بدھ, مارچ 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 76

منی پور کی 10 جماعتوں نے امن بحال کرنے میں ناکام رہنے پر بی جے پی کی ‘ڈبل انجن’ حکومت کی مذمت کی

0
منی-پور-کی-10-جماعتوں-نے-امن-بحال-کرنے-میں-ناکام-رہنے-پر-بی-جے-پی-کی-‘ڈبل-انجن’-حکومت-کی-مذمت-کی

امپھال: منی پور میں کانگریس کی قیادت میں دس ہم خیال جماعتوں نے جمعرات کو کہا کہ مرکز اور ریاست میں بی جے پی کی ‘ڈبل انجن والی حکومتیں’ پانچ ماہ گزرنے کے بعد بھی ریاست میں امن اور معمول کو بحال کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں۔

پارٹیوں کی ایک روزہ کانفرنس کے بعد کانگریس لیڈر اور 2002 سے 2017 تک تین بار کے وزیر اعلیٰ اوکرم ایبوبی سنگھ نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی لاپرواہی تنازعات سے متاثرہ ریاست میں امن اور معمول کو بحال کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ وزیر اعظم نریندر مودی نے تمام مسائل پر بات کی لیکن وہ ابھی تک منی پور بحران پر خاموش ہیں اور یہ انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔ سنگھ نے کہا کہ لوگ اب بھی اس الجھن میں ہیں کہ آیا ریاست میں دفعہ 355 نافذ ہے یا نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا منی پور پر مرکزی حکومت کی حکومت ہے یا ریاستی حکومت کے منتخب نمائندوں کی؟

دس ہم خیال سیاسی جماعتوں نے مشترکہ طور پر کام کرنے کے اپنے موقف کا اعادہ کیا اور منی پور میں جاری ذات پات کے تشدد کے پرامن حل کے لیے امن بحال ہونے تک مسلسل پرامن احتجاج شروع کرنے کا اعلان کیا۔

جمعرات کی کانفرنس میں منظور کردہ ایک قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ‘دس سیاسی جماعتوں کے اتحاد’ نے منی پور میں موجودہ بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم کیا ہے جو مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی ناکامیوں، کوتاہی اور لاپرواہی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ’’خواتین، بچوں، بوڑھوں، طلباء اور نوجوانوں کے خلاف ذات پات کے تشدد کے دوران ہونے والے تمام جرائم کی بغیر کسی تفریق کے فوری طور پر تفتیش کی جانی چاہیے۔ عوامی تشویش اور اہمیت کے مسائل پر ریاست کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔‘‘

دس جماعتوں میں عام آدمی پارٹی، ترنمول کانگریس، سی پی آئی-ایم، سی پی آئی، فارورڈ بلاک، آر ایس پی، شیو سینا-یو بی ٹی، جنتا دل یونائیٹڈ اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شامل ہیں۔ ان جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت بحران کے پرامن حل کے لیے تمام متعلقین سے بات کرے۔

دوسری طرف، منی پور کے آٹھ سابق وزراء اور ارکان اسمبلی نے منی پور کی علاقائی، انتظامی اور جذباتی سالمیت کے تحفظ میں ناکام رہنے پر ’ڈبل-انجن‘ بی جے پی حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بی جے پی زیرقیادت مرکزی حکومت کو صرف 2024 کے لوک سبھا انتخابات کی فکر ہے اور اسے منی پور کے ہنگامے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

سابق وزراء اور ارکان اسمبلی نے سوال کیا کہ ریاستی عہدیدار اور بی جے پی ان 10 قبائلی ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کر سکے جنہوں نے قبائلیوں کے لیے علیحدہ انتظامیہ یا علیحدہ ریاست کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے آئینی حلف کی خلاف ورزی کی تھی۔ ان دس ارکان اسمبلی میں سے سات حکمران بی جے پی کے ہیں۔

آپ بحث کو کس درجہ تنزلی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں؟ پرینکا گاندھی کا بی جے پی سے سوال

