جمعرات, مارچ 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 85

سال 2024 کا الیکشن ملک کے لئے انقلابی ہوگا: اکھلیش

0
سال-2024-کا-الیکشن-ملک-کے-لئے-انقلابی-ہوگا:-اکھلیش

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے قومی صدر و سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے اتوار کو کہا کہ سال 2024 کا لوک سبھا الیکشن ملک کے لئے انقلابی ہوگا۔ مرکز میں انڈیا اتحاد کی حکومت بنے گی تو ملک بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر اور ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کے اصولوں اور ان کے بتائے گئے راستوں پر چلے گا لیکن اگر پیچھے رہ گئے تو بی جے پی آئین تبدیل کر نہ جانے کس راستےپر لےجائے گی۔

اکھلیش یادو نے لکھنؤ، گومتی نگر کے اندرا گاندھی پرتشٹھان میں سابق ایم ایل اے نیرج موریہ کے ذریعہ لکھی گئی کتاب ’دلت اور پچھڑوں کے ووٹوں سے ستہ‘ کے رسم اجرائی کے موقع پر اجلاس خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانچ ہزار سال پہلے جو ذات نظام آیا اسی سے سماج میں دوریاں پیدا ہوئیں۔ وقت وقت پر بزرگوں نے سماجی اصلاحات کے لئے کام کیا۔مہاتما جیوتی با پھولے، شاہو جی مہاراج، پیریار، بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر، کانشی رام، ڈاکٹر رام منوہر لوہیا، نیتا جی نے سماج کو بیدار کرنے اور بیداری بڑھانے کا کام کیا۔ ہمیں توقع ہے کہ جس وقت سماج پڑھ لکھ جائے گا۔ ذاتیاں ٹوٹیں گی ۔ جس وقت سماج خوشحال ہوجائے گا ہر ذات ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہوجائے گی۔

انہوں نے کتابیں لکھنے کے لئے موریہ کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ سماج میں تبدیلی آرہی ہے لیکن جتنا ہونا چاہئے اتنا نہیں ہوا۔ بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے سماج کو بیدار کرنے کا کام کیا۔ ڈاکٹر رام منوہر لوہیا نے ذات توڑو مہم چلایا۔ ڈاکٹر بھی راؤ امبیڈکر اور ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کے وصولوں پر چل کر ہی سماج کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے تعلیم سے علم میں اضافہ ہوگا۔ وہیں جدوجہد سے خوشحالی ائے گی۔ اس سے تفریق کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

یادو نے کہا کہ پچھڑے اور دلتوں نے طاقت دے کر مرکزی میں این ڈی اے کی حکومت بنائی تھی۔ بی جے پی حکومتوں نے انہیں طبقات کا استحصال کیا۔ پسماندہ اور دلت چھوڑ دیں گے تو این ڈی اے کہیں نہیں بچے گی۔ انہوں نے کہا کہ پچھڑوں۔ دلتوں کو آگے بڑھانے کے لئے سرکاری اداروں کومضبوط اور اہل بنانا پڑے گا۔ پرائمری اسکولوں میں پچھڑے اور دلت سماج کے بچے پڑھتے ہیں۔

اسکولوں کی حالت بے حد خراب ہے۔ ریاست میں تین ہزار پرائمری اسکول بند ہوگئے ہیں۔ اسی طرح سے سرکاری اسپتالوں میں علاج کے لئے سب سے زیادہ غریب لوگ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سرکاری اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا۔ ہم سرکاری میں آئیں گے تو سرکاری اداروں کو اچھا اور مضبوط بنائیں گے۔

