جمعرات, مارچ 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 89

’نماز پڑھنی ہے تو مسجد جاؤ‘، گواہاٹی ایئرپورٹ پر نماز کے لیے جگہ کے مطالبہ سے ہائی کورٹ ناراض

0
’نماز-پڑھنی-ہے-تو-مسجد-جاؤ‘،-گواہاٹی-ایئرپورٹ-پر-نماز-کے-لیے-جگہ-کے-مطالبہ-سے-ہائی-کورٹ-ناراض

گواہاٹی ایئرپورٹ پر نماز پڑھنے کے لیے الگ سے ایک کمرہ بنانے کا مطالبہ کرنے والی عرضی کو ہائی کورٹ نے خارج کر دیا ہے۔ ساتھ ہی گواہاٹی ہائی کورٹ نے اس مفاد عامہ عرضی پر سخت اعتراض بھی ظاہر کیا ہے۔ چیف جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس سشمتا کھاند نے عرضی دہندہ سے کہا کہ اگر نماز کے لیے الگ سے کمرہ نہیں بنے گا تو سماج کا کیا نقصان ہوگا؟ اتنا ہی نہیں، ججوں نے اس عرضی پر یہ بھی سوال اٹھا دیا کہ آخر اس میں مفاد عامہ جیسا کیا ہے؟

چیف جسٹس نے اس عرضی پر سماعت کے دوران کہا کہ ’’اس معاملے میں بنیادی حق کا کیا معاملہ ہے؟ ہمارا ملک سیکولر ہے۔ پھر کسی ایک طبقہ کے لیے علیحدہ عبادت خانہ کا انتظام کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر اس طرح کا کوئی کمرہ نہ بنایا جائے تو عوام کا کیا نقصان ہے؟ ہم ایک ہی طبقہ کے درمیان نہیں رہتے ہیں۔ اگر کسی کی خواہش عبادت کرنے کی ہے تو وہ مقرر جگہ (مسجد) پر جا سکتا ہے۔‘‘

عرضی دہندہ نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ کچھ فلائٹس کی ٹائمنگ ایسی ہے جب مسلمانوں کے لیے نماز کا وقت ہوتا ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’’ایسا ہے تو پھر آپ کو اپنی سہولت کے مطابق فلائٹ لینی چاہیے۔ آپ نماز پڑھنے کے بعد کی ہی فلائٹ لیں۔ آپ کو ایئرپورٹ پر سہولت بھی ہے۔ ہم آپ کی بات سے مطمئن نہیں ہیں۔ آخری کسی ایک ہی طبقہ کے لیے اس طرح کی سہولت کا مطالبہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟‘‘ اس پر عرضی دہندہ نے کہا کہ دہلی، ترووننت پورم اور اگرتلہ ہوائی اڈوں پر نماز کے لیے الگ سے جگہ ہے، لیکن گواہاٹی میں ایسا نہیں ہے۔ جواب میں بنچ نے کہا کہ اگر ایسا نہیں ہے تو کیا یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے؟ کیا یہ کسی شہری کا حق ہے کہ وہ نماز کے لیے الگ سے کمرے کا مطالبہ کرے۔ اگر ایسے مطالبات ایئرپورٹ پر کیے جائیں گے تو پھر کل دیگر عوامی مقامات پر بھی اس طرح کے مطالبے کیے جا سکتے ہیں۔ آپ کے پاس نماز اور پوجا وغیرہ کے لیے جگہ ہے۔ آپ وہاں جائیں اور اپنی عبادت کریں۔

ایشیا کی سب سے بڑی سبزی منڈی آزاد پور میں لگی زبردست آگ، خوفناک ویڈیو آئی سامنے

0
ایشیا-کی-سب-سے-بڑی-سبزی-منڈی-آزاد-پور-میں-لگی-زبردست-آگ،-خوفناک-ویڈیو-آئی-سامنے

دہلی واقع ایشیا کی سب سے بڑی سبزی منڈی آزاد پور میں آج شام زبردست آگ لگنے سے افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ آزاد پور سبزی منڈی میں آگ لگنے کی خبر ملتے ہی جائے حادثہ پر فائر بریگیڈ کی 10 گاڑیاں پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پانے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آزادپور منڈی میں آگ لگنے کی خبر فائر بریگیڈ ڈپارٹمنٹ کو 5.20 بجے ملی تھی۔ فوراً فائر بریگیڈ کی گاڑیاں جائے وقوع پر پہنچیں اور آگ پر قابو پا لیا گیا۔ افسران کا کہنا ہے کہ شام 6.30 بجے تک آگ پر قابو پا لیا گیا اور اچھی بات یہ ہے کہ اس حادثہ میں کسی کی جان نہیں گئی ہے۔ حالانکہ بڑے پیمانے پر مالی نقصان کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