0
آپ-بحث-کو-کس-درجہ-تنزلی-کی-طرف-لے-جانا-چاہتے-ہیں؟-پرینکا-گاندھی-کا-بی-جے-پی-سے-سوال

کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے جمعرات 5 اکتوبر کو پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی کو دشنن کے طور پر پیش کرنے اور انہیں نئے دور کا راون کہنے پر بی جے پی پر جوابی حملہ کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر جے پی نڈا سے کئی سوالات پوچھے۔

پرینکا گاندھی نے سوشل میڈیا پر لکھا کیا آپ اپنی پارٹی کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے پوسٹ کیے جانے والے پرتشدد اور اشتعال انگیز ٹویٹس سے اتفاق کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ زیادہ وقت نہیں گزرا، آپ نے قسم کھائی تھی۔ کیا وعدوں کی طرح  قسمیں  بھی بھول گئے ؟ دراصل، ایکس پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے، بی جے پی نے لکھا، "نئے دور کا راون یہاں ہے۔ وہ برا ہے، مذہب مخالف ہے، رام مخالف ہے، اس کا مقصد ہندوستان کو تباہ کرنا ہے۔‘‘

بی جے پی کے عہدہ کے بارے میں کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا، ”بی جے پی کے آفیشل ہینڈل پر راہل گاندھی کو راون کے طور پر دکھانے کے خراب گرافکس کے پیچھے اصل مقصد کیا ہے؟ "اس کا واضح طور پر صرف ایک مقصد ہے – کانگریس کے ایک رکن پارلیمنٹ اور پارٹی کے سابق صدر کے خلاف تشدد کو بھڑکانا ، جس کے والد اور دادی کو ان طاقتوں نے قتل کر دیا تھا جو ہندوستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتی تھیں۔”

انڈگو نے ہوائی کرایوں میں فی ٹکٹ 1000 روپے تک کا اضافہ کیا

0
انڈگو-نے-ہوائی-کرایوں-میں-فی-ٹکٹ-1000-روپے-تک-کا-اضافہ-کیا

عوام کو مہنگائی کا ایک اور جھٹکا لگا ہے۔ اب جو لوگ جہاز سے سفر کرتے تھے ان کو اضافی کرایا دینا ہوگا۔ تہوار کے سیزن سے پہلے، ملک کی سب سے بڑی گھریلو ایئر لائن کمپنی انڈیگو نے جمعرات کو ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے فی ٹکٹ کرایوں میں 300-1000 روپے کا اضافہ کیا۔ یہ اضافہ فیول چارج کی صورت میں کیا گیا ہے۔

ایئر لائن نے ایک بیان میں کہا، "یہ فیصلہ اے ٹی ایف کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کیا گیا ہے۔ پچھلے تین ماہ کے دوران اے ٹی ایف کی قیمتیں ہر ماہ مسلسل بڑھ رہی ہیں۔” ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق 06 اکتوبر  یعنی آج سے ہوگا۔ آج سے جو بھی ٹکٹ لی جائے گی اس میں مسافر کو اضافی چارج دینا ہوگا۔

قیمتوں کے نئے ڈھانچے کے مطابق مسافروں کو سیکٹر کے فاصلے کی بنیاد پر فیول چارجز ادا کرنا ہوں گے۔ اس کے مطابق، انڈیگو کی پروازوں کی بکنگ کرنے والے ہوائی مسافروں کو 500 کلومیٹر تک کے سیکٹر کے فاصلے کے لیے اضافی 300 روپے ادا کرنے ہوں گے۔ جبکہ 501-100 کلومیٹر کے سیکٹر کے لیے فیول چارج 400 روپے ہوگا۔

’بی جے پی کی حقیقت سے پردہ اٹھا رہے ملک کے معروف اساتذہ‘، کانگریس نے شیئر کی ویڈیو

0
’بی-جے-پی-کی-حقیقت-سے-پردہ-اٹھا-رہے-ملک-کے-معروف-اساتذہ‘،-کانگریس-نے-شیئر-کی-ویڈیو

