جمعہ, مارچ 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 99

چندرابابو نائیڈو کی عرضی پر فوری سماعت سے سپریم کورٹ کا انکار

0
چندرابابو-نائیڈو-کی-عرضی-پر-فوری-سماعت-سے-سپریم-کورٹ-کا-انکار

آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ سپریم کورٹ نے پیر کے روز چندرابابو نائیڈو کی عرضی کو فوری طور پر فہرست بند کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ نائیڈو نے عرضی میں ان کے خلاف مبینہ کوشل وکاس نگم گھوٹالے میں درج ایف آئی آر رد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کی صدارت والی بنچ نے ٹی ڈی پی چیف کی طرف سے پیش سینئر وکیل سدھارتھ لوتھرا سے کہا کہ ’’کل تذکرہ والی فہرست میں آئیے۔ ہم دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے۔‘‘ وکیل نے عرضی تذکرہ والی فہرست میں نہیں ہونے کے باوجود معاملے میں فوری سماعت کا مطالبہ کیا تھا۔ لوتھرا نے عدالت عظمیٰ کو مطلع کرایا کہ نائیڈو 8 ستمبر سے حراست میں ہیں اور آندھرا پردیش میں اپوزیشن پر لگام لگانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے آؤٹ آف ٹرن تذکرہ کو قبول نہیں کیا اور لوتھرا کو معاملے کے فوری فہرست بند کرنے کی ہدایت کے لیے 26 ستمبر کو معاملے کا پھر سے تذکرہ کرنے کو کہا۔

واضح رہے کہ آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے جسٹس شرینواس ریڈی کی سنگل بنچ کے ذریعہ 22 ستمبر کو ان کی عرضی خارج کیے جانے کے بعد نائیڈو نے سپریم کورٹ مین خصوصی اجازت کی عرضی داخل کی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے سامنے داخل عرضی میں کہا گیا ہے کہ ’’عرضی دہندہ کو 21 ماہ پہلے درج کی گئی ایف آئی آر میں اچانک نامزد کر غیر قانونی طریقے سے گرفتار کیا گیا اور صرف سیاسی اسباب سے متاثر ہو کر اس کی آزادی سے محروم کر دیا گیا، جبکہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔‘‘ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ نائیڈو کے خلاف جانچ شروع کرنا اور ایف آئی آر درج کرنا دونوں غیر مستحکم (قانون میں وجود نہیں) ہیں کیونکہ دونوں ہی انسداد بدعنوانی ایکٹ 1988 کی دفعہ 17 اے کے تحت لازمی منظوری کے بغیر شروع کیے گئے ہیں اور جانچ آج تک جاری ہے۔

نائیڈو کو اس معاملے مین سی آئی ڈی نے 9 ستمبر کو نندیال میں گرفتار کیا تھا۔ اگلے دن وجئے واڑا میں اے سی بی کورٹ نے انھیں 14 دنوں کے لیے عدالتی حراست میں بھیج دیا۔ سی آئی ڈی کو 22 ستمبر کو راج مندری سنٹرل جیل میں پوچھ تاچھ کرنے کے لیے نائیڈو کی دو دنوں کی حراست دی گئی تھی، جہاں وہ فی الحال بند ہیں۔ اتوار کو ٹی ڈی پی سپریمو کی 2 دن کی پولیس حراست ختم ہونے کے فوراً بعد اے سی بی عدالت نے ان کی عدالتی حراست 5 اکتوبر تک بڑھا دی۔

پرینکا چوپڑا نے پرینیتی کو شادی پر مبارکباد دی، لکھا – ‘میرا آشیرواد ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے‘

0
پرینکا-چوپڑا-نے-پرینیتی-کو-شادی-پر-مبارکباد-دی،-لکھا-–-‘میرا-آشیرواد-ہمیشہ-آپ-کے-ساتھ-ہے‘

اتوار کو ادے پور کے لیلا پیلس میں شاہی شادی کے بعد بالی ووڈ اداکارہ پرینیتی چوپڑا اور سیاستدان راگھو چڈھا نے پیر کو اپنی شادی کی پہلی تصاویر شیئر کیں۔ پرینیتی چوپڑا اپنی شادی کی تصویروں میں بالکل پریوں کی طرح نظر آرہی ہیں اور ان کا دولہا راگھو بھی اپنی شادی  میں جیسی پریوں کی کہانی میں اپنے شہزادے کی طرح نظر آرہا ہے۔ گلوبل آئیکون اور پرینیتی چوپڑا کی بہن پرینکا چوپڑا نے بھی جوڑے کی شادی کی تصاویر پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔

پرینیتی اور راگھو کی شادی کی تصاویر بہت خوبصورت ہیں۔ اداکارہ نے اپنے بڑے دن پر منیش ملہوترا کا ڈیزائن کردہ لہنگا اور میچنگ جیولری پہنی تھی۔ جبکہ راگھو نے اپنے ماموں اور ڈیزائنر پون سچدیو کا ڈیزائن کردہ لباس پہنا تھا۔ تصویروں میں پرینیتی اور راگھو کی جوڑی بہت خوبصورت لگ رہی ہے۔ شادی کی پہلی تصاویر شیئر کرتے ہوئے اداکارہ نے کیپشن میں لکھا کہ ناشتے کی میز پر پہلی گفتگو سے ہی ہمارے دلوں کو معلوم ہو گیا۔ بہت دنوں سے اس دن کا انتظار تھا.. آخرکار مسٹر اینڈ مسز بننے کی سعادت مل گئی!

پرینیتی اور راگھو کی شادی کی پہلی تصاویر سامنے آنے کے بعد کئی مشہور شخصیات اور مداح نئے شادی شدہ جوڑے کو مبارکباد دے رہے ہیں۔ پرینیتی کی کزن بہن پرینکا چوپڑا نے بھی پرینیتی-راگھو کی شادی کی تصویروں پر اپنا ردعمل دیا ہے۔ پریانکا چوپڑا نے لکھا، ’’میر آشیرواد ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے۔‘‘ پرینکا نے دل، آگ، روتے ہوئے چہرے اور دل کی آنکھوں والے ایموجیز سے بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ پرینکا چوپڑا پرینیتی اور راگھو کی شادی میں شرکت نہیں کر سکیں۔ تاہم اداکارہ نے مئی میں جوڑے کی منگنی کی تقریب میں شرکت کی تھی۔ پرینکا کی ماں مدھو چوپڑا نے پرینیتی اور راگھو کی شادی کا بہت لطف اٹھایا۔ دریں اثنا، جب عالمی آئیکون کی والدہ کو پیر کی صبح ادے پور ہوائی اڈے پر دیکھا گیا تو  ان سے پریانکا چوپڑا کی شادی میں غیر حاضری کے بارے میں پوچھا۔ اس پر اداکارہ کی والدہ نے انکشاف کیا کہ ’’کام کر رہی ہے ‘‘۔

بی جے پی ممبر پالیمنٹ کی بدزبانی سے ہندوستان کی شبیہ داغدار ہوئی: ڈاکٹر ایوب

0
بی-جے-پی-ممبر-پالیمنٹ-کی-بدزبانی-سے-ہندوستان-کی-شبیہ-داغدار-ہوئی:-ڈاکٹر-ایوب

مسلمانوں کے خلاف نفرت و تشدد کی تاریخ کوئی نئی نہیں بلکہ بہت پرانی ہے ،فسادات کا سلسلہ بھی انگریزوں کے اقتدار سے شروع ہوا ، تو آزادی کے بعد بھی چلتا رہا۔ مگر 2014 میں جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے ،تب سے مسلمان ذہنی ،جسمانی ،کاروباری و ماب لنچنگ جیسے خوفناک منظر میں زندگی بسر کرنے کے لئے مجبور ہے ،حد کی انتہا تو اس وقت ہوئی جب جمہوریت کے مندر پارلیمنٹ میں بی جے پی ممبر پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی نے پوری مسلم سماج کو نشانہ بناتے ہوئے ایم پی کنور دانش علی کو نازیبا کلمات سے نوازا جو قابل مذمت ہے ،اس سے مسلمانوں کی ہی توہین نہیں ہوئی ،بلکہ دنیا میں ہندوستان کی شبیہ داغدار ضرور ہوئی ہے ۔پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے بی جے ایم پی کی بدزبانی پر اپنے رد عمل میں مذکورہ تاثرات کا اظہار کیا۔

ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ ملک کی نئی پارلیمنٹ کی عمارت میں انتہاپسند ذہنیت کے حامل رکن پارلیمنٹ بدھوڑی نے رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی کے خلاف ہی نہیں ، بلکہ پورے مسلم سماج کے خلاف جن نازیبا کلمات کا استعمال کیا ہے ،اس کی مثال آزادی سے آج تک پارلیمنٹ کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ ہندوستان سمیت پوری دنیا میں جو پیغام گیا ہے اس سے ملک کا سر شرم سے جھک گیا ۔بدھوڑی نے صرف دانش علی کو برا بھلا نہیں کہا بلکہ مذہب اسلام و تمام مسلمانوں کو دہشت گرد کہہ کر ملک کے تمام گزشتہ رواداری کی دھجیاں اڑا دی ۔ایک سیکولر ملک کے سیکولر آئین کی موجودگی میں برادری و مذہب کو نشانہ بنانا غیر منصفانہ ہی نہیں بلکہ غیر اخلاقی اور غیر قانونی بھی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جس وقت بدھوڑی نازیبا کلمات کا استعمال کر رہے تھے پوری بی جے پی خاموشی تماشائی تھی ۔ وزیر اعظم اپنی افتتاحی تقریر میں تمام اراکین سے نئے پارلیمنٹ ہاوس میں نئی شروعات کی درخواست کی تھی ،جس کی ایک نئی نفرت کی شروعات ان کے ہی ممبر پارلیمنٹ بدھوڑی نے نازیبا کلمات کا استعمال کرتے ہوئے کی ہے ،شائد بدھوڑی نے اپنی پارٹی کی پالیسی کو پارلیمنٹ میں اجاگر کر یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ اب ملک میں مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے ،لیکن وہ شائد بھول گئے کہ جب تک ملک کا آئین برقرار ہے جمہوریت کو ختم نہیں کیا جا سکتا ہے ،اور مسلمانوں کا چاہے جتنا استحصال کیا جائے اسی ملک میں دو گز زمین کے ساتھ ہی دنیا سے رخصت ہوگا ۔

ڈاکٹر ایوب نے حکومت سے مطالبہ کیا ملک کی جمہوریت و آئین کی پاسداری کے لئے رمیش بدھوڑی کی رکنیت کو ختم کیا جائے تاکہ پھر کوئی اس طرح کے بیان ایوان میں دینے کی جرّّت نہ کر سکے ۔

بی جے پی ایم ایل اے یوگیش شکلا کی سرکاری رہائش گاہ پر ملازم نے کی خودکشی، پولیس تفتیش جاری

0
بی-جے-پی-ایم-ایل-اے-یوگیش-شکلا-کی-سرکاری-رہائش-گاہ-پر-ملازم-نے-کی-خودکشی،-پولیس-تفتیش-جاری

اتر پردیش کے لکھنؤ سے ایک سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے۔ بی جے پی ایم ایل اے یوگیش شکلا کی سرکاری رہائش گاہ میں ایک ملازم نے پھانسی لگا کر خودکشی کرلی ہے۔  نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق متوفی کی شناخت 24 سالہ شریشٹھ تیواری کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ شریشٹھ تیواری بارہ بنکی کے حیدر گڑھ کی رہنے والے تھے۔ پھانسی کی وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔

لواحقین کو واقعہ کی اطلاع دے دی گئی ہے۔ شریشٹھ تیواری ایم ایل اے کے میڈیا سیل کا کام دیکھتےتھے۔ شریشٹھ تیواری حضرت گنج میں ایم ایل اے کی رہائش گاہ فلیٹ نمبر 804 میں اکیلے تھے۔ اتوار کو تقریباً 11.30 بجے میڈیا سیل کے کام کی دیکھ بھال کرنے والے ملازم نے پھانسی لگا لی۔ ایم ایل اے کی سرکاری رہائش گاہ میں خودکشی کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اطلاع ملنے پر پولیس کو موقع پر بلایا گیا۔ پولیس موقع پر پہنچی اور دروازہ توڑ کر اندر چلی گئی۔ اندر، شریشٹھ تیواری کی لاش پھندے سے لٹکی ہوئی ملی۔

