بدھ, مئی 13, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 328

اپوزیشن پارٹیوں کی ہنگامہ آرائی اور شوروغوغا کے سبب ایوان زیریں کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی

0
اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی اور شوروغوغا کے سبب ایوان زیریں کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی
اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی اور شوروغوغا کے سبب ایوان زیریں کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی

کانگریس، ترنمول کانگریس، بائیں بازو اور کچھ دیگر اپوزیشن پارٹیوں کی ہنگامہ آرائی اور شور و غوغا کی وجہ سے ایوان زیریں (لوک سبھا) کی کارروائی جمعہ کے روز دن بھر کے لئے ملتوی کردی گئی۔

نئی دہلی: کانگریس، ترنمول کانگریس، بائیں بازو اور کچھ دیگر اپوزیشن پارٹیوں کی ہنگامہ آرائی اور شور و غوغا کی وجہ سے ایوان زیریں (لوک سبھا) کی کارروائی جمعہ کے روز دن بھر کے لئے ملتوی کردی گئی۔ ایک بار ملتوی ہونے کے بعد جیسے ہی دوپہر بارہ بجے دوسری بار ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوا، اپوزیشن ارکان ایک بار پھر نعرے لگاتے ہوئے اسپیکر کے پوڈیم کے سامنے آئے۔

پریذائیڈنگ آفیسر کریٹ سولنکی نے اس ہنگامے کے درمیان کہا کہ کچھ ممبروں نے اسپیکر کے سامنے کاروبار ملتوی کرنے کی تجویز پیش کی ہے، لیکن ان میں سے کسی کو بھی اسپیکر نے منظور نہیں کیا ہے۔ مسٹر سولنکی نے ممبروں کو راضی کرنے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے کوئی بات نہیں مانی۔ مختلف پارٹیوں کے ممبران مختلف امور سے متعلق پلے کارڈ لہرا رہے تھے۔ ترنمول کانگریس کے کچھ ممبران ہاتھوں میں موبائل دکھا کر نعرے بلند کررہے تھے۔

ہنگامے کے درمیان پریذائڈنگ آفیسر کریٹ سولنکی نے ضروری دستاویز ایوان کی میز پر رکھوائے، اس کے بعد ایوان کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کردی گئی۔

صبح 11 بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوئی

اس سے قبل جیسے ہی صبح 11 بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، اسپیکر اوم برلا نے ٹوکیو اولمپکس میں شرکت کر نے والے ہندوستانی دستے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس کے بعد انہوں نے وقفہ سوالات کی کارروائی شروع کردی۔ ادھر اپوزیشن ارکان نعرے لگاتے ہوئے ہاتھوں میں پلے کارڈ لے کر اسپیکر کر پوڈیم کے قریب پہنچ گئے۔ وہ حکومت سے جاسوسی کے مبینہ الزامات، کسانوں کے مسائل اور دیگر موضوعات پر جوابات مانگ رہے تھے اور ’ڈاؤن، ڈاؤن‘ کے نعرے بلند کررہے تھے۔

اسپیکر اوم برلا نے ان سے کووڈ 19 پروٹوکول پرعمل کرنے کی اپیل کی اور انہیں ماسک پہننے اور اپنی نشستوں پر جانے کو کہا۔ شور و غوغا کے درمیان ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر بھوپندر یادو اور صحت اور خاندانی بہبود کے وزیر من سکھ مانڈویہ نے اپنی اپنی وزارتوں سے متعلق سوالات کے جوابات دیئے۔ مسٹر مانڈویہ اس وقت بھی کوڈ ویکسین سے متعلق سوالوں کا جواب دے رہے تھے جب اپوزیشن کی نعرے بازی تیز ہوگئی تھی۔

اسپیکر اوم برلا نے ایک بار پھر ہنگامہ اور شوروغوغا کرنے والے اراکین سے پرسکون ہونے کی اپیل کی، لیکن جب ان کی اپیل کا کوئی اثر نہ ہوا تو صبح 11.16 بجے انہوں نے ایوان کو دوپہر 12 بجے تک کیلئے ملتوی کردیا۔

