جمعہ, مارچ 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 97

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی سالگرہ: وزیر اعظم مودی، کانگریس صدر کھڑگے، راہل-پرینکا سمیت اہم شخصیات کی مبارک باد

0
سابق-وزیر-اعظم-منموہن-سنگھ-کی-سالگرہ:-وزیر-اعظم-مودی،-کانگریس-صدر-کھڑگے،-راہل-پرینکا-سمیت-اہم-شخصیات-کی-مبارک-باد

نئی دہلی: سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ان کی 91ویں سالگرہ کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے مبارکباد پیش کی ہے اور ان کی لمبی عمر اور صحت مند زندگی کی تمنا ظاہر کی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے سابق وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ’’سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو سالگرہ مبارک ہو۔ میں آپ کی لمبی اور صحت مند زندگی کے لیے دعا گو ہوں۔‘‘

کانگریس صدر کھڑگے نے ایکس پر اپنے تہنیتی پیغام میں کہا، ”میں سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ان کی سالگرہ پر تہہ دل سے مبارکباد دیتا ہوں۔ ان جیسی سادگی، وقار اور شائستگی سیاست میں کم ہی ملتی ہے۔ ایک سچا محب وطن وزیر اعظم، جن کے افعال ان کے الفاظ سے زیادہ ہوتے ہیں، ملک کے لیے ان کی غیر معمولی شراکت پر ہمیشہ شکر گزار ہیں۔ میں اس کی اچھی صحت، خوشی اور لمبی زندگی کی دعا کرتا ہوں۔‘‘

راہل راہل گاندھی نے کہا، "سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قومی سالمیت، ملک کی تعمیر اور عوام کی اقتصادی ترقی کے تئیں پختہ عزم ہمیشہ میرے لیے ایک تحریک رہے گا۔ ان کی سالگرہ پر میں ان کی اچھی صحت اور خوشحال زندگی کی تمنا کرتا ہوں۔‘‘

پرینکا گاندھی نے کہا، ’منموہن سنگھ کو سالگرہ بہت مبارک ہو۔ بحیثیت سیاست دان انہوں نے ہمیں سیاست میں تحمل اور عاجزی کا درس دیا ہے۔ بحیثیت وزیر اعظم، ان کی دیانتداری، ہمت، دور اندیشی اور ذہانت نے ہمارے ملک کے لیے خود اعتمادی اور فخر کے ساتھ 21ویں صدی میں آگے بڑھنے کی راہ ہموار کی ہے۔‘‘

کانگریس کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے کہا، “ڈاکٹر منموہن سنگھ آج 91 سال کے ہو گئے۔ وہ ہمیشہ علم اور ذہانت کی بہترین علامت رہے ہیں اور اس سے بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ وہ جس عہدے پر بھی فائز رہے، وہ ہمیشہ عاجزی، سادگی، تحمل اور وقار کی علامت رہے ہیں۔ عوامی زندگی میں یہ بہت نایاب خصوصیات ہیں۔

خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم 26 ستمبر 1932 کو برطانوی ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع چکوال میں پیدا ہوئے۔ یہ ضلع اب پاکستان میں شامل ہے۔ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے انہوں نے 1982 سے 1985 تک ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر کے طور پر کام کیا۔ وہ سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ کی حکومت میں وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے 1991 میں ہندوستان میں معاشی لبرلائزیشن لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، جس کے بعد ‘لائسنس راج’ ختم ہو گیا۔

منی پور تشدد: انٹرنیٹ بحال ہوتے ہی دو لاپتہ طلباء کی لاشوں کی تصویر وائرل

0
منی-پور-تشدد:-انٹرنیٹ-بحال-ہوتے-ہی-دو-لاپتہ-طلباء-کی-لاشوں-کی-تصویر-وائرل

امپھال: تشدد سے متاثرہ منی پور میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے بعد ایک بار پھر ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے لگی ہیں۔ انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے بعد دو طالب علموں کی لاشوں کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ دونوں طالب علم جولائی کے مہینے میں لاپتہ ہو گئے تھے جن کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں۔ لاپتہ ہونے والے دو طالب علموں کی شناخت 17 سالہ ہیزام لنتھون گامبی اور 20 سالہ فزام ہیمزیت کے طور پر کی گئی ہے۔