اتراکھنڈ کے مسلمان خوفزدہ کیوں ہیں؟

0
اتراکھنڈ-کے-مسلمان-خوفزدہ-کیوں-ہیں؟

اتراکھنڈ میں مسلمان خوف کے سائے میں جی رہے ہیں۔ اس موسم گرما میں ‘لو جہاد’ کے ایک فرضی معاملہ کی تشہیر کی گئی اور اس کے بعد ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں کو اپنے کام دھندے سمیٹ کر اتراکھنڈ چھوڑ کر چلے جانے کو کہا۔ صرف اتنا ہی نہیں مسلمانوں کی دکانوں پر سیاہ رنگ کے نشان لگا دیے گئے، بازار میں دھمکی آمیز پوسٹر نظر آنے لگنے لگے۔ ایسے حالات میں کچھ خوف زدہ مسلم خاندان ریاست چھوڑ کر چلے بھی گئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ لو جہاد کے اس مبینہ معاملہ میں ملوث افراد میں سے ایک ہندو تھا۔ لڑکی کے چچا کا کہنا ہے کہ ‘جرم’ کا کوئی مذہبی زاویہ نہیں تھا۔ اس کے باوجود ہندو انتہا پسندوں نے اپنی طرف سے ایک شکایت تیار کی، جسے پولیس نے قبول نہیں کیا لیکن پولیس کا ایف آئی آر درج کرنے سے انکار نہ تو ان لوگوں کو مئی اور جون کے دوران فرقہ وارانہ جنون بھڑکانے سے روک سکا اور نہ ہی وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو ‘لو جہاد’ کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا اعلان کرنے سے۔

نریندر مودی حکومت پارلیمنٹ کو یہ اطلاع دے چکی ہے کہ ‘لو جہاد’ جیسا کوئی جرم موجود نہیں ہے، اس کے باوجود بی جے پی لیڈر مودی حکومت کے گزشتہ نو سالوں کے دوران اس پسماندہ نظریہ کو قومی دھارے میں لے آئے ہیں کہ بڑی تعداد میں ہندو اس پر یقین بھی کرنے لگے ہیں۔

ریاست کے شمال میں واقع اترکاشی میں پیش آنے والے اس واقعے پر ابھی دھول بھی نہیں جمی تھی کہ 400 کلومیٹر دور ریاست کے جنوب میں واقع مشہور سیاحتی مقام نینی تال میں ایک اور واقعے نے مسلمانوں کو اپنی زندگی اور معاش کے حوالہ سے خوف میں مبتلا کر دیا۔ جون میں دائیں بازو کی کچھ خبر رساں تنظیموں نے خبر دی تھی کہ ہلدوانی بلاک کے دیہی علاقے کملواگنج میں محمد نفیس نامی ایک مسلم بڑھئی نے ہندو ہونے کا جھانسہ دیا اور گائے کی عصمت دری کرنے کی کوشش کی۔ ان الزامات کی بنیاد پر ہندوؤں نے اسے مارا پیٹا اور اس کا سر منڈوا دیا۔

اس کے بعد جو ہوا اسے مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا لیکن قومی خبروں میں کبھی جگہ نہیں ملی۔ چونکہ پولیس نے ہندو بنیاد پرستوں کو قابو کرنے کی کوشش نہیں کی اس لیے وہ مسلمانوں کو دھمکاتے رہے اور نتیجہ یہ ہوا کہ سینکڑوں مسلمانوں نے اپنی دکانیں بند کر دیں۔ پرولا کے مقابلے میں کملوا گنج کے واقعہ کے بارے میں مسلم کارکنوں نے زیادہ آواز بلند کی۔ اس واقعے کے چار ماہ بعد 6 ستمبر کو جب ہرش مندر ہلدوانی آئے تو مسلم کارکنوں نے ان سے ملاقات کی اور بتایا کہ مسلمان اب اتراکھنڈ میں رہنے سے ڈر رہے ہیں۔

مینڈر نے 2017 میں ’کاروانِ محبت‘ مہم شروع کی تھی اور اسی کے تحت وہ اتراکھنڈ گئے تھے اور ہلدوانی میں دی گئی تقریروں کی ریکارڈنگ بھی آرٹیکل-14 ڈاٹ کام پر شیئر کی۔ انہوں نے بتایا کہ ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے مسلم مخالف مہم کا پیغام کچھ اس طرح لگتا ہے، ’’خواتین ہماری ملکیت ہیں، اور آپ ان کے ساتھ ‘لو جہاد’ کر رہے ہیں۔ گائے ہماری ماتا ہے اور آپ ان کی عصمت دری کر رہے ہیں۔‘‘

ایک شخص نے بتایا کہ نفیس پر یہ الزام ایک ہندو نے لگایا تھا جس کے پیسے نفیس کے پاس تھے۔ اس شخص نے کہا ’’سوال یہ ہے کہ پولیس نے ابتدائی تفتیش کے بغیر نفیس کو کیوں گرفتار کیا اور ان ہندوؤں کو کیوں گرفتار نہیں کیا جنہوں نے بڑھئی کو بے دردی سے مارا پیٹا، مسلمانوں کو وہاں سے جانے کو کہا اور ان کی دکانیں بند کرا دیں؟‘‘

