جمعرات, مارچ 26, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 83

ذات پر مبنی مردم شماری کا ڈاٹا ریلیز ہونے کے بعد کس نے کیا کہا؟

0
ذات-پر-مبنی-مردم-شماری-کا-ڈاٹا-ریلیز-ہونے-کے-بعد-کس-نے-کیا-کہا؟

بہار میں ذات پر مبنی مردم شماری کا ڈاٹا ریلیز ہو چکا ہے اور سیاسی گہما گہمی بھی شروع ہو گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا کہنا ہے کہ اب وہ جلد از جلد معاشی سروے کے لیے راستہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے 3 اکتوبر کو انھوں نے کل جماعتی میٹنگ بھی طلب کی ہے۔ اس میٹنگ میں ذات پر مبنی مردم شماری کا ڈاٹا سبھی پارٹیوں کے سامنے رکھا جائے گا اور معاشی سروے پر تبادلہ خیال ہوگا۔ بہرحال، آج جیسے ہی ذات پر مبنی مردم شماری کا ڈاٹا حکومت بہار کے ذریعہ جاری کیا گیا، مختلف پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران کا رد عمل بھی سامنے آنا شروع ہو گیا۔ راہل گاندھی، جئے رام رمیش، دگوجے سنگھ، سشیل مودی، سنجے سنگھ، گری راج سنگھ وغیرہ نے جاری رپورٹ پر اپنی رائے ظاہر کی ہے اور بیشتر نے قومی سطح پر ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ آئیے نظر ڈالتے ہیں کس نے کیا کہا…

راہل گاندھی:

بہار کی ذات پر مبنی مردم شماری سے پتہ چلا ہے کہ وہاں او بی سی + ایس سی + ایس ٹی 84 فیصد ہیں۔ مرکزی ھکومت کے 90 سکریٹریز میں صرف 3 او بی سی ہیں، جو ہندوستان کا محض 5 فیصد بجٹ سنبھالتے ہیں۔ اس لیے ہندوستان میں موجود ذات سے متعلق ڈاٹا سامنے آنا ضروری ہے۔ جتنی آبادی، اتنا حق- یہ ہمارا عزم ہے۔

جئے رام رمیش:

بہار حکومت نے ابھی ریاست میں کرائے گئے ذات پر مبنی سروے کے نتائج جاری کر دیے ہیں۔ اس پیش قدمی کا استقبال کرتے ہوئے کانگریس حکومتوں کے ذریعہ کرناٹک جیسی دیگر ریاستوں میں اسی طرح کے پہلے کے سروے کو یاد کرتے ہوئے، انڈین نیشنل کانگریس اپنے مطالبات دہراتی ہے کہ مرکزی حکومت جلد از جلد قومی سطح پر ذات پر مبنی مردم شماری کرائے۔ یو پی اے-2 حکومت نے دراصل اس مردم شماری کے کام کو پورا کر لیا تھا، لیکن اس کے نتائج مودی حکومت نے جاری نہیں کیے۔ سماجی خود مختاری پروگراموں کو مضبوطی فراہم کرنے اور سماجی انصاف کو آگے بڑھانے کے لیے ایسی مردم شماری ضروری ہو گئی ہے۔

نتیش کمار:

آج گاندھی جینتی کے مبارک موقع پر بہار میں کرائی گئی ذات پر مبنی شماری کے اعداد و شمار شائع کر دیے گئے ہیں۔ ذات پر مبنی شماری کے کام میں مصروف پوری ٹیم کو بہت بہت مبارک۔ ذات پر مبنی سروے کے کام میں لگی ہوئی پوری ٹیم کو بہت بہت مبارک۔ ذات پر مبنی مردم شماری کے لیے اتفاق رائے سے مقننہ میں قرارداد پاس کیا گیا تھا۔ بہار اسمبلی کی سبھی 9 پارٹیوں کے اتفاق سے فیصلہ لیا گیا تھا کہ ریاستی حکومت اپنے وسائل سے ذات پر مبنی مردم شماری کرائے گی اور مورخہ 2 جون 2022 کو وراء کونسل سے اس کی منظوری دی گئی تھی۔ اس کی بنیاد پر ریاستی حکومت نے اپنے وسائل سے ذات پر مبنی مردم شماری کرائی ہے۔ ذات پر مبنی مردم شماری سے نہ صرف ذاتوں کے بارے میں پتہ چلا ہے بلکہ سبھی کی معاشی حالت کی جانکاری بھی ملی ہے۔ اسی کی بنیاد پر سبھی طبقات کی ترقی اور فلاح کے لیے پیش قدمی کی جائے گی۔ بہار میں کرائی گئی ذات پر مبنی مردم شماری کو لے کر جلد ہی بہار اسمبلی کی انہی 9 پارٹیوں کی میٹنگ بلائی جائے گی اور ذات پر مبنی مردم شماری کے نتائج سے انھیں مطلع کرایا جائے گا۔

