ہر شخص کی اپنی مرضی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ماسک پہننے کی قانونی پابندی 19 جولائی سے ختم کردیں گے۔ اسی روز سماجی فاصلے کی پابندی بھی ختم ہوجائے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کورونا وائرس کے انڈین ویرئینٹ کو لاک ڈاؤن نرمی کے راستے میں رکاوٹ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ کرونا وائرس کی مہلک وبا کی ہندوستانی قسم برطانیہ میں وبا کی تیسری لہر کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں کورونا وائرس کی ہندوستانی قسم پھیل رہی ہے وہاں کورونا ویکسینیشن میں اضافہ کیا جائے گا۔

پروفیسر کرس وٹی نے کہا کہ انڈین ویرئینٹ برطانوی ویرئینٹ سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔ انڈین ویرئینٹ کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں نرمی خطرے میں پڑگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کیلیے ویکسین کی دوسر ڈوز 12 کے بجائے 8 ہفتے میں لگائی جائے گی۔

تبیلیسی میں ایل جی بی ٹی اینٹی ریلی میں 50 سے زائد صحافی زخمی

0
تبیلیسی میں ایل جی بی ٹی اینٹی ریلی میں 50 سے زائد صحافی زخمی
تبیلیسی میں ایل جی بی ٹی اینٹی ریلی میں 50 سے زائد صحافی زخمی

جارجیا کے دارالحکومت، تبیلیسی میں ایل جی بی ٹی اینٹی ریلی میں تشدد سے 50 سے زیادہ صحافی زخمی ہوگئے ہیں۔

تبیلیسی: جارجیا کے دارالحکومت تبیلیسی میں ایل جی بی ٹی کے خلاف ریلی میں ہونے والے تشدد میں 50 سے زیادہ صحافی زخمی ہوگئے ہیں۔ جارجیا کی وزارت داخلہ نے پیر کو یہ معلومات دی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تفتیش میں پولیس نے 55 افراد کے خلاف تشدد کا انکشاف کیا ہے، جس میں مختلف میڈیا گروپس کے 53 نمائندے بھی شامل ہیں۔

وزارت نے بتایا کہ پولیس نے انتظامی خلاف ورزیوں کے الزام میں آٹھ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

نائیجیریا: مسلح افراد نے اسکول میں موجود 165 طلبہ میں سے 140 کو اغوا کرلیا

0
نائیجیریا: مسلح افراد نے اسکول میں موجود 165 طلبہ میں سے 140 کو اغوا کرلیا
نائیجیریا: مسلح افراد نے اسکول میں موجود 165 طلبہ میں سے 140 کو اغوا کرلیا

نائیجیریا میں اسکول پر حملہ اور بچوں کا اغوا معمول کی بات بن چکی ہے۔ تازہ واقعے میں نائیجیریا کے شمال مغربی علاقے میں مسلح افراد نے 140 طلبا کو اغوا کرلیا۔

ابوجا: نائیجیریا میں اسکول پر حملہ اور بچوں کا اغوا معمول کی بات بن چکی ہے۔ تازہ ترین واقعے میں نائیجیریا کے شمال مغربی علاقے میں مسلح افراد نے 140 طلبہ کو اغوا کرلیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسکول انتظامیہ نے کہا ہے کہ حملہ آوروں نے فائرنگ شروع کی۔ کڈونا میں بیتھل باپٹسٹ ہائی اسکول پر دھاوا بول دیا اور سیکیورٹی گارڈز پر قابو پالیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افراد نے اسکول میں موجود 165 میں سے اکثر بچوں کو اغوا کرلیا۔

اسکول کے ایک استاد ایمانوئیل پاول نے کہا کہ حملہ آوروں نے 140 بچوں کو اغوا کرلیا۔ جبکہ صرف 25 طلبہ بچ گئے اور ہمیں تاحال کچھ معلوم نہیں ہے کہ بچے کہاں ہیں۔

