بدھ, مارچ 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 78

منی پور تشدد: ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی زیادتی پر رپورٹ طلب کی

0
منی-پور-تشدد:-ریاستی-انسانی-حقوق-کمیشن-نے-طلبہ-کے-احتجاج-کے-دوران-پولیس-کی-زیادتی-پر-رپورٹ-طلب-کی

امپھال: منی پور میں احتجاج کے دوران طلبہ پر پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال کا ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے نوٹس لیا ہے اور اس حوالہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ آئی اے این ایس کے مطابق، حال ہی میں طالب علموں کی ہلاکت کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے دوران پیلٹ گن کے مبینہ استعمال پر پیدا ہونے والے تنازعہ کے درمیان منی پور ہیومن رائٹس کمیشن (ایم ایچ آر سی) نے امپھال کے مغربی ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سے رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے اور پوچھا ہے کہ امپھال میں مارچ نکالنے والے طلبہ کے خلاف طاقت کے بے تحاشا استعمال کا حکم کس نے دیا؟

منی پور انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین جسٹس اتپالیندو بیکاس ساہا (ریٹائرڈ) نے نے کمشنر (ہوم) سے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیس کی سماعت کی اگلی تاریخ کو یا اس سے پہلے زخمی طلبہ کو کتنا عبوری معاوضہ دیا جا سکتا ہے؟ جسٹس ساہا نے بدھ کو تین اسپتالوں کا دورہ کیا جہاں پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے نو طالب علم زیر علاج ہیں۔

ایم ایچ آر سی کے ذرائع نے بتایا کہ کمیشن نے سنگجامای اوکرام لیکائی کے ننگتھوجام جیت سنگھ اور آسام کے شیو ساگر کے مکل فوکون کی دو شکایات کی بنیاد پر کارروائی شروع کی، جن میں پرامن احتجاج کے دوران مسلح افواج اور سکیورٹی فورسز کے مبینہ غیر انسانی اور وحشیانہ سلوک کا ذکر کیا گیا ہے۔

شکایات میں 26 اور 27 ستمبر کو 17 سالہ طالب علم حجام لنتھونگامبی اور 6 جولائی کو 20 سالہ فزام ہیم جیت کے قتل اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کے ذریعہ ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

دونوں مقتول طلبہ کی تصاویر 25 ستمبر کو سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر پوسٹ کی گئیں، جس سے شدید احتجاج شروع ہوا جس میں کم از کم 100 طلبہ و طالبات سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہوئے۔ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب انہیں وزیر اعلیٰ کے بنگلے کی طرف مارچ کرنے سے روکا گیا۔

زخمی ہونے والے 100 طلبہ میں سے کم از کم 10 پیلٹ گن سے شدید زخمی ہوئے ہیں۔ شکایت کنندگان نے اپنی درخواست میں یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ریاستی پولیس اور مرکزی فورسز نے پرامن طلبہ پر اس وقت بغیر کسی انتباہ کے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا جب وہ ریلی نکال رہے تھے جس کے نتیجے میں کئی طلبہ زخمی ہو گئے۔

ایک شکایت کنندہ کے مطابق، امپھال ویسٹ کے موئرانگ کھوم میں سکیورٹی اہلکاروں نے ایک طالب علم کو سڑک پر لیٹا کر اس کی پٹائی کی۔ شکایت میں طلبہ پر حملہ کے دیگر واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کمیشن نے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سے 9 نومبر کو یا اس سے پہلے پیشرفت کی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔

’میری گرفتاری وزیر اعظم مودی کے درد اور خوف کا ثبوت‘ سنجے سنگھ کا بیان

0
’میری-گرفتاری-وزیر-اعظم-مودی-کے-درد-اور-خوف-کا-ثبوت‘-سنجے-سنگھ-کا-بیان

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ نے بدھ کو کہا کہ انہیں اس لیے گرفتار کیا گیا کیونکہ وہ مرکزی حکومت کی بدعنوانی کے خلاف مسلسل بول رہے ہیں۔ عآپ لیڈر نے ای ڈی کے ذریعہ اپنی گرفتاری کے بعد اپنی رہائش گاہ سے نکلنے سے پہلے اپنی ماں کے پاؤں چھوئے اور ان سے آشیرواد حاصل کیا۔

