جمعرات, مارچ 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 93

ہیٹ اسپیچ معاملوں میں 42 فیصد کا تعلق آر ایس ایس کی تنظیموں سے، ’ہندوتوا واچ‘ کی رپورٹ میں انکشاف

0
ہیٹ-اسپیچ-معاملوں-میں-42-فیصد-کا-تعلق-آر-ایس-ایس-کی-تنظیموں-سے،-’ہندوتوا-واچ‘-کی-رپورٹ-میں-انکشاف

ہندوستان میں ہیٹ اسپیچ یعنی نفرت انگیز بیان بازی میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ اس طرح کے معاملوں میں بیشتر کا تعلق آر ایس ایس کی تنظیموں سے جڑے کارکنان کا دیکھنے کو مل رہا ہے۔ دو ہیومن رائٹس گروپوں نے ہندوستان میں اقلیتوں کو لے کر کی گئی بیان بازی پر کچھ اعداد و شمار پیش کیے ہیں جو حیرت انگیز ہیں۔ دونوں گروپس نے رپورٹ جاری کر اقلتیوں پر حملوں اور ہیٹ اسپیچ کے اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔ تازہ رپورٹ ’ہندوتوا واچ‘ کے ذریعہ پیش کی گئی ہے۔ اس ہاف ایئرلی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 17 ریاستوں میں 255 پروگرام ہوئے ہیں جن میں مسلم مخالف تقاریر کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے تقریباً نصف پروگراموں کو منعقد کرنے والی تنظیمیں آر ایس ایس سے منسلک ہیں۔

’ہندوتوا واچ‘ کے امریکی ریسرچ پروجیکٹ ’اینٹی مسلم ہیٹ اسپیچ ایونٹس اِن انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق رواں سال چھ ماہ میں ملک بھر کی 17 ریاستوں میں اس طرح کے 255 پروگرام ہوئے، جن میں سے 80 فیصد یعنی 205 بی جے پی حکمراں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں میں ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں مزید جانکاری دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ان پروگراموں میں سے 42 فیصد کو منعقد کرانے والے گروپ آر ایس ایس سے جڑے ہیں۔ علاوہ ازیں 70 فیصد پروگرام ان ریاستوں میں ہوئے ہیں جن میں 2023 یا 2024 میں انتخابات ہونے ہیں۔ ہندوتوا واچ کی رپورٹ میں یہ بھی مطلع کرایا گیا ہے کہ مہاراشٹر، کرناٹک، مدھیہ پردیش، راجستھان اور گجرات میں سب سے زیادہ اس طرح کے پروگرام ہوئے ہیں۔ 29 فیصد پروگرام تو صرف مہاراشٹر میں کرائے گئے ہیں۔

اس سے قبل ستمبر ماہ کے شروع میں ایک ہندوستانی این جی او ’یونائٹیڈ کرشچن فورم‘ نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ آٹھ ماہ میں عیسائیوں پر حملے کے 525 معاملے سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں جانکاری دی گئی تھی کہ 2014 کے بعد سے ان واقعات میں تیزی آئی ہے اور 147 سے یہ نمبر 500 کے پار چلا گیا ہے۔ فورم نے کہا کہ عیسائیوں پر حملے سے متعلق اتر پردیش میں سب سے زیادہ 211، چھتیس گڑھ میں 118 اور ہریانہ میں 39 واقعات پیش آئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی جانکاری دی گئی کہ 520 عیسائی جنھیں گرفتار کیا گیا، ان کی مذہب تبدیلی سے متعلق جھوٹے معاملوں میں گرفتاری ہوئی ہے اور اس کے لیے موافق ثبوت بھی نہیں ہیں۔

لوک سبھا میں نازیبا تبصرہ کرنے والے رمیش بدھوڑی کو بی جے پی نے بنایا ٹونک کا انچارج

0
لوک-سبھا-میں-نازیبا-تبصرہ-کرنے-والے-رمیش-بدھوڑی-کو-بی-جے-پی-نے-بنایا-ٹونک-کا-انچارج