آزادپور منڈی میں آگ لگنے کی جو ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آ رہی ہیں، وہ بہت خوفناک ہیں۔ ویڈیو میں آگ کی لپٹیں دور سے ہی دکھائی دے رہی ہیں اور آسمان پر ہر طرف دھواں ہی دھواں نظر آ رہا ہے۔ افسروں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ آگ ایک ٹماٹر فروش کی دکان کے پیچھے لگے کوڑے کے ڈھیر میں لگی تھی جو بعد میں تیزی کے ساتھ آس پاس پھیل گئی۔ ویڈیو میں یہ دیکھا بھی جا سکتا ہے کہ آگ ایک شیڈ میں لگی ہے جہاں پر افرا تفری کا ماحول ہے۔

’ناری شکتی وَندن ادھینیم‘ کو ملی صدر دروپدی مرمو کی منظوری، خاتون ریزرویشن بل بن گیا قانون

0
’ناری-شکتی-وَندن-ادھینیم‘-کو-ملی-صدر-دروپدی-مرمو-کی-منظوری،-خاتون-ریزرویشن-بل-بن-گیا-قانون

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے آج ’ناری شکتی وَندن ادھینیم‘ یعنی خاتون ریزرویشن بل کو منظوری دے دی۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے یہ بل پاس ہونے کے بعد منظوری کے لیے صدر جمہوریہ کے پاس بھیج دیا تھا، جس پر انھوں نے مہر ثبت کر دیا۔ یہ بل 20 ستمبر کو لوک سبھا سے اور 21 ستمبر کو راجیہ سبھا سے تقریباً سبھی پارٹیوں کی حمایت کے ساتھ پاس ہوا تھا۔

موصولہ اطلاع کے مطابق صدر جمہوریہ مرمو نے 28 ستمبر کو اس بل کو منظوری دی جس کے نافذ ہونے پر لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن حاصل ہو سکے گا۔ بل کے پارلیمنٹ سے پاس ہونے پر صدر جمہوریہ نے کہا تھا کہ یہ جنسی انصاف کے لیے ہمارے وقت کی سب سے انقلابی تبدیلی ہوگی۔

واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ 18 سے 22 ستمبر تک کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا تھا۔ اس دوران دو تاریخی کام ہوئے۔ پہلے تو پرانے پارلیمنٹ ہاؤس سے سبھی کام کو پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں منتقل کیا گیا، اور پھر دونوں ایوانوں سے خاتون ریزرویشن بل پاس ہوا۔ حالانکہ اب قانون بن جانے کے بعد بھی یہ فوری طور پر نافذ نہیں ہوگا، کیونکہ حکومت نے جو قانون کا مسودہ تیار کیا ہے اس میں لکھا ہے کہ مردم شماری اور حد بندی کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی یہ نافذ ہوگا۔ اس معاملے میں اپوزیشن پارٹیوں نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا اور کہا تھا کہ اس طرح کی شرط کو ہٹایا جائے۔ لیکن حکومت نے اپوزیشن کے اس مطالبہ کو مسترد کر دیا۔

ابھیشیک بنرجی کا 3 اکتوبر کو ای ڈی کے سامنے پیش نہیں ہونے کا اعلان، احتجاجی پروگرام میں کریں گے شرکت

0
ابھیشیک-بنرجی-کا-3-اکتوبر-کو-ای-ڈی-کے-سامنے-پیش-نہیں-ہونے-کا-اعلان،-احتجاجی-پروگرام-میں-کریں-گے-شرکت

کولکاتا: ترنمول کانگریس کے جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی نے آج واضح کر دیا ہے کہ وہ 3 اکتوبر کو ای ڈی کے سمن پر پیش نہیں ہوں گے۔ دراصل 2 اور 3 اکتوبر کو ترنمول کانگریس کا دہلی میں احتجاجی پروگرام ہے اور ابھیشیک بنرجی اس کی قیادت کرنے والے ہیں۔ ای ڈی کے ذریعہ بنرجی کو 3 اکتوبر کو سمن جاری کئے جانے پر ترنمول کانگریس نے انتقامی کارروائی اور ابھیشیک بنرجی کو خوف زدہ کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔

اس سے قبل بھی ابھیشیک بنرجی کو ’انڈیا‘ اتحاد کے کوآرڈی نیشن کمیٹی کی میٹنگ کے دن ہی ای ڈی نے طلب کیا تھا۔ اس موقع پر ابھیشیک بنرجی نے میٹنگ میں شرکت کرنے کے بجائے ای ڈی کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ وہ واضح کرچکے ہیں کہ وہ جانچ میں ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہیں ۔اس لئے جب بھی ای ڈی نے انہیں طلب کیا ہے وہ پیش ہوئے ہیں ۔اس مرتبہ انہوں نے ای ڈی کے سامنے پیش ہونے کے بجائے پارٹی پروگرام میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسی مہینے 13ستمبر کو ای ڈی نے ابھیشیک بنرجی سے طویل پوچھ تاچھ کر چکی ہے۔

ای ڈی کے سمن نوٹس موصول ہونے کے بعد، ابھیشیک بنرجی نے اپنے ایکس ہینڈل پر لکھا تھا کہ ترنمول کانگریس کا 3 اکتوبر کو دہلی میںمرکزی حکومت کے ذریعہ ریاستی حکومت کے فنڈ کو روکے جانے کے خلاف احتجاجی پروگرام ہے۔اس لئے وہ 2اور3اکتوبر کو اس میںمصروف ہیں ۔ممتا بنرجی بھی اس میں شرکت کرنے والی ہیں ۔مگر ای ڈی نے یہ جانتے ہوئے انہیں 3اکتوبر کو ہی طلب کیا ہے۔

ابھیشیک بنرجی آج بھی ایکس ہینڈل پر اس کے بارے میں ٹوئیٹ کیاکہ مغربی بنگال کو جس طرح سے محروم کیا جا رہا ہے،بنگال کے حصے کی رقم جاری نہیں کی جارہی تھی ۔اس کی وجہ سے بنگال کے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ہم نے بنگال کے عوام کی لڑائی کو دہلی تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس لئے اس راہ میں آنے والی کسی بھی روکاوٹ کو ہم خاطر میں نہیں لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں ہے جو مجھے مغربی بنگال کے عوام کے حقوق کی لڑائی میں شامل ہونے سے روک سکتی ہے۔ میں 2 اور 3 اکتوبر کو دہلی میں احتجاجی پروگرام میں شامل ہوں گا۔ اگر تم روک سکتے ہو تو اسے روک دو! اس سے پہلے ابھیشیک کو نوجوا یاترا کے دوران بھی طلب کیا گیا تھا۔ انہوں نے یاترا کے دوران ہی جانچ ایجنسی کا سامنا کیا تھا۔

ڈی ڈی اے نے دہلی کے مشہور روشن آرا کلب پر کیا قبضہ

0
ڈی-ڈی-اے-نے-دہلی-کے-مشہور-روشن-آرا-کلب-پر-کیا-قبضہ

نئی دہلی: دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) نے جمعہ کو شمالی دہلی کے شکتی نگر میں واقع روشن آرا کلب کو سیل کر کے اس پر قبضے کا اعلان کر دیا۔ روشن آرا کلب 1922 میں قائم کیا گیا تھااور یہ دہلی کے قدیم ترین کلبوں میں سے ایک ہے۔

آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کی صبح دہلی کے روشن آرا روڈ کے ارد گرد غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی اور کلب کی طرف جانے والی تمام سڑکوں پر بھاری حفاظتی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔ پولیس نے صبح سے ہی کسی کو کلب میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی کیونکہ ڈی ڈی اے کے اہلکار قبضہ کرنے کو تیار تھے۔