پرولا اور ہلدوانی کے واقعات سے قبل اس سال اپریل میں سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف از خود نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی آر درج کریں اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کریں۔ اکتوبر 2022 میں سپریم کورٹ نے خاص طور پر اتر پردیش، اتراکھنڈ اور دہلی کو ایسا کرنے کا حکم دیا تھا۔

ہرش مندر نے کہا کہ اتراکھنڈ کے متعلقہ لوگ ان سے ریاست میں مسلم مخالف نفرت کے بڑھتے بخار کے بارے میں طویل عرصے سے بات کر رہے ہیں لیکن انہوں نے اس ڈر سے میٹنگ ملتوی کر دی کہ ایسا کرنے سے وہ نشانہ بن جائیں گے اور ان کے لیے حالات مزید مشکل ہو جائیں گے۔

یہ خدشہ بے وجہ نہیں ہے۔ اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت خود مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ بارہا ’لو جہاد‘ اور ’لینڈ جہاد‘ جیسے الفاظ استعمال کر رہے ہیں اور ’آبادی کے عدم توازن‘ اور ڈیموگرافی میں تبدیلی کی بات کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے مسلمانوں میں بے دخلی، روزی روٹی کے نقصان اور ممکنہ تشدد کا خوف پیدا ہو گیا ہے۔

خیال رہے کہ 47 سالہ دھامی نے جولائی 2021 میں سیاسی بحران کے بعد ریاستی حکومت کا چارج سنبھالا جو تیرتھ سنگھ راوت کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد ختم ہوا تھا۔ دھامی اگلے سال اسمبلی انتخابات ہار گئے لیکن ان کی پارٹی نے انہیں دوسری مدت کے لیے منتخب کیا۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپنی پہلی میعاد کے چھ ماہ کے دوران بنائی گئی ‘شبیہ’ کے لیے انہیں مبارکباد دی۔ جب وہ دو ماہ بعد ضمنی انتخاب جیت گئے تو وزیر اعظم مودی نے انہیں مبارکباد دی۔

2017 میں، مودی نے یوگی آدتیہ ناتھ کا انتخاب کیا، جو مسلمانوں کے بارے میں بات کرتے وقت توہین آمیز اور پرتشدد زبان اتر سال 2017 میں وزیر اعظم مودی نے یوگی آدتیہ ناتھ کا اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کے طور پر انتخاب کیا جو مسلمانوں کے بارے میں بولتے ہوئے توہین آمیز اور پرتشدد زبان استعمال کرنے کے لئے مشہور تھے۔ وہ گورکھپور سے پانچ بار رکن اسمبلی رہے اور ان کی شبیہ ایک انتہائی سخت ہندو قوم پرست رہنما کی تھی۔ انہوں نے ’لو جہاد‘ کے سازشی نظریہ کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

تبھی سے مدھیہ پردیش اور اتراکھنڈ کے وزرائے اعلیٰ، جو کبھی بھی فرقہ وارانہ طور پر اتر پردیش کی طرح تقسیم نہیں ہوئے، نے بھی خود کو آدتیہ ناتھ کی طرز پر ڈھالنا شروع کر دیا۔ انہوں نے تبدیلی مذہب کے خلاف قوانین کو انتہائی سخت بنایا جس کا بین مذہبی شادیوں پر خاصا اثر پڑا۔ فوجداری مقدمات میں مجرم ثابت ہونے سے پہلے ہی مسلمانوں کے گھروں کو بلڈوز کیا جا رہا ہے۔ اس طرح ریاست میں مسلمانوں کے خلاف تشدد کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔

دھامی کے وزیر اعلی بننے کے چھ ماہ بعد دسمبر میں ہندو سنت اور بابا مقدس شہر ہریدوار میں ‘دھرم سنسد’ کے لیے جمع ہوئے جہاں انہوں نے دو دن تک نفرت انگیز تقاریر کیں۔ انہوں نے ہندوؤں سے کہا کہ اقتصادی بائیکاٹ کافی نہیں ہے، انہیں ‘صفائی مہم’ کے لیے ہتھیار اٹھانا ہوں گے اور ‘جان لینے کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا!‘ کسی بھی مقرر کو اقلیتی برادری کے خلاف تشدد کی دھمکی دینے کا مجرم نہیں ٹھہرایا گیا اور ان میں سے کچھ تو اگلے دو سال تک نفرت انگیز تقاریر کرتے رہے۔

