جمعرات, مارچ 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 88

مودی پارلیمنٹ کے معاملے پر خاموشی توڑیں: دانش

0
مودی-پارلیمنٹ-کے-معاملے-پر-خاموشی-توڑیں:-دانش

بہوجن سماج پارٹی کے لیڈر کنور دانش علی نے لوک سبھا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی سے خاموشی توڑنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ احتساب جلد سے جلد طے ہونا چاہیے۔ امروہہ سے لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ دانش علی نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ لوک سبھا میں پیش آنے والے اس واقعہ کو آٹھ دن گزر جانے کے بعد بھی ابھی تک کسی کارروائی کے آثارنظر نہیں آرہے ہیں یہ حیران اور پریشان کن ہے۔ اس کے برعکس انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ اس ملک میں یہ کیا ہو رہا ہے؟

انہوں نے کہا کہ قائد ایوان وزیر اعظم نریندر مودی کو انہوں نے خط لکھا ہے۔ وزیراعظم ایوان کے لیڈر ہیں اس لیے ان کی ذمہ داری زیادہ ہے۔ باپو کے ملک میں لنچنگ کے جو واقعات ہو رہے ہیں اس سے ہم دنیا کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟

بی ایس پی ایم پی نے مسٹر مودی کو لکھے خط میں کہا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی سطح پر اس طرح کے رویے کی مذمت کرنا پارلیمانی کارروائی کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھنے کے لیے آپ کے عزم کو ظاہر کرے گا۔

مسٹررمیش بدھوڑی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ مسٹرمودی نے ابھی تک اپنی خاموشی نہیں توڑی ہے۔ اگرمسٹربدھوڑی کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی تو ملک کی جمہوریت اور آنے والی نسلوں کے لئے اس سے بڑی توہین کی بات نہیں ہو سکتی۔

مسٹر دانش علی نے کہا کہ پورا معاملہ ایوان میں ہوا ہے تو قانونی مقدمہ نہیں بنتا ہے، اس لیے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو مسٹر رمیش بدھوڑی کو معطل کرکے قانونی کارروائی کی سفارش کرنی چاہیے۔ اس لیے مسٹر مودی کو خط لکھا اور کہا کہ کم از کم آپ کی طرف سے ایک بیان تو آنا چاہیے کہ ہم جمہوریت کے مندر میں بیٹھتے ہیں اس میں جو واقعہ رونما ہوا اس کی مذمت کریں۔

وزیراعظم کا بیان نہ آنا جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کے لیے افسوس کا مقام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح نفرت کی فضا کو فروغ دیا جا رہا ہے وہ تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں دہلی میں معمولی سے بات پر ایک نوجوان کو ستون سے باندھ کر مارا گیا۔ یہ کام دارالحکومت کے اندر ہو رہا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کو فرضی ووٹنگ کے بارے میں سوچنے کی ضرورت: دگ وجے

0
اپوزیشن-جماعتوں-کو-فرضی-ووٹنگ-کے-بارے-میں-سوچنے-کی-ضرورت:-دگ-وجے

کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن دگ وجے سنگھ نے فرضی ووٹنگ کو بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور جو بھی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے لڑنا چاہتی ہے اسے اس چیلنج کو سنجیدگی سے لینا چاہئے  بی جے پی کو شکست دینے کے لیے جمعہ کو چھوٹی پارٹیوں اور سماجی تنظیموں کے قومی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا کہ آج ملک کے آئین اور جمہوریت کو بچانے کی ضرورت ہے،۔ انہوں نے کہا کہ  مذہب کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کرنے والی طاقتوں اور آر ایس ایس جن سنگھ کے نظریے کوشکست دینے کی ضرورت ہے لیکن فرضی ووٹنگ کا جو میکنزم انہوں نے تیار کیا ہے اسے توڑنے کی ضرورت ہے اور اگر اس میکنزم کو مل کر ختم کیا جاتا ہے تو 2024 کے انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینا آسان ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس کے انڈیا اتحاد کی لڑائی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ نہیں ہے بلکہ یہ اتحاد اس سوچ اور نظریے کے خلاف کھڑا ہے جو سماج اور ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اس سوچ کی انتہا ہے اور جو بھی سیاسی جماعت بی جے پی کے خلاف لڑنا چاہتی ہے اسے ووٹر لسٹ میں جعلی ووٹروں کو شامل کرنے کے بی جے پی کے طریقہ کار سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اور اس طریقہ کار کو ختم کرنے کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

