جمعرات, مارچ 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 84

مہاراشٹر جے ڈی (ایس) نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے فیصلے پر کی سخت مخالفت

0
مہاراشٹر-جے-ڈی-(ایس)-نے-بی-جے-پی-کے-ساتھ-اتحاد-کے-فیصلے-پر-کی-سخت-مخالفت

مہاراشٹر میں جنتا دل (سیکولر) (جے ڈی ایس) نے سابق وزیر اعظم اور پارٹی کے سرپرست ایچ ڈی دیوے گوڑا کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے ہاتھ ملانے کے فیصلے کی سخت مذمت اور مخالفت کی ہے۔

جے ڈی (ایس) کی قومی ورکنگ کمیٹی کے رکن پرتاپ ہوگاڈے نے اتوار کو یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ریاستی ورکنگ کمیٹی کے ارکان اور ضلع صدور کی ہفتہ کو پونے میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے کے فیصلے کی سخت مذمت اور مخالفت کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ میٹنگ میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ جے ڈی (ایس) کی مہاراشٹر یونٹ کسی بھی صورت میں اس طرح کے اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی اور جنتا دل کی مختلف ریاستی تنظیموں نے بھی اس اتحاد کے خلاف اجتماعی موقف اختیار کیا ہے۔

مسٹر ہوگاڑے نے کہا کہ میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ہم خیال جماعتوں کے درمیان مناسب متبادل کا تعین کرنے کے لئے راشٹریہ جنتا دل، سماج وادی پارٹی اور دیگر، ہم خیال جماعتوں کے لیڈروں کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔

لال بہادر شاستری پوری دنیا میں ایمانداری اور سادگی کی مثال ہیں

0
لال-بہادر-شاستری-پوری-دنیا-میں-ایمانداری-اور-سادگی-کی-مثال-ہیں

بہت سے عظیم شخصیات  کی طرح، لال بہادر شاستری نے ملک کو آزاد کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ آزاد ہندوستان کے دوسرے وزیر اعظم بھی بنے اور ہندوستانی سیاست میں اپنے انمٹ نقوش چھوڑے۔ 02 اکتوبر لال بہادر شاستری جی کا یوم پیدائش ہے۔

لال بہادر شاستری اپنی سادہ زندگی، سادہ طبیعت، ایمانداری اور اپنے عزم کے لیے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے ملک کو جئے جوان جئے کسان کا نعرہ دیا۔ لال بہادر شاستری نہ صرف آزادی پسند تھے بلکہ ایک ہندوستانی سیاست دان بھی تھے۔ وہ 02 اکتوبر 1904 کو مغل سرائے، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ صرف ڈیڑھ سال کی عمر میں ان کے والد کا سایہ ان کا ساتھ چھوڑ گیا اور انہوں نے اپنے ماموں کے گھر میں رہتے ہوئے اپنی تعلیم مکمل کی۔ 16 سال کی عمر میں، انہوں نے ملک کی آزادی کی جدوجہد میں شامل ہونے کے لیے اپنی پڑھائی چھوڑ دی اور جب وہ 17 سال کے تھے، انہیں تحریک آزادی کے دوران گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔

پنڈت جواہر لال نہرو کی موت کے بعد لال بہادر شاستری ملک کے دوسرے وزیر اعظم بنے۔ انہوں نے 09 جون 1964 کو وزیر اعظم کے طور پر حلف لیا۔ وہ صرف ڈیڑھ سال تک وزیر اعظم رہ سکے اور اس کے بعد 11 جنوری 1966 کو پراسرار طور پر انتقال کر گئے۔ کہا جا تا ہے کہ ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی جبکہ یہ بھی کہا جا  تارہا ہے کہ ان کی موت زہر دینے سے ہوئی۔

بھارت نے 1965 میں پاکستان کے ساتھ جنگ ​​کی۔ اس جنگ کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کئی مذاکرات کے بعد ایک دن اور جگہ کا انتخاب کیا گیا، یہ جگہ تاشقند تھی۔ سوویت یونین کے اس وقت کے وزیراعظم الیکسی کوزیگین نے اس معاہدے کی پیشکش کی اور اس معاہدے کی تاریخ 10 جنوری 1966 مقرر کی گئی۔ معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد لال بہادر شاستری جی 11 جنوری 1966 کی رات پراسرار حالات میں انتقال کر گئے۔

لال بہادر شاستری ملک کے وزیر اعظم بنے اور اس سے پہلے بھی وہ وزیر ریلوے اور وزیر داخلہ جیسے عہدوں پر فائز رہے لیکن ان کی زندگی ایک عام آدمی جیسی رہی۔ وہ وزیراعظم کی رہائش گاہ میں کھیتی باڑی کرتے تھے۔ وہ صرف دفتر سے ملنے والے الاؤنسز اور تنخواہ سے اپنے خاندان کی کفالت کرتے تھے۔ ایک بار جب شاستری جی کے بیٹے نے وزیر اعظم کے دفتر کی کار استعمال کی تو شاستری جی نے گاڑی کے ذاتی استعمال کی پوری رقم سرکاری اکاؤنٹ میں بھی ادا کر دی۔ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود ان کے پاس نہ تو اپنا گھر تھا اور نہ ہی کوئی جائیداد۔

