بدھ, مارچ 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 79

دانش علی سے بدسلوکی: استحقاق کمیٹی کے سامنے 10 اکتوبر کو پیش ہوں گے رمیش بدھوڑی

0
دانش-علی-سے-بدسلوکی:-استحقاق-کمیٹی-کے-سامنے-10-اکتوبر-کو-پیش-ہوں-گے-رمیش-بدھوڑی

نئی دہلی: لوک سبھا کی استحقاق کمیٹی نے پارلیمنٹ میں بی ایس پی کے رکن پارلیمنٹ دانش علی سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کی بدسلوکی کے معاملہ پر 10 اکتوبر کو پہلا اجلاس طلب کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رمیش بدھوڑی کو اپنی قابل اعتراض زبان پر وضاحت دینے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

بدھوڑی اپنے اوپر لگے الزامات پر وضاحت دیں گے، جبکہ وہ دانش علی کے رویے کے حوالے سے بھی زبانی ثبوت پیش کر سکتے ہیں۔خیال رہے کہ اپوزیشن کے کئی ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے لوک سبھا اسپیکر کو خط لکھ کر بی جے پی ایم پی رمیش بدھوڑی کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس کے جواب میں بی جے پی کے لوک سبھا ارکان نشی کانت دوبے اور روی کشن اور بی جے پی راجیہ سبھا کے رکن ہرناتھ سنگھ یادو نے لوک سبھا اسپیکر کو خط لکھ کر دانش علی کے رویے کی بھی تحقیقات کر کے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

دونوں طرف سے کئی ممبران پارلیمنٹ کی شکایات موصول ہونے کے بعد لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے تمام شکایات ایوان کی استحقاق کمیٹی کو بھیجیں اور اسے ہدایت دی کہ وہ پورے معاملے کی تحقیقات کرے اور اپنی رپورٹ پیش کرے۔

مودی حکومت آخر منی پور کی خبر کیوں نہیں لے؟ کانگریس

0
مودی-حکومت-آخر-منی-پور-کی-خبر-کیوں-نہیں-لے؟-کانگریس

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ منی پور میں تشدد کی وجہ سے پانچ مہینوں میں حالات مزید خراب ہو گئے ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی اس صورتحال پر خاموش ہیں، ریاست کے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے اورر ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا جا رہا ہے۔

کانگریس کے کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ جے رام رمیش نے بدھ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا، ’’پانچ ماہ قبل 3 مئی کی شام کو منی پور میں نام نہاد ڈبل انجن حکومت کی تقسیم کی سیاست کی وجہ سے تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ تقریباً ایک ماہ کے بعد کرناٹک انتخابات میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر کے اور ایسے دیگر ضروری کاموں سے آزاد ہو کر، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ریاست کا دورہ کرنا مناسب سمجھا لیکن حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’درحقیقت صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ سماجی ہم آہنگی مکمل طور پر بگڑ چکی ہے۔ ہر دوسرے دن پرتشدد جرائم کی ہولناک اطلاعات سامنے آتی ہیں۔ ہزاروں لوگ اب بھی راحت کیمپوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ مسلح افواج اور ریاستی پولیس کے درمیان جھڑپیں معمول بن گئی ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’اس کے باوجود وزیر اعظم اس معاملے پر مکمل طور پر خاموش ہیں۔ ریاست کے حالات خراب ہونے کے کافی دنوں بعد، انہوں نے محض دکھاوے کے لیے 10 اگست کو لوک سبھا میں اپنی 133 منٹ کی تقریر میں پانچ منٹ سے بھی کم وقت کے لیے ریاست پر ایک تبصرہ کر کے محض رسمی کارروائی کی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیادہ تر ایم ایل اے وزیر اعلیٰ کو عہدے سے ہٹانا چاہتے ہیں، اس کے باوجود وہ بے شرمی سے اپنے عہدے پر برقرار ہیں۔

