جمعرات, مارچ 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 91

مودی حکومت کی بات نہیں مانے گا میزورم، میانمار کے پناہ گزینوں کا بایومیٹرک ڈاٹا جمع کرنے سے انکار

0
مودی-حکومت-کی-بات-نہیں-مانے-گا-میزورم،-میانمار-کے-پناہ-گزینوں-کا-بایومیٹرک-ڈاٹا-جمع-کرنے-سے-انکار

میرزورم حکومت نے میانمار کے پناہ گزینوں سے متعلق آج ایک انتہائی اہم فیصلہ کیا ہے جو مرکز کی مودی حکومت کے خلاف جا رہا ہے۔ دراصل میزورم حکومت نے مودی حکومت کی ایک ہدایت کو نظر انداز کرتے ہوئے ریاست میں میانمار کے پناہ گزینوں کا بایومیٹرک ڈاٹا جمع نہیں کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ رواں سال اپریل میں مرکزی وزارت داخلہ نے میزورم اور منی پور دونوں کی حکومتوں کو اپنی اپنی ریاستوں میں غیر قانونی پناہ گزیوں کے بایومیٹرک اور دیگر تفصیلات جمع کرنے کی ہدایت دی تھی۔ یہ دونوں ریاستیں میانمار کی سرحد سے ملتی ہیں، اسی وجہ سے مرکزی حکومت نے ہدایت جاری کی تھی۔

جون ماہ میں مرکزی حکومت نے ریاستوں کو ہدایت دی تھی کہ مہم ستمبر کے آخر تک مکمل ہو جانا چاہیے۔ اس نے دونوں ریاستوں کو ایک منصوبہ تیار کرنے اور عمل درآمد شروع کرنے کی ہدایت دی۔ میزورم حکومت نے میانمار میں فوج کی کارروائی سے بھاگ رہے پناہ گزینوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں۔ اس نے پہلے بھی سرحد بند کرنے کے مرکزی حکومت کے احکامات کو نظر انداز کیا تھا۔

میزورم کی بات کریں تو اس شمال مشرقی ریاست میں رواں سال اسمبلی انتخاب بھی ہونے ہیں۔ اب جبکہ جورمتھانگا کی قیادت والی میزو نیشنل فرنٹ (ایم این ایف) حکومت نے کہا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کا بایومیٹرک ڈاٹا جمع نہیں کرے گی۔ اس کے علاوہ منی پور حکومت نے بھی وقت بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ منی پور نے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے افسروں کی مدد سے 29 جولائی کو عمل شروع کیا، لیکن وزیر اعلیٰ بیرین سنگھ نے گزشتہ ہفتہ کہا تھا کہ وہ مرکز سے مدت کار ایک سال بڑھانے کے لیے کہیں گے، کیونکہ جاری تشدد کے سبب اس عمل میں تاخیر ہو رہی ہے۔

خاتون ریزرویشن بھی پی ایم مودی کا جملہ، نہ 2024 میں دیں گے نہ ہی 2029 میں: کھڑگے

0
خاتون-ریزرویشن-بھی-پی-ایم-مودی-کا-جملہ،-نہ-2024-میں-دیں-گے-نہ-ہی-2029-میں:-کھڑگے

چھتیس گڑھ کے بلودا بازار میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ریاست میں پھر سے کانگریس حکومت آ رہی ہے۔ انھوں نے اس دوران بی جے پی پر خواتین ریزرویشن کو لے کر حملہ بھی کیا۔ کھڑگے نے کہا کہ پی ایم مودی خواتین کو ریزرویشن نہ آج دیں گے، نہ 2024 میں دیں گے اور نہ ہی 2029 میں دیں گے۔ وہ سالانہ دو کروڑ روزگار، ہر اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے، کسانوں کی دوگنی آمدنی جیسے جملے پہلے ہی دے چکے ہیں۔ جب یہ ساری باتیں جملہ ہو سکتی ہیں تو خاتون ریزرویشن بھی ایک جملہ ہی ہے۔

کانگریس صدر کھڑگے نے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل کی موجودگی میں آج ’راجیو گاندھی کسان نیائے یوجنا‘ کے تحت ضرورت مند کسانوں کے اکاؤنٹ میں پیسے بھی منتقل کیے۔ اس منصوبہ کے تحت 24 لاکھ سے زیادہ کسانوں کو تیسری قسط کی شکل میں تقریباً 1895 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی کھڑگے نے ’مکھیہ منتری نرمان شرمک پنشن سہایتا یوجنا‘ کا افتتاح کیا۔ اس منصوبہ کے تحت تعمیری کام کرنے والے ایسے مزدور جو 60 سال کی عمر مکمل کر چکے ہیں اور 10 سال تک رجسٹرڈ رہے ہیں، انھیں تاحیات 1500 روپے ہر ماہ پنشن کی شکل میں دی جائے گی۔ ساتھ ہی کھڑگے نے ’گئو دھن نیائے یوجنا‘ کے تحت استفادہ کنندہ کے اکاؤنٹ میں بھی پیسنے منتقل کیے۔ ریاست میں اب تک 3 لاکھ سے زیادہ مویشی پروروں کو ’گئو دھن نیائے یوجنا‘ کا فائدہ مل چکا ہے۔

