اتوار, مارچ 29, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 317

افغانستان میں طالبان کی واپسی: اندیشے اور امکانات

0
افغانستان میں طالبان کی واپسی: اندیشے اور امکانات
افغانستان میں طالبان کی واپسی: اندیشے اور امکانات

اب جبکہ افغانستان میں طالبان کی واپسی ہو چکی ہے اور امریکہ جا چکا ہے، تو افغانستان کی صورت حال میں بڑی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔ یہ وہ تبدیلی ہے، جس کے اثرات نہ صرف افغانستان یا خطہ کے دوسرے ممالک تک محدود ہیں، بلکہ دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں بھی اس تبدیلی کے اثرات سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

افغانستان میں طالبان کی واپسی سے کسی نہ کسی شکل میں نہ صرف افغانستان کے ہمسایہ ممالک بلکہ دنیا کی دوسری طاقتوں کے ساتھ سب سے زیادہ امریکہ متاثر ہوا ہے۔ امریکہ کی پیشانی پر ہمیشہ کے لئے ناکامی کا ایک اور ٹھپہ لگ چکا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ۲۰؍ سال کی ناکامی کے بعد امریکہ نے راہ فرار اختیار کی ہے اور افغانستان کو ایک طشتری میں رکھ کر طالبان کو پیش کیا ہے، تو بیجا نہ ہوگا۔ اس لئے یہ طالبان کی فتح کم اور امریکہ کی شکست زیادہ ہے۔

اس شکست کا آغاز تو اسی وقت ہوگیا تھا جب ٹرمپ انتظامیہ نے ۲۰۲۰ء میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے اور حملے روکنے کی اپیل کی تھی۔ آخر کار ۱۵؍ اگست ۲۰۲۱ء کو امریکہ کی اس شکست پر مہر بھی ثبت ہو گئی۔ یہ شکست صرف امریکہ کی نہیں ہے، بلکہ ان ۴۲؍ ممالک کی بھی شکست ہے، جنہوں نے دنیا سے طالبان، القاعدہ اور دہشت گردی کے خاتمے کا عہد کرتے ہوئے ۲۰۰۱ء میں افغانستان پر حملہ کیا تھا۔

بہر حال، اب دنیا کی نظریں دو اہم امور پر مرکوز ہیں۔ ایک تو یہ کہ امریکہ بہادر نے افغانستان سے جس انداز میں راہ فرار اختیار کی ہے، کیا وہ کسی نئی حکمت عملی یا نئی منصوبہ بندی کا حصہ ہے؟ اور دوسرا یہ کہ ۲۰؍ سال کے بعد ایک بار پھر افغانستان کے اقتدار پر قابض ہونے والے طالبان کے رخ اور طرز حکمرانی میں واقعی کوئی تبدیلی آئے گی؟ یا پھر وہی انداز اختیار کریں گے، جو ۲۰؍ سال پہلے دنیا نے دیکھا تھا؟

افغانستان کے اقتدار میں رونما ہونے والی اس تبدیلی نے سب کو حیران کر دیا

افغانستان کے اقتدار میں رونما ہونے والی اس تبدیلی نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ نہ تو ۲۰؍ سال تک افغانستان کی خاک چھاننے والے امریکہ کو، نہ ہی اشرف غنی کی حکومت اور نہ ہی وہاں کام کرنے والی مختلف ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے وہم و گمان میں تھا کہ افغان سیکیورٹی فورسز ریت کی دیوار ثابت ہوں گے۔ شاید خود طالبان کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنی جلدی اور اتنی آسانی سے پورے ملک پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیں گے۔

غریب، بے بس اور مجبور عام افغانیوں نے طالبان کا استقبال اسی طرح کیا، جیسے ۲۰؍ سال پہلے ان کے خاتمے کے عہد کے ساتھ قدم رکھنے والے امریکیوں کی آمد پر ان کا کیا تھا۔ ہاں، اتنا ضرور ہوا کہ اس مرتبہ فی الحال کوئی بڑا خون خرابہ نہیں ہوا اور امریکہ اپنے اربوں ڈالر دھول میں اڑاکر اور ہزاروں فوجیوں کی جان گنوا کر یہاں سے ناکامی کا پلندہ باندھ کر نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ ورنہ لوگوں کا اندازہ یہ تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تربیت یافتہ افغان سیکیورٹی اہلکاروں سے طالبان کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا ہوگا اور اس صورت میں بڑے پیمانے پر خونریزی کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔

امریکہ کی ناکامی نہیں تو اور کیا ہے؟

افغانستان میں ۲۰۰۱ ء میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جب حملہ کیا تو اعلان کیا تھا کہ اس کا بنیادی مقصد انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ، افغانستان کی تعمیر نو و بحالی اور عوامی حکومت کی حاکمیت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے ایجنڈے میں افغانستان میں مقامی فورسز کی تربیت بھی شامل تھی، تاکہ وہ ملک میں سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔ اب ۲۰؍ سال کے بعد افغانستان وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔ نہ تو انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ ہوا، نہ ہی کوئی مضبوط اور مستحکم عوامی حکومت قائم ہو سکی اور نہ ہی افغان سیکیورٹی اہلکار اس بات کے اہل بن سکے کہ وہ ملک کی سلامتی کی ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔

یعنی امریکہ اور اس کے حلیفوں کا کوئی بھی مقصد پورا نہیں ہو سکا۔ یہ امریکہ کی ناکامی نہیں تو اور کیا ہے۔ اگر واقعی بیرونی طاقتیں افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتیں تو شاید طالبان کو اقتدار حاصل کرنے میں کچھ دشواریاں پیش آتیں۔ کیونکہ عام افغان ایک پرسکون زندگی چاہتے ہیں۔ ان کے سامنے امن کے ساتھ ساتھ روٹی، کپڑا اور مکان سب سے بڑے مسائل ہیں۔ انہیں حل کرنے میں اگر سابقہ حکومتیں کامیاب ہوتیں تو عام لوگ ان کا استقبال کرتے۔ اب جبکہ طالبان نے اقتدار پر اپنا کنٹرول کر لیا ہے، تو ان سے بھی عوام کو یہی توقعات ہیں کہ وہ ملک کے بنیادی مسائل کی جانب دھیان دیں گے۔

افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد دنیا امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے

افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد دنیا تمام خدشات اور تحفظات کے باوجود امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔ اور طالبان کے دوسرے دور اقتدار کا آغاز انہی امیدوں کے تحت ہوا ہے۔ بغیر کسی خون خرابے کے اقتدار پر قابض ہونے والے طالبان کے اب تک کے فیصلوں کو دیکھ کر فی الحال تو یہی محسوس ہو رہا ہے کہ اس مرتبہ ان کے انداز حکمرانی پہلے سے مختلف ہوگی۔ جنگ کے خاتمے کا اعلان، حریفوں کو عام معافی کا اعلان، سرکاری ملازمتوں اور خواتین سے متعلق فیصلوں سے تو یہی اشارہ مل رہا ہے۔

طالبان نے سرکاری ملازمین سے کہا ہے کہ کابل میں حالات معمول پر آ رہے ہیں، کسی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمام ملازمین معمول کی زندگی کا اعتماد کے ساتھ آغاز کریں اور کام پر واپس آ جائیں۔ انہیں ان کی تنخواہیں دی جائیں گی اور کچھ نہیں کہا جائے گا۔

طالبان کی طرف سے سرکاری ملازمین کے نام پیغام

طالبان کی طرف سے سرکاری ملازمین کے نام پیغام میں کہا گیا ہے کہ اپنے اداروں میں نئے سرے سے کام پر آئیں۔ تاہم اپنے خیالات کو ۲۰؍ سال پہلے کے حالات کے مطابق بحال کریں، رشوت، غبن، تکبر، بدعنوانی، سستی کاہلی اور بے حسی سے بچیں، جو پچھلے ۲۰؍ سال سے کسی وائرس کی طرح سرکاری اداروں میں پھیلی ہوئی ہے۔

طالبان کے سیاسی نائب ملا عبدالغنی برادر نے کہا ہے کہ تمام مرد اور خواتین سرکاری ملازمین کو اپنی ذمہ داریوں پر واپس آنا چاہیے۔ ہم عوام کی خدمت کے لیے پرعزم ہیں اور عوام کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔ طالبان کی جانب سے تحفظ کی یقین دہانی کے بعد متعدد سرکاری ملازمین اور ڈاکٹرز کام پر واپس آگئے ہیں، جبکہ کابل شہر کی سڑکوں پر ٹریفک پولیس نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔ طالبان نے ان کی حفاظت اور بلا خوف وخطر فرائض انجام دینے میں آزادی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

