جمعرات, مارچ 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 87

چاند پر ہونے والی ہے شام، پھر ہوگی سرد رات، کیا اس سے پہلے بیدار ہو پائیں گے وکرم اور پرگیان؟

0
چاند-پر-ہونے-والی-ہے-شام،-پھر-ہوگی-سرد-رات،-کیا-اس-سے-پہلے-بیدار-ہو-پائیں-گے-وکرم-اور-پرگیان؟

چندریان-3 بھلے ہی کامیابی کے ساتھ اپنا مشن مکمل کر چکا ہے، لیکن اِسرو کے سائنسداں اس کوشش میں مصروف ہیں کہ ایک بار پھر وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر بیدار ہو تاکہ چاند کے بارے میں کچھ نئی جانکاریاں بھی حاصل کی جا سکیں۔ حالانکہ لگاتار بھیجے جا رہے سگنل کا کوئی جواب وکرم اور پرگیان سے حاصل نہیں ہو رہا ہے۔ اب تو چاند شام بھی ہونے والی ہے، اور پھر اس کے بعد سرد رات ہوگی۔ یعنی 6-5 دنوں بعد تو ویسے بھی وکرم اور پرگیان کے جاگنے کی امید ختم ہو جائے گی۔

اِسرو کے سائنسدانوں نے اب تک جو جانکاری دی ہے اس کے مطابق چندریان-3 کے لینڈر وکرم اور رووَر پرگیان سے کسی طرح کا کوئی اشارہ نہیں مل رہا ہے۔ گزشتہ 21 ستمبر کو چاند کے جنوبی قطب پر سورج کی روشنی پڑنی شروع ہوئی اور اب تک 9 دن گزر چکے ہیں۔ اِسرو نے 22 ستمبر سے کئی بار سگنل بھیجا لیکن وکرم اور پرگیان کی طرف سے کوئی ریٹرن سگنل نہیں ملا۔ یہ کوشش اب بھی جاری ہے، لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ وکرم اور پرگیان کے فعال ہونے کی امیدیں بھی ختم ہوتی جا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ 23 اگست 2023 کو اِسرو کا چندریان-3 چاند کے جنوبی قطب پر اترا تھا۔ لینڈر وکرم نے پنکھ کی طرف تیرتے ہوئے چاند کی زمین کو چھوا تھا اور اس کے بعد اس میں سے رووَر پرگیان چاند کی سطح پر اترا تھا۔ سائنسدانوں نے شروعاتی 15 دنوں کے لیے وکرم اور پرگیان میں بیٹری کی صلاحیت ڈالی تھی۔ اس دوران پرگیان اور وکرم اپنے کام کو امید کے مطابق انجام دیتے رہے۔ بیٹری کی صلاحیت جب ختم ہونے لگی تو سورج کی روشنی سے پرگیان اور وکرم کو مکمل چارج کر دونوں کو سلیپ موڈ میں ڈال دیا گیا تھا اور چاند پر رات گزرنے کا انتظار کیا جانے لگا۔ سائنسداں امید کر رہے تھے کہ جب چاند پر دوبارہ صبح ہوگی تو سورج کی روشنی سے وکرم اور پرگیان کا بیٹری چارج ہو جائے گا اور پھر دونوں نئی توانائی کے ساتھ کام کر سکیں گے۔ حالانکہ فی الحال یہ ممکن نہیں ہو سکا ہے۔

خواتین کے ریزرویشن بل پر چدمبرم نے کہا، ‘ایسے قانون کا کیا فائدہ جو برسوں تک حقیقت نہ بنے!’

0
خواتین-کے-ریزرویشن-بل-پر-چدمبرم-نے-کہا،-‘ایسے-قانون-کا-کیا-فائدہ-جو-برسوں-تک-حقیقت-نہ-بنے!’

نئی دہلی: خواتین ریزرویشن بل کو صدر کی منظوری مل گئی ہے۔ ایک دن پہلے جمعہ (29 ستمبر) کو وزارت قانون کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ صدر دروپدی مرمو نے جمعرات کو بل پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس کے بعد اب یہ قانون بن چکا ہے۔ دریں اثنا، کانگریس نے ایک مرتبہ پھر اس معاملہ پر مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔ سابق وزیر خزانہ اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے اسے گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے قانون کا کیا فائدہ جس پر برسوں تک عمل درآمد نہ ہو۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ ایکس پر چدمبرم نے لکھا ’’بل نے خواہ قانون کی شکل اختیار کر لی ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس پر کئی برسوں تک عمل درآمد نہیں کی جا سکے گی۔ یہ حکومت کی طرف سے لایا گیا محض ایک فریب ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ خاتون ریزرویشن بل قانون بن گیا ہے لیکن ایسے قانون کا کیا فائدہ جو برسوں تک نافذ کی نہ کیا جا سکے۔ یقینی طور پر یہ قانون 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے لاگو نہیں ہو پائے گا۔ یہ مضحکہ خیز ہے۔ جیسے پانی سے بھرے پیالے میں چاند کا عکس نظر آتا ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے متعارف کرایا گیا یہ قانون محض ایک انتخابی جملہ ہے۔

لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں ایک تہائی خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے اس بل کو 27 سال کی طویل کوشش کے بعد 20 ستمبر کو لوک سبھا اور 21 ستمبر کو راجیہ سبھا میں پاس کیا گیا۔ راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 214 ووٹ ڈالے گئے، جب کہ کسی نے بھی بل کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔ لوک سبھا نے بھی اس بل کو دو تہائی اکثریت سے منظور کر لیا۔ حق میں 454 اور مخالفت میں دو ووٹ آئے۔

اب صدر دروپدی مرمو نے بل پر دستخط کر دیے جس کے بعد یہ بل قانون بن گیا ہے۔ اس پر عمل درآمد سے قبل مردم شماری اور حد بندی کی دو شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان نے بتایا تھا کہ 2026 تک حد بندی پر پابندی ہے۔ اس کے بعد مردم شماری اور حد بندی مکمل کرنے کے بعد خواتین کے ریزرویشن فراہم کیا جائے گا۔

گنیش وسرجن اور عید میلاد النبی ایک ہی روز واقع ہونے پر مسلمانوں نے دوسرے دن نکالا جلوسِ محمدی

0
گنیش-وسرجن-اور-عید-میلاد-النبی-ایک-ہی-روز-واقع-ہونے-پر-مسلمانوں-نے-دوسرے-دن-نکالا-جلوسِ-محمدی

ممبئی: نعرہ تکبیراللہ اکبر نعرہ رسالت یارسول اللہ کے فلک شگاف نعروں سے اس وقت جنوبی ممبئی کی فضا گونج اٹھی جب عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جلوس ممبئی کے خلافت ہاؤس سے برآمد ہوکر مسلم اکثریتی علاقوں میں پہنچا۔ جلوس کا شاہراہوں میں پرتباک استقبال کیا گیا اور خاتمُ النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا جشن منایا گیا۔ واضح رہے کہ عیدمیلادالنبی اور گنیش وسرجن ایک ہی روز ہونے کی وجہ سے ممبئی خلافت کمیٹی کی جلوس کمیٹی اور علماء اکرام نے عید میلادالنبی کا جلوس دوسرے روز نکالنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ دونوں تہواروں کے جلوس میں کسی قسم کے تصادم کی نوبت نہ آئے اور شہر کا امن و امان خراب نہ ہو۔ تقریباً پوری ریاست میں عیدمیلادالنبی کا جلوس گنیش وسرجن کی وجہ سے دوسرے دن برآمد ہوا۔

خلافت ہاؤس سے برآمد ہونے والے اس تاریخی جلوس سے قبل خلافت ہاؤس میں سیرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر خطاب کرتے ہوئے علامہ سید نیر اشرفی الجیلانی جانشین خانقاہ اشرفیہ فریدیہ فیض آباد یوپی نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک کے لئےرحمت للعالمین بن کر اس روئےزمین پر تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دور جہالت میں جب بچیوں کو زندہ درگور کیا جاتاتھاآپ نے انسانیت کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کیا اور غلامی کی زنجیروں کو توڑ ڈیا یتیموں پر ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دست شفقت رکھا ۔ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ سے انسانیت امن و بھائی چارگی کا درس دیا ہے پڑوسیوں کے حقوق سےہمیں باخبر کیا ہے۔ ہمیں حضور اکرم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر زندگی بسر کرنا ہو گا اسی میں کامیابی مضمر ہے۔

قومی صدر راشٹر یہ لوک دل سابق رکن پارلیمان چودھری جینت سنگھ نے جلوس میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی انہوں نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فطرت میں ہے کہ ہم تاریخ پر توجہ دیتے ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کرتے ۔ چودھری چرن سنگھ نے ذات پات کی مخالفت کی ہے ہم اپنی تورایخ سے واقف نہیں خلافت ہاؤس یہ کہہ سکتا تھا کہ ہماری تاریخ ہے اسی روز جلوس نکالیں گے لیکن خلافت ہاؤس نے حضور اکرم کی تعلیمات پر عمل کیا اور بھائی چارگی کا ماحول قائم کیا ۔ انہوں نے کہاکہ آج فرقہ پرستی عروج پر ہے لیکن ہمیں اس سے بیدار رہنے کی ضرورت ہے ممبئی میں آج ترقی ہے کیونکہ ممبئی کے دروازے ہر کسی کے لئے کھلے ہیں ۔کبھی اس جلوس میں میرے والد محترم چودھری اجیت سنگھ بھی شامل ہوئے تھے ہمیں آزادی بڑ ی مشکلات سے ملی ہیں اسی کی علامت خلافت ہاؤس ہے ممبئی میں یونہی بھائی چارگی کا ماحول قائم رہے گا ۔