دونوں طلبہ کی لاشوں کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ہلچل مچ گئی ہے۔ اس دوران حکومت حرکت میں آ گئی۔ دونوں لاشوں کے حوالے سے حکومت کا بیان آیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کیس کی تحقیقات پہلے ہی سی بی آئی کو سونپ دی گئی ہے۔

سی ایم او کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا، ’’ریاستی حکومت کے نوٹس میں آیا ہے کہ جولائی 2023 سے لاپتہ ہونے والے دو طالب علموں کی تصاویر سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئی ہیں۔ ریاست کے لوگوں کی خواہش کے مطابق، یہ معاملہ پہلے ہی سامنے آچکا ہے اور سی بی آئی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔‘‘

سی ایم او کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ منی پور پولیس مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کی مدد سے ان دو طالب علموں کو اغوا اور قتل کرنے والوں کی شناخت کرنے میں مصروف ہے۔ سکیورٹی فورسز نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

ریاستی عوام کو یقین دلاتے ہوئے بیان میں کہا گیا ہے کہ دو طالب علموں کو ہلاک کرنے والوں کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت انصاف کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ حکومت نے ریاست کے لوگوں سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔

منموہن سنگھ: معاشیات پڑھانے سے ملک کا وزیر اعظم بننے تک کا سفر… سالگرہ پر خصوصی پیشکش

0
منموہن-سنگھ:-معاشیات-پڑھانے-سے-ملک-کا-وزیر-اعظم-بننے-تک-کا-سفر…-سالگرہ-پر-خصوصی-پیشکش

نئی دہلی: ملک کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کا آج 91 واں یوم پیدائش ہے۔ وہ یو پی اے حکومت میں 2004 سے 2014 تک مسلسل 10 سال تک ملک کے وزیر اعظم رہے۔ سیاسی وقار کے حصول کے علاوہ منموہن سنگھ کی ایک اور شناخت ایک عظیم ماہر معاشیات کی ہے۔ انہوں نے کیمبرج اور آکسفورڈ یونیورسٹی جیسے ممتاز اداروں سے تعلیم حاصل کی ہے۔

منموہن سنگھ 26 ستمبر 1932 کو غیر منقسم ہندوستان میں پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ تقسیم کے بعد ان کا خاندان ہندوستان آ گیا۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کیا، اس کے بعد وہ کیمبرج چلا گیا۔ یہاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ آکسفورڈ چلے گئے اور پھر یہیں اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی۔ وہ معاشیات کے استاد رہے ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی اور دہلی سکول آف اکنامکس میں بھی پروفیسر رہ چکے ہیں۔ حال ہی میں جب پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ ہوئی تو منموہن سنگھ کو وہیل چیئر پر دیکھا گیا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عمر کا اثر منموہن پر نظر آتا ہے لیکن ان کی ہمت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ منموہن سنگھ کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ گرشرن کور اور تین بیٹیاں ہیں۔

1985 میں، جب راجیو گاندھی اقتدار میں تھے، منموہن سنگھ کو انڈین پلاننگ کمیشن کا نائب چیئرمین مقرر کیا گیا۔ وہ مسلسل 5 سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 1990 میں وہ وزیر اعظم کے اقتصادی مشیر بنے۔ منموہن سنگھ کو پی وی نرسمہا راؤ کی حکومت میں وزارت خزانہ کی ذمہ داری ملی۔ سال 1991 میں وہ آسام سے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ منموہن نے ملک میں اقتصادی اصلاحات لانے کے لیے بہت سے کام کیے ہیں۔ وہ 1998 سے 2004 کے درمیان اپوزیشن لیڈر رہے اور 2004 کے عام انتخابات کے بعد 22 مئی کو وزیر اعظم کا حلف اٹھایا اور پھر 22 مئی 2009 کو دوسری مدت کے لیے دوبارہ وزیر اعظم کا حلف اٹھایا۔ اس طرح وہ مسلسل دس سال تک وزیر اعظم رہے۔