انہوں نے اپنی رہائش گاہ کے باہر جمع اپنی پارٹی کے کارکنوں اور حامیوں کو بھی ہاتھ ہلایا۔ سنجے سنگھ کو 4 اکتوبر کو ان کی رہائش گاہ پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے چھاپے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ سنگھ نے پریس کو ایک بیان میں کہا، ’’ای ڈی مجھے زبردستی گرفتار کر رہا ہے لیکن ہم عآپ کے سپاہی ہیں اور مودی جی کو بتانا چاہتے ہیں کہ آپ 2024 کے انتخابات میں بری طرح سے ہار رہے ہیں اور میری گرفتاری آپ کے درد اور خوف کا ثبوت ہے۔‘‘

انہوں نے بی جے پی اور پی ایم مودی کو مزید نشانہ بناتے ہوئے کہا ’’میری گرفتاری اس بات کی مثال ہے کہ وزیر اعظم کتنے بزدل ہیں اور اپوزیشن لیڈروں کو زبردستی جیل میں ڈال کر آمرانہ طریقے سے الیکشن جیتنا چاہتے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’میں آپ کو مودی جی یاد دلانا چاہتا ہوں، جیسے جیسے مظالم بڑھتے ہیں، لوگوں کی آوازیں بلند ہوتی جاتی ہیں، میں نے پہلے ہی اپنے دوستوں اور ساتھیوں سے کہہ دیا تھا کہ میں ڈرنے کی بجائے موت کو ترجیح دوں گا۔ آپ بے فکر رہیں، مجھے چاہے کتنے بھی ظلم برداشت کرنے پڑیں، میں سچ بولتا رہوں گا۔‘‘

سنجے سنگھ نے کہا، ’’ای ڈی کو چھاپوں کے دوران کچھ نہیں ملا اس کے باوجود مجھے گرفتار کیا جا رہا ہے۔ اب وہ ہر جگہ فرضی خبریں پھیلائیں گے۔‘‘ دریں اثنا، عہدیداران نے کہا کہ ای ڈی نے سنجے سنگھ کو اب ختم ہو چکی دہلی ایکسائز پالیسی سے متعلق منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیا ہے۔

سکم میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی، 22 جوانوں سمیت 102 افراد لاپتہ، 14 افراد ہلاک

0
سکم-میں-سیلاب-سے-بڑے-پیمانے-پر-تباہی،-22-جوانوں-سمیت-102-افراد-لاپتہ،-14-افراد-ہلاک

گنگٹوک: سکم میں بادل پھٹنے کے بعد دریائے تیستا میں اچانک سیلاب کی وجہ سے ہر سو تباہی کا منظر ہے۔ دریں اثنا، 14 افراد ہلاک ہو گئے۔ جبکہ 22 فوجی اہلکاروں سمیت 102 افراد لاپتہ ہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ سیلاب کے دوران 23 فوجی اہلکار لاپتہ ہوئے تھے لیکن ایک فوجی کو بچا لیا گیا تھا، اس کا علاج جاری ہے اور اس کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔

بادل پھٹنے سے آنے والے سیلاب کی وجہ سے گنگٹوک میں 3 افراد ہلاک، 22 افراد لاپتہ اور 5 افراد زخمی ہیں۔ منگن میں 4 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور 16 افراد کا کوئی سراغ نہیں مل رہا۔ پاکیونگ میں 7 افراد ہلاک اور 59 افراد اور 23 فوجی اہلکار لاپتہ ہیں اور 21 افراد زخمی ہیں۔ نامچی میں سیلاب کی وجہ سے کسی کی موت نہیں ہوئی اور 5 افراد لاپتہ ہیں۔

خیال رہے کہ شمالی سکم میں لوناک جھیل پر منگل کی رات اچانک بادل پھٹنے کی وجہ سے دریائے تیستا میں اچانک سیلاب آ گیا تھا۔ تیستا سیلاب کے باعث لوناک جھیل کا تقریباً 65 فیصد حصہ بہہ گیا۔ دریا کے کنارے بنایا گیا آرمی کیمپ بھی سیلاب کی زد میں آ گیا جس کے باعث فوجی جوان بھی پانی میں بہہ گئے۔ یہاں کھڑی تقریباً 41 گاڑیاں بھی پانی میں ڈوب گئیں۔