کانگریس نے مرکز کی بی جے پی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے آج ایک ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کی ہے۔ اس ویڈیو میں ملک کے کچھ معروف اساتذہ کا بیان شامل کر بی جے پی حکومت کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کو عوام مخالف اور ملک کے لیے نقصاندہ قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

ویڈیو کے شروع میں کبیر داس کا ایک دوہا پیش کیا گیا ہے جو اس طرح ہے ’’گرو گووند دوؤ کھڑے، کاکے لاگوں پائیں!/ بلیہاری گرو اپنے گووند دِیو بتائے!!‘‘ اس کے بعد ویڈیو میں ایک خاتون اینکر کہتی ہے کہ ’’ہندوستان میں اساتذہ کو بھگوان سے بڑا درجہ دیا جاتا ہے۔ ٹیچر سماج کا آئینہ ہوتا ہے اور آج ملک کے بڑے بڑے اساتذہ ملک کی عوام کو آئینہ دکھا رہے ہیں۔ بتا رہے ہیں کہ کیسے مودی حکومت ملک کو کمزور کر رہی ہے۔ کوئی بی جے پی کو ووٹ نہ دینے کی بات کہہ رہا ہے، تو کوئی مودی کو تاناشاہ بتا رہا ہے، اور کوئی بی جے پی لیڈروں کو اَن پڑھ کہہ رہا ہے۔‘‘ اینکر یہ بھی کہتی ہیں کہ اودھ اوجھا سے لے کر کرن سانگوا تک، ملک کے کئی بڑے اساتذہ مودی حکومت کو ملک کے لیے خطرہ بتا چکے ہیں۔

اس ویڈیو میں تین اساتذہ کو الگ الگ اپنے کلاس میں طلبا سے خطاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو بی جے پی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کے کام سے خوش نہیں ہیں۔ یہ تینوں اساتذہ کچھ اس طرح کے بیانات دیتے ہیں:

  • آئین اور اسمبلی کو تحلیل کر دینا چاہیے۔ اب تو وقت ان کو (وزیر اعظم مودی کو) تاج پہننے کا ہے۔ مودی سلطنت۔

  • اگلی بار جب بھی اپنا ووٹ دو تو کسی پڑھے لکھے انسان کو اپنا ووٹ دینا، تاکہ یہ سب کچھ دوبارہ زندگی میں نہ جھیلنا پڑے۔

  • گلی محلے سے اگر کوئی کتا-بلی بھی چناؤ میں کھڑا ہو جائے تو اسے ووٹ دے دینا، لیکن مدھیہ پردیش کی بی جے پی سرکار کو ووٹ مت دینا۔ 6 سالوں سے سَب انسپکٹر کی بھرتی نہیں آئی اور یہ اندور میں اتنا بڑا بورڈ لگا کر اشتہار کر رہے ہیں کہ ’سرکاری نوکری سے ملا مجھے روزگار، میں ہوں شیوراج کا پریوار‘۔ یہ شیوراج کے پریوار (کنبہ) سے ہی کوئی ہوگا کیونکہ شیوراج نے ایسی کوئی بھرتی تو نکالی ہی نہیں ہے۔

اساتذہ کے ان بیانات کو پیش کرنے کے بعد اینکر آگے کہتی ہیں کہ ’’اب ذرا دل سے سوچیے، اگر ٹیچر بی جے پی کو ووٹ نہ دینے کی بات کہہ رہے ہیں تو اس کے پیچھے کوئی تو بات ہوگی۔ اگر ٹیچر مودی کو تاناشاہ کہہ رہے ہیں تو اس کے پیچھے کوئی تو وجہ ہوگی۔ اگر ٹیچر بی جے پی لیڈروں کو اَن پڑھ بول رہے ہیں تو اس کا کوئی تو سبب ہوگا۔ اب طئے آپ کو کرنا ہے کہ کیا آپ اب بھی ایک تاناشاہ کو وزیر اعظم بنانا چاہتے ہیں، یا پھر انڈیا کو ووٹ دے کر ملک کی ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔‘‘