گزشتہ دنوں نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں بی ایس پی لوک سبھا رکن دانش علی پر نازیبا اور غیر پارلیمانی تبصرہ کر موضوعِ بحث بنے اپنے لوک سبھا رکن رمیش بدھوڑی کو بی جے پی نے راجستھان میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخاب میں اہم ذمہ داری سونپی ہے۔ بی جے پی نے بدھوڑی کو ٹونک سیٹ کا انچارج بنا کر گوجر اکثریتی سیٹ پر بی جے پی امیدوار کو کامیاب بنانے کا ٹاسک سونپا ہے۔ اس قدم کو کانگریس لیڈر سچن پائلٹ کو گھیرنے کی بی جے پی کی پالیسی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

دراصل راجستھان کانگریس کے سابق ریاستی صدر اور سابق نائب وزیر اعلیٰ سچن پائلٹ فی الحال ٹونک سے رکن اسمبلی ہیں اور یہ مانا جا رہا ہے کہ پائلٹ اس بار بھی وہیں سے انتخاب لڑ سکتے ہیں۔ پائلٹ گوجر طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ سیٹ گوجر اکثریتی ہے۔ ایسے میں گوجروں کو لبھانے کے لیے بی جے پی نے اپنے ایک گوجر رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کو پورے ٹونک ضلع کا انچارج بنا کر بڑی ذمہ داری سونپ دی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ اسمبلی انتخاب میں سچن پائلٹ کے راجستھان کانگریس صدر ہونے کے ناطے یہ مانا جا رہا تھا کہ اگر کانگریس جیتی تو وزیر اعلیٰ سچن پائلٹ ہی بنیں گے اس لیے راجستھان کے گوجروں نے یکطرفہ کانگریس کے حق میں ووٹ کیا تھا اور بی جے پی کو گوجر اکثریت والی سیٹوں پر نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ لیکن اس بار بی جے پی کو یہ لگ رہا ہے کہ پائلٹ کے وزیر اعلیٰ نہیں بننے سے گوجر ناراض ہو سکتے ہیں اور اس کا فائدہ بی جے پی کو مل سکتا ہے۔

بی جے پی کے ذریعہ اہم ذمہ داری ملتے ہی رمیش بدھوڑی فوراً سرگرم بھی ہو گئے ہیں۔ بدھوڑی بدھ کے روز جئے پور میں ریاستی بی جے پی دفتر میں ریاستی صدر سی پی جوشی اور ٹونک-سوائی مادھو پور کے رکن پارلیمنٹ سکھبیر سنگھ جونپوریا کے علاوہ انتخابی مہم اور ٹونک کی کوآرڈنیشن کمیٹی میں شامل دیگر لیڈروں کے ساتھ میٹنگ کرتے بھی نظر آئے۔

رمیش بدھوڑی نے خود اس میٹنگ کی تصویروں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا اور لکھا ’’راجستھان پردیش بی جے پی دفتر جئے پور میں ضلع ٹونک کی کوآرڈنیشن میٹنگ میں ریاستی صدر سی پی جوشی کے ذریعہ تنظیمی امور اور انتخاب کی تیاریوں کے ساتھ ہفتہ کے پروگراموں سمیت آئندہ کارکنان کے رہائش منصوبوں کی جانکاری لیتے ہوئے۔‘‘

واضح رہے کہ لوک سبھا میں بی ایس پی رکن دانش علی کو لے کر نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے کے معاملے میں اپوزیشن کی تنقید کے ساتھ ہی بدھوڑی کو اپنی ہی پارٹی کے ذریعہ وجہ بتاؤ نوٹس کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اپوزیشن کے کئی اراکین پارلیمنٹ نے جہاں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر بدھوڑی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، تو وہیں تنازعہ بڑھنے پر بی جے پی نے بھی بدھوڑی کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر ان سے 15 دنوں میں جواب مانگا ہے۔

’پورا ملک شرمسار ہے‘، مدھیہ پردیش میں 12 سالہ بچی کے ساتھ عصمت دری پر راہل گاندھی چراغ پا

0
’پورا-ملک-شرمسار-ہے‘،-مدھیہ-پردیش-میں-12-سالہ-بچی-کے-ساتھ-عصمت-دری-پر-راہل-گاندھی-چراغ-پا