جب کانگریس لیڈر سے پوچھا گیا کہ کیا وہ بیلٹ پیپر کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے حق میں ہیں، مسٹر سنگھ نے کہا کہ وہ بیلٹ پیپر کے ووٹنگ کرانے کے نہیں بلکہ وہ ووٹنگ میں وی وی پیڈ کو لازمی قرار دینے کے حق میں ہیں تاکہ جعلی ووٹنگ کو روکا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جعلی ووٹنگ بہت خطرناک ہے اور اسے روکنے کے لیے ہی کام کرنا ہے تاکہ صحیح ووٹنگ ہو اور بی جے پی کو شکست دی جاسکے۔

چھوٹی بی جے پی مخالف جماعتوں کے اتحاد کے کنوینر یوگیندر یادو نے کہا کہ یہ اجلاس دن بھر چلا جس میں ملک بھر سے 500 سے زیادہ مندوبین نے شرکت کی۔ کنونشن میں 20 ریاستوں سے 18 چھوٹی پارٹیوں کے نمائندوں نے شرکت کی جن کا مقصد صرف بی جے پی کو شکست دینا ہے اورانہیں کسی طرح سے الیکشن نہیں لڑنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانفرنس میں 50 سے زائد چھوٹی بڑی تنظیموں کے عہدیدار آئے۔

لوک سبھا انتخابات: کوئی پوسٹر یا بینر نہیں لگایا جائے گا، نہ رشوت لوں گا اور نہ ہی دوں گا، نتن گڈکری کا بیان

0
لوک-سبھا-انتخابات:-کوئی-پوسٹر-یا-بینر-نہیں-لگایا-جائے-گا،-نہ-رشوت-لوں-گا-اور-نہ-ہی-دوں-گا،-نتن-گڈکری-کا-بیان

ممبئی: مہاراشٹر کے واشیم کا دورہ کرنے والے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ لوک سبھا انتخابات کے دوران اپنی مہم کے دوران کوئی پوسٹر یا بینر نہیں لگائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نہ تو رشوت دیں گے اور نہ ہی رشوت لیں گے، یہاں تک کہ کسی ووٹر کو چائے تک نہیں پلائیں گے۔

گڈکری نے کہا کہ ’’اس لوک سبھا الیکشن کے لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئی بینر یا پوسٹر نہیں لگایا جائے گا۔ نہ ہی لوگوں کو چائے پلائی جائے گی۔ جو ووٹ دینا چاہتے ہیں وہ ووٹ دیں گے اور جو نہیں دینا چاہتے وہ نہیں دیں گے۔ میں نہ رشوت لوں گا اور نہ دوں گا!‘‘

سڑک کے معیار کے بارے میں گڈکری نے کہا کہ ’’میں نے ٹھیکیدار سے کہا ہے کہ اگر سڑک میں دراڑیں پڑ جائیں یا سڑک خراب ہو جائے تو میں ٹھیکیدار کو بلڈوزر کے سامنے کھڑا کر دوں گا۔ آج تک میں نے 50 لاکھ کروڑ روپے کا کام کیا ہے اور کبھی کسی ٹھیکیدار کی طرفداری نہیں کی۔ نہ کسی کو کرپشن کرنے دوں گا اور نہ خود کروں گا۔‘‘

قبل ازیں انہوں نے 24 جولائی 2023 کو انتخابات کے حوالے سے ایک قصہ سنایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ووٹر بہت ہوشیار ہے۔ وہ کھاتا سب کا ہے لیکن ووٹ صرف اسی کو دیتا ہے جسے اس نے ووٹ دینا ہے۔ گڈکری نے بتایا تھا کہ ایک بار انہوں نے لوگوں میں ایک ایک کلو مٹن تقسیم کیا تھا لیکن وہ پھر بھی الیکشن ہار گئے تھے کیونکہ ان کے بقول آج کا ووٹر بہت ہوشیات ہے!