دوسری طرف کابینہ سکریٹری راجیو گوبا کی صدارت میں نیشنل کرائسز مینجمنٹ کمیٹی (این سی ایم سی) نے بدھ کو میٹنگ کی اور سکم کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ سکم کے چیف سکریٹری نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے میٹنگ میں شرکت کی اور کمیٹی کو ریاست کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کمیٹی کو راحت اور بچاؤ کے اقدامات کرنے میں ریاستی حکومت کی کوششوں کے بارے میں بھی بتایا۔ ہوم سکریٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت داخلہ کے دونوں کنٹرول روم صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہر ممکن مدد فراہم کی جارہی ہے۔

مودی کو یہ غلط فہمی ہے کہ ان گرفتاریوں سے ہم ڈر جائیں گے : کیجریوال

0
مودی-کو-یہ-غلط-فہمی-ہے-کہ-ان-گرفتاریوں-سے-ہم-ڈر-جائیں-گے-:-کیجریوال

عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہاہے کہ سنجے سنگھ وزیر اعظم نریندر مودی کی بدعنوانی کے خلاف ملک کی سب سے بلند آواز ہیں اور اسی لئے وزیراعظم سے یہ برداشت نہیں ہورہا ہے۔

مسٹر سنگھ کی گرفتاری کے بعد مسٹر کیجریوال اپنی اہلیہ سنیتا کیجریوال کے ساتھ رات دیر گئے مسٹر سنجے سنگھ کے گھر گئے اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کو یہ غلط فہمی ہے کہ ان گرفتاریوں سے ہم ڈر جائیں گے اور جھک جائیں گے۔ ہم ان سے ڈرنے والے لوگ نہیں ہیں۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے مسٹر سنگھ کے پورے گھر کی تلاشی لی، لیکن کچھ نہیں ملا۔ اس کے بعد بھی انہیں گرفتار کر لیا گیا۔انہوں نے مسٹر سنگھ کے اہل خانہ سے کچھ دیر بات کی اور یقین دلایا کہ پوری پارٹی ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر آج ہم ان لوگوں کی طرح بے ایمان ہو جائیں تو تمام مسائل ختم ہو جائیں گے۔ لیکن ہماری پارٹی ایماندار ہے اور اسی وجہ سے یہ سارے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ان لوگوں کا ہماری ایمانداری کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ انہوں نے ہمیں بدنام کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک سال سے انہوں نے نام نہاد شراب گھپلے پر ایک نیا نعرہ لگانا شروع کیا ہے۔ انہوں نے اس شراب گھپلے پر ایک ہزار سے زیادہ جگہوں پر چھاپے مارے ہیں۔ معلوم نہیں کتنے لوگ گرفتار ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ 100 کروڑ کا گھوٹالہ ہے، لیکن اتنے چھاپے مارنے کے بعد بھی انہیں ایک پیسہ بھی نہیں ملا ہے۔ انہیں کہیں سے کوئی پیسہ نہیں ملا۔

مسٹرکیجریوال نے کہا کہ مسٹر سنگھ وزیر اعظم نریندر مودی کی بدعنوانی کے خلاف اس ملک کی سب سے بلند آواز ہیں۔ مسٹر مودی سر سے پاؤں تک بدعنوانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ آزاد ہندوستان کا سب سے کرپٹ وزیر اعظم اگر کوئی ہے تو وہ مسٹر مودی ہیں۔ کل جب ان کی حکومت اقتدار میں نہیں رہے گی اور ان کے کارناموں کی چھان بین ہو گی تو پتہ چلے گا کہ وہ کتنی بدعنوانی میں ملوث ہیں ۔ پہلے مسٹر سنگھ کو پارلیمنٹ سے معطل کیا گیا اور آج انہیں مکمل طور پر غیر قانونی طور پر گرفتار کر لیا گیا۔

مسٹر کیجریوال نے کہا کہ انڈیا اتحاد کے قیام کے بعد سے مسٹر مودی بوکھلا گئے ہیں ۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر یہ اتحاد کامیاب ہو جاتا ہے، جو کہ کامیاب ہوگا ، تو مسٹر مودی بری طرح ہارنے والے ہیں۔ یہ بھی اسی گھبراہٹ کا نتیجہ ہے کہ آج سنجے سنگھ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ 2024 کے انتخابات تک بہت سے لوگ گرفتار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سنجے سنگھ شیر ہے، ڈرنے والا نہیں۔