وہیں دوسری جانب عام معافی کے اعلان کے حوالے سے طالبان کے کلچرل کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی کا کہنا ہے کہ طالبان ملک میں نارمل صورت حال چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی امارات نہیں چاہتی کہ افراتفری کے حالات میں خواتین کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچے۔

طالبان کے رخ میں آئی یہ حیران کرنے والی تبدیلی

طالبان نے خواتین سے کہا ہے کہ وہ حکومت کا حصہ بنیں۔ یہ امر اہم ہے کہ طالبان تحریک افغانستان کے لیے اسلامی امارات کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ خواتین کے تعلق سے طالبان کے رخ میں آئی یہ تبدیلی واقعی حیران کرنے والی ہے۔ کیوں کہ زیر تعلیم لڑکیوں، ملازمت پیشہ اور مختلف شعبوں میں کام کرنے والی خواتین کے تعلق سے نہ صرف افغانستان میں، بلکہ دنیا بھر میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔

طالبان اگر واقعی ملک میں امن و امان اور خوشحالی لانا چاہتے ہیں، افغان عوام کی زندگیوں میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو انھیں اپنے اندر بھی تبدیلی لانی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی وہ ممالک اور عالمی ادارے و تنظیمیں جو افغانستان کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں، ان کا اعتماد بھی حاصل کرنا ہوگا۔ فی الحال روس، چین، پاکستان اور ایران جیسے ممالک نے طالبان سے امیدیں وابستہ کی ہیں تو ان کو بھی چاہئے کہ وہ بلا تفریق افغانستان کی بہتری اور خوشحالی کے لئے کام کریں۔

(مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں) yameen@inquilab.com

سینسیکس 56 ہزار پوائنٹس کی سطح پر، نفٹی نئی بلندی پر

0
سینسیکس 56 ہزار پوائنٹس کی سطح پر، نفٹی نئی بلندی پر

بی ایس ای کے 30 حصص کے حساس انڈیکس سینسیکس شروعاتی کاروبار میں ہی 56 ہزار پوائنٹس کی سطح کو عبور کرتے ہوئے 56073.31 پراور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 77 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 16691.95 پر کھلا۔

ممبئی: بیشتر گروپس میں خریداری کی بدولت شیئر بازار ہر روز نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔ بدھ کے روز، بی ایس ای کے 30 حصص کے حساس انڈیکس سینسیکس شروعاتی کاروبار میں ہی 56 ہزار پوائنٹس کی سطح کو عبور کرتے ہوئے 56073.31 پراور نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کا نفٹی 77 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 16691.95 پر کھلا۔

بی ایس ای سینسیکس 56073.31 پوائنٹس پر کھلنے کے فوراً بعد 55961.73 پوائنٹس کی نچلی سطح پر آ گیا ، لیکن اس کے بعد یہ چوطرفپ خریداری کی بنیاد پر 56118.57 پوائنٹس کی بلند سطح پر پہنچ گیا۔ ابھی یہ 0.38 فیصد یعنی 214.68 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 5606.95 پوائنٹس پر کاروبار کر رہا ہے۔

این ایس ای کا نفٹی شروع میں 16656.15 پوائنٹس کی نچلی سطح تک آ گیا، لیکن اس کے بعد یہ شروع ہوئی خریداری وجہ سے یہ 16701.85 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ فی الحال یہ 54.90 پوائنٹس کے مقابلے میں 0.33 فیصد اضافے کے ساتھ 16690.50 پر کاروبار کر رہا ہے۔

اسلامپور: ٹریکٹر اور موٹر سائیکل کے درمیان تصادم میں موٹر سائیکل ڈرائیور ہلاک، ایک دیگر زخمی

0
اسلامپور: ٹریکٹر اور موٹر سائیکل کے درمیان تصادم میں موٹر سائیکل ڈرائیور ہلاک، ایک دیگر زخمی
اسلامپور: ٹریکٹر اور موٹر سائیکل کے درمیان تصادم میں موٹر سائیکل ڈرائیور ہلاک، ایک دیگر زخمی

گھر دھپہ پانجی پاڑہ پولیس آؤٹ پوسٹ علاقے میں دردناک سڑک حادثہ، ٹریکٹر اور موٹر سائیکل کے درمیان تصادم میں موٹر سائیکل ڈرائیور ہلاک، دیگر ایک نوجوان زخمی

اسلامپور: پچھم بنگال کے ضلع اتر دیناجپور کے گھر دھپہ پانجی پاڑہ پولیس آؤٹ پوسٹ علاقے میں پیش آئے دردناک سڑک حادثہ میں موٹر ایک کی موقع پر ہی موت ہوگئی جبکہ دیگر ایک شدید طور سے زخمی ہوگیا۔