کانگریس کے ترجمان نے منی پور کے تعلق سے وزیر اعظم مودی سے سوال کیا اور کہا کہ ’’وزیر اعظم نے آخری بار منی پور کا دورہ کب کیا تھا؟ وزیر اعظم نے منی پور کے بی جے پی وزیر اعلیٰ سے آخری بار کب بات کی تھی؟ وزیر اعظم نے منی پور کے بی جے پی ایم ایل اے سے آخری ملاقات کب کی تھی؟ آخری بار وزیر اعظم نے ریاست کے اپنے کابینہ کے ساتھی کے ساتھ منی پور پر بات چیت کب کی تھی۔ اس سے پہلے کسی دوسرے وزیر اعظم نے کسی ریاست اور اس کے تمام لوگوں کو پوری طرح سے ان کے حال پر نہیں چھوڑا ہے، جیسا کہ اب کیا جا رہا ہے۔”

انہوں نے کہا، ”بی جے پی کو ریاست میں بڑا مینڈیٹ ملنے کے تقریباً 15 ماہ بعد منی پور میں ایسی خوفناک صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ یہ ان کی پالیسیوں اور وزیر اعظم کی ترجیحات پر سب سے بڑا بدنما داغ ہے۔

حدیں پار کر رہے خالصتانی، لندن میں ترنگا پر گئو موتر ڈالا اور نذرِ آتش کر دیا!

0
حدیں-پار-کر-رہے-خالصتانی،-لندن-میں-ترنگا-پر-گئو-موتر-ڈالا-اور-نذرِ-آتش-کر-دیا!

ہندوستان کے خلاف خالصتانیوں کی ناپاک حرکتیں تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ 2 اکتوبر کو گاندھی جینتی کے موقع پر بھی خالصتانیوں نے لندن میں ہندوستان کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس دوران انھوں نے لندن میں انڈین ہائی کمیشن کے باہر جمع ہو کر خالصتانی پرچم لہرائے تھے اور ہندوستان مخالف نعرے بھی بلند کیے تھے۔ اب خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ اس مظاہرہ کے دوران خالصتانی تنظیم ’دَل خالصہ یو کے‘ سے منسلک گرچرن سنگھ نے ہندوستان کے قومی پرچم کو آگ لگا دی تھی۔ اس کے علاوہ ترنگے پر گئو موتر کا چھڑکاؤ بھی کیا گیا تھا۔ گرچرن سنگھ نے برطانوی وزیر اعظم رشی سنک کو یہ چیلنج بھی پیش کیا کہ وہ برطانیہ کی گائے کا پیشاب پی کر دکھائیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گرچرن سنگھ کو پولیس نے جائے وقوع سے ہٹا دیا تھا، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اسے گرفتار کیا گیا یا پھر چھوڑ دیا گیا۔ ہندی نیوز پورٹل ’لائیو ہندوستان‘ پر شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مظاہرہ کے دوران این آئی اے کی موسٹ وانٹیڈ لسٹ میں شامل خالصتانی دہشت گرد پرمجیت سنگھ پمّا بھی موجود تھا۔ اس کا تعلق خالصتان ٹائیگر فورس سے ہے۔

خالصتانیوں کا یہ مظاہرہ اس واقعہ کے بعد ہوا ہے جب خالصتانی دہشت گردوں نے برطانیہ میں برطانوی ہائی کمشنر وکرم درئی سوامی کو گلاسگو کے گرودوارے میں اندر جانے سے روک دیا تھا۔ اس معاملے کی شکایت ہندوستان نے برطانوی حکومت سے کی تھی اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ خالصتان ٹائیگر فورس سے منسلک پرمجیت سنگھ پمّا طویل مدت سے این آئی اے کے رڈار پر ہے اور خالصتانی سرگرمیوں کو فروغ دے رہا ہے۔

اس درمیان خالصتانیوں کے مظاہرہ کو لے کر امریکہ نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے کہا کہ ہم ایسے غیر آفیشیل ریفرینڈم پر کچھ نہیں کہنے جا رہے۔ حالانکہ انھوں نے یہ ضرور کہا کہ ہم اظہارِ رائے کی آزادی کا احترام کرتے ہیں اور امریکی آئین میں بھی ایسا لکھا ہے۔ کوئی بھی پرامن طریقے سے جمع ہو سکتا ہے اور اپنی بات رکھ سکتا ہے۔

