جمعرات, مارچ 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 95

بی جے پی انتخابات میں دھاندلی کر کے اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنا چاہتی ہے: اکھلیش یادو

0
بی-جے-پی-انتخابات-میں-دھاندلی-کر-کے-اقتدار-پر-قبضہ-برقرار-رکھنا-چاہتی-ہے:-اکھلیش-یادو

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ بی جے پی انتخابات میں دھاندلی کرکے اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہ ’’بی جے پی نے آئینی اداروں کو نقصان پہنچایا ہے اور ان کا ایجنڈا صرف طاقت کا غلط استعمال ہے۔ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے سماج وادی پارٹی کے حامیوں کے ووٹ کم کرنے کی سازش کی۔‘‘

ایس پی سربراہ اکھلیش یادو منگل کو پارٹی کے ریاستی ہیڈکوارٹر پر آئے کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کسان مخالف ہے۔ تین کالے زرعی قوانین کے خلاف تحریک میں 800 کسان شہید ہوئے۔ بی جے پی حکومت میں مہنگائی اور بے روزگاری اپنے عروج پر ہے۔ بی جے پی حکومت نے مہنگائی، بے روزگاری کو کم کرنے اور غربت ختم کرنے کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ کسانوں کی گندم لوٹ لی گئی۔ کسانوں کو گندم کی لاگت کے برابر بھی قیمت نہیں ملی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کی پشت پناہی میں دو کمپنیوں نے ریفائنڈ آئل مارکٹ کے 60 فیصد پر قبضہ کر لیا ہے۔ مارکٹ کو کنٹرول کرنے کی سوچی سمجھی سازشیں جاری ہیں۔ صرف چند کمپنیاں کسانوں سے دھان اور گندم خرید رہی ہیں۔ کسان کو نہ تو اپنی فصل کے لیے ایم ایس پی ملا اور نہ ہی سیلاب اور خشک سالی سے متاثرہ فصل کا معاوضہ ہی مل سکا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کے دور حکومت میں افرا تفری پھیلی ہوئی ہے۔ امن و امان تباہ ہو چکا ہے۔ تعلیم اور صحت کی خدمات تباہ حال ہیں۔ اس حکومت سے انصاف کی کوئی امید نہیں۔ لوگ بجلی اور پانی کے لیے پریشان ہیں۔ انہوں نے بجلی کا ایک یونٹ بھی پیدا نہیں کیا۔‘‘

افغانستان کی کرنسی کی شاندار کارکردگی، ڈالر سے لے کر یورو اور پاؤنڈ سب پیچھے رہ گئے

0
افغانستان-کی-کرنسی-کی-شاندار-کارکردگی،-ڈالر-سے-لے-کر-یورو-اور-پاؤنڈ-سب-پیچھے-رہ-گئے

کابل: اگر آپ سے دنیا کی مضبوط ترین کرنسی کے بارے میں پوچھا جائے تو سب سے پہلے ڈالر کا نام آتا ہے۔ آپ پونڈ، یورو یا دینار کے بارے میں بھی سوچ سکتے ہیں۔ جس نام کے بارے میں آپ سوچ بھی نہیں سکتے اس نے ستمبر کی سہ ماہی میں امریکی ڈالر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اور صرف ڈالر ہی کیوں نہیں، یورو سے لے کر پاؤنڈ تک اور روپے سے لے کر یوآن تک، دنیا کی تمام کرنسیاں ستمبر کی سہ ماہی میں اس سے پیچھے رہ گئی ہیں۔

اور ایسا اس افغانستان کی کرنسی نے کیا ہے، جو اس وقت طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ستمبر سہ ماہی کے دوران افغان افغانی پوری دنیا میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسی بن کر ابھری ہے۔ 26 ستمبر تک کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ڈالر کے مقابلے افغانی کی قدر 78.25 ہے۔ یعنی ایک ڈالر اور 78.25 افغانی کی قیمت برابر ہے۔

