24 جون کو ممتا بنرجی نے کلکتہ ہائیکورٹ میں عرضی دائر کرکے درخواست کی تھی کہ نندی گرام کے انتخابی نتائج کو چیلنج کئے جانے والی عرضی کی سماعت سے کوشک چندرا کو الگ کیا جائے۔
کلکتہ: کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس کوشک چندرا نے آج مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ذریعہ نندی گرام کے انتخابی نتائج کو چیلنج کئے جانے والی عرضی کی سماعت سے خود کو الگ کرلیا ہے۔ تاہم عدالت نے وزیر اعلی پر 5 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔
24 جون کو ممتا بنرجی نے کلکتہ ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرکے درخواست کی تھی کہ نندی گرام کے انتخابی نتائج کو چیلنج کئے جانے والی عرضی کی سماعت سے کوشک چندرا کو الگ کیا جائے۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ چوں کہ ماضی بطور وکیل کوشک چندرا بی جے پی سے وابستہ رہے ہیں اس لئے ان کے جانبدار ہونے کا شبہ ہے۔ چندرا نے کہا کہ جب انہوں نے 18 جون کو اس درخواست پر سماعت شروع کی تھی اس وقت اس کیس سے ان کو ہٹانے کی درخواست نہیں کی گئی تھی۔ مگر سماعت کے بعد ترنمول کانگریس کے لیڈروں نے ٹوئٹر کے ذریعہ یہ آواز بلند کی کہ میں بی جے پی سے وابستہ رہا ہوں۔
چندرا نے ممتا بنرجی پر جرمانہ عائد کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے آپ کو اس بات پر قائل کرنے سے قاصر ہوں کہ اس کیس کی میری عدالت میں سماعت کی وجہ سے مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ درخواست گزار نے جج کی جانبداری سے متعلق انگلی اٹھانے میں جلد بازی سے کام لیا ہے۔ جب کہ اس درخواست کی سماعت کرنے میں میری کوئی ذاتی دلچسپی نہیں ہے۔ چیف جسٹس کے ذریعہ مجھے تفویض کردہ کیس کی سماعت کرنا میرا آئینی فرض ہے۔
چندرا نے خود کو اس کیس کی سماعت سے علاحدہ کرنے کا اعلان کیا
چندرا نے کہا کہ جج کو بھی دوسرے شہری کی طرح رائے دہندگی کے حقوق اور سیاسی جھکاؤ کا حق حاصل ہے۔ تاہم جج کی سابقہ مشغولیت اور وابستگی کی بنیاد پر جانبدار نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔ ان ریمارکس کے بعد چندرا نے خود کو اس کیس کی سماعت سے علاحدہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اس معاملے کی سماعت سے خود کو علاحدہ نہیں کرتے ہیں تو اس سے مزید تنازع کھڑا ہوگا۔
عدالت نے حکم دیا کہ جرمانہ کی رقم دو ہفتوں میں مغربی بنگال بار کونسل کے پاس جمع کروانی ہوگی۔ عدالت نے کہا کہ یہ رقم کوووڈ 19 کی وجہ سے انتقال ہونے والے وکلا کے لواحقین کے لئے استعمال ہوگی۔
مغربی بنگال کے وزیر اعلی ممتا بنرجی نندیگرام اسمبلی حلقہ سے بی جے پی کے شوبھندو ادھیکاری سے ہار گئے تھے۔ شوبھندو ادھیکاری انتخابات سے عین قبل ترنمول کانگریس کا ساتھ چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔ 17 جون کو ممتا بنرجی نے کلکتہ ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرتے ہوئے نندی گرام کے نتائج کو چیلنج کیا تھا۔
اس کیس کی سماعت کوشک چندرا کی عدالت میں شروع ہونے کے بعد ممتا بنرجی نے کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس راجیش بنڈل کو خط لکھ کر درخواست کی کہ چوں کہ کوشک چندرا بی جے پی کے سرگرم ممبر رہ چکے ہیں اس لئے اس معاملے میں ان سے جانبداری کی امید ہے اس لئے اس کیس کی سماعت سے ان کو الگ کیا جائے۔
کئی تصویر میں چندرا بی جے پی لیڈروں کے ساتھ بیٹھے نظر آئے
ممتا بنرجی کے وکیل نے ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن اور مشہور وکیل پرشانت بھوشن کے ٹویٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کئی ایسی تصویریں ہیں جس میں کوشک چندرا بی جے پی لیڈروں کے ساتھ بیٹھے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ جسٹس چندرا نے تصدیق کی تھی کہ وہ تصاویر ان کی ہی ہیں۔
خیال رہے کہ نندی گرام اسمبلی حلقہ جہاں سے ممتا بنرجی انتخاب لڑی تھیں کے نتائج حیران کن تھے۔ ممتا بنرجی مسلسل پیچھے چلیں بعد میں وہ آگے ہوئںں اور ان کی جیت کا اعلان کردیا گی۔ مگر بعد میں الیکشن کمیشن نے 19659 ووٹوں سے شکست کا اعلان کردیا۔ ممتا بنرجی نے گنتی میں دھاندلی اور دھوکہ دہی کا الزام لگاتے ہوئے دوبارہ گنتی کی درخواست کی جس کو الیکشن کمیشن نے مسترد کردیا۔ اس وقت ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ وہ نتائج کو چیلنج کریں گی۔