مدھیہ پردیش کے اجین میں 12 سالہ نابالغ بچی کے ساتھ عصمت دری کا معاملہ لگاتار طول پکڑتا جا رہا ہے۔ مدھیہ پردیش کے کانگریس لیڈران اس معاملے میں بی جے پی کو لگاتار تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بھی اس تعلق سے اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت کو ریاست میں خواتین و بچیوں پر ہو رہے مظالم کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انھوں نے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے ’’مدھیہ پردیش میں ایک 12 سالہ بچی کے ساتھ ہوا خوفناک جرم، بھارت ماتا کے دل پر زبردست چوٹ ہے۔ خواتین کے خلاف جرائم اور نابالغ بچیوں کی عصمت دری کی تعداد سب سے زیادہ مدھیہ پردیش میں ہے۔ اس کے گنہگار وہ مجرم تو ہیں ہی جنھوں نے یہ گناہ کیے، ساتھ ہی ریاست کی بی جے پی حکومت بھی ہے جو بیٹیوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے اپنے پوسٹ میں مدھیہ پردیش حکومت پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’نہ انصاف ہے، نہ نظامِ قانون اور نہ حق۔ آج مدھیہ پردیش کی بیٹیوں کی حالت سے پورا ملک شرمسار ہے۔ لیکن ریاست کے وزیر اعلیٰ اور ملک کے وزیر اعظم میں بالکل شرم نہیں ہے۔ انتخابی تقریر، کھوکھلے وعدوں اور جھوٹے نعروں کے درمیان بیٹیوں کی چیخیں انھوں نے دبا دی ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے اجین میں ایک عصمت دری متاثرہ نابالغ بچی بے بس حالت میں ملی تھی۔ پولیس کے مطابق بچی خون سے لتھ پتھ حالت میں ڈھائی گھنٹے تک سڑک پر بھٹکتی رہی، لیکن کوئی بھی اس کی مدد کرنے کے لیے آگے نہیں آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بچی اتر پردیش کی رہنے والی ہے۔ اس معاملے میں یوپی پولیس کے ساتھ رابطہ بھی کیا گیا ہے۔ اجین ایس پی سچن شرما نے اس معاملے میں ایس آئی ٹی تشکیل کر جانچ کا حکم صادر کر دیا ہے۔ پولیس نے نامعلوم ملزمین کے خلاف معاملہ درج کر جانچ شروع کر دی ہے۔

دورۂ قلب کا خطرہ دو دہائیوں میں 45 فیصد تک بڑھ گیا، نوجوان اور بچے بھی بن رہے شکار!

0
دورۂ-قلب-کا-خطرہ-دو-دہائیوں-میں-45-فیصد-تک-بڑھ-گیا،-نوجوان-اور-بچے-بھی-بن-رہے-شکار!

گزشتہ دو دہائیوں میں ہندوستان میں دل کے مریضوں کی تعداد تقریباً 40 سے 45 فیصد تک بڑھ گئی ہے، جبکہ اسی مدت کار میں امریکہ میں امراض قلب تقریباً 41 فیصد گھٹا ہے۔ امریکہ میں امراض قلب سے ہونے والی شرح اموات 1990 کے بعد سے 41 فیصد کم ہوا ہے، جبکہ ہندوستان میں یہ مذکورہ مدت کار میں 155.7 سے بڑھ کر 209.01 فی لاکھ آبادی ہو گیا ہے۔ امراض قلب دراصل طرز زندگی پر مبنی مرض ہے، اس لیے اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ مثلاً کولیسٹرول کا بڑھنا، ہائی بلڈ پریشر، بے قابو بلڈ شگر لیول، ذیابیطس، مسالہ دار کھانے کا زیادہ استعمال، سگریٹ نوشی وغیرہ امراض قلب کے لیے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ آج کل نوجوانوں میں فرائیڈ اور فاسٹ فوڈ کے تئیں دلچسپی بہت تیزی سے بڑھی ہے۔ اس میں کئی بار استعمال کیے گئے تیل کی مقدار بھی زیادہ ہوتی ہے۔ نوجوانوں میں تیزی سے بڑھتے کولیسٹرول سطح کی ایک وجہ فرائیڈ فوڈ کا زیادہ استعمال بھی ہے۔ یہ کہنا کچھ غلط نہیں ہوگا کہ نوجوانوں میں جو امراض قلب تیزی سے بڑھ رہے ہیں، ان میں یہ ریڈیمیڈ کھانا بھی ایک اہم وجہ ہے۔