رپورٹ کے مطابق بالی چوکا، پانجی پاڑہ، تھانہ گوالپوکھر، اتر دیناج پور ضلع میں آج دوپہر یہ دردناک حادثہ پیش آیا۔  آئل انڈیا ٹاور گھر دھپہ قومی شاہراہ کے قریب ایک ٹریکٹر نے موٹر سائیکل کو زوردار ٹکر مار دی، جس کی وجہ سے موٹر سائیکل سوار پرکاش چوہان کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ وہیں ایک نوجوان شدید طور سے زخمی ہوگیا، جسے فوری طور پر کشن گنج ایم جی ایم اسپتال میں علاج کے لیے داخل کیا گیا ہے اور مقتول پرکاش چوہان کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسلام پور صدر اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ٹریکٹر ڈرائیور کے  غلط راستے پر چلنے کی وجہ سے یہ دردناک حادثہ پیش آیا۔

فضائیہ کا خصوصی طیارہ 140 ہندوستانیوں کو لے کر کابل سے روانہ

0
فضائیہ کا خصوصی طیارہ 140 ہندوستانیوں کو لے کر کابل سے روانہ
فضائیہ کا خصوصی طیارہ 140 ہندوستانیوں کو لے کر کابل سے روانہ

ہندوستانی فضائیہ کا ایک خصوصی طیارہ 140 ہندوستانیوں کو لے کر افغانستان کے دارالحکومت کابل سے روانہ ہوگیا ہے۔

نئی دہلی: ہندوستانی فضائیہ کا ایک خصوصی طیارہ 140 ہندوستانیوں کو لے کر افغانستان کے دارالحکومت کابل سے روانہ ہوگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ہندوستانی فضائیہ کا سی 17 گلوب ماسٹر طیارہ میں چار صحافیوں کے ساتھ انڈو تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے اہلکاروں اور کابل میں واقع ہندوستانی سفارت خانہ کے عملے اور افسران سوار ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ طیارہ ایران کے راستے ہندوستان پہنچے گا کیونکہ یہ طیارہ پاکستان کی فضائی حدود استعمال نہیں کرے گا۔ یہ طیارہ آج دوپہر غازی آباد میں آئی اے ایف کے ہنڈن ایئر بیس پر اترے گا۔

قبل ازیں وزارت خارجہ نے بتایا تھا کہ افغانستان میں بگڑتی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے کابل میں ہندوستانی سفارت خانے کے تمام ملازمین اور سفیر کو فوری واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے منگل کو ٹویٹ کیا ’’موجودہ صورتحال کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کابل میں ہندوستانی سفارت خانے کا تمام عملہ اور ہمارے سفیر فوری طور پر ہندوستان واپس آئیں گے۔‘‘

ہندوستان نے یہ فیصلہ گزشتہ اتوار کو افغانستان میں اشرف غنی حکومت کی برطرفی اور وہاں سیکیورٹی کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر کیا ہے۔

چین افغانستان میں خانہ جنگی کو روکنے کے لئے امریکہ کے ساتھ تعاون کے لئے تیار

0
چین افغانستان میں خانہ جنگی کو روکنے کے لئے امریکہ کے ساتھ تعاون کے لئے تیار

چین افغانستان میں خانہ جنگی کو روکنے اور ملک کو دوبارہ دہشت گردوں کی پناہ گاہ بننے سے روکنے کے لیے امریکہ کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

بیجنگ: چین نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں خانہ جنگی کو روکنے اور ملک کو دوبارہ دہشت گردوں کی پناہ گاہ بننے سے روکنے کے لیے امریکہ کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت میں افغانستان پر تعاون پر اتفاق کیا۔

وزارت خارجہ نے مسٹر وانگ کے حوالے سے کہا ’’چین افغان مسئلے کے سادہ حل کے نفاذ کی سہولت کے لیے امریکہ کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔ تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ افغانستان میں کوئی نئی خانہ جنگی یا انسانی تنازع نہ ہو اور وہ دہشت گردی کے گڑھ اور مہاجرین کی پناہ گاہ میں تبدیل نہ ہو‘‘۔

