جمعہ, مارچ 27, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 96

پی ایف آئی کے ذریعہ حملہ کا دعویٰ کرنے والا فوجی جوان گرفتار

0
پی-ایف-آئی-کے-ذریعہ-حملہ-کا-دعویٰ-کرنے-والا-فوجی-جوان-گرفتار

کیرالہ پولیس نے پی ایف آئی اراکین کے ذریعہ حملے کا دعویٰ کرنے والے فوجی جوان شائن کمار کو حراست میں لے لیا ہے۔ جانچ میں پتہ چلا ہے کہ جوان نے جھوٹ بولا تھا کہ اتوار کی شب پی ایف آئی کے چھ لوگوں نے اس کا اغوا کر لیا اور اس پر حملہ کیا اور پھر اس کی پیٹھ پر پی ایف آئی لکھنے کے بعد اسے چھوڑ دیا۔ جوان کے ذریعہ الزام لگانے کے بعد پیر کو فوج نے بیان جاری کر کہا تھا کہ یہ وہ واقعہ کو لے کر پولیس کے رابطے میں ہے۔

فوجی جوان شائن کمار اِس وقت راجستھان میں تعینات ہے اور یہ کارروائی اس کی چھٹی کے آخری دن سے ایک دن پہلے ہوئی ہے۔ شائن کے ذریعہ پیر کے روز حملے کی شکایت درج کرانے کے بعد کیرالہ پولیس کی کئی ٹیموں کے ذریعہ جانچ شروع کرنے کے کچھ گھنٹوں بعد جب پولیس نے جوان شائن کمار سے پوچھ تاچھ کی تو انھیں کچھ شبہ ہوا۔ اس کے بعد پیر کو پولیس نے اس کے دوستوں کو پیش ہونے کے لیے بلایا۔ پوچھ تاچھ کے دوران اس کے دوست جوشی نے بتایا کہ شائن کمار کے کہنے پر ہی اس نے اس کی مدد کی تھی۔ پھر جوشی کو بھی پولیس حراست میں لے لیا گیا۔

جوشی نے پولیس کو بتایا کہ ’’اس نے مجھ سے اپنی پیٹھ پر کچھ حروف پینٹ کرنے کے لیے کہا۔ پہلے میں نے اسے ڈی وائی ایف آئی کی شکل میں سنا، پھر اس نے اصلاح کرتے ہوئے کہا کہ پی ایف آئی لکھنا ہے۔ میں نے پہلے اس کی شرٹ کو پیچھے سے پھاڑا اور پھر اس کے کہے مطابق پینٹ کیا۔‘‘ جوشی نے پولیس کو یہ بھی بتایا کہ فوجی جوان نے مجھ سے اسے پیٹنے کے لیے بھی کہا، لیکن میں ایسا نہیں کر سکا۔ جوشی سے پوچھ تاچھ کے بعد پولیس اس کے گھر پہنچی اور ہرا پینٹ اور برش بطور ثبوت اپنے ساتھ لے آئی۔ پولیس نے اس پینٹ کی دکان کا بھی پتہ لگا لیا جہاں سے انھوں نے اسے خریدا تھا۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہو پایا ہے کہ شائن کمار نے جھوٹ کیوں بولا تھا۔

ایم سی ڈی ایوان میں رمیش بدھوڑی کے خلاف لایا گیا مذمتی قرارداد، خوب ہوا ہنگامہ

0
ایم-سی-ڈی-ایوان-میں-رمیش-بدھوڑی-کے-خلاف-لایا-گیا-مذمتی-قرارداد،-خوب-ہوا-ہنگامہ

گزشتہ دنوں ختم ہوئے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران لوک سبھا میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی نے دانش علی کے خلاف جو نازیبا اور غیر پارلیمانی بیان بازی کی اس پر آج دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے ایوان میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ ایم سی ڈی ایوان میں 26 ستمبر کو رمیش بدھوڑی کے خلاف پارلیمنٹ میں بولے گئے قابل اعتراض الفاظ کو لے کر مذمتی قرارداد لایا گیا۔