تیجسوی یادو:

کم وقت میں ذات پر مبنی سروے کے اعداد و شمار جمع اور انھیں شائع کر بہار آج پھر ایک تاریخی لمحہ کا گواہ بنا۔ دہائیوں کی جدوجہد نے ایک سنگ میل حاصل کیا۔ اس سروے نے نہ صرف سالوں سے زیر التوا ذات پر مبنی اعداد و شمار فراہم کیے ہیں بلکہ ان کی سماجی معاشی حالت کا بھی ٹھوس حوالہ دیا ہے۔ اب حکومت تیز رفتاری سے محروم طبقات کی مجموعی ترقی اور حصہ داری کو ان اعداد و شمار کے پیش نظر یقینی بنائے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ بی جے پی قیادت نے مختلف ذرائع سے کتنی طرح سے اس میں رخنہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ بہار نے ملک کے سامنے ایک نظیر پیش کی ہے اور ایک طویل لکیر کھینچ دی ہے سماجی اور معاشی انصاف کی منزلوں کے لیے۔ آج بہار میں ہوا ہے، کل پورے ملک میں کروانے کی آواز اٹھے گی اور وہ کل بہت دور نہیں ہے۔ بہار نے پھر ملک کو راستہ دکھایا ہے اور آگے بھی دکھاتا رہے گا۔ جئے ہند۔ جئے بہار۔

سشیل کمار مودی:

ذات پر مبنی سروے کا فیصلہ بی جے پی حکومت نے کیا تھا۔ آج بہار حکومت نے اعداد و شمار منظر عام پر لائے ہیں۔ بی جے پی ان کا مطالعہ کر رہی ہے۔

جیتن رام مانجھی:

بہار میں ذات پر مبنی سروے کی رپورٹ آ چکی ہے۔ صوبہ کے ایس سی/ایس ٹی، او بی سی، ای بی سی کی آبادی تو بہت ہے، لیکن ان کے ساتھ حق ماری کی جا رہی ہے۔ میں عزت مآب نتیش کمار سے گزارش کرتا ہوں کہ ریاست میں آبادی کو پیش نظر رکھتے ہوئے سرکاری ملازمت/مقامی بلدیوں میں ریزرویشن نافذ کریں۔

دگوجے سنگھ:

بہار حکومت کو ذات پر مبنی سروے کے لیے مبارکباد۔ مدھیہ پردیش میں ہماری حکومت بننے کے بعد ہم یہاں بھی ذات پر مبنی سروے کرائیں گے۔

سنجے سگنھ:

اس ملک میں ذات پر مبنی مردم شماری ہونی چاہیے۔ ہمیں ذاتوں کی تعداد پتہ ہونی چاہیے۔ ذات پر مبنی سروے تو پورے ملک کا سبجیکٹ ہے۔

گری راج سنگھ:

ذات پر مبنی سروے مضحکہ خیز ہے۔ اسے پیش کرنے سے پہلے لالو-نتیش یہ بتاتے کہ اب تک وہ کتنے غریبوں کو روزگار دے چکے ہیں۔ یہ آنکھ میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ غریبوں کو ورغلا کر سماج میں غلط فہمی پھیلا کر اسے پیش کیا گیا ہے۔ آج لوگ چاند پر جا رہے ہیں اور نتیش-لالو ذات پر مبنی سروے کر رہے ہیں۔ 33 سال کی رپورٹ کون دے گا۔ لالو-نتیش دونوں مل کر غلط فہمی پھیلا رہے ہیں۔

بہار: ذات پر مبنی مردم شماری کا ڈاٹا ریلیز، اب معاشی سروے کی باری، نتیش نے بلائی کل جماعتی میٹنگ

0
بہار:-ذات-پر-مبنی-مردم-شماری-کا-ڈاٹا-ریلیز،-اب-معاشی-سروے-کی-باری،-نتیش-نے-بلائی-کل-جماعتی-میٹنگ