انہوں نے کہا تھا کہ انتخابات کے دوران انتخابی مہم کے لیے بڑے بڑے ہورڈنگز لگائے جاتے ہیں لیکن اس سے الیکشن نہیں جیت سکتے۔ انتخابات کے دوران کسی قسم کی لالچ دکھانے کی بجائے عوام کے دلوں میں اعتماد اور محبت پیدا کریں۔ مرکزی وزیر نے مشورہ دیا تھا کہ انتخابی ہورڈنگ لگا کر یا مٹن پارٹیوں کا اہتمام کرنے سے کوئی الیکشن نہیں جیتا جا سکتا۔ عوام کا اعتماد جیتیں اور ان کے دل میں محبت پیدا کریں۔

پنجاب: مختلف مطالبات پر کسانوں کی ریل روکو تحریک کا تیسرا دن

0
پنجاب:-مختلف-مطالبات-پر-کسانوں-کی-ریل-روکو-تحریک-کا-تیسرا-دن

امرتسر: پنجاب کے امرتسر میں کسان مزدور سنگھرش سمیتی کی ریل روکو تحریک آج تیسرے دن بھی جاری رہی۔ کسانوں کی بڑی تعداد اپنے مختلف مطالبات ریلوے ٹریک پر بیٹھ کر نعرے لگا رہی ہے۔ کسانوں کا مطالبہ ہے کہ مرکزی حکومت کم از کم امدادی قیمت کے قانون کو نافذ کرے۔ اس کے علاوہ ان کا کہنا ہے کہ ان کے مفاد میں بہت سے اقدامات عرصہ دراز سے زیر التوا ہیں، ان پر بھی عملدرآمد کی جانی چاہئے۔

وہیں، کسانوں کی ریل روکو تحریک کی وجہ سے ریل ٹریفک متاثر ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں معلومات دیتے ہوئے دہلی میں ناردرن ریلوے کے جنرل منیجر شوبھن چودھری نے کہا کہ پنجاب میں کسان احتجاج کر رہے ہیں۔ وہ جمعرات سے فیروز پور ڈویژن میں 14 اور امبالہ ڈویژن میں 4 مقامات پر بیٹھے ہیں جس کی وجہ سے ٹرینوں کی آمدورفت میں خلل پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان 3 دنوں کی ہڑتال کی وجہ سے 90 میل ایکسپریس ٹرینیں اور 150 لوکل ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کے لیے اآئین میں ترامیم کرنی ہوں گی: چیئرمین لا کمیشن

0
’ایک-ملک،-ایک-انتخاب‘-کے-لیے-اآئین-میں-ترامیم-کرنی-ہوں-گی:-چیئرمین-لا-کمیشن

نئی دہلی: ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کے حوالے سے ملک بھر کے سیاسی حلقوں اور عوام الناس کے اجلاسوں میں زوردار بحث جاری ہے۔ ان بحثوں کے درمیان لا کمیشن کی چیئرپرسن ریتو راج اوستھی نے اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ملک میں ایک الیکشن کرانے سے پہلے حکومت کو آئین میں کچھ اہم ترامیم کرنا ہوں گی۔

ریتو راج اوستھی کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں اور 22ویں لا کمیشن کے چیئرمین بھی ہیں۔ حکومت نے لا کمیشن کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ حکومت کو ایک ایسے عمل سے آگاہ کرے جس کے ذریعے ملک میں ہونے والے انتخابات کو بیکوقت کرایا جا سکے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، رتوراج اوستھی نے ایک ملک ایک انتخاب کے لیلے ٹائم لائن بتانے سے انکار کر دیا۔

خیال رہے کہ مرکز کی مودی حکومت نے ایک ملک، ایک انتخاب کے امکانات کے لیے سابق صدر رام ناتھ کووند کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی ملک میں انتخابات کے امکانات کے علاوہ اس کے نفاذ پر بھی کام کر رہی ہے۔ اس کمیٹی کے قیام کے بعد سے پورے ملک میں اس کی تبدیلیوں اور سیاست، آئین اور پورے ملک کے وفاقی ڈھانچے پر اثرات کے حوالے سے بحث شروع ہو گئی ہے۔

ایچ ٹی میڈیا سے بات کرتے ہوئے لا کمیشن کے چیئرمین ریتو راج نے کہا ’’ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ملک بھر میں ایک ساتھ انتخابات کب ہوں گے۔ اس کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی اس ٹائم لائن کا فیصلہ کرنا ممکن ہے۔ ہم اس کے قانونی امکانات کو تلاش کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، کیونکہ ایسا کرنا ناممکن نہیں ہے۔‘‘

نئی دہلی کا افغان سفارتخانہ بند، بھارت پر عدم تعاون کا الزام

0
نئی-دہلی-کا-افغان-سفارتخانہ-بند،-بھارت-پر-عدم-تعاون-کا-الزام

نئی دہلی میں واقع افغانستان کا سفارت خانہ بند ہو گیا ہے۔ سفارت خانے نے بھارتی حکومت کو مطلع کیا ہے کہ طالبان حکومت کے پاس وسائل کی کمی کے پیش نظر اسے مجبوراً بند کیا جارہا ہے اور الزام لگایا کہ متعدد درخواستوں کے باوجود نئی دہلی نے اس کی کوئی مدد نہیں کی۔