اجے ماکن آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے نئے خزانچی مقرر

0
اجے-ماکن-آل-انڈیا-کانگریس-کمیٹی-کے-نئے-خزانچی-مقرر

نئی دہلی: انڈین نیشنل کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے سینئر لیڈر اجے ماکن کو آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کا نیا خزانچی مقرر کیا ہے۔ یہ معلومات دیتے ہوئے کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے نے اجے ماکن سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنا کام شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی اور کھڑگے نے اب تک پارٹی کے خزانچی کے طور پر خدمات انجام دینے والے سینئر لیڈر پون کمار بنسل کے تعاون کی تعریف کی ہے۔

اجے ماکن سے پہلے سابق مرکزی وزیر پون کمار بنسل کانگریس کے خزانچی تھے۔ انہیں پارٹی کے سینئر لیڈر احمد پٹیل کی موت کے بعد اس عہدے پر مقرر کیا گیا تھا، جو راجیہ سبھا کے رکن تھے۔

خیال رہے کہ سینئر کانگریس لیڈر اجے ماکن اے آئی سی سی کے جنرل سکریٹری اور کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کے رکن ہیں۔ وہ اس سے قبل سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی کابینہ میں اور دہلی کی سابق وزیر اعلیٰ شیلا دکشت کی کابینہ میں وزیر رہ چکے ہیں۔ وہ دو بار رکن پارلیمنٹ اور تین بار دہلی اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے۔ ماکن دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔

وزیر اعظم کا دورہ تلنگانہ، محبوب نگر میں 13500 کروڑ روپے کے ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا

0
وزیر-اعظم-کا-دورہ-تلنگانہ،-محبوب-نگر-میں-13500-کروڑ-روپے-کے-ترقیاتی-کاموں-کا-سنگ-بنیاد-رکھا

حیدرآباد: وزیر اعظم مودی نے تلنگانہ کے ضلع محبوب نگر میں 13500 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے کئی ترقیاتی پراجکٹس کا سنگ بنیاد رکھا اور ان کاموں کو قوم کے نام وقت کیا۔ ان ترقیاتی کاموں میں سڑک، ریل، پٹرولیم، قدرتی گیس اور اعلی تعلیم کے اہم شعبہ جات کے ترقیاتی پراجکٹس شامل ہیں۔ انہوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ٹرین خدمات کو بھی ہری جھنڈی دکھائی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ کی پارلیمنٹ میں منظوری سے نوراتری سے پہلے ’شکتی پوجا‘ کے جذبہ کا اظہار ہوا ہے۔ انہوں نے مختلف پراجکٹس کے سنگ بنیاد رکھنے اور افتتاح کرنے پر مسرت کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’’آج کئی روڈ کے پراجکٹس کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے، جس سے یہ علاقہ تبدیل ہو جائے گا۔ ناگپور۔وجئے واڑہ معاشی راہداری سے تلنگانہ، اے پی اور مہاراشٹر تک ٹرانسپورٹیشن میں سہولت ہو سکے گی۔ اس سے ان ریاستوں میں تجارت، سیاحت اور انڈسٹری میں مدد مل سکے گی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اہم معاشی ہبس کی نشاندہی راہداری میں کی گئی ہے جن میں 8 خصوصی معاشی زونس، 5 میگا فوڈ مارٹس، 4 فشنگ سی فوڈ کلسٹرس، 3 فارما، میڈیکل کلسٹرس، ایک ٹکسٹائل کلسٹر بھی شامل ہیں۔ ان سے ہنمکنڈہ، محبوب آباد، ورنگل اور کھمم اضلاع کے نوجوانوں کے لئے کئی مواقع کھل جائیں گے۔ انہوں نے بندرگاہوں تک اشیا کی منتقلی کیلئے تلنگانہ جیسی ریاست کے لئے روڈ کنکٹیویٹی کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے کئی معاشی راہداریوں کا گذر تلنگانہ سے ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مشرقی اور جنوبی ساحل سے ریاست کو جوڑنے کا ذریعہ بنے گا۔ حیدرآباد۔وشاکھاپٹنم راہداری کے سوریہ پیٹ۔کھمم سکشن بھی اس خصوص میں مدد ملے گی۔اس سے مشرقی ساحل تک پہنچنے میں بھی مدد ملے گی۔جل کیر اورکرشنا سکشن کے درمیان ریلوے لائن کی تعمیر بھی ریاست کے عوام کے لئے اہم ہے۔