بی جے پی اور عآپ کے کئی لیڈران کانگریس میں شامل

0
بی-جے-پی-اور-عآپ-کے-کئی-لیڈران-کانگریس-میں-شامل

نئی دہلی: دہلی کانگریس صدر اروندر سنگھ لولی اور ریاستی انچارج دیپک بابریہ کی موجودگی میں آج بی جے پی اور عآپ کے کئی لیڈران نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ اس موقع پر سابق ریاستی صدر جئے پرکاش اگروال، سابق رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر ادت راج، سابق رکن اسمبلی الکا لامبا، سابق وزیر منگترم سنگھل، سینئر لیڈر مکیش شرما، جتیندر کمار کوچر، سابق یوتھ کانگریس صدر امت ملک، سابق ضلع صدر محمد عثمان اور ہری کشن جندل وغیرہ موجود تھے۔

کانگریس میں شامل ہونے والوں لیڈروں میں بی جے پی سے مزدور لیڈر سکھبیر شرما اور پوروانچل لیڈر گوسوامی ایس کے پوری، عآپ سے پروین کمار کے نام قابل ذکر ہیں۔ یہ سبھی اپنے درجنوں کارکنان کے ساتھ کانگریس میں شامل ہوئے ہیں۔ اس موقع پر مذکورہ تینوں لیڈروں نے کہا کہ کانگریس پارٹی واحد پارٹی ہے جس میں داخلی جمہوریت ہے اور سب کو کام کرنے کا یکساں موقع ملتا ہے۔ انھوں نے مشترکہ طور پر کہا کہ ہم کانگریس پارٹی میں شامل ہو کر فخر محسوس کر رہے ہیں۔ اب ہم دہلی کی سڑکوں تک کانگریس کو مضبوط کرنے کا کام کریں گے۔

ریاستی صدر اروندر سنگھ لولی نے بی جے پی اور عآپ لیڈران کے کانگریس میں شامل ہونے پر خوشی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس لیڈران دہلی میں پارٹی کو تیز رفتاری سے آگے بڑھا رہے ہیں، بلکہ دوسری سیاسی جماعتوں سے وابستہ لوگوں کو کانگریس کے ساتھ جوڑنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ تاہم بی جے پی، عام آدمی پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے کئی لیڈران میرے رابطے میں ہیں۔ ان کو پرکھنے کے بعد ہی پارٹی میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ شامل ہونے والے تمام رہنما غیر مشروط طور پر پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔

مکیش شرما نے اس موقع پر کہا کہ تقریباً دو درجن ریٹائرڈ افسران پارٹی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور وہ ایک خصوصی کور ٹیم کے طور پر پارٹی کے لیے کام کر رہے ہیں۔ وقت آنے پر انہیں پارٹی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت کے خلاف سرکاری افسران اور ملازمین میں زبردست غصہ ہے۔

مہادیو ایپ معاملہ: رنبیر کپور کے بعد ای ڈی نے کپل شرما، ہما قریشی اور حنا خان کو بھی کیا طلب

0
مہادیو-ایپ-معاملہ:-رنبیر-کپور-کے-بعد-ای-ڈی-نے-کپل-شرما،-ہما-قریشی-اور-حنا-خان-کو-بھی-کیا-طلب

گزشتہ روز بالی ووڈ اداکار رنبیر کپور کو سمن بھیجنے کے بعد اب ای ڈی نے کامیڈی کنگ کپل شرما، بالی ووڈ اداکارہ ہما قریشی اور ٹی وی اداکارہ حنا خان کو بھی طلب کیا ہے۔ ای ڈی نے ان سبھی کو ’مہادیو بک‘ آن لائن بیٹنگ ایپ معاملے میں سمن بھیجا ہے۔ اس سے سبھی اداکاروں کی پریشانیاں بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔

رنبیر کپور کو ای ڈی نے 6 اکتوبر کو چھتیس گڑھ کے رائے پور واقع ایجنسی دفتر میں پیش ہونے کے لیے کہا تھا، حالانکہ تازہ ترین خبروں کے مطابق رنبیر نے ای ڈی کو ایک ای میل کر 2 ہفتے کا وقت مانگا ہے۔ اس کے پیچھے رنبیر نے کچھ ذاتی اسباب بتائے ہیں اور کچھ کمٹمنٹس کا بھی حوالہ دیا ہے۔

بہرحال، مہادیو ایپ معاملے میں صرف رنبیر کپور، ہما قریشی، حنا خان اور کپل شرما ہی نہیں، بلکہ ٹی وی اور بالی ووڈ انڈسٹری کی کئی دیگر ہستیوں کا نام بھی سامنے آ رہا ہے۔ اس فہرست میں سنی لیونی، پاکستانی گلوکار عاطف اسلم، راحت فتح علی خان، بالی ووڈ گلوکارہ نیہا ککڑ، موسیقار وشال ڈڈلانی کا بھی نام شامل ہے۔ حالانکہ فی الحال آفیشیل طور پر رنبیر، ہما، حنا اور کپل کو ہی ای ڈی کے ذریعہ طلب کیا گیا ہے۔

دراصل ای ڈی نے مذکورہ مشہور ہستیوں کو اس لیے طلب کیا ہے کیونکہ وہ آن لائن گیمنگ ایپ معاملے میں ملزم سوربھ چندراکر کی شادی میں شریک ہوئے تھے۔ سوربھ پر حوالہ کے ذریعہ مشہور ہستیوں کو پیسے دینے کا الزام ہے۔ رپورٹس کے مطابق بالی ووڈ کی کئی ہستیاں اس سال کے شروع میں فروری ماہ میں مہادیو بک ایپ پروموٹر سوربھ چندراکر کی شادی میں شامل ہونے دبئی پہنچے تھے۔ ایسی بھی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ اس شادی میں 200 کروڑ روپے خرچ کیا گیا تھا۔

منی پور میں پھر بھڑکا تشدد، کئی راؤنڈ گولی باری، 2 گھر نذرِ آتش

0
منی-پور-میں-پھر-بھڑکا-تشدد،-کئی-راؤنڈ-گولی-باری،-2-گھر-نذرِ-آتش

منی پور میں حالات بھلے ہی پہلے کے مقابلے قابو میں ہیں، لیکن تشدد کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ جمعرات کو پولیس کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق ایک بار پھر منی پور میں تشدد اس وقت بھڑک اٹھا جب کچھ لوگوں نے دو گھروں کو نذرِ آتش کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ بدھ کی رات تقریباً 10 بجے کا ہے جب امپھال ویسٹ ضلع میں دو گھروں میں آگ لگا دی گئی۔ اس دوران کئی راؤنڈ کی گولی باری بھی ہوئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ معاملہ پٹسوئی پولیس تھانہ علاقہ کے نیو کیتھیل منبی کا ہے۔ حملے کے بعد ملزمین موقع سے فوراً بھاگ گئے۔ پولیس نے فائر سروس کے ساتھ مل کر فوری طور پر آگ پر قابو پا لیا، ورنہ نقصان زیادہ ہو سکتا تھا۔ حالانکہ واقعہ پیش آنے کے بعد ایک بار پھر مقامی لوگوں میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق پولیس نے جانکاری دی ہے کہ پورے معاملے کے بعد علاقے میں کشیدگی والی حالت تھی، لیکن اب حالات قدرے بہتر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ حادثہ کے بعد علاقے میں اکٹھا ہوئیں میتئی طبقہ کی خواتین کو سیکورٹی فورسز نے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اس کے علاوہ حالات کو قابو میں کرنے کے لیے اضافی سیکورٹی فورسز کی تعیناتی بھی کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ منی پور میں درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کا درجہ دینے کے میتئی طبقہ کے مطالبے کی مخالفت میں قبائلی اتحاد مارچ کے بعد 3 نئی کو نسلی تشدد پہلی بار بھڑکا تھا، جو اب تک جاری ہے۔ تشدد کے واقعات میں اب تک 180 سے زیادہ لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگوں کو نقل مکانی پر بھی مجبور ہونا پڑا ہے۔

کرکٹ عالمی کپ ہندوستانی معیشت کے لیے ہے 22000 کروڑ روپے کا بوسٹر ڈوز!