مہاراشٹر: اسپتالوں میں اموات سے کٹہرے میں حکومت، ہائی کورٹ نے مانگی ہیلتھ بجٹ کی تفصیل

0
مہاراشٹر:-اسپتالوں-میں-اموات-سے-کٹہرے-میں-حکومت،-ہائی-کورٹ-نے-مانگی-ہیلتھ-بجٹ-کی-تفصیل

مہاراشٹر کے ناندیڑ اور چھترپتی سنبھاجی نگر ضلعوں کے سرکاری اسپتالوں میں غیر معمولی طور پر بڑی تعداد میں اموات کو لے کر شندے حکومت سوالوں کے گھیرے میں آ گئی ہے۔ ان اموات پر بدھ کے روز از خود نوٹس لیتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے ہیلتھ بجٹ کی تفصیل کے ساتھ دیگر جانکاریاں مانگی ہیں۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس عارف ڈاکٹر کی ڈویژنل بنچ نے وکیل موہت کھنہ کے خط پر نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اسٹاف یا دواؤں کی کمی کے سبب اموات نہیں ہو سکتیں۔

وکیل موہت کھنہ نے اپنے خط میں 30 ستمبر سے 3 اکتوبر کے درمیان ڈاکٹر شنکر راؤ چوہان سرکاری میڈیکل کالج، ناندیڑ میں 16 بچوں سمیت 31 اموات (حالانکہ اب اموات بڑھ کر 35 ہو گئی ہیں) اور چھترپتی سنبھاجی نگر کے گھاٹی واقع سرکاری میڈیکل کالج اور اسپتال میں 18 اموات کے غیر معمولی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات سے لوگوں کی صحت کو لے کر فکر بڑھ گئی ہے۔

انھوں نے اگست کے وسط میں ٹھانے کے چھترپتی شیواجی مہاراج سرکاری اسپتال میں ہوئے پچھلے واقعہ کا بھی ذکر کیا جو کہ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کا آبائی علاقہ ہے۔ ٹھانے میں 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں 18 مریضوں کی موت ہو گئی تھی۔ ریاستی حکومت کی طرف سے پیش ایڈووکیٹ جنرل بیریندر صراف نے معاملے کی جانکاری دینے کی پیشکش کی، جس پر جمعرات کو سماعت ہوگی۔ عدالت نے ریاست میں ہیلتھ کے لیے الاٹ بجٹ اور مختلف علاج، ماہرین اور دیگر ملازمین کی دستیابی اور اسامیوں کی تفصیل دینے کو کہا ہے۔

آج جس وقت معاملہ بامبے ہائی کورٹ کے سامنے آیا، اسی وقت مہاراشٹر کی دوسری راجدھانی ناگپور میں سرکاری میو اسپتال میں 24 گھنٹے میں 25 مزید اموات کی خبر آئی۔ مہا وکاس اگھاڑی کی کاگنریس، این سی پی، شیوسینا، مہا نونرمان سینا، سی پی آئی ایم، سماجوادی پارٹی اور دیگر سمیت اپوزیشن نے سرکاری اسپتالوں میں لگاتار ہو رہیں اموات کو لے کر ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

کانگریس لیڈر اور اسمبلی میں حزب مخالف لیڈر وجئے وڈیٹیوار اور امباداس دانوے (شیوسینا-یو بی ٹی، کونسل) نے حالات کا جائزہ لینے کے لیے بدھ کو متاثرہ اسپتالوں کا دورہ کیا۔ مختلف پارٹیوں کے اعلیٰ اپوزیشن لیڈران نے وزیر صحت تاناجی ساونت کو برخاست کرنے یا استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ حالانکہ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے چار اہم سرکاری اسپتالوں میں ہوئیں اموات کی تحقیقات کا اعلان کر خانہ پری کر دی ہے۔

مودی حکومت نے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کو منافع پہنچانے کے لیے ’کٹ آف‘ صفر کیا: کانگریس