مذمتی قرارداد ایم سی ڈی ایوان میں عآپ کی کونسلر موہنی جندوال نے پڑھا اور ایوان میں اسے پیشکرتے ہی ہنگامہ شروع ہو گیا۔ ایوان کی میٹنگ منگل کی دوپہر 2 بجے شروع ہونی تھی، لیکن یہ میٹنگ 2.30 بجے شروع ہوئی۔ ایوان شروع ہوتے ہی دیر سے کارروائی شروع ہونے کے سبب اپوزیشن کی طرف سے ہنگامہ ہوا۔ ہنگامہ اتنا بڑھ گیا کہ عآپ کونسلر کی طرف سے ’رمیش بدھوڑی استعفیٰ دو‘ کے نعرے لگنے لگے۔ دوسری طرف بی جے پی کے کونسلروں کی طرف سے کیجریوال کے خلاف بھی خوب نعرے لگے۔ پھر جواب میں وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف بھی نعرے بازی شروع ہو گئی۔

دہلی کی میئر ڈاکٹر شیلی اوبرائے نے ایوان میں ہوئے اس ہنگامے کو لے کر سبھی کو پھٹکار لگائی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہر بار ایوان شروع ہوتے ہی ہنگامہ ہو جاتا ہے۔ کسی بھی ایشو پر بحث نہیں ہو پاتی ہے۔ پھر شکایت ہوتی ہے کہ کسی کو بولنے نہیں دیا جاتا۔ اس لیے ہنگامہ نہ کریں۔‘‘ اس کے بعد 15 منٹ کے لیے ایوان کو ملتوی کر دیا گیا۔

مرکز ہائی کورٹ میں ججوں کی تقرری میں تاخیر کیوں کر رہا ہے؟ سپریم کورٹ نے 9 اکتوبر تک جواب طلب کیا

0
مرکز-ہائی-کورٹ-میں-ججوں-کی-تقرری-میں-تاخیر-کیوں-کر-رہا-ہے؟-سپریم-کورٹ-نے-9-اکتوبر-تک-جواب-طلب-کیا

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ملک بھر کی ہائی کورٹس میں ججوں کی تقرری کے معاملے میں ایک بار پھر مرکز پر سختی دکھائی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ ہر دس دن بعد کیس کی نگرانی کرے گی۔ عدالت نے کہا کہ دس مہینوں میں 80 ناموں کی سفارش کی گئی ہے لیکن یہ تمام تقرریاں مرکز کے پاس زیر التواء ہیں اور 26 ججوں کے تبادلے زیر التوا ہیں۔ اس کے علاوہ چیف جسٹس کی تقرری حساس ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔ 7 نام زیر التوا ہیں جنہیں دہرایا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ہم بہت کچھ کہنا چاہتے ہیں لیکن خود کو روک رہے ہیں، اس کے ساتھ ہی اس نے اس معاملے پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ اب اس معاملے کی الگ سماعت 9 اکتوبر کو ہوگی۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے اٹارنی جنرل آر ویکنترمنی نے سپریم کورٹ سے ایک ہفتہ کا وقت مانگا۔ جبکہ جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس سدھانشو دھولیا نے اٹارنی جنرل کو مرکز سے ہدایات لانے کو کہا ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ سپریم کورٹ اعلی عدلیہ میں ججوں کی تقرری میں مرکز کی طرف سے تاخیر کے خلاف ایک عرضی پر سماعت کر رہی ہے۔ جسٹس کول نے کہا کہ انہوں نے یہ مسئلہ ایک بار اٹھایا تھا۔ جب تک وہ یہاں ہے، وہ ہر 10-12 دن بعد یہ مسئلہ اٹھائے گا۔ وہ بہترین ٹیلنٹ فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایسے میں مرکزی حکومت کو کوئی تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

