شہنشاہ جذبات دلیپ کمار نے آج صبح ساڑھے سات بجے مضافاتی علاقہ ولے پارلے میں واقع ہندوجااسپتال میں آخری سانس لی۔ تقریبا نصف صدی تک فلمی دنیا پر چھائے رہے، دلیپ کمار کی پہلی فلم جوار بھاٹا 1944 میں ریلیز ہوئی تھی جس میں انہوں نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔
ممبئی: شہنشاہ جذبات دلیپ کمار نے آج صبح ساڑھے سات بجے مضافاتی علاقہ ولے پارلے میں واقع ہندوجااسپتال میں آخری سانس لی۔ گزشتہ ایک مہینے میں دوسری مرتبہ دلیپ کمار کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ انہیں باندرہ پالی ہل میں ان کے بنگلہ پر لے جایا جائے گا اور تدفین شام پانچ بجے جوہو قبرستان میں کی جائے گی۔
تقریبا نصف صدی تک فلمی دنیا پر چھائے رہے، دلیپ کمار کی پہلی فلم جوار بھاٹا 1944 میں ریلیز ہوئی تھی جس میں انہوں نے اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اور انہوں نے محض 64 فلموں میں اداکاری کی اور سب سے زیادہ ایوارڈز حاصل کیے۔ فلم کے ساتھ ساتھ سیاسی، سماجی اور تعلیمی میدانوں میں رینجرز قومی اور ملی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ ان کے قریبی فیصل فاروقی نے انسانیت کی خدمت میں بھی گزار دیئے۔
دلیپ کمار پیشاور کے محلہ خداداد میں لالہ غلام سرور کے گھر پیدا ہوئے
واضح رہے کہ 11 دسمبر 1922 کو دلیپ کمار پیشاور کے محلہ خداداد میں لالہ غلام سرور کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ غالباً 1935 میں بمبئی چلے آئے اور دراصل کاروبار کے سلسلے میں منتقل ہوئے تھے۔ اداکاری سے قبل دلیپ کمار عرف یوسف خان پھلوں کے سوداگر تھے۔ انہوں نے پونہ کی فوجی کینٹین میں پھلوں کی ایک سٹال لگایا، پونہ کو وہ کبھی بھلا نہیں پائے، 2002 میں انہیں پونے میں اعزاز سے نوازا گیا اور شہر کی چابی بھی سونپی گئی تھی۔
سال 1944 کے زمانے کی معروف اداکارہ اور فلمساز دیویکا رانی کی جوہر شناس نگاہوں نے 20 سالہ یوسف خان میں چھپی اداکاری کی صلاحیت کو بھانپ لیا اور فلم ’جوار بھاٹا‘ میں دلیپ کمار کے نام سے ہیرو کے رول میں کاسٹ کیا، ان کے ساتھ مشہور کامیڈین آغا بھی تھے۔ اس کے بعد سے دلیپ کمار نے فلمی صنعت پر ایک طویل عرصے تک راج کیا۔ اور آن، انداز، دیوداس، نیادور، رام اور شیام، بیراگ، شکتی، کرما، سوداگر جیسی مشہور فلموں میں کام کیا۔
دلیپ کمار لوگوں کو ہنسا نے کا فن بھی جانتے تھے
دلیپ کمار کی سنگ دل، امر، اڑن کھٹولہ، آن، انداز، نیا دور، مدھومتی، یہودی اور مغل اعظم جیسی چند فلمیں ہیں جن میں کام کرنے کے دوران انہیں شہنشاہ جذبات کا خطاب دیا گیا۔ لیکن انہوں نے فلم کوہ نور، آزاد، گنگا جمنا، گوپی اور رام اور شیام میں ایک مزاحیہ اداکار کی شناخت بنائی اور یہ ثابت کیا کہ وہ لوگوں کو ہنسا نے کا فن بھی جانتے ہیں۔ لیڈر میں وہ ایک انوکھے رول میں نظر آئے۔
دلیپ کمار کی اداکاری میں ایک ہمہ جہت فنکار دیکھا جاسکتا ہے جو کبھی جذباتی بن جاتا ہے تو کبھی سنجیدہ اور روتے روتے آپ کو ہنسانے کا گر بھی جانتا ہو۔ ہندوستانی فلم صنعت انہیں آج بھی بہترین اداکار مانتی ہے اور اس کا لوگ اعتراف کرتے ہیں۔ دلیپ کمار اپنے دور کے فلم انڈسٹری کے ایسے اداکار تھے، جن کے سٹائل کی نقل نوجوان کرتے تھے اور ان کی ساتھی ہیروئینوں کے ساتھ ساتھ عام لڑکیاں ان پر فدا تھیں۔ ہیروئن مدھوبالا سے ان کے عشق کے چرچے رہے لیکن کسی وجہ سے ان کی یہ محبت دم توڑ گئی اور زندگی میں ہی دونوں علاحدہ ہو گئے۔ اس میں مدھوبالا کے والد کا رول ٹھیک نہیں رہا۔
بتایا جاتا ہے کہ ان کی وجیہہ شخصیت کو دیکھ کر برطانوی اداکار ڈیوڈ لین نے انہیں فلم ’لارنس آف عریبیہ‘ میں ایک رول کی پیشکش کی لیکن دلیپ کمار نے اسے ٹھکرا دیا۔ اور وہ رول مصر کے ادارے عمر شریف نے کیا تھا۔
دلیپ کمار بے شمار اعزازات سے نوازے گئے
دلیپ کمار نے 1998 میں فلم ‘ قلعہ’ میں کام کرنے کے بعد فلمی دنیا سے کنارہ کشی کر لی۔ انھیں بے شمار اعزازات سے نوازا گیا۔ وہاں انھیں ملک کی فلمی صنعت کے سب سے بڑا اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ بھی دیا گیا گیا اور پڑوسی ملک پاکستان کی حکومت نے 1998ء میں ان کو سب سے بڑے سیویلین اعزاز نشان پاکستان سے بھی نوازا تھا جو کہ سابق وزیر اعظم مرارجی ڈیسائی کو بھی مل چکا ہے۔ ملک کا دوسرا سب سے بڑا شہری اعزاز، 2015 میں پدم و بھوشن سے بھی نوازا گیا۔
ایک زمانے میں دلیپ کمار، راج کپور اور دیوآنند کی تینوں ہندوستانی فلمی دنیا پر چھائے ہوئے تھے۔