بھارتی میڈیا میں شائع رپورٹوں کے مطابق اشرف غنی کی سابقہ افغان حکومت کی طرف سے تعینات کیے گئے سفیر فرید ماموند زئی گزشتہ کئی ماہ سے لندن میں ہیں جبکہ سفارت خانے کے دیگر عہدیداروں نے امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی مغربی ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرلی ہے۔

اطلاعات کے مطابق افغانستان کے سفارت خانے کی طرف سے اس ہفتے بھارتی وزارت خارجہ کو ایک غیر دستخط شدہ خط (Note Verbale) بھیجا گیا تھا جس میں اشارہ دیا گیا تھا کہ سفارت خانے کو ستمبر کے اواخر تک بند کردیا جائے گا۔ اس خط میں بالخصوص اس بات کا ذکر کیا گیا تھا کہ متعدد درخواستوں کے باوجود نئی دہلی نے نہ تو کسی طرح کا تعاون کیا اور نہ ہی ان تقریباً 3000 افغان طلباء کو ویزے جاری کرنے میں مدد کی جنہیں سن 2021 میں بھارت کا سفر کرنا تھا لیکن ان کے پاس سفری دستاویزات نہیں تھے۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جون 2022 میں بھارت کے کابل میں اپنا مشن کھولنے کے بعد، سابقہ اسلامیہ جمہوریہ افغانستان سے وفاداری کا عہد کرنے والے افغان سفارت خانے کو”سفارتی احترام اور دوستانہ اہمیت” نہیں دی گئی۔

اس’ نوٹ ورویل’ میں بھارت سے سفارتی تعلقات کے متعلق ویانا کنونشن کے پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے بھارت میں افغانستان کے اثاثوں اور انڈیا افغانستان فنڈ کو محفوظ رکھنے کے لیے کہا گیا ہے اور بقیہ سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو ایگزٹ پرمٹ کے ذریعہ بھارت سے جانے کی سہولت فراہم کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

نئی دہلی کے افغان سفارت خانے نے خط میں بھارتی وزارت خارجہ سے مشن کی عمارت پر افغانستان کا ترنگا پرچم لہرانے کی اجازت دینے کی درخواست کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ یہ پرچم افغانستان کی اس جمہوری حکومت کی نمائندگی کرتا ہے جسے طالبان حکومت نے معزول کردیا تھا اور جسے ابھی تک دنیا کے کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے تاہم اس خط کے متعلق خبروں پر سرکاری طورپر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس خط کی "صداقت” کی جانچ کی جارہی ہے کیونکہ سفیر اور سفارت کار مبینہ طور پر کسی تیسرے ملک کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔

خیال رہے کہ افغان سفارت خانے میں جاری رسہ کشی کے متعلق ایک سوال کے جواب میں جون میں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا، "ہمارے نقطہ نظر سے یہ افغان سفارت خانے کا اندرونی معاملہ ہے اور ہمیں امید ہے کہ وہ اسے اپنے طورپر حل کرلیں گے۔”

افغانستان میں اگست 2021میں اشرف غنی حکومت کے معزول ہوجانے اور ملک پر طالبان کے کنٹرول کے بعد بھارت نے بھی وہاں اپنا سفارت خانہ بند کردیا تھا۔ تاہم اس نے بعد میں انسانی امداد ی سرگرمیوں کو مربوط کرنے کے لیے ایک تکنیکی ٹیم افغانستان میں تعینات کردی تھی۔

پاکستانی زائرین کا وفد کلیر شریف کی زیارت کے لیے بھارت میں

0
پاکستانی-زائرین-کا-وفد-کلیر-شریف-کی-زیارت-کے-لیے-بھارت-میں

رواں ہفتے 107 پاکستانی زائرین کا وفد بھارت کی پہاڑی ریاست اترا کھنڈ کے شہر ہری دوار پہنچا، جہاں مقامی لوگوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ پاکستانی وفد پیران کلیر درگاہ پر 755 ویں سالانہ عرس میں شرکت کے لیے منگل کو بھارت پہنچا تھا۔

پاکستانی وفد روڑکی کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچا، جہاں پولیس اور محکمہ ریلوے کے حکام نے زائرین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے ساتھ ہی، ان کے لیے ریلوے اسٹیشن سے درگاہ تک سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے۔