منموہن سنگھ ریزرو بینک کے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔ 1982 سے 1985 تک اپنے دور میں انہوں نے بینکنگ سیکٹر کو بہتر بنانے کے لیے بہت سے کام کیے تھے۔ منموہن اقوام متحدہ کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔ سال 1966-1969 کے دوران انہوں نے اقتصادی امور پر اقوام متحدہ کی کانفرنس میں اقتصادی امور کے افسر کے طور پر کام کیا۔

لاکھوں  لوگوں نے ہندوستان چھوڑ کر کینیڈا کی  شہریت لی

0
لاکھوں- لوگوں-نے-ہندوستان-چھوڑ-کر-کینیڈا-کی- شہریت-لی

کینیڈا کے ساتھ ہندوستان کی کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ اس کشیدگی کے درمیان، ہندوستانی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کے بعد کینیڈا ہندوستانیوں کے لیے دوسرا پسندیدہ ملک بن کر ابھرا ہے اور اس کی بڑی وجہ وہاں پر انگریزی کا بولنا بتایا جاتا ہے۔ ہندوستانی اپنی شہریت ترک کر رہے ہیں اور امریکہ کے بعد سب سے زیادہ کینیڈا کی شہریت اختیار کر رہے ہیں۔

نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق ہندوستان اور کینیڈا کے درمیان جاری کشیدگی کے درمیان وزارت خارجہ کے اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنوری 2018 سے جون 2023 کے درمیان 1.6 لاکھ ہندوستانیوں نے کینیڈا کی شہریت لی ہے۔ یہ تعداد ہندوستانی شہریت ترک کرنے والے کل لوگوں کا 20 فیصد ہے۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کینیڈا ہندوستانیوں کا دوسرا پسندیدہ ملک بن گیا ہے۔

اس فہرست میں امریکہ پہلے نمبر پر ہے جس کی شہریت کے لیے سب سے زیادہ تعداد میں ہندوستانیوں نے اپنی شہریت ترک کردی۔ کینیڈا کے بعد آسٹریلیا تیسرے اور برطانیہ چوتھے نمبر پر ہے جس کے لیے ہندوستانی اپنی شہریت ترک کر رہے ہیں۔ جنوری 2018 اور جون 2023 کے درمیان تقریباً 8.4 لاکھ لوگوں نے اپنی ہندوستانی شہریت چھوڑ دی اور 114 مختلف ممالک کی شہریت اختیار کی۔

ہندوستانی شہریت ترک کرنے والے 58 فیصد ہندوستانیوں نے کینیڈا اور امریکہ جانے کا انتخاب کیا۔ ہندوستانی شہریت ترک کرنے کا یہ رجحان ہر سال بڑھتا ہوا دیکھا گیا ہے، تاہم 2020 میں وبائی امراض کی وجہ سے شہریت ترک کرنے کی شرح میں کمی واقع ہوئی تھی۔ سال 2018 میں ہندوستانی شہریت ترک کرنے والوں کی تعداد 1.3 لاکھ تھی جو 2022 میں بڑھ کر 2.2 لاکھ ہوگئی۔ جون 2023 تک تقریباً 87,000 ہندوستانیوں نے غیر ملکی شہریت کا انتخاب کیا ہے۔