سابق چئیرمین اقلیتی کمیشن اور این ترجمان نسیم صدیقی نے کہا کہ گنیش چترتھی اور عید میلادایک ہی روز آئے تھے لیکن مسلمانوں نے یہ فیصلہ کیاکہ ہندو بھائی ہمارا بڑا بھائی ہے اسلئے مسلمانوں نےاس بات کا ثبوت دیا کہ وہ بھائی چارگی پر یقین رکھتے ہیں ۔ مسلم رکن پارلیمان دانش علی کو ملک کی پارلیمنٹ میں مخبوط الحواس ایم پی نے کٹوا کہا انہیں یہ دیکھنا چاہئے کہ اس ملک میں مسلمانوں نے کس طرح سے قربانی دی ہے ۔ کانگریس سے رکن اسمبلی امین پٹیل نے کہا کہ جلوس محمدی ایک روز موخر کرنےکے لئے مسلم قیادت قابل ستائش ہے کیونکہ اس ملک میں تمام مذاہب ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں اسلام نے درس دیا ہے کہ آپ کا پڑوسی بھوکا ہے تو اسے کھانا کھلاؤ ۔ مسلمانوں نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مرتبہ ہندو بھائیوں کے لئے قربانی و ایثار پیش کیا ۔

سابق مرکزی وزیر ملندر دیورا اور نے کہا کہ خلافت کا جلوس تاریخی جلوس کی علامت ہے کیونکہ اس جلوس کا مقصد جنگ آزادی کی لڑائی کےلئے ماحول تیار کرنا تھا تحریک خلافت بھی اسی کا حصہ ہے ۔ جس طرح سے مسلمانوں نے بھائی چارگی کا ثبوت دیا اور قربانی دی وہ بھی قابل ستائش ہے اور اسی کا درس محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے ۔ہندوستان میں کثرت میں وحدت ہے یہ اس ملک کا خاصہ ہے ۔ کانگریس لیڈر بھائی جگتاپ نے کہا کہ گنپتی وسرجن اور عیدمیلاد ایک ہی روز آئے تھے علما کرام نے یہ فیصلہ لیا کہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے روز منایا جائے گا اور جلوس محمدی بھی دوسرے روز نکالا جائے یہ فیصلہ قابل ستائش ہے یہ خاصہ ہے ہندوستانی معاشرے کی کہ وہ ایک دوسرے کے مذاہب کا احترام کرتے ہیں ۔ یہی ہماری گنگا جمنی تہذیب کا شیوہ ہے۔ ممبئی پولس نے جلوس وسرجن پر بہترین کارکردگی انجام دی و ہ بھی قابل ستائش ہے ۔ ملک بھر میں مسلمانوں نے بھائی چارگی کا ثبوت دیا ہے۔

سابق رکن پارلیمان اور معروف صحافی شاہد صدیقی نے کہا کہ ہمارے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹ پر پتھر باندھ کر قربانی کا درس دیا ہے اس لئے مسلمانوں نے اس بات کا ثبوت دیا کہ ہم بھی آقا کے پیروکار ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کے حصول کے لئے چین جانے تک کی نصیحت دی ہے تعلیمی میدان میں ہمیں پیش قدمی کی ضرورت ہے ۔ اس جلوس میں خلافت ہاؤس کےچئیرمین سرفراز آرزو نے بھی خطاب کیا اس کے ساتھ خلافت ہاؤس کے اس جلوس میں عمائدین شہر و سیاسی لیڈران نے بھی شرکت کی ۔

جلوس اپنے طئے شدہ راستوں سے ہوتا ہوا دیر رات کو امن و امان کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ جلوس میں ممبئی پولیس کے ذریعے ڈی جے پر پابندی عائد کردی گئی تھی اور علماء اکرام نے بھی ڈی جے بجانے کی مخالفت کی تھی۔

جھارکھنڈ میں ڈینگو اور چکن گونیا کا پھیلاؤ، 7 افراد ہلاک، ڈیڑ ہزار سے زیادہ متاثر

0
جھارکھنڈ-میں-ڈینگو-اور-چکن-گونیا-کا-پھیلاؤ،-7-افراد-ہلاک،-ڈیڑ-ہزار-سے-زیادہ-متاثر

رانچی: جھارکھنڈ میں ڈینگو اور چکن گنیا کی بیماری کا بڑے پیمانے پر پھیلاؤ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاست بھر میں مریضوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں ڈینگو کے متاثرین کی تعداد اس سے زیادہ کبھی نہیں ہوئی۔ اب تک سات مریضوں کی جان بھی چلی گئی ہے۔ ان میں تین اسکولی طلبا اور ایک میڈیکل کا طالب علم شامل ہے۔