پولیس نے لاش کو نالے سے نکال کر تفتیش شروع کردی۔ جائے وقوعہ سے کوئی خودکشی نوٹ برآمد نہیں ہوا ہے۔ پولیس خودکشی کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہی ہے۔ شریشٹھ تیواری کے اہل خانہ کو اس واقعہ کی اطلاع دے دی گئی ہے۔ بیٹے کی خودکشی کی خبر سے اہل خانہ میں کہرام مچ گیا۔ خاندان لکھنؤ روانہ ہو گیا ہے۔ یوگیش شکلا بی بی جے پی ایم ایل اے ہیں۔ بی جے پی ایم ایل اے کا ردعمل ابھی سامنے نہیں آیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جان لیوا قدم اٹھانے سے پہلے شریشٹھ تیواری نے ایک جاننے والے کو فون کیا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ کچھ دیر میں خودکشی کی خبر سننے کو ملے گی۔ پولیس نے مقتول کا موبائل فون قبضے میں لے لیا ہے۔

کمبوڈیا میں سات برسوں میں زیکا وائرس کا پہلا کیس

0
کمبوڈیا-میں-سات-برسوں-میں-زیکا-وائرس-کا-پہلا-کیس

کمبوڈیا میں 2016 کے بعد زیکا وائرس کا پہلا کیس اتوار کو سامنے آیا۔ ملک کی وزارت صحت نے اس کی تصدیق کی ہے۔وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ سانٹک ریفرل ہسپتال میں گزشتہ پیر کو ڈینگو بخار کا شبہ ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا اور جمعرات کو ہونے والے ٹیسٹ کے نتائج نے اس کے زیکا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے۔

زیکا وائرس بنیادی طور پر مچھر کی ایڈیس نسل سے پھیلتا ہے، لیکن یہ جنسی رابطے، خون کی منتقلی اور ماں سے بچے میں بھی پھیلتا ہے۔ اس کی علامات میں بخار، سر درد، دانے، سرخ آنکھیں اور جوڑوں کا درد شامل ہیں اور زیادہ تر مریض دو سے سات دن میں ٹھیک ہو جاتے ہیں، کیونکہ اس کے کیسز میں شرح اموات بہت کم ہے۔ اس کے ساتھ ہی اگر یہ وائرس حاملہ خواتین میں پھیلتا ہے تو رحم میں موجود بچے کی موت ہوسکتی ہے۔

وزارت صحت نے لوگوں خصوصاً حاملہ خواتین سے درخواست کی کہ وہ الرٹ رہیں اور ایڈیس مچھروں سے خود کو بچائیں اور اگر ان میں انفیکشن کی علامات ظاہر ہوں تو ڈاکٹروں سے ملیں۔

بی جے پی کے دور حکومت میں اتر پردیش میں جنگل راج: اکھلیش

0
بی-جے-پی-کے-دور-حکومت-میں-اتر-پردیش-میں-جنگل-راج:-اکھلیش

سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت میں اتر پردیش میں جنگل راج ہے۔ اقتدار کو بچانے کے لیے بی جے پی کے دبنگ اور غنڈے انتشار پھیلا رہے ہیں۔ بی جے پی لیڈروں نے ریاست کا امن و امان برباد کر دیا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر گھنشیام ترپاٹھی کو سلطان پور میں بی جے پی لیڈر کے بھتیجے نے بے دردی سے پیٹ پیٹ کر قتل کردیا۔ ڈاکٹر گھنشیام ترپاٹھی سلطان پور کے پی ایچ سی جے ہند پور میں تعینات تھے۔ اسی طرح کانپور میں بی جے پی لیڈر کی دھوکہ دہی سے کسان بابو سنگھ نے خودکشی کرلی۔ بی جے پی لیڈر نے دھوکہ دہی سے کسان کی زمین کا رجسٹریشن کروالیا۔ کسان کے اہل خانہ بی جے پی لیڈر کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن متاثرین کو انصاف نہیں مل رہا ہے۔ لگتا ہے وزیراعلیٰ اخلاقی چھٹی پر چلے گئے ہیں۔ کانپور میں ہی بی جے پی کونسلر کے شوہر نے طاقت کا گھمنڈ دکھاتے ہوئے ایک نوجوان کی بری طرح پٹائی کی۔

مسٹر یادو نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو بتانا چاہئے کہ متاثرہ کنبہ کی بات کیوں نہیں سنی جا رہی ہے۔ پوری ریاست میں غریبوں اور محروموں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ کسی کو انصاف نہیں مل رہا۔ بی جے پی حکومت میں غنڈوں کو اقتدار کا تحفظ حاصل ہے۔

خواتین اور بیٹیوں کی عصمت دری اور قتل کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ریاست میں غازی پور سے غازی آباد اور وارانسی سے سہارنپور تک جرائم کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