بائیڈن نے افغانستان سے آنے والے پناہ گزینوں کی مدد کے لئے 50 کروڑ ڈالر کئے مختص

0
بائیڈن نے افغانستان سے آنے والے پناہ گزینوں کی مدد کے لئے 50 کروڑ ڈالر کئے مختص

امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے آنے والے پناہ گزینوں کی مدد کے لئے 50 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے آنے والے پناہ گزینوں کی مدد کے لئے 50 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مسٹر بائیڈن نے وزیر خارجہ سے متعلق ایک خط میں کہا ’’میں اس کے ذریعے اس بات کا تعین کرتا ہوں کہ پناہ گزینوں، لڑائی سے متاثر لوگوں اور افغانستان میں موجودہ صورت حال کے نتیجے میں خطرے سے دوچار غیر متوقع امریکی ایمرجنسی پناہ گزین اور ہجرت سے متعلق ضرورتوں کو پورا کرنے کے مقصد سے امریکی ایمرجنسی پناہ گزین اور ہجرت کرنے والوں کے فنڈ سے 50 کروڑ ڈالر تک کی امدادی رقم کو یقینی بنانا قوم کے لئے اہم ہے‘‘۔

کابل واقع ہندوستانی سفارت خانے کے سبھی ملازمین اور سفیر کو فوری طور پر واپس بلانے کا فیصلہ

0
کابل واقع ہندوستانی سفارت خانے کے سبھی ملازمین اور سفیر کو فوری طور پر واپس بلانے کا فیصلہ
کابل واقع ہندوستانی سفارت خانے کے سبھی ملازمین اور سفیر کو فوری طور پر واپس بلانے کا فیصلہ

ہندوستان نے افغانستان میں بگڑتی صورتحال کے پیش نظر کابل واقع ہندوستانی سفارت خانے کے تمام عملے اور سفیروں کو فوری واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

نئی دہلی: ہندوستان نے افغانستان کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر کابل واقع ہندوستانی سفارت خانے کے سبھی ملازمین اور سفیر کو فوری طور پر واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے منگل کو ٹویٹ کرکے کہا ’’موجودہ حالات کے پیش نظر یہ فیصلہ لیا گیا ہے کہ کابل واقع ہندوستانی سفارتخانے کے سبھی ملازمین اور ہمارے سفیر فوری طور پر ہندوستان واپس آئیں گے‘‘۔

ہندوستان نے یہ فیصلہ گزشتہ اتوار کو اشرف غنی کو اقتدار سے بے دخل کئے جانے اور وہاں کی بگڑتی ہوئی حفاظت کی صورتحال کے پیش نظر کیا ہے۔

شدت پسندوں کی پناہ گاہ، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی طالبان حکومت کی نہیں کریں گے حمایت: امریکہ

0
شدت پسندوں کی پناہ گاہ، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی حکومت کی نہیں کریں گے حمایت: امریکہ
شدت پسندوں کی پناہ گاہ، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی حکومت کی نہیں کریں گے حمایت: امریکہ

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کی نئی طالبان حکومت کی حمایت نہیں کرے گا اگر یہ شدت پسندوں کی پناہ گاہ بن جائے اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرے۔

واشنگٹن: امریکہ نے کہا ہے کہ اگر افغانستان کی نئی طالبان حکومت شدت پسندوں کی پناہ گاہ بنتی ہے اور وہاں لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو وہ اس کی حمایت نہیں کرے گا۔

امریکہ کی وزارت دفاع کے ترجمان نیڈ پائس نے پیر کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ’’اگر افغانستان کی نئی حکومت اپنے ملک کے عوام کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرتی ہے۔ شدت پسندوں کو پناہ نہیں دیتی ہے تو اپنی نصف آبادی یعنی خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق سمیت وہاں کے شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرتی ہے تو ہم اس کے ساتھ کرپائیں گے‘‘۔

انہوں نے کہا ’’اگر وہاں کی حکومت ایسا نہیں کرتی تو ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے‘‘۔

افغانستان کے لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کی کوشش کریں گے طالبان

0
افغانستان کے لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کی کوشش کریں گے طالبان
افغانستان کے لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کی کوشش کریں گے طالبان

طالبان کے نائب رہنما ملا عبدالغنی برادر نے اعلان کیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد اب طالبان ملک کے لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔

کابل: افغان دارالحکومت کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے پیر کو کہا کہ جنگ ختم ہوچکی ہے اور ملک کے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