توانائی اور توانائی کی سلامتی کے شعبہ میں دنیابھر میں ہوئی حالیہ تبدیلیوں کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے نہ صرف صنعتوں کے لئے بلکہ گھریلو مقاصد کیلئے بھی توانائی کا انتظام کیا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سال 2014 میں ایل پی جی گیس سلنڈرس کی تعداد 14 کروڑتھی جو سال 2023 میں بڑھ کر 32 کروڑ تک جا پہنچی۔ انہوں نے حال ہی میں گیس سلنڈرس کی قیمتوں میں کمی کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہاسن۔چرلہ پلی ایل پی جی پائپ لائن پراجکٹ کا اس علاقہ کے عوام کے لئے توانانی کی سلامتی کی فراہمی میں اہم رول ہے۔

راہل گاندھی نے انتہائی ذاتی اور فکر انگیز مضمون کے ذریعے عوامی بحث کو تیز کیا: جے رام رمیش

0
راہل-گاندھی-نے-انتہائی-ذاتی-اور-فکر-انگیز-مضمون-کے-ذریعے-عوامی-بحث-کو-تیز-کیا:-جے-رام-رمیش

نئی دہلی: کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے اتوار کو کہا کہ پارٹی لیڈر راہل گاندھی نے اپنے انتہائی ذاتی اور فکر انگیز مضمون سے عوامی بحث کو نمایاں طور پر فروغ دیا ہے، جو اس شخصیت سے مشابہت رکھتا ہے جس کی اصل شکل 4000 کلومیٹر طویل بھارت جوڈو یاترا کے دوران نظر آئی تھی۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج شعبۂ مواصلات جے رام رمیش نے ایکس )سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں پارٹی کے سابق سربراہ کے لکھے گئے مضمون کو منسلک کرتے ہوئے کہا، ’’آج راہل گاندھی نے ایک انتہائی ذاتی اور فکر انگیز مضمون کے ذریعے عوامی بحث کو نمایاں طور پر فروغ دیا اہے۔ یہ ان کی شخصیت سے مشابہت رکھتیا ہے، جس کی اصل شکل 4000 کلومیٹر لمبی بھارت جوڈو یاترا کے دوران نظر آئی تھی۔‘‘

وہیں، کانگریس کے جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’راہل گاندھی کا فکر انگیز مضمون اس بات کی گہری بصیرت فراہم کرتا ہے کہ ہمیں اس پولرائزڈ دور میں ہندو مذہب کو کس طرح دیکھنا چاہیے۔‘‘

خیال رہے کلہ راہل گاندھی نے اتوار کو ’ستیم شیوم سندرم‘ کے عنوان سے ایک مضمون تحریر کر کے کہا ہے کہ ہندو مذہب کو ثقافتی اصولوں کا مجموعہ کہنا غلط ہے اور اسے جغرافیہ سے منسلک کرنا اسے محدود کر دینا ہے۔

کانگریس لیڈر نے اپنے مضمون میں لکھا، زندگی کا تصور خوشی، محبت اور خوف کے ایک وسیع سمندر میں تیرنے کے طور پر کریں۔ ہم اس کی خوبصورت لیکن خوفناک گہرائیوں میں ایک ساتھ رہتے ہیں، اس کے بہت سے طاقتور اور مسلسل بدلتے ہوئے دھاروں سے بچنے کے لیے بے چین ہیں۔ آئیے کوشش کریں۔ سمندر میں محبت، تعلق اور بے پناہ خوشی ہے لیکن خوف بھی ہے، موت کا خوف، بھوک، نقصان کے ساتھ ساتھ درد، بے قدری اور ناکامی کا خوف۔ زندگی اس خوبصورت سمندر میں ہمارا اجتماعی سفر ہے۔ ہم سب تیر رہے ہیں۔ ایک ساتھ۔ یہ خوبصورت ہے، لیکن خوفناک بھی ہے کیونکہ اس وسیع سمندر میں ہم زندگی کہتے ہیں، اس لیے کوئی بھی زندہ نہیں بچ سکا ہے اور نہ ہی کوئی زندہ رہے گا۔