0
کرکٹ-عالمی-کپ-ہندوستانی-معیشت-کے-لیے-ہے-22000-کروڑ-روپے-کا-بوسٹر-ڈوز!

دنیائے کرکٹ کی 10 مضبوط ٹیمیں اس وقت ہندوستان میں کرکٹ عالمی کپ کے لیے موجود ہیں۔ آج سے وَنڈے کرکٹ عالمی کپ 2023 کا آغاز انگلینڈ بمقابلہ نیوزی لینڈ میچ سے ہو چکا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ 47 دنوں تک جاری رہے گا، یعنی پوری دنیا میں کرکٹ کا خمار آنے والے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک چھایا رہے گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ٹورنامنٹ اس مرتبہ ہندوستان میں کھیلا جا رہا ہے، یعنی ہندوستانی معیشت کو کرکٹ عالمی کپ سے بہت بڑا فائدہ پہنچنے والا ہے۔

’بینک آف بڑودہ‘ نے آئی سی سی کرکٹ عالمی کپ پر ایک رپورٹ تیار کی ہے جو ہندوستانی معیشت کے لیے بڑی خوشخبری دے رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح عالمی کپ کے سبب ہندوستان کی جی ڈی پی کو 2.65 بلین ڈالر یعنی تقریباً 22000 کروڑ روپے کا بوسٹر ڈوز مل سکتا ہے۔ بینک آف بڑودہ کی ماہر معیشت جانہوی پربھاکر اور ادیتی گپتا نے اس رپورٹ کو تیار کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ 5 اکتوبر سے ملک کرکٹ کے بخار کی گرفت میں ہوگا اور اس کا فائدہ ملک کی معیشت کو پہنچنے والا ہے۔

یہ چوتھا موقع ہے جب ہندوستان میں آئی سی سی کرکٹ عالمی کپ کا انعقاد ہو رہا ہے۔ 47 دنوں تک 10 ممالک کے درمیان مجموعی طور پر 48 میچ کھیلے جائیں گے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کم از کم 25 لاکھ افراد ملک کے 10 لوکیشنز پر 48 میچوں کو اسٹیڈیم میں براہ راست دیکھیں گے۔ علاوہ ازیں دنیا بھر میں اپنے گھروں پر بیٹھ کروڑوں لوگ میچ کا لطف اٹھائیں۔ پوری دنیا سے عالمی کپ کے میچ دیکھنے کے لوگ ہندووستان پہنچیں گے تو ٹکٹ خریدنے پر خوب خرچ بھی کریں گے۔ اس کے علاوہ ہوابازی انڈسٹری کو بھی اس کا فائدہ ملے گا۔ ساتھ ہی ساتھ ہاسپیٹلٹی سیکٹر میں ہوٹلز، فوڈ انڈسٹری کے ساتھ ڈیلیوری سروسز کے بزنس میں بھی زوردار اچھال آنے کا امکان ہے۔ اس سطح کے ٹورنامنٹ کے انعقاد سے سیدھا فائدہ معیشت کو پہنچنا یقینی ہے۔