بہار میں 2 اکتوبر کو ذات پر مبنی مردم شماری کا ڈاٹا جاری کر دیا گیا ہے اور سیاسی گہما گہمی شروع ہو گئی ہے۔ بہار ذات پر مبنی مردم شماری کا ڈاٹا ریلیز کرنے والی پہلی ریاست بن گیا ہے اور اب اس رپورٹ کو بہار کی سبھی پارٹیوں کے سامنے رکھے جانے کی تیاری ہے۔ اس کے لیے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی طرف سے کل یعنی 3 اکتوبر کو ایک کل جماعتی میٹنگ طلب کی گئی ہے۔ اس میٹنگ میں ذات پر مبنی مردم شماری کی رپورٹ سبھی پارٹیوں کے سامنے رکھنے کے بعد معاشی سروے پر تبادلہ خیال ہوگا۔

قابل ذکر ہے کہ حکومت بہار نے آج ذات پر مبنی مردم شماری کی رپورٹ جاری کی جس میں بہار کی 215 ذاتوں کی آبادی کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے جاری ہونے کے بعد سے ریاست میں سیاسی ہلچل شروع ہو گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ نگار اسے نتیش کمار کا ماسٹر اسٹروک قرار دے رہے ہیں۔ جاری رپورٹ کے مطابق بہار کی آبادی میں تقریباً 63 فیصد عوام کا تعلق پسماندہ طبقہ اور انتہائی پسماندہ طبقہ سے ہے۔ مذہب کی بنیاد پر دیکھا جائے تو ہندوؤں کی آبادی سب سے زیادہ 81.9 فیصد ہے، جبکہ دوسرے نمبر مسلم آبادی ہے جو کہ 17.7 فیصد ہے۔

بہرحال، نتیش کمار کی طرف سے 3 اکتوبر کو طلب کی گئی کل جماعتی میٹنگ میں 9 پارٹیاں حصہ لیں گے۔ کل شام 3.30 بجے بلائی گئی اس میٹنگ میں سبھی پارٹیوں کے سامنے ذات پر مبنی مردم شماری کی رپورٹ رکھی جائے گی اور معاشی سروے کے بارے میں ان سے مشورہ لیا جائے گا۔ میٹنگ میں نتیش کمار ذات پر مبنی مردم شماری کے لیے سبھی پارٹیوں کا شکریہ ادا کرنے کے علاوہ آنے والے وقت میں ہونے والے معاشی سروے کے لیے بھی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

مہاراشٹر: بلڈھانہ میں اندوہناک سڑک حادثہ، بے قابو ٹرک نے 10 مزدوروں کو کچلا، 5 ہلاک

0
مہاراشٹر:-بلڈھانہ-میں-اندوہناک-سڑک-حادثہ،-بے-قابو-ٹرک-نے-10-مزدوروں-کو-کچلا،-5-ہلاک

مہاراشٹر کے بلڈھانہ ضلع میں آج دردناک سڑک حادثہ پیش آیا ہے۔ ناندورا-ملکاپور ریاستی شاہراہ پر ایک بھیانک حادثہ میں تیز رفتار ٹرک نے سڑک کنارے سو رہے 10 مزدوروں کو کچل دیا۔ اس حادثے میں 5 لوگوں کی موت ہو گئی ہے، جبکہ 6 دیگر زخمیوں کا علاج چل رہا ہے۔ زخمیوں میں 2 کی حالت سنگین بتائی جا رہی ہے۔ حادثہ کے بعد ٹرک ڈرائیور گاڑی چھوڑ کر فرار ہو گیا۔

ملکاپور کے ایس ڈی پی او دیورام گولی نے کہا کہ یہ حادثہ صبح تقریباً 5.30 بجے پیش آیا جب سیب سے لدا ایک ٹرک شاہراہ سے اتر کر سڑک مرمت کے کام میں لگے 10 مزدوروں پر چڑھ گیا۔ دیورام نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کو بتایا کہ متاثرین مین سڑک سے کافی دور تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ ٹرک راستہ بھٹک گیا تھا جس سے یہ حادثہ پیش آیا۔ ابتدائی جانچ سے پتہ چلا ہے کہ ڈرائیور کو گاڑی چلاتے وقت جھپکی سی آ گئی ہوگی۔ حادثہ کے بعد اس نے ٹرک چھوڑ دیا اور وہاں سے فرار ہو گیا۔ پولیس نے اس کی تلاش شروع کر دی ہے۔

اس اندوہناک حادثہ میں 5 مزدوروں کی موقع پر ہی موت ہو گئی اور 5 دیگر بری طرح زخمی ہو گئے ہیں جن میں 2 کی حالت سنگین ہے اور انھیں قریب کے ہی چوپڈے اسپتال لے جایا گیا ہے۔ مہلوکین کی شناخت ابھشیک آر جامبھیکر (18 سال)، پرکاش بی جامبھیکر (26 سال)، پنکج ٹی جامبھیکر (25 سال) کی شکل میں کی گئی ہے۔