گزشتہ کچھ سالوں میں بچوں میں بھی کولیسٹرول کی سطح تیزی سے بڑھی ہے۔ بچے آج کل گھر میں تیار مقوی کھانا کھانے کی جگہ تلا ہوا یا جنک فوڈ کھانا پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوے بچے جسمانی سرگرمی کی جگہ گھر میں ہی اپنا زیادہ وقت سوشل میڈیا یا آن لائن گیمز کھیلنے میں گزارتے ہیں۔ اس وجہ سے بچوں میں بھی کولیسٹرول کا مسئلہ دیکھا جانے لگا ہے۔ اگر بچے کوئی بھی جسمانی سرگرمی نہیں رکھتے اور روزانہ ہی باہر کھانا کھائیں گے تو قلب سے جڑی بیماریوں کے شکار جلد ہو سکتے ہیں۔

بہرحال، طرز زندگی درست نہیں ہونے سے جسم کئی طرح کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ روزانہ تقریباً 45 منٹ ’برسک واک‘ (چہل قدمی) کرنے سے دل میں بلاکیج کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ اگر آپ برسک واک نہیں کرنا چاہتے ہیں تو اس کی جگہ کسی دیگر کارڈیو ایکسرسائز جیسے سائیکل چلانا، سوئمنگ کرنا یا رسی کودنے جیسی جسمانی سرگرمی بھی انجام دے سکتے ہیں۔ اب تک ہوئی کئی تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ روزانہ تقریباً 30 سے 40 منٹ پیدل چل کر دل سے متعلق بیماریوں کا جوکھم کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اپنے کھانوں میں فائبر اور پروٹین فوڈ زیادہ لینا بھی بہتر ہے۔

تشدد متاثرہ منی پور میں ’افسپا‘ 6 ماہ کے لیے بڑھانے کا اعلان

0
تشدد-متاثرہ-منی-پور-میں-’افسپا‘-6-ماہ-کے-لیے-بڑھانے-کا-اعلان

منی پور میں تشدد کے واقعات لگاتار پیش آ رہے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ریاست کے بیشتر مقامات کو ’بدامن علاقہ‘ قرار دیتے ہوئے افسپا کو چھ ماہ کے لیے مزید بڑھانے کا اعلان ریاست کی بیرین سنگھ حکومت نے کر دیا ہے۔ منی پور حکومت نے ریاست کے پہاڑی علاقوں میں افسپا کی مدت یکم اکتوبر سے 6 ماہ کے لیے بڑھا دیا ہے۔ صرف 19 پولیس تھانہ حلقوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے ایک آفیشیل نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

بدھ کے روز جاری ایک آفیشیل نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ’’منی پور کے گورنر 19 پولیس اسٹیشن حلقوں میں آنے والےع لاقوں کو چھوڑ کر پوری منی پور ریاست کو بدامن علاقہ کی شکل میں اعلان کرنے کی منظوری دیتے ہیں۔ یہ فیصلہ فی الحال یکم اکتوبر 2023 سے 6 مہینے کی مدت کے لیے اثرانداز ہوگا۔‘‘

جن تھانہ حلقوں میں افسپا نافذ نہیں کیا گیا ہے ان میں امپھال، لامپھیل، شہر، سنگجامئی، سیکمئی، لامسانگ، پاسٹل، وانگوئی، پورومپٹ، ہین گانگ، لاملائی، اریبونگ، لیماکھونگ، تھوبل، بشنوپور، نامبول، موئرانگ، کاکچن اور جیربم شامل ہیں۔

راجستھان انتخاب میں بھی مرکزی وزراء اور اراکین پارلیمنٹ کو امیدوار بنائے گی بی جے پی!

0
راجستھان-انتخاب-میں-بھی-مرکزی-وزراء-اور-اراکین-پارلیمنٹ-کو-امیدوار-بنائے-گی-بی-جے-پی!

