جمعرات, مارچ 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 86

تیل کمپنیوں نے دیا  جھٹکا، کمرشل ایل پی جی گیس کی قیمت میں 209 روپے کا اضافہ

0
تیل-کمپنیوں-نے-دیا- جھٹکا،-کمرشل-ایل-پی-جی-گیس-کی-قیمت-میں-209-روپے-کا-اضافہ

اکتوبر کے آغاز کے ساتھ ہی تیل کمپنیوں نے صارفین کو بڑا جھٹکا دیا ہے۔ آج سے کمرشل گیس سلنڈر کی قیمت میں 209 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نئی شرحیں آج  یعنی یکم اکتوبر 2023 سے لاگو ہو گئی ہیں۔ اس اضافے کے بعد دارالحکومت دہلی میں 19 کلو کا ایل پی جی سلنڈر 1731.50 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

نیوز پورٹل ’اے بی پی ‘ پر شائع خبر کے مطابق دیگر میٹروز کی بات کریں تو کولکتہ میں ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 203.50 روپے کا اضافہ ہوا ہے اور یہاں کمرشل گیس سلنڈر 1,636.00 روپے کے بجائے 1,839.50 روپے میں دستیاب ہے۔ ممبئی میں 19 کلو کے کمرشل ایل پی جی گیس سلنڈر کی قیمت میں 204 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور اس کی قیمت 1,482 روپے سے بڑھ کر 1,684 روپے فی سلنڈر ہو گئی ہے۔ وہیں چنئی میں کمرشل گیس سلنڈر کی قیمت میں 203 روپے کا اضافہ ہوا ہے اور یہاں قیمت 1695 روپے سے بڑھ کر 1898 روپے ہو گئی ہے۔

غور طلب ہے کہ صرف ایک ماہ قبل حکومت نے گھریلو گیس سلنڈر کی قیمت میں 200 روپے کی بھاری کمی کی تھی۔ اس کے بعد یکم اکتوبر کو گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ یہ اپنی پرانی شرح پر برقرار ہے۔ چار میٹروز میں، 14.20 کلو گھریلو گیس سلنڈر دہلی میں 903 روپے، کولکتہ میں 929 روپے، ممبئی میں 902.50 روپے اور چنئی میں 918.50 روپے میں دستیاب ہے۔

ستمبر 2023 میں تیل کمپنیوں نے گھریلو اور کمرشل  گیس سلنڈروں کی قیمتوں میں بڑی کٹوتی کی تھی۔ گزشتہ ماہ 19 کلو گرام کے سلنڈر کی قیمت 158 روپے کم کر دی گئی تھی۔ اس کے بعد دارالحکومت دہلی میں اس کی قیمت 1522 روپے تک پہنچ گئی تھی۔آپ کو بتاتے چلیں کہ کمرشل گیس سلنڈر کی قیمت میں اضافے کا اثر یہ ہو سکتا ہے کہ ہوٹلوں کے ریستورانوں میں کھانا پینا مہنگا ہو سکتا ہے کیونکہ  وہاں صرف کمرشل گیس سلنڈر ہی استعمال کیے جاتے ہیں۔

دہلی والوں کو جلد کچڑے کے پہاڑوں سے ملے گی راحت: کیجریوال

0
دہلی-والوں-کو-جلد-کچڑے-کے-پہاڑوں-سے-ملے-گی-راحت:-کیجریوال

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ہفتہ کو کہا کہ کارپوریشن میں عام آدمی پارٹی (عآپ) کی حکومت آنے کے بعدسے لینڈ فل سائٹ سے کچڑے ہٹانے کے کام میں کافی تیزی آئی ہے اور مقررہ حد سے زیادہ تیز رفتار سے کوڑا کرکٹ ہٹایا جا رہا ہے۔