طیارہ حادثہ میں ہندوستانی صنعت کار سمیت 6 افراد کی موت، تکنیکی خرابی کے سبب ہوا دھماکہ

0
طیارہ-حادثہ-میں-ہندوستانی-صنعت-کار-سمیت-6-افراد-کی-موت،-تکنیکی-خرابی-کے-سبب-ہوا-دھماکہ

ایک ہندوستانی ارب پتی اور ان کے بیٹے سمیت 6 لوگوں کی موت طیارہ حادثہ میں ہونے سے کنبہ میں غم کا ماحول چھایا ہوا ہے۔ یہ طیارہ حادثہ گزشتہ جمعہ کے روز ہوا تھا، حالانکہ اس کی تفصیل اب سامنے آئی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ طیارہ میں تکنیکی خرابی پیدا ہو گئی تھی جو حادثہ کا سبب بنا۔

دراصل حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ ہندوستانی صنعت ہرپال سنگھ رندھاوا کا ذاتی طیارہ تھا، جو کہ زمبابوے کے جنوب مغربی علاقے میں واقع ایک ہیرا کان کے پاس حادثہ کا شکار ہو گیا۔ ہرپال سنگھ ’ریوزِم‘ نامی کانکنی کمپنی کے مالک تھے جو زمبابوے میں سونے اور کوئلے کی کانکنی کرتی ہے۔ ساتھ ہی یہ کمپنی نکل اور تانبے جیسی معدنیات کی ریفائننگ کا بھی کام کرتی ہے۔ طیارہ حادثہ میں ہلاک ہونے والوں میں ہرپال سنگھ، ان کا بیٹا اور 4 دیگر لوگ شامل ہیں۔

سنگل انجن والے اس طیارے کا مالکانہ حق ریوزِم کمپنی کے پاس ہے۔ یہ طیارہ راجدھانی ہرارے سے مرووا ہیرے کی کان کی طرف جا رہا تھا۔ اسی دوران ماشاوا علاقے میں بیچ ہوا میں ہی حادثہ کا شکار ہو گیا۔ نتیجہ کار طیارہ میں سوار سبھی 6 افراد کی موت ہو گئی۔ حادثہ جمعہ کی صبح تقریباً 7.30 سے 8.00 بجے کے درمیان پیش آیا۔

تازہ ترین خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ تکنیکی خرابی کے سبب طیارہ میں ہوا میں ہی دھماکہ ہو گیا۔ فی الحال مہلوکین کے ناموں کا آفیشیل اعلان نہیں ہوا ہے، لیکن ہرپال سنگھ رندھاوا کے دوست اور فلمساز ہوپویل چینونو نے ہرپال سنگھ کے موت کی تصدیق کر دی ہے۔ کمپنی نے بھی بیان جاری کر رندھاوا کی موت کی تصدیق کی ہے۔

منی پور پر ایک لفظ نہیں بولنے والے پی ایم مودی انتخابی تشہیر میں بے شرمی سے جھوٹ بولتے ہیں: جئے رام رمیش

0
منی-پور-پر-ایک-لفظ-نہیں-بولنے-والے-پی-ایم-مودی-انتخابی-تشہیر-میں-بے-شرمی-سے-جھوٹ-بولتے-ہیں:-جئے-رام-رمیش

کانگریس لیڈر جئے رام رمیش نے 2 اکتوبر کو وزیر اعظم نریندر مودی کے اس تبصرہ پر جوابی حملہ کیا کہ خواتین کے خلاف جرم کے سب سے زیادہ معاملے راجستھان میں ہیں۔ جئے رام رمیش نے کہا کہ ’’پی ایم مودی نے منی پور اور خواتین کے خلاف جرم کے واقعات پر ایک بھی لفظ نہیں بولا۔ لیکن جب انتخابی تشہیر کی بات آتی ہے تو وہ وہی کریں گے جو وہ سب سے اچھا کرتے ہیں، بے شرمی سے جھوٹ بولنا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ کانگریس کبھی بھی خواتین کے خلاف تشدد کو نظر انداز نہیں کرے گی، اور راجستھان حکومت سبھی معاملوں میں انتہائی سنجیدگی کے ساتھ انصاف کرے گی، جبکہ بی جے پی حکومتیں اس کے برعکس کبھی بھی ذمہ داری یا جوابدہی قبول نہیں کرتی ہیں۔