لال بہادر شاستری’جئے جوان جئے کسان‘ کے نعرے کا اعلان کرنے والے تھے۔ جب وہ وزیراعظم بنے تو ملک میں خوراک کا بحران تھا اور مون سون بھی کمزور تھا۔ ایسے میں ملک میں قحط کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ اگست 1965 میں دسہرہ کے دن لال بہادر شاستری نے دہلی کے رام لیلا میدان میں پہلی بار جئے جوان جئے کسان کا نعرہ دیا۔ اس نعرے کو ہندوستان کا قومی نعرہ بھی کہا جاتا ہے جو کسانوں اور فوجیوں کی محنت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس نے لوگوں کو ہفتے میں ایک دن روزہ رکھنے کو بھی کہا اور خود بھی ایسا کیا۔

ریڈیئنس نیوز پورٹل کا امیر جماعت اسلامی ہند نے افتتاح کیا

0
ریڈیئنس-نیوز-پورٹل-کا-امیر-جماعت-اسلامی-ہند-نے-افتتاح-کیا

معروف ہفتہ وار انگریزی میگزین ریڈیئنس کے نیوز پورٹل ”radiancenews.com“ کا افتتاح امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ریلیز میں کہا گیا کہ یہ میگزین بورڈ آف اسلامک پبلیکیشنز (بی آئی پی) کے تحت 1963 سے باقاعدہ شائع ہورہا ہے اورتب سے مسلسل مسلمانوں اور اسلام سے متعلق مسائل کو اجاگر کرتا آرہاہے۔ اس کے بنیادی مقاصد میں سچائی پر قائم رہنا، ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کی نمائندگی کرنا اور مسلم اور برادران وطن کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو دور کرنا شامل ہے۔

ریڈیئنس نے اپنی ذمہ دارانہ صحافت کے ساتھ چھ دہائیاں بحسن و خوبی مکمل کرلی۔اس کامیاب طویل سفر کی یادگار کے طور پر اس پروگرام کا انعقاد کیا گیا ہے جس کا باضابطہ افتتاحی پروگرام 22 اکتوبر کو انڈیا انٹر نیشنل سینٹر،نئی دہلی میں منعقد ہوگا جس کے مہمان خصوصی سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری ہوں گے۔

اس موقع پر پورٹل کا تعارف کرتے ہوئے ’بی آئی پی‘ کے سکریٹری سید تنویر احمد نے کہا کہ ”یہ نیوز پورٹل مسلمانوں کے حالات کو اجاگر کرنے اور ان کے مسائل کو سامنے لانے کی بھرپورکوشش کرے گا۔ اس پورٹل میں کچھ خصوصی مضامین بھی ہوں گے۔ اس میں ایک کالم ’پرائیڈ آف دی نیشن‘ نامی ہوگا جس کے تحت مسلم شخصیات، اداروں اورکارناموں پر روشنی ڈالی جائے گی۔ ایک کالم ’وائس آف ینگ انڈیا‘ نام سے ہوگا جس میں اہم سلگتے ہوئے مسائل پر نوجوانوں کی آوازیں شائع کی جائیں گی۔اس کے علاوہ متعدد کالمس ہوں گے جن میں بین مذاہب ہم آہنگی، انٹر پرینیور نیٹ ورک، آرٹ اینڈ کلچر وغیرہ شامل ہیں۔

اس موقع پر جماعت کے سکریٹری جنرل ٹی عارف علی، نائب امیر جماعت و بی آئی پی کے چیئرمین پروفیسر سلیم انجینئر، نائب امیر جماعت ایس امین الحسن کے علاوہ مختلف شعبوں کے سیکریٹریز اور معاون سکریٹریز، نیز بی آئی پی کے ممبران جیسے انتظار نعیم، اے یو آصف اور جاوید علی وغیرہ موجود تھے۔

نفرت کی سیاست کرنے والے ملک کے وفادار نہیں ہوسکتے:مولانا ارشد مدنی

0
نفرت-کی-سیاست-کرنے-والے-ملک-کے-وفادار-نہیں-ہوسکتے:مولانا-ارشد-مدنی

جمعیۃ علماء راجستھان کی مجلس منتظمہ کا اجلاس دارالعلوم محمدیہ میل کھیڑلا،بھرت پور میں منعقد ہوا،جس کے بعد شام میں ایک اجلاس عام ہواجس میں صدر جمعیۃ علماء ہندمولانا ارشدمدنی  کا کلیدی خطاب ہونا تھا لیکن خرابی صحت کی وجہ سے شریک نہیں ہوسکےتحریری پیغام پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے خصوصیت کے ساتھ یہ بات کہی کہ ہمارے بزرگوں نے ایسے ہندوستان کاخواب نہیں دیکھا تھا جس میں نفرت، خوف و دہشت کے سائے میں ملک کے عوام رہتے ہوں۔حالانکہ آج کشمیرسے منی پورتک لوگ خوف وہراس میں مبتلاہیں، انہوں نے کہاکہ حکمرانوں نے ڈر اور خوف کی سیاست کو اپنا شعاربنالیا ہے لیکن میں یہ واضح کردینا چاہتاہوں کہ حکومت ڈر اور خوف سے نہیں بلکہ عدل و انصاف سے چلاکرتی ہے۔