ریاست کے ضلع اسپتالوں میں بنائے گئے ڈینگو وارڈ مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔ اویناش کمار جھا جو کہ میڈیکل کے پہلے سال کے طالب علم تھے، جمعہ کو جمشید پور کے ٹاٹا مین ہسپتال میں علاج کے دوران فوت ہو گئے۔ وہ آدتیہ پور باباکوٹی کے رہنے والے تھے۔ جمشید پور کے جے پی ایس باریڈیہ، تارا پور ایگریکو اور ڈی بی ایم ایس اسکولوں کے تین طلبہ کی بھی ڈینگو کی وجہ سے موت ہو گئی ہے۔ جمشید پور میں جمعہ کو 19 مریضوں میں ڈینگو کی تشخیص کی گئی۔

ریاستی وزیر صحت بنا گپتا جمشید پور کے رہنے والے ہیں اور زیادہ تر مریض اسی ضلع (مشرقی سنگھ بھوم) میں پائے گئے ہیں۔ یہاں ڈینگو کے مریضوں کی کل تعداد 891 تک پہنچ گئی ہے۔ محکمہ صحت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال جنوری سے اب تک ریاست میں ڈینگو کے 1534 اور چکن گنیا کے 240 مریض پائے گئے ہیں۔ یہ تعداد صرف سرکاری ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق سینکڑوں مریض نجی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صاحب گنج میں 202 اور سرائے کیلا-کھرساواں میں 109 مریض پائے گئے ہیں۔ رانچی میں 69، دمکا میں 51، ہزاری باغ میں 43، دھنباد میں 40، دیوگھر میں 27، گریڈیہ میں 19، کھونٹی میں 19، پاکوڑ میں 16، چترا میں 14، لوہردگا میں 6، بوکارو میں 5 اور کوڈرما اور گڑھوا میں ایک ایک مریض پایا گیا ہے۔

ریاست کے 24 میں سے صرف چھ اضلاع ایسے ہیں جہاں ڈینگو چکن گنیا کا کوئی مریض نہیں ملا ہے۔ اس سال اب تک چکن گنیا کے سب سے زیادہ مریض رانچی میں پائے گئے ہیں۔ اب تک رانچی میں 162، مشرقی سنگھ بھوم میں 56، دیوگھر میں 10، گوڈا میں 8 اور لوہردگا میں 4 مریض پائے گئے ہیں۔ تاہم، کوئی موت نہیں ہوئی ہے۔ ریاستی ملیریا افسر ڈاکٹر وریندر کمار کا کہنا ہے کہ ریاست میں اس بیماری کا پھیلاؤ کم ہو رہا ہے، پہلے روزانہ 50 سے زائد مریض پائے جا رہے تھے جبکہ اب ان کافی کم تعداد میں مریض پائے جا رہے ہیں۔

2000 روپے کا نوٹ بدلنے کی آج آخری تاریخ، اب بھی نہیں بدلوایا تو پھر بچے گا صرف ایک راستہ!

0
2000-روپے-کا-نوٹ-بدلنے-کی-آج-آخری-تاریخ،-اب-بھی-نہیں-بدلوایا-تو-پھر-بچے-گا-صرف-ایک-راستہ!

اگر آپ کے پاس 2000 روپے کا نوٹ ہے تو پھر اسے آج ہی بینک میں جا کر بدلوا لیجیے، کیونکہ آج 30 ستمبر ہے اور آر بی آئی نے 2000 روپے کا نوٹ بدلنے کی آخری تاریخ 30 ستمبر ہی رکھی تھی۔ آر بی آئی (ریزرو بینک آف انڈیا) کے مطابق یکم اکتوبر سے 2000 روپے کے بینک نوٹ کی قدر ختم ہو جائے گی اور یہ صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا تصور کیا جائے گا۔ سنٹرل بینک کے ذریعہ 2000 روپے کے نوٹوں کو چلن سے باہر کرنے کے اعلان کے چار ماہ بعد اب نوٹ بدلنے کی تاریخ آج ختم ہو رہی ہے۔

آپ کے ذہن میں یہ سوال ہوگا کہ اگر کسی وجہ سے آج بینک میں 2000 روپے کے نوٹ جمع نہیں کرایا جا سکے تو پھر آگے کیا صورت ہوگی؟ تو آپ جان لیں کہ اگر آج آپ نے 2000 روپے کے نوٹ قریبی بینک برانچ میں نہیں بدلوائے تو پھر صرف ایک راستہ آپ کے سامنے ہوگا۔ 30 ستمبر 2023 کے بعد ان نوٹوں کو صرف آر بی آئی سے بدلا جا سکتا ہے۔ لیکن آپ کے لیے سب سے آسان یہی ہے کہ آپ آج اپنے قریبی بینک برانچ میں جا کر 2000 روپے کے نوٹ بدل لیں۔