ڈینگو نے بنگال سے بنگلہ دیش تک لی سینکڑوں جانیں

0
ڈینگو-نے-بنگال-سے-بنگلہ-دیش-تک-لی-سینکڑوں-جانیں

بنگلہ دیش میں ڈینگی سے مرنے والوں کی تعداد نو سو  سے تجاوز کر گئی ہے۔ پچھلے سال کے مقابلے اس بار ڈینگی بنگلہ دیش میں کئی گنا زیادہ تباہی پھیلا رہا ہے۔ یہی نہیں  ہندوستان  میں بھی ڈینگی مچھر تباہی مچا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، صرف مغربی بنگال میں ہی اب تک ڈینگی کے 38 ہزار کیسز سامنے آچکے ہیں اور 30 ​​سے ​​زیادہ لوگ جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کے مقامی اخبار ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) نے بتایا کہ ملک میں ڈینگی سے اب تک 928 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، صرف 24 گھنٹوں میں 19 سے زائد اموات ہوئی ہیں۔ اب تک 190,758 افراد اس سے متاثر ہو چکے ہیں، 179,683 صحت یاب ہو چکے ہیں اور 10,147 مریض ملک کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ بنگلہ دیش میں ڈینگی کی بڑھتی ہوئی وباء بچوں کے لیے مزید تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ اس کی وجہ سے کئی بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں اور ایسے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جب بخار میں صرف 5 یا 6 دن میں مریض جان کی بازی ہار گیا۔ اس سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بنگلہ دیش میں تباہی پھیلانے والا ڈینگی مچھر کتنا خطرناک اور جان لیوا ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق بنگلہ دیش کے ہر ضلع میں ڈینگی کے مریض پائے جا رہے ہیں۔ تمام 64 اضلاع سے کیس رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے اس کے لیے موسم کی تبدیلی کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ مون سون کی وجہ سے موسم میں گرمی اور نمی ہوتی ہے اور یہ ماحول ایڈیس مچھر کی افزائش کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے جو ڈینگی پھیلاتا ہے، جس میں یہ تیزی سے بڑھتا ہے، اس لیے یہاں ڈینگی تیزی سے پھیل رہا ہے۔

ملک کے کئی حصوں میں ڈینگو کے کیس رپورٹ ہو رہے ہیں، لیکن سب سے زیادہ کیس مغربی بنگال سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ اب تک یہاں 38 ہزار سے زائد افراد ڈینگی سے متاثر اور 30 ​​سے ​​زائد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ بنگال کی راجدھانی کولکتہ کے علاوہ شمالی 24 پرگنہ، ہوگلی، نادیہ اور مرشد آباد میں سب سے زیادہ کیس درج کیے گئے ہیں۔ قومی مرکز برائے ویکٹر بورن ڈیزیز کنٹرول کے اعداد و شمار کے مطابق، بنگال میں گزشتہ سال 67,271 کیسز رپورٹ ہوئے، اور کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے۔ حکومت نے اس مچھر کی افزائش  روکنے کے لئے صفائی پر دھیان دیا ہے اور عوام کو بھی اس تعلق سے بیدار کیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق سر درد، متلی اور جوڑوں کا درد اس کی ابتدائی علامات ہیں۔ ڈینگی میں بخار 104 فیرن ہائیٹ سے اوپر رہتا ہے اور بار بار چڑھتا اور گرتا ہے۔ آنکھوں میں درد اور قے کے علاوہ اگر شدید ڈینگی ہو تو پیٹ میں درد، مسلسل قے، سانس لینے میں دشواری، ناک سے خون بہنا، تھکاوٹ، بے چینی، پیاس اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔ اگر شروع میں ہی توجہ دی جائے تو گھر میں رہ کر ڈینگی کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ ڈینگی سے بچنے کے لیے اپنے اردگرد پانی جمع نہ ہونے دیں اور مچھروں سے فاصلہ رکھیں۔ جیسے ہی ان میں سے کوئی بھی علامات ظاہر ہوں، ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور اگر صورتحال قابو میں نہ ہو تو فوراً اسپتال جائیں۔

’بے روزگاری کے مسئلہ پر نوجوانوں کو دھوکہ دیا جا رہا‘ کھڑگے کی بی جے پی پر تنقید

0
’بے-روزگاری-کے-مسئلہ-پر-نوجوانوں-کو-دھوکہ-دیا-جا-رہا‘-کھڑگے-کی-بی-جے-پی-پر-تنقید