کانگریس جنرل سکریٹری مواصلاتی انچارج جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہے کہ ’’وزیر اعظم منی پور کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں بولیں گے۔ وہ اجین کا ذکر نہیں کریں گے۔ وہ خاتون پہلوانوں پر مظالم کے لیے اپنی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے، اور نہ ہی ہمارے قومی چمپئنز کے ساتھ دہلی پولیس کے بربریت والے رویہ کی مذمت کریں گے۔ لیکن جب انتخابی تشہیر کی بات آتی ہے، تو وہ وہی کریں گے جو وہ سب سے اچھا کرتے ہیں- بے شرمی سے جھوٹ بولنا۔‘‘

راجیہ سبھا رکن جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے سوچا تھا کہ کم از کم گاندھی جینتی پر وزیر اعظم ملک کو اپنے جھوٹ اور چیزوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور بدنام کرنے والی سیاست سے بخشیں گے۔ ریکارڈ کے لیے، کانگریس پارٹی کبھی بھی خواتین کے خلاف تشدد کو نظر انداز نہیں کرے گی۔ اور راجستھان حکومت سبھی معاملوں میں فوری انصاف کرے گی، جبکہ بی جے پی حکومتیں اس کے برعکس کبھی بھی ذمہ داری یا جوابدہی قبول نہیں کرتیں۔ یہی فرق ہے۔‘‘

راہل گاندھی امرتسر پہنچے، سورن مندر کا کیا دورہ

0
راہل-گاندھی-امرتسر-پہنچے،-سورن-مندر-کا-کیا-دورہ

کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے پیر کو اپنے ذاتی دورے پر سکھوں کے زیارت گاہ ہرمندر صاحب (سورن مندر) پہنچے اور سجدہ کیا۔ اس تعلق سے کانگریس لیڈروں کا کہنا ہے کہ یہ راہل گاندھی کا ذاتی دورہ ہے، اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کانگریس لیڈران نے یہ بھی جانکاری دی کہ وہ لنگر (کمیونٹی کچن) تقسیم کرنے میں اپنی خوشی سے ہاتھ بٹائیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ گاندھی جینتی کے موقع پر تعطیل کے سبب سورن مندر میں صبح سے ہی سینکڑوں عقیدت مند عبادت کرنے کے لیے قطار میں کھڑے نظر آئے۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی صبح 11.15 بجے ہوائی اڈے پر اترے۔ پھر وہ شری ہرمندر صاحب پہنچے۔ اس موقع پر راہل گاندھی سر پر پگڑی کی جگہ نیلے رنگ کا پٹکا باندھے ہوئے تھے۔

اس سے قبل راہل گاندھی، سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی پیر کی صبح سولن کے سادھو پل واقع رام لوک مندر پہنچے تھے۔ اس دوران انھوں نے رام لوک مندر میں سر جھکایا اور یہاں پر حال ہی میں تعمیر ناگ لوک مندر کی زیارت بھی کی۔ وہ بغیر کسی اطلاع کے خاموشی کے ساتھ مندر پہنچے۔

منی پور میں سی بی آئی کارروائی سے کھلبلی، تشدد کے پیش نظر گرفتار ملزمین آسام منتقل

0
منی-پور-میں-سی-بی-آئی-کارروائی-سے-کھلبلی،-تشدد-کے-پیش-نظر-گرفتار-ملزمین-آسام-منتقل

منی پور میں نسلی تشدد کی آگ بجھنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ ریاست میں ایک بار پھر تشدد کی لہر پھیلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ دو طلبا کے لاپتہ ہونے اور پھر ان کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد حالات پھر سے خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ طلبا کی موت معاملے میں منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ نے جانکاری دی ہے کہ 4 افراد کی گرفتاری سی بی آئی کے ذریعہ عمل میں آئی ہے۔ اس گرفتاری کی وجہ سے ماحول مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے جس کو پیش نظر رکھتے ہوئے سبھی ملزمین کو آسان منتقل کر دیا گیا ہے۔

ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ یہ یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ ملزمین کو اپنے جرائم کے لیے زیادہ سے زیادہ سزا ملے۔ گرفتار کیے گئے چار افراد میں کلیدی ملزم کی بیوی بھی شامل ہے اور انھیں اسپیشل فلائٹ سے آسام بھیجا گیا ہے۔ شروع میں اس واقعہ کے تعلق سے 11 اور 9 سال کی دو نابالغ لڑکیوں کو حراست میں لیا گیا تھا، لیکن بعد میں انھیں رِہا کر دیا گیا۔ یہ لڑکیاں کلیدی ملزم کی بیٹیاں ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ہلاک دونوں طلبا (لڑکا اور لڑکی) میتئی طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اس قتل معاملے میں کوکی طبقہ کے ملزمین کی گرفتاری ہوئی ہے جس کے بعد چراچندپور واقع کئی قبائلی تنظیموں نے گرفتاری کی مخالفت شروع کر دی ہے۔ چاروں نوجوانوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے آج بند کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

اس سے قبل وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ نے ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا تھا کہ سی بی آئی نے دونوں طالب علموں کے قتل کے الزام میں چراچندپور ضلع کے ہینگلیپ علاقے سے 4 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان لوگوں کو خصوصی طیارہ سے ریاست سے باہر لے جایا گیا۔ حالانکہ انھیں کہاں لے جایا گیا، اس بارے میں وزیر اعلیٰ نے کچھ بھی نہیں بتایا تھا۔ اب خبریں سامنے آئی ہیں کہ سبھی کو آسام کے گواہاٹی لے جایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مقتول دونوں طلبا، یعنی 20 سالہ نوجوان فجام ہیمن جیت اور 17 سالہ لڑکی ہجام لنتھوئن گامبی 6 جولائی کو لاپتہ ہوئے تھے۔ 25 ستمبر کو ان کی لاشوں کی تصویریں سامنے آئیں، جس کے بعد ناراضگی میں بڑی تعداد میں طلبا نے پرتشدد مظاہرے کیے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انٹرنیٹ سروسز جو کچھ ہی دن پہلے بحال کی گئی تھی، از سر نو 5 دنوں کے لیے معطل کرنے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔

بہار میں ذات پر مبنی مردم شماری کا مکمل ڈاٹا جاری، او بی سی کی آبادی 36 فیصد، مسلم آبادی 17.7 فیصد

0
بہار-میں-ذات-پر-مبنی-مردم-شماری-کا-مکمل-ڈاٹا-جاری،-او-بی-سی-کی-آبادی-36-فیصد،-مسلم-آبادی-17.7-فیصد

بہار میں ذات پر مبنی مردم شماری کو روکنے کی بہت کوششیں ہوئیں اور معاملہ عدالت تک پہنچ گیا، لیکن نتیش حکومت ہار نہیں مانی۔ اب لوک سبھا انتخاب سے چند ماہ پہلے ماسٹر اسٹروک کھیلتے ہوئے نتیش کمار نے ذات پر مبنی مردم شماری کا مکمل ڈاٹا جاری کر دیا ہے۔ ذات پر مبنی مردم شماری سے متعل قجاری سروے رپورٹ کے مطابق اس وقت بہار کی آبادی 13 کروڑ سے زیادہ ہے جس میں ہندو طبقہ کی آبادی 81.9 فیصد ہے۔ دیگر مذاہب کی بات کی جائے تو مسلم آبادی 17.7 فیصد، عیسائی آبادی 0.15 فیصد، سکھ آبادی 0.01 فیصد، بودھ آبادی 0.08 فیصد، جین آبادی 0.0096 فیصد اور دیگر مذاہب کے لوگوں کی آبادی 0.12 فیصد ہے۔

جاری سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بہار کی مجموعی آبادی میں 10.07 کروڑ ہندوؤں کی آبادی ہے، جبکہ مسلم آبادی 2.31 کروڑ ہے۔ اگر ذات پر مبنی مردم شماری کی بات کی جائے تو انتہائی پسماندہ طبقہ/دیگر پسماندہ طبقہ (ای بی سی/او بی سی) طبقہ کی آبادی 36 فیصد، پسماندہ طبقہ کی آبادی 27 فیصد۔ اس طرح دیکھا جائے تو ریاست کی نصف سے زیادہ آبادی پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقات کی ہے۔ اَن ریزروڈ آبادی 15.5 فیصد، راجپوت آبادی 3 فیصد کے آس پاس ہے۔ علاوہ ازیں نئی مردم شماری کے مطابق بہار میں اب درج فہرست ذات کی آبادی 19 فیصد پہنچ گئی ہے۔ یادووں کی تعداد 14 فیصد ہے۔ برہمنوں کی آبادی 3.3 فیصد اور کرمی کی آبادی 2.87 فیصد ہے۔