شرپسندوں نے سنیچر کی شام جون پور میں ایک میڈیکل اسٹور آپریٹر کو گولی مار دی۔ گزشتہ جمعرات کو سہارنپور کے گنگوہ کے ایک گاؤں سے ایک لڑکی کو اغوا کر کے اس کی عصمت دری کی گئی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت میں امن و امان تباہ ہوگیا ہے۔ بی جے پی اور وزیر اعلیٰ کا زیرو ٹالرنس کا نعرہ جھوٹا ہے۔ بی جے پی طاقتور اور مجرم لیڈروں کی حفاظت کرتی ہے۔ بے قصوروں کو جھوٹے مقدمات میں پھنساتی ہے۔

کیرالہ میں 28 ستمبر کو میلاد النبی کی عام تعطیل کا اعلان

0
کیرالہ-میں-28-ستمبر-کو-میلاد-النبی-کی-عام-تعطیل-کا-اعلان

کیرالہ حکومت نے میلاد النبی کی تعطیل 27 سے 28 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔ 27 ستمبر کو چھٹی کا اعلان کیا گیا تھا اور اب اسے 28 ستمبر کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے یہ فیصلہ گزشتہ ہفتے مسلم تنظیموں کی درخواستوں کے بعد لیا ہے۔

سرکاری ذرائع نے تصدیق کی کہ وزیر اعلیٰ پنارائی وجین نے عام تعطیل پر نظر ثانی کرنے والے دستاویز پر دستخط کر دیے ہیں۔حکومت کے تعطیلات کے کیلنڈر کے مطابق میلاد النبی (صلی اللہ علیہ وسلم) 27 ستمبر کو منایا جانا تھا ۔

کونڈوٹی سے انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) کے ایم ایل اے ٹی وی ابراہیم نے وزیر اعلیٰ پنارائی وجین کو خط بھیج کر اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کی ہے۔

کیرالہ مسلم جماعت نے وزیر اعلیٰ کو ایک میمورنڈم بھی پیش کیا ہے۔ تنظیم کے صدر کنتھا پورم اے پی ابو بکر مصلیار اور جوائنٹ سکریٹری سید ابراہیم الخلیل البھخاری نے کہا کہ 28 ستمبر کو روحانی ریلیاں مقرر کی گئی ہیں۔ سمستھا کیرالہ جمیعت العلماء (SKJU) نے بھی حکومت سے تعطیلات کو دوبارہ ترتیب دینے کی درخواست کی ہے۔

بی جے پی جان بوجھ کر ہندو مسلم تنازعہ پیدا کر رہی ہے: جے ڈی یو

0
بی-جے-پی-جان-بوجھ-کر-ہندو-مسلم-تنازعہ-پیدا-کر-رہی-ہے:-جے-ڈی-یو

جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا اتحاد کو ملنے والی عوامی حمایت سے خوفزدہ بی جے پی اب ہندو۔ مسلم تنازعہ پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

جے ڈی یو کے قومی جنرل سکریٹری راجیو رنجن نے کہا کہ انڈیا اتحاد کو ملنے والی عوامی حمایت سے پریشان بی جے پی اب ہندو مسلم تنازعہ پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ انہیں کام کے نام پر ووٹ نہیں ملے گا، اس لیے وہ فرقہ وارانہ پولرائزیشن کا آخری ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

مسٹر رنجن نے کہا کہ لوک سبھا میں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے رکن پارلیمنٹ کے خلاف بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کے گھٹیا ریمارکس بی جے پی کی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔ اگر آپ دیکھیں تو آج تک نہ تو وزیر اعظم مودی نے اس کی مذمت کی ہے اور نہ ہی وزیر داخلہ امت شاہ یا اس کے صدر جے پی نڈا نے بدھوڑی  پر تنقید کی ہے۔ چھوٹے  چھوٹے مسائل پر ٹویٹ کرنے والے بی جے پی لیڈروں کی یہ خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ پارلیمنٹ میں ایک مسلم لیڈر کے خلاف مسٹربدھوڑی کے زہریلے الفاظ کوئی اتفاق نہیں بلکہ بی جے پی کا دانستہ تجربہ ہے۔