مسٹر کیجریوال نے بھلسوا لینڈ فل سائٹ کا دورہ کیا اور کہا”پچھلے سال نومبر کے وسط بھلسوا لینڈ فل سائٹ سے کچڑے صاف کرنے کا کام شروع ہوا تھا۔ ہدف مقرر کیا گیا تھا کہ اگلے 18 ماہ کے اندر بھلسوا لینڈ فل سائٹ سے تقریباً 30 لاکھ ٹن کچڑے کو کم کیا جائے گا۔ 30 ستمبر تک تقریباً 14 لاکھ ٹن کچڑے کو کم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ یہ بتاتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ کچڑے کی صفائی کا کام ہدف سے کہیں زیادہ تیز رفتار سے جاری ہے۔ ستمبر تک بھلسوا لینڈ فل سائٹ سے 14 لاکھ ٹن کے ہدف کے بجائے 18 لاکھ ٹن کچڑا کم ہو گیا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ جب موجودہ ایجنسی اب اگلے سال 15 مئی تک 45 لاکھ ٹن کچڑا صاف کرے گی تو یہاں 35 ایکڑ اراضی خالی ہوجائے گی۔ جب سارا کچڑا صاف ہو جائے گا تو یہاں کافی زمین خالی ہو جائے گی۔ بھلسوا لینڈ فل سائٹ کے پاس سے گزرنے والی سڑک سے پنجاب اور ہریانہ کے لوگ دہلی آتے ہیں۔ دہلی میں داخل ہوتے ہی ان کو کچڑے کے پہاڑ نظر آتا ہے۔ یہ کچڑے کے اس پہاڑ کو صاف کرنے کے بعد اس زمین کو کئی طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دہلی کی میئر ڈاکٹر شیلی اوبرائے نے کہا کہ دہلی کو جلد ہی کچڑے کے پہاڑوں سے نجات ملے گی۔ اس کے لیے اضافی ایجنسی کی تقرری کا عمل آخری مرحلے میں ہے۔ دہلی کو وقت سے پہلے کچرے کے پہاڑوں سے نجات مل جائے گی۔

ڈپریشن کوئی شرم کی بات نہیں، ماہرین کا علاج پر زور

0
ڈپریشن-کوئی-شرم-کی-بات-نہیں،-ماہرین-کا-علاج-پر-زور

یکم اکتوبر بروز اتوار یعنی آج یورپ بھر میں ڈپریشن ڈے کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ اس مناسبت سے ماہرین نے ڈپریشن سے نمٹنے کے لیے چند بنیادی اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے شکار افراد کو فوری طور پر مدد حاصل کرنی چاہیے۔

ڈپریشن یا پژمردگی کسی بھی انسان کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس بات پر تمام ماہرین متفق ہیں۔ ڈپریشن کا عارضہ ایک ایسی بیماری سمجھا جاتا ہے، جو بہت عام ہے تاہم اس کی سنگینی کا اکثر بہت کم اندازہ لگایا جاتا ہے جبکہ یہ بدترین صورت میں خود کشی تک کا سبب بن سکتی ہے۔

سائیکو تھراپسٹ یا نفسیاتی علاج کرنے والوں کے مطابق ڈپریشن کی بیماری سے شفا یاب ہونے کے لیے اس بیماری کا جلد پتا لگنا بہت ضروری ہے۔ جرمنی میں یورپی ڈپریشن ایسوسی ایشن کے نمائندے اور محقق ڈیٹلیف ڈیٹرش نے حال ہی میں ڈپریشن کے عارضے کی سنگینی پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک بیان میں کہا،”زیادہ تر صورتوں میں ڈپریشن کی بیماری کا آسانی سے علاج کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اسے پہچان لیا جائے اور اس کا جلد علاج کیا جائے۔ اس کے لیے اس بیماری کی طرف ایک کھلا زہن رکھنا ضروری ہے.

ڈپریشن کا یورپی دن یا ”یورپین ڈپریشن ڈے‘‘ ہر سال یکم اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اس سال اس دن کا موٹو ”غیر یقینی وقت میں ڈپریشن کے علاج کی نئی بصیرت‘‘ ہے۔ اطلاعات کے مطابق جرمنی میں ایک سال کے دوران ساٹھ لاکھ سے زائد بالغ افراد ذہنی تناؤ کے عارضے کا شکار ہوتے ہیں۔

ایک معروف کیبرے آرٹسٹ میتھیاس بروڈوی کہتے ہیں کہ ان کا ڈپریشن کا علاج چار سال تک کیا گیا۔ ان کے بقول،”میں چاہوں گا کہ ہمارا معاشرہ ڈپریشن کی بیماری کو بہتر طور پر سمجھے۔ اس کے بارے میں بار بار بات کرنا اور حقیقت پر مبنی اور اچھی طرح سے معلومات فراہم کرنا بہت اہم ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا،” آپ کو کسی بھی حالت میں اپنے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ ڈپریشن ایک سنگین بیماری ہے نہ کہ کردار کی کمزوری‘‘ کیبرے آرٹسٹ میتھیاس بروڈوی کا کہنا ہے،”آپ کو خود سے لڑنے اور جیتنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ خود کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ اس طرح کی بیماری کا علاج کرنے کی ضرورت ہے۔ اس پر کسی کو شرمندہ نہیں ہونا چاہیے۔ رشتہ داروں کو بھی اس طرح کی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں ٹیلی فون پر کاؤنسلنگ مدد فراہم کر سکتی ہے۔‘‘