انہوں نے اپنےخطبہ میں تحریر کیا کہ آج ہمارے سامنے سب سے بڑاسوال یہ ہے کہ یہ ملک کسی خاص مذہب کے نظریہ سے چلے گایا سیکولرازم کے اصولوں پر۔ انہوں نے کہا کہ حالات بہت دھماکہ خیزہوتے جارہے ہیں ایسے میں ہمیں متحدہوکر میدان عمل میں آنا ہوگا، مولانا مدنی نے نفرت مٹانے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ آگ کو آگ سے نہیں بجھایا جاسکتا۔ نفرت کا جواب نفرت نہیں محبت ہے، آج کے ماحول میں محبت ہی ایک ایساکارگر ہتھیار ہے جس سے ہم نفرت کو شکست دے سکتے ہیں۔ ہم نے ہرہر موقع پر وطن سے اپنی محبت کا عملی ثبوت دیا ہے، یہ ہماراملک ہے، آزادی ہمیں اپنے بزرگوں کی عظیم قربانیوں کے نتیجہ میں حاصل ہوئی ہے، ایسے میں ہمارایہ فرض ہے کہ ہم ان مٹھی بھر فرقہ پرست عناصرکے ہاتھوں اپنے بزرگوں کی عظیم قربانیوں کوضائع نہ ہونے دیں۔