0
مودی-حکومت-نے-پرائیویٹ-میڈیکل-کالجوں-کو-منافع-پہنچانے-کے-لیے-’کٹ-آف‘-صفر-کیا:-کانگریس

نئی دہلی: کانگریس نے نیٹ پی جی کی سیٹوں کے لیے ’کٹ آف‘ گھٹا کر صفر کرنے پر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس لیڈر ڈاکٹر اجئے کمار نے کہا کہ مودی حکومت نے نیٹ پی جی کے ذریعہ ہزاروں کروڑ روپے کمانے کی سازش تیار کی ہے۔ نیٹ پی جی میں پہلے کٹ آف ہوتا تھا، اب اسے صفر کر دیا گیا ہے۔ اب داخلہ امتحان میں صفر نمبر آنے پر بھی پی جی کیا جا سکتا ہے۔ یہ میرٹ ختم کرو، پیسہ دو اور میڈیکل سیٹ پاؤ کی پالیسی ہے۔ اس سے 90 فیصد ہونہار طلبا کے لیے میڈیکل انٹرنس ناممکن ہوگا۔ پی جی سیٹوں کے لیے کوئی شفافیت نہیں ہوگی۔ داخلہ امتحان میں منفی نمبر لانے والا بھی اب ماہر ڈاکٹر بن جائے گا۔

نئی دہلی واقع کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر اجئے کمار نے کہا کہ یہ نیٹ پی جی امتحان کے تئیں ایک مذاق ہے۔ امتحان میں کچھ نہیں لکھنے پر بھی داخلہ مل جائے گا۔ وزیر اعظم مودی نے یقینی کر دیا ہے کہ وہ ملک میں صحت کے نظام کو تباہ کر دیں گے۔ پرائیویٹ میڈیکل کالجوں سے روپے وصول کر اب پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں لگائے جائیں گے۔ ایم ڈی ریڈیولوجی سیٹ کی قیمت گزشتہ سال چار کروڑ تھی، اس سال 11 کروڑ روپے ہو گئی۔ ایم ڈی میڈیسن کی قیمت 5 کروڑ روپے ہو گئی۔ ایم ڈی ڈرمیٹولوجی کی قیمت 10 کروڑ روپے ہو گئی۔ اس نئے فیصلے سے مودی حکومت نے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کو کروڑوں روپیوں کا منافع پہنچانے کا کام کیا ہے۔

کانگریس لیڈر نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے یہ بھی کہا کہ باتیں تو یہاں تک ہو رہی ہیں کہ ایک طاقتور انسان کی بیٹی کو نیٹ میں بچانے کے لیے کٹ آف کم کر دیا گیا ہے۔ جب میڈیکل کی پڑھائی ہی ایسی ہوگی تو اس کا یقیناً منفی اثر طبی ڈھانچے پر پڑے گا۔ پی ایم مودی اپنے متروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے آسمان، زمین، سمندر سب فروخت کر ڈالیں گے۔ اگر 9 سال کی تاریخ دیکھیں گے تو پائیں گے کہ مودی حکومت ہر قانون اپنے دوستوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے لائی ہے۔ چاہے وہ سیاہ زرعی قوانین ہوں، اراضی حصول کا قانون ہو، سیبی کے اصول بدلنے ہوں یا پھر ماحولیات کے اصولوں میں تبدیلی کرنی ہو۔ ڈاکٹر اجئے کمار نے کہا کہ مہاراشٹر کے ناندیڑ میں دوائیوں کی کمی کے سبب بچوں اور نوجوانوں کی اموات ہو رہی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ حکومت نے ٹنڈر نہیں دیا۔ چار مہینوں سے ٹنڈر زیر التوا ہے، کیونکہ کمیشن نہیں دیا گیا ہے۔ بدعنوان حکومت عوام کے لیے دوا تک نہیں خرید رہی ہے۔

’کانگریس حکومت عوام کی مدد کر رہی اور پی ایم مودی روزی-روٹی چھین رہے‘، کھڑگے کا مرکز پر حملہ

0
’کانگریس-حکومت-عوام-کی-مدد-کر-رہی-اور-پی-ایم-مودی-روزی-روٹی-چھین-رہے‘،-کھڑگے-کا-مرکز-پر-حملہ