مذکورہ تقریب کے بعد عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کھڑگے نے سب سے پہلے ہندوستان میں سبز انقلاب کے بانی زرعی سائنسداں ایم ایس سوامی ناتھن کے انتقال پر انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔ بعد ازاں انھوں نے تقریب میں موجود عوامی سیلاب سے کہا کہ ’’میں دیکھ رہا ہوں کہ بھوپیش بگھیل جی کی حکومت چھتیس گڑھ میں سبھی پروگرام اچھے سے چلا رہی ہے، جس کا فائدہ آپ سبھی کو مل رہا ہے۔ آپ کو اسے یاد رکھتے ہوئے آگے قدم بڑھانا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ بلودابازار میں کانگریس حکومت نے 2300 کروڑ روپے کے منصوبے نافذ کیے ہیں۔ یہاں 5 سال میں کانگریس نے ریاستی عوام کے لیے جو کیا ہے، اسے دیکھ کر بی جے پی حیران ہوگی۔ بی جے پی کو یہ معلوم ہو گیا ہے کہ عوام کانگریس کے ساتھ ہے۔ اگر ہم لوگ اسی طرح ایک ہو کر کام کرتے رہے تو ہمیں کوئی نہیں ہٹا سکتا۔

خاتون ریزرویشن بل پر بی جے پی کو گھیرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ انتخاب سے پہلے مودی حکومت خاتون ریزرویشن کے نام پر لوگوں کو ورغلا رہی ہے۔ خاتون ریزرویشن نیا نہیں ہے، راجیو گاندھی جی نے خواتین کو پنچایتی راج میں ریزرویشن دیا تھا۔ لیکن اب جو خاتون ریزرویشن بل پاس ہوا ہے، وہ 2034 میں نافذ ہوگا۔ مودی جی خواتین کو ریزرویشن نہ آج دیں گے، نہ 2024 میں دیں گے اور نہ ہی 2029 میں دیں گے۔ وہ سالانہ 2 کروڑ روزگار، ہر اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے، کسانوں کی دوگنی آمدنی جیسے جملے پہلے ہی دے چکے ہیں۔ جب یہ ساری باتیں جملہ ہو سکتی ہیں تو خاتون ریزرویشن بل بھی ایک جملہ ہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کو پہلی خاتون وزیر اعظم سے لے کر پہلی خاتون صدر جمہوریہ دینے کے پیچھے کانگریس کا تعاون رہا ہے۔ پی ایم مودی کہتے ہیں کہ وہ خواتین کا بڑا احترام کرتے ہیں، تو پھر خواتین کے لیے ریزرویشن کو فوراً نافذ کیوں نہیں کیا؟ جیسے ہاتھی کے دانت کھانے کے اور، دکھانے کے اور ہوتے ہیں، بی جے پی کے لوگوں کا بھی وہی حال ہے۔

کھڑگے نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ غریبوں کے لیے کام کیا ہے۔ کانگریس کے عوامی فلاحی کاموں کی طویل فہرست ہے۔ ’نیائے یوجنا‘ کے تحت عام لوگوں کے اکاؤنٹ میں پیسہ پہنچا۔ 19 لاکھ کسانوں کا زرعی قرض معاف ہوا۔ 5 لاکھ سے زیادہ بے زمین زرعی مزدوروں کو ہر سال 7000 روپے کی معاشی مدد دی جا رہی ہے۔ 5 لاکھ سے زیادہ قبائلی بھائی بہنوں کو 101 لاکھ ایکڑ جنگلی زمین پر حق دلایا گیا۔ سوامی آتمانند انگلش میڈیم اسکول، 10 انگلش میڈیم کالج اور 8 میڈیکل کالج بنے۔

آخر میں کانگریس صدر کھڑگے نے کہا کہ کانگریس جب اچھے نظریات کو لے کر آگے بڑھتی ہے تو بی جے پی ہمیں ڈرانے کی کوشش کرتی ہے۔ میں آپ لوگوں سے یہی کہوں گا کہ ڈرو مت۔ آپ بے خوف ہو کر کانگریس کا ساتھ دیں، کانگریس کو مضبوط کریں۔ انھوں نے کہا کہ جلسہ میں امنڈی بھیڑ اور عوامی حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ چھتیس گڑھ میں کانگریس پھر سے آ رہی ہے۔