راجستھان میں رواں سال کے آخر میں ہونے والے اسمبلی انتخاب کو لے کر بی جے پی میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ بی جے پی مدھیہ پردیش کی طرح راجستھان میں بھی کئی مرکزی وزراء اور پارٹی اراکین پارلیمنٹ کو میدان میں اتارنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ آج جئے پور میں راجستھان بی جے پی کے کور گروپ لیڈران کے ساتھ غور و خوض کر اس بارے میں آخری فیصلہ پر پہنچیں گے۔

آخری فیصلہ کرنے سے پہلے نڈا اور شاہ راجستھان میں پارٹی امور کی ذمہ داری سنبھالنے والے لیڈروں سے بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ جئے پور سے صلاح و مشورہ کر لوٹنے کے بعد راجستھان کے امیدواروں کے ناموں پر فیصلہ کرنے کے لیے پارٹی جلد ہی اپنی مرکزی انتخابی کمیٹی کی میٹنگ مدعو کرے گی اور میٹنگ میں لیے گئے حتمی فیصلے کی بنیاد پر پارٹی جلد ہی راجستھان کے لیے اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کر سکتی ہے۔

بی جے پی ذرائع کی مانیں تو بی جے پی مرکزی وزیر ارجن رام میگھوال، مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت، سابق مرکزی وزیر اور موجودہ لوک سبھا رکن راج وردھن سنگھ راٹھوڑ، راجیہ سبھا رکن کروڑی لال مینا سمیت تقریباً نصف درجن اراکین پارلیمنٹ کو امیدوار بنا کر راجستھان اسمبلی انتخاب میں اتارنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور اس سلسلے میں امت شاہ اور جے پی نڈا کی آج جئے پور میں بی جے پی لیڈروں کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کو کافی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ راجستھان کو لے کر بی جے پی اعلیٰ کمان سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے سندھیا کے ذریعہ لگاتار اپنا کردار واضح کرنے کے مطالبہ کے باوجود پہلے ہی یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ پارٹی ریاست میں وزیر اعظم نریندر مودی کے چہرے کے ساتھ اجتماعی قیادت میں انتخاب لڑے گی۔ اس لیے پارٹی نے مدھیہ پردیش کے طرز پر اپنے سرکردہ لیڈروں (مرکزی وزراء اور اراکین پارلیمنٹ) کو اسمبلی انتخاب میں امیدوار بنانے کا من بنایا ہے۔

خالصتان تنازعہ: راجستھان کے 13 اضلاع میں این آئی اے کی چھاپہ ماری

0
خالصتان-تنازعہ:-راجستھان-کے-13-اضلاع-میں-این-آئی-اے-کی-چھاپہ-ماری

این آئی اے کی کئی ٹیمیں بدھ کی صبح سے ہی راجستھان کے 13 اضلاع میں چھاپہ ماری کر رہی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ چھاپہ ماری کی یہ کارروائی مبینہ طور پر خالصتان حامیوں کے ٹھکانوں پر کی گئی ہے۔ این آئی اے کی کئی ٹیمیں راجستھان کے 13 اضلاع ہنومان گڑھ، جھنجھنو، گنگا نگر، جودھپور، بیکانیر، جیسلمیر، سیکر، پالی، جودھپور دیہی، باڑمیر، کوٹہ دیہی، بھیلواڑا اور اجمیر میں چھاپہ ماری کر رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایجنسیوں کو خالصتان حامیوں کے پھر سے سرگرم ہونے کے اِنپٹ مل رہے ہیں۔ ان لوگوں سے کناڈا میں بیٹھے خالصتانی لوگ خفیہ طور پر رابطہ کر رہے ہیں۔ این آئی اے جن مقامات پر چھاپہ ماری کر رہی ہے وہاں کے لوگوں کے بینک اکاؤنٹس میں ہوئے لین دین کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں خالصتان کے نئے نقشہ میں راجستھان کے 10 سے زیادہ اضلاع کو بھی دکھایا گیا ہے۔

این آئی اے نے بدھ کی صبح جودھپور ضلع میں چھاپہ ماری کی اور پھر ٹیم پیپاڑ شہر پہنچی۔ پیپاڑ میں این آئی اے کی ٹیم نے صبح 5 بجے کوسانا ہال باشندہ سرجیت کے گھر پر چھاپہ ماری کی۔ اس وقت سرجیت سو رہا تھا اور پولیس نے اسے جگا کر پوچھ تاچھ کی۔ چار گھنٹے کی پوچھ تاچھ کے بعد دہلی این آئی اے دفتر کی طرف سے انھیں 3 اکتوبر کے لیے سمن جاری کیا گیا۔ جانکاری کے مطابق 28 سال کے سرجیت کے بینک اکاؤنٹ میں بیرون ملک سے آئے پیسوں کی وجہ سے ہی این آئی اے اس کے گھر پہنچی اور جانچ کی۔