ذات پر مبنی مردم شماری کا ڈاٹا سامنے آنے کے بعد وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سبھی کو مبارکباد پیش کی ہے۔ انھوں نے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’آج گاندھی جینتی کے مبارک موقع پر بہار میں کرائی گئی ذات پر مبنی مردم شماری کا ڈاٹا شائع کر دیا گیا ہے۔ ذات پر مبنی سروے کے کام میں لگی ہوئی پوری ٹیم کو بہت بہت مبارک۔ ذات پر مبنی مردم شماری کے لیے اتفاق رائے سے مقننہ میں قرارداد پاس کیا گیا تھا۔ بہار اسمبلی کی سبھی 9 پارٹیوں کے اتفاق سے فیصلہ لیا گیا تھا کہ ریاستی حکومت اپنے وسائل سے ذات پر مبنی مردم شماری کرائے گی اور مورخہ 2 جون 2022 کو وراء کونسل سے اس کی منظوری دی گئی تھی۔ اس کی بنیاد پر ریاستی حکومت نے اپنے وسائل سے ذات پر مبنی مردم شماری کرائی ہے۔‘‘

نتیش کمار نے اپنے پوسٹ میں مزید لکھا ہے کہ ’’ذات پر مبنی مردم شماری سے نہ صرف ذاتوں کے بارے میں پتہ چلا ہے بلکہ سبھی کی معاشی حالت کی جانکاری بھی ملی ہے۔ اسی کی بنیاد پر سبھی طبقات کی ترقی اور فلاح کے لیے پیش قدمی کی جائے گی۔ بہار میں کرائی گئی ذات پر مبنی مردم شماری کو لے کر جلد ہی بہار اسمبلی کی انہی 9 پارٹیوں کی میٹنگ بلائی جائے گی اور ذات پر مبنی مردم شماری کے نتائج سے انھیں مطلع کرایا جائے گا۔‘‘

ذات پر مبنی مردم شماری کا ڈاٹا جاری ہونے کے بعد نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کا بھی رد عمل سامنے آیا ہے۔ انھوں نے اپنے ایکس ہینڈل پر لکھا ہے کہ ’’بہار میں ذات پر مبنی سروے کا ڈاٹا منظر عام پر! تاریخی لمحہ! دہائیوں کی جدوجہد کا نتیجہ!! اب حکومت کی پالیسیاں اور نیت دونوں ہی ذات پر مبنی سروے کے ان اعداد و شمار کا خیال رکھے گی۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ بہار میں ذات پر مبنی مردم شماری کا ڈاٹا ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب سپریم کورٹ نے پٹنہ ہائی کورٹ کے اگست کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کی۔ اس کے بعد ریاست میں ذات پر مبنی مردم شماری کا راستہ صاف ہو سکا۔ اگست ماہ میں سروے کا کام مکمل یر لیا گیا تھا۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو لگاتار ذات پر مبنی مردم شماری مکمل کرنے پر زور دے رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے تو کہا تھا کہ ذات پر مبنی سروے سبھی کے لیے فائدہ مند ہوگا اور محروم طبقہ سمیت سماج کے مختلف طبقات کی ترقی کا راستہ ہموار کرے گا۔

سنجے گاندھی اسپتال کو بند کرنا مناسب نہیں:بی جے پی لیڈر

0
سنجے-گاندھی-اسپتال-کو-بند-کرنا-مناسب-نہیں:بی-جے-پی-لیڈر

بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے پیلی بھیت سے ایم پی ورون گاندھی کے بعد سابق مرکزی وزیر و پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر سنجے سنگھ نے کہا کہ سنجے گاندھی اسپتال میں خاتون کی موت کے سلسلے میں ہوئے تنازع کے بعد خاطیوں پر کاروائی ہولیکن اسپتال کو بند کرنا ٹھیک نہیں ہے۔

ڈاکٹر سنگھ نے اتوار کو ایک پروگرام میں شامل ہونے کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ حکومت کو خاتون کے اہل خانہ کو مالی مدد کرنی چاہئے۔سابق مرکزی وزیر و بی جے پی لیڈر ڈاکٹر سنجے سنگھ نے کہا کہ حکومت کو خاتون کے کنبے کے تئیں ہمدردی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ سنجے گاندھی اسپتال میں آس پاس کے اضلاع سمیت بیمار مریض اپنا علاج کرانے آتے ہیں۔ اسپتال کا بند   کرنا امیٹھی کے عوام کے لئے نقصان دہ ہے۔