قابل ذکر ہے کہ 30 ستمبر تک 2000 روپے کے نوٹ آر بی آئی کے 19 علاقائی دفاتر یا کسی بھی نزدیک بینک برانچ میں بدلے جا سکتے ہیں۔ اپنے نزدیکی بینک یا آر بی آئی کے کسی بھی علاقائی دفتر میں جائیں۔ 2000 روپے کے نوٹ بدلنے یا جمع کرنے کے لیے فارم بھریں۔ آدھار کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، ووٹر شناختی کارڈ، پاسپورٹ یا نریگا کارڈ جیسے دستاویز پر درج اپنے خصوصی شناختی نمبر سمیت اپنی تفصیل بھریں۔ آپ یہ بھی بتائیں کہ آپ کتنا نوٹ جمع کریں گے۔ خاص طور سے ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ 20 ہزار روپے قدر کے 2000 روپے کے نوٹ ہی ایک دن میں بدلے جا سکتے ہیں۔

بہرحال، آر بی آئی نے یکم ستمبر کو کہا تھا کہ مئی سے اب تک تقریباً 93 فیصد کرنسی نوٹ بینکنگ سسٹم میں واپس آ چکے ہیں۔ بینکوں سے حاصل اعداد و شمار کے مطابق 31 اگست 2023 تک چلن سے واپس آئے 2000 روپے کے بینک نوٹوں کی مجموعی قدر 3.32 لاکھ کروڑ روپے تھا۔

راہل گاندھی نے ذات پر مبنی مردم شماری کا مسئلہ اٹھایا

0
راہل-گاندھی-نے-ذات-پر-مبنی-مردم-شماری-کا-مسئلہ-اٹھایا

بھوپال: کانگریس لیڈر راہل گاندھی ہفتہ کے روز مدھیہ پردیش کے دورے پر پہنچے، جہاں انہوں نے کانگریس کی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا۔ شاجاپور میں ایک ریلی کے دوران انہوں نے مرکز کی مودی حکومت اور ریاست کی شیوراج حکومت پر شدید حملہ کیا۔ دریں انہوں نے ذات پر مبنی مردم شماری کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ آج سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ او بی سی کی تعداد کتنی ہے اور انہیں کتنی شراکت داری حاصل ہوئی ہے؟

راہل گاندھی نے کہا ’’یہ نظریات کی لڑائی ہے۔ ایک طرف گاندھی ہے اور دوسری طرف گوڈسے ہے۔ ایک طرف نفرت، تشدد اور انا ہے اور دوسری طرف محبت اور بھائی چارہ ہے۔‘‘ اس دوران وہ انہوں نے میڈیا کو بھی آڑے ہاتھوں لیا، ان کا کہنا تھا کہ پریس والے ہمارے اس اجلاس کو نہیں دکھائیں گے۔

بی جے پی اور مودی پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "وہ جہاں بھی جاتے ہیں نفرت پھیلاتے ہیں۔ اب مدھیہ پردیش کے نوجوان اور کسان ان سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ جو کچھ انہوں نے عوام کے ساتھ کیا ہے، اب عوام بھی ان کے ساتھ وہی کریں گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’بھارت جوڑو یاترا کے دوران ہم نے زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملاقات کی، سب نے کہا کہ مدھیہ پردیش ہندوستان میں بدعنوانی کا مرکز بن گیا ہے۔ جتنی بدعنوانی بی جے پی کے لوگوں نے یہاں کی ہے، پورے ملک میں کہیں اور نہیں ہوئی ہے۔ ان لوگوں نے بچوں کے اسکول کے فنڈز سے لے کر مہاکال کاریڈور تک میں غبن کیا۔ ویاپم گھوٹالے میں کروڑوں لوگوں کو نقصان پہنچایا گیا۔‘‘