انہوں نے ذہنی دباؤ کے شکار مریضوں کو معالجین سے مشاورت کے لیے طویل انتظار کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے اس بیماری کے علاج کے لیے مزید سہولیات کے قیام کا بھی مطالبہ کیا – ان کا کہنا تھا،”سیاست دانوں کو یہاں موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔‘‘

ڈپریشن یا پژمردگی ایک ایسا عارضہ ہے جس کی علامات میں طویل عرصے تک بد مزاجی، زندگی کے مختلف پہلوؤں میں عدم دلچسپی یا خوشی کا کم احساس ہونا، اور ڈرائیونگ سمیت روزمرہ زندگی کی دیگر سرگرمیوں میں کمی آجانا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نیند اور فوکس کے مسائل، بھوک میں کمی، منفی سوچ، خود اعتمادی میں کمی، خوف اور خودکشی کے خیالات بھی واضح طوہر پر ڈپریشن کے عارضے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

جرمن شہر ڈوسلڈورف میں قائم نفسیاتی امراض کے علاج کے ایک مشہور کلینک کے چیف ڈاکٹر یا اسپیشلسٹ کرسٹیان لانگے آشنفیلڈ کہتے ہیں،”ڈپریشن کسی کو بھی متاثر کر سکتا ہے، چاہے وہ جوان ہو یا بوڑھا، اسے پہلے سے کوئی بیماری ہے یا نہیں، موسمی تبدیلیوں، جینیاتی رجحان، زندگی کے سخت واقعات یا یہاں تک کہ عالمی واقعات تک انسانی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں اور یہ ڈپریشن تک کا سبب بن سکتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ذہنی بیماریوں کے بارے میں معاشرے کا نظریہ بتدریج مثبت انداز میں تبدیل ہو رہا ہے، تب بھی متاثرہ افراد کو بدنامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو اکثر ان کی بیماری کے علاوہ ان پر اضافی دباؤ ڈالنے کا سبب بنتا ہے۔

ڈاکٹر کرسٹیان لانگے آشنفیلڈ یہ تجویزپیش کی کہ معاشرہ طبی الفاظ کو زیادہ احتیاط سے استعمال کرے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ، ”نارمل حالات کو بیان کرتے ہوئے طبی الفاظ کے استعمال سے گریز کیا جانا چاہیے۔ اس لیے ہر کمی افسردگی یا ہر ناخوشگوار صورت حال کا ایک ہی محرک نہیں ہوسکتا ہے۔‘‘

گوا: سوشل میڈیا پر ڈالے گئے مسلم جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے مواد، کئی علاقوں میں کشیدگی

0
گوا:-سوشل-میڈیا-پر-ڈالے-گئے-مسلم-جذبات-کو-ٹھیس-پہنچانے-والے-مواد،-کئی-علاقوں-میں-کشیدگی

گوا میں مسلم طبقہ کے جذبات کو مجروح کرنے والے سوشل میڈیا پوسٹ ڈالے گئے ہیں جس کے بعد ریاست کے کچھ حصوں میں کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق کچھ نامعلوم اشخاص نے مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پیغام پوسٹ کیا ہے جس سے مسلم طبقہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ مسلم تنظیموں نے اس سلسلے میں پنجی، مڈگاؤں، پونڈا، ماپوسا واقع پولیس تھانے پہنچ کر شکایت بھی درج کرائی ہے۔

مسلم تنظیموں نے سائبر کرائم ڈپارٹمنٹ میں ایک شکایت دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے انسٹاگرام پر فرضی اکاؤنٹ بنائے ہیں اور مبینہ طور پر پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے خلاف کچھ قابل اعتراض تبصرے کیے ہیں، انھیں گرفتار کیا جانا چاہیے۔ سینکڑوں لوگ ’فوری کارروائی‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے پولیس اسٹیشنوں پر جمع بھی ہوئے تھے۔ پولیس نے انھیں معاملے کی جانچ کر قصورواروں کو پکڑنے کا یقین دلایا اور انھیں گھر واپس بھیجا۔