ہندوستانی کرنسی روپے کی بات کریں تو پیر کو بازار بند ہونے کے بعد یہ ڈالر کے مقابلے 83.27 پر تھا۔ یعنی ایک امریکی ڈالر اور 83.27 ہندوستانی روپے کی قیمت برابر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس وقت افغانی کی قدر روپے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ شرح تبادلہ کے مطابق، ایک افغان افغانی اور 1.06 ہندوستانی روپے کی قدر برابر ہے۔

ستمبر کی سہ ماہی میں افغانی کی قدر میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ دنیا کی کسی بھی کرنسی سے زیادہ ہے۔ بلومبرگ کے اعداد و شمار کے مطابق کولمبیا کی کرنسی پیسو ستمبر کی سہ ماہی میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ستمبر کی سہ ماہی میں پیسو کی قدر میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اگر سالانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو پچھلے ایک سال میں سب سے مضبوط کرنسی پیسو رہی ہے۔ سری لنکا کی کرنسی دوسرے نمبر پر ہے اور اس معاملے میں افغانی تیسرے نمبر پر ہے۔

رپورٹ کےک مطابق افغانستان کی کرنسی کا مضبوط ہونا بے وجہ نہیں ہے اور اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ- افغانستان میں اس وقت طالبان کی حکومت ہے اور طالبان کے نظام نے افغان کرنسی کو مضبوط کرنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں۔ دوسری وجہ- امریکہ کے ملک سے جانے کے بعد افغانستان کی سماجی و اقتصادی صورت حال ابتر ہو گئی تھی، لہذا افغانستان کو عالمی برادری سے بڑے پیمانے پر مدد مل رہی ہے، جس سے بالآخر افغان کرنسی کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے۔

خیال رہے کہ اس وقت افغانستان کی معیشت کو چلانے میں غیر ملکی امداد سب سے بڑا عنصر ثابت ہو رہی ہے۔ طالبان نے اگست 2021 میں افغانستان پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد سے، اقوام متحدہ نے افغانستان کو 5.8 بلین ڈالر کی امداد فراہم کی ہے۔ اس میں سے 4 بلین ڈالر صرف 2022 میں فراہم کیے گئے۔ دوسری جانب افغانستان کو قدرتی وسائل سے زرمبادلہ اکٹھا کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ افغانستان کے پاس بیٹریوں میں استعمال ہونے والے لیتھیم سمیت بہت سے قدرتی وسائل کے بہت بڑے ذخائر ہیں۔

گینگسٹر-ملی ٹینٹ نیٹورک کے خلاف این آئی اے کی کارروائی، یوپی-دہلی سمیت 6 ریاستوں میں 51 مقامات پر چھاپے

0
گینگسٹر-ملی-ٹینٹ-نیٹورک-کے-خلاف-این-آئی-اے-کی-کارروائی،-یوپی-دہلی-سمیت-6-ریاستوں-میں-51-مقامات-پر-چھاپے

نئی دہلی: قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے گینگسٹروں اور ملی ٹینٹوں کے نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے۔ چھ ریاستوں بشمول اتر پردیش، ہریانہ، راجستھان، پنجاب اور دہلی-این سی آر میں ایک ساتھ چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ مجموعی طور پر این آئی اے 51 مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب اور ہریانہ جیسی ریاستوں میں چھپے گینگسٹروں کے خالصتانی ملی ٹینٹوں سے تعلقات کے شواہد ملے ہیں۔ گینگسٹرز کو خالصتانی دہشت گردوں کے ذریعے ہی ہتھیار مل رہے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ اسی کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ چھاپہ مارا جا رہا ہے۔

این آئی اے نے کہا ہے کہ وہ 3 معاملات میں لارنس بمبیہا اور عرش ڈالا گینگ کے ساتھیوں سے متعلق 6 ریاستوں میں 51 مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔ لارنس بشنوئی گینگ اور بمبیہا گینگ پنجابی گلوکار سدھو موسی والا کے قتل کے بعد سے خبروں میں تھے۔ کہا جاتا ہے کہ بمبیہا گینگ نے لارنس بشنوئی گینگ سے مقابلے کے لیے پاکستان کی مدد بھی لی تھی۔ وہیں، عرش ڈالا بیرون ملک روپوش ہے اور وہیں سے اپنے جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔

پچھلے کچھ مہینوں میں پنجاب، ہریانہ، یوپی جیسی ریاستوں میں گینگسٹر سرگرم ہو گئے ہیں۔ ان گینگسٹروں کو اپنا کام کرنے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ پڑوسی ملک پاکستان سے آنے والے منشیات اور خالصتانی ملی ٹینٹوں کے ذریعے پوری ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے ایسے گینگسٹر ہیں جنہیں ہتھیاروں کی ضرورت ہے اور انہی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وہ خالصتانی ملی ٹینٹوں سے رابطہ کر رہی ہیں۔ این آئی اے کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ملی ٹینٹوں اور بدمعاشوں کا یہ اتحاد ملک کے لیے خطرناک سودا ثابت ہو سکتا ہے۔

بھارت میں پچھلے چھ ماہ میں ڈھائی سو سے زائد نفرت انگیز تقاریر، رپورٹ

0
بھارت-میں-پچھلے-چھ-ماہ-میں-ڈھائی-سو-سے-زائد-نفرت-انگیز-تقاریر،-رپورٹ

واشنگٹن میں قائم ہندوتوا واچ نامی تنظیم نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت میں رواں برس کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران مسلمانوں کے خلاف روزانہ اوسطاً ایک سے زیادہ مرتبہ نفرت انگیز تقاریر کی گئیں اور یہ صورت حال ان ریاستوں میں زیادہ نمایاں رہی جہاں اگلے چند ماہ کے دوران ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ہونے والے ہیں۔

بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والے تشدد کے واقعات پر نگاہ رکھنے والی اس تنظیم کے مطابق سن 2023 کی پہلی ششماہی میں مختلف میٹنگوں اور پروگراموں کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے 255 واقعات رپورٹ کیے گئے۔ حالانکہ اس سلسلے میں سابقہ برسوں کا کوئی تقابلی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔

ہندو واچ نے نفرت انگیز تقریر کے متعلق اقوام متحدہ کی طے کردہ تعریف کو مدنظر رکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ، "ابلاغ کی کوئی بھی ایسی شکل، جس میں مذہب، نسل، قومیت، رنگ، جنس یا دیگر شناختی عوامل کی بنیاد پر کسی فرد یا گروہ کے لیے متعصبانہ یا امتیازی زبان استعمال کی جائے۔” رپورٹ کے مطابق نفرت انگیز تقاریر کے تقریباً 70 فیصد واقعات ان ریاستوں میں ہوئے جہاں سن 2023 اور 2024 میں انتخابات ہونے والے ہیں۔

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کے واقعات اب عام ہیں اور یہ معمول کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ پچھلے دنوں بھارتی پارلیمان میں بھی اس کا افسوس ناک مظاہرہ ہوا۔ حالانکہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن رمیش بدھوڑی نے مسلم رکن پارلیمان کنور دانش علی کے خلاف جس طرح کے "نازیبا الفاظ” استعمال کیے اس کی ایک بڑے حلقے کی جانب سے مذمت بھی کی جا رہی ہے۔

دانش علی نے اپنے کرب کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، "کیا آرایس ایس کی شاکھاؤں اور نریندر مودی جی کی لیبارٹری میں یہی سکھایا جاتا ہے؟ آپ کا کیڈر جب ایک منتخب رکن پارلیمان کو پارلیمنٹ میں … ایسے توہین آمیز الفاظ کہنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا تو وہ عام مسلمانوں کے ساتھ کیا کرتا ہوگا؟ یہ سوچ کر بھی روح کانپ جاتی ہے۔”

اس سے قبل جون میں بی جے پی کی حکومت والی اتراکھنڈ ریاست میں دیواروں پر ایسے پوسٹر چسپاں ملے تھے جن میں مسلمانوں کو علاقہ چھوڑ کر چلے جانے کی وارننگ دی گئی تھی۔ ‘دیو بھومی رکشا ابھیان’ نامی ایک ہندو گروپ نے یہ پوسٹر چسپاں کیے تھے۔ اقوام متحدہ سمیت متعدد بین الاقوامی تنظیمیں بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکایتیں کرتی رہی ہیں۔