انہوں نے کہاکہ ہم امن اورمحبت کے داعی بن جائیں اس لیے ہمیں اپنی بیاہ شادیوں اور دیگر تقریبات میں برادرانِ وطن کو بلانا چاہیے، اسی طرح ان کی خوشی اور غم میں اپنا مذہبی فرض سمجھ کر، وہ بلائیں یا نہ بلائیں، شریک ہونا چاہئے آپ جاکر مبارکبادی دیں یاتعزیت کریں اورچلیں آئیں۔ آپ کا یہ کردار پرانی تاریخ کو زندہ کرنے میں بڑا قیمتی ثابت ہوگا۔ وہ لوگ ہرگز ملک کے وفادارنہیں ہوسکتے جو نفرت کی آگ سے ملک کے امن وامان اوراتحادکوتباہ وبربادکرنے پر تلے ہیں، بلکہ ملک کے سچے وفادار وہ ہیں جو ایسے صبرآزمادورمیں بھی امن واتحادکاپیغام دیکر دلوں کو جوڑنے کی بات کررہے ہیں۔مولاناارشد مدنی نے ماضی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ قوموں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ امتحان کی گھڑیاں آتی رہتی ہیں مگرزندہ قومیں مایوسی کا شکارنہیں ہوتیں بلکہ وہ اس طرح کے ماحول میں بھی اپنے لئے آگے بڑھنے کا راستہ نکال لیتی ہیں۔ ہم ایک زندہ قوم ہیں اس لئے ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے، وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا، ہمیں دوراندیشی اورسوجھ بوجھ سے کام لینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ الورکا یہ علاقہ میوات سے ملاہواہے، جولائی کے مہینہ میں نوح اوراس کے آس پاس کے علاقوں میں جو کچھ ہوا اس سے آپ سب کماحقہ واقف ہیں،آج کی ترقی یافتہ دنیامیں اس طرح کے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بعض ایسی طاقتیں موجودہیں جو امن واتحادکی دشمن ہیں، ورنہ شوبھایاتراجیسے مذہبی پروگرام میں تلواراور اسلحہ لیکر چلنے اور اشتعال انگیزی کی کیا ضرورت تھی، اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کا مقصدو شوبھا یاترا نکالنانہیں تھا بلکہ اس علاقہ کے امن واتحادکوسبوتاژکرنا تھا، جبکہ دنیا کا ہر مذہب انسانیت، رواداری، محبت اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے اس لیے جو لوگ مذہب کا استعمال نفرت اور تشدد برپا کرنے کے لئے کرتے ہیں وہ اپنے مذہب کے سچے پیروکار نہیں ہوسکتے ہیں۔ بہرحال دونوں طرف سے جو ہوااچھا نہیں ہوا، جمعیۃعلماء ہند اپنے قیام کے دن سے ہی امن واتحاداورفرقہ ورانہ خیرسگالی کی پیامبررہی ہے، کیونکہ اس کا مانناہے کہ امن واتحادکے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا، فرقہ پرستی اورمذہبی شدت پسندی امن واتحادکی ہی نہیں ترقی کی بھی دشمن ہے۔ فسادبرباکرنے والوں کو یہ خوش فہمی ہوسکتی ہے کہ وہ ایک مخصوص فرقے کو نقصان پہنچاکر نفسیاتی طورپر انہیں کمزور کررہے ہیں لیکن یہ ان کی خام خیالی ہے، فسادسے کسی فرقہ یابرادری کا نقصان نہیں ہوتابلکہ ملک کی ترقی اورمعیشت کو نقصان پہنچتاہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ میوات کے علاقے میں مسلمانوں کی آبادی کاتناسب 80 فیصدہے اوراہم بات یہ ہے کہ فسادکے دوران اکثریت میں ہونے کے باوجودانہوں نے اپنے کسی غیر مسلم پڑوسی کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ہمارے پاس تواطلاعات یہ بھی ہیں کہ بہت سے گاؤں میں مسلمانوں نے مندروں کے اردگردرات رات بھر پہرادیا تاکہ کوئی شخص ان مندروں کو کوئی نقصان نہ پہنچاسکے، انتہائی امیدافزابات یہ بھی ہے کہ میوات علاقے کے بہت سے غیر مسلموں نے اخباری نمائندوں اورٹی وی چینلوں سے گفتگوکرتے ہوئے واضح طورپر یہ کہا کہ اقلیت میں ہونے کے باوجود یہاں انہیں کبھی کسی طرح کا ڈراورخوف محسوس نہیں ہوا، تمام لوگ یہاں امن و اتحاد اور باہمی میل ملاپ کے ساتھ رہ رہے ہیں، یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ملک کی اکثریت اب بھی امن پسند ہے اور فرقہ پرستی کا زہر پھیلاکر تشددبرپاکرنے والے مٹھی بھرلوگ ہیں جو ملک میں جگہ جگہ اپنی شرانگیزیوں اورحرکتوں سے امن وامان کی فضاکو خراب کرتے رہتے ہیں۔مولانا مدنی نے ہریانہ اور راجستھان کی کھاپ پنچایتوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یقینا یہ بڑی ناانصافی ہوگی اگر ہم اس اہم پروگرام میں ہریانہ و راجستھان کی اُن کھاپ پنچایتوں، سماجی تنظیموں، سکھوں اور دیگر لوگوں کا خیرمقدم نہ کریں، جنھوں نے نوح و اطراف میں ہوئے فساد کے بعد مسلمانوں کے لیے پیدا کردہ بحرانی صورتِ حال میں فرقہ وارانہ خیرسگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میوات کے مسلمانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار ہی نہیں کیا بلکہ فرقہ پرست طاقتوں کی سازشوں کو بھی بے نقاب کردیا۔اور ان کھاپ پنچائیتوں نے پورے ملک کو امن واتحادکی ایک ایسی راہ دکھائی ہے جس پر آج عمل کرنے کی اشدضرورت ہے۔ انہو ں نے کہاکہ یہ بھی ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ ملک کے انصاف پسند حلقوں کی تمام ترکوششوں اورعدلیہ کی جانب سے باربار دی جانے والی ہدایتوں کے باوجوداشتعال انگیزی اورنفرت کو پھیلانے کا مذموم سلسلہ رک نہیں رہاہے۔اس کی ایک بڑی اوربنیادی وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگوں کے نزدیک فرقہ پرستی، اشتعال انگیزی اورنفرت اقتدارکے حصول کا آسان ذریعہ بن گئی ہے۔ یہ ایک خطرناک روش ہے اوراگر اس روش کا خاتمہ نہیں ہواتویہ ایک دن ملک کے اتحاداورسالمیت کے لئے بھی ایک بڑاخطرہ بن سکتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اجلاس کی صدارت صدرجمعیۃعلماء راجستھان مولانا حسن محمودنے کی اور مفتی سید معصوم ثاقب ناظم عمومی جمعیۃعلماء ہند نے جمعیۃ علماء کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کے مسلمانوں پر جب بھی مصیبت آئی یا لائی گئی ہے، جمعیۃ علماء ہند نے آگے بڑھ کر راحت رسانی کے کام کو بلاتفریق و مذہب ملت انجام دیا ہے۔ناظم اصلاح معاشرہ مولانا از ہر مدنی نے اصلاح معاشرہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسلمانوں کا معاشرہ صحیح ہوجائے تو مسلمانوں کے 90فیصد مسائل خودبخود حل ہوجائیں کیوں کہ صحیح معاشرہ کے بغیر اچھے افراد پیدا نہیں ہوسکتے۔ جمعیۃ علماء راجستھان کے جنرل سکر یٹری مولانا محمد راشد نے تمام مہمانوں کا  خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ یہ اجلاس تاریخی ثابت ہوگا اوریہ اجلاس محض ایک اجلاس نہیں بلکہ لائحہ عمل ہے اورانہوں نے منتظمہ اوراجلاس عام صدرمحترم کا پیغام پڑھااورپیغام ہی کو اجلاس منتظمہ کا اعلامیہ قراردیا گیا۔اجلاس میں مولانا معروف سابق صدرجمعیۃعلماء راجستھان، مولانا رحمت اللہ نائب صدرجمعیۃعلماء راجستھان، مولانا محمد خالد قاسمی نوح، حاجی میاں رمضان مالب، مفتی عبدالرازق مظاہری دہلی، قاری ساجد فیضی دہلی وغیرہ شریک ہوئے۔