راہل گاندھی نے ایک بار پھر پی ایم مودی پر گوتم اڈانی کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے پارلیمنٹ میں اڈانی کا مسئلہ اٹھایا۔ جیسے ہی میں نے اپنی تقریر کی بی جے پی نے میری لوک سبھا کی رکنیت منسوخ کر دی۔ اڈانی کو بچانے کے لئے میری لوک سبھا کی رکنیت منسوخ کر دی گئی۔ مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، کیونکہ میں میں سچ بولتا ہوں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اڈانی جی ملک کے سامنے ایک سچ ہیں۔ بندرگاہ دیکھیں، ایئرپورٹ دیکھیں، انفراسٹرکچر دیکھیں، ہر شعبے میں اڈانی نظر آئے گی۔ اڈانی ہر روز کسانوں کی جیبوں سے پیسے نکالتے ہیں۔ میڈیا پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا مودی جی کو 24 گھنٹے دکھائے گا، شیوراج سنگھ کو دکھائے گا، لیکن ہمیں بالکل نہیں دکھائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا ریموٹ کنٹرول اڈانی کے ہاتھ میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور سچائی ہے جو اڈانی سے بھی بڑی ہے۔ کچھ دن پہلے بی جے پی نے خواتین کے ریزرویشن کی بات کی تھی۔ ہم نے خواتین کے ریزرویشن سے متعلق سوال اٹھایا لیکن بی جے پی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ہم نے دو باتیں کیں، ہم نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے اور یہ ہونی چاہیے، لیکن آپ نے اس میں دو چھوٹی سطریں لکھی ہیں، حذف کر دیں۔ ایک سطر ہے کہ خواتین کے ریزرویشن کو نافذ کرنے سے پہلے ایک سروے کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری سطر مردم شماری اور حد بندی ہے جو ہمیں خواتین کے ریزرویشن کو نافذ کرنے سے پہلے کرنا ہے۔ ان دونوں وجوہات کی وجہ سے خواتین کی ریزرویشن 10 سال بعد لاگو ہوگی۔ ہم نے سوال پوچھا کہ خواتین کے ریزرویشن میں او بی سی ریزرویشن کیوں نہیں ہے۔ راہل نے مزید کہا، نریندر مودی جی، آپ کہتے ہیں کہ آپ او بی سی کے لیے کام کرتے ہیں، آپ ان کے لیڈر ہیں، پھر آپ نے خواتین کے ریزرویشن میں او بی سی ریزرویشن کیوں نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کہتے ہیں کہ بی جے پی میں او بی سی ایم پی اور ایم ایل اے ہیں۔ تو میں آپ کو بتانا چاہوں گا کہ کانگریس کے تین وزرائے اعلیٰ او بی سی ہیں، ہماری چار حکومتیں ہیں۔ آپ پارلیمنٹ میں جائیں اور بی جے پی ایم ایل اے اور ایم پی سے پوچھیں کہ کیا قانون بنانے سے پہلے ان سے کچھ پوچھا جاتا ہے۔ وہ کہیں گے کہ ہم سے نہیں پوچھا جاتا۔ قانون آر ایس ایس کے لوگ بناتے ہیں۔ 90 افسران قانون بناتے ہیں اور ملک چلاتے ہیں۔ یہ لوگ تمام چیزوں کا فیصلہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی 10 سال سے اقتدار میں ہے اور 90 افسران حکومت چلا رہے ہیں۔ ان 90 افسران میں سے کتنے او بی سی ہیں؟ او بی سی کی آبادی ابھی تک معلوم نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ذات پات کی مردم شماری نہیں ہوئی ہے۔ ان کی آبادی تقریباً پچاس فیصد ہے اور 90 میں سے صرف تین افسران او بی سی ہیں۔ تین سال پہلے ایک بھی او بی سی افسر نہیں تھا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ذات پات کی مردم شماری پر بھی زور دیا۔ انہوں نے بار بار کہا کہ او بی سی کی صحیح آبادی معلوم نہیں ہے اور کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں ہندوستان کا ایکسرے کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ معلوم کرنا ہوگا کہ او بی سی آبادی کیا ہے۔ ہماری حکومت آئی تو سب سے پہلا کام یہ کریں گے۔

ترقی یافتہ ملک کا مطلب دہلی-ممبئی-چنئی نہیں، ہم ایسے ماڈل پر یقین نہیں کرتے: وزیر اعظم مودی

0
ترقی-یافتہ-ملک-کا-مطلب-دہلی-ممبئی-چنئی-نہیں،-ہم-ایسے-ماڈل-پر-یقین-نہیں-کرتے:-وزیر-اعظم-مودی

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو دہلی کے بھارت منڈپم میں ملک کے خواہش مند بلاکس کے لیے ‘سنکلپ ہفتہ’ پروگرام کا آغاز کیا۔ اس دوران وزیر اعظم نے کہا کہ ’’آج ملک کی آزادی کے 75 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ ہم 2047 میں ملک کو ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور ترقی یافتہ ملک کا مطلب یہ نہیں کہ شان و شوکت صرف دہلی، ممبئی، چنئی میں نظر آئے اور ہمارے گاؤں کو پیچھے چھوڑ دیا جائے۔ ہم اس ماڈل کی پیروی نہیں کرتے ہیں۔ ہم 140 کروڑ لوگوں کی تقدیر کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں۔ ان کی زندگیوں میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔‘‘

