بدھ, مارچ 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 81

نیوز کلک کیس: سیتارام یچوری کے گھر بھی پہنچی دہلی پولیس

0
نیوز-کلک-کیس:-سیتارام-یچوری-کے-گھر-بھی-پہنچی-دہلی-پولیس

چین سے مبینہ طور پر فنڈنگ لینے کے الزام میں 3 اکتوبر کو دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے آن لائن پورٹل ’نیوز کلک‘ سے جڑے تقریباً 30 احاطوں پر چھاپہ ماری کی ہے۔ ساتھ ہی پولیس نے نیوز کلک سے منسلک صحافیوں کے گھروں میں بھی تلاشی لی۔ اتنا ہی نہیں، سی پی آئی (ایم) جنرل سکریٹری سیتارام یچوری کے گھر بھی اسی معاملے میں دہلی پولیس کا چھاپہ پڑا ہے۔

سیتارام یچوری نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ پولیس ان کے گھر آئی تھی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ دہلی پولیس کی جو چھاپہ ماری ہوئی ہے، اس سے سی پی آئی (ایم) کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یعنی ان کے گھر پر ہوئی چھاپہ ماری پارٹی سے الگ ہی معاملے میں ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’دہلی پولیس ہمارے گھر پہنچی ہے، کیونکہ ہماری پارٹی کے ایک ساتھی ہمارے ساتھ رہتے ہیں جن کا بیٹا نیوز کلک میں کام کرتا ہے۔ یہ چھاپہ ماری کیوں ہو رہی ہے، اس کی وجہ کیا ہے، اس کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں دی گئی ہے۔‘‘

پولیس نے نیوز کلک کیس کو لے کر ہو رہی کارروائی پر بھی اپنا رد عمل ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’پولیس بتا ہی نہیں رہی کہ یہ سب کیوں کر رہے ہیں؟ ہم چاہتے ہیں کہ پولیس وضاحت دے۔ یہ میڈیا اور اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ ہے۔ انہی وجوہات سے دنیا کے پریس انڈیکس میں (ہندوستان کی) گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ نیوز کلک سے جڑے صحافیوں اور رائٹرس کے گھروں پر کی گئی چھاپہ ماری پر پریس کلب آف انڈیا نے بھی فکر کا اظہار کیا ہے۔ اس نے پورے معاملے پر نظر رکھنے اور ایک تفصیلی بیان جلد جاری کیے جانے کی بات بھی کہی ہے۔ اس درمیان خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے ذرائع کے حوالہ سے بیان دیا ہے کہ نیوز کلک سے جڑے مختلف احاطوں پر چل رہی دہلی پولیس کی چھاپہ ماری 17 اگست کو یو اے پی اے اور آئی پی سی کی دیگر دفعات کے تحت درج معاملے پر مبنی ہے۔ یہ کیس یو اے پی اے، آئی پی سی کی دفعہ 153 اے (دو گروپوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا)، آئی پی سی کی دفعہ 120بی (مجرمانہ سازش) کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے سنجیو بھٹ کی درخواستیں مسترد کیں

0
سپریم-کورٹ-نے-سنجیو-بھٹ-کی-درخواستیں-مسترد-کیں

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سابق آئی پی ایس (انڈین پولیس سروس) افسر سنجیو بھٹ کو حکم دییا ہے کہ انہوں نے عدالت کا وقت ضائع کیا ہے لہذا وہ گجرات ہائی کورٹ ایڈوکیٹ ایسوسی ایشن کے اکاؤنٹ میں تین لاکھ روپے جمع کریں۔ اسی کے ساتھ سپریم کورٹ نے ان کی تین درخواستیں مسترد کر دیں۔

جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس راجیش بندل کی بنچ نے بھٹ کے ایک ہی معاملے پر باربارعدالت عظمیٰ میں درخواستیں دائر کرنے پرناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت کا وقت ضائع کرنے پر یہ حکم جاری کیا۔ بنچ نے ان کی تین درخواستوں پر ایک ایک لاکھ روپے (عدالت کا وقت ضائع کرنے کے بدلے) دینے کا حکم دیا۔

یہ مقدمہ منشیات کو غیر قانونی طریقے سے رکھنے کا غلط الزام لگاتے ہوئے ایک وکیل کو مبینہ طورپر پھنسانے کے الزام سے متعلق ہے۔ 2018 سے جیل میں بند بھٹ کے خلاف اس معاملے میں نچلی عدالت میں جاری سماعت کو کسی دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی ان کی درخواست ہائی کورٹ کی طرف سے مسترد کیے جانے کے بعد انہوں نے بار بار سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

’نیٹ فلکس‘ اور انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ آمنے سامنے، 196 کروڑ روپے کی جنگ جاری!