ہندوتوا واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کے سب سے زیادہ واقعات گجرات، مہاراشٹر، کرناٹک، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں دیکھنے میں آئے۔ صرف مہاراشٹر میں، جہاں بی جے پی کی حکومت ہے، ایسے 29 واقعات ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق زیادہ تر نفرت انگیز تقریروں کے دوران سازشی نظریات کا ذکر کیا جاتا ہے جن کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں۔ مقررین نے ہندووں سے مسلمانوں کے خلاف تشدد اور ان کے سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان واقعات میں سے تقریباً 80 فیصد ان ریاستوں میں پیش آئے جہاں وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی حکومت ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت سن 2024 میں ہونے والے عام انتخابات میں ایک بار پھر اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے نفرت انگیز تقریروں کے ذریعہ ہندو ووٹرو ں کی صف بندی کرنا چاہتی ہے۔ ہندوتوا واچ کے مطابق اس نے ہندو قوم پرست گروپوں کی آن لائن سرگرمیوں کا سراغ لگایا، سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی نفرت انگیز تقاریر کی تصدیق شدہ ویڈیوز دیکھیں اورمیڈیا میں رپورٹ کیے گئے واقعات کی بنیاد پر اپنی یہ رپورٹ تیار کی ہے۔

مودی حکومت نے ہندوتوا واچ کی اس رپورٹ پر فی الحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے تاہم وہ اقلیتوں کے ساتھ کسی طرح کی تفریق یا بدسلوکی کی خبروں سے انکار کرتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سن 2014 میں نریندر مودی کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد سے مسلمانوں کے خلاف تشدد اور منافرت کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

12 سالہ مرسلین شیخ کی سمجھداری سے ٹل گیا بڑا ریل حادثہ، ریلوے نے انعام سے نوازا

0
12-سالہ-مرسلین-شیخ-کی-سمجھداری-سے-ٹل-گیا-بڑا-ریل-حادثہ،-ریلوے-نے-انعام-سے-نوازا

مغربی بنگال کے مالدہ میں ایک 12 سالہ بچہ مرسلین شیخ کی سمجھداری کے سبب ایک بڑا ریل حادثہ ہوتے ہوتے بچ گیا۔ اس ٹرین میں سینکڑوں مسافر سوار تھے جن کی جان جا سکتی تھی، لیکن مرسلین نے اپنا لال ٹی شرٹ دکھا کر لوکو پائلٹ کو الرٹ دیا جس سے حادثہ ٹل گیا۔ اب اس بچے کی ہر طرف تعریف ہو رہی ہے۔ نارتھ ایسٹ فرنٹیر ریلوے کے افسران نے اس بچے کو اس کی بہادری کے لیے سرٹیفکیٹ اور نقد انعام پیش کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مرسلین شیخ ایک مہاجر مزدور کا بیٹا ہے جس نے ایک ایسی پٹری میں خرابی دیکھی جس پر ٹرین آ رہی تھی۔ یہ دیکھتے ہی اس نے لال ٹی شرٹ لہرا کر خطرے کا اشارہ دیا اور پھر ڈرائیور نے ایمرجنسی بریک لگا کر ٹرین روک دی۔ بچے کی بہادری کی خبر ملنے کے بعد مالدہ شمال کے رکن پارلیمنٹ کھگین مرمو کٹیہار کے ڈویژنل ریل منیجر سریندر کمار کے ساتھ مرسلین کے گھر پہنچے اور اس کی حوصلہ افزائی کی۔

موصولہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ واقعہ تین چار دن پہلے کا ہے جب مرسلین شیخ ریلوے ملازمین کے ساتھ یارڈ میں موجود تھا اور بارش کی وجہ سے خراب ہوئی پٹری پر اس کی نظر پڑی۔ پٹری میں دراڑ صاف دکھائی دے رہی تھی جس کا اندازہ ہوتے ہی مرسلین پریشان ہو گیا۔ پھر اس نے کچھ سوچا اور اپنی لال ٹی شرٹ اتار کر ہاتھوں سے لہرانے لگا۔ ڈرائیور نے خطرے کا اشارہ ملتے ہی ایمرجنسی بریک لگایا جس سے ٹرین رک گئی۔ پھر پٹری میں آئی خرابی کو دور کرنے کے بعد ٹرین نے آگے کا سفر شروع کیا۔