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے آج وزیر اعظم نریندر مودی کو جھوٹوں کا سردار قرار دیا۔ بدھ کے روز چھتیس گڑھ کے رائے گڑھ میں منعقد ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ’’پی ایم مودی ہمیشہ جھوٹ بولتے ہیں۔ کانگریس حکومت لوگوں کی مدد کر رہی ہے اور دوسری طرف وزیر اعظم مودی لوگوں کی روزی روٹی چھین رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’پی ایم مودی کی گارنٹی زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بے روزگار رکھنے، جی ایس ٹی بڑھانے اور عوام کو پریشان کرنے کی ہے۔ چھتیس گڑھ کے مفاد عامہ کے منصوبوں کے لیے پی ایم مودی کو چھتیس گڑھ کی کانگریس حکومت کی تعریف کرنی چاہیے، لیکن مودی صرف کانگریس حکومت کو کوستے ہیں۔‘‘

تقریب میں پہنچی زبردست بھیڑ سے خوش کانگریس صدر نے چھتیس گڑھ کی کانگریس حکومت کی خوب تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ یہ بھروسے کے اظہار کی تقریب ہے۔ کانگریس حکومت نے برعکس حالات میں بھی چھتیس گڑھ کی ترقی کے کام کو کبھی نہیں روکا۔ چھتیس گڑھ میں آج ہر طرف ترقی ہو رہی ہے۔ گئو دھن یوجنا سے لوگوں کو مضبوطی ملی ہے۔ چھتیس گڑھ مین پانچ سالوں میں ایک لاکھ 75 ہزار کروڑ روپے ڈائریکٹ بینفٹ کے ذریعہ عوام کو دیے گئے ہیں۔ پانچ سالوں میں 40 لاکھ سے زیادہ لوگ غریبی سے باہر آئے ہیں۔ چھتیس گڑھ کے لوگوں کی آمدنی 38 فیصد بڑھ گئی ہے۔ راشن کارڈ کی تعداد بھی بڑھی ہے۔ کانگریس حکومت نے طے کردہ پیمانہ سے بھی زیادہ دھان کی خریداری کی ہے۔ پی ایم مودی کو یہ سب برداشت نہیں ہو رہا ہے۔ وہ چھتیس گڑھ آ کر جل، جنگل، زمین کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتے، وہ صرف چھتیس گڑھ حکومت کی برائی کرتے ہیں۔

مرکز کی مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ مودی حکومت سے دوسری ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔ حکومت کہتی ہے کہ ہماری بات نہیں سنو گے تو ای ڈی، آئی ٹی، وجلنس کے چھاپے پڑیں گے۔ اگر ان ایجنسیوں سے ہی حکومت چلانی ہے تو پھر ووٹرس کی کیا ضرورت ہوگی، آپ گھر بیٹھیے۔ منی پور میں گزشتہ چھ مہینے سے فسادات ہو رہے ہیں، لیکن پی ایم مودی منی پور نہیں گئے۔ ان کی خاموشی کے سبب منی پور میں تشدد ہو رہا ہے۔ ملک میں حکومت دو لوگ ہی چلاتے ہیں، ایک نریندر مودی اور دوسرے امت شاہ۔ ان کے علاوہ کسی اور کو کچھ بھی پتہ نہیں رہتا کہ کیا ہونے والا ہے۔ مودی جی لوگوں کو دور سے دَرشن دیتے ہیں، ان کے پاس جانا مشکل ہے۔ دوسری طرف راہل گاندھی جی اور کانگریس کے وزرائے اعلیٰ عوام کے پاس جا کر ان سے ملاقات کرتے ہیں۔

پی ایم مودی کو جھوٹوں کا سردار قرار دیتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ دو کروڑ نوکری کا وعدہ تھا لیکن پورا نہیں ہوا، 15 لاکھ بھی کسی کو نہیں ملا، کسانوں کی آمدنی دوگنی بھی نہیں ہوئی، وزیر اعظم مودی ہمیشہ جھوٹ بولتے ہیں۔ مودی گلی گلی گھوم رہے ہیں، لیکن عوام بی جے پی کو ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ظاہر ہے، عوام کانگریس کو پسند کرتی ہے۔

آبکاری گھوٹالہ معاملے میں ای ڈی نے عآپ رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ کو کیا گرفتار