بہرحال، بینک آف بڑودہ نے اپنی رپورٹ میں سبھی سیکٹر کی سرگرمیوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے عالمی کپ سے آنے والے ریونیو پر ڈاٹا تیار کیا ہے۔ میچ کے ٹکٹ کے لیے لوگ 1600 سے 2200 کروڑ روپے خرچ کریں گے۔ اس کے علاوہ ٹی وی/او ٹی ٹی پر ٹورنامنٹ دیکھنے والے ناظرین کی تعداد 2019 کے عالمی کپ کے 552 ملین سے زیادہ رہنے کی امید ہے۔ اسپانسر ٹی وی رائٹس پر 10500 سے لے کر 12000 کروڑ روپے کم از کم خرچ ہونے کی امید ہے۔ اس میں ڈیجیٹل اور ٹی وی میڈیم کا آفیشیل براڈکاسٹ رائٹس بھی شامل ہونے کے ساتھ ایونٹ کے دوران اشتہار کے لیے اہم اسپانسرز کی طرف سے کیا جانے والا خرچ بھی شامل ہے۔

عالمی کپ کے دوران ٹیمیں ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر بھی کریں گی جس پر 150 سے 250 کروڑ روپے خرچ آنے کی امید ہے۔ اس میں ہوٹل میں ٹھہرنے پر آنے والا خرچ بھی شامل ہے۔ ٹیموں کے علاوہ امپائر اور کمنٹیٹر بھی سفر کرنے والوں میں شامل ہوں گے۔ عالمی کپ بیرون ملکی سیاحوں کو بھی متوجہ کرے گا۔ ہر میچ کے لیے 1000 ٹورسٹ تعداد کو جوڑا جائے تو یہ ٹورسٹ ہوٹل فوڈ، سفر، شاپنگ پر 450 سے 600 کروڑ روپے خرچ کریں گے۔ گھریلو سیاح بھی عالمی کپ کا میچ دیکھنے کے لیے ایک ریاست سے دوسری ریاست کا سفر کریں گے اور کھانے کے ساتھ ساتھ ہوٹلز پر بھی خرچ کریں گے۔ ایک اندازے کے طمابق وہ 150 سے 250 کروڑ روپے خرچ کریں گے۔ میچ دیکھنے کے لیے لوگ اپنے شہروں میں سفر کریں گے تو کھانے اور ایندھن پر 300 سے 500 کروڑ روپے کا خرچ کریں گے۔

عالمی کپ کے دوران ایونٹ مینجمنٹ، گگ ورکر اور سیکورٹی پر 750 سے 1000 کروڑ روپے خرچ کا اندازہ ہے۔ اس دوران اسپورٹس سے جڑے آئٹمز اور دوسرے مرکنڈائز آئٹمز کی خریداری پر بھی لوگ 100 سے 200 کروڑ روپے خرچ کریں گے۔ ریسٹورینٹ، کیفے میں میچ کی اسکریننگ اور گھر بیٹھ کر ایپ کے ذریعہ فوڈ آرڈر کرنے پر ٹورنامنٹ کے دوران 4000 سے 5000 کروڑ روپے کا کاروبار دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ ان سبھی اخراجات کو جوڑ دیں تو کرکٹ عالمی کپ کے دوران مجموعی خرچ 18000 سے 22000 کروڑ روپے رہنے کا اندازہ ہے۔ ظاہر ہے اس کا فائدہ مالی سال 24-2023 میں جی ڈی پی میں مضبوط اضافہ کے طور پر دیکھنے کو ملے گا۔ یہ بھی غور کرنے والی بات ہے کہ اس ٹورنامنٹ کے دوران ٹکٹ کی خریداری، ہوٹل و ریسٹورینٹ میں فوڈ ڈیلیوری پر جی ایس ٹی وصولی کے ذریعہ حکومت کو ٹیکس ریونیو کی شکل میں بھی بڑی رقم ملے گی۔

ہائی کورٹ کو ضمانت کے اپنے حکم پر نظرثانی کی اجازت نہیں: سپریم کورٹ

0
ہائی-کورٹ-کو-ضمانت-کے-اپنے-حکم-پر-نظرثانی-کی-اجازت-نہیں:-سپریم-کورٹ

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ کو ضمانت دینے کے اپنے حکم پر اس وقت تک نظرثانی کرنے کی اجازت نہیں ہے جب تک کہ ضمانت منسوخ کرنے کے لیے درست بنیادیں دستیاب نہ ہوں۔