ڈی ڈی اے نے اپنے حکم میں کہا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر (او ایس بی)، ڈی ڈی اے نے اس سال 19 جنوری کو اپنے خط کے ذریعے 51062 مربع گز اور 61688 مربع گز – کل 112750 مربع گز کی لیز کے بارے میں بتایا ہے۔ پی پی ایکٹ، 1971 کے تحت لیز پر یہ معاملہ روشن آرا کلب لمیٹڈ کے خلاف احاطے سے بے دخلی کی کارروائی شروع کرنے کے لیے اسٹیٹ آفیسر کو بھیجا گیا۔ روشن آرا کلب لمیٹڈ کو سالانہ کرایہ کی بنیاد پر 30 سال کے لیے الاٹمنٹ کی گئی تھی (30+30 سال، جس میں 90 سال تک توسیع کا اختیار ہے)۔ ایک لیز اگست 2012 میں اور دوسری دسمبر 2018 میں ختم ہو گئی تھی۔

اسٹیٹ آفیسر نے دونوں فریقین کی نمائندگیوں کو سننے کے بعد 12 اپریل کو عوامی احاطے (غیر مجاز قابضین کی بے دخلی) ایکٹ 1971 کے سیکشن 511 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ایک حکم جاری کیا۔ حکم جاری ہونے کی تاریخ سے 15 دنوں کے اندر مذکورہ جگہ خالی کرنے کو کہا گیا تھا۔

روشن آرا کلب لمیٹڈ کے نمائندوں نے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے سامنے اپیل دائر کی تھی جہاں اپیل مسترد کر دی گئی۔ اس کے بعد ڈی ڈی اے نے جمعہ کو علی الصبح بے دخلی کی کارروائی شروع کی۔ خیال رہے کہ گوتم گمبھیر، شیکھر دھون اور وراٹ کوہلی جیسے کئی کھلاڑی اس کلب میں کھیل چکے ہیں۔

مدھیہ پردیش میں انسانیت پھر شرمسار، نوجوان کے گلے میں پٹہ ڈال کر بھونکنے کو کیا مجبور!

0
مدھیہ-پردیش-میں-انسانیت-پھر-شرمسار،-نوجوان-کے-گلے-میں-پٹہ-ڈال-کر-بھونکنے-کو-کیا-مجبور!

مدھیہ پردیش میں کمزور طبقہ کے ساتھ بدسلوکی اور مار پیٹ کے معاملے لگاتار بڑھتے جا رہے ہیں۔ دلتوں کو پیشاب پلائے جانے اور زد و کوب کیے جانے کے کئی معاملے گزشتہ کچھ ماہ میں سامنے آ چکے ہیں۔ تازہ معاملہ مدھیہ پردیش کے دَتیا ضلع کا ہے جہاں بدمعاشوں نے ایک نوجوان کو نیم عریاں کر کے بیلٹ اور لات-گھونسوں سے خوب پٹائی کی۔ اس کے بعد بے بس نوجوان کے گلے میں کتے کی طرح پٹہ ڈال کر اسے بھونکنے کے لیے مجبور کیا۔

اس واقعہ کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جو مدھیہ پردیش میں شرمسار ہوتی انسانیت کا ثبوت پیش کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ویڈیو میں دکھائی دے رہا ہے کہ دو بدمعاش مل کر ایک نوجوان کو نیم عریاں کیے ہوئے ہیں ور بیلٹ سے اس کی بے رحمی کے ساتھ پٹائی کر رہے ہیں۔ اس واقعہ کے بارے میں پولیس ذرائع کے حوالے سے میڈیا میں کچھ جانکاریاں سامنے آ رہی ہیں۔ اس میں بتایا جا رہا ہے کہ متاثرہ نوجوان ایک قتل کے کیس میں گواہ ہے اور پٹائی کرنے والے اشخاص اس نوجوان پر بیان بدلنے کے لیے دباؤ بنا رہے تھے۔ جب نوجوان نے بیان بدلنے سے انکار کر دیا تو بدمعاش اسے پکڑ کر اتر پردیش کے سنسان علاقے مین لے گئے اور بری طرح بیلٹ سے پیٹا۔