وزیر اعظم نے کہا ’’ہم نے پیرامیٹرز طے کر لیے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کے لیے مسابقت کا احساس ہو۔ جب تک تصدیق شدہ ڈیٹا موجود نہ ہو ایسے ڈیٹا کو بھرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ گاؤں جا کر لوگوں کے مسائل جانیں۔ پی ایم نے کہا ’’آپ کو اپنے بلاک کو ترقیاتی کاموں میں آگے لے جانا ہے۔ عوام کی شرکت سے مسائل کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ اس کے لیے 100 بلاکس کا انتخاب کریں اور انہیں قومی سطح پر لائیں۔ میں اگلے سال اکتوبر میں آپ کی کامیابی کی کہانی سننا چاہوں گا۔

پی ایم نے کہا کہ ہم نے خواہش مند ضلعی پروگرام کے لیے بہت آسان حکمت عملی کے ساتھ کام کیا ہے۔ اگر ہم جامع ترقی حاصل نہیں کرتے جو سب کے لیے فائدہ مند ہو، تو اعداد و شمار اطمینان تو دے سکتے ہیں لیکن بنیادی تبدیلی ممکن نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم نچلی سطح پر تبدیلیاں لا کر آگے بڑھیں۔ وزیر اعظم مودی نے مزید کہا ’’یہ پروگرام (سنکلپ سپتاہ) ٹیم انڈیا کی کامیابی کی علامت ہے۔ یہ ہر ایک کی کوششوں کے جذبے کی علامت ہے۔ یہ پروگرام ہندوستان کے مستقبل کے لیے بھی اہم ہے۔ یہ عزم کے ذریعے کامیابی کا عکس ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جس طرح خواہش مند ڈسٹرکٹ پروگرام کامیاب ہوا ہے، اسی طرح خواہش مند بلاک پروگرام بھی سو فیصد کامیاب ہوگا۔

اسمبلی انتخابات: راہل گاندھی مدھیہ پردیش میں ’جن آکروش یاترا‘ میں کریں گے شرکت

0
اسمبلی-انتخابات:-راہل-گاندھی-مدھیہ-پردیش-میں-’جن-آکروش-یاترا‘-میں-کریں-گے-شرکت

بھوپال: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی آج مدھیہ پردیش کے شاجاپور ضلع میں کانگریس کی طرف سے منعقد کی جا رہی جن آکروش یاترا میں شامل ہوں گے۔ راہل گاندھی پہلے اندور آئیں گے اور یہاں سے وہ شاجاپور کے کلاپیپل جائیں گے۔ وہ پولی کلاں میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔

ریاستی کانگریس کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے سربراہ کے کے مشرا نے کہا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل منعقد اس پروگرام میں ریاستی کانگریس صدر اور سابق وزیر اعلیٰ کمل ناتھ، کانگریس جنرل سکریٹری اور ریاستی انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا اور دیگر سینئر لیڈران بھی موجود رہیں گے۔

خیال رہے کہ کانگریس ریاستی حکومت کے خلاف جن آکروش یاترا نکال رہی ہے اور سابق وزیر جیتو پٹواری کو مالوا خطہ سے نکالی جانے والی جن اکروش یاترا کا انچارج بنایا گیا ہے۔ یہ یاترا ہفتہ (30 ستمبر) کو کالاپیپال پہنچ رہی ہے۔ راہل گاندھی بھی یہاں پہنچیں گے اور جن آکروش یاترا کے رتھ پر سوار ہو کر جلسہ گاہ پہنچیں گے۔ اس کے بعد یہاں ایک جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا ہے۔ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اس جلسہ عام کے دوران کانگریس قائدین کسانوں کے مسائل بشمول بدعنوانی، قبائلی مظالم، بھرتیوں میں بے قاعدگیوں پر حکومت پر حملہ بولیں گے۔

کالاپیپل کے کانگریس ایم ایل اے کنال چودھری کے مطابق اس میٹنگ میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے کی امید ہے۔ سیہور، شاجاپور، بھوپال، اجین، اندور سمیت کئی اضلاع سے بڑی تعداد میں کارکنان میٹنگ میں شرکت کے لیے آ رہے ہیں۔

کالاپیپل آنے کے بعد راہل گاندھی کا اگلا دورہ شہڈول ضلع کا ہوگا۔ 10 اکتوبر کو راہل گاندھی شہڈول ضلع کے بیوہاری میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ اس دوران کانگریس کی قومی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی بھی 4 اکتوبر کو مدھیہ پردیش کے دورے پر آ رہی ہیں۔ کانگریس کی قومی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی 5 اکتوبر کو دھار ضلع کے موہن کھیڑا آئیں گی۔

کانگریس لیڈر ششی تھرور نے نیشنل میوزیم کی بے دخلی کو بربریت قرار دیا

0
کانگریس-لیڈر-ششی-تھرور-نے-نیشنل-میوزیم-کی-بے-دخلی-کو-بربریت-قرار-دیا

نئی دہلی: کانگریس لیڈر ششی تھرور نے ہفتہ کے روز نیشنل میوزیم کی بے دخلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ خالص اور براہ راست طور پر ’بربریت‘ ہے۔