جے ڈی یو جنرل سکریٹری نے کہا کہ حقیقت میں سماج کو آپس میں لڑا کر ووٹ حاصل کرنا شروع سے ہی بی جے پی کی پالیسی رہی ہے۔ گجرات ہو یا اتر پردیش یا مرکزی سیاست، ہر جگہ وہ ذات پات اور مذہب کے نام پر لوگوں کو پولرائز کرتے ہیں اور لوگوں کو ایک دوسرے کا دشمن بناتے ہیں۔ عوام آپس میں لڑتے رہتے ہیں اور ان کے لیڈر اقتدار کے مزے حاصل کرتے رہتے ہیں۔ اس حکمت عملی کی وجہ سے پہلے منی پور میں دو برادریاں ایک دوسرے کے خون کی پیاسی بنیں اور اب وہی واقعہ ہریانہ میں دہرایا جا رہا ہے۔

مسٹررنجن نے کہا کہ حقیقت میں پچھلے نو سالوں سے فرقہ پرستی کے نام پر اقلیتوں کو بے شرمی سے ڈرایا دھمکایاجارہاہے۔ ان میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ عوامی بائیکاٹ اور اقلیتوں کی نسل کشی کی دھمکیاں میڈیا کی موجودگی میں نام نہاد ‘دھرم سنسند’ کے ذریعے کھلے عام دی جا رہی ہیں۔ آئین اور امن و امان کی مسلسل دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، جبکہ نفرت انگیز تقریر کرنے پر بھی مقدمات درج نہیں کیے جاتے۔

جے ڈی یو جنرل سکریٹری نے کہا کہ یہ تمام معاملات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بی جے پی کے لئے قوم پرستی اور ملک کی یکجہتی اور سالمیت کی باتیں عوام کو گمراہ کرنے کے لئے صرف ہتھیار ہیں، حقیقت میں ان کے پاس ان اقدار پر ذرا بھر بھی اعتماد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنا ووٹ بینک بڑھانے اور اقتدار حاصل کرنے کے لیے کوئی بھی حد عبور کر سکتے ہیں۔

راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی کے لئے 2024 کے انتخابی نتائج حیرانی سے بھرے ہوں گے

0
راہل-گاندھی-نے-کہا-کہ-بی-جے-پی-کے-لئے-2024-کے-انتخابی-نتائج-حیرانی-سے-بھرے-ہوں-گے

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے اتوار کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر "توجہ ہٹانے کی حکمت عملی” میں ملوث ہونے کا الزام لگایا اور کہا کہ زعفرانی پارٹی کو  2024 کے لوک سبھا انتخابات سرپرائز دینے والے ہیں ۔

انگریزی روزنامے ’دی ہندوستان ٹائمس ‘میں شائع خبر کے مطابق دہلی میں’پرتی دن ‘میڈیا نیٹ ورک کی طرف سے منعقد ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ ان کی پارٹی مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان میں آنے والے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی اور تلنگانہ میں بھی ایک چانس ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ’’ہم شاید تلنگانہ جیت رہے ہیں، یقینی طور پر ایم پی اور چھتیس گڑھ جیت رہے ہیں۔ راجستھان میں ہم جیت جائیں گے! بی جے پی 2024 میں سرپرائز دینے والی ہے۔ اپوزیشن 60فیصد  لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ بی جے پی نے اپنی کرونی  (دوست)سرمایہ داری پالیسی کے ذریعے دولت  اور مالی اور میڈیا وسائل پر مکمل کنٹرول پیدا کیا ہے ۔‘‘واضح رہے مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان، تلنگانہ اور میزورم میں اسمبلی انتخابات اس سال کے آخر میں ہونے والے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  حکومت کی ‘ون نیشن ون الیکشن’ کی پچ، ’انڈیا یا بھارت’ بحث اور بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کے بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے رکن پارلیمنٹ دانش علی کے خلاف تضحیک آمیز ریمارکس ہوں  وہ سب بھگوا پارٹی کی  اصل مدوں سے توجہ ہٹانے کی حکمت عملی ہے۔

خواتین  ریزرویشن بل پر تبصرہ کرتے ہوئے ویاناڈ کے ایم پی نے کہا کہ بی جے پی اس کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہے اور الزام لگایا کہ اس نے ملک کی خواتین کے لیے حقیقت میں کچھ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے بل پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ بھی کیا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ’’یہ کل صبح نافذ کیا جا سکتا ہے، یہ بہت آسان ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اگر بی جے پی ایسا کرنے میں سنجیدہ ہوتی تو وہ یہی کرتی اور خواتین کو ریزرویشن دینے اور مردم شماری اور حد بندی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ منسلک نہیں ہیں اور یہ ایک خلفشار ہے ۔‘‘