منی پور میں تازہ تشدد کے بعد انٹرنیٹ سروس پھر معطل، اسکول بھی بند کرنے کا اعلان

0
منی-پور-میں-تازہ-تشدد-کے-بعد-انٹرنیٹ-سروس-پھر-معطل،-اسکول-بھی-بند-کرنے-کا-اعلان

منی پور میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ نتیجہ کار 26 ستمبر سے ایک بار پھر پانچ دنوں کے لیے انٹرنیٹ سروس معطل کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ انٹرنٹ سروس پر یہ پابندی یکم اکتوبر (اتوار) کی شام 7.45 بجے تک جاری رہے گی۔ تقریباً ساڑھے چار ماہ بعد ریاست میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن اب ایک بار پھر سے پابندی ریاستی عوام کے لیے بری خبر ہے۔

انٹرنیٹ سروس کی معطلی کے علاوہ ریاست کے سبھی اسکولوں کو تین دن کے لیے بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے اعلان کیا کہ 27 ستمبر اور 29 ستمبر کو اسکول میں چھٹی رہے گی، جبکہ 28 ستمبر کو عید ملادالنبی کے پیش نظر پہلے سے ہی آفیشیل چھٹی کا اعلان کیا جا چکا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ منی پور میں جولائی سے لاپتہ دو طالب علم کی لاشوں کی تصویریں سوشل میڈیا پر 25 ستمبر کو وائرل ہو گئی۔ اس کے بعد امپھال واقع اسکولوں اور کالجوں کے طلبا نے بڑی تعداد میں احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ اس پر قابو پانے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس میں تقریباً تین درجن بچے زخمی ہو گئے۔ اس وجہ سے ریاست میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 طالب علموں کی لاشوں کی تصویر جیسے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، طلبا میں سخت ناراضگی دیکھنے کو ملی۔ پولیس نے بتایا کہ جب سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو وزیر اعلیٰ سکریٹریٹ کی طرف بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی تو ان کا پولیس سے تصادم ہو گیا۔ اس دوران بڑی تعداد میں مظاہرین زخمی ہوئے جن کا مختلف اسپتالوں میں علاج کیا جا رہا ہے۔

24واں دو روزہ کل ہند مسابقہ حفظ و قرأت قرآن کریم کا انعقاد 28 ستمبر کو

0
24واں-دو-روزہ-کل-ہند-مسابقہ-حفظ-و-قرأت-قرآن-کریم-کا-انعقاد-28-ستمبر-کو

نئی دہلی: ایران کلچرل ہاؤس نئی دہلی کی جانب سے 24واں دو روزہ کل ہند مسابقہ حفظ و قرأت قرآن کریم کا انعقاد بروز جمعرات 28 ستمبر 2023 کو کیا جا رہا ہے جس میں ہندوستان کے مختلف شہروں کے حفاظ و قراء شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ جمعہ کے روز جشن عید میلاد النبی اور ہفتہ کو کیلی گرافی ورکشاپ منعقد کی جائے گی جس میں ایران و ہندوستان کے خطاط اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ یہ معلومات ایران کلچرل ہاؤس کے نو تعینات کلچرل کاؤنسلر فرید الدین فرید عصر نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران دی ہے۔

فرید الدین فرید نے معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سالہائے گزشتہ کی طرح امسال بھی جشن عید میلاد النبی کا انعقاد کیا جائے گا جس میں مسابقہ حفظ و قرأت قرآن کریم میں حصہ لینے والے فاتحین کو مختلف انعامات سے نوازا جائے گا اور جو اس مقابلہ میں امتیازی حیثیت حاصل کرتے ہیں ان کو ایران میں منعقد ہونے والے مسابقہ میں بھیجا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال ہم نے اس پروگرام میں مزید دو پروگرام شروع کئے ہیں جس میں پہلا آن لائن تفسیر قرآن اور دوسرا قرآن کیلی گرافی پروگرام شامل ہیں، جس کے حتمی نتائج دسمبر 2023 کو جاری کیے جائیں گے۔