ایشیائی کھیل: راجیشوری نے شوٹنگ میں جیتا چاندی کا تمغہ، والد نے ہندوستان کو دلایا تھا گولڈ میڈل

0
ایشیائی-کھیل:-راجیشوری-نے-شوٹنگ-میں-جیتا-چاندی-کا-تمغہ،-والد-نے-ہندوستان-کو-دلایا-تھا-گولڈ-میڈل

نئی دہلی: ایشین گیمز 2023 میں اتوار کا دن ہندوستان کے لیے اچھا رہا۔ آخری اطلاع موصول ہونے تک ٹیم انڈیا نے ایک گولڈ اور دو سلور میڈل جیت لئے تھے۔ ہندوستان نے شوٹنگ میں سونے اور چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ ہندوستان کی راجیشوری کمار، منیشا کیر اور پریتی راجک نے خواتین کے ٹیم ایونٹ ٹریپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ راجیشوری کی طرح ان کے والد رندھیر سنگھ بھی شوٹر رہ چکے ہیں اور انہوں نے کبھی ہندوستان کے لیے گولڈ میڈل بھی جیتا تھا۔

دراصل رندھیر سنگھ اولمپک کونسل آف ایشیا کے قائم مقام صدر ہیں اور ان کی بیٹی راجیشوری اس بار ایشین گیمز 2023 میں حصہ لے رہی ہیں۔ چین میں ہونے والے ایشین گیمز میں راجیشوری کے والد بھی ان کے ساتھ گئے ہیں۔ رندھیر سنگھ ایشین گیمز میں شوٹنگ میں گولڈ میڈل جیتنے والے پہلے ہندوستانی ہیں۔ ان کی بیٹی بھی اب ان کے نقش قدم پر چل رہی ہیں۔ راجیشوری نے ملک کے لیے تمغہ بھی جیت لیا ہے۔

راجیشوری، منیشا اور پریتی نے خواتین کے ٹیم ایونٹ ٹریپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ ہندوستان کھلاڑیوں کو اس ایونٹ میں سونے کی امید تھی، تاہم انہیں چاندی پر اہی اکتفا کرنا پڑا۔ ٹیم انڈیا نے اتوار کو شوٹنگ میں طلائی تمغہ جیتا۔ کی چنائی، پرتھوی راج ٹونڈائمن اور زوراور سنگھ نے مردوں کے ٹیم ٹریپ مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور طلائی تمغہ جیتا۔

خیال رہے کہ ہندوستانی کھلاڑیوں نے ایشیائی کھیلوں میں اب تک کل 41 تمغے حاصل کیے ہیں، جن میں 11 گولڈ، 16 سلور اور 14 برانز میڈل شامل ہیں۔ ٹیم انڈیا فی الحال تمغوں کی فہرست میں چوتھے مقام پر ہے۔ چین اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ چین نے اب تک 222 تمغے جیتے ہیں، جن میں 116 طلائی اور 70 چاندی کے تمغے جیتے ہیں۔ کوریا نے 30 طلائی، 32 چاندی اور 56 کانسی کے تمغے کل (118 تمغے) جیتے ہیں۔

پانچ طلبہ کو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے 2.25 کروڑ روپے کی اسکالرشپ ملی

0
پانچ-طلبہ-کو-بیرون-ملک-تعلیم-حاصل-کرنے-کے-لیے-2.25-کروڑ-روپے-کی-اسکالرشپ-ملی

راجستھان ریاستی حکومت کی راجیو گاندھی اسکالرشپ اسکیم کے تحت آلوک انٹرنیشنل ایجوکیشن کے طلباء کو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے 2.25 کروڑ روپے کی اسکالرشپ فراہم کی گئی۔

ڈائریکٹر ہرشا کماوت نے بتایا کہ بیرون ملک تعلیم فراہم کرنے میں شہر کی معروف ایجوکیشنل کنسلٹنسی آلوک انٹرنیشنل اسکول کے 5 طلباء کو سوا دو کروڑ روپے کی اسکالرشپ فراہم کی گئی ہے۔ ریاستی حکومت نے راجیو گاندھی اسکالرشپ فار ایکسیلینس کے تحت مختلف کورسز کے لیے یہ اسکالرشپ دی ہے۔