مسلسل دوسرے روز بھی شیئر بازار میں تیزی، سینسیکس ایک ہفتہ کی بلند ترین سطح پر، 139 پوائنٹس کا اضافہ

0
مسلسل دوسرے روز بھی شیئر بازار میں تیزی، سینسیکس ایک ہفتہ کی بلند ترین سطح پر، 139 پوائنٹس کا اضافہ
مسلسل دوسرے روز بھی شیئر بازار میں تیزی، سینسیکس ایک ہفتہ کی بلند ترین سطح پر، 139 پوائنٹس کا اضافہ

مسلسل دوسرے روز بھی شیئر بازار میں تیزی کا رجحان رہا اور سینسیکس اور نفٹی ایک ہفتہ کی بلند ترین سطح پر بند ہوئے۔ ابتدائی اتار چڑھاؤ کے بعد، بی ایس ای کا سینسیکس 138.59 پوائنٹس یعنی 0.26 فیصد کے اضافے سے 52،975.80 پر بند ہوا۔

ممبئی: آئی سی آئی سی آئی بینک اور آئی ٹی سی جیسے بڑی کمپنیوں میں زبردست خریداری کے باعث آج مسلسل دوسرے روز بھی شیئر بازار میں تیزی کا رجحان رہا اور سینسیکس اور نفٹی ایک ہفتہ کی بلند ترین سطح پر بند ہوئے۔ ابتدائی اتار چڑھاؤ کے بعد، بی ایس ای کا سینسیکس 138.59 پوائنٹس یعنی 0.26 فیصد کے اضافے سے 52،975.80 پر بند ہوا۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی بھی 32 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 15856.05 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ یہ 16 جولائی کے بعد سے دونوں انڈیکس کی اعلی ترین سطح ہے۔

کاروبار کے دوران سینسیکس طویل وقفے تک 53 ہزار پوائنٹس سے اوپر رہا، لیکن بعد میں وہ اس سطح پر قائم نہیں رہ سکا۔

چھوٹی کمپنیوں میں بھی خریداری رہی جبکہ میڈیم کمپنیوں کا انڈیکس ٹوٹ گیا۔ بی ایس ای کا اسمال کیپ 0.11 فیصد اضافے کے ساتھ 26425.91 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مڈ کیپ 0.07 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 23،021.14 پوائنٹس پر بند ہوا۔

30 کمپنیوں میں سے 17 کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ درج

سینسیکس کی 30 کمپنیوں میں سے 17 کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ درج کیا گیا جبکہ دیگر 13 کمپنیوں کا نقصان ہوا۔ آئی سی آئی سی آئی بینک کے حصص میں سب سے زیادہ 3.18 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گيا۔ آئی ٹی سی میں 2.56 فیصد، اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں 1.69 فیصد، ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز میں 1.60 فیصد، ایکسس بینک میں 1.17 فیصد، بجاج فنانس میں 1.03 فیصد اور ٹیک مہندرا اور سن فارما میں 0.99 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جبکہ ایل اینڈ ٹی کے حصص 1.80 فیصد گراوٹ میں رہے۔

دریں اثناء، ایشیائی شیئر بازاروں ملا جلا رجحان دیکھنے کو ملا۔ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ میں 1.45 فیصد اور چین کے شنگھائی کمپوزٹ میں 0.68 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جبکہ جاپان کے نکئی میں 0.58 فیصد اور جنوبی کوریا کے کوسپی میں 0.13 فیصد کی تیزی درج کی گئی۔ یوروپی بازاروں کا انڈيکس سبز نشان میں رہا۔ ابتدائی تجارت میں جرمنی کا ڈی اے ایکس 0.83 فیصد اور برطانیہ کے ایف ٹی ایس ای میں 0.79 فیصد اضافہ ہوا۔