0
’نیٹ-فلکس‘-اور-انکم-ٹیکس-ڈپارٹمنٹ-آمنے-سامنے،-196-کروڑ-روپے-کی-جنگ-جاری!

انکم ٹیکس کی مبینہ چوری معاملے میں او ٹی ٹی پلیٹ فارم کمپنی نیٹ فلکس اور ہندوستانی انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ آمنے سامنے نظر آ رہے ہیں۔ دراصل انکم ٹیکس محکمہ نے 196 کروڑ روپے کی وصولی کے لیے کمپنی کو نوٹس بھیجا ہے، لیکن اب معاملہ انکم ٹیکس ٹریبونل پہنچنے والا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق انکم ٹیکس محکمہ نے مبینہ ٹیکس چوری کے ایک معاملے میں نیٹ فلکس سے 196 کروڑ روپے کے ٹیکس کا مطالبہ کیا تھا۔ انکم ٹیکس محکمہ کی بین الاقوامی وِنگ نے یہ ٹیکس ڈیمانڈ جنریٹ کی تھی۔ بعد میں دونوں فریقین ڈی آر پی (ڈسپیوٹ ریزولوشن پینل) کے پاس گئے جہاں اس سال کے شروع میں فیصلہ انکم ٹیکس محکمہ کے حق میں آیا تھا۔ حالانکہ اب نیٹ فلکس کے ترجمان نے ایک بیان دیا ہے جس میں کہا ہے کہ کمپنی نے ڈی آر پی کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ کمپنی جلد ہی اس معاملے کو لے کر انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹریبونل جا سکتی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنی گلوبل ضرورتوں اور ٹیکس اصولوں پر پوری طرح عمل کرتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں نیٹ فلکس انٹرٹینمنٹ سروسز ایل ایل پی کو رجسٹر کیا گیا ہے۔ یہ نیٹ فلکس کی ڈپینڈینٹ ایجنٹ پرمانینٹ اسٹیبلشمنٹ ہے، یعنی ایک پرمانینٹ اسٹیبلشمنٹ (پی ای) کے طور پر ہندوستان میں آپریشنز سے ہونے والی کمائی نیٹ فلکس کو اپنی پیرنٹ کمپنی کے ساتھ شیئر کرنی ہوتی ہے۔

انکم ٹیکس کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ اپریل 2020 سے دسمبر 2020 کے درمیان نیٹ فلکس نے انڈیا آپریشنز سے تقریباً 1145 کروڑ روپے کی کمائی کی، جبکہ اس میں اس کا منافع 1008 کروڑ روپے تھا۔ اس میں انڈین آپریشن کی حصہ داری 503 کروڑ روپے آئی۔ لیکن پی ای ارینجمنٹ کے طور پر نیٹ فلکس نے ہندوستان میں 13.36 کروڑ روپے کی پیش کش کی، باقی 490 کروڑ روپے نیٹ فلکس کو منتقل کر دیے۔ حالانکہ ہندوستانی قانون کے مطابق اس رقم پر بھی 196 کروڑ روپے کا ٹیکس بنتا ہے۔

چندرابابو نائیڈو کو عبوری راحت دینے سے سپریم کورٹ کا انکار، عرضی پر سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی

0
چندرابابو-نائیڈو-کو-عبوری-راحت-دینے-سے-سپریم-کورٹ-کا-انکار،-عرضی-پر-سماعت-9-اکتوبر-تک-ملتوی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو تلگو دیشم پارٹی کے سپریمو اور آندھرا پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو کی عرضی پر کوئی عبوری راحت دینے سے انکار کر دیا۔ چندرابابو نائیڈو اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے مبینہ گھوٹالہ سے متعلق ایک کیس میں سلاخوں کے پیچھے قید ہیں۔ جسٹس انیرودھا بوس اور بیلا ایم ترویدی کی بنچ نے کیس کی سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