کلچرل کاؤنسلر نے آئندہ چھ ماہ کے دوران منعقد ہونے والے پروگرام کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ چھ ماہ میں ہم مختلف پروگرام منعقد کریں گے جس میں آرٹس اینڈ کلچر، ڈریس کمپٹیشن، فوٹو گرافی وغیرہ شامل ہیں۔ ان سبھی پروگراموں کے ذریعے ہمارا بنیادی مقصد فارسی زبان کی ترویج و ترقی اور ایران کی ثقافت کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان تمام پروگراموں میں سب سے اہم بین الاقوامی مذاکرہ ہے جس کے اب تک دو مراحل (پہلا ایران اور دوسرا دہلی میں) منعقد ہو چکے ہیں۔ اب تیسرا مرحلہ منعقد کیا جائے گا، اس کے بعد ہم فارسی زبان کے فروغ کے لیے مختلف پروگرام بھی حکومت ہند کے تعاون سے منعقد کریں گے۔

پریس کانفرنس میں موجود فارسی ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر قہرمان سلیمانی نے کہا کہ ایران سے ہندوستان کے تعلقات قائم کرنے میں زبان فارسی کا اہم کردار رہا ہے اور ایران حکومت نے حکومت ہند کے تعاون سے فارسی کے فروغ کے لیے یہاں ایک ادارہ قائم کیا ہوا ہے۔ یہ قصہ ایک طرفہ نہیں ہے، بلکہ ہندوستان کے 140 محکموں میں بھی فارسی زبان کو پڑھایا جاتا ہے، اور سینکڑوں کی تعداد میں اساتذہ ہیں جن پر حکومت ہند فارسی کو فروغ دینے کے لیے ایک خطیر رقم صرف کرتی ہے۔ نئی قومی تعلیمی پالیسی 2020 (این ای پی) میں فارسی کو 10 اہم زبانوں میں شامل کیا گیا ہے۔

قہر مان سلیمانی نے فارسی ریسرچ سینٹر کے مقاصد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہندوستان میں فارسی کو فروغ دینے کے لیے حکومت ہند کے تعاون سے مختلف امور پر کام کر رہے ہیں، جس میں ایک اہم منصوبہ ’فرہنگ آریان‘ لغت ہے جو سات جلدوں میں شائع ہو چکی ہے اور آٹھویں جلد بھی جلد ہی منظر عام پر آنے والی ہے۔ یہ لغت گیارہ جلدوں پر مشتمل ہوگی۔

اس سے قبل کلچرل کاؤنسلر فرید الدین فرید عصر نے ایران و ہندوستان کے ثقافتی تعلقات پر مختصر روشنی ڈالی اور کہا کہ ایران اور ہندوستان کے تعلق صدیوں پرانے ہیں۔ یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی تہذیب و تمدن کو اپنے ملک میں فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ناگفتہ بہ حالات میں بھی علمی و ادبی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا کام کیا ہے۔

ایران کلچر ہاﺅس نئی دہلی کے مرکزی کتب خانہ کی معلومات دیتے ہوئے کلچرل کاﺅنسلر نے کہا کہ یہ کتب خانہ ہندوستان کے عظیم ترین کتب خانوں میں سے ایک ہے جو گزشتہ 30 سال سے زائد عرصے سے فارسی ادب، ایرانولوجی اور مذہبی کتب کے حوالہ سے پورے ملک کے محققین و قارئین کی عملی سیرابی میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتب خانہ دو منزلہ ہے جس میں 30 ہزار سے زائد کتابیں موجود ہیں۔ اس میں 6 ہزار سے زیادہ اسلامی کتابیں، 5 ہزار ادب، 3 ہزار تاریخ اور ہندوستان کی تاریخ پر تقریباً 2 ہزار کتابوں کے علاوہ سوشل سائنس اور دوسرے موضوعات پر کتابیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتب خانہ کو منظم طریقہ سے ترتیب دیا گیا ہے۔ کیٹ لاگ کو آسان بنایا گیا ہے تاکہ متلاشی کو آسانی سے کتاب مل جائے۔ علاوہ ازیں کتب خانہ کو ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے۔ قارئین کی سہولیات کے لیے شعراء کے دیوان، نثری متون، عصر حاضر کے ہندوستانی، ایرانی، افغانی اور تاجکی شعراء کے فارسی اشعار کا مجموعہ اور راہ اسلام، قند پارسی، کلچرل گلمپسیز، کلچرل ڈائیلاگ جیسے معتبر جریدوں کے مختلف شماروں کو ڈیجیٹل کتاب (ڈیجیٹل بک) کی شکل میں لائبریری اور نشریات کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کیا ہوا ہے۔ خواہشمند افراد ویب سائٹ www.ichdlib.in پر جا کر استفادہ کر سکتے ہیں۔