ویڈیو میں نوجوان کی جس جگہ پر پٹائی کی گئی ہے، وہ دَتیا اور جھانسی کے درمیان موجود جنگل کی بتائی جا رہی ہے۔ نوجوان کو پکڑ کر بدمعاش جنگل میں لے گئے تھے اور وہاں اس سے کپڑے اتروا دیے، پھر بیلٹ اور لات-گھونسوں سے پٹائی شروع کر دی۔ نوجوان رحم کی بھیک مانگتا رہا لیکن بدمعاشوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ ویڈیو میں آ رہی آواز کو غور سے سننے پر پتہ چلتا ہے کہ بدمعاش نوجوان کا گلا کاٹنے کی بات بھی کر رہے ہیں۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس حرکت میں آ گئی اور ملزمین کے بارے میں پتہ کرنے کے لیے پوچھ تاچھ شروع کی۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس کی بدمعاشوں تک رسائی ہو گئی ہے اور اس نے پولیس کو بتایا کہ واقعہ ایک سال پرانا ہے۔ دَتیا کوتوالی کے ٹی آئی وجئے سنگھ تومر نے کہا کہ متاثرہ نوجوان نے اس معاملے کی شکایت نہیں کی تھی۔ اب رپورٹ درج کرانے کے لیے اس کے اہل خانہ سے رابطہ کیا گیا ہے۔ متاثرہ شخص کہیں باہر ہے اور اس کے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

اسکون نے مینکا گاندھی کو بھیجا 100 کروڑ کا ہتک عزتی کا نوٹس

0
اسکون-نے-مینکا-گاندھی-کو-بھیجا-100-کروڑ-کا-ہتک-عزتی-کا-نوٹس

کولکاتا: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رکن پارلیمنٹ مینکا گاندھی نے حال ہی میں انٹرنیشنل سوسائٹی فار کرشنا کانشائسنس (اسکون) پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ گائیوں کو قصائی کے ہاتھ فروخت کرتی ہے۔ اسکون نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مینکا گاندھی کو 100 کروڑ روپے کا ہتک عزتی کا نوٹس بھیج دیا ہے۔

اسکون کولکاتا کے نائب صدر رادھا رمن داس نے کہا کہ ’’اسکون کے عقیدت مند اور حامی ان توہین آمیز، قابل مذمت اور بدنیتی پر مبنی الزامات سے بہت افسردہ ہیں۔ ہم اسکون کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈے کے خلاف انصاف دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

خیال رہے کہ وائرل ویڈیو میں مینکا گاندھی کہتی ہوئی نظر آ رہی ہیں کہ اسکون کی طرف سے گائیوں کو قصائیوں کو فروخت کیا جاتا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں انہوں نے مزید الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسکون ملک کی سب سے بڑی فراڈ تنظیم ہے۔

ویڈیو میں مینکا گاندھی نے کہا تھا، ’’اسکون گئو شالائیں قائم کرتی ہے اور اس کے لیے حکومت سے زمین کا بڑا ٹکڑا حاصل کرتی ہے اور لامحدود منافع بھی کماتی ہے۔ میں نے حال ہی میں ان کی اننت پور (آندھرا پردیش) گئو شالا کا دورہ کیا تھا، تو وہاں ایک بھی گائے اچھی حالت میں نہیں تھی۔ گئو شالا میں بچھڑا نہیں تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان سب کو فروخت کر دیا گیا۔‘‘

مینکا نے مزید کہا کہ اسکون اپنی تمام گائیں قصائیوں کو فروخت کر رہی ہے۔ اس قسم کا کام ان سے بڑھ کر کوئی نہیں کرتا۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ‘ہرے رام ہرے کرشنا’ کے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر گھومتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کی ساری زندگی دودھ پر منحصر ہے۔

اسکون نے مینکا گاندھی کے الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا تھا۔ تنظیم کی جانب سے کہا گیا کہ وہ سابق مرکزی وزیر کے بیان سے حیران ہیں۔ اسکون کے قومی ترجمان یودھیشٹر گووندا داس نے ایک بیان میں کہا کہ اسکون نے دنیا کے کئی حصوں میں گائیوں کے تحفظ میں پیش قدمی کی ہے۔ خاص طور پر ایسے علاقوں میں، جہاں گائے کا گوشت لوگوں کی اہم خوراک ہے۔

انہوں نے کہا تھا، ’’اسکون کی گئو شالاؤں میں جو گائیں موجود ہیں ان میں سے بیشتر وہ ہیں جنہیں لاوارث یا زخمی ہونے کے بعد یہاں لایا گیا ہے۔ جبکہ کچھ ایسی ہیں جنہیں ذبح ہونے سے بچایا گیا اور پھر ہمارے پاس لایا گیا۔‘‘

فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے دہلی حکومت کا ’ونٹر ایکشن پلان‘ تیار