دریں اثنا، بنچ نے ریاستی حکومت سے کہا ہے کہ وہ آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے سامنے دائر تمام دستاویزات کی ایک تالیف پیش کرے۔ تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے سربراہ کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ہریش سالوے نے کہا کہ ریاستی گورنر سے منظوری حاصل کیے بغیر نائیڈو کے خلاف تحقیقات نہیں کی جا سکتی تھیں۔

قبل ازیں سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ہریش سالوے اور ابھیشیک سنگھوی نے چندرا بابو کی طرف سے دلائل پیش کئے۔ ہریش سالوے نے دلیل دی کہ دفعہ 17اے سیاسی انتقام کے لیے لگائی گئی ہے، اس معاملے میں کیا یہ دفعہ لاگو ہوتی ہے یا نہیں یہی اصل سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدمہ کب درج ہوا اور جانچ کب کی جا رہی ہے؟

اس کے بعد ابھیشیک سنگھوی نے بحث کی۔انہوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن ایکٹ ترمیم کے ہر لفظ کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عدالت کے علم میں لایا گیا کہ کابینہ کے فیصلوں کا ذمہ دار اکیلا وزیراعلیٰ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یشونت سنہا کیس میں عدالت کا فیصلہ یقینی طور پر اس کیس پر لاگو ہوتا ہے۔ عدالت نے دلائل کی سماعت کے بعد اس معاملہ پر مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔

خیال رہے کہ 27 ستمبر کو ہوئی آخری سماعت میں سپریم کورٹ کے جسٹس ایس وی بھٹی نے کیس کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا تھا۔ اسی دن سی جے آئی ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی بنچ نے کسی اور بنچ میں نائیڈو کی عرضی کی فوری سماعت کے لیے یا انہیں کوئی عبوری راحت دینے کے لیے کوئی ہدایت نہیں دی۔

سینئر وکیل سدھارتھ لوتھرا نے دلیل دی تھی کہ آندھرا کے سابق وزیر اعلیٰ کو صرف 2024 کے عام انتخابات کی وجہ سے یکے بعد دیگرے ایف آئی آر میں پھنسایا جا رہا ہے۔

نائیڈو نے 22 ستمبر کو آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے جسٹس ایس ریڈی کی سنگل جج بنچ نے ان کے خلاف درج ایف آئی آر اور عدالتی تحویل کو منسوخ کرنے کی ان کی درخواست کو مسترد کرنے کے بعد ریڈی نے خصوصی چھٹی کی درخواست دائر کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

’رام سیتو‘ کے اوپر نہیں بنے گی دیوار، سپریم کورٹ میں داخل عرضی خارج

0
’رام-سیتو‘-کے-اوپر-نہیں-بنے-گی-دیوار،-سپریم-کورٹ-میں-داخل-عرضی-خارج

رام سیتو کے اوپر دونوں طرف دیوار تعمیر کرانے اور رام سیتو کو قومی وراثت قرار دینے کا مطالبہ کرنے والی عرضی آج سپریم کورٹ سے خارج ہو گئی۔ یہ مفاد عامہ عرضی ہندو پرسنل لاء بورڈ نامی ایک ادارہ کے سربراہ اشوک پانڈے نے داخل کی تھی۔ عرضی دہندہ نے عدالت عظمیٰ سے مطالبہ کیا تھا کہ ’دھنش کوڈی‘ کے پاس سمندر میں رام سیتو کے اوپر 100 میٹر تک دیوار بنانے کی ہدایت دی جائے۔ ساتھ ہی کہا تھا کہ اگر ممکن ہو تو دیوار کی تعمیر ایک کلومیٹر تک ہو۔