حکومت احتجاجی کسان تنظیموں کے ساتھ کھلے ذہن سے بات چیت کے لئے تیار ہے: وزیر زراعت

0
کسانوں کے ساتھ حکومت کھلے ذہن سے بات چیت کے لئے تیار ہے: وزیر زراعت
کسانوں کے ساتھ حکومت کھلے ذہن سے بات چیت کے لئے تیار ہے: وزیر زراعت

پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ کسان تنظیموں کو چاہئے کہ نئے زراعتی قوانین کی دفعات پر انہیں اعتراض ہے انہیں نشاندہی کریں، حکومت ان کو حل کرے گی۔

نئی دہلی: وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے آج پھر سے کہا کہ حکومت احتجاجی کسان تنظیموں کے ساتھ کھلے ذہن سے بات چیت کے لئے تیار ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ کسان تنظیموں کو چاہئے کہ نئے زراعتی قوانین کی دفعات پر انہیں اعتراض ہے انہیں نشاندہی کریں، حکومت ان کو حل کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ نئے زراعتی قوانین سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور تاجروں کے درمیان مسابقت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کا احترام کرتی ہے اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کررہی ہے۔

واضح رہے کہ کسان تنظیمیں دہلی کی سرحدوں پر گزشتہ سات ماہ سے زائد عرصے سے نئے زراعتی اصلاحات کے قوانین کو واپس لینے کے مطالبے پر احتجاج کر رہی ہیں۔ کسانوں کی تنظیموں اور حکومت کے مابین گیارہ دور کی بات چیت ہوچکی ہے لیکن کوئی حل نہیں ہوسکا ہے۔ کسان آج جنتر منتر پر احتجاج کر رہے ہیں۔

اسٹیل سیکٹر کیلئے 6322 کروڑ روپے کا مراعاتی پیکج

0
اسٹیل سیکٹر کیلئے 6322 کروڑ روپے کا مراعاتی پیکج
اسٹیل سیکٹر کیلئے 6322 کروڑ روپے کا مراعاتی پیکج

مرکزی حکومت نے بدھ کے روز اعلی معیار کے اسٹیل سیکٹر کے لئے 6322 کروڑ روپے کے پروڈکشن پر مبنی مراعاتی پیکیج کا اعلان کیا۔

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے بدھ کے روز اعلی معیار کے اسٹیل سیکٹر کے لئے 6322 کروڑ روپے کے پروڈکشن پر مبنی مراعاتی پیکیج کا اعلان کیا۔ جس میں 40 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری متوقع ہونے اور 68،000 افراد کو براہ راست روزگار فراہم کرنے کا امکان ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت مرکزی کابینہ نے اسٹیل کے شعبے کے لئے پیداوار پر مبنی مراعاتی پیکیج فراہم کرنے کی تجویز کو منظوری دے دی۔

اس میٹنگ کے بعد وزیر اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ رقم اگلے پانچ برسوں میں ملک میں مصنوعات کی تیاری کے لئے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم سے ملک میں ’ہائی گریڈ اسپیشلٹی اسٹیل‘ کی پیداوار کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ اس سے برآمدات میں اضافہ بھی ہوگا اور اعلی معیار کے اسٹیل کی درآمدات پر انحصار کم ہوگا۔

توقع ہے کہ اس اسکیم میں لگ بھگ 40،000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اور 25 ٹن کی گنجائش کے اضافے کا امکان ہے۔ اس اسکیم کی مدت 2023-24 سے 2027- 28 تک شروع ہونے والے پانچ سال ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ اضافی پیداوار اور سرمایہ کاری کو مدنظر رکھتے ہوئے اس اسکیم میں روزگار پیدا کرنے کی تقریبا 5.25 لاکھ صلاحیت ہے، جس میں سے 68،000 براہ راست اور بقیہ بالواسطہ ملازمت ملیں گے۔

اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا دن بھر کے لئے ملتوی

0
اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا دن بھر کے لئے ملتوی
اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا دن بھر کے لئے ملتوی