وزیراعظم ، کھڑگے اوردیگر شخصیات نے مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کی

0
وزیراعظم-،-کھڑگے-اوردیگر-شخصیات-نے-مہاتما-گاندھی-کو-خراج-عقیدت-پیش-کی

گاندھی جینتی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا اور دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ  باپو کو خراج عقیدت پیش کرنے اور انہیں یاد کرنے راج گھاٹ پہنچے۔

پورا ملک آج (02 اکتوبر) بابائے قوم مہاتما گاندھی کا یوم پیدائش منا رہا ہے۔ 2 اکتوبر کو دہلی کے راج گھاٹ پر ایک خصوصی پروگرام منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر کئی مشہور شخصیات باپو کو خراج عقیدت پیش کرنے پہنچ رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی اور کانگریس صدر ملکارجن کھرگے بھی باپو کو خراج عقیدت پیش کرنے راج گھاٹ پہنچے۔

I.N.D.I.A. اتحاد آج ممبئی میں ‘میں بھی گاندھی’ کے نام سے ایک امن مارچ نکالے گا جس میں کئی بڑے لیڈر حصہ لے سکتے ہیں، وہیں دوسری طرف ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) دہلی میں مرکزی حکومت کے خلاف دو دن تک احتجاج کرنے جا رہی ہے۔ آج پیر (02 اکتوبر)، ایم پی اور جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کی قیادت میں ٹی ایم سی پہلے راج گھاٹ اور پھر اگلے دن منگل (03 اکتوبر) کو جنتر منتر پر احتجاج کرنے جا رہی ہے۔

اس موقع پر سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ گاندھی جی اور شاستری جی کے یوم پیدائش پر سچائی، عدم تشدد اور سادگی کے عہد کو ایک بار پھر دہرانا ہوگا اور اس سے آزادی کے لیے ‘نئی تحریک آزادی’ شروع کرنی ہوگی۔ ملک کو نفرت اور دشمنی کی فضا سے نکال کر کامیاب بنانا ہے۔

گاندھی جینتی پر باپو کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا مہاتما گاندھی کا اثر عالمی سطح پر ہے، جو پوری انسانیت کو اتحاد اور ہمدردی کے جذبے کو آگے بڑھانے کی ترغیب دیتا ہے۔ ہم ہمیشہ ان کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے کام کرتے رہیں۔ ان کے خیالات ہر نوجوان کو حوصلہ دیتے ہیں وہ تبدیلی کے ایجنٹ بنیں اوراس ترقی کو ممکن بنائیں جس کا انہوں نے خواب دیکھا تھا، اس طرح ہر جگہ اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔”

مسلمانوں سے ابھی نہیں، 10 سال بعد ووٹ کا مطالبہ کروں گا! وزیر اعلیٰ آسام

0
مسلمانوں-سے-ابھی-نہیں،-10-سال-بعد-ووٹ-کا-مطالبہ-کروں-گا!-وزیر-اعلیٰ-آسام

گوہاٹی: آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے اتوار کو کہا کہ انہیں کم از کم اگلے 10 سالوں تک ریاست کے چار چاپوری علاقے میں رہنے والے مسلمانوں کے ووٹوں کی ضرورت نہیں ہے۔ آسام میں چار چاپوری دریائے برہم پترا اور اس کی معاون ندیوں کا ایک علاقہ ہے جو سیلابی میدانی تلچھٹ پر مشتمل ہے۔

گوہاٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی ایم سرما نے صحافیوں س کہا ’’بی جے پی حکومت سماج کے تمام لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہے، بشمول چار چاپوری علاقوں کے باشندگان تاہم، میں انتخابات کے دوران ان سے ووٹوں کا مطالبہ نہیں کروں گا۔‘‘

بسوا سرمام کے مطابق وہ ان سے بی جے پی کو ووٹ دینے کی اپیل صرف اس صورت میں کریں گے جب وہ بچوں کی شادیوں کو روکیں، خود کو بنیاد پرست موقف سے دور رکھیں، اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجیں وغیرہ! انہوں نے کہا ’’بی جے پی کو ووٹ دینے کے کچھ معیار ہیں۔ ہم ان سے ووٹ مانگتے ہیں جن کے دو یا تین سے زیادہ بچے نہیں ہیں۔ چار چاپوری علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کی ذہنیت بدل رہی ہے لیکن اس میں وقت لگے گا۔‘‘