اس عرضی پر جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس سدھانشو دھولیا کی بنچ نے سماعت کی۔ اس دوران عدالت عظمیٰ نے سوال قائم کیا کہ آخر دونوں طرف دیوار کیسے بنائی جا سکتی ہے؟ اس پر عرضی دہندہ نے کہا کہ کم از کم ایک طرف ہی بنوا دی جائے۔ لیکن سپریم کورٹ نے واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ یہ ایک ایڈمنسٹریٹو فیصلہ ہے، اس لیے عدالت دیوار تعمیر کرنے کی ہدایت کیسے دے سکتا ہے؟ سپریم کورٹ نے اس مفاد عامہ عرضی کو ایک دیگر عرضی کے ساتھ ٹیگ کرنے سے بھی انکار کر دیا جس میں رام سیتو کو قومی وراثت اعلان کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ عرضی میں رام سیتو کو ہندو مذہب کے لیے انتہائی اہم بتایا گیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ پل کو عام طور پر شری رام سیتو کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس سیتو کی زیارت سے ہی نجات کی گارنٹی مل جاتی ہے۔ عرضی دہندہ نے یہ بھی کہا تھا کہ موجودہ ہندوستانی حکومت رام راج لانے کے ایجنڈے پر کام کرنے کا دعویٰ کرتی ہے اور وہ تب تک ممکن نہیں جب تک کہ کوئی دیوار کھڑی کر کے رام سیتو کی زیارت کا انتظام نہ کیا جائے۔

بریکنگ نیوز: دہلی-این سی آر میں زلزلے کے شدید جھٹکے

0
بریکنگ-نیوز:-دہلی-این-سی-آر-میں-زلزلے-کے-شدید-جھٹکے

نئی دہلی: دہلی-این سی آر میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق زلزلے کے جھٹکوں کے باعث زمین کافی دیر تک لرزتی رہی جس کے بعد لوگ گھروں اور دفاتر سے باہر نکل کر کھلی جگہ پر آ گئے۔ قومی مرکز برائے ارضیات کے مطابق زلزلے کی شدت 6.2 تھی اور اس کا مرکز نیپال میں تھا۔ دہلی این سی آر کے علاوہ مغربی یوپی اور اتراکھنڈ میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔

یوپی حکومت جلد شروع کرے ذات پر مبنی مردم شماری: مایاوتی

0
یوپی-حکومت-جلد-شروع-کرے-ذات-پر-مبنی-مردم-شماری:-مایاوتی

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی کی قومی صدر مایاوتی نے منگل کو بہار حکومت کی طرف سے کرائی گئی ذات پر مبنی مردم شماری کے معاملے پر اپنا پہلا ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ یوپی حکومت کو اب عوامی جذبات اور توقعات کے مطابق اپنے ارادوں اور پالیسیوں میں بہتری لانی چاہئے اور ذات پر مبنی مردم شماری فوری شروع کرنی چاہئے۔

بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا بہار حکومت کی طرف سے کرائی گئی ذات پر مبنی مردم شماری کے اعداد و شمار کو منظر عام پر لانے کی خبریں آج کل شہ سرخیوں میں ہیں اور اس پر شدید بحثیں جاری ہیں۔ کچھ پارٹیاں اس سے بے چین ضرور ہیں لیکن بی ایس پی کے لیے یہ او بی سی کے آئینی حقوق کے لیے طویل جدوجہد کا پہلا قدم ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ بی ایس پی کو خوشی ہے کہ ملک کی سیاست نظر انداز کیے گئے ‘بہوجن سماج’ کے حق میں ایک نیا موڑ لے رہی ہے، جس کا نتیجہ ایس سی/ایس ٹی ریزرویشن کو غیر فعال اور غیر موثر بنانے اور او بی سی اور منڈل کی مخالف ذات پرست جماعتیں بھی اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند نظر آتی ہیں۔

مایاوتی نے کہا کہ یوپی حکومت کو اب عوامی جذبات اور توقعات کے مطابق اپنے ارادوں اور پالیسیوں میں بہتری لانی چاہیے اور ذات پات کی مردم شماری/سروے کو فوری طور پر شروع کرنا چاہیے، لیکن صحیح حل اسی وقت نکلے گا جب مرکزی حکومت قومی سطح پر ذات پر مبنی مردم شماری کرائے گی اور ان کو ان کے جائز حقوق دلائے گی۔

قابل ذکر ہے کہ بہار حکومت نے پیر کو ذات پات کی مردم شماری کا ڈیٹا جاری کیا تھا۔ گاندھی جینتی کے دن بہار حکومت کے چیف سکریٹری اور دیگر عہدیداروں نے یہ رپورٹ جاری کی۔