جلسہ عام سے چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے بھی خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ گنا پیداوار سے جڑے 33642 کسانوں کے اکاؤنٹ میں 57 کروڑ 18 لاکھ روپے کی حوصلہ افزائی رقم بھیجی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ’گئو دھن نیائے یوجنا‘ سے جڑے کسانوں کو 5 کروڑ 16 لاکھ اور ’شرم کلیان یوجنا‘ کے تحت مستفیدین کے اکاؤنٹ میں 55 کروڑ 16 لاکھ بھیجے گئے ہیں۔ یہ حکومت کسانوں اور مزدوروں کی حکومت ہے، جن کے مفاد کے لیے کئی منصوبوں کو نافذ کیا گیا ہے۔

ایشیا کے سب سے بڑے فرنیچر مارکیٹ پہنچے راہل گاندھی، سیکھی بڑھئی کی کاریگری

0
ایشیا-کے-سب-سے-بڑے-فرنیچر-مارکیٹ-پہنچے-راہل-گاندھی،-سیکھی-بڑھئی-کی-کاریگری

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی لگاتار عام لوگوں سے ملاقات کر رہے ہیں اور مختلف طبقات کے درمیان پہنچ کر ان کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی کے تحت انھوں نے گزشتہ کچھ دنوں میں ٹرک ڈرائیور اور قلیوں سے بھی ملاقات کی۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق راہل گاندھی نے ایشیا کے سب سے بڑے فرنیچر مارکیٹ کیرتی نگر کا دورہ کیا ہے جہاں انھوں نے بڑھئی طبقہ سے ملاقات کر ان کا حال جانا۔

راہل گاندھی نے کیرتی نگر پہنچ کر بڑھئی کا کام کرنے والے کاریگروں سے ملاقات کی اور نہ صرف ان کے مسائل کو جانا، بلکہ ان کے ہنر کو سیکھنے کی کوشش بھی کی۔ اس ملاقات کی کچھ تصویریں راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کی ہیں اور ساتھ میں لکھا ہے کہ ’’دہلی کے کیرتی نگر واقع ایشیا کے سب سے بڑے فرنیچر مارکیٹ جا کر آج بڑھئی بھائیوں سے ملاقات کی۔ یہ محنتی ہونے کے ساتھ ہی کمال کے فنکار بھی ہیں۔ مضبوطی اور خوبصورتی تراشنے میں ماہر۔ کافی باتیں ہوئیں، تھوڑا ان کے ہنر کو جانا اور تھوڑا سیکھنے کی کوشش کی۔‘‘

فرنیچر مارکیٹ میں بڑھئی بھائیوں سے ملاقات کرتے ہوئے راہل گاندھی کی تصویریں اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ کانگریس پارٹی کے آفیشیل ایکس ہینڈل سے بھی کچھ تصویریں شیئر کی گئی ہیں اور پوسٹ کے ساتھ لکھا گیا ہے ’’دہلی کے کیرتی نگر واقع ایشیا کے سب سے بڑے فرنیچر مارکیٹ پہنچے جَن نایک راہل گاندھی جی۔ وہاں انھوں نے بڑھئی بھائیوں سے ملاقات کر ان کے مسائل سنے اور ان کے ہنر کو قریب سے جاننے اور سمجھنے کی کوشش کی۔‘‘ اس پوسٹ کے آخر لکھا گیا ہے ’’بھارت جوڑو یاترا جاری ہے۔‘‘

متھرا ٹرین حادثہ: لاپروائی سامنے آنے کے بعد 5 ریلوے ملازمین معطل، تحقیقات کے لیے 4 رکنی ٹیم تشکیل

0
متھرا-ٹرین-حادثہ:-لاپروائی-سامنے-آنے-کے-بعد-5-ریلوے-ملازمین-معطل،-تحقیقات-کے-لیے-4-رکنی-ٹیم-تشکیل

گزشتہ دنوں متھرا میں پیش آئے ٹرین حادثہ کو لے کر ریلوے ملازمین کی بڑی لاپروائی سامنے آ رہی ہے۔ متھرا جنکشن ریلوے اسٹیشن پر منگل کی شب دہلی کی طرف پلیٹ فارم نمبر 2 کی سائیڈنگ پر ٹرین چڑھنے کے حادثہ میں شروعاتی جانچ کے دوران ریلوے ملازمین کی لاپروائی کا پتہ چلا ہے جس کے بعد ریلوے کے 5 ملازمین کو معطل کر دیا گیا ہے۔ اس حادثہ کی جانچ کے لیے چار رکنی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو حادثہ سے جڑے سبھی نکات کی جانچ کرے گی۔