اب تک ایک خاتون استاد سمیت 26 افراد بازیاب

ریاست کڈونا کی پولیس کے ترجمان محمد جلیگ نے اسکول پر حملے کی تصدیق کی لیکن مغوی بچوں کی تعداد اور دیگر تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ملزمان کے تعاقب میں ہیں اور ہم ریسکیو مشن پر ہیں اور اب تک ایک خاتون استاد سمیت 26 افراد کو بازیاب کروایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ نائیجیریا میں مسلح گینگز اکثر دور دراز گاؤں میں حملہ آور ہوتی ہیں جہاں لوٹ مار، مویشیوں کی چوری کے ساتھ ساتھ تاوان کے لیے اسکول کے بچوں اور شہریوں کو اغوا کیا جاتا ہے۔

نائیجیریا میں دسمبر 2020 سے اب تک ایک ہزار سے زائد طلبہ کو اغوا کیا گیا

رپورٹ کے مطابق نائیجیریا میں دسمبر 2020 سے اب تک ایک ہزار سے زائد طلبہ کو اغوا کیا گیا اور ان میں سے اکثر کو مقامی عہدیداروں سے مذاکرات کے بعد رہا کر دیا گیا۔ جبکہ کئی اب بھی ان کی حراست میں ہیں۔

مسلح افراد مضافات میں قائم اسکولوں اور کالجوں کو نشانہ بناتے ہیں جہاں بچوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے۔ لیکن سیکیورٹی کے ناقص انتظامات ہوتے ہیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزمان کارروائی کرتے ہیں اور بچوں کو باآسانی اپنے ٹھکانوں میں پہنچا کر تاوان کا مطالبہ کرتے ہیں۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ترنمول کانگریس کا ریاست بھر میں احتجاج

0
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ترنمول کانگریس کا ریاست بھر میں احتجاج
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ترنمول کانگریس کا ریاست بھر میں احتجاج

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ترنمول کانگریس نے اپنے ممبران اسمبلی کو ہدایت دی ہے کہ کورونا پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے احتجاجی جلوس نکالیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف مہم چلارہی ہے۔

کلکتہ: کلکتہ میں پٹرول کی قیمت 39 پیسے فی لیٹر اضافے کے ساتھ 99.74 روپے فی لیٹر ہوگیا ہے۔ ڈیزل 92 روپے 26 پیسے فی لیٹر ہے۔ کلکتہ کو چھوڑ کر ریاست کے 23 میں سے 19 اضلاع میں پٹرول کی قیمت پہلے ہی سنچری عبور کرچکی ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف کئی اضلاع میں ترنمول کانگریس کے حامیوں نے احتجاج کیا ہے۔

ترنمول کانگریس نے اپنے ممبران اسمبلی کو ہدایت دی ہے کہ کورونا پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاجی جلوس نکالیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف مہم چلارہی ہے۔ تفصیل پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پٹرول کی قیمت کا 33.21 روپے مرکز اور 19.18 روپے ریاستی حکومت بطور ٹیکس لیتی ہے۔ مرکز ڈیزل کی بنیادی قیمت پر 33.54 ٹیکس لگا رہی ہے اور ریاست 14.18 ٹیکس لیتی ہے۔ اس موقع پر ترنمول کانگریس نے ٹوئٹر ہیش ٹیگ مودی بابو پٹرول پر قابو کرو بھی چلارہی ہے۔

دوسری طرف ترنمول نے ممبران اسمبلی کو ہدایت دی ہے کہ وہ مختلف سماجی کاموں میں شرکت کو لے کر زیادہ محتاط رہیں، جعلی ویکسین معاملے سے سبق لیں۔ پارٹی نے کہا ہے کہ اگر کسی پروگرام میں مدعو کیا جاتا ہے تو پارٹی کے درائع سے تصدیق کرائیں اس کے بغیر کسی بھی تقریب میں شرکت نہ کریں۔ پروگرام کے کنوینر سے متعلق مکمل معلومات حاصل کریں۔

اتراکھنڈ: دھامی کابینہ نے پہلی میٹنگ میں چھ قراردادیں اور سات فیصلے لیے

0
اتراکھنڈ: دھامی کابینہ نے پہلی میٹنگ میں چھ قراردادیں اور سات فیصلے لیے
اتراکھنڈ: دھامی کابینہ نے پہلی میٹنگ میں چھ قراردادیں اور سات فیصلے لیے

اتراکھنڈ میں نئی تشکیل شدہ کابینہ کے حلف برداری کے چند گھنٹوں بعد، ریاست کے پہلے نوجوان وزیر اعلی پشکر سنگھ دھامی کی زیرصدارت پہلی میٹنگ میں چھ اہم قراردادیں اور سات فیصلے منظور ہوئے۔