جسٹس سنجے کشن کول نے کہا کہ ان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے لیکن وہ خود کو روک رہے ہیں۔ آج وہ خاموش ہیں کیونکہ اٹارنی جنرل نے اس معاملے پر اپنا جواب داخل کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت مانگا ہے۔ لیکن وہ اگلی تاریخ پر خاموش نہیں رہے گا۔ سپریم کورٹ نے مرکز سے جواب طلب کیا ہے کہ اس نے ہائی کورٹ کے ذریعہ تجویز کردہ 70 لوگوں کے ناموں پر فیصلہ کیوں نہیں لیا۔ ایس سی کالجیم کو سفارش کیوں نہیں بھیجی گئی، جس کی وجہ سے یہ نام گزشتہ 10 ماہ سے حکومت کے پاس زیر التواء ہیں۔

’ہم تو ڈوبیں گے صنم، تمھیں بھی لے ڈوبیں گے‘، مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی دوسری فہرست پر کانگریس کا طنز

0
’ہم-تو-ڈوبیں-گے-صنم،-تمھیں-بھی-لے-ڈوبیں-گے‘،-مدھیہ-پردیش-میں-بی-جے-پی-کی-دوسری-فہرست-پر-کانگریس-کا-طنز

بی جے پی نے مدھیہ پردیش اسمبلی انتخاب کے لیے 39 امیدواروں پر مشتمل اپنی دوسری فہرست پیر کے روز جاری کی تھی۔ اس فہرست کے جاری کرنے کے ایک دن بعد کانگریس نے بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ 18 سال میں انھوں نے ریاست اور یہاں کی عوام کو بربادی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ یہ بات بھگوا پارٹی کی مرکزی قیادت بھی جانتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم مودی نے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کے کاموں سے خود کو دور کر لیا ہے۔ اس نے کہا کہ اس سے صاف ہو گیا ہے کہ بی جے پی کو کس طرح کانگریس کا خوف ستا رہا ہے۔

کانگریس کے مدھیہ پردیش انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس سلسلے میں ایک پوسٹ کیا ہے۔ اس میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی دوسری فہرست کا سچ! ’ہم تو ڈوبیں گے، تمھیں بھی لے ڈوبیں گے صنم‘۔ 18 سال میں مدھیہ پردیش کو بی جے پی حکومت نے بربادی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ یہ بات ریاستی عوام کے ساتھ ساتھ بی جے پی کی مرکزی قیادت بھی جان رہی ہے۔ اسی لیے 15 دن پہلے جناب عالی امت شاہ اور کل مودی جی نے شیوراج جی کے نام اور کام سے کنارہ کر لیا۔‘‘

سرجے والا کا کہنا ہے کہ دوسری طرف (جیوترادتیہ) سندھیا جی بھی اپنی لوک سبھا کی شکست اور اپنے حلقہ میں لگاتار مقامی بلدیوں کی شکست سے بھی مایوس تھے۔ بس دونوں لیڈروں نے سوچا کہ اپنے سبھی مخالفین کو ٹھکانے لگانے کا من بنایا۔ مرکزی قیادت کو شیوراج اور مہاراج نے بتایا کہ مدھیہ پردیش میں تباہ ہو چکی اقتدار کی ڈوبتی کشتی کی پتوار کو اب نریندر مودی، پرہلاد پٹیل، پھگن سنگھ کلستے، کیلاش وجئے ورگیہ اور راکیش سنگھ کی ضرورت ہے۔

کانگریس لیڈر نے مزید کہا کہ ’’دراصل شیوراج اور مہاراج کی منشا ’ہم تو ڈوبیں گے، تمھیں بھی لے ڈوبیں گے صنم‘ کی ہے، یہ صاف ہے۔ اس بات کو کیلاش وجئے ورگیہ نے ایک انٹرویو میں کہا بھی کہ مرکزی قیادت نے انھیں ٹکٹ دے کر حیران کر دیا۔ ان ٹکٹوں کے اعلان کے بعد مہاراج اور شیوراج کہہ رہے ہیں ’نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری‘۔ یعنی ہمارا اقتدار تو جا ہی رہا ہے، ہمارے ساتھ ساتھ ان لیڈروں کا سیاسی وجود بھی ختم ہو جائے گا۔‘‘ سرجے والا مزید کہتے ہیں کہ ’’کانگریس کا خوف بی جے پی کو کیسے ستاتا ہے، یہ صاف ہے۔ جناب کھڑگے، جناب راہل گاندھی، کمل ناتھ جی کی شخصیت کا خوف دیکھیے، مدھیہ پردیش کی بہادر عوام کا غصہ دیکھیے۔ ایک وزیر اعلیٰ، تین مرکزی وزیر سمیت 7 اراکین پارلیمنٹ، ایک قومی جنرل سکریٹری، لیکن پھر بھی اقتدار نہیں بچ پائے گا۔ بڑھائیے ہاتھ، پہلے مدھیہ پردیش، پھر پورا ملک، آ رہی ہے کانگریس!‘‘