طالبان کے نائب رہنما ملا عبدالغنی برادر نے اعلان کیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد اب طالبان ملک کے لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ ملا برادر نے کہا کہ ہم اہل وطن کو بہتر زندگی فراہم کریں گے اور ملک کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے کام کیا جائے گا۔

ملا برادر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان کے افغانستان پر کنٹرول سنبھالنے کے بعد بیشتر ممالک اپنے سفارتکاروں اور عملے کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

طالبان نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ملک میں سخت شرعی قانون نافذ کرے گا اور ملک کا نام اسلامی امارات افغانستان رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ طالبان کے مذاکرات کار سہیل شاہین نے بتایا ہے کہ انہوں نے اپنے مجاہدین کو حکم دیا ہے کہ وہ بغیر اجازت لوگوں کے گھروں میں داخل نہ ہوں۔

شاہین نے بتایا کہ "امارات اسلامیہ نے مجاہدین کو احکامات دیے ہیں اور ایک بار پھر انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بغیر کسی اجازت کے لوگوں کے گھروں میں داخل نہ ہوں۔ کسی کی جان، مال اور عزت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گے اور مجاہدین ان کی حفاظت کریں گے۔‘‘

پاکستان نے طالبان کے ایک سرکردہ رہنما ملا محمد رسول اخوند کو جیل سے رہا کر دیا

دریں اثنا، ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ پاکستان نے طالبان کے ایک سرکردہ رہنما ملا محمد رسول اخوند کو جیل سے رہا کر دیا ہے۔ رسول طالبان لیڈر شپ کونسل کے سابق رکن ہیں اور طالبان سے الگ ہونے والے دھڑے کے رہنما رہے ہیں۔

ایک اور پیش رفت میں طالبان نے کابل میں جیلوں سے ہزاروں قیدیوں کو رہا کیا ہے، جن میں تحریک طالبان پاکستان کے سابق نائب سربراہ مولوی فقیر محمد بھی شامل ہیں۔

طالبان نے ابھی تک پروان صوبے کے دارالحکومت چھاریکر اور پنج شیر کے علاقے پر اپنے کنٹرول کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ان دو علاقوں کے علاوہ طالبان نے پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ طالبان نے خطے کی تمام جیلیں بند کر دیاہے اوران کے تمام قیدیوں کو رہا بھی کر دیا ہے۔

یورپی ممالک سمیت 60 سے زائد ممالک نے غیر ملکیوں اور افغانیوں کو بحفاظت نکلنے کا موقع دینے کی وکالت کی

0
یورپی ممالک سمیت 60 سے زائد ممالک نے غیر ملکیوں اور افغانیوں کو بحفاظت نکلنے کا موقع دینے کی وکالت کی
یورپی ممالک سمیت 60 سے زائد ممالک نے غیر ملکیوں اور افغانیوں کو بحفاظت نکلنے کا موقع دینے کی وکالت کی

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو دیکھتے ہوئے، ہم لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور تمام فریقوں کے احترام اور سہولت کے لئے غیر ملکی شہریوں اور ملک چھوڑنے کے خواہش مند افغانیوں کی محفوظ اور منظم روانگی کی اپیل کرتے ہیں۔

واشنگٹن: امریکہ، یورپی ممالک اور دیگر سمیت 60 سے زائد ممالک نے کہا ہے کہ افغانستان چھوڑنے والے غیر ملکی شہریوں اور افغانیوں کو محفوظ طریقے سے ایسا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے اتوار کی تاخیر شب جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے ’’سیکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو دیکھتے ہوئے، ہم لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور تمام فریقوں کے احترام اور سہولت کے لئے غیر ملکی شہریوں اور ملک چھوڑنے کے خواہش مند افغانیوں کی محفوظ اور منظم روانگی کی اپیل کرتے ہیں۔ پورے افغانستان میں برسراقتدار اور اختیارات کے عہدوں پر ہیں انہیں انسانی جان و مال کے تحفظ کے لئے ذمہ داری اور جوابدہی لینی چاہیے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جو افغان اور بین الاقوامی شہری روانہ ہونا چاہتے ہیں انہیں ایسا کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ سڑکیں، ہوائی اڈے اور سرحدیں کھلی رہنی چاہئیں اور امن کو برقرار رکھنا چاہیے۔ افغان عوام حفاظت، سلامتی اور عزت کے ساتھ رہنے کے مستحق ہیں۔ ہم بین الاقوامی برادری میں ہیں، ان کی مدد کے لیے تیار رہیں‘‘۔