دہرادون: اتراکھنڈ میں نو ​​تشکیل شدہ کابینہ کی اتوار کے روز حلف برداری کے محض چند گھنٹوں بعد ریاست کے پہلے نوجوان وزیر اعلی پشکر سنگھ دھامی کی صدارت میں پہلی میٹنگ میں چھ اہم قراردادیں اور سات فیصلے لیے گئے۔

پیر کے روز سیکرٹریٹ میں واقع میڈیا سنٹر میں صحافیوں کو کابینہ وزیر اور حکومت کے ترجمان سبودھ انیال نے ان قراردادوں اور فیصلوں سے معلومات فراہم کی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت بدعنوانی سے مبرا گورننس کو یقینی بنائے گی۔ اطلات اور ٹکنالوجی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے ذریعے ریاست کے عوام کو شفاف، حساس اور تیز تر خدمات فراہم کرنے کے لئے حکومت پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ اس سے ایک طرف نوجوانوں کو سرکاری سروس میں روزگار کے مواقع دستیاب کرائے جائیں گے۔ وہیں دوسری طرف نوجوانوں کو انٹرپینور بنانے کے لئے خود روزگار کے مواقع کی دستیابی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

کابینہ میں کہا گیا کہ حکومت عالمی وبا کووڈ 19 کی موثر روک تھام اور عام آدمی کی سہولت کے لئے طبی خدمات کو بہتر بنانے کے لئے پرعزم ہے۔ عام لوگوں کی سہولت کے لئے خصوصی طور پر تمام اضلاع میں حکومت کی جانب سے چلائی جارہی مختلف عوامی فلاح و بہبود کی اسکیموں کو کیمپوں کے ذریعے عام لوگوں تک پہنچانے کے لئے حکومت پرعزم ہے۔

صومالیہ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم، الشباب کے 15 دہشت گرد ہلاک

0
صومالیہ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تصاد، الشباب کے 15 دہشت گرد ہلاک
صومالیہ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تصاد، الشباب کے 15 دہشت گرد ہلاک

صومالیہ کی وسطی ریاست، گلمدوگ کے دارالحکومت دھسامریب میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے میں الشباب کے 15 دہشت گرد مارے گئے۔

مغادیشو: صومالیہ کی وسطی ریاست، گلمدوگ کے دارالحکومت دھسامریب میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے میں الشباب کے 15 دہشت گرد مارے گئے۔

صومالی نیشنل آرمی (ایس این اے) کے ترجمان علی ہاشی عابدی نے بتایا کہ دھسامریب قصبے کے قریب اتوار کے روز ہونے والے مقابلے میں متعدد دہشت گرد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دھسامریب قصبے اور الذہری گاؤں کے درمیان علاقے میں ایس این اے اہلکاروں پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں اسلحہ بھی برآمد کیا۔

مسٹر عابدی نے ایس این اے ریڈیو کو بتایا کہ ایس این اے فورسز نے وسطی صومالیہ کے علاقے گلمدوگ میں گوریئل اور دھسامریب کے قصبوں کے مابین ایک مقابلے میں الشباب کے 15 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ اس مقابلے میں متعدد دہشت گرد زخمی بھی ہوئے اور 10 بندوقیں برآمد ہوئیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ کارروائی ایس این اے کو خفیہ اطلاع ملنے کے بعد کی گئی ہے کہ الشباب عسکریت پسندوں نے مرکزی سڑک پر بارودی سرنگیں نصب کی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر حمایت یافتہ حکومت سے لڑنے والے دہشت گرد گروہ نے حملے میں آرمی کے ایک سینئر کمانڈر سمیت 8 فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ اس قدر مہلک حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک کی ریاستوں میں انتخابی عمل شروع ہونے والا ہے، جو اکتوبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں اختتام پذیر ہوگا۔ ان دنوں سرکاری افواج نے وسطی اور جنوبی علاقوں میں الشباب کے خلاف کاروائیاں تیز کردی ہیں۔

الشباب کو آسٹریلیا، کینیڈا، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکہ نے ایک دہشت گرد تنظیم کا نامزد کیا ہے۔