پی ایم مودی کی شبیہ ایسی ہو گئی ہے جیسے انھوں نے کچھ بولا تو جھوٹ ہی ہوگا: کانگریس

0
پی-ایم-مودی-کی-شبیہ-ایسی-ہو-گئی-ہے-جیسے-انھوں-نے-کچھ-بولا-تو-جھوٹ-ہی-ہوگا:-کانگریس

رواں سال کے آخر تک کئی ریاستوں میں اسمبلی انتخاب ہونا ہے جن میں ایک ریاست مدھیہ پردیش بھی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 25 ستمبر کو مدھیہ پردیش کا دورہ بھی کیا جہاں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ آج کانگریس نے پی ایم مودی اور بی جے پی پر جوابی حملہ کیا ہے۔ کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے کہا کہ ’’پی ایم مودی نے پیر کو مدھیہ پردیش میں 51 منٹ کی تقریر میں 44 مرتبہ کانگریس کا نام لیا۔ یعنی ان کے پاس اپنی حکومت کی حصولیابیوں کے بارے میں بتانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔‘‘ ساتھ ہی پون کھیڑا نے نوٹ بندی جیسے فیصلوں کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’ڈیجیٹل پیمنٹ بڑھانے کے لیے نوٹ بندی کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ آر ایس ایس کی شاخہ میں کچھ تو ہے جہاں سے ایسے ایسے نمونے آتے ہیں۔‘‘

مدھیہ پردیش میں پی ایم مودی نے کانگریس کو خاتون مخالف قرار دیا تھا۔ اس پر جوابی حملہ کرتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ 1989 میں راجیو گاندھی کی طرف سے لایا گیا خاتون ریزرویشن بل راجیہ سبھا سے اسی لیے پاس نہیں ہو پایا کیونکہ اٹل بہاری واجپئی، لال کرشن اڈوانی، رام جیٹھ ملانی جیسے بی جے پی لیڈران نے اس کے خلاف ووٹ کیا۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’پی ایم مودی کی شبیہ ایسی ہوئی گئی ہے جیسے انھوں نے کچھ بولا تو جھوٹ ہی ہوگا۔‘‘

پون کھیڑا نے راجدھانی دہلی واقع کانگریس ہیڈکوارٹر پر نامہ نگاروں کے سامنے یہ بھی کہا کہ فلم اداکاروں کو نئی پارلیمنٹ میں بلایا گیا، لیکن صدر جمہوریہ (دروپدی مرمو) کو نہیں۔ ایسا اس لیے کیونکہ وہ قبائل ہیں۔ یہ لوگ برج بھوشن کو نکال نہیں پائے اور خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ راجستھان میں وزیر اعظم مودی کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے پون کھیڑا نے سوال کیا کہ پی ایم مودی بتا دیں کہ بی جے پی کی کس حکومت نے 5 سالوں میں 250 کالج کھولے ہوں۔ بدعنوانی کے الزامات کے جواب میں پون کھیڑا نے کہا کہ جس اجیت پوار کو جیل بھیجنے کی بات کرتے تھے، وہ اب ساتھ بیٹھ کر بجٹ بناتے ہیں۔