نئی دہلی: کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے پیر کو بے روزگاری کے مسئلہ پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے ملک کے نوجوانوں کو دھوکہ دیا ہے کیونکہ اس نے سال بہ سال ان سے نوکریاں چھین لی ہیں۔

کھڑگے نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’مودی حکومت نے ملک کے نوجوانوں میں بے روزگاری کو آزادی کے بعد سے بلند ترین سطح تک بڑھا دیا ہے۔ کوئی نوجوان ایسا نہیں ہے جسے بی جے پی نے دھوکہ نہ دیا ہو۔ تمام اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سالانہ دو کروڑ نوکریاں فراہم کرنا تو دور کی بات، مودی حکومت نے نوجوانوں سے سال بہ سال نوکریاں چھین لی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف پچھلے تین سالوں میں 31 لاکھ لوگ اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں سے 26 لاکھ خواتین ہیں۔ کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ ملک میں 32.06 کروڑ لوگوں کے پاس روزگار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمتوں اور بہتر روزگار میں خواتین کی شرکت کم ہو کر صرف 10 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ 2021-22 میں 25 سال سے کم عمر کے ڈگری یافتگان میں سے 42.3 فیصد بے روزگار تھے۔

کھڑگے نے کہا، ’’گزشتہ ایک سال میں کنٹریکٹ کارکنوں کی ملازمتوں میں 17.5 فیصد کی کمی آئی ہے۔ انہوں نے ایک ایک پیسہ بچا کر تعلیم حاصل کی لیکن بھرتی کا موقع نہیں ملا۔ ٹوٹی ہوئی امیدیں، ٹوٹے ہوئے خواب، تباہ حال مستقبل، روزگار کی تلاش میں بھٹکتے بے یارومددگار نوجوان، کیسے گزارا کریں۔ ہمارے نوجوان مودی سرکار کی غلط حکمرانی میں جدوجہد کر رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ کانگریس بے روزگاری اور اشیائے ضروریہ کی آسمان چھوتی قیمتوں کے مسئلہ پر حکومت سے سوال کرتی رہے گی۔

کرناٹک میں کشیدگی بھڑکانے کی کوشش، مسجد میں گھس کر لگائے جے شری رام کے نعرے، 2 گرفتار

0
کرناٹک-میں-کشیدگی-بھڑکانے-کی-کوشش،-مسجد-میں-گھس-کر-لگائے-جے-شری-رام-کے-نعرے،-2-گرفتار

بنگلورو: کرناٹک کے جنوبی کنڑ ضلع میں مسجد میں گھس کر ’جے شری رام‘ کے نعرے لگانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کدبا پولیس نے اس کی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں دو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ مسجد کے اندر نعرے بازی کا واقعہ اتوار کی رات 11 بجے کے قریب پیش آیا۔ رات کے وقت دو نامعلوم افراد موٹر سائیکل پر آئے اور مردھالا بدریا جامع مسجد کے احاطے میں گھس گئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہیں مسجد کے سربراہ سے شکایت موصول ہوئی تھی کہ مسجد کے اندر ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے گئے ہیں۔ اس کے بعد پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا تجزیہ کیا اور دو افراد کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان کی شناخت 26 سالہ سچن رائے اور 24 سالہ کیرتن پجاری کے طور پر کی گئی۔ دونوں ملزمان کدبا تعلقہ کے کیاکمبا گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ فی الحال پولیس اس معاملے کی جانچ میں مصروف ہے۔

انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک سینئر پولیس افسر نے کہا، ’’مسجد چار دیواری سے گھری ہوئی ہے۔ کدبا-مردھالہ روڈ کے جنکشن پر مسجد کا ایک گیٹ ہے۔ 24 ستمبر کی رات تقریباً 11 بجے دونوں نوجوان مسجد کے اندر داخل ہوئے اور ’جے شری رام‘ کے نعرے لگانے لگے۔‘‘ پولیس افسر نے بتایا کہ دونوں نوجوانوں نے مسلمانوں کو یہاں نہیں رہنے دینے کی دھمکی بھی دی۔