ایک پولیس اسٹیشن کے باہر اکٹھا ہوئے لوگوں میں سے ایک نے کہا کہ ’’ہمارے مذہب پر جو بھی تبصرے کیے جاتے ہیں، ہمیں اس سے تکلیف پہنچتی ہے۔ گوا میں عیسائی، ہندو اور مسلم امن کے ساتھ مل جل کر رہ رہے ہیں۔ ہم وزیر اعلیٰ پرمود ساونت اور پولیس محکمہ سے قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے کی گزارش کرتے ہیں۔‘‘

عباس نامی شخص کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ دیکھا جو ہمارے مذہب کے خلاف تھا۔ اس لیے ہم نے پولیس افسران سے ملاقات کی اور ان لوگوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جنھوں نے ہمارے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ گوا میں ایسی چیزیں کبھی نہیں ہوئیں۔ ہم نے پونڈا، پنجی، ماپوسا اور مڈگاؤں میں شکایتیں درج کرائی ہیں۔‘‘ عبدالرؤف نامی ایک شخص نے کہا کہ انسٹاگرام کی ایک آئی ڈی میں ان کی تصویر کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’مجھے واقعہ کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں تھی۔ لیکن میرے گھر والوں نے مجھے بتایا کہ کوئی میری تصویر کا استعمال کر کے سوشل میڈیا پر تبصرے پوسٹ کر رہا ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کے لیے میری تصویر کا استعمال کس نے کیا ہے۔ میں وزیر اعلیٰ پرمود ساونت سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ پولیس کو کارروائی کا حکم دیں۔‘‘

اس درمیان گوا پولیس نے معاملے کی جانچ کے لیے ایک سائبر ٹیم تشکیل دی ہے۔ جنوبی گوا کے پولیس سپرنٹنڈنٹ نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کیا ہے کہ ’’انسٹاگرام پر مڈگاؤں اور پونڈا پی ایس میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے قابل اعتراض پوسٹ کے سلسلے میں نامعلوم شخص کے خلاف درج معاملے کی گہرائی سے جانچ کے لیے ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور ساؤتھ ڈسٹرکٹ سائبر ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت نے پہلے ہی ایسے کسی بھی تبصرہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی تنبیہ دی تھی جو ممکنہ طور سے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا سکتے ہیں۔ ساونت نے کہا تھا کہ ’’کسی کو بھی دوسرے مذہب کی تنقید نہیں کرنی چاہیے۔ یہ ہر شخص پر منحصر کرتا ہے کہ اسے کس بھگوان کی تعریف کرنی چاہیے یا کسی کی عبادت کرنی چاہیے۔ نہ تو ہندو اور نہ ہی عیسائی کو دوسرے مذاہب کے خلاف بولنا چاہیے۔ اگر لوگوں کے جذبات ایسے بیانات سے مجروح ہوتے ہیں تو حکومت کارروائی کرے گی۔‘‘

انڈیا اتحاد ’پھوٹ ڈالو، راج کرو‘ پالیسی کے خلاف 2 اکتوبر کو ممبئی میں نکالے گا ’میں بھی گاندھی‘ امن مارچ

0
انڈیا-اتحاد-’پھوٹ-ڈالو،-راج-کرو‘-پالیسی-کے-خلاف-2-اکتوبر-کو-ممبئی-میں-نکالے-گا-’میں-بھی-گاندھی‘-امن-مارچ

برسراقتدار بی جے پی کے ذریعہ ملک میں اپنائی جا رہی ’پھوٹ ڈالو اور راج کرو‘ کی پالیسی سے فکرمند اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ مہاتما گاندھی کی 154ویں سالگرہ یعنی 2 اکتوبر کو ممبئی میں ’میں بھی گاندھی‘ امن مارچ نکالے گا۔ ممبئی کانگریس صدر پروفیسر ورشا گائیکواڈ سمیت انڈیا اتحاد کے سرکردہ لیڈران نے آج ایک پریس کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا اور کہا کہ ممبئی کے ساتھ ساتھ باقی مہاراشٹر میں بھی نفرت کے واقعات لگاتار ہو رہے ہیں جو فکر انگیز ہیں۔

میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ورشا گائیکواڈ نے کہا کہ ’’نفرت انگیز واقعات کی مذمت کرتے ہوئے سماج میں خیر سگالی پیدا کرنے کی بھی سخت ضرورت ہے۔ انڈیا اتحاد 2 اکتوبر کو پیدل مارچ کے ذریعہ سے لوگوں کے درمیان گاندھی جی کی محبت، امن اور خیر سگالی کی تعلیمات کو عام کرے گا۔‘‘ ورشا گائیکواڈ نے مزید کہا کہ ’’ہم بی جے پی کے دوہرے پن کی مذمت کرتے ہیں۔ جب وزیر اعظم نریندر مودی بیرون ممالک جاتے ہیں تو وہ مہاتما گاندھی اور گوتم بدھ کے مجسمہ کے سامنے جھکتے ہیں، لیکن گھر واپس آ کر اپنے ان مریدوں کو کچھ نہیں کہتے جو گاندھی جی کے قاتلوں کی تعریف کرتے ہیں، قومی پرچم اور قومی ترانہ کی بے عزتی کرتے ہیں۔ ریاستی حکومت ان لوگوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کر رہی ہے؟‘‘

اس پریس کانفرنس میں سماجوادی پارٹی کے ریاستی صدر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی، سابق رکن اسمبلی اور این سی پی لیڈر ودیا چوہان، این سی پی سٹی صدر راکھی جادھو، عآپ سٹی صدر پریتی شرما، سی پی آئی لیڈر پرکاش ریڈی، ڈی ایم کے ریاستی چیف، سی پی آئی ایم کے شیلندر کامبلے، پیجنٹ اینڈ ورکرس پارٹی کے لیڈر سامیہ کورڈے، جنتا دل یو لیڈر امت جھا، آر جے ڈی لیڈر محمد اقبال کے علاوہ انڈیا اتحاد کے کئی دیگر لیڈران بھی موجود تھے۔

انڈیا اتحاد کے لیڈران نے کہا کہ گاندھی جی اور سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی جینتی کے موقع پر پیر کے روز دوپہر میٹرو سنیما سے منترالے تک ’میں بھی گاندھی‘ پیدل مارچ میں ہزاروں لوگوں کے شامل ہونے کی امید ہے۔ پیدل مارچ میں تشار گاندھی، ڈاکٹر جی جی پاریکھ، فیروز میٹھی بوروالا، گڈی ایس ایل، رام پنیانی، عرفان انجینئر، سندھیا گوکھلے، نرنجنی شیٹی، پریرنا دیسائی، علی بھوجانی جیسے گاندھی وادی اور سیکولر شخصیات شامل ہوں گی۔

کرناٹک: وزراء، دانشوروں، اداکاروں کو جان سے مارنے کی دھمکی، پولیس محکمہ میں کھلبلی

0
کرناٹک:-وزراء،-دانشوروں،-اداکاروں-کو-جان-سے-مارنے-کی-دھمکی،-پولیس-محکمہ-میں-کھلبلی

کرناٹک میں تین وزراء، مذہبی دانشوروں اور اداکاروں کو نامعلوم شخص کے ذریعہ جان سے مارنے کی دھمکی بھرا خط برآمد ہوا ہے۔ تین وزراء کی شناخت وزیر صحت دنیش گنڈو راؤ، آئی ٹی وزیر پریانک کھڑگے اور پی ڈبلیو ڈی وزیر ستیش جارکیہولی کی شکل میں کی گئی ہے۔ جان سے مارنے کی دھمکی والا خط نجگونانند سوامی جی کے ذریعہ چل رہے نشکلا متمپا آشرم کے پتہ پر پوسٹ کیا گیا تھا۔

خط میں ترقی پسند دانشوروں ایس جی سدارمیا، کے مارولاسدپا، باراگرو رامچندرپا، بھاسکر پرساد، پروفیسر بھگوان، پروفیسر مہیش چندر گرو، بی ٹی للیتا نایک، دوارکاناتھ، دیوانورو مہادیو، بی ایل وینو، اداکار اور سماجی کارکن پرکاش راج اور چیتن اہنسا کے ناموں کا بھی تذکرہ ہے۔ یہ خط بیلگاوی ضلع کے بیلاہونگلا واقع آشرم کو گزشتہ 20 ستمبر کو ملا تھا۔ دھمکی بھرے اس خط میں سوال کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کا نام لیا گیا ہے، کیا ان میں مسلمانوں کے ذریعہ کیے جا رہے عمل کے بارے میں بولنے کی ہمت ہے؟ خط میں ان سے یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ کیا ملک مخالف سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھائیں گے؟