قابل ذکر ہے کہ شکوربستی-متھرا ای ایم یو منگل کی شب 10.49 بجے پلیٹ فارم نمبر 2 کی سائیڈنگ پر پہنچی تھی۔ ٹرین سے سبھی مسافر اتر چکے تھے۔ لوکو پائلٹ گووند ہری اور گارڈ منوج مینا نے ٹرین کو تکنیکی ڈپارٹمنٹ کے حوالے کر دیا تھا۔ تکنیکی اسٹاف ٹرین میں لائٹ، موٹر، تار، بریکنگ پاور وغیرہ کا جائزہ لیتا ہے۔ جائزہ کے دوران ٹرین اچانک چل پڑی۔ چارج لینے کے 51 سیکنڈ بعد ہی ٹرین چلنے لگی۔ پھر یہ ٹرین اسٹاپر کو توڑتے ہوئے پلیٹ فارم پر چڑھ گئی۔ غنیمت رہی کہ او ایچ آئی کے پول سے ٹکرا کر ٹرین رک گئی، ورنہ کوئی بڑا حادثہ ہو سکتا تھا۔ ٹرین سے ٹکر کے سبب پول بھی ٹیڑھا ہو گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ ٹرین کے پلیٹ فارم پر چڑھتے ہی زور کی آواز ہوئی تھی جس سے پلیٹ فارم پر افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ پلیٹ فارم ٹوٹنے سے پتھر کے ٹکڑے بھی دور دور تک پھیل گئے تھے۔ کافی دیر بعد جب ٹرین پول سے ٹکرا کر رکی اور ریلوے ملازمین نے پہنچ کر حالات کو قابو میں کیا تو مسافروں نے راحت کی سانس لی۔ اس حادثہ کے بعد ریلوے افسران میں بھی کھلبلی مچ گئی۔

حادثہ کی خبر ملتے ہی ڈائریکٹر ایس کے شریواستو، تھانہ آر پی ایف انچارج اودھیش کمار گوسوامی، تھانہ جی آر پی انچارج وکاس سکسینہ سمیت دیگر افسران موقع پر پہنچ گئے تھے۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد حادثہ زدہ گاڑی اور او ایچ ای جائزہ گاڑی موقع پر پہنچی۔ ڈی آر ایم تیج پرکاش اگروال بھی دیر شب وہاں پہنچے اور پوری جانکاری حاصل کی۔

بتایا جاتا ہے کہ ٹرین تھروٹل (ایکسلیٹر) دبنے سے گاڑی آگے بڑھ گئی تھی۔ اس حادثہ میں لوکو پائلٹ گووند ہری شرما، ہیلپر الیکٹریکل سچن، ٹیکنیشین کلجیت، برجیش، ہربھان کو معطل کیا گیا ہے۔ حادثہ کی جانچ کے لیے جو چار رکنی ٹیم تشکیل دی گئی ہے اس میں سینئر ڈویزنل الیکٹریکل انجینئر (ٹرانسپورٹیشن) یوگیش کمار، سینئر ڈویزنل الیکٹریکل انجینئر (جنرل) وویک گپتا، سینئر ڈویزنل پروٹیکشن افسر رگھوناتھ سنگھ، سینئر ڈویزنل الیکٹریکل انجینئر (ٹریکشن تقسیم) پروین کمار کو شامل کیا گیا ہے۔

رمیش بدھوڑی بدزبانی معاملے کی جانچ خصوصی استحقاق کمیٹی کے حوالے!

0
رمیش-بدھوڑی-بدزبانی-معاملے-کی-جانچ-خصوصی-استحقاق-کمیٹی-کے-حوالے!

نئی پارلیمنٹ میں بی جے پی لیڈر رمیش بدھوڑی کے ذریعہ نازیبا الفاظ کا استعمال کیے جانے کے معاملے میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے جانچ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی اور بی ایس پی رکن پارلیمنٹ دانش علی معاملہ کو خصوصی استحقاق کمیٹی کے پاس بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ جانکاری 28 ستمبر کو افسران کے ذریعہ دی گئی اور بتایا گیا کہ دونوں اراکین پارلیمنٹ کے خلاف ملی شکایت کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔

دراصل کئی اراکین پارلیمنٹ کے ذریعہ لوک سبھا اسپیکر کو خط لکھا گیا تھا اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے جواب میں بی جے پی اراکین پارلیمنٹ نشی کانت دوبے، روی کشن اور ہرناتھ سنگھ یادو نے بھی لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھا اور دانش علی کے رویے کی جانچ کر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ان شکایتوں کو دیکھتے ہوئے رمیش بدھوڑی اور دانش علی کے درمیان ہوئی زبانی جنگ کا معاملہ اسپیکر اوم برلا نے پارلیمنٹ کی خصوصی استحقاق کمیٹی کو بھیج دیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں جب پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس چل رہا تھا تو لوک سبھا میں چندریان-3 کی کامیابی کو لے کر بحث ہوئی۔ اس دوران رمیش بدھوڑی نے دانش علی کے خلاف کئی نسلی تبصرے کیے تھے جس پر اپوزیشن پارٹیوں نے سخت اعتراض ظاہر کیا۔ اپوزیشن پارٹیاں ہی نہیں، بی جے پی کے کچھ لیڈرانبھی رمیش بدھوڑی کے بیان سے حیران ہیں۔ بی جے پی نے بدھوڑی کو وجہ بتاؤ نوٹس بھی بھیجا ہے، لیکن دوسری طرف پارٹی نے انھیں راجستھان انتخاب کے پیش نظر اہم ذمہ داری بھی سونپ دی ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں اسے بی جے پی کی دوہری پالیسی ٹھہرا رہی ہیں اور بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