0
فضائی-آلودگی-پر-قابو-پانے-کے-لیے-دہلی-حکومت-کا-’ونٹر-ایکشن-پلان‘-تیار

نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے قومی راجدھانی میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ونٹر یعنی موسم سرما کا ایکشن پلان تیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اقدام سے شہر میں آلودگی کی شدت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ حکومت نے آلودگی کے ہاٹ اسپاٹ کی نشاندہی کی ہے۔ اس سب کے لیے الگ منصوبہ بنایا گیا ہے۔ آلودگی کی ایک بڑی وجہ پرالی کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے پوسا بائیوٹک کمپوزر کا گزشتہ 3 سالوں سے مفت اسپرے کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال 4400 ایکڑ پر اسپرے کیا گیا تھا، جبکہ اس سال 5000 ایکڑ سے زائد رقبے پر مفت اسپرے کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ کیجریوال نے کہا کہ دہلی میں 13 ہاٹ اسپاٹ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے نوڈل افسران کو تعینات کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حکام کو ہدایات پر سختی سے عمل کرنے اور 15 نکاتی پلان پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ سی ایم کیجریوال نے کہا کہ دھول کے سبب پیدا ہونے والی آلودگی کو کم کے لیے تعمیراتی مقامات پر نظر رکھنے کے لیے 591 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ 82 روڈ سویپنگ مشینیں لگائی جا رہی ہیں اور پانی کے چھڑکاؤ کے لیے 530 مشینیں لگائی جا رہی ہیں۔

آلودگی کم کرنے کے لیے سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ کیا جائے گا، اس کے لیے 258 موبائل اینٹی سموکنگ ڈیوائسز لگائی جائیں گی۔ گاڑیوں سے ہونے والی آلودگی کو کم کرنے کے لیے پی یو سی سرٹیفکیٹ کی جانچ کی جائے گی۔ 10 سال پرانی ڈیزل گاڑیوں اور 15 سال پرانی پٹرول گاڑیوں پر پابندی کو سختی سے نافذ کرنے کے لیے 385 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ کیجریوال نے کہا کہ بھیڑ پر کام کرنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تعینات کی جائیں گی۔ لوگوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کے لیے پیشگی اطلاع دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کھلے میں کچرا جلانے پر پابندی ہوگی۔ اس پر سختی سے عمل درآمد کے لیے 611 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

صنعتی آلودگی پر نظر رکھنے کے لیے 66 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ صنعتی یونٹ غیر مجاز اور آلودگی پھیلانے والے ایندھن کا استعمال نہ کریں۔ آلودگی کی صورتحال پر 24 گھنٹے نگرانی کے لیے گرین وار روم بنایا جائے گا۔ یہ وار روم 3 اکتوبر سے شروع کیا جائے گا، اس کے لیے 9 ارکان پر مشتمل ماہرین کی ٹیم تعینات کی جا رہی ہے۔

دہلی میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے شجرکاری مہم کے تحت 75 فیصد درخت لگائے گئے ہیں۔ اس کا دوسرا مرحلہ 15 اکتوبر سے شروع ہوگا۔ ای ویسٹ سے ہونے والی آلودگی کو روکنے کے لیے ہولمبی کلاں میں 20 ایکڑ کے رقبے میں ای ویسٹ پارک تیار کیا جائے گا۔ عوامی آگاہی مہم چلائی جائے گی اور گریڈ رسپانس ایکشن پلان پر عمل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ اور این سی آر ریاستوں کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔

منریگا کو ’چکرویوہ‘ میں پھنسا کر منصوبہ بند طریقے سے ’رضاکارنہ موت‘ دینے کی سازش: کانگریس

0
منریگا-کو-’چکرویوہ‘-میں-پھنسا-کر-منصوبہ-بند-طریقے-سے-’رضاکارنہ-موت‘-دینے-کی-سازش:-کانگریس

نئی دہلی: کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے جمعہ کو منریگا کی سماجی آڈٹ یونٹ کو فنڈ دینے میں تاخیر پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسکیم کو چکرویوہ میں پھنسا کر منصوبہ بند طریقے سے رضاکارانہ موت کے سوا اور کچھ نہیں ہے!