خط میں ترقی پسند مذہبی گرو نجاگونانند سوامی جی کا بھی تذکرہ ہے اور کہا گیا ہے کہ انھیں خط کو ڈیتھ وارنٹ کی شکل میں لینا چاہیے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’’موت آپ کے پاس آئے گی۔ میں مذاق نہیں کر رہا۔ آپ انسان کی شکل میں راکشش ہو۔ آپ اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں ہو۔ تمھیں ختم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔‘‘

اس درمیان پولیس نے ہفتہ کے روز کہا کہ کرناٹک کے داونگیرے ضلع کے ایک ہندو کارکن شیواجی راؤ جادھو کو 15 سے زیادہ ترقی پسند کنڑ رائٹرس اور دانشوروں کو دھمکی بھرے خط بھیجنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ حالانکہ پولیس نے یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ خط اسی ملزم نے لکھا ہے یا نہیں۔ جادھو کو سٹی سنٹرل کرائم برانچ (سی سی بی) کے افسران نے ضلع سے گرفتار کیا۔ بہرحال، بتایا جا رہا ہے کہ دھمکی آمیز خط کی تعداد ایک نہیں بلکہ کئی ہے۔ یہ معاملہ اسپیشل وِنگ سی سی بی کو سونپ دیا گیا ہے اور فورنسک سائنس لیباریٹری (ایف ایس ایل) کے ماہرین نے پایا ہے کہ سبھی خط ایک ہی شخص کے ذریعہ لکھے گئے تھے، لیکن مختلف ضلعوں اور تعلقوں سے پوسٹ کیے گئے تھے۔

اب 7 اکتوبر تک بدلے جا سکیں گے 2000 روپے کے نوٹ، آر بی آئی کا فیصلہ

0
اب-7-اکتوبر-تک-بدلے-جا-سکیں-گے-2000-روپے-کے-نوٹ،-آر-بی-آئی-کا-فیصلہ

جن کے پاس اب بھی 2000 روپے کے نوٹ پڑے ہوئے ہیں، انھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آر بی آئی نے اس نوٹ کو بدلنے کی آخری تاریخ یعنی 30 ستمبر میں توسیع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے ہفتہ کے روز ایک پریس ریلیز جاری کیا ہے جس میں بتایا کہ ہے کہ اب 2000 روپے کے نوٹ بدلنے کی آخری تاریخ 7 اکتوبر 2023 کر دی گئی ہے۔ یعنی آپ کے پاس اگر 2000 روپے کے نوٹ ہیں تو آپ 7 اکتوبر تک اسے بدل سکتے ہیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے جانکاری دی ہے کہ ریویو کیے جانے کے بعد فیصلہ لیا گیا کہ نوٹ بدلنے کی تاریخ میں 7 اکتوبر تک توسیع کی جائے۔

آر بی آئی کی رپورٹ کے مطابق اب تک 93 فیصد 2000 روپے کے نوٹ بینک میں واپس آ چکے ہیں۔ 19 مئی 2023 کو آر بی آئی نے 2000 روپے کے نوٹ کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ آر بی آئی نے صارفین سے کہا تھا کہ آپ بینک میں جا کر اپنے نوٹ بدل سکتے ہیں اور دیگر قدروں کے نوٹ کو حاصل کر سکتے ہیں۔

ویسے آر بی آئی نے 7 اکتوبر کے بعد بھی 2000 روپے کے نوٹ بدلنے کا ایک راستہ لوگوں کے لیے کھلا رکھا ہے۔ سنٹرل بینک نے اپنے سرکلر میں کہا ہے کہ توسیع شدہ تاریخ یعنی 7 اکتوبر تک اگر 2000 روپے کے نوٹوں کو نہیں بدلا جاتا ہے، یعنی اس کے بعد بھی اگر کسی کے پاس 2000 روپے کے نوٹ رہ جاتے ہیں تو آپ اسے بھلے ہی بینک میں جمع اور بدل نہیں سکیں گے، لیکن آر بی آئی کے 19 علاقائی دفاتر میں یہ بدلا جا سکے گا۔ حالانکہ ایک بار میں 20 ہزار روپے سے زیادہ کے نوٹ نہیں بدلے جا سکیں گے۔

ایک غلطی سے ڈرائیور کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہو گئے 9000 کروڑ روپے، بینک کا سی ای او مستعفی!

0
ایک-غلطی-سے-ڈرائیور-کے-اکاؤنٹ-میں-ٹرانسفر-ہو-گئے-9000-کروڑ-روپے،-بینک-کا-سی-ای-او-مستعفی!