اس سے قبل این آئی اے کی ٹیم نے جودھپور کے منڈور باشندہ اروند بشنوئی کو دہلی طلب کیا تھا۔ سوشل میڈیا پر غیر قانونی اسلحوں کے ساتھ اس کی تصویریں پوسٹ ہونے اور گینگسٹر لارنس بشنوئی کے ساتھ اس کے مبینہ تعلقات کے بعد صبح سویرے اس کے گھر پر بھی چھاپہ ماری ہوئی۔ این آئی اے نے اب تک آفیشیل طور پر اس معاملے میں کوئی رد عمل نہیں دیا ہے اور کسی کی گرفتاری کی بھی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

پی ایم مودی کے سامنے چائے اور سینڈوِچ لے کر پہنچا روبوٹ، دیکھیے ویڈیو

0
پی-ایم-مودی-کے-سامنے-چائے-اور-سینڈوِچ-لے-کر-پہنچا-روبوٹ،-دیکھیے-ویڈیو

وزیر اعظم نریندر مودی اس وقت اپنی آبائی ریاست گجرات کے دورے پر ہیں۔ وہ ’وائبرینٹ گجرات گلوبل سمٹ‘ کے 20 سال مکمل ہونے پر احمد آباد گئے ہیں۔ پی ایم مودی بدھ کو سائنس سٹی میں موجود روبوٹک گیلری میں پہنچے جہاں ان کا استقبال کرنے کے لیے ایک دو نہیں بلکہ روبوٹ کی ایک بڑی تعداد کھڑی ہوئی تھی۔ سب سے دلچسپ نظارہ تب دیکھا گیا جب ایک روبوٹ پی ایم مودی کے سامنے چائے اور سینڈوِچ لے کر پہنچا۔

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر روبوٹک گیلری کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ انھوں نے کیپشن میں لکھا ہے ’’روبوٹکس کے ساتھ مستقبل کے بے پناہ امکانات کی تلاش!‘‘ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک روبوٹ پی ایم مودی کے سامنے ناشتے کا ایک پلیٹ لے کر پہنچتا ہے۔

ایکس پلیٹ فارم پر پی ایم مودی نے گجرات سائنس سٹی کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’صبح کا وقت گجرات سائنس سٹی کی خوبصورتی کو دیکھنے میں گزارا۔ شروعات روبوٹکس گیلری سے ہوئی، جہاں روبوٹکس کے بے پناہ امکانات کو شاندار طریقے سے دکھایا گیا ہے۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ کیسے یہ نوجوانوں میں تجسّس پیدا کر رہے ہیں۔ ربوٹکس گیلری کے کیفے میں روبوٹ کے ذریعہ پیش کیے گئے ایک کپ چائے کا بھی لطف لیا۔‘‘

بینک ملازمین 4 دسمبر سے 20 جنوری کے درمیان 13 دن تک کریں گے ہڑتال

0
بینک-ملازمین-4-دسمبر-سے-20-جنوری-کے-درمیان-13-دن-تک-کریں-گے-ہڑتال

چنئی: بینکنگ سیکٹر کی سب سے بڑی ملازم یونین ’آل انڈیا بینک ایمپلائز ایسوسی ایشن‘ نے ملازمین کی بھرتی کا مطالبہ کرتے ہوئے 4 دسمبر سے 20 جنوری 2024 کے درمیان ملک بھر میں سلسلہ وار ہڑتال کی کال دی ہے۔

آل انڈیا بینک ایمپلائیز ایسوسی ایشن (اے آئی بی ای اے) کے جنرل سکریٹری سی ایچ وینکٹاچلم نے کہا، ’’حکومت اور بینکوں کی طرف سے جان بوجھ کر کلیریکل اور ماتحت کیڈروں میں ملازمین کی تعداد کو کم کرنے اور بینکوں میں نگران عملے کی تعداد میں اضافہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ خیال بالکل واضح ہے کہ وہ کم کارکن چاہتے ہیں جو صنعتی تنازعات ایکٹ کے تحت چل رہے ہوں۔‘‘