بسوا سرمام نے کہا، ’’اس کے لیے کم از کم 10 سال کا وقت درکار ہے۔ اس کے بعد میں ذاتی طور پر چار چاپوری علاقے میں جاؤں گا اور ان سے بی جے پی کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کروں گا۔‘‘

دریں اثنا، انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ آسام کے لوگ اپنی مرضی سے نریندر مودی کو ووٹ دیں گے۔ انہوں نے کہا ’’ریاست کے ووٹر اگلے سال بڑی تعداد میں نریندر مودی کو ووٹ دیں گے۔ آیا وہ 2026 میں مجھے ووٹ دیں گے یا نہیں، یہ ایک دوسرا پہلو ہے۔‘‘

عام انتخابات میں تمل ناڈو، پڈوچیری کی تمام 40 سیٹیں جیتنے کا ہدف: اسٹالن

0
عام-انتخابات-میں-تمل-ناڈو،-پڈوچیری-کی-تمام-40-سیٹیں-جیتنے-کا-ہدف:-اسٹالن

چنئی: تمل ناڈو کے وزیر اعلی اور ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن نے اتوار کو پارٹی کارکنوں سے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں تمام 40 سیٹوں، جن میں تمل ناڈو کی 39 سیٹیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری کی ایک سیٹ شامل ہے، فتح کے لیے کام کرنے کی اپیل کی۔

ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ڈی ایم کے کے ضلع سکریٹریوں، وزراء اور بوتھ ایجنٹس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بہت اہم ہے کہ ڈی ایم کے زیرقیادت لوک سبھا انتخابات میں تمل ناڈو اور پڈوچیری کی تمام سیٹوں پر کامیابی حاصل کرے۔

اسٹالن نے کہا کہ حزب اختلاف کی قیادت میں انڈیا اتحاد، جس میں مختلف ریاستوں کی حکمران جماعتوں اور مضبوط علاقائی پارٹیوں پر مشتمل ہے، تشکیل دیا گیا ہے تاکہ بی جے پی کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکا جا سکے اور یہ ضروری ہے کہ انڈیا بلاک آل انڈیا سطح پر آنے والے لوک سبھا انتخابات کے دوران کام کرے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی مرکز میں حکومت نہیں بنائے گی۔ چونکہ یہ بات بڑے پیمانے پر زیر بحث ہے کہ انتخابات کے بعد اگلی حکومت انڈیا بلاک کی ہوگی اور اس سے ہماری ذمہ داری، فرض اور عزم میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈی ایم کے نے آئندہ لوک سبھا انتخابات کی تیاری چھ ماہ قبل بوتھ کمیٹیاں بنا کر شروع کر دی تھی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہمیں انتخابات میں تمام 40 سیٹیں ملیں۔

اسٹالن نے کہا کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں ہم نے 40 میں سے 39 سیٹیں جیتی تھیں، لیکن اس بار ہمیں تمام 40 سیٹیں جیتنی ہیں اور انڈیا بلاک کو پورے ملک میں اسی طرح جیتنا چاہیے جیسے اس نے تمل ناڈو میں جیتا تھا۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ الیکشن جیتنے کے لیے بھرپور محنت کریں۔

’ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی کا سد باب کون کرے گا؟‘

0
’ملک-میں-بڑھتی-ہوئی-فرقہ-وارانہ-کشیدگی-کا-سد-باب-کون-کرے-گا؟‘

ممبئی: معروف طلبہ تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او) نے ملک میں تیزی کے ساتھ پھیل رہی منافرت کے خلاف ایک مہم کا آغاز کیا ہے۔ ایس آئی او جنوبی مہاراشٹر کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس بیان کے مطابق تنظیم ملک کی صورتحال کو بہتر بنانے کے مقصد سے ’ہم کہاں جارہے ہیں؟‘ کے عنوان سے مہم شروع کرنے جا رہی ہے، جوکہ یکم اکتوبر سے 10 اکتوبر 2023 تک جاری رہے گی۔

جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ہمارا ملک مختلف تہذیبوں و ثقافتوں کا گہوارہ ہے۔ مختلف زبانوں اور رہن سہن کے لوگ پائے جاتے ہیں۔جن کے کھان پان اوربود و باش بھی کافی مختلف ہوتے ہیں اور یہی تنوع ہماری خوبصورتی اور ہمارا امتیاز ہے۔ اتنے متنوع طریقوں اور سلیقوں کے باوجود لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔ البتہ گزشتہ چند سالوں سے ملک کا یہ سماجی و معاشرتی اتحاد کمزور پڑتا جارہا ہے۔ یکے بعد دیگرے ہونے والے فسادات اور ہجومی تشدد کے واقعات کوئی حادثاتی یا اتفاقی معاملات نہیں ہیں، بلکہ یہ کسی منصوبہ بند کوششوں کا پیش خیمہ ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اس تخریبی صورتحال کے باوجود ملک میں کچھ امن پسند لوگ بھی بستے ہیں۔ تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے باوجود یہاں کچھ امن و انصاف کے علمبردار لوگ رہتے ہیں۔ لہٰذا ملک کی صورتحال کو بہتر بنانے کے مقصد سے ایک مہم بعنوان ’ہم کہاں جارہے ہیں؟‘ شروع کی گئی ہے۔