پاکستانی وفد کے ساتھ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور اعزاز خان بھی ہری دوار گئے اور انہوں نے بھی درگاہ پر حاضری دینے کے ساتھ ہی تقریب میں شرکت کی۔ معروف صوفی بزرگ حضرت خواجہ علاؤالدین علی احمد صابرالمعروف کلیر شریف کا مزار اترا کھنڈ کے ہری دورا میں روڑکی کے پاس واقع ہے، جس کا سالانہ عروس ربیع الاوّل کے مہینے میں منایا جاتا ہے۔ اس بار ان کا 755واں سالانہ عرس ہے جو 25 ستمبر سے 2 اکتوبر 2023ء کے درمیان ہو رہا ہے۔

نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو اردو سے بات کی اور بتایا کہ منگل کے روز کمیشن کے ناظم الامور اعزاز خان بھی ہری دوار گئے تھے اور درگاہ پر حاضری دی تھی۔ ہائی کمیشن میں میڈیا امور کے انچارج جمیل بیتو نے ڈی ڈبلیو اردو کو ایک پریس ریلیز بھیجی، جس میں کہا گیا کہ ”ناظم الامور نے حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے مزار پر روایتی چادر چڑھائی۔ ناظم الامور اور زائرین نے پاکستان کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔”

بیان کے مطابق سجادہ نشین حضرت شاہ علی منظر اعجاز قدوسی صابری نے درگاہ آمد پر ناظم الامور اور پاکستانی زائرین کا استقبال کیا۔ اس مبارک موقع پر، ”دورے میں سہولت فراہم کرنے پر ناظم الامور اعزاز خان نے مزار کے خادمین اور بالخصوص انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔” پاکستان اور بھارت کے درمیان سن 1947 میں ہی مذہبی مقامات کے دوروں اور زائرین سے متعلق ایک معاہدہ طے پایا تھا اور اسی معاہدے کے تحت پاکستانی زائرین کا وفد بھارت آیا ہے۔

مقامی انتظامیہ نے پاکستانی زائرین کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظام کیے ہیں۔ محکمہ ریل کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ارون بھارتی نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ پاکستانی زائرین پانچ روز تک قیام کریں گے اور اس دوران ان کی حفاظت بہت اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا، ”107 پاکستانی زائرین عرس میں حصہ لینے کے لیے پہنچے ہیں اور معاملے کی حساسیت کے مد نظر پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔”

پیران کلیر میں اپنے پانچ روزہ قیام کے دوران زائرین ‘صابر پاک درگاہ’ پر چادر پوشی میں حصہ لیں گے۔ انٹیلیجنس محکمہ اور پولیس انتظامیہ زائرین کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے تقریب کی سخت نگرانی کر رہی ہے۔ پاکستانی وفد کی رہائش اور کھانے پینے کا انتظام صابری گیسٹ ہاؤس میں کیا گیا ہے، جو درگاہ کے قریب ہی واقع ہے۔ حکام کے مطابق پاکستانی وفد کی واپسی یکم اکتوبر کو ہونی ہے اور ان کی بحفاظت روانگی کو یقینی بنانے کے لیے بھی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

زائرین میں سے ایک محمد عرفان نے بھارتی میڈیا سے بات چیت میں بھارت آمد پر پرتپاک استقبال کی تعریف کی اور کہا کہ ”ایسے لگتا ہے کہ جیسے وہ اپنے آبائی شہر لاہور میں ہوں۔” ایک اور زائر اقبال فتح نے بھارت اور پاکستان دونوں کے وزرائے اعظم سے سرحد پار کے دوروں کے لیے ویزا کے عمل کو آسان بنانے کی اپیل کی اور کہا کہ اس سے دونوں ملکوں کے لوگ ”ایک دوسرے کے ہاں آسانی سے آ جا سکیں گے، جو دونوں کے لیے مفید ثابت ہو گا۔”

چشتی سلسلے کے تیرہویں صدی کے صوفی بزرگ علاؤالدین علی احمد صابر کلیری کی درگاہ کو ‘سرکار صابر پاک’ بھی کہا جاتا ہے اور مسلمان اور ہندو دونوں ہی اس کی تعظیم و تکریم کرتے ہیں۔ یہ مزار معروف شہر روڑکی کے ایک مضافاتی گاؤں کلیر میں دریائے گنگا کے کنارے واقع ہے۔ یہ ہندوؤں کے ایک مقدس مقام ہری دوار کے جنوب کی طرف ہے۔ اس جگہ کو ہندو اور مسلم مذاہب کے درمیان اتحاد کی علامت بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ مقامی لوگوں کی اکثریت ہندوؤں کی ہے جب کہ یہاں آنے والے بیشتر زائرین مسلمان ہوتے ہیں۔