کانگریس کے سابق صدر نے کہا کہ ’’ہم بہت شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ ہندوستانی خواتین سیاسی نظام میں اس طرح حصہ نہیں لے رہی ہیں جس طرح انہیں ہونا چاہیے۔ سیاست میں حصہ لینے میں ان کی مدد کرنے کا واحد سب سے بڑا کام کانگریس پارٹی نے کیا، یعنی پنچایتی راج اداروں میں 33 فیصد ریزرویشن ۔‘‘

انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی "نفرت کی سیاست” نے منی پور کو تباہ کر دیا ہے، جس نے میتی اور کوکی برادریوں کے درمیان نسلی تشدد دیکھا ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’جو میں نے منی پور میں دیکھا وہ پوری زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔ ‘‘

ملک کے سامنے بی جے پی کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے کیلئے بدھوڑی کا شکریہ: مولانا سجاد نعمانی

0
ملک-کے-سامنے-بی-جے-پی-کا-اصل-چہرہ-بے-نقاب-کرنے-کیلئے-بدھوڑی-کا-شکریہ:-مولانا-سجاد-نعمانی

ممتاز عالم دین مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے کہا کہ میں بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں بی جے پی کا چہرہ بے نقاب کیا ہے۔یہ بات انہوں نے آج یہاں جاری بیان میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے پورے ملک کو دکھا دیا ہے کہ ہم کون ہیں، ہماری تعلیم، ہماری تربیت، ہماری زبان اور اقلیتوں کے لیے ہماری سوچ کیا ہے؟ بی جے پی ایم پی رمیش بدھوڑی کی زبان نے ملک کو دکھایا ہے کہ ہم انسانی حقوق اور پارلیمنٹ کی کتنی پرواہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جمہوریت کا مرکز کہلانے والی جگہ پر ایسی فحش اور گھٹیا زبان کا استعمال ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں پھر بھی بی جے پی ایم پی رمیش بدھوڑی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے یہ بتا دیا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی تعلیم و تربیت کیا ہے؟ آپ کی تقریر سے پورے ملک کو معلوم ہو گیا ہے۔ اب جمہوریت کے مرکز میں ایسی زبان استعمال کر کے آپ نے مسلمانوں کے خلاف ایک طرح سے لائسنس دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپوزیشن کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اجتماعی طور پر ایوان سے معطلی اور اس گھناؤنے فعل کے مرتکب شخص پر تاحیات سیاسی پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ بی ایس پی ایم پی کنور دانش علی کو استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اس دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ کریں۔ میں چاہتا ہوں کہ جن لوگوں نے آپ کو اپنا قیمتی ووٹ دے کر ایوان میں بھیجا تھا وہ اس بار دوگنا ووٹ دے کر ایوان میں بھیجیں۔

مولانا سجاد نعمانی نے سخت لہجے میں کہا کہ ایسے مسلمانوں کا ضمیر کہاں ہے جو راشٹریہ مسلم منچ کا ڈھول پیٹتے رہتے ہیں۔ وہ مسلمان جو آر ایس ایس اور بی جے پی کی تعریف کرتے ہیں اور اُن سے جڑنے کی بات کرتے ہیں۔ آپ یہ اعلان کیوں نہیں کرتے کہ "اب ہم مسلمان نہیں رہے”۔ رمیش بدھوڑی نے جو کچھ کہا ہے وہ آر ایس ایس اور بی جے پی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی۔

مولانا نعمانی نے کہا کہ میں سکھ، عیسائی، بدھ، دلت اور قبائلی برادریوں کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ تمام باتوں کو بھول جائیں اور آنے والے ہر الیکشن میں بی جے پی کو سبق سکھانےکا کام کریں۔ جنہوں نے گولوالکر اور ساورکر کو پڑھا ہے وہ حیران نہیں ہوں گے کیونکہ یہ ان کی تعلیمات کا حصہ ہے۔

خواتین نے بی جے پی کو ووٹ دے کر اس مقام تک پہنچانے میں مدد کی لیکن اس بار وہ ووٹ نہیں دیں گی کیونکہ آپ کی ذہنیت کھل کر سب کے سامنے آ گئی ہے۔ ہم ووٹ کے ذریعے بی جے پی کو جواب دیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ انڈیا الائنس کنور دانش علی کی مکمل حمایت کرے گا۔