0
آبکاری-گھوٹالہ-معاملے-میں-ای-ڈی-نے-عآپ-رکن-پارلیمنٹ-سنجے-سنگھ-کو-کیا-گرفتار

دہلی آبکاری گھوٹالہ معاملے میں عآپ رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ کو ای ڈی نے گرفتار کر لیا ہے۔ آج صبح ای ڈی نے چھاپہ ماری بھی کی تھی جس کے بعد گرفتاری کی بڑی کارروائی سامنے آئی ہے۔ موصولہ خبروں کے مطابق دنیش اروڑا کے سرکاری گواہ بننے، ان کے ذریعہ دیے گئے بیان اور چارج شیٹ کی بنیاد پر ملے ثبوت کو پیش نظر رکھتے ہوئے سنجے سنگھ کی گرفتاری ہوئی ہے۔

اس درمیان دہلی پولیس نے جانچ ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے قومی راجدھانی واقع دفتر کے باہر سیکورٹی بڑھا دی ہے۔ اندیشہ ہے کہ سنجے سنگھ کی گرفتاری کے احتجاج میں بڑی تعداد میں عآپ کارکنان جن پتھ واقع ای ڈی دفتر کے باہر اکٹھا ہو سکتے ہیں۔ ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ ’’ہم نے احتیاط کے طور پر اور نظامِ قانون بنائے رکھنے کے لیے پولیس تعینات کی ہے۔‘‘

ای ڈی کے ایک اعلیٰ افسر نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کو بتایا کہ سنجے سنگھ کو منی لانڈرنگ انسداد ایکٹ کی دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے، لیکن انھوں نے زیادہ جانکاری فراہم نہیں کی۔ یہ گرفتاری ای ڈی افسران کے ذریعہ بدھ کی صبح نارتھ ایونیو علاقے میں ان کی رہائش پر تلاشی شروع کرنے کے بعد ہوئی ہے۔ مبینہ آبکاری گھوٹالہ معاملے میں سنجے سنگھ سابق وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کے بعد گرفتار ہونے والے عآپ کے دوسرے سرکردہ لیڈر ہیں۔ منیش سسودیا کو رواں سال فروری ماہ میں سی بی آئی اور ای ڈی نے گرفتار کیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ ای ڈی نے آبکاری گھوٹالہ معاملے میں 4 فرد جرم داخل کیے ہیں اور اس میں سنجے سنگھ کے نام کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ ای ڈی کا منی لانڈرنگ معاملہ گزشتہ سال اگست میں آبکاری پالیسی معاملے میں مبینہ بے ضابطگی کی شکایت پر سی بی آئی کے ذریعہ درج کی گئی ایف آئی آر پر مبنی ہے۔

راجہ محمود آباد امیر محمد خان کا طویل علالت کے بعد انتقال، اکھلیش یادو کا اظہارِ تعزیت

0
راجہ-محمود-آباد-امیر-محمد-خان-کا-طویل-علالت-کے-بعد-انتقال،-اکھلیش-یادو-کا-اظہارِ-تعزیت

راجہ محمود آباد و بلہیرہ محمد امیر محمد خان کا 4 اکتوبر کو طویل علالت کے بعد انتقال ہو گیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق راجہ صاحب کا انتقال ان کی رہائش گاہ محمود آباد ہاؤس قیصر باغ لکھنؤ میں تقریباً 2 بجے صبح ہوا۔ وہ کافی عرصہ سے بیمار تھے۔ آج صبح ان کے بیٹے پروفیسر علی خان نے فیس بک پر اپنے والد کے انتقال ی خبر دی۔ اس خبر کے پھیلتے ہی اظہارِ تعزیت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماجوادی پارٹی کے چیف اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے راجہ محمود آباد کے انتقال پر غم کا اظہار کیا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سابق صدر نوید حامد نے بھی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعہ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ نوید حامد نے ’ایکس‘ پر کیے گئے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’راجہ محمود آباد جناب امیر محمد خان کی طویل علالت کے بعد انتقال کی خبر سن کر تکلیف ہوئی۔ وہ ایک دانشور شخصیت تھے جنھیں ان کی عاجزی اور انکساری کے لیے یاد رکھا جائے گا۔ علی خان اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے تئیں تعزیت۔‘‘