جسٹس ابھے ایس اوکا اور پنکج متھل کی بنچ نے بدھ کے روز مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی طرف سے منظور کردہ ایک حکم کو مسترد کر دیا، جس میں ملزم کو پہلے دی گئی ضمانت کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ ضمانت کو منسوخ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔بنچ نے حکم

سپریم کورٹ بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا ’’ہائی کورٹ کے 31 مارچ 2023 کے اس فیصلے کو منسوخ کیا جاتا ہے اور 22 فروری 2023 کو اپیل کنندہ کو ضمانت دینے والا بنچ سابقہ ​​حکم بحال کیا جاتا ہ۔‘‘

اپنے حکم میں ہائی کورٹ نے ضمانت منسوخ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے ملزم کی درخواست ضمانت اس بنیاد پر قبول کی تھی کہ برآمد ہونے والے گانجے کی کل مقدار 20 کلو 50 گرام تھی، جبکہ اصل مقدار 101 کلو گرام تھی۔

ای ڈی نے سنجے سنگھ کو عدالت میں کیا پیش، عآپ رکن پارلیمنٹ نے پیشی سے قبل کہا- ’مودی الیکشن ہار رہے ہیں‘

0
ای-ڈی-نے-سنجے-سنگھ-کو-عدالت-میں-کیا-پیش،-عآپ-رکن-پارلیمنٹ-نے-پیشی-سے-قبل-کہا-’مودی-الیکشن-ہار-رہے-ہیں‘

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (عآپ) کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ کو ای ڈی نے جمعرات کو دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ میں پیش کیا۔ عدالت میں پیشی سے قبل سنجے سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی 2024 کا الیکشن ہار رہے ہیں، اسی لیے وہ ایسا کر رہے ہیں۔ جب سنجے سنگھ عدالت پہنچے تو ان کے والد دنیش سنگھ بھی باہر موجود تھے۔

سنجے سنگھ کو راؤز ایونیو کورٹ میں پیش کرنے کے بعد ای ڈی نے 10 دن کی ریمانڈ کی درخواست کی۔ ای ڈی نے مزید کہا کہ اگر سات روزہ ریمانڈ بھی منظور کر لی جاتی ہے تو بھی بہتر رہے گا۔ عدالت نے ای ڈی سے پوچھا کہ آپ کے پاس فون ہے تو ریمانڈ کی کیا ضرورت ہے۔ ای ڈی نے کہا کہ گھر سے ملے شواہد کی بنیاد پر جانچ کی جانی ہے اور تین لوگوں کا سامنا بھی کرانا ہے۔

اس سے پہلے بھی جب ای ڈی نے گرفتار کیا تو سنجے سنگھ نے پی ایم مودی کو نشانہ بنایا۔ سنجے سنگھ نے کہا تھا، ’’میں مرنا قبول کروں گا لیکن جھکنا نہیں۔ میں نے اڈانی کے گھوٹالوں کو بے نقاب کیا اور ای ڈی میں کئی شکایات درج کروائیں لیکن اڈانی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ مودی 2024 کے انتخابات بری طرح سے ہار رہے ہیں۔ وہ تشدد کر کے اور لوگوں کو جیلوں میں ڈال کر الیکشن نہیں جیت پائیں گے۔‘‘

سنجے سنگھ نے مزید کہا کہ ’’میں نے پہلے بھی اڈانی کے گھوٹالوں کے خلاف بات کی تھی اور ایسا آگے بھی کرتا رہوں گا۔ ہم اروند کیجریوال کے سپاہی ہیں اور مظالم سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘ سنجے سنگھ نے کہا کہ ای ڈی انہیں بغیر کسی ثبوت کے زبردستی گرفتار کر رہی ہے۔ خیال رہے کہ ای ڈی نے بدھ کو سنجے سنگھ کو دہلی ایکسائز پالیسی معاملے میں ان کے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کیا تھا۔