پھر مڈ ڈے میل بنا زہر، جھارکھنڈ میں 125 بچے بیمار، تھالی میں ملی مردہ چھپکلی

0
پھر-مڈ-ڈے-میل-بنا-زہر،-جھارکھنڈ-میں-125-بچے-بیمار،-تھالی-میں-ملی-مردہ-چھپکلی

ایک بار پھر مڈ ڈے میل بچوں کے لیے زہر ثابت ہوا جب جھارکھنڈ کے پاکوڑ ضلع واقع پاکوڑیا میں زہریلا کھانا کھانے سے 125 سے زائد بچے بیمار ہو گئے۔ بیمار بچوں کو علاج کے لیے پاکوڑیا کمیونٹی ہیلتھ سنٹر اور مغربی بنگال کے رامپور ہاٹ میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ پاکوڑیا کے سیدو-کانھو مرمو میموریل انگلش اسکول میں پیش آیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسکول کے ہاسٹل میں بچوں کو رات کا کھانا دیا گیا تھا۔ ایک بچے کو دی گئی سبزی میں مرلی ہوئی چھپکلی نظر آئی۔ اس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے کھانا کھا رہے دوسرے بچے الٹی کرنے لگے۔ دھیرے دھیرے بچوں کی طبیعت بگڑنے لگی اور اس کے بعد اسکول مینجمنٹ نے معاملے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے بیماری بچوں میں سے 42 بچوں کو علاج کے لیے پرائمری ہیلتھ سنٹر پاکوڑیا میں داخل کرایا، جبکہ 86 بچوں کو بنگال کے رامپور ہاٹ کے سرکاری اسپتال میں علاج کے لیے داخل کرایا گیا۔

اس واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد ضلع کے سول سرجن ڈاکٹر منٹو کمار ٹیکریوال اور ہیڈکوارٹر ڈی ایس پی بیجناتھ پرساد بھی اسپتال پہنچے۔ اس معاملے پر ضلع پروٹیکشن افسر ایس کے جھا نے بتایا کہ علاج کرا رہے سبھی بچے خطرے سے باہر ہیں۔ بیشتر بچوں کو الٹی کی شکایت تھی جس کے بعد انھیں ضروری دوائیں دی گئی ہیں۔ کئی بچوں نے کھانا نہیں کھایا تھا اور وہ بھی دوسرے بچوں کو الٹی کرتا دیکھ کر الٹی کرنے لگے تھے۔

مڈ ڈے میل میں مری ہوئی چھپکلی کی خبر سامنے آنے کے بعد پوری میڈیکل ٹیم تعینات کی گئی تھی تاکہ حالات سے نمٹا جا سکے۔ اسکول مینجمنٹ کو کھانا پکانے میں احتیاط برتنے اور اسے بچوں کے سامنے پیش کرنے سے پہلے جانچ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

پارلیمنٹ میں میری ’وربل لنچنگ‘ کی گئی، راہل نے میرے قریب آ کر کوئی جرم نہیں کیا: دانش علی

0

نئی دہلی: پارلیمنٹ ہاؤس میں انتہائی قابل اعتراض اور توہین آمیز الفاظ کا شکار بننے والے امروہہ کے رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رمیش ودھوڑی کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہونے سے افسردہ ہیں۔ دانش علی کا کہنا ہے کہ ایوان میں ان کی ’وربل لنچننگ‘ وئی ہے۔ انہیں سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے ہوئی ہے کہ بی جے پی کے زیادہ تر ارکان اسمبلی انن کا مذاق اڑا رہے تھے۔ رکن پارلیمنٹ دانش علی نے کہا کہ وہ اس دن سے سکون سے نہیں سو سکے۔

انہوں نے کہا ’’گزشتہ ایک ہفتے سے اہم شخصیات مجھ سے ملاقات کے لیے تشریف لا رہی ہیں اور میرا غم غلط کرنے کی بھی کوش رہے ہیں۔ وہ اس کے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں لیکن وہ الفاظ میرے دل و دماغ میں اب بھی گونج رہے ہیں۔ یہ زہریلے الفاظ نہ صرف میرے خلاف بلکہ میری قوم کے بھی خلاف استعمال کیے گئے تھے۔‘‘