تمل ناڈو میں ایک کیب ڈرائیور کے اکاؤنٹ میں اچانک 9000 کروڑ روپے آ گئے۔ موبائل پر اس کا میسج آیا تو کیب ڈرائیور کو لگا کہ یہ کوئی فراڈ ہے، حالانکہ اس نے چیک کرنے کے لیے اپنے اکاؤنٹ سے 21000 روپے اپنے دوست کو ٹرانسفر کیے۔ جب یہ ٹرانزیکشن ہو گیا تو کیب ڈرائیور خوشی سے جھوم اٹھا۔ لیکن یہ خوشی کچھ ہی لمحات کی رہی، کیونکہ بینک نے یہ 9000 کروڑ روپے واپس لے لیے۔

یہ واقعہ ایک ہفتہ پہلے کا ہے اور تمل ناڈو مرکنٹائل بینک سے جڑا ہوا ہے۔ اب اس معاملے میں بینک کے سی ای او کے مستعفی ہونے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ حالانکہ سی ای او نے اپنے استعفیٰ کی وجہ ذاتی بتائی ہے۔ تمل ناڈو مرکنٹائل بینک کے سی ای او ایس کرشنن نے اپنے استعفیٰ نامہ میں لکھا ہے کہ ابھی ان کی دو تہائی ملازمت باقی بچی ہوئی ہے، لیکن کچھ ذاتی اسباب سے بینک میں مزید خدمات دے پانے میں اہل نہیں ہیں۔ انھوں نے اس بینک میں بطور سی ای او ستمبر 2022 میں ہی جوائن کیا تھا۔ بینک کے منیجنگ بورڈ نے جمعرات کو ہوئی میٹنگ میں ان کے استعفیٰ کو منظور کرنے کے ساتھ ہی آر بی آئی کو مطلع بھی کر دیا ہے۔ ساتھ ہی ایس کرشنن کو آر بی آئی کی گائیڈلائن آنے تک اپنے عہدہ پر برقرار رہنے کو کہا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ بینک کے سافٹ ویئر میں کچھ تکنیکی غلطی کی وجہ سے ایک کیب ڈرائیور کے اکاؤنٹ میں 9000 کروڑ روپے منتقل ہو گئے تھے۔ بینک کو جب اس غلطی کا احساس ہوا تو کیب ڈرائیور نے اس میں سے 21 ہزار روپے نکال لیے تھے۔ ایسے میں بینک نے باقی رقم واپس اپنے پاس ٹرانسفر کر لی۔ ساتھ ہی بینک نے کیب ڈرائیور کو 21000 روپے کی ریکوری کے لیے نوٹس بھی تھما دیا۔

مودی حکومت کی ’نئی تعلیمی پالیسی‘ تاریخ کو ختم کرنے کی کوشش: کانگریس

0
مودی-حکومت-کی-’نئی-تعلیمی-پالیسی‘-تاریخ-کو-ختم-کرنے-کی-کوشش:-کانگریس

کانگریس نے آج مودی حکومت کے ذریعہ پیش کردہ نیو ایجوکیشن پالیسی (نئی تعلیمی پالیسی) کو ملک اور آئین کے لیے خطرناک بتاتے ہوئے اس کی خامیوں کو میڈیا کے سامنے رکھا۔ کانگریس کے شیڈولڈ کاسٹ سیل کے قومی صدر راجیش للوتیا نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’بی جے پی جو نیو ایجوکیشن پالیسی لے کر آئی ہے، وہ بے حد خطرناک ہے۔ پہلے بچوں کو نصاب میں ملک کی تحریک آزادی کے بارے میں پڑھنے کو ملتا تھا، مجاہدین آزادی کے بارے میں جانکاری دی جاتی تھی، لیکن اب اس تاریخ کو ختم کرنے کی سازش بی جے پی کے ذریعہ ہو رہی ہے۔ دراصل نیو ایجوکیشن پالیسی کے ذریعہ نصاب کی بھگواکاری ہو رہی ہے۔‘‘

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے راجیش للوتیا نے کہا کہ ’’پہلے سبھی ریاست کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ بچوں کے لیے نصاب تیار کرے۔ یہ حق ریاست کو ہندوستانی آئین نے دیا تھا۔ لیکن اب تعلیم کو سنٹرلائز کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ یعنی جنوبی ہند کے بچے کو بھی وہی کچھ پڑھنے کہا جائے گا جو شمالی ہند کے بچے پڑھیں گے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ہر ریاست کی اپنی تہذیب، اپنی تاریخ اور اپنا نظریہ ہوتا ہے۔ بچے اپنی اپنی ریاستوں کی تہذیب کے ساتھ پرورش پاتے ہیں اور ریاستوں کا حق ہے کہ وہ انھیں اسی تہذیب و تمدن اور مقامی تاریخ کی تعلیم دیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ جس طرح سے بی جے پی تعلیم کی بھگواکاری کی کوشش کر رہی ہے، وہ صرف بچوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ہندوستانی آئین کے لیے بھی خطرناک ہے۔