واقعہ کے وقت پیش امام اور مسجد کمیٹی کے سربراہ اپنے دفتر میں موجود تھے۔ جب وہ باہر نکلے تو انہوں نے دیکھا کہ دو نامعلوم افراد مسجد سے نکل رہے ہیں۔ انہوں نے فوراً مسجد کی سی سی ٹی وی فوٹیج سکین کی۔ انہیں معلوم ہوا کہ مسجد کے سامنے والی سڑک پر ایک مشکوک کار گزر رہی ہے۔ مسجد کمیٹی کے رکن محمد فاضل نے کہا کہ یہ علاقہ ہندو اور مسلم برادریوں کے درمیان ہم آہنگی کے کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ملزمان اس اتحاد کو برداشت نہیں کر سکے اور فرقہ وارانہ منافرت اور کشیدگی پیدا کرنے کی سازش کی۔

کدبا کے سب انسپکٹر ابھینندن نے کہا کہ پیر کو شکایت موصول ہونے کے بعد ہم نے آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔ اس معاملے میں دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس معاملے کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا یہ ملزمان کسی تنظیم سے جڑے ہوئے ہیں؟ سب انسپکٹر نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ ملزمان نے شراب کے نشے میں یہ حرکت کی اور ان کی کوئی مجرمانہ تاریخ نہیں ہے۔

’ایواسٹین‘ آنکھوں کے علاج کے لیے رجسٹرڈ ہی نہیں، وزارت صحت

0
’ایواسٹین‘-آنکھوں-کے-علاج-کے-لیے-رجسٹرڈ-ہی-نہیں،-وزارت-صحت

ایواسٹین نامی انجیکشن بین الاقوامی دوا ساز کمپنی روش بناتی ہے، جو کینسر کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں وزارت صحت کے مطابق ایواسٹین کو آشوب چشم کے علاج کے لیے کبھی رجسٹرڈ ہی نہیں کیا گیا۔ صوبہ پنجاب میں حکام نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس انجیکشن کے لگائے جانے سے اب تک 68 لوگ بینائی سے محروم ہو چکے ہیں اور اس تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

صوبائی وزیرِ صحت پنجاب ڈاکٹر جاوید اکرم نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انجیکشن کو غلط استعمال کیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ سولہ ملی لیٹر والا یہ انجیکشن ایک بار کھلنے کے بعد ایک مقررہ وقت تک ہی قابلِ استعمال رہتا ہے۔ صوبہ پنجاب میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات سے متعلق ڈاکٹر جاوید کا کہنا تھا کہ لاہور کے ایک پرائیوٹ ہسپتال میں ایواسٹین انجیکشن کو کھولنے کے بعد آشوب چشم کے کئی مریضوں کو مختلف اوقات میں الگ الگ سرنج میں بھر کر لگایا گیا، جس کی وجہ سے کئی مریض بینائی سے محروم ہوئے۔

بینائی جانے کی ایک اور وجہ انہوں نے یہ بھی بتائی کہ انجیکشن کے محلول کی اصل مقدار میں اضافہ کرنے کے لیے اس میں ملاوٹ بھی کی گئی تھی۔ ملاوٹ والے ٹیکے ایک جعلی کمپنی نے بنائے تھے، جو ڈریپ میں رجسٹرڈ بھی نہیں ہے۔ ڈریپ کے مطابق جعلی انجیکشن کو فروخت کرنا جرم ہے۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) کے مطابق پاکستان میں جینیز فارما نامی کمپنی کی جانب سے فروخت کیا جانے والا ایواسٹین انجیکشن جعلی اور غیر رجسٹرڈ ہے۔ ڈرگ ریگیولیٹرری ایکسپرٹ نور مہر کے مطابق یہ جعلی انجیکشن مارکیٹ میں صرف 12 ہزار روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے اور ایسا کئی سالوں سے ہورہا ہے۔پاکستان میں روش کمپنی کا ایواسٹین انجیکشن 80 ہزار سے ایک لاکھ تک کا فروخت کیا جاتا ہے۔ یورپ میں اس کی قیمت تقریبا” 1900یورو) تقریباﹰپونے چھ لاکھ روپے) جبکہ بھارت میں اس کی قیمت مقامی کرنسی میں ایک لاکھ روپے کے لگ بھگ ہے۔