دانش علی نے کہا کہ جب راہل گاندھی ان سے ملنے آئے تو ان کی آنکھیں اشکبار ہو گئی تھیں لیکن انہوں نے ظاہر نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے کہا ’’میں نے کبھی خود کو اتنا بے بس محسوس نہیں کیا تھا۔ اللہ نے مجھے بہت عزت دی ہے۔ کرناٹک میں جے ڈی ایس کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے مجھے وزیر اعلیٰ کو پارٹی سے معطل کرنے کا موقع بھی ملا تھا۔ طلبہ سیاست سے لے کر آج تک مجھے میری بیباک طبیعت اور نظریے کی بنیاد پر پسند کیا جاتا رہا ہے۔ جب بھی بی جے پی والے مجھے ایوان میں گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، میں انہیں آئینہ دکھاتا رہا ہوں اسی لیے وہ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔‘‘

دانش علی نے مزید کہا ’’وہ دانش کی آواز کو بند کر دینا چاہتے ہیں اس لیے پارلیمنٹ میں میری وربل لنچنگ کی گئی۔ آپ اس کا موازنہ ملک بھر میں مسلمانوں کی لنچنگ سے کر سکتے ہیں۔ وہاں ملزمان کو ہار پہنائے جاتے ہیں اور عزت دی جاتی ہے اور یہاں پارلیمنٹ میں میری توہین پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ بی جے پی کے ایک بھی رکن پارلیمنٹ نے مجھ سے مل کر افسوس کا اظہار نہیں کیا۔ مجھے تکلیف ہے کہ ایوان میں اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی کی گئی لیکن حکمران جماعت کے اس رکن اسمبلی پر خاموشی اختیار کر لی گئی۔‘‘

کنور دانش علی کا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے ہے، ان کے دادا کنور محمود علی مدھیہ پردیش کے گورنر رہ چکے ہیں۔ دانش نے 2019 میں بی ایس پی کے ٹکٹ پر امروہہ سے اتحاد کے امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا اور 60 ہزار سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ انہیں بی ایس پی کے 10 ارکان پارلیمنٹ کا لیڈر بھی منتخب کیا گیا تھا لیکن بعد میں انہیں ہٹا دیا گیا۔ دانش علی ایوان میں کافی فعال رکن پارلیمنٹ سمجھے جاتے ہیں۔ وہ بہت سے معاملات پر اپنا موقف واضح کرتے ہیں۔

دانش علی نے کہا کہ رمیش ودھوڑی کے تضحیک آمیز الفاظ کے بعد وہ حیران و ششدر رہ گیے تھے۔ اس طرح کی زبان کو کوئی سڑک چھاپ بھی استعمال کرننے سے کتراتا ہے۔ وہ جمہوریت کے مندر میں وہ سب کچھ کہہ رہے ہیں جو کوئی نہیں کہہ سکتا۔ وہ میری اور میری برادری کی نہیں بلکہ پارلیمنٹ اور ملک کی توہین کر رہے تھے۔ اس واقعے نے پوری دنیا میں ہماری بدنامی کی ہے۔ کچھ لوگوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے اس پر اپنا ردعمل دینا چاہیے تھا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ میں نے رد عمل ظاہر نہ کر کے صحیح کیا کیونکہ اس کے بعد بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے جس طرح کا ردعمل آیا، وہ کافی منصوبہ بند تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہےہے کہ وہ میرے ردعمل کا ہی انتظار کر رہے تھے لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی رمیش ودھوڑی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ اس سے بھی بہت کچھ ظاہر ہوتا ہے۔ دانش علی نے کہا ’’راہل گاندھی کے مجھ سے ملنے آنے پر بھی بی جے پی والوں کو اعتراض ہے۔ انہوں نے میرے پاس آ کر کوئی گناہ نہیں کیا۔ میں اس کا شکر گزار ہوں۔‘‘

بی جے پی کی خاتون لیڈر نے بدزبان رمیش بدھوڑی کو پارٹی سے نکالنے کا کیا مطالبہ

0
بی-جے-پی-کی-خاتون-لیڈر-نے-بدزبان-رمیش-بدھوڑی-کو-پارٹی-سے-نکالنے-کا-کیا-مطالبہ

لوک سبھا میں اپنی بدزبانی کی وجہ سے سرخیوں میں چل رہے بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی اب اپنی پارٹی کے اندر ہی تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔ بی جے پی کی ایک خاتون لیڈر نے بدھوڑی کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ رمیش بدھوڑی کے ذریعہ لوک سبھا میں بی ایس پی رکن دانش علی پر دیے بیان سے مایوس ہو کر زینت خاتون نے بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کو ایک خط لکھا ہے جس میں بدھوڑی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