پریس کانفرنس میں راجیش للوتیا نے تعلیم کے تعلق سے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا نظریہ بھی پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر جی نے کہا تھا کہ تعلیم ایک شیرنی کا دودھ ہے، اور جو کوئی بھی اسے پیے گا وہ شیر کی طرح دہاڑے گا۔ انھوں نے تعلیم یافتہ بننے، منظم بننے اور جدوجہد کرنے کی ترغیب دی تھی۔ بابا امبیڈکر نے سماج کے ہر طبقہ سے کہا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنائیں کیونکہ جس کنبہ میں تعلیم کی روشنی ہوگی وہاں کبھی تاریکی جگہ نہیں پائے گی۔‘‘

چاند پر ہونے والی ہے شام، پھر ہوگی سرد رات، کیا اس سے پہلے بیدار ہو پائیں گے وکرم اور پرگیان؟

0
چاند-پر-ہونے-والی-ہے-شام،-پھر-ہوگی-سرد-رات،-کیا-اس-سے-پہلے-بیدار-ہو-پائیں-گے-وکرم-اور-پرگیان؟

چندریان-3 بھلے ہی کامیابی کے ساتھ اپنا مشن مکمل کر چکا ہے، لیکن اِسرو کے سائنسداں اس کوشش میں مصروف ہیں کہ ایک بار پھر وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر بیدار ہو تاکہ چاند کے بارے میں کچھ نئی جانکاریاں بھی حاصل کی جا سکیں۔ حالانکہ لگاتار بھیجے جا رہے سگنل کا کوئی جواب وکرم اور پرگیان سے حاصل نہیں ہو رہا ہے۔ اب تو چاند شام بھی ہونے والی ہے، اور پھر اس کے بعد سرد رات ہوگی۔ یعنی 6-5 دنوں بعد تو ویسے بھی وکرم اور پرگیان کے جاگنے کی امید ختم ہو جائے گی۔

اِسرو کے سائنسدانوں نے اب تک جو جانکاری دی ہے اس کے مطابق چندریان-3 کے لینڈر وکرم اور رووَر پرگیان سے کسی طرح کا کوئی اشارہ نہیں مل رہا ہے۔ گزشتہ 21 ستمبر کو چاند کے جنوبی قطب پر سورج کی روشنی پڑنی شروع ہوئی اور اب تک 9 دن گزر چکے ہیں۔ اِسرو نے 22 ستمبر سے کئی بار سگنل بھیجا لیکن وکرم اور پرگیان کی طرف سے کوئی ریٹرن سگنل نہیں ملا۔ یہ کوشش اب بھی جاری ہے، لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ وکرم اور پرگیان کے فعال ہونے کی امیدیں بھی ختم ہوتی جا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ 23 اگست 2023 کو اِسرو کا چندریان-3 چاند کے جنوبی قطب پر اترا تھا۔ لینڈر وکرم نے پنکھ کی طرف تیرتے ہوئے چاند کی زمین کو چھوا تھا اور اس کے بعد اس میں سے رووَر پرگیان چاند کی سطح پر اترا تھا۔ سائنسدانوں نے شروعاتی 15 دنوں کے لیے وکرم اور پرگیان میں بیٹری کی صلاحیت ڈالی تھی۔ اس دوران پرگیان اور وکرم اپنے کام کو امید کے مطابق انجام دیتے رہے۔ بیٹری کی صلاحیت جب ختم ہونے لگی تو سورج کی روشنی سے پرگیان اور وکرم کو مکمل چارج کر دونوں کو سلیپ موڈ میں ڈال دیا گیا تھا اور چاند پر رات گزرنے کا انتظار کیا جانے لگا۔ سائنسداں امید کر رہے تھے کہ جب چاند پر دوبارہ صبح ہوگی تو سورج کی روشنی سے وکرم اور پرگیان کا بیٹری چارج ہو جائے گا اور پھر دونوں نئی توانائی کے ساتھ کام کر سکیں گے۔ حالانکہ فی الحال یہ ممکن نہیں ہو سکا ہے۔