ششی تھرور نے ایکس پر لکھا ’’تعمیراتی اہمیت کی حامل ایک تاریخی عمارت کو منہدم کر کے اس کی جگہ کوکی-کٹر سرکاری عمارت تعمیر کی جائے گی! اور اس دوران کم از کم دو سال تک کوئی قومی عجائب گھر نہیں رہے گا۔ یہ خالص اور براہ راست طور پر بربریت ہے۔‘‘

انہوں نے اپنے دعووں کی تائید کے لیے ایک خبر بھی منسلک کی۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج کمیونیکیشن جے رام رمیش نے بھی کہا کہ ایک اور شاندار عمارت، جو روایت کے ساتھ جدیدیت کا امتزاج کرتی ہے، اس سال کے آخر تک غائب ہو جائے گی۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں رمیش نے کہا، ’’ایک اور شاندار عمارت جو روایتی کے ساتھ جدیدیت کا امتزاج کرتی ہے، اس سال کے آخر تک غائب ہو جائے گی۔ نیشنل میوزیم، جسے جی بی دیولالیکر نے ڈیزائن کیا تھا دسمبر 1960 میں افتتاح کیا گیا تھا، اسے منہدم کیا جا رہا ہے۔ اتفاق سے، انہوں نے سپریم کورٹ کے مین بلاک کو بھی ڈیزائن کیا تھا، جو امید ہے کہ زندہ رہے گا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ "قوم نہ صرف ایک شاہی عمارت بلکہ اپنی حالیہ تاریخ کے ایک حصہ سے بھی محروم ہو رہی ہے، جو وزیر اعظم کی منظم مہم کا ہدف ہے۔ اس میں دو سے زیادہ انمول نمائشیں ہیں اور اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ یہ قومی خزانہ منتقلی سے بچ جائے گا۔‘‘

راجیہ سبھا ایم پی نے کہا، نیشنل میوزیم کی ایک شاندار تاریخ بھی ہے۔ اس کی پہلی ڈائریکٹر گریس مارلے تھے، جو ایک امریکی میوزیولوجسٹ تھے جو پہلی بار ہندوستان آئی تھیں اور 1966 تک ڈائریکٹر رہیں۔ انہوں نے 1985 میں دہلی میں آخری سانس لی۔ انہیں یہاں کافی عزت ملی، یہاں تک کہ انہیں ماتاجی مارلے کے لقب سے نوازا جانے لگا تھا۔

عید میلادالنبی (ص)کی تعطیل ایک روز قبل دینے سے لوگوں کے دل مجروح کئے گئے:عمر عبداللہ

0
عید-میلادالنبی-(ص)کی-تعطیل-ایک-روز-قبل-دینے-سے-لوگوں-کے-دل-مجروح-کئے-گئے:عمر-عبداللہ

جموں و کشمیرنیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے عید میلاد النبی(ص)کی تقریب سعید کے موقعے پر درگاہ حضرت بل میں حاضری دی اور نمازِ جمعہ بھی ادا کی۔ انہوں نے جموں وکشمیر مکمل امن و امان، عالم اسلام کی سربلندی، عالم انسانیت کی بقا، لوگوں کی خوشحالی و ترقی کے علاوہ دفعہ370کے معاملے میں سپریم کورٹ سے جموں وکشمیر کے عوام کے حق میں فیصلہ آنے کیلئے دعا کی۔ ان کے ہمراہ پارٹی کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی اور مشیر مدثر شاہ میری بھی تھے۔

نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد عمر عبداللہ بھی ہزاروں عاشقانِ رسول سمیت موئے پاک آنحضور(ص)کے دیدار سے فیض حاصل کیا۔دریں اثناءوہاں موجودہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے حکومت کی طرف سے عید میلاد النبی(ص)کی تعطیل ایک روز قبل دیئے جانے کو سمجھ سے بالاتر قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کو یہاں کے عوام کے احساسات اور جذبات کی ذرا سی بھی قدر نہیں۔

اگر کسی بڑے دن کی تعطیل ایک روز قبل دینا اتنا ہی آسان ہے تو پھر حکومت دیوالی کی چھٹی ایک روز قبل دے کر دکھائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے تعطیل کا فیصلہ ایک روز قبل کرکے یہاں کے عوام کے دل مجروح کئے ہیں۔

الیکشن کے انعقاد سے متعلق پوچھے گئے ایک اور سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ جب ان لوگوں (بھاجپا) میں تھوڑی سی ہمت آئے گی تب یہ لوگ یہاں الیکشن کرائیں گے۔