مدھیہ پردیش میں بی جے پی کے ذریعہ جاری امیدواروں کی دوسری فہرست پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ’’کچھ بھی کر لیں، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انتخاب سے پہلے ہی نتائج ظاہر ہو گئے ہیں۔ ہماچل پردیش سے لے کر کرناٹک تک جہاں جہاں نریندر مودی کے پیر پڑے وہاں کانگریس کی جیت ہوئی۔ اس لیے ہم نریندر مودی کو ہم اپنا اسٹار پرچارک مانتے ہیں۔‘‘

سابق مرکزی وزیر شاہنواز حسین کو پڑا دل کا دورہ، ممبئی کے اسپتال میں داخل

0
سابق-مرکزی-وزیر-شاہنواز-حسین-کو-پڑا-دل-کا-دورہ،-ممبئی-کے-اسپتال-میں-داخل

سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی کے سینئر لیڈر شاہنواز حسین کو آج اچانک دل کا دورہ پڑا جس کے بعد انھیں ممبئی کے لیلاوتی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انھیں شام تقریباً 4.30 بجے لیلاوتی اسپتال لایا گیا اور فوری طور پر علاج شروع ہو گیا۔

لیلاوتی اسپتال کے ڈاکٹر جلیل پارکر نے شاہنواز حسین کو دل کا دورہ پڑنے کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے شاہنواز حسین کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ان کی انجیوپلاسٹی ہوئی ہے۔ شہنواز حسین فی الحال آئی سی یو میں ایڈمٹ ہیں۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ شاہنواز حسین کو اس سے قبل اگست میں صحت سے متعلق مسئلہ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت بی جے پی لیڈر کو دہلی واقع ایمس میں داخل کرایا گیا تھا۔ اس دوران ڈاکٹروں نے انھیں آرام کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ 12 دسمبر 1968 کو بہار کے سپول میں پیدا ہوئے شاہنواز حسین اس وقت پارٹی کے قومی ترجمان ہیں۔

’ہم ناوابستگی کے دور سے نکل کر عالمی دوست بنے‘، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں جئے شنکر کا بیان

0
’ہم-ناوابستگی-کے-دور-سے-نکل-کر-عالمی-دوست-بنے‘،-اقوام-متحدہ-جنرل-اسمبلی-میں-جئے-شنکر-کا-بیان

ہندوستانی مرکزی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی (یو این جی اے) میں کہا کہ ہندوستان متنوع شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’ناوابستگی کے دور سے اب ہم عالمی دوست کے دور میں پہنچ گئے ہیں۔ یہ مختلف ممالک کے ساتھ جڑنے اور جہاں ضروری ہو، مفادات میں ہم آہنگی قائم کرنے کی ہماری صلاحیت اور خواہش میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ کواڈ کی تیز رفتار ترقی میں دکھائی دیتا ہے۔ یہ برکس گروپ کی توسیع یا آئی 2 یو 2 کے ارتقاء میں بھی یکساں طور سے واضح ہے۔‘‘

وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے یو این جی اے میں کہا کہ ’’ہم نے 75 ممالک کے ساتھ ترقی پر مبنی شراکت داری بنائی ہے۔ آفات اور ایمرجنسی حالات میں بھی ہم نے پہلے سرگرمی دکھائی ہے۔ ترکی اور شام کے لوگوں نے یہ دیکھا ہے۔‘‘ وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’’ہمارا نیا دعویٰ قانون ساز اداروں میں خواتین کے لیے ایک تہائی سیٹیں محفوظ کرنے کے لیے اہم قانون ہے۔ میں ایک ایسے سماج کے لیے بولتا ہوں جہاں جمہوریت کی قدیم روایات اور گہری جدید جڑیں ہیں۔ نتیجہ کار ہماری سوچ، نظریہ اور کام زیادہ بنیادی اور مستند ہیں۔‘‘

اس سے قبل وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے پیر کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس کے سربراہ ڈینس فرانسس سے ملاقات کی تھی۔ جئے شنکر گزشتہ جمعہ سے امریکہ کی اپنی 9 روزہ سفر پر ہیں۔ یہاں وہ خاص طور سے نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں حصہ لینے اور گلوبل ساؤتھ پر ایک خاص پروگرام کی میزبانی کرنے کے لیے پہنچے ہیں۔