اس میں طلباء کو برطانیہ کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کی تعلیم کے لیے وظائف فراہم کیے گئے ہیں۔ جس میں طلباء قانون، مینجمنٹ، انجینئرنگ اور سائنس کے مختلف کورسز کا مطالعہ کریں گے۔ اسکالرشپ کے تحت یونیورسٹی کی پوری ٹیوشن فیس اور رہنے کے اخراجات ریاستی حکومت دے گی۔

ڈائریکٹر یتیندرا کماوت نے کہا کہ داخلہ اور اسکالرشپ کی درخواستیں رہنمائی کے تحت کی گئیں۔ یہ طلباء یوکے کے کوئین میری شیفیلڈ کنگز کالج، یونیورسٹی آف مانچسٹرمیں مختلف کورسز کریں گے۔

درگاہ حضرت بل میں تعینات سبھی افسران اور ملازمین معطل : ڈاکٹر درخشان اندرابی

0
درگاہ-حضرت-بل-میں-تعینات-سبھی-افسران-اور-ملازمین-معطل-:-ڈاکٹر-درخشان-اندرابی

جموں وکشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر درخشاں اندرابی نے درگاہ حضرت بل میں تعینات سبھی افسران  اور ملازمین کو سنگین غفلت برتنے کی پادائش میں معطل کرنے کے احکامات صادر کئے۔معلوم ہوا ہے کہ چیئرپرسن کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

جموں وکشمیر وقف بورڈ کی جانب سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا کہ عید میلاد النبی (ص) کے روز وقف چیئرپرسن ڈاکٹر درخشاں اندرابی نے درگاہ حضرت بل کا اچانک دورہ کیا جس دوران وہاں پر موجود عقیدتمندوں نے چیئرپرسن کو وقف ملازمین کی غفلت کے بارے میں آگاہی فراہم کی۔
لوگوں نے بتایا کہ درگاہ حضرت بل میں تعینات وقف آفیسران اور ملازمین عقیدتمندوں کو سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔وقف چیئرپرسن نے لوگوں کی شکایت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے درگاہ حضرت بل میں تعینات وقف بورڈ کے سبھی آفیسران اور ملازمین کو فوری طورپر معطل کرنے کے احکامات صادر کئے۔

حکم نامہ میں لکھا گیا کہ سنگین غفلت برتنے کی پادائش میں وقف ملازمین کو معطل کیا گیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ وقف چیئرپرسن ڈاکٹر درخشاں اندرابی کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے تاکہ ملوثین کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔

اروناچل پردیش پر چین کے دعوے پر لوگوں کا  دو ٹوک جواب ، ‘ہمیں ہندوستانی ہونے پر فخر ہے’

0
اروناچل-پردیش-پر-چین-کے-دعوے-پر-لوگوں-کا- دو-ٹوک-جواب-،-‘ہمیں-ہندوستانی-ہونے-پر-فخر-ہے’

چین نے ہمیشہ اروناچل پردیش پر دعویٰ کیا ہے۔ لیکن بھارت نے اسے دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شمال مشرقی ریاست بھارت کا اٹوٹ حصہ  ہے اور اس کے دعوے بے بنیاد اور غلط ہیں ۔ اروناچل پردیش کے لوگ بھی یہی کہتے ہیں۔ ریاست کے سرحدی دیہات کے رہائشیوں نے اروناچل پردیش کے تئیں چین کے اقدامات پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اروناچل پردیش ہمیشہ ہندوستان کا حصہ رہے گا۔

نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق اگست کے مہینے میں چین نے ایک نقشہ جاری کیا تھا جس میں اروناچل پردیش اور اکسائی چن کو اس کا حصہ دکھایا گیا تھا۔ اروناچل پردیش کے توانگ ضلع کی سرحدیں چین کے ساتھ ملتی ہیں۔ اس ضلع کے سینگنوپ، کھرسینگ اور گرینگکھر گاؤں کے گاؤں والوں نے بتایا کہ وہ پرامن ماحول میں رہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستانی فوج کی موجودگی کی وجہ سے وہ یہاں محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