یہ درگاہ اپنی صوفیانہ روایات کے لیے بھی مشہور ہے۔ ہر برس بھارت اور بیرون ملک سے لاکھوں عقیدت مند اس کی زیارت کرتے ہیں، خاص طور پر عرس یا سالانہ پروگرام کے دوران تو یہاں زبردست مجمع ہوتا ہے۔ بھارت میں یہ درگاہ سب سے زیادہ قابل احترام مزاروں میں سے ایک ہے۔تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس کی تعمیر دہلی سلطنت کے آخری افغان حکمران ابراہیم لودھی کے حکم پر کی گئی تھی۔

خاتون ریزرویشن بل: کانگریس کی خاتون لیڈران نے 15 شہروں میں کی پریس کانفرنس، رکھے 3 مطالبات

0
خاتون-ریزرویشن-بل:-کانگریس-کی-خاتون-لیڈران-نے-15-شہروں-میں-کی-پریس-کانفرنس،-رکھے-3-مطالبات

خاتون ریزرویشن بل (ناری شکتی وَندن ادھینیم) کو صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی منظوری مل گئی ہے، یعنی اس بل نے اب قانون کی شکل اختیار کر لی ہے۔ حالانکہ یہ قانون فوری طور پر نافذ نہیں ہو رہا ہے، بلکہ اس کے لیے مردم شماری اور نئی حد بندی کا انتظار کرنا ہوگا۔ اس درمیان خاتون ریزرویشن فوری طور پر نافذ کرنے کے لیے کانگریس لگاتار مرکز کی مودی حکومت پر دباؤ بنا رہی ہے۔ اس تعلق سے آج کانگریس کی خاتون لیڈران نے ملک کے 15 شہروں میں پریس کانفرنس کیا۔

دراصل کانگریس کی خاتون لیڈران جلد از جلد لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کا قانون نافذ کرانا چاہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس کی خاتون لیڈران لگاتار پریس کانفرنس کر مودی حکومت کے سامنے کچھ مطالبات رکھ رہی ہیں۔ اس تعلق سے کانگریس کے سینئر لیڈر جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کیے گئے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’آج ملک کے 15 مزید شہروں میں کانگریس کی خاتون لیڈران نے پریس کو خطاب کیا۔ مجموعی طور پر اب تک 35 پریس کانفرنس ہو چکے ہیں۔‘‘ جئے رام رمیش مزید لکھتے ہیں کہ ’’ہر پریس کانفرنس میں ان سبھی (خاتون لیڈران) نے خاص طور سے تین مطالبات سامنے رکھے۔ 1. خاتون ریزرویشن کو 2024 لوک سبھا انتخاب سے ہی نافذ کیا جائے۔ 2. او بی سی طبقہ کی خواتین کو بھی ریزرویشن دیا جائے۔ 3. جلد از جلد ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے۔‘‘

آج کانگریس کی جن 15 خاتون لیڈران نے خاتون ریزرویشن کو لے کر ملک کے الگ الگ شہروں میں پریس کانفرنس کیا، ان کے نام ہیں پرنیتی شندے (بنارس، اتر پردیش)، حزینہ سید (وشاکھاپٹنم، آندھرا پردیش)، ڈاکٹر ناگالکشمی (ترووننت پورم، کیرالہ)، شلپی نیہا ترکی (گیا، بہار)، میتا چکربرتی (کوچی، کیرالہ)، لونیا بلال جین (چنئی، تمل ناڈو)، ڈاکٹر اونیکا مہروترا (شیلانگ، میگھالیہ)، سبھاسنی شرد یادو (اودے پور، راجستھان)، صدف جعفر (جمشید پور، جھارکھنڈ)، انوپما راوت (میرٹھ، اتر پردیش)، گریما مہرا دسونی (امرتسر، پنجاب)، ڈاکٹر پوجا ترپاٹھی (جودھپور، راجستھان)، پرتبھا رگھوونشی (راجکوٹ، گجرات)، سریتا لیتفلانگ (پڈوچیری) اور امرت گل (ہسار، ہریانہ)۔