واضح رہے کہ راجہ صاحب کی ولادت 1943 میں ہوئی تھی اور عرصہ دراز تک وہ سرکاری ظلم و زیادتی کے خلاف نبرد آزما رہے۔ ان کی املاک کو اس لیے ضبط کر لیا گیا تھا کیونکہ ان کے والد پر الزام تھا کہ انہوں نے تقسیم ہند میں شرکت کی تھی اور اسی لیے ان کی ساری املاک کو دشمنوں کی جائیداد کے زمرے میں رکھ دیا گیا تھا۔ لیکن راجہ صاحب نے 30 سال سے زیادہ عرصہ تک قانونی جنگ لڑی اور انجام کار ملک کی سپریم کورٹ نے ان کے حق میں جائیداد کو واگزار کیا اور کہا کہ ان کے والد کی املاک کے وارث راجہ محمد امیر محمد خان ہیں۔ بعد ازاں بی جے پی سرکار نے پارلیمنٹ میں قانون بنا کر ان کی جائیداد کو حقدار تک نھیں پہنچنے دیا۔

بہرحال، راجہ محمود آباد انتہائی مہذب، متمدن اور ادبی شخصیت کے مالک تھے۔ ان کو ایسٹرو فیزکس میں مہارت حاصل تھی۔ گفتگو کا ایک خاص لہجہ اور نشست و برخاست کا ایک منفرد انداز ملاقات کرنے والوں کا دل چھو لیتا تھا۔ مرثیہ خوانی میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ گھنٹوں ان کے کلام میں عقیدت مندان محو رہتے تھے۔ متعدد زبانوں پر ان کو بیک وقت عبور حاصل تھا۔ عربی و فارسی ان کی مادری زبان جیسی تھی۔ سیاسی میدان میں بھی راجہ صاحب نے نمایاں کارکردگی انجام دی۔ 2 بار کانگریس کے ٹکٹ سے محمود آباد کے ایم ایل اے منتخب ہوئے اور عوامی خدمت کی۔

اُجولا یوجنا کے تحت اب 600 روپے میں ملے گا گیس سلنڈر، مودی حکومت کا اعلان

0
اُجولا-یوجنا-کے-تحت-اب-600-روپے-میں-ملے-گا-گیس-سلنڈر،-مودی-حکومت-کا-اعلان

مرکزی حکومت نے ’اُجولا یوجنا‘ کے تحت آنے والے مستفیدین کے لیے آج ایک بڑا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے گیس سلنڈر کی سبسڈی میں اضافہ کرتے ہوئے 200 روپے کی جگہ 300 کر دیا ہے۔ یعنی اُجولا یوجنا کے تحت آنے والے لوگوں کو اب 600 روپے میں گیس سلنڈر دستیاب ہوگا۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 37 دنوں میں یہ دوسرا موقع ہے جب حکومت نے اُجولا یوجنا کے تحت گیس سلنڈر کی قیمت میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ اس کا فائدہ تقریباً 10 کروڑ گھروں کو پہنچے گا۔ آج سے قبل 29 اگست کو حکومت نے اُجولا یوجنا کے تحت گیس سلنڈر کی قیمت 200 روپے کم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

گیس سلنڈر کی قیمت کم کرنے کا فیصلہ مرکزی کابینہ کی ہوئی میٹنگ میں کیا گیا ہے۔ کابینہ کے فیصلوں پر ایک بریفنگ کے دوران مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ’پردھان منتری اُجولا یوجنا‘ کے تحت آنے والے لوگوں کے لیے سبسیڈی رقم 200 روپے سے بڑھا کر 300 روپے فی ایل پی جی سلنڈر کر دی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے بتایا کہ جب ایل پی جی سلنڈر کی اصل قیمت 1100 روپے تھی تو اُجولا یوجنا کے تحت پہلے سے ہی 200 روپے کی چھوٹ دی جاتی تھی۔ بعد ازاں 29 اگست کو جب مزید 200 روپے کی چھوٹ دی گئی تو ایل پی جی سلنڈر 7 روپے میں ملنے لگی۔ اب جبکہ 100 روپے مزید کمی کا اعلان کیا گیا ہے تو ایل پی جی سلنڈر 600 روپے میں حاصل ہو سکیں گے۔