ایڈیشنل چیف سکریٹری وویک سنگھ نے کہا کہ ذات کے سروے کے مطابق بہار کی کل آبادی 13 کروڑ کے قریب ہے۔ جس میں انتہائی پسماندہ طبقہ 27.12 فیصد، انتہائی پسماندہ طبقہ 36.01 فیصد، شیڈول کاسٹ 19.65 فیصد، شیڈول ٹرائب 1.68 فیصد اور غیر محفوظ یعنی اعلیٰ ذات 15.52 فیصد ہے۔

صحافیوں کے خلاف چھاپہ ماری کا مقصد، ذات پر مبنی مردم شماری کے نتائج سے توجہ ہٹانا: پون کھیڑا

0
صحافیوں-کے-خلاف-چھاپہ-ماری-کا-مقصد،-ذات-پر-مبنی-مردم-شماری-کے-نتائج-سے-توجہ-ہٹانا:-پون-کھیڑا

نئی دہلی: دہلی کے اسپیشل سیل نے منگل کو راجدھانی میں مختلف نیوز پورٹل ’نیوزکلک‘ سے وابستہ صحافیوں کے کم از کم 30 ٹھکانوں پر چھاپے ماری کی۔ دریں اثنا، پولیس کئی صحافیوں کو پوچھ گچھ کے لیے بھی لے گئی اور ان کے یہاں سے لیپ ٹاپ وغیرہ چیزیں بھی ثوبت کے طور پر ضبط کر لی گئیں۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے صحافیوں پر چھاپہ ماری کی مذمت کرتے ہوئے حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے کہا کہ یہ چھاپہ ماری بہار کے ذات پر مبنی مردم شماری کے نتائج سے توجہ ہٹانے کے لئے کی گئی۔

پون کھیڑا نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا، ’’کل جب سے بہار کی ذات پر مبنی مردم شماری کے چونکا دینے والے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، پورے ملک میں ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ مودی صاحب کی نیند اڑی ہوئی ہے۔ جب نصاب سے باہر کوئی سوال کھا ہو جاتا ہے تو مودی جی کے نصاب کا ایک دیکھا بھالا ہتھیار باہر نکال لیا جاتا ہے، جو مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کا ہتھیار ہے۔ آج صبح سے نیوز کلک کے لیے تعاون کرنے والے صحافیوں کے خلاف جو کارروائی کی جا رہی ہے وہ اسی نصاب کا حصہ ہے۔‘‘

قبل ازیں، انڈین نیشنل کانگریس کے ایکس ہینڈل سے ٹوئٹ کر کے بھی صحافیوں کے خلاف چھاپہ ماری پر تنقید کی گئی۔ کانگریس کے ہینڈل سے لکھا گیا، ’’وزیر اعظم مودی ڈرے ہوئے ہیں، گھبرائے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر ان لوگوں سے جو ان کی کوتاہیوں پر، ان کی ناکامیوں پر سوال پوچھتے ہیں۔ وہ حزب اختلاف کے لیڈر ہوں یا پھر صحافی، سچ بولنے والوں کا استحصال کیا جائے گا۔ آج پھر سے صحافیوں پر چھاپہ ماری اسی بات کا ثبوت ہے۔‘‘

وہیں، سواج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی صحافیوں کے خلاف چھاپہ ماری پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا، ’’چھاپے ہارتی ہوئی بھی جے پی کی نشانی ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ایماندار خبرنویسوں پر بھاجپائی حکمرانوں نے ہمیشہ ڈالے ہیں چھاپے لیکن سرکاری تشہیر کے نام پر کتنے کروڑ ہر مہینے ’دوست چینلوں‘ کو دئے جا رہے ہیں یہ بھی تو کوئی چھاپے!‘‘

’دی پرنٹ‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق دہلی پولیس کی ٹیموں نے منگل کو دہلی، نوئیڈا اور غازی آباد میں کم از کم 30 مقامات پر چھاپے مارے جن میں نیوز پورٹل ’نیوز کلک‘ سے وابستہ صحافیوں اور دیگر لوگوں کے گھر بھی شامل ہیں۔ دہلی پولیس کے ذرائع کے مطابق، چھاپہ کے وقت شہر بھر میں 100 پولیس اہلکار تعینات تھے اور یہ 17 اگست کو اسپیشل سیل کی طرف سے سخت غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) سیکشن کے تحت درج کی گئی ایک نئی ایف آئی آر کے سلسلے میں مارا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پولیس کی یہ کارروائی نیوز پورٹل کو مبینہ طور پر چین سے رقم وصول کرنے کے الزام کے بعد کی گئی۔