نوئیڈا کی باشندہ اور بی جے پی اقلیتی محاذ سے تعلق رکھنے والی ریاستی مجلس عاملہ کی رکن ڈاکٹر زینت انصاری نے اپنے خط میں بی جے پی صدر سے رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کے خلاف سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے کارروائی کی گزارش کی ہے۔ اس خط میں انھوں نے لکھا ہے کہ وہ پارٹی کی کارکن ہیں اور پارٹی کے ساتھ پورے بھروسہ کے ساتھ کھڑی ہیں۔ لیکن بیچ بیچ میں ایسی باتیں بھی سامنے آتی رہتی ہیں جو ہم مسلمانوں کے خلاف ہو جاتی ہیں۔ زینت انصاری خط میں لکھتی ہیں کہ ’’گزشتہ دنوں نئی پارلیمنٹ کے اندر ہمارے رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی نے بی ایس پی رکن پارلیمنٹ دانش علی کے خلاف نازیبا اور غیر اخلاقی زبان کا استعمال کیا تھا۔ وہ بے حد قابل مذمت اور نازیبا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کے دماغ میں مسلمانوں کے خلاف کتنی نفرت ہے۔‘‘

زینت انصاری نے کہا کہ جہاں ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی پسماندہ اور دیگر مسلمانوں کو آگے بڑھانے کا کام کر رہے ہیں، وہیں اس طرح کی بیان بازی بہت ہی نفرت انگیز ہے۔ انھوں نے پارٹی سے رمیش بدھوڑی کو نکالنے کی گزارش کی اور کہا کہ دہلی کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے آپسی بھائی چارہ کو ختم کرنے کا کام کیا ہے۔

مرکز پارلیمنٹ کے علاوہ کوئی دوسرا الیکشن کرانے کے موڈ نہیں: عمر عبداللہ

0
مرکز-پارلیمنٹ-کے-علاوہ-کوئی-دوسرا-الیکشن-کرانے-کے-موڈ-نہیں:-عمر-عبداللہ

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت جموں وکشمیر میں الیکشن کرانے کے حق میں اس لئے نہیں ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں لوگ ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف کشمیر کے لوگ بلکہ جموں کے لوگ بھی بی جے پی کو ووٹ نہیں دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ مرکز جموں وکشمیر میں پارلیمنٹ کے علاوہ کوئی دوسرا الیکشن کرانے کے موڈ نہیں ہے۔

موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو یہاں نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ‘ہم پہلے دن سے کہتے آئے ہیں کہ یہ لوگ (مرکز) الیکشن کرانے کے موڈ میں نہیں ہیں کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ لوگ ان کے ساتھ نہیں ہیں’۔ان کا کہنا تھا: ‘نہ صرف کشمیر بلکہ جموں کے لوگ بھی بی جے پی کو ووٹ نہیں دیں گے’۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے علاوہ شایدہ یہ لوگ کوئی دوسرا الیکشن کرانے کے موڈ میں نہیں ہیں۔انہوں نے کہا: ‘لوگ بی جے پی کو ووٹ کے ذریعے سزا دیں گے’۔جموں میں اپوزیشن کی میٹنگ منعقد ہونے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس میٹنگ میں جموں و کشمیر کے حالات کا جائزہ لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ میٹنگ جان بوجھ کر جموں میں رکھی گئی ہے ورنہ جموں والوں کو نظر انداز کرنے کی شکایت رہتی ہے۔پولیس سربراہ کے جموں وکشمر میں حالات ٹھیک ہونے کے بیان کے بارے میں انہوں نے کہا: ‘ہم سب چاہتے ہیں کہ جموں وکشمیر ٹیرر فری ہونا چاہئے ہم بھی اس کے لئے اپنا رول ادا کریں گے لیکن بیان بازی سے کچھ نہیں ہوگا’۔

ان کا کہنا تھا کہ کوکرناگ واقعے سے پتہ چلا کہ حالات کیسے ہیں کافی عرصے کے بعد ہمارے سینئر افسروں کو مارا گیا جو کوئی معمولی بات نہیں ہے’۔انہوں نے کہا: ‘جموں و کشمیر کو ٹیرر فری کرنے کے بعد افسپا کو ہٹائیں’۔

عمر عبداللہ نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کے بعد سب سے زیادہ قربانی جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس ن دی ہے۔انہوں نے کہا: ‘ملی ٹنٹوں کے ہاتھوں ہمارے ہزاروں کی تعداد میں ہمارے ورکر مارے گئے’۔انڈیا اور کینڈا کے درمیان تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے موصوف نائب صدر نے کہا: ‘یہ افسوس کی بات ہے دونوں ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات تھے اور اب رشتوں میں تنائو اچھی بات نہیں ہے’۔