ایس آئی او کی مہم کا افتتاحی پروگرام گزشتہ سنیچر کو بذریعہ پریس کانفرنس ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ، سی ایس ٹی میں منعقد کیا گیا، جس میں ایس آئی او ساؤتھ مہاراشٹر کے صدر اعتصام حامی خان، مشہور تجزیہ نگار سلیم خان (ممبئی)، عرفان انجینئر (ڈایریکٹر سی ایس ایس ایس) اور سماجی کارکن ڈاکٹر وویک کورڈے نے شرکت کی۔

ایس آئی او کے ریاستی صدر اعتصام حامی نے کہا ’’ملک میں گزشتہ چند برسوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے معاملوں میں بے تحاشہ اضافہ درج کیا جا رہا ہے۔ لہذا ان کے خلاف ہمیں بند باندھنا ہوگا، ورنہ آنے والے دنوں میں صورتحال اس قدر خراب ہوگی کہ وہ ناقابل تصور ہے۔ اس کے لیے بہت ٹھوس اور منظم انداز میں آگے آکر کام کرنا ہوگا۔”

دریں اثنا، عد عرفان انجینئر نے کہا ’’ملک میں تبدیلی لانے کے لیے نوجوانوں اور طلباء کا پیش قدمی کرنا لازمی ہے، ورنہ تبدیلی کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔‘‘ وویک کورڈے نے کہا کہ "اس وقت ملک کو منظم انداز میں حساس بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسی لیے مذکورہ طلبائی مہم نہایت کارگر ثابت ہوگی۔‘‘

بعد ازاں مشہور کالم نگار سلیم خان نے نہایت ہی دردمندانہ انداز میں ملک کی بگڑتی ہوئی تصویر کا خاکہ پیش کیا۔ مزید کہا کہ’’اجین میں محض 12 سالہ لڑکی کی جارحانہ عصمت ریزی بتاتی ہے کہ سماج کس قدر نچلی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ سماجی سطح پر بے شمار مسائل پنپ رہے ہیں، جن کے خاتمے کے لیے طلبہ کا آگے آنا ناگزیر ہے۔‘‘

میوات: جمعیۃ کی طرف سے زیر تعمیر ظفرالدین نگر کالونی میں مکان کا سنگ بنیاد رکھا گیا

0
میوات:-جمعیۃ-کی-طرف-سے-زیر-تعمیر-ظفرالدین-نگر-کالونی-میں-مکان-کا-سنگ-بنیاد-رکھا-گیا

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے ایک اعلی سطحی وفد نے ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں میوات کے فساد زدہ علاقے میں ریلیف اور باز ابادکاری کے کاموں کا جائزہ لیا۔ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں یہ اطلاع دیی گئی۔ اس موقع پر وفد نے ہوڈل اور پلول میں فساد متاثرہ مساجد میں جاری تعمیری کاموں پر اطمینان کا اظہار کیا۔

دریں اثنا، جمعیۃ کی طرف سے میوات میں زیر تعمیر مولانا ظفر الدین نگر کالونی میں ایک نئے مکان کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔ اس مکان کی بنیاد احمد آباد کے معروف عالم دین اور وفد کے مہمان خصوصی مولانا عرفان گلی والا کے ہاتھوں رکھی گئی۔ مولانا عرفان نے علاقہ میں جاری ریلیف، بازآباد کاری اور قانونی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا ’’مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ جمعیۃ علماء ہند نے قانونی میدان میں بڑا نمایاں کارنامہ انجام دیا اور صرف چند ہفتوں میں 130 سے زائد ضمانت کرا کے میوات کے مظلوم اور بے قصور لوگوں کے ساتھ بڑا کرم فرمائی کا کام کیا ہے۔‘‘

انہوں نے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی قیادت میں جاری اس جدوجہد کو قابل قدر بتایا۔ جمعیۃ علما ہند کے وفد نے دوسرے مقامات پر جاری باز آباد کاری اور غریب تاجروں کے لیے کھوکھے بنائے جانے کے کاموں کا بھی جائزہ لیا۔

مولانا حکیم الدین قاسمی نے بتایا کہ جمعیۃ میوات میں تین محاذوں پر کام کر رہی ہے، ان میں سے ایک جن کے مکانات تباہ کر دیے گئے ان کے لیے مکانات کی تعمیر کا کام ہو رہا ہے، اسی طرح جو لوگ مقدمات میں گرفتار ہوئے ہیں ان کے لیے قانونی پیروی کی جا رہی ہے، اسی طرح وہ افراد جن کے دکان جلا دیے گئے ان کے لیے کھوکھے اور ریہڑی کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ان تاجروں کے لیے مالی امداد کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی تجارت شروع کر سکیں۔