انہوں نے آگے کہا کہ اسپتال کو بند کئے جانے سے پورے علاقے کو دکھ ہے۔ اسے ناکارہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ سب کو اس بات سے تکلیف ہے۔ وہیں انہوں نے کہا کہ خاتون کی موت کی جانچ ہونی چاہئے۔ اس کے علاج میں گڑبڑی تھی۔ یہ جانچ کا موضوع ہے۔ مجھے لگتا ہے اس کی جانچ کر کےمناسب کاروائی کرنا چاہئے۔

انہوں نے متاثرہ کنبے کے بارے میں کہا کہ اس کے کنبے کی روزی۔روٹی کے لئے حکومت کو انتظام کرنا چاہئے۔ یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اسپتال 1982 میں بنا اور 1996 سے لوگوں کا علاج اسپتال میں ہورہا ہے۔ وارانسی لکھنؤ الہ آباد کے علاوہ تمام اضلاع کے لوگ علاج کے لئے آتے ہیں۔ اسپتال میں تمام ساری ایمرجنسی بلڈ بینک و دیگر سہولیات ہیں۔ حکومت کو اسپتالوں میں تمام سہولیات بڑھانا چاہئے۔

قابل ذکر ہے کہ سنجے گاندھی اسپتال منشی گنج پر ہوئی کاروائی کے سلسلے میں اس سے قبل سابق بی جے پی ایم پی ورون گاندھی نے بھی یوپی کے ڈپٹی وزیر اعلی برجیش پاٹھک کو خط لکھ کر اسپتال کی خدمات بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے اسپتال کو بند کرائے جانے کے فیصلے کو نامناسب قرار دیا تھا۔

برطانیہ میں 75 سال سے کم عمر افراد کی شرح اموات میں اضافہ ہوگا

0
برطانیہ-میں-75-سال-سے-کم-عمر-افراد-کی-شرح-اموات-میں-اضافہ-ہوگا

مجموعی طور پر اموات کی شرح میں6.5 فیصد تک کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ برطانیہ میں ہونے والی مہنگائی سے صرف لوگوں کے معمولات زندگی متاثر نہیں ہوئے بلکہ اوسط عمر میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

صحت سے متعلق برطانوی تحقیقاتی جریدے بی ایم جے میں شائع ہونے والی ایک مطالعاتی رپورٹ میں پیشن گوئی کی گئی ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے برطانیہ میں ان افراد کی شرح اموات میں 6.5 فیصد تک کا اضافہ ہو سکتا ہے، جن کی عمریں 75 سال سے زائد ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی وجہ سے کم آمدنی والے افراد اپنی کمائی کا ایک بڑا حصہ روز مرہ کی اشیاء اور توانائی پر خرچ کررہے ہیں۔

محققین نے سال 2022 اور 2023 کے دوران اسکاٹ لینڈ میں مہنگائی کے اثرات اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اوسط شرح اموات کا مطالعہ بھی کیا ہے۔ تحقیق میں یہ بات ثابت ہوئی کہ مہنگائی کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر کم آمدنی والے یا غریب افراد ہوئے ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے بنیادی ضروریات سے محروم انتہائی پسماندہ علاقوں میں رہنے والے افراد کی اموات میں تیئیس فیصد جبکہ قدرےکم پسماندہ علاقوں میں رہنے والے افراد کی اموات میں پانچ فیصد تک کا اضافہ ممکن ہے۔ مجموعی طور پر اموات کی شرح میں6.5 فیصد تک کا اضافہ ہوسکتا ہے ۔

محقیقین کا کہنا ہے کہ معیشت کا تعلق افراد کی صحت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کم آمدنی کی وجہ سے اموات کی تعداد میں اضافہ ہونے کا مزید خدشہ ہے جس سے مزید معاشرتی تقسیم پیدا ہوسکتی ہے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے بنائی گئی پالیسیوں سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ نافذ عوامی پالیسیاں اس قابل نہیں ہیں کہ وہ عوام کو ان منفی اثرات سے بچا سکیں، جو مہنگائی کی وجہ سے ان کی صحت پر پڑ رہے ہیں۔ مزید یہ کہ ان پالیسیز پر عمل کرکے بڑھتی ہوئی معاشرتی تقسیم کو روکا جانا بھی ممکن نہیں۔

رواں سال اگست میں برطانیہ میں مہنگائی کی شرح 6.7 فیصد رہی جو کہ گزشتہ کئی مہینوں کی نسبت کم تھی مگر مہنگائی کی یہ شرح جی سیون ممالک میں سب سے زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ مہنگائی کی وجوہات میں کورونا وائرس، بریگزٹ اور یوکرین میں جاری جنگ شامل ہیں۔