بدھ, مارچ 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 75

ادھو ٹھاکرے نے ناندیڑ اسپتال میں ہونے والی اموات کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا

0
ادھو-ٹھاکرے-نے-ناندیڑ-اسپتال-میں-ہونے-والی-اموات-کی-سی-بی-آئی-جانچ-کا-مطالبہ-کیا

ممبئی: شیوسینا (یو بی ٹی) کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے مہاراشٹر حکومت پر بدعنوانی کا الزام لگایا اور ناندیڑ کے اسپتال میں ہونے والی حالیہ اموات کی ‘سی بی آئی انکوائری’ کا مطالبہ کیا۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا کہ ریاست کا نظام صحت ‘ایجنٹوں’، پوسٹنگ کے لیے ریٹ کارڈ، سودوں میں کمیشن اور دیگر بدعنوانی کے سبب تباہ ہو گیا ہے۔ یہ وہی نظام صحت ہے جو میرے پاس اس وقت تھا جب میں کوویڈ 19 وبائی امراض کے دوران مہا وکاس اگھاڑی حکومت کی قیادت کر رہا تھا۔‘‘

ٹھاکرے نے کہا، ’’ہمارے پاس وہی ڈاکٹر، عملہ، انفراسٹرکچر اور دیگر چیزیں تھیں، جنہوں نے کورونا ایمرجنسی کے دوران بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا لیکن اب صورتحال کو دیکھیں، کیا غلط ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے پر تنقید کی کہ جس وقت یہاں کے سرکاری ہسپتالوں میں لوگ مر رہے تھے تو وہ نئی دہلی میں بیٹھ کر اس بات پر بحث کر رہے تھھے کہ ماؤنوازوں کے مسئلے سے کیسے نمٹا جائے!

سابق وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’وزیر اعلیٰ اور دونوں نائب وزرائے اعلیٰ (دیویندر فڑنویس اور اجیت پوار) کو ناندیڑ جانا چاہیے تھا، صورت حال کا مطالعہ کرنا چاہیے تھا اور اصلاحی اقدامات کرنے چاہئیں تھے۔

ادویات اور دیگر ضروریات کی مبینہ قلت کا ذکر کرتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران، ایم وی اے حکومت دور دراز علاقوں میں، یہاں تک کہ ڈرون کے ذریعے بھی، لوگوں کو ادویات اور ویکسین فراہم کرتی تھی۔

انہوں نے کہا ’’ابھی کوئی وبائی بیماری نہیں ہے، پھر بھی یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے۔ اس حکومت کے پاس ایم ایل اے کو گجرات، گوہاٹی لے جانے، اشتہارات جاری کرنے، وزراء یا ایم پیز-ایم ایل اے کے غیر ملکی دوروں اور ایم وی اے حکومت کو گرانے کے لیے وزارتی عہدوں کے لیے آپس میں لڑنے کے لیے پیسے ہیں لیکن غریب مریضوں کے لیے پیسے نہیں ہیں۔‘‘

وزیر صحت تانا جی ساونت کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ٹھاکرے نے کہا کہ وہ صرف اشتہاری پوسٹروں میں نظر آتے ہیں۔ ٹھاکرے نے پوچھا، ’’صرف ناندیڑ کے ڈین پر ہی غیر ارادی قتل کا مقدمہ کیوں درج کیا گیا ہے؟ کیا ٹرن کوٹ ایم پی (پاٹل) کے خلاف مظالم کا مقدمہ درج ہونے کے بعد انہیں (ڈین کو) جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے؟‘‘

نچلی عدالتوں میں مردوں کے مقابلے خواتین ججوں کی زیادہ تقرری: سی جے آئی چندرچوڑ

0
نچلی-عدالتوں-میں-مردوں-کے-مقابلے-خواتین-ججوں-کی-زیادہ-تقرری:-سی-جے-آئی-چندرچوڑ

نئی دہلی: چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا ہے کہ ملک بھر میں نچلی عدالتوں میں خواتین ججوں کی تقرری میں اضافہ ہوا ہے۔ سی جے آئی نے کہا کہ ایسا کسی ایک ریاست میں نہیں بلکہ ملک بھر میں ہو رہا ہے۔

مہاراشٹرا کی مثال دیتے ہوئے سی جے آئی نے کہا کہ وہاں ایک بڑھتا ہوا رجحان ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نچلی عدالتوں میں مرد ججوں کے مقابلے زیادہ خواتین ججوں کی تقرری ہو رہی ہے۔ سی جے آئی نے کہا کہ کہ تمام ریاستوں میں خواتین ججوں کی تعداد زیادہ ہے۔

جس وقت چیف جسٹس نے بیان دیا تو مہاراشٹر کے کل 75 جج کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ یہاں پچھلی قطار میں مہاراشٹر کے 75 سول جج (جونیئر ڈویژن) تھے، جن میں سےے 42 خواتین اور 33 مرد ہیں۔ ضلعی ججوں کے لیے 5 براہ راست بھرتیوں میں سے 2 خواتین اور 3 مرد تھے۔

اپریل میں جاری ہونے والی انڈیا جسٹس رپورٹ 2022 کے مطابق ماتحت عدالتوں میں خواتین ججوں کی تعداد قومی اوسط کا 35 فیصد ہے، پانچ ریاستوں میں 50 فیصد سے زیادہ خواتین عدالتی افسران ہیں۔