سرجے والا کا یہ تبصرہ برسراقتدار بی جے پی کے ذریعہ مدھیہ پردیش میں آئندہ اسمبلی انتخاب کے لیے نریندر سنگھ تومر سمیت چار دیگر موجودہ اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ تین مرکزی وزراء کو میدان میں اتار کر حیران کرنے کے بعد آیا ہے۔ وزیر اعظم مودی کے ذریعہ بھوپال میں ایک ریلی کو خطاب کرنے کے کچھ گھنٹوں بعد پیر کو 39 امیدواروں پر مشتمل دوسری فہرست جاری کی گئی۔ اس فہرست میں اندور-1 سے بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری کیلاش وجئے ورگیہ کا نام بھی شامل ہے۔

8 ماہ کا تجسّس ختم، مندر کے ڈونیشن باکس میں ملا پی ایم مودی کا لفافہ، موجود رقم دیکھ کر سبھی حیران!

0
8-ماہ-کا-تجسّس-ختم،-مندر-کے-ڈونیشن-باکس-میں-ملا-پی-ایم-مودی-کا-لفافہ،-موجود-رقم-دیکھ-کر-سبھی-حیران!

پی ایم مودی نے رواں سال جنوری ماہ میں راجستھان کے بھیلواڑا واقع گوجر سماج کے مشہور مندر ’مالاسیری ڈونگری‘ کا دورہ کیا تھا۔ یہاں انھوں نے ڈونیشن باکس میں ایک سفید رنگ کا لفافہ ڈالا تھا جس کو لے کر مندر سے جڑے لوگوں اور مقامی باشندوں میں بہت تجسّس تھا۔ تقریباً 8 ماہ کا یہ تجسّس اس وقت ختم ہوا جب ڈونیشن باکس کھولا گیا اور لفافہ میں موجود رقم باہر نکالا گیا۔ جو رقم اس لفافے میں سے برآمد ہوا اسے دیکھ کر سبھی حیران رہ گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم مودی جنوری میں ضلع کے اسیند تحصیل میں موجود مالاسیری ڈونگری گئے تھے۔ یہاں انھوں نے پوجا پاٹھ کیا تھا اور مندر کے ڈونیشن باکس میں ایک سفید رنگ کا لفافہ ڈالا تھا۔ اس لفافے پر سبھی کی نظریں تھیں۔ مندر کے اصولوں کے مطابق ڈونیشن باکس کو سال میں صرف ایک ہی بار کھولا جاتا ہے۔ حال ہی میں اس ڈونیشن باکس کو کھولا گیا جس میں تین لفافے ملے۔ جس لفافہ کو وزیر اعظم مودی کا بتایا جا رہا ہے اس میں سے 21 روپے ملے ہیں۔ لفافے میں 20 روپے کا ایک نوٹ ہے اور ساتھ میں ایک سکّہ ہے۔ علاوہ ازیں ڈونیشن باکس میں تقریباً 19 لاکھ روپے ملے ہیں اور اب بھی گنتی جاری ہے۔

موصولہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ مندر کے پجاری کو ڈونیشن باکس میں تین لفافے ملے ہیں جو الگ الگ رنگوں کے ہیں۔ پجاری نے ڈونیشن باکس سے نکال کر اس لفافے کو سبھی کے سامنے کھولا۔ سبھی یہ جاننے کے لیے بے تاب تھے کہ آخر پی ایم مودی کے لفافے میں کیا نکلتا ہے۔ پجاری ہیم راج پوسوال نے بتایا کہ ویڈیو میں پی ایم مودی کو سفید رنگ کا لفافہ ڈالتے ہوئے دیکھا گیا تھا اور اسی سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہی لفافہ پی ایم مودی نے ڈالا تھا۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جو تین لفافے ڈونیشن باکس میں ملے ہیں ان میں سے ایک میں 101 روپے، ایک میں 2100 روپے اور سفید لفافے میں 21 روپے نکلے ہیں۔

لکھیم پور کھیری تشدد کیس: سپریم کورٹ نے ٹینی کے بیٹے کو دہلی میں رہنے کی اجازت دی

0
لکھیم-پور-کھیری-تشدد-کیس:-سپریم-کورٹ-نے-ٹینی-کے-بیٹے-کو-دہلی-میں-رہنے-کی-اجازت-دی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو آشیش مشرا کی ضمانت کی شرائط میں جزوی ترمیم کی۔ آشیش مشرا 2021 کے لکھیم پور کھیری تشدد کیس میں عبوری ضمانت پر ہیں۔ عدالت نے کہا ہے کہ وہ قومی راجدھانی کا دورہ کر سکتے ہیں اور وہاں رہ سکتے ہیں۔

جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس دیپانکر دتہ کی ڈویژن بنچ نے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کے بیٹے کی جانب سے دائر درخواست پر غور کرتے ہوئے یہ اجازت دی کہ مشرا کی والدہ دہلی کے ایک اسپتال میں داخل ہیں اور ان کی بیٹی کو بھی علاج کی ضرورت ہے۔

تاہم بنچ نے حکم دیا کہ مشرا کو دہلی میں کسی بھی عوامی تقریب میں شرکت یا کسی زیر التوا معاملے پر میڈیا سے بات چیت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

مشرا کو اتر پردیش (یو پی) میں داخل ہونے سے روکنے والی ضمانت کی موجودہ شرط برقرار رہے گی۔ اس سال جنوری میں سپریم کورٹ نے مشرا کو ضمانت دیتے ہوئے کئی شرائط عائد کی تھیں اور کہا تھا کہ وہ یو پی یا دہلی-این سی آر میں نہیں رہ سکتے۔

اس نے یہ بھی کہا کہ مشرا ٹرائل کورٹ کو اپنے مقام کے بارے میں مطلع کرے گا اور اس کے اہل خانہ یا مشرا کی طرف سے گواہ پر اثر انداز ہونے کی کسی بھی کوشش سے اس کی ضمانت منسوخ ہو جائے گی۔

خیال رہے کہ لکھیم پور کھیری ضلع کے تکونیا میں 3 اکتوبر 2021 کو اس وقت تشدد پھوٹ پڑا تھا جب کسان یوپی کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے دورے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اس تشدد میں 8 افراد مارے گئے تھے۔ یو پی پولیس کی ایف آئی آر کے مطابق چار کسانوں کو ایک ایس یو وی نے کچل دیا تھا، جس میں آشیش مشرا بیٹھے تھے۔

’وطن کو لوٹ لیا مل کے بھاجپا والوں نے‘، قوالی کے ذریعہ کانگریس کا بی جے پی حکومت پر حملہ، دیکھیے ویڈیو

0
’وطن-کو-لوٹ-لیا-مل-کے-بھاجپا-والوں-نے‘،-قوالی-کے-ذریعہ-کانگریس-کا-بی-جے-پی-حکومت-پر-حملہ،-دیکھیے-ویڈیو