مسلم نوجوانوں کی سرعام پٹائی کا معاملہ، چار پولیس اہلکاروں پر توہین عدالت کے الزامات طے

0
مسلم-نوجوانوں-کی-سرعام-پٹائی-کا-معاملہ،-چار-پولیس-اہلکاروں-پر-توہین-عدالت-کے-الزامات-طے

احمد آباد: گجرات ہائی کورٹ نے بدھ کو باضابطہ طور پر ان چار پولیس اہلکاروں کے خلاف توہین عدالت کے الزامات عائد کر دیے ہیں جنہوں نے گزشتہ سال کھیڑا ضلع میں پانچ مسلم نوجوانوں کو سرعام زدوکوب کیا تھا۔ جسٹس اے ایس سوپہیا اور ایم آر مانگڈے کی ڈویژن بنچ نے کارروائی کے دوران باضابطہ طور پر الزامات عائد کئے گئے۔

سماعت کے دوران الزامات کا سامنا کرنے والے پولیس افسروں میں سے ایک ڈی بی کماوت نے کہا کہ اس کا اس واقعے میں کوئی سرگرم عمل دخل نہیں ہے۔ تاہم جسٹس سوپہیا نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کماوت کی جائے وقوعہ پر موجودگی کو اجاگر کیا۔ جج نے نشاندہی کی کہ کماوت نے متاثرین کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی جب کہ انہیں عوام میں وحشیانہ مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا۔

جسٹس سوپہیا نے کہا، ’’انہوں نے متاثرین کو بچانے کے لیے کوئی کوشش نہیں کی جن کو عوام میں کوڑے مارے گئے اور بے دردی سے مارا گیا۔ انہوں نے کوڑے مارنے کی سزا کو روکنے کے لیے بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا، جو کہ ایک غیر قانونی اور توہین آمیز عمل تھا۔ چونکہ ان کی موجودگی متنازعہ نہیں ہے، لہذا یہ واضح ہے کہ اس نے مذکورہ واقعے میں ایک فعال کردار ادا کیا تھا اور کوڑے مارے جانے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔‘‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’تمام ویڈیوز کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آئے گی کہ یہ ویڈیوز عوام میں کھڑے چند لوگوں نے بنائی ہیں، جنہیں پولیس اہلکار یونیفارم میں کنٹرول کر رہے تھے۔‘‘ توہین عدالت الزامات کا سامنا کرنے والے چار پولیس افسران اے وی پرمار، ڈی بی کماوت، کناک سنگھ لکشمن سنگھ اور راجو رمیش بھائی ڈابھی ہیں۔

ان پر ڈی کے باسو کیس میں گرفتاری سے متعلق سپریم کورٹ کے رہنما خطوط کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔ ہائی کورٹ نے ان افسران کو اپنے دفاع میں حلف نامہ داخل کرنے کے لیے 11 اکتوبر تک کا وقت دیا ہے۔ مزید برآں، سی جے ایم نے کہا کہ متاثرین اس واقعے میں ملوث تمام پولیس اہلکاروں کی شناخت کرنے سے قاصر تھے۔

سنجے سنگھ کے گھر پر چھاپہ: الیکشن قریب آتے ہی تمام ایجنسیوں کو فعال کر دیا جائے گا! کیجریوال کا ردعمل

0
سنجے-سنگھ-کے-گھر-پر-چھاپہ:-الیکشن-قریب-آتے-ہی-تمام-ایجنسیوں-کو-فعال-کر-دیا-جائے-گا!-کیجریوال-کا-ردعمل

نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ کی رہائش گاہ پر چھاپے پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم پچھلے ایک سال سے شراب گھوٹالے کو دیکھ رہے ہیں۔ کہیں سے کچھ نہیں ملا۔ ان لوگوں نے بہت چھاپے مارے ہیں۔ شراب گھوٹالہ میں ابھی تک کچھ نہیں ملا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’سنجے سنگھ کے گھر سے بھی کچھ نہیں ملا۔ یہ سب آئندہ انتخابات میں اپنی شکست کو دیکھ کر ہو رہا ہے۔ الیکشن قریب آتے ہی یہ تمام ایجنسیاں فعال ہو جائیں گی۔‘‘

وزیر اعلیٰ کیجریوال نے کہا کہ پچھلے ایک سال سے دیکھ رہے ہیں کہ نام نہاد شراب گھوٹالے کے بارے میں بہت شور مچایا جا رہا ہے لیکن انہیں ایک پیسہ بھی نہیں ملا۔ ایک ہزار سے زائد چھاپے مارے گئے اور کہیں سے کوئی ریکوری نہیں ہوئی۔ کبھی کہتے ہیں کہ کلاس روم میں گھپلہ ہوا، بسوں کی خریداری میں گھپلہ ہوا، ہر چیز کی انکوائری ہوئی۔ سنجے سنگھ کی جگہ پر بھی کچھ نہیں ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگلے سال انتخابات ہونے والے ہیں اور وہ (بی جے پی) محسوس کر رہے ہیں کہ وہ ہارنے والی ہیں، اس لیے یہ ہارے ہوئے آدمی کی مایوس کن کوششیں لگتی ہیں۔

اس سے پہلے عام آدمی پارٹی نے بدھ کے روز الزام لگایا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے اس کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ کو ’نشانہ بنایا‘ کیونکہ انہوں نے پارلیمنٹ میں اڈانی گروپ سے متعلق مسائل اٹھائے تھے۔

پارٹی دہلی ایکسائز پالیسی سے متعلق منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں سنگھ کے احاطے پر ای ڈی کے چھاپوں پر ردعمل دے رہی تھی۔ عام آدمی پارٹی کی ترجمان رینا گپتا نے کہا، ’’سنجے سنگھ اڈانی معاملے پر سوال پوچھ رہے ہیں، اس لیے ان کی رہائش گاہ پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ مرکزی ایجنسیوں کو نہ پہلے کچھ ملا تھا اور نہ آج ملے گا۔ پہلے انہوں نے کل کچھ صحافیوں کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور آج سنجے سنگھ کی رہائش گاہ پر تلاشی لی جا رہی ہے۔

وہیں، سنجے سنگھ کے والد دنیش سنگھ نے کہا کہ ان کا بیٹا ای ڈی کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’وہ اپنا کام کر رہی ہے۔ مجھے صحیح وقت نہیں معلوم لیکن وہ صبح 7.30 بجے کے قریب چھاپہ مارنے آئے تھے۔ میں نے ای ڈی حکام سے کہا کہ وہ دیر رات تک تلاشی لے سکتے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ وہ بار بار آئیں۔‘‘

ایسے الزامات ہیں کہ مالی سال 2021-22 کے لیے شراب کے تاجروں کو لائسنس دینے کے لیے دہلی حکومت کی ایکسائز پالیسی نے دھڑے بندی کو فروغ دیا اور کچھ ڈیلروں کو فائدہ پہنچایا، جنہوں نے مبینہ طور پر اس کے لیے رشوت دی تھی۔ عام آدمی پارٹی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

وزیر اعظم راجستھان، مدھیہ پردیش میں 17600 کروڑ روپے کے پروجیکٹ شروع کریں گے

0
وزیر-اعظم-راجستھان،-مدھیہ-پردیش-میں-17600-کروڑ-روپے-کے-پروجیکٹ-شروع-کریں-گے

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی جمعرات کو راجستھان اور مدھیہ پردیش کا دورہ کریں گے اور 17500 کروڑ روپے سے زیادہ کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کریں اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔

تقریباً 03:30 بجے، وزیر اعظم جبل پور، مدھیہ پردیش پہنچیں گے، جہاں وہ سڑک، ریل، گیس پائپ لائن، ہاؤسنگ اور پینے کا صاف پانی جیسے شعبوں میں 12,600 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے قومی ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے، سنگ بنیاد رکھیں گے اور انہیں قوم کے لیے وقف کریں گے۔

وزیر اعظم راجستھان میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے اہم پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ ان پروجیکٹوں میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، جودھپور میں 350 بستروں والا ‘ٹراما سینٹر اور کریٹیکل کیئر ہسپتال بلاک’ اور پردھان منتری – آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن (پی ایم- اے بی ایچ آئی ایم) کے تحت سات کریٹیکل کیئر بلاکس شامل ہیں جو پورے راجستھان میں تیار کیے جائیں گے۔

ایمس جودھپور میں ’ٹروما، ایمرجنسی اور کریٹیکل کیئر‘ کے لیے مربوط مرکز کو 350 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے تیار کیا جائے گا۔ اس میں مختلف سہولیات جیسے زخموں کا علاج ، تشخیص، ڈے کیئر، وارڈز، پرائیویٹ کمرے، ماڈیولر آپریٹنگ تھیٹر، آئی سی یو اور ڈائیلاسز کے علاقے شامل ہوں گے۔ یہ مریضوں کو کثیر الجہتی اور جامع دیکھ بھال فراہم کرکے صدمے اور ہنگامی صورت حال کے انتظام میں ایک جامع نقطہ متعارف کرائے گا۔ راجستھان بھر میں سات کریٹیکل کیئر بلاکس ریاست کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے والے ضلعی سطح کے اہم نگہداشت کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دیں گے۔

وزیر اعظم جودھ پور ہوائی اڈے پر جدید ترین نئی ٹرمینل عمارت کی تعمیر کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے۔ 480 کروڑ روپے کی کل لاگت سے تعمیر ہونے والی نئی تیار ہونے والی عمارت تقریباً 24,000 مربع میٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہو گی اور یہ 2,500 مسافروں کو مصروف اوقات میں خدمات فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری لوازمات سے آراستہ ہوگی۔ یہ سالانہ 35 لاکھ مسافروں کو خدمات فراہم کریں گی ، اس سے کنیکٹیوٹی میں بہتری آئے گی اور خطے میں سیاحت کو فروغ بھی ملے گا۔

یوپی: مدارس کے تعلیمی نصاب میں ڈیجیٹل لٹریسی، کوڈنگ اور مصنوعی ذہانت کے موضوعات شامل

0
یوپی:-مدارس-کے-تعلیمی-نصاب-میں-ڈیجیٹل-لٹریسی،-کوڈنگ-اور-مصنوعی-ذہانت-کے-موضوعات-شامل

لکھنؤ: اتر پردیش حکومت کا کہنا ہے کہ مدارس کے طلبہ کو مرکزی دھارے سے جوڑنے کے لیے ان کے نصاب میں جدید موضوعات کو شامل کیا جائے گا۔ محکمہ اقلیتی بہبود بنیادی تعلیم کے محکمے کے ساتھ مل کر مدرسہ ایجوکیشن کونسل کے حوالہ سے اقدامات کر رہا ہے تاکہ دیگر بورڈوں کے ساتھ قدم ملا کر چلا جا سکے۔

اس کے تحت اندرا گاندھی پرتشٹھان میں اسکولوں اور مدارس کے اساتذہ کے لیے قومی تعلیمی پالیسی-2020 کی سفارشات پر عمل درآمد کے حوالے سے ایک تربیتی پروگرام منعقد کیا جا رہا ہے۔ ریاست کے اسکولوں اور مدارس کے اساتذہ کی سمت بندی کے لیے ’اورینٹیشن ماڈیول آن اے آئی‘ شروع کیا جائے گا، جو مدارس کے طلبہ کے نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی، کوڈنگ اور مصنوعی ذہانت کو شامل کرکے کمپیوٹیشنل سوچ کو فروغ دے گا۔