پیر کو پارلیمنٹ کا مون سون اجلاس شروع ہوا۔ حزب اختلاف کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے سوائے کورونا کی صورتحال پر گفتگو کے آج تک راجیہ سبھا میں کوئی قانون سازی نہیں ہوسکی۔

نئی دہلی: اپوزیشن اراکین نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں زرعی قوانین، پیگاسس جاسوسی کیس اور آندھرا پردیش کو خصوصی حیثیت سمیت مختلف امور پر ہنگامہ کھڑا کردیا جس کی وجہ سے ایوان کو دو مرتبہ ملتوی کرنے کے بعد دن بھر کے لئے ملتوی کردیا گیا۔

لنچ کے وقفے کے بعد جیسے ہی ایوان کی کارروائی آج دو بجے شروع ہوئی ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے وزیر مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو سے پیگاسس معاملے پر بیان دینے کو کہا۔ کانگریس، ترنمول کانگریس، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور وائی ایس آر کانگریس کے ممبران نعرے بازی کرتے ہوئے ڈائس کے قریب پہنچ گئے۔

ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے ممبران سے اپیل کی کہ وہ اپنی نشستوں پر واپس جائیں اور ایوان کی کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دیں۔ انہوں نے پوچھا کہ ممبران اس معاملے پر بیان دینے کی اجازت کیوں نہیں دیتے ہیں جس کے بارے میں وہ بات کرنا چاہتے ہیں۔

اس دوران مسٹر وشنو نے بیان پڑھنے کی کوشش کی لیکن اپوزیشن کی مخالفت اتنی سخت تھی کہ وہ اپنی بات نہیں رکھ سکے اور انہوں نے اپنا بیان ایوان کی میز پر رکھ دیا۔

ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے ایوان میں افراتفری کی فضا کو دیکھ کر کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کردی۔

اپوزیشن نے صبح سے ہی ان معاملات پر ایوان میں ہنگامہ برپا کردیا تھا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی پہلے 12 بجے اور پھر 2 بجے تک ملتوی کرنا پڑی۔

پیر کو پارلیمنٹ کا مون سون اجلاس شروع ہوا۔ حزب اختلاف کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے سوائے کورونا کی صورتحال پر گفتگو کے آج تک راجیہ سبھا میں کوئی قانون سازی نہیں ہوسکی۔

مون سون سیشن: دوسرے دن بھی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی نہیں چل سکی

0
مون سون سیشن: دوسرے دن بھی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی نہیں چل سکی
مون سون سیشن: دوسرے دن بھی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی نہیں چل سکی

پارلیمنٹ کے مون سون سیشن کے دوسرے دن ٹیلی فون ٹیپنگ، مہنگائی، کسانوں اور ڈیزل کی قیمتوں پر ہنگامہ آرائی کے سبب ایوان زیریں کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے مون سون سیشن کے دوسرے دن ٹیلی فون ٹیپنگ، مہنگائی، کسانوں اور ڈیزل کی قیمتوں پر ہنگامہ آرائی اور شوروغوغا کے سبب ایوان زیریں (لوک سبھا) کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کردی گئی۔

ایوان کی کارروائی جیسے ہی 3 بجے شروع ہوئی اپوزیشن ارکان نعرے لگاتے ہوئے چیئر کے قریب پہنچ گئے۔ پریزائڈنگ افسر کریٹ سولنکی نے ممبروں سے اپیل کی کہ وہ اپنی نشستوں پر جائیں اور ایوان کی کارروائی کو آگے بڑھنے دیں۔ اسی درمیان وزیر پارلیمانی امور ارجن رام میگھوال کے ذریعہ ضروری دستاویزات ایوان کی میز پر رکھوائے۔

ہنگامہ کو دیکھ کر مسٹر سولنکی نے جمعرات کی صبح 11 بجے تک ایوان زیریں کی کارروائی ملتوی کردی۔