کانگریس نے اپنے آفیشیل ایکس ہینڈل پر کچھ خاتون لیڈران کی پریس کانفرنس کی ویڈیو شیئر کی ہے۔ ان ویڈیوز کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ ’’مودی حکومت خاتون ریزرویشن کے نام پر ملک کی خواتین کو گمراہ کر رہی ہے۔ مودی حکومت کے ذریعہ لایا گیا یہ خاتون ریزرویشن بل محض ایک انتخابی جملہ ہے، ایک دھوکہ ہے۔‘‘ ایک دیگر پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے ’’خواتین کی خود مختاری کا دکھاوا کرنے والی مودی حکومت نے خاتون ریزرویشن بل کی شکل میں ملک کو ایک اور جملہ دیا ہے۔ اس بل نے خواتین کی خود مختاری سے جڑے مودی حکومت کے سبھی دعووں کو کھوکھلا ثابت کر دیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی کانگریس نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’مودی حکومت خاتون ریزرویشن پر ملک کی خواتین کو گمراہ کر رہی ہے۔ جس بل کو نافذ کر خواتین کو آج ریزرویشن دیا جا سکتا ہے، اسے مردم شماری اور حد بندی کے بہانے ٹالا جا رہا ہے۔‘‘

عام آدمی پارٹی کے 2 درجن سے زائد لیڈران کانگریس میں شامل

0
عام-آدمی-پارٹی-کے-2-درجن-سے-زائد-لیڈران-کانگریس-میں-شامل

نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی کے دو درجن سے زیادہ عام آدمی پارٹی کے لیڈران اور اپنے اپنے علاقوں کے ذمہ داران نے آج دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اروندر سنگھ لولی اور کلدیپ بھاٹی کی موجودگی میں کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

واضح رہے کہ دہلی کانگریس صدر اروندر سنگھ لولی نے دہلی میں پارٹی چھوڑنے والے تمام لیڈروں سے دوبارہ کانگریس پارٹی میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔ اسی ضمن میں آج سینکڑوں لوگوں نے کانگریس میں واپسی کی ہے۔ اس موقع پر اروندر سنگھ لولی نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو پارٹی کا پٹکا اور پھولوں کا ہار پہنا کر استقبال کیا اور کہا کہ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی دونوں نے نہ صرف دہلی کو دھوکہ دیا ہے بلکہ دہلی کی ترقی میں ان کی دلچسپی نہیں ہے۔

لولی نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی اور عآپ کے درمیان روزانہ کی رسہ کشی کی وجہ سے نہ صرف دہلی کی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے بلکہ بڑے پیمانے پر پراجیکٹس بھی رک گئے ہیں۔ بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے لولی نے کہا کہ بی جے پی کا ایجنڈا صرف سماج میں نفرت پھیلانا ہے، وہیں دوسری طرف دہلی حکومت ترقیاتی کام نہ ہونے کا الزام بی جے پی پر ڈال کر اپنی ذمہ داری سے بھاگ رہی ہے، جس کو دہلی کے عوام برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہلی میں کانگریس کارکنوں میں نیا جوش ہے اور کارکنان عام لوگوں تک پہنچ رہے ہیں۔

سینئر لیڈر اور سابق ایم ایل اے مکیش شرما نے اپنی تقریر میں کہا کہ اروندر سنگھ لولی کی قیادت میں دوسری پارٹی کے لوگ کانگریس میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ دہلی میونسپل کارپوریشن انتخابات میں جنہوں نے حصہ لیا تھا انہوں نے بھی کانگریس پارٹی میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی جلد بازی میں کوئی قدم نہیں اٹھا رہی ہے۔ پارٹی دفتر میں ہر روز ایسے لوگوں اور کارکنوں کی آمد ہوتی ہے جو پارٹی میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

اس موقع پر بھیشم شرما، وپن شرما، دیپک وششٹھ، ستپال پہلوان اور سشیل تیواری نے مشترکہ طور پر کہا کہ شمال مشرقی اور مشرقی دہلی میں کانگریس پارٹی کا گراف دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے جو خوش آئند ہے۔ کانگریس کارکنوں کا اتحاد اور ان کی زمینی محنت بی جے پی اور عآپ کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو رہا ہے۔ بابرپور ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری زبیر احمد نے صمیم قلب سے کانگریس میں شامل ہونے والے افراد کا استقبال کیا اور کہا کہ آج کانگریس پارٹی میں پرانے لوگوں کے علاوہ نوجوان بھی بڑی تعداد میں کانگریس کا حصہ بن رہے ہیں، جس کے نتائج آنے والے دنوں میں دیکھنے کو ملیں گے۔

کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والوں لیڈروں میں مہندر کمار، جگویر چودھری، یوگیندر بھاٹی، ترویندر کمار منٹو، دویش کمار (پارس) مکیش گوسوامی، دلوار ڈھکیا، بودھ پرکاش شرما، منوج ادھانا، دیویندر ٹھاکر، نواب، سلیم احمد، حاجی محسن، کالو رام، راجیش کمار، رئیس احمد، سینسر پہلوان، صغیر حسن، آشیش مہیشوری، موہت بھاٹی، زاہد خان، محمد ادریس وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔

شیوراج کا ’جنگل راج‘ خواتین، دلتوں اور قبائلیوں کے لیے جہنم: کانگریس

0
شیوراج-کا-’جنگل-راج‘-خواتین،-دلتوں-اور-قبائلیوں-کے-لیے-جہنم:-کانگریس

نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے اجین میں 12 سالہ دلت بچی کے ساتھ گزشتہ دنوں ہوئی درندگی پر کانگریس نے شیوراج حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے بچی کے ساتھ ہوئی درندگی کو غیر انسانی بتایا اور وزیر اعلیٰ شیوراج چوہان کی خاموشی پر سوال اٹھائے ہیں۔ سپریا نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں نظامِ قانون پوری طرح تباہ ہو چکا ہے اور مدھیہ پردیش میں جنگل رات کا بول بالا ہے۔ مدھیہ پردیش میں شیوراج کا جنگل راج خواتین، دلتوں اور قبائلیوں کے لیے جہنم بن چکا ہے۔

جمعہ کو نئی دہلی واقع کانگریس ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے سپریا شرینیت نے کہا کہ کچھ دیر پہلے اندور کے ایک اسپتال میں مدھیہ پردیش کے انچارج جنرل سکریٹری رندیپ سنگھ سرجے والا، اندور کانگریس کے رکن اسمبلی، اندور ضلع صدر اور خاتون کانگریس کی لیڈران نے بچی سے ملاقات کی ہے۔ بچی کی حالت سنگین ہے۔

پولیس اور انتظامیہ کی بے حسی کو بچی کی حالت کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے شرینیت نے کہا کہ بچی ستنا میں اپنے اسکول سے لاپتہ ہوئی تھی، لیکن پولیس نے گھر والوں کی شکایت کے باوجود اس کی گمشدگی کی ایف آئی آر تک درج نہیں کی۔ پولیس اسٹیشن میں بچی کے گھر والوں سے کہا گیا کہ آپ یہاں سے جائیے اور اپنی بیٹی کو خود تلاش کیجیے، ہم ایف آئی آر درج نہیں کریں گے۔ اگر پولیس سرگرمی کے ساتھ کارروائی کرتی تو بچی کے ساتھ ایسی بربریت نہیں ہوتی۔ اس بچی کو سازشاً لیپا پوتی کر ذہنی طور پر معذور بھکاری بتایا جا رہا تھا۔

سپریا شرینیت نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں خواتین، دلتوں اور قبائلیوں کے خلاف مظالم بڑھتے جا رہے ہیں۔ بچی کے ساتھ ہوئی عصمت دری کے واقعہ پر وزیر اعلیٰ خاموش ہیں۔ اجین کے واقعہ کو کئی دن گزر گئے ہیں، لیکن اس بچی کا حال پوچھنے بی جے پی کا ایک بھی لیڈر نہیں گیا ہے۔ ایک دلت بچی کی عصمت دری ہوئی، اسے پاگل بھکاری بتانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن ملک کے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے منھ سے ایک لفظ نہیں نکلا۔ وزیر برائے ترقی خواتین و اطفال، خاتون کمیشن، چلڈرن پروٹیکشن کمیشن سبھی خاموش ہیں۔

سپریا شرینیت کا کہنا ہے کہ خواتین کی گمشدگی اور نابالغ لڑکیوں سے عصمت دری کے معاملے میں مدھیہ پردیش پہلے نمبر پر ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں میں مدھیہ پردیش میں سب سے زیادہ ایک لاکھ 60 ہزار 180 خواتین اور 38 ہزار سے زیادہ نابالغ بچیاں لاپتہ ہوئی ہیں۔ پورے ملک میں نابالغ بچیوں کے ساتھ عصمت دری معاملے میں مدھیہ پردیش کا مقام پہلا ہے۔ بی جے پی حکومت کے 18 سال کے دور میں 58 ہزار عصمت دری کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ یعنی ہر دن مدھیہ پردیش میں عصمت دری کے 8 معاملے پیش آتے ہیں۔ 68 ہزار اغوا کے معاملے بھی سامنے آئے ہیں۔ 13 بچیاں اور 13 عورتیں روزانہ اغوا کی جا رہی ہیں۔