اسی طرح، ہم نے یہ بھی مشاہدہ کیا ہے کہ ہمارے دو طرفہ معاہدے کے مطابق تنخواہوں کی ادائیگی سے بچنے کے لیے کنٹریکٹ کی بنیاد پر بینکوں میں باقاعدہ اور مستقل ملازمتوں کو آؤٹ سورس کرنے کی مایوس کن کوشش کی جا رہی ہے۔ س کی وجہ سے بینکوں میں کلریکل سٹاف کی بھرتیوں میں سال بہ سال بڑی کمی آئی ہے اور ماتحت عملہ اور صفائی ستھرائی کے عملے کی تقرری پر تقریباً پابندی ہے۔

انہوں نے مزید کہا، ’’اس کے نتیجے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو مناسب معاوضے کے بغیر عارضی اور آرام دہ بنیادوں پر ملازمت دی گئی ہے۔‘‘ اے آئی بی ای اے نے 4 سے 11 دسمبر تک مختلف قومی اور نجی بینکوں میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے اور بینکرز 2 سے 6 جنوری تک مختلف ریاستوں میں ہڑتال پر جائیں گے۔ اس کے بعد 19-20 جنوری 2024 کو دو روزہ آل انڈیا بینکرز کی ہڑتال ہوگی۔

’کندھوں پر بھار، دل میں محبت‘، راہل گاندھی نے شیئر کی قلیوں سے بات چیت کی ویڈیو

0
’کندھوں-پر-بھار،-دل-میں-محبت‘،-راہل-گاندھی-نے-شیئر-کی-قلیوں-سے-بات-چیت-کی-ویڈیو

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بدھ کے روز اپنے یوٹیوب چینل پر آنند وِہار ریلوے اسٹیشن پر گزشتہ دنوں قلی طبقہ سے ہوئی ملاقات کی ویڈیو شیئر کی۔ اس ویڈیو میں وہ قلیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اور ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

دراصل راہل گاندھی نے گزشتہ 21 ستمبر کو آنند وِہار ریلوے اسٹیشن پر قلیوں سے بات چیت کی تھی اور ان کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ 27 ستمبر کو اس ملاقات کی ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بھلے ہی ان کے پاس کوئی تنخواہ نہیں ہے، کوئی پنشن نہیں ہے، کوئی ہیلتھ انشورنس نہیں ہے اور ریلوے سے کوئی سرکاری سہولیات نہیں ہیں، لیکن انھیں امید ہے کہ وقت بدل جائے گا۔

راہل گاندھی نے قلیوں سے ملاقات کے بارے میں کہا کہ ’’کچھ دن پہلے میری رامیشور جی (سبزی فروش) سے ملاقات ہوئی تھی۔ اس کی خبر ملتے ہی کچھ قلی بھائیوں نے مجھ سے ملنے کی گزارش کی اور موقع ملتے ہی میں آنند وِہار ٹرمینل پہنچ گیا۔ میں ان سے ملا اور کافی دیر تک بات چیت کی۔ اس دوران ان کی معمولات زندگی کو قریب سے جانا اور ان کی جدوجہد کو سمجھا۔‘‘

قلیوں سے ملاقات کی ویڈیو یوٹیوب پر ڈالتے ہوئے راہل گاندھی نے اس کا عنوان لگایا ہے ’کندھوں پر بھار، دلوں میں محبت – بھارت جوڑتے قلی بھائی‘۔ اس ویڈیو میں وہ بتاتے نظر آ رہے ہیں کہ قلی ہندوستان کے سب سے محنت کش لوگوں میں شامل ہیں۔ نسل در نسل وہ اپنی زندگی لاکھوں مسافروں کے سفر میں مدد کرنے میں گزارتے ہیں۔ کئی لوگوں کے بازو پر بیج صرف ایک پہچان نہیں ہے، بلکہ یہ انھیں ملی ایک وراثت بھی ہے۔ یہ ان کے لیے ذمہ داری کا حصہ ہے، لیکن ان کے لیے بہت کم ترقی ہوئی ہے۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ آج ہندوستان میں لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان ریلوے اسٹیشنوں پر قلی کی شکل میں کام کر کے اپنی روزی روٹی کمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وجہ؟ ریکارڈ بے روزگاری۔ ملک کا خواندہ شہری دو وقت کی روٹی حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