اس سے قبل جیسے ہی دوپہر 11 بجے ایوان کا آغاز ہوا، کانگریس سمیت کچھ اپوزیشن جماعتوں کے اراکین ایوان کے وسط میں آگئے اور نعرے لگانے لگے۔

ہنگامے کے درمیان پریذائڈنگ آفیسر کریٹ پریم جی بھائی سولنکی نے مختلف وزارتوں اور کمیٹیوں کے کام سے متعلق اہم کاغذات ٹیبل پر رکھے۔ اسی دوران اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین اپنا احتجاج درج کراتے ہوئے پریذائڈنگ آفیسر کے سامنے آئے جن کے ہاتھوں میں پلے کارڈ تھے۔

مسٹر سولنکی نے مشتعل ممبروں سے اپیل کی کہ مون سون کا یہ سیشن بہت ہی اہم ہے، برائے کرم ایوان میں امن برقرار رکھیں۔

اس دوران ایک بار پھر جیسے ہی ہنگامہ شروع ہوا انہوں نے ایوان کی کارروائی 3 بجے تک کیلئے ملتوی کردی تھی۔

جاسوسی، مہنگائی، کسانوں سے متعلق امور اور دیگر امور کے مبینہ الزامات پر ہنگامہ

اس سے قبل جیسے ہی صبح گیارہ بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، کانگریس کے ممبران اور کچھ دوسری اپوزیشن جماعتوں کے اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر نعرے لگانے لگے۔ وہ جاسوسی، مہنگائی، کسانوں سے متعلق امور اور دیگر امور کے مبینہ الزامات پر ہنگامہ کر رہے تھے۔ اسپیکر اوم برلا نے اپوزیشن ممبران سے پرسکون رہنے کی اپیل کی اور وقفہ سوالات کی کارروائی کا آغاز کیا۔

زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے وزیر مملکت کیلاش چودھری نے شوروغوغا کے درمیان جدید زراعت سے متعلق ایک سوال کا جواب دیا۔ اسی دوران حزب اختلاف کے کچھ ارکان ہاتھ میں پلے کارڈ لے کر ایوان کے وسط میں پہنچ گئے۔

اسپیکر اوم برلا نے ایک بار پھر ان سے پرسکون رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں پلے کارڈز لانا ضابطہ عمل کے تحت نہیں ہے۔ براہ کرم ممبران نعرے اور پلے کارڈ دکھانا بند کریں۔

انہوں نے کہا ’’آپ جن بھی معاملہ پر تبادلہ خیال کرنا چاہتے ہیں، حکومت بحث کے لئے تیار ہے‘‘۔ لیکن جب ممبروں پر ان کی اپیل کا کوئی اثر نہیں ہوا تو صبح 11.30 بجے انہوں نے ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک کیلئے ملتوی کردی تھی۔

مدھیامک امتحان میں کامیابی حاصل کرنے والوں کو ممتا بنرجی نے مبارک باد پیش کی

0
مدھیامک امتحان میں کامیابی حاصل کرنے والوں کو ممتا بنرجی نے مبارک باد پیش کی
مدھیامک امتحان میں کامیابی حاصل کرنے والوں کو ممتا بنرجی نے مبارک باد پیش کی

کورونا وائرس کی وجہ سے اس سال امتحان کو رد کردیا گیا ہے۔ نویں کلاس اور دسویں جماعت کے داخلی امتحانات کے نتائج کی بنیاد پر نتائج مرتب کئے گئے ہیں۔ اس سال مغربی بنگال مدھیامک امتحان کے نتائج صد فیصد رہے ہیں۔

کلکتہ: مغربی بنگال کی وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے مدھیامک امتحان میں کامیابی حاصل کرنے والوں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے شاندار مستقبل کے لئے نیک خواہشات پیش کیا ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے اس سال امتحان کو رد کردیا گیا ہے۔ نویں کلاس اور دسویں جماعت کے داخلی امتحانات کے نتائج کی بنیاد پر نتائج مرتب کئے گئے ہیں۔ اس سال مغربی بنگال مدھیامک امتحان کے نتائج صد فیصد رہے ہیں۔