کھرسینگ علاقے کے ایک دیہاتی سانگے دورجی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی حکومت اور ریاست کی پیما کھانڈو حکومت نے سرحدی دیہاتوں میں بہت زیادہ ترقیاتی کام کیے ہیں۔ دورجی کا کہنا ہے کہ پہلے ہمارے علاقے کی سڑکوں کی حالت خراب تھی لیکن موجودہ حکومت نے ہمارے گاؤں میں کنکریٹ کی سڑکیں بنائی ہیں۔ اس کی وجہ سے گاؤں کا سڑک رابطہ بھی بڑھ گیا ہے۔ گاؤں کے زیادہ تر لوگ کسان ہیں اور حکومت کسانوں کی مسلسل مدد کر رہی ہے۔

دوسری جانب گرینگکھر گاؤں کے مقامی رہائشی کارچنگ نے کہا کہ انہیں ہندوستانی ہونے پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارتی فوج اور حکومت کے ساتھ ہیں۔ چین اروناچل پردیش کو اپنا کہتا ہے لیکن اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ  ہے۔ ہم چین کے سامنے جھکنے والے نہیں ہیں۔ ضرورت پڑی تو ہم چین کے خلاف لڑنے کے لیے ہندوستانی فوج کا ساتھ دیں گے۔ ایک اور دیہاتی نے کہا کہ اروناچل ہمیشہ ہندوستان کا حصہ ہے اور رہے گا۔

ایمس بھونیشور ہیمیٹوپوایٹک اسٹیم سیل ٹرانسپلانٹ شروع کرے گا

0
ایمس-بھونیشور-ہیمیٹوپوایٹک-اسٹیم-سیل-ٹرانسپلانٹ-شروع-کرے-گا

اڈیشہ میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) بھونیشور کینسر سے متاثرہ ضرورت مند بچوں کے لئے میڈیکل آنکولوجی/ہیمیٹولوجی کے شعبہ میں ہیمیٹوپوایٹک اسٹیم سیل ٹرانسپلانٹ شروع کرنے جا رہاہے۔

بچوں میں کینسر کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں ایمس بھونیشور کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر آشوتوش بسواس نے کہا کہ ایمس کے ذریعے کینسر سے متاثرہ بچوں کو جامع، کثیر الضابطہ رسائی اور معیاری سستی دیکھ بھال فراہم کرنا ہے۔ ایمس بھونیشور نہ صرف اڈیشہ سے نہیں  بلکہ مغربی بنگال، چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ جیسے قریبی ریاستوں کے بچے مریضوں کو خدمت فراہم کرتا ہے۔

میڈیکل آنکولوجی/ہیموٹولوجی شعبہ کی ایڈیشنل پروفیسر ڈاکٹر سونالی مہاپاترانے کہا کہ پچھلے 50 سالوں میں، بچے کے کینسر کے نتائج ایک بظاہر لاعلاج بیماریوں سے بدل کر 80-90 فیصد سے زیادہ زندہ رہنے میں بدل گئے ہیں۔

ڈاکٹر مہا پاترا نے کہا کہ موجودہ دور میں ایسے کینسر کے 75-80 فیصد سے زیادہ مریض مکمل طور پر ٹھیک ہو سکتے ہیں۔شدید لمفوبلاسٹک لیوکیمیا (خون کا کینسر)، لیمفوما اور گردے کے ٹیومر جیسے کچھ کینسر میں 90 فیصد سے زیادہ زندہ رہنے کے امکان ہے۔

ڈاکٹر بسواس نے کہا، محکمہ نے کینسر میں مبتلا 1200 سے زیادہ بچوں کو رجسٹر کیا ہے اور فی الحال ہر سال تقریباً 250-300 نئے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ ڈپارٹمنٹ نے ہفتہ کو بچے میں کینسر کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے واکتھون، مریض/والدین اور ڈاکٹروں سے بات چیت جیسے پروگراموں کی سیریز منعقد کی۔حالانکہ، ہندوستان میں آنکولوجی تھراپی پر ابھی بھی کام جاری ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ مختلف سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے تعاون سے غریب اور ضرورت مند بچوں کو علاج مکمل کرنے کے قابل بنانے کے لیے سماجی/مالی مدد اور پناہ گاہیں بھی فراہم کرتا ہے۔