انہوں نے کہا: ‘اگر کینڈا کہتا ہے کہ ہم نے وہاں کوئی واقعہ کروایا تو ان کو اس کا ثبوت پیش کرنا چاہئے’۔جموں و کشمیر میں الیکشن کرانے کی ضرورت کے بارے میں ان کا کہنا تھا: ‘صرف ایل جی صاحب کو ضرورت نہیں ہے باقی جموں وکشمیر کے لوگ وہ چاہتے ہیں کہ یہاں الیکشن ہونے چاہئے’۔

مغربی بنگال میں ڈینگو کے 38 ہزار معاملے، دہلی میں بھی حالات دگرگوں، الرٹ جاری

0
مغربی-بنگال-میں-ڈینگو-کے-38-ہزار-معاملے،-دہلی-میں-بھی-حالات-دگرگوں،-الرٹ-جاری

ہندوستان کی کچھ ریاستوں میں ڈینگو کے معاملے تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔ مغربی بنگال کی حالت سب سے زیادہ خراب ہے جہاں 20 ستمبر تک 38 ہزار سے زیادہ لوگوں میں ڈینگو کی تصدیق ہو چکی ہے۔ بیشتر لوگوں میں پلیٹ لیٹس کم ہونے اور اس کی وجہ سے ہونے والی پیچیدگیاں رپورٹ کی جا رہی ہیں۔ راجدھانی دہلی-این سی آر میں بھی ڈینگو کے معاملے تیزی سے بڑھے ہیں۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت کے ذریعہ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور لوگوں سے محتاط رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مغربی بنگال اور دہلی-این سی آر کے علاوہ اتراکھنڈ اور بہار میں بھی ڈینگو کے معاملے لگاتار بڑھ رہے ہیں۔ دہلی-این سی آر کے اسپتالوں سے مل رہی جانکاریوں کے مطابق یہاں او پی ڈی میں روزانہ آ رہے تقریباً 60 فیصد لوگوں میں ڈینگو کی تشخیص ہو رہی ہے اور ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ بیشتر لوگ عام علاج کے ساتھ ٹھیک ہو رہے ہیں۔ سنگین معاملوں کے پیدا ہونے کا جوکھم صرف انہی لوگوں میں دیکھا جا رہا ہے جو پہلے سے کوموربیڈیٹ کے شکار رہے ہیں یا جن کی قوت مدافعت کمزور ہے۔

مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر منسکھ منڈاویا نے ملک بھر میں ڈینگو کے معاملوں میں حالیہ اضافہ کے مدنظر اعلیٰ سطحی میٹنگ کی۔ اس میں سبھی لوگوں کو ڈینگو سے متعلق احتیاط برتنے اور اس کے دفاع کے طریقے اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ملک میں ڈینگو کے معاملوں کی بڑھتی تعداد سے پیدا چیلنجز اور پیچیدگیوں کو لے کر سبھی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں سے مرض کے روک تھام کو لے کر احتیاط برتنے کو کہا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ دہلی میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں ڈینگو کے معاملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 5 اگست تک ڈینگو کے معاملوں کی تعداد 348 تھی، لیکن 22 ستمبر تک یہ تعداد بڑھ کر 3013 ہو گئی۔ شہر میں ڈینگو سے ایک موت بھی درج کی گئی ہے۔ طویل وقفہ کے بعد ایم سی ڈی نے گزشتہ منگل کو ڈینگو کے معاملوں کی تفصیل ظاہر کی۔ ایوان کے لیڈر مکیش گویل کے مختصر نوٹس کا جواب دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 22 ستمبر تک ڈینگو کے مجموعی طور پر 3013 معاملے سامنے آئے ہیں۔

بہرحال، ڈینگو کے ساتھ ساتھ کئی ریاستوں میں ملیریا کے معاملے بھی درج کیے گئے ہیں۔ ڈاکٹرس کی ٹیم نے کہا کہ مچھر سے پیدا ہونے والے امراض ڈینگو اور ملیریا کے معاملے قومی سطح پر سنگین فکر کا موضوع رہے ہیں۔ ان امراض کے سبب حالت سنگین ہو سکتی ہے، جس سے موت کے جوکھم کے بڑھنے کا بھی خطرہ رہا ہے۔ ’امر اجالا‘ سے بات چیت میں ممبئی واقع آئی سی یو کے ماہر ڈاکٹر سمیر نرنجن کہتے ہیں کہ ڈینگو-ملیریا دونوں کے سبب ہر سال لاکھوں لوگوں کی موت ہو جاتی ہے جس پر دھیان دینا اور مچھروں کے کاٹنے سے بچاؤ کے لیے ترکیب کرتے رہنا بہت ضروری ہے۔ ڈینگو کے ان دنوں خطرناک اسٹرین ڈین-2 کے معاملے دیکھے جا رہے ہیں جو سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