اقلیتی بہبود، مسلم وقف اور حج کے وزیر دھرم پال سنگھ نے کہا کہ بچوں کے آدھار کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس وقت ریاست کے 16513 مدارس میں 1392325 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ بیسک ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مدارس میں کتابیں فراہم کی جارہی ہیں۔ اب تک کل 1275 مدارس میں کمپیوٹر دیے جا چکے ہیں۔ 7442 مدارس میں بک بینک، سائنس کٹس اور ریاضی کی کٹس دی گئی ہیں۔

محکمہ اقلیتی بہبود اور وقف محکمہ کی ایڈیشنل چیف سکریٹری مونیکا ایس گرگ کی قیادت میں ٹیم اوپائے نے مدارس اور اسکولوں کے اساتذہ کو اے آئی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے مضامین کے ماہرین کی مدد سے 22 ویڈیوز بنائی ہیں۔ اے آئی تعلیم میں سرمایہ کاری آنے والی نسلوں کے لیے سرمایہ کاری ہے۔ اس میں مدارس کے طلباء کو اس نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں معلومات حاصل کرکے وہ عالمی معیار کے کالجوں میں نئی ​​ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کر سکیں گے۔

अल्पसंख्यक कल्याण एवं वक्फ विभाग की अपर मुख्य सचिव मोनिका एस गर्ग के नेतृत्व में टीम उपाय ने मदरसों और स्कूलों के अध्यापकों को एआई की जानकारी देने के लिए विषय विशेषज्ञों के सहयोग से 22 वीडियो बनाए हैं। एआई की शिक्षा में निवेश आने वाली पीढ़ियों में किया गया निवेश है। इसमें मदरसों के छात्रों को इस नई तकनीक की जानकारी मिलने से वो नई टेक्नोलॉजी का अध्ययन विश्वस्तरीय कॉलेजों में कर पायेंगे।

قابل ذکر ہے کہ ریاست میں کل 16513 مدارس ہیں جن میں سے 560 ریاستی امداد یافتہ ہیں اور 121 منی آئی ٹی آئی چل رہے ہیں۔ ریاستی حکومت نے وقتاً فوقتاً مدارس کو مرکزی دھارے سے جوڑنے اور دیگر بورڈوں کے برابر تعلیم فراہم کرنے کے لیے ضروری ترامیم کی ہیں۔

اترپردیش غیر سرکاری عربی اور فارسی مدرسہ کی شناخت انتظامیہ اور سروس ریگولیشنز 2016 جس کا مقصد اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن کونسل کے زیر انتظام مدارس میں زیر تعلیم طلباء کے علم میں اضافہ کرنا، عصری تعلیم کی حوصلہ افزائی کرنا، سماجی اور قومی یکجہتی کو فروغ دینا اور ان کو مرکزی حکومت سے جوڑنا ہے۔ اس میں ترمیم کی گئی اور تعلیمی سیشن 2017 سے مدارس میں ذریعہ تعلیم اردو کے ساتھ ہندی اور انگریزی کو بنایا گیا۔

उल्लेखनीय है प्रदेश में कुल 16513 मदरसे हैं, जिसमें 560 राज्यानुदानित एवं 121 मदरसों में मिनी आई टीआई संचालित हैं। प्रदेश की सरकार ने मदरसों को मुख्य धारा से जोड़ने और अन्य बोर्डाे के समान शिक्षा प्रदान करने के लिए समय-समय पर यथाआवश्यक संशोधन किये हैं।

उप्र मदरसा शिक्षा परिषद द्वारा संचालित मदरसों में अध्ययनरत छात्रों के ज्ञान को विस्तारण देना, समसामयिक शिक्षा को प्रोत्साहन देना, सामाजिक एवं राष्ट्रीय एकता का विकास करना और उन्हें मुख्य धारा से जोड़ने के उद्देश्य से उप्र अशासकीय अरबी और फारसी मदरसा मान्यता प्रशासन एवं सेवा विनियमावली 2016 में संशोधन किया गया और शैक्षिक सत्र 2017 से मदरसों में शिक्षण का माध्यम उर्दू के साथ-साथ हिन्दी और अंग्रेजी किया गया।