ممتا بنرجی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’مدھیامک امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے والے تمام طلبا کو میری جانب سے مبارک باد ہے۔ دل کی گہرائیوں سے میری دعا ہے کہ آپ مستقبل میں چمکتے رہیں اور زندگی میں بہت کچھ حاصل کرنے کے لئے آگے بڑھیں۔ والدین اور اساتذہ کو بھی نیک خواہشات پیش کرتی ہوں۔

ممتا بنرجی نے آگے لکھا ہے کہ طلباء کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ اور اساتذہ اور ان طلبا کی مدد کرنے والوں کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔

حزب اختلاف کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ایوان کے مانسون سیشن کے پہلے دن لوک سبھا کی کارروائی نہیں چل سکی

0

حزب اختلاف کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ایوان کے مانسون سیشن کے پہلے دن پیر کو لوک سبھا میں کوئی کام کاج نہیں ہوسکا۔ ایوان کی کارروائی منگل تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔

نئی دہلی: کسانوں، افراط زر، پٹرول، ڈیزل کے داموں کے سلسلے میں حزب اختلاف کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ایوان کے مانسون سیشن کے پہلے دن پیر کو لوک سبھا میں کوئی کام کاج نہیں ہوسکا۔ ایوان کی کارروائی منگل تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔

دو التواء کے بعد تیسری مرتبہ جیسے ہی سہ پہر ساڑھے تین بجے ایوان کا اجلاس شروع ہوا کانگریس، ترنمول کانگریس، دراوڑ مننترا کھزگم، شرومنی اکالی دل اور بائیں بازو کی جماعتوں کے ارکین ڈائس کے ارد گرد جمع ہوگئے اور نعرے بازی شروع کردی۔ ان لوگوں نے تختیاں بھی اٹھا رکھیں تھیں جس میں کسانوں، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں، مہنگائی کے بارے میں نعرے لکھے گئے تھے۔ اسپیکر اوم برلا نے تمام ممبران سے اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی گزارش کی۔ انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن کو ہر موضوع اور ایشو پر بات کرنے کا کافی مواقع دیئے جائیں گے۔

حکومت کسی بھی مسئلے پر بات کرنے کے لئے تیار ہے

پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے بھی کہا کہ وہ ایوان کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ حکومت کسی بھی مسئلے پر بات کرنے کے لئے تیار ہے۔ مسٹر برلا نے یہ بھی کہا کہ جب حکومت نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی مسئلے پر بات کرنے کے لئے تیار ہے تو ممبران کو اپنی نشستوں پر بیٹھنا چاہئے۔

اس کے بعد اسپیکر نے مرکزی وزیر مواصلات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور الیکٹرانکس اشوینی وشنو کو بلایا جنہوں نے شور مچانے کے دوران سیاستدانوں، صحافیوں اور اسرائیلی سافٹ ویئر کے استعمال سے متعلق دیگر اہم شخصیات کی جاسوسی کے الزامات کے بارے میں میڈیا رپورٹس پر ایک بیان پڑھ کر حکومت کے مؤقف کی وضاحت کی۔

انہوں نے اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس سنسنی کے پیچھے جو بھی وجہ ہے، اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ہندوستان میں قائم پروٹوکول کی وجہ سے غیر قانونی طور پر کسی کی جاسوسی یا نگرانی ممکن نہیں ہے۔

ایوان کی کارروائی میں تعاون کرنے کی اپیل

مسٹر وشنو کے بیان کے بعد مسٹر برلا نے دوبارہ ممبروں سے اپیل کی کہ وہ پرسکون ہوجائیں اور اپنی جگہوں پر بیٹھ جائیں اور ایوان کی کارروائی میں تعاون کریں لیکن اس کا حزب اختلاف کے ممبروں پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کے بعد اسپیکر نے منگل کی صبح 11 بجے تک ایوان کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔

اس سے قبل ایک مرتبہ کی التوا کے بعد جیسے ہی دوپہر 2 بجے ایوان شروع ہوا کانگریس، ترنمول کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) وغیرہ جیسے اپوزیشن جماعتوں کے ممبران نے ہاتھوں میں پلے کارڈ لئے ہوئے اسپیکر کے پوڈیم کے گرد جمع ہوگئے اور نعرے لگانے لگے۔

پریذائیڈنگ چیئرمین راجندر اگروال نے اپوزیشن اراکین سے اپیل کی کہ وہ اپنی نشستوں پر بیٹھیں اور ایوان کی کارروائی کو چلنے دیں لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس پر مسٹر اگروال نے سہ پہر ساڑھے تین بجے تک گھر ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے دن کی کارروائی صبح گیارہ بجے شروع ہوئی تو وزیر اعظم نریندر مودی اپوزیشن ممبروں کی شدید ہنگامے کی وجہ سے اپنی وزراء کی کونسل کے نئے ممبران کو متعارف نہیں کرا سکے۔ شدید ہنگامے کے باعث اسپیکر اوم برلا نے ایوان کی کارروائی 2 بجے تک ملتوی کردی۔

حکومت ہر تیکھے سوال کا جواب دے گی، اپوزیشن کو ایوان میں پرامن ماحول پیدا کرنا ہوگا: مودی

0
حکومت ہر تیکھے سوال کا جواب دے گی، اپوزیشن کو ایوان میں پرامن ماحول پیدا کرنا ہوگا: مودی
حکومت ہر تیکھے سوال کا جواب دے گی، اپوزیشن کو ایوان میں پرامن ماحول پیدا کرنا ہوگا: مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ حکومت کورونا وبا پر پارلیمنٹ اور اس کے باہر دونوں جگہ بحث کرنے اور سیاسی جماعتوں کو تمام معلومات فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔ 

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ حکومت پارلیمنٹ میں حزب اختلاف اور عوام کے ہر تیکھے سوال کا جواب دینے کے لئے تیار ہے۔ لیکن اس کے لئے حزب اختلاف کو پرامن ماحول پیدا کرنا ہوگا۔

مسٹر مودی نے پیر کو شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں آج میڈیا کو دیے ایک بیان میں ایوان میں حسن طریقے سے کام کاج ہونے کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے کہا ’’ایوان میں یہ سیشن نتیجہ خیز ثابت ہو، معنی خیز بحث کے لئے وقف ہو، ملک کے عوام جو جواب چاہتے ہیں، وہ جواب دینے کے لئے سرکار پوری طرح تیار ہے‘‘۔

تمام اپوزیشن کے لیڈروں سے گزارش ہے کہ وہ تیکھے اور دھاردار سوالات پوچھیں اور ایوان میں پرسکون ماحول برقرار رکھیں، جس سے حکومت کو جواب دینے کا موقع مل سکے۔ اس سے عوام تک حقائق پہنچانے کا موقع ملتا ہے۔ اس سے عوام کا اعتماد بڑھتا ہے، ترقی کی رفتار تیز ہوتی ہے۔

حکومت دونوں ایوانوں کے لیڈروں کے ساتھ کورونا کی صورتحال پر منگل کی شام کو بات کرنے کے لئے تیار

مسٹر مودی نے کہا کہ حکومت کورونا وبا پر پارلیمنٹ اور اس کے باہر دونوں جگہ بحث کرنے اور سیاسی جماعتوں کو تمام معلومات فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دونوں ایوانوں کے لیڈروں کے ساتھ کورونا وبا کی صورتحال پر منگل کی شام کو بات کرنے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے لیڈروں سے اس کے لئے وقت نکالنے کی اپیل کی۔