چھتیس گڑھ میں ’محبت والی ٹرین یاترا‘ کے دوران ہندوستان کی جھلک نظر آئی: راہل گاندھی

0
چھتیس-گڑھ-میں-’محبت-والی-ٹرین-یاترا‘-کے-دوران-ہندوستان-کی-جھلک-نظر-آئی:-راہل-گاندھی

نئی دہلی: کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بلاس پور سے رائے پور تک ٹرین کے سفر کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ٹرین کے اس مختصر سفر میں ہندوستان کی جھلک نظر آئی۔ انہوں نے کہا کہ انڈین ریل ملک کی متنوع روایات کو ظاہر کرتی ہے اور یہ ہندوستان کا عکس ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں راہل گاندھی چھتیس گڑھ کے دورے پر تھے جہاں انہوں نے ٹرین سے سفر کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے مسافروں سے ان کے مسائل کے بارے میں بھی بات کی تھی۔ راہل گاندھی نے ٹرین میں موجود خواتین ہاکی کھلاڑیوں سے بھی بات کی تھی اور ان کی ٹریننگ اور انہیں ملنے والی سہولیات کے بارے میں بھی پوچھا تھا۔

ویڈیو کو ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے لکھا ’’بلاس پور سے رائے پور تک چھوٹی سی ریل یاترا میں ہندوستان کی جھلک نظر آئی۔ کروڑوں لوگوں کو منزلوں تک پہنچانے والی اور ملک کے تنوع کو ظاہر کرنے والی انڈن ریل حقیقت معنی میں ہندوستان کا عکس ہے۔‘‘

مہاراشٹر: ناندیڑ کے اسپتال میں اموات کا سلسلہ جاری، 48 گھنٹوں میں 16 بچوں سمیت 31 افراد جان بحق

0
مہاراشٹر:-ناندیڑ-کے-اسپتال-میں-اموات-کا-سلسلہ-جاری،-48-گھنٹوں-میں-16-بچوں-سمیت-31-افراد-جان-بحق

ممبئی: مہاراشٹر کے ناندیڑ شہر میں اموات کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہسپتال میں 4 بچوں سمیت مزید 7 مریضوں کی موت ہو گئی۔ سرکاری میڈیکل کالج اور اسپتال میں گزشتہ 48 گھنٹوں میں اب تک 31 افراد کی جان چلی گئی ہے، جن میں 16 بچے بھی شامل ہیں۔ اسپتالوں میں بڑی تعداد میں اموات صحت کے نظام پر سوالات اٹھا رہی ہیں۔ ان اموات کی وجہ کیا ہے تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا ہے۔ تاہم، لوگ ان اموات کا ذمہ دار ناقص حکومتی نظام کو ٹھہرا رہے ہیں۔ یہ معاملہ شنکر راؤ چوان سرکاری ہسپتال، ناندیڑ سے متعلق ہے۔

اسپتال میں ہونے والی اموات کے بارے میں شنکر راؤ چوان سرکاری اسپتال کے ڈین نے بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر اموات سانپ کے کاٹنے اور باقی بیماریوں کی وجہ سے ہوئیں۔ صورتحال یہ ہے کہ اموات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور اعداد و شمار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اسپتال کے ڈین نے کہا کہ ’’70-80 کلومیٹر کے دائرے میں صرف ایک اسپتال ہے۔ لوگ دور دور سے یہاں علاج کروانے آتے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے اسپتال میں مریضوں کی بڑی تعداد آ رہی ہے۔ ہم نے مقامی طور پر ادویات خرید کر مریضوں کو فراہم کی ہیں۔‘‘ وہیں مہاراشٹر کے سی ایم ایکناتھ شندے نے ان اموات کو افسوس ناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اموات پر اسپتال سے معلومات طلب کی جائیں گی اور کارروائی بھی کی جائے گی۔ اس واقعہ کو لے کر اپوزیشن لیڈران ایکناتھ حکومت پر حملہ آور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر کی ٹرپل انجن حکومت کو اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