کانگریس حکومت ’شکتی یوجنا‘ نے کرناٹک کی خواتین کو خود انحصار بنایا: راہل گاندھی

0
کانگریس-حکومت-’شکتی-یوجنا‘-نے-کرناٹک-کی-خواتین-کو-خود-انحصار-بنایا:-راہل-گاندھی

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بدھ کے روز سدارمیا کی قیادت والی کرناٹک حکومت کی شکتی یوجنا کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے خواتین کو خود انحصار بنایا ہے۔ انہوں نے کہا ’’یہ فخر کی بات ہے کہ ہمارا گورننس ماڈل ریاست کی خواتین کو حقوق کی فراہمی کو یقینی بنا رہا ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’کرناٹک میں لکشمی، وندنا، پوجا اور ان جیسی لاکھوں خواتین کو کانگریس حکومت کی شکتی یوجنا سے بااختیار بنایا گیا ہے، جو مفت بس سفر فراہم کر رہی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ چاہے انہیں اسکول، کالج، کام پر جانا ہو یا ریاست میں کہیں بھی سفر کرنا ہو شکتی یوجنا نے خواتین کو خود انحصار بنایا ہے اور اس کے نتیجے میں کافی بچت ہوئی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا ’’اس اسکیم سے مقامی معیشت کو بھی فروغ ملتا ہے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ یہ فخر کی بات ہے کہ ہمارا گورننس ماڈل اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ کرناٹک کی خواتین کو ان کے حقوق حاصل ہوں۔‘‘ انہوں نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک خبر کی کاپی بھی منسلک کی ہے۔

شکتی اسکیم ان پانچ ضمانتوں کا حصہ تھی جس کا کانگریس نے جنوبی ریاست میں اسمبلی انتخابات سے قبل اعلان کیا تھا۔ کانگریس حکومت نے ریاست میں اقتدار میں آنے کے بعد اس اسکیم کو نافذ کیا۔

زمین کے بدلے نوکری معاملہ: لالو، تیجسوی، رابڑی دیوی سمیت 6 ملزمان کی درخواست ضمانت منظور

0
زمین-کے-بدلے-نوکری-معاملہ:-لالو،-تیجسوی،-رابڑی-دیوی-سمیت-6-ملزمان-کی-درخواست-ضمانت-منظور

نئی دہلی: بہار کے سابق وزیر اعلی لالو یادو اور ان کے خاندان کو لینڈ فار جاب (نوکرے کے بدلے زمین) معاملہ میں بڑی راحت ملی ہے۔ دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے لالو یادو، ان کی اہلیہ رابڑی دیوی اور بہار کے نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کی مستقل درخواست ضمانت منظور کر لی ہے۔ لالو اور رابڑی سمیت لینڈ فار جاب کیس کے چھ ملزمان نے عدالت میں ضمانت کی درخواست دی تھی، اسے قبول کرتے ہوئے عدالت نے تمام 6 ملزمان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

اس معاملے میں لالو پرساد یادو، ان کی اہلیہ اور بہار کی سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی، بہار کے نائب وزیر اعلیٰ اور ان کے بیٹے تیجسوی یادو اور بیٹی راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ میسا بھارتی ملزم ہیں۔ سی بی آئی اور ای ڈی کی جانچ جاری ہے۔ 22 ستمبر کو ہی دہلی کی ایک عدالت نے لالو پرساد یادو، تیجسوی یادو، رابڑی دیوی اور میسا بھارتی کے علاوہ 14 ملزمان کو سمن جاری کیا تھا۔

لالو یادو کے ساتھ نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو، سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی، راجیہ سبھا کی رکن میسا بھارتی بھی عدالت پہنچے تھے۔ اس دوران راجیہ سبھا ایم پی منوج جھا بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ سماعت سے قبل لالو پرساد یادو نے صحافیوں سے بات کی۔ اس دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے اس لیے وہ کسی چیز سے نہیں ڈرتے۔

سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن یعنی سی بی آئی نے حال ہی میں دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ میں اس معاملے میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اس میں لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی، میسا بھارتی اور تیجسوی یادو کو نوکری کے بدلے زمین کیس میں ملزم بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نامعلوم سرکاری ملازمین سمیت کئی اور لوگوں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا۔ الزام ہے کہ لالو پرساد یادو نے 2004 اور 2009 کے درمیان ریلوے کے وزیر رہتے ہوئے ریلوے میں گروپ ڈی کی نوکریوں کے بدلے بطور رشوت اراضی حاصل کی اور اس کا اندراج اپنے خاندان کے نام پر کرایا۔

گیانواپی مسجد سے متعلق عرضیوں پر آج الہ آباد ہائی کورٹ میں ہوگی سماعت

0
گیانواپی-مسجد-سے-متعلق-عرضیوں-پر-آج-الہ-آباد-ہائی-کورٹ-میں-ہوگی-سماعت

وارانسی کی گیانواپی مسجد کمپلیکس سے متعلق درخواستوں پر آج الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوگی۔ الہ آباد ہائی کورٹ گیانواپی تنازعہ سے متعلق پانچ عرضیوں پر ایک ساتھ سماعت کر رہی ہے۔ اس معاملہ مں دوپہر بعد سماعت ہونے کی توقع ہے۔

ان میں سے تین عرضیاں 1991 میں وارانسی کی عدالت میں دائر کیس کی برقراری سے متعلق ہیں۔ دو درخواستیں اے ایس آئی کے سروے آرڈر کے خلاف ہیں۔ 1991 کے معاملے میں متنازعہ جگہ کو ہندوؤں کے حوالے کرنے اور وہاں عبادت کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ وارانسی کی عدالت میں 1991 میں دائر کیا گیا تھا۔

ہائی کورٹ کو بنیادی طور پر یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وارانسی کی عدالت اس کیس کی سماعت کر سکتی ہے یا نہیں۔ چیف جسٹس پریتنکر دیواکر کی سنگل بنچ اس کیس کی سماعت کرے گی۔ عدالت میں گزشتہ سماعت میں مسلم فریق کا اعتراض مسترد کر دیا گیا تھا۔ مسلم فریق نے تین بار فیصلہ محفوظ رکھنے کے بعد دوبارہ سماعت منعقد کرنے کے فیصلے پر اعتراض کیا تھا۔

مسلم فریق کی جانب سے کہا گیا کہ گزشتہ کئی سالوں میں اس معاملے کی سماعت تقریباً 75 کام کے دنوں میں ہوئی ہے۔ ایسے میں اس معاملے کی دوبارہ سماعت نہیں ہو سکتی۔ مسلم فریق نے شکایت کی ایک کاپی دینے کا مطالبہ کیا تھا جس کی بنیاد پر جسٹس پرکاش پاڈیا کی بنچ سے خود چیف جسٹس پریتنکر دیواکر کو کیس کی سماعت ہو رہی ہے۔

عدالت پہلے ہی مسلم فریق کی اس دلیل کو مسترد کر چکی ہے اور اس کیس کی سماعت کا فیصلہ کر چکی ہے۔ ان پانچ درخواستوں کی سماعت کے بعد جسٹس پرکاش پاڈیا نے 25 جولائی کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ انہوں نے اس کیس میں فیصلہ سنانے کے لیے 28 اگست کی تاریخ مقرر کی تھی۔

تاہم فیصلہ سنائے جانے سے چند دن قبل جسٹس پرکاش پاڈیا کا الہ آباد ہائی کورٹ سے تبادلہ کر دیا گیا تھا۔ اب اس کیس کی سماعت چیف جسٹس پرتینکر دیواکر کی بنچ کر رہی ہے۔ چیف جسٹس نے 28 اگست کے حکم میں کہا تھا کہ جسٹس پرکاش پاڈیا کی بنچ دائرہ اختیار نہ ہونے کے باوجود کیس کی سماعت کر رہی ہے۔