لوک سبھا انتخاب اور مختلف ریاستوں میں جلد ہی ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی پارٹیوں کا ایک دوسرے پر حملہ لگاتار تیز ہوتا جا رہا ہے۔ خاص طور سے کانگریس اور بی جے پی ایک دوسرے پر لگاتار حملے کر رہے ہیں۔ آج کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دلچسپ انداز میں مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دراصل کانگریس نے ’ایکس‘ پر نریندر مودی اور گوتم اڈانی کو دکھاتے ہوئے ایک ویڈیو پوسٹ کیا ہے۔ اس ویڈیو میں قوالی کے ذریعہ کانگریس نے پی ایم مودی اور گوتم اڈانی کے رشتوں کو سب کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ کانگریس ہمیشہ سے الزام عائد کرتی رہی ہے کہ بی جے پی اور گوتم اڈانی نے مل کر ملک کو لوٹ لیا ہے۔ اب کانگریس نے ان الزامات پر ایک قوالی ریلیز کر دیا ہے۔ قوالی کے ساتھ کیپشن میں لکھا گیا ہے ’’وطن کو لوٹ لیا مل کر بی جے پی اور اڈانی والوں نے/ کالے دل والوں نے، کھوٹی نیت والوں نے۔‘‘

اس ویڈیو میں راہل گاندھی کو ایک بار پھر 20 ہزار کروڑ روپے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ دراصل راہل گاندھی نے کئی بار یہ الزام عائد کیا ہے کہ شیل کمپنیوں کے ذریعہ ہزاروں کروڑ روپیوں کی اڈانی گروپ میں سرمایہ کاری کی گئی۔ اس تعلق سے راہل بار بار مودی حکومت سے سوال کرتے رہے ہیں کہ گوتم اڈانی کے بے نامی کمپنیوں کو ملے 20 ہزار کروڑ روپے کس کے ہیں؟

قوالی کے ذریعہ کانگریس نے مودی حکومت پر یہ بھی الزام لگایا ہے کہ اگر پارلیمنٹ میں کوئی حکومت سے سوال کرتا ہے تو حکومت ان کا مائک بند کرا دیتی ہے۔ ویڈیو کے ذریعہ کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ مودی حکومت نے اڈانی گروپ کا 12 ہزار 770 کروڑ روپے کا قرض بھی معاف کر دیا ہے۔

امریکہ نے مسلسل تیسرے سال ہندوستانیوں کو سب سے زیادہ اسٹوڈنٹ ویزے فراہم کیے

0
امریکہ-نے-مسلسل-تیسرے-سال-ہندوستانیوں-کو-سب-سے-زیادہ-اسٹوڈنٹ-ویزے-فراہم-کیے

نئی دہلی: ہندوستان میں امریکی سفارت خانے نے منگل کو کہا کہ مسلسل تیسرے سال ہندوستانی طلباء کو سب سے زیادہ امریکی ویزے ملے ہیں۔ اس بار 90 ہزار سے زائد طلبہ کو ویزے دیے گئے ہیں۔

ہندوستان میں امریکی سفارت خانے نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’ہندوستان میں امریکی مشن کو یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے اس موسم گرما میں جون، جولائی اور اگست میں 90 ہزار سے زیادہ طلباء کے ویزے جاری کیے ہیں۔‘‘

سفارت خانے نے کہا، ’’اس موسم گرما میں دنیا بھر میں تقریباً چار میں سے ایک اسٹوڈنٹ ویزا یہیں ہندوستان میں جاری کیا گیا تھا۔ ان تمام طلباء کو مبارکباد اور نیک خواہشات جنہوں نے اپنے اعلیٰ تعلیم کے اہداف کو حقیقت بنانے کے لیے امریکہ کا انتخاب کیا ہے۔ یہ ایک اختتامی ہے۔

سفارت خانہ نے مزید لکھا ’’ٹیم ورک اور جدت کے ساتھ ہم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ تمام اہل درخواست دہندگان وقت پر اپنے پروگراموں تک پہنچیں۔‘‘ حکام کے مطابق گزشتہ سال ہندوستانی طلباء کے لیے 82 ہزار سے زائد امریکی ویزے جاری کیے گئے تھے۔

گونگی-بہری وکیل کو سپریم کورٹ نے ’ورچوئل بحث‘ کا دیا موقع!

0
گونگی-بہری-وکیل-کو-سپریم-کورٹ-نے-’ورچوئل-بحث‘-کا-دیا-موقع!