انہوں نے کہا ’’کورونا وبا نے پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لیا ہے۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں بھی اس پر معنی خیز بحث ہو اور ترجیحی بنیادوں پر ہو۔ تمام لیڈر اپنی تجاویز پیش کریں، اس سے کورونا کے خلاف لڑائی میں نیا پن آ سکتا ہے، خامیوں کو دور کیا جاسکتا ہے۔ ایوان کے تمام لیڈروں سے میں نے اپیل کی ہے کہ وہ کل شام کو وقت نکالیں، تو میں انہیں کورونا سے متعلق تمام معلومات فراہم کرنا چاہتا ہوں۔ میں کورونا وبا کے سلسلے میں وزرائے اعلیٰ سے بھی بات کر چکا ہوں‘‘۔

اس سے قبل وزیر اعظم نے وہاں موجود تمام لوگوں سے بھی کورونا سے محتاط رہنے اور اس کے لئے کورونا ویکسین لگوانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ شخص اپنے بازو پر کورونا ویکسین کا ٹیکہ لگوانے کے بعد کورونا سے مقابلہ کرنے کے لئے قابل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا ’’امید ہے کہ آپ سب کو ویکسین کا ایک ڈوز لگ گیا ہوگا۔ سب سے درخواست ہے کہ ایوان میں بھی ہم سب کورونا پروٹوکول پر عمل کرنے میں بھی تعاون پیش کریں۔ یہ ویکسین بازو پر لگائی جاتی ہے، تو آپ ’باہوبلی‘ بن جاتے ہیں۔

سنبھل میں سڑک کنارے کھڑے باراتیوں کو بس نے کچلا، سات کی موت، دس سے زائد زخمی

0
سنبھل میں سڑک کنارے کھڑے باراتیوں کو بس نے کچلا، سات کی موت، دس سے زائد زخمی
سنبھل میں سڑک کنارے کھڑے باراتیوں کو بس نے کچلا، سات کی موت، دس سے زائد زخمی

اترپردیش کے ضلع سنبھل میں دیر رات تقریباََ ایک بجے باراتی بس سے چھپرا گاؤں واپس لوٹ رہے تھے۔ راستے میں اچانک بس کا ٹائر پھٹ گیا۔ ڈرائیور نے بس سڑک کے کنارے کھڑی کردی اور ٹائر تبدیل کرنے لگا۔ اسی دوران یہ حادثہ پیش آیا۔

سنبھل: اترپردیش کے ضلع سنبھل کے بہجوئی علاقے میں بس کے خراب ہونے کی وجہ سے سڑک کنارے کھڑے باراتیوں کو ایک دیگر تیز رفتار بس نے کچل دیا۔ جس کی وجہ سے سات باراتیوں کی موت اور دس سے زائد زخمی ہوگئے۔

پولیس ذرائع نے آج یہاں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ دھناری کے علاقہ میں چھپرا کے رہنے والے ستیش کے بیٹے وویک کی بارات اتوار کے روز چاندوسی کے سیتا آشرم پر گئی۔ دیر رات تقریباََ ایک بجے باراتی بس سے چھپرا گاؤں واپس لوٹ رہے تھے۔ راستے میں مراد آباد – علی گڑھ قومی شاہراہ پر لہراون گاؤں میں اچانک بس کا ٹائر پھٹ گیا۔

ڈرائیور نے بس سڑک کے کنارے کھڑی کردی اور ٹائر تبدیل کرنے لگا۔ اسی دوران باراتی بھی بس سے نیچے اتر کر سڑک کے کنارے بس کے پیچھے کھڑے ہو گئے، تبھی پیچھے سے آ رہی ایک تیز رفتار بس نے باراتیوں کو کچل ڈالا۔

انہوں نے بتایا کہ حادثے میں چھپرا کے رہنے والے ویرپال (60)، ونیت کمار (32) چھوٹے سنگھ (35)، رگھویندر (35)، راکیش (55)، ابھئے (18) اور بھورے 40 کی موتع ہوگئی اور وجیندر، ابھیشیک، اروند، سنی، گووند دس سے زائد باراتی زخمی ہو گئے۔ تمام زخمیوں کو بہجوئی سی ایچ سی پہنچایا گیا۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا گیا ہے۔