صوبائی وزیرِ صحت پنجاب ڈاکٹر جاوید اکرم نے ڈی ڈبلیو کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پنجاب میں اب تک 68 افراد جعلی انجیکشن لگنے کی وجہ سے بینائی سے محروم ہوچکے ہیں اور یہ سب لاہور کے ایک چھوٹے سے نجی ہسپتال میں ہوا ہے، جو صرف دو کمروں پر محیط تھا اور کچھ ڈاکٹرز بھی اس میں ملوث ہیں۔

امریکہ میں ایواسٹین انجیکشن کے لگائے جانے سے کئی لوگ بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ سن 2011 میں اس انجیکشن سے امریکہ میں 21 افراد متاثر ہوئے اور ان میں سے کئی افراد نابینا ہو گئے تھے۔ امریکی جریدے نیویارک ٹائم کی رپورٹ کے مطابق امریکی فیڈرل ڈرگ اتھارٹی نے امریکہ میں اس انجیکشن کو کینسر کے علاج کے لیے رجسٹرڈ کیا تھا جبکہ کئی امریکی ڈاکٹرز نے اس دوا کا استعمال آشوب چشم کے مریضوں کے علاج کے لیے بھی کیا تھا۔

راہل گاندھی نے ٹرین کے سلیپر ڈبے میں کیا سفر، مسافروں سے ان کے مسائل پر ہوئی گفتگو

0
راہل-گاندھی-نے-ٹرین-کے-سلیپر-ڈبے-میں-کیا-سفر،-مسافروں-سے-ان-کے-مسائل-پر-ہوئی-گفتگو

چھتیس گڑھ دورے پر پہنچے کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بلاسپور میں ’آواس نیائے یوجنا‘ کے پروگرام میں حصہ لینے کے بعد بلاسپور سے رائے پور تک کا سفر ٹرین سے مکمل کیا۔ انھوں نے یہ سفر ٹرین کے سلیپر کلاس والے ڈبے میں کی اور اس دوران انھوں نے طلبا و طالبات سے بات چیت کی اور کئی مسافروں سے ان کے مسائل پر بھی گفتگو کی۔

بلاس پور میں ’آواس نیائے یوجنا‘ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے بعد راہل گاندھی اچانک طے منصوبہ میں تبدیلی کرتے ہوئے سیدھے بلاس پور ریلوے اسٹیشن پہنچے اور انٹرسٹی ایکسپریس کے سلیپر کوچ میں سوار ہو گئے۔ ان کے ساتھ وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل اور ریاستی انچارج کماری شیلجا کے علاوہ دیپک بیج اور دیگر لیڈران بھی تھے۔ ٹرین میں سفر کر رہے طلبا سے لے کر دیگر لوگوں سے راہل گاندھی نے بات چیت کی۔ اس کے علاوہ اس دوران وہ عام مسافروں کے ساتھ تصویر بھی کھنچواتے رہے۔