پارٹی کے جنرل سکریٹری انچارج شعبہ مواصلات جے رام رمیش نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’گرام سبھا کے ذریعہ سماجی آڈٹ احتساب کو نافذ کرنے، شفافیت میں اضافہ کرنے اور بنیادی طور پر بدعنوانی کرنے کے لیے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ کا ایک لازمی حصہ ہے۔ یہ ہر ریاست میں ایک آزاد سماجی آڈٹ ہے جس کے لیے مرکز کی طرف سے براہ راست فنڈز فراہم کیا جاتا ہے، تاکہ اس کی خودمختاری کو برقرار رکھا جا سکے۔ حال ہی میں اس فنڈنگ ​​میں بہت تاخیر ہوئی ہے۔

جے رام رمیش نے کہا ’’نتیجہ کے طور پر سماجی آڈٹ وقت پر مکمل نہیں ہو پاتے اور سماجی آڈٹ کے عمل سے سمجھوتہ کیا جاتا ہے، جسے پھر مودی حکومت ریاستوں کو فنڈز سے انکار کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال کرتی ہے، جس کے نتیجے میں تنخواہ کی ادائیگی وغیرہ متاثر ہوتی ہے۔‘‘

رمیش نے ایک خبر کو منسلک کرتے ہوئے کہا کہا، ’’یہ منریگا کو چکرویوہ میں پھنسا کر ایک منصوبہ بند طریقہ سے رضاکارنہ موت دینے کے مترادف ہے۔‘‘ خیال رہے کہ کانگریس مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) اسکیم پر حکومت کی تنقید کرتی رہی ہے۔

ہماچل پردیش: آفت کے بعد پٹری پر لوٹ رہی زندگی، 80 دن بعد منالی پہنچی وولوو بس

0
ہماچل-پردیش:-آفت-کے-بعد-پٹری-پر-لوٹ-رہی-زندگی،-80-دن-بعد-منالی-پہنچی-وولوو-بس

شملہ: ہماچل پردیش میں آف کے بعد زندگہ آہستہ آہستہ پٹری پر لوٹ رہی ہے۔ دریں اثنا، تقریباً 80 دنوں کے بعد وولوو بس سیاحتی شہر منالی پہنچی۔ منالی کے ایم ایل اے بھونیشور گوڑ نے خود بس کو ہری جھنڈی دکھائی اور پھر اس میں پاٹلی کوہل تک سفر بھی کیا۔ قابل ذکر ہے کہ جولائی اگست کے مہینے میں بھاری بارش نے کلو منالی میں تباہی مچا دی تھی۔ اس تباہی کی وجہ سے نہ صرف عام زندگی درہم برہم ہوگئی بلکہ سیاحت کا کاروبار بھی مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔

اس موقع پر ایم ایل اے بھونیشور گوڑ نے کہا کہ ہماچل پردیش سیاحوں کی نقل و حرکت کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے۔ سسٹم کو دوبارہ ٹریک پر لانے کا کام جنگی بنیادوں پر جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وولوو بس شروع ہونے سے یہاں آنے والے سیاحوں کو بہتر سہولیات میسر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں کلو منالی میں موسم بہت خوشگوار ہے اور سیاح ان خوبصورت وادیوں میں موسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے بغیر کسی خوف کے تشریف لا سکتے ہیں۔

منالی سے کانگریس ایم ایل اے بھونیشور گوڑ نے کہا کہ جلد ہی اس سڑک پر بلیک ٹاپنگ کا کام بھی مکمل ہو جائے گا۔ دسہرہ کے تہوار سے قبل اس کام کو مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ایسے میں یہاں آنے والے سیاحوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ہماچل پردیش حکومت کو جولائی اگست کے مہینوں میں ہونے والی بارشوں سے بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ معمولات زندگی درہم برہم ہونے کے ساتھ سیاحت کا کاروبار بھی متاثر ہوا۔

سیاحت کے کاروبار پر منفی اثرات کے باعث تاجروں کی روزی روٹی کا بحران پیدا ہوگیا۔ اب نہ صرف موسم سیاحت کے تاجروں کا ساتھ دے رہا ہے بلکہ حکومت بھی جنگی بنیادوں پر انتظامات کرنے میں مصروف ہے۔ ہماچل پردیش کا دورہ کرنا اب مکمل طور پر محفوظ ہے۔ ایسے میں منالی کے ایم ایل اے نے لوگوں کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ یہاں آنے والے سیاحوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے کلو، منالی، شملہ، چمبا اور دھرم شالہ میں خصوصی پیکج بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