آج چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کی عدالت میں اس وقت سناٹا چھا گیا جب ایک گونگی-بہری خاتون وکیل پیش ہوئیں۔ اس گونگی اور بہری خاتون وکیل کے اشاروں کو سمجھانے کے لیے ان کی آواز سوربھ رائے چودھری بنے۔ یہ پہلا موقع تھا جب ورچوئل ذریعہ سے خاتون وکیل سارہ سنی سپریم کورٹ میں پیش ہوئیں اور خاص طور پر چیف جسٹس چندرچوڑ نے انھیں بحث کرنے کی اجازت دی۔ اس دوران وکیل سوربھ رائے چودھری نے وکیل سارہ کی اشاروں والی زبان کو دیکھ کر سمجھا اور پھر سی جے آئی کی بنچ کے سامنے ان کی دلیلوں کو پیش کیا۔

بنگلورو کی رہنے والی سارہ کو ورچوئل ذریعہ سے عدالت کے سامنے پیش ہونے کی اجازت دینے سے سپریم کورٹ کے ڈیجیٹل کنٹرول روم نے منع کر دیا تھا۔ حالانکہ بعد میں جب اس بارے میں سی جے آئی چندرچوڑ کو جانکاری ملی تو انھوں نے اشارہ سمجھنے کے لیے ایڈووکیٹ چودھری کے ساتھ ورچوئل پیش ہونے کی اجازت دے دی۔ جب بحث شروع ہوئی تو اسکرین پر ایڈووکیٹ چودھری خاتون وکیل کے ہاتھوں سے کیے جا رہے اشاروں کی زبان عدالت کے سامنے رکھنے لگے۔

پہلے ڈیسک ٹاپ اسکرین پر سارہ نہیں تھیں اور بعد میں سی جے آئی نے انھیں اسکرین پر جگہ دینے کو کہا، تب ایڈووکیٹ چودھری اور سارہ دونوں ہی اسکرین پر نظر آئے۔ اس دوران عدالت میں کئی مواقع پر وکیل چودھری نے ایک ہی دلیل کو دہراتے ہوئے عدالت کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ آخر سارہ کہنا کیا چاہتی ہیں۔ سپریم کورٹ میں سی جے آئی کی بنچ کے سامنے ایڈووکیٹ سارہ کے پیش ہو کر بحث کرنے کے معاملے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ سنچیتا این نے اہم کردار نبھایا۔ انھوں نے گونگی-بہری وکیل کے پیش ہونے کی اجازت دلانے کے لیے مختلف سطحوں پر تعاون کیا۔ یہ سماعت تب ہوئی جب بنچ کے سامنے اہم معاملوں کی سماعت ہو چکی تھی۔

دہلی: جولری کے شوروم میں واردات، چوروں نے اڑائے 25 کروڑ کے زیورات

0
دہلی:-جولری-کے-شوروم-میں-واردات،-چوروں-نے-اڑائے-25-کروڑ-کے-زیورات

نئی دہلی: دہلی کے ایک جیولری شوروم میں کروڑوں کی چوری کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہ معاملہ بھوگل علاقہ میں واقع امراؤ جیولرس سے متعلق ہے۔ یہاں کل دیر رات چور نے جیولری کے پورے شوروم کی صفائی کر دی۔ اس دوران عمراؤ جیولرز میں 20 سے 25 کروڑ روپے کی چوری کی وارداتیں ہوئیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ چور دیوار توڑ کر شوروم میں موجود لاکر تک پہنچ گئے۔ چوری کی اس واردات کو انجام دینے کے لیے چور شوروم کی چوتھی منزل سے چھت کا تالہ توڑ کر نیچے آئے۔ اس کے بعد اسٹرانگ روم کی دیوار میں سوراخ کر کے سی سی ٹی وی کے کنکشن کاٹ دیے گئے۔

معلومات کے مطابق اتوار کی شام شوروم کے مالک نے شوروم بند کر دیا تھا۔ اگلے دن یعنی پیر کو شوروم بند رہتا ہے۔ آج صبح شوروم کھلا تو چوری کا واقعہ سامنے آیا جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔ اس معاملے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ نظام الدین کی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ اس وقت پولس اور کرائم برانچ شو روم کے اندر ہیں۔ پولیس شو روم میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو سکین کر رہی ہے۔