راہل گاندھی کے بلاس پور سے رائے پور جانے کے لیے ٹرین میں چڑھنے پر چھتیس گڑھ کے نائب وزیر اعلیٰ ٹی ایس سنگھ دیو نے کہا کہ ہمیں یہ جانکاری تھی کہ وہ سڑک کے راستہ سے یا ہیلی کاپٹر سے لوٹیں گے۔ جب ہم کھانا کھا رہے تھے تو اچانک انھوں نے کہا ’’پلیز کار میں بیٹھو، ہم ٹرین سے چلیں گے۔ زمین پر کیا حالت ہے، یہ جاننے کی ان میں غضب کی چاہت ہے۔ میں نے گزشتہ 15-10 سالوں میں محسوس کیا ہے ان میں چیزوں کو جاننے کی بہت دلچسپی ہے۔ وہ ہر چیز کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ انھیں جب بھی موقع ملتا ہے وہ لوگوں سے ملتے ہیں اور ان کا حال پوچھتے ہیں۔‘‘

ٹرین میں سفر کے دوران راہل گاندھی نے عام مسافروں کی طرح سفر تو کیا ہی، ساتھ ہی عام لوگوں سے ان کے مسائل کے بارے میں بھی گفتگو کی۔ اہم بات یہ ہے کہ چھتیس گڑھ میں طویل عرصے سے کئی مسافر گاڑیوں کو رد کیا جا رہا ہے جس کو لے کر وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل کئی بار مرکزی حکومت اور پی ایم مودی کو خط لکھ کر مقامی لوگوں کے مسائل اٹھاتے رہے ہیں۔

بہار: نتیش کابینہ کی میٹنگ میں 10 ایجنڈوں پر لگی مہر، عوام کو ملی کئی خوشخبریاں!

0
بہار:-نتیش-کابینہ-کی-میٹنگ-میں-10-ایجنڈوں-پر-لگی-مہر،-عوام-کو-ملی-کئی-خوشخبریاں!

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی صدارت میں آج ریاستی کابینہ کی میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں 10 ایجنڈوں پر مہر لگ گئی جس میں عوام کے لیے کئی خوشخبریاں ہیں۔ جو خبریں سامنے آ رہی ہیں اس کے مطابق بہار میں مجموعی طور پر 28 ٹریفک تھانوں کے لیے 849 اسامیاں نکالنے کو منظوری مل گئی ہے۔ 28 ٹریفک تھانوں میں مجموعی طور پر 4215 عہدوں کی ضرورت تھی جن میں سے 3366 عہدوں پر تقرری ہو چکی تھی۔ بقیہ 849 عہدوں کی تقرری کے لیے آج منظوری مل گئی۔

کابینہ میٹنگ میں اندرا گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (آئی جی آئی ایم ایس) پٹنہ میں مریضوں کو اب مفت میں دوا اور سبھی طرح کے علاج کی سہولت بھی ملے گی۔ بہار کابینہ میں آج اس تعلق سے بھی منظوری مل گئی ہے۔ اس کی فراہمی بہار میڈیکل سروس اینڈ بیسک کوڈ رول لمیٹڈ کے ذریعہ آئی جی آئی ایم ایس میں کروائی جائے گی۔ اس کی منظوری کابینہ میں مل گئی ہے لیکن ڈیلکس اسپتال میں رجسٹریشن ٹیکس اور ڈیلکس بیڈ میں کوئی چھوٹ نہیں دی گئی ہے۔ ڈیلکس بیڈ اور رجسٹریشن فیس مریضوں کو دینی ہوں گی۔

آج ہوئی بہار کابینہ کی میٹنگ میں عزت مآب ہائی کورٹ پٹنہ میں جوائنٹ منیجر آئی ٹی کی جگہ پر جوائنٹ منیجر کو متبدل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اقلیتی نوجوانوں کو صنعت و روزگار میں فروغ دینے کے لیے وزیر اعلیٰ صنعت کار منصوبہ کی منظوری دی گئی۔ چھپرہ میونسپل کارپوریشن میں آبی نکاسی کے لیے اسٹرارم واٹر ڈرینیج سسٹم منصوبہ کی بھی منظوری دی گئی۔ اس منصوبہ پر 134.97 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ وہیں، میسرز ڈیوراٹیک سیمنٹ انڈیا لمیٹڈ سمستی پور کو مالی امداد دینے کی تجویز کو بھی منظوری ملی ہے۔