مولانا حکیم الدین قاسمی نے جمعیۃ علماء میوات کے کارکنان اور ذمہ داروں کی شب و روز خدمات کی بھی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے مقامی کارکنان چاہے لیگل ٹیم ہو یا ریلیف ٹیم ہو، وہ تن من سے محنت کر رہی ہے۔ آج جمیعت علماء کے وفد میں مرکزی سینیر ارگنائزر مولانا غیور احمد قاسمی اور جمعیۃ علماء میوات کے ذمہ داران بھی شامل تھے۔ جو ضرورت مند تاجر ہیں ان کے لیے لگاتار کھوکے اور ریڈی کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ ان کے مکان تباہ کر دیے گئے ہیں جن کی تعمیر کی کا کام بھی جاری ہے۔ جمعیۃ نے اب تک 28 کھوکھے تقسیم کیے ہیں اور مزید تیار کیے جا رہے ہیں۔

ملازمین نے پرانی پنشن کے لیے مرکز کے خلاف کھولا محاذ، بحالی کے لیے دہلی میں زوردار مظاہرہ

0
ملازمین-نے-پرانی-پنشن-کے-لیے-مرکز-کے-خلاف-کھولا-محاذ،-بحالی-کے-لیے-دہلی-میں-زوردار-مظاہرہ

نئی دہلی: ملک بھر سے ہزاروں سرکاری ملازمین اتوار کو راجدھانی دہلی کے رام لیلا میدان میں جمع ہوئے اور پرانی پنشن اسکیم (او پی ایس) کو بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مودی حکومت کے خلاف محاذ کھولا۔ نیشنل موومنٹ فار اولڈ پنشن اسکیم کے زیر اہتمام ‘پنشن شنکھ ناد مہا ریلی’ کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد موجودہ نیشنل پنشن اسکیم (این پی ایس) کے بجائے پرانی پنشن اسکیم کو نافذ کرنے کے لیے مرکز پر دباؤ ڈالنا تھا۔

ریلی کے منتظمین نے میڈیا کو بتایا کہ چار ریاستیں پہلے ہی او پی ایس کے نفاذ کا اعلان کر چکی ہیں، تو مرکز اسے کیوں نافذ نہیں کر سکتا؟ رام لیلا میدان میں منعقد ہونے والی ریلی میں ملک کے مختلف حصوں سے ہزاروں سرکاری ملازمین نے حصہ لیا۔ پونے، مہاراشٹر سے آئے جتیندر نے کہا کہ ملک میں 2004 سے اور مہاراشٹر میں 2005 سے پرانی پنشن اسکیم بند ہے۔ ہمیں این پی ایس (نئی پنشن اسکیم) نہیں چاہیے، ہمیں یہ اسٹاک مارکیٹ اسکیم نہیں چاہیے۔ آئین بھی کہتا ہے کہ پرانی پنشن ہمارا حق ہے۔‘‘

یہ ریلی اس سال مارچ میں سرکاری ملازمین کے لیے پرانی پنشن اسکیم کا انتخاب کرنے کے لیے مرکزی حکومت کی جانب صرف ایک مرتبہ انتخاب کرنے کا اختیار دئے جانے کے بعد منعقد کی گئی۔ عملے کی وزارت کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق، جو ملازمین 22 دسمبر 2003، جس تاریخ کو این پی ایس کو مطلع کیا گیا تھا، سے پہلے مشتہر یا مطلع شدہ پوسٹوں پر مرکزی حکومت کی خدمات میں شامل ہوئے تھے، وہ سنٹرل سول سروسز (پنشن) رولز، 1972 (اب 2021) کے تحت پرانی پنشن اسکیم میں شامل ہونے کے اہل ہیں۔ سرکاری ملازمین کا ایک منتخب گروپ 31 اگست 2023 تک اس اختیار کا انتخاب کر سکتا ہے۔

وزارت نے کہا تھا کہ ایک بار استعمال ہونے والا آپشن حتمی ہوگا۔ یہ قدم اس حوالے سے مختلف نمائندگیوں، ریفرنسز اور عدالتی فیصلوں کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وہ سرکاری ملازمین جو اس اختیار کو استعمال کرنے کے اہل ہیں لیکن جو مقررہ تاریخ تک اختیار استعمال نہیں کرتے وہ قومی پنشن سسٹم کے تحت آتے رہیں گے۔ او پی ایس کے تحت ملازمین کو ایک متعین پنشن ملتی ہے۔ ایک ملازم آخری دی گئی تنخواہ کا 50 فیصد بطور پنشن کا حقدار ہے۔ این پی ایس کے تحت ملازمین پنشن کے لیے اپنی بنیادی تنخواہ کا 10 فیصد حصہ دیتے ہیں جبکہ حکومت 14 فیصد حصہ دیتی ہے۔ او پی ایس کو این ڈی اے حکومت نے 2003 میں یکم اپریل 2004 سے بند کر دیا تھا۔