’فری بیز‘ معاملے میں سپریم کورٹ نے انتخابی کمیشن اور مرکزی حکومت کو بھیجا نوٹس

0
’فری-بیز‘-معاملے-میں-سپریم-کورٹ-نے-انتخابی-کمیشن-اور-مرکزی-حکومت-کو-بھیجا-نوٹس

فری بیز یعنی ووٹ حاصل کرنے کے لیے مفت چیزیں دستیاب کرنے کے وعدوں پر سپریم کورٹ نے سخت رویہ اختیار کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ مدھیہ پردیش و راجستھان حکومت کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔ ان سبھی سے ’فری بیز‘ معاملے میں جواب طلب کیا گیا ہے اور اس کے لیے 4 ہفتے کا وقت دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ میں عرضی دہندہ بھٹو لال جین کے وکیل کی طرف سے آج کہا گیا کہ انتخاب سے پہلے حکومت کی طرف سے نقدی تقسیم کرنے سے زیادہ ظالمانہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ ایسا ہر بار ہو رہا ہے اور اس کا بوجھ بالآخر ٹیکس دہندگان پر ہی پڑتا ہے۔ اس پر چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا کہ انتخاب سے پہلے ہر طرح کے کئی وعدے کیے جاتے ہیں اور ہم اس پر کسی طرح کا کنٹرول نہیں کر سکتے۔ ہم اسے اشونی اپادھیائے کی عرضی کے ساتھ ٹیگ کریں گے۔ لیکن آپ نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ دفتر وغیرہ کو فریق کار بنایا ہے۔ آپ کو حکومت کو فریق کار بنانے کی ضرورت ہے اور آر بی آئی، آڈیٹر جنرل وغیرہ کو فریق بنانے کی ضرورت ہے۔

سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور انتخابی کمیشن کے علاوہ مدھیہ پردیش اور راجستھان حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے داخل اس عرضی کو فری بیز معاملے میں زیر التوا اہم عرضی کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ میں اس وقت فری بیز یعنی سیاسی پارٹیوں کی طرف سے مفت چیزیں دیے جانے کا وعدہ کرنے کے خلاف معاملہ چل رہا ہے۔ گزشتہ سال اگست میں سپریم کورٹ نے معاملے کو 3 ججوں کی بنچ کے پاس بھیج دیا تھا۔ عرضی کے ذریعہ اس طرح کی فری بیز پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی عرضی میں ایسی سیاسی پارٹیوں کا رجسٹریشن رد کیے جانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے جو انتخاب کے دوران یا بعد میں مفت چیزیں فراہم کرتے ہیں۔ فری بیز پر پابندی سے جڑی اہم عرضی ایڈووکیٹ اشونی اپادھیائے کی طرف سے داخل کی گئی ہے۔

چھتیس گڑھ کے دورے پر پہنچیں پرینکا گاندھی، طالبات سے کی گفتگو

0
چھتیس-گڑھ-کے-دورے-پر-پہنچیں-پرینکا-گاندھی،-طالبات-سے-کی-گفتگو

رائے پور/کانکیر: کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی جمعہ کو چھتیس گڑھ کے دورے پر ہیں۔ وہ ایک خصوصی طیارے کے ذریعے راجدھانی رائے پور پہنچی۔ سوامی وویکانند ہوائی ہوائی اڈے پر وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے ان کا استقبال کیا، جہاں سے وہ کانکیر کے لیے روانہ ہو گئیں۔

کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کانکیر کے گووند پور میں منعقدہ اربن باڈی اور پنچایتی راج مہاسمیلن میں شرکت کر رہی ہیں۔شیڈول کے مطابق پرینکا گاندھی وزیر اعلیٰ بگھیل کے ساتھ ہیلی کاپٹر کے ذریعے گووند پور کانیکر کے بھانو پرتاپ دیو کالج گراؤنڈ میں واقع ہیلی پیڈ پہنچیں جہاں ان کا استقبال کیا گیا۔

پرینکا گاندھی نے کانکیر میں اپنے قیام کے دوران جنرل گرلز ہاسٹل کی طالبات سے ملاقات کی۔ اس موقع پر پرینکا گاندھی نے طالبات سے ان کی پڑھائی اور کیریئر کے بارے میں بات کی اور ان کے ساتھ سیلفی بھی لی۔ دونوں نے شمالی بستر کانکیر کے امن، سلامتی اور ترقی کے لیے عظیم قربانی دینے والے 37 شہیدوں کو امر جوان استمبھ پر گلہائے عقیدت پیش کئے۔

مسجد کے سامنے پوجا کی اجازت دینے پر تین پولیس اہلکار معطل

0
مسجد-کے-سامنے-پوجا-کی-اجازت-دینے-پر-تین-پولیس-اہلکار-معطل

کوپل، (کرناٹک) : کرناٹک کے محکمہ پولیس نے کوپل میں ایک مسجد کے سامنے گنیش کی مورتی کی پوجا کی اجازت دینے پر تین پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔ ضلع پولیس نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔

گنگاوتی سٹی پولیس اسٹیشن سے منسلک انسپکٹر آدیویش گڈی کوپا، پی ایس آئی کامنا اور ہیڈ کانسٹیبل ماریپا ہوسمانی کو معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ حکم ضلع ایس پی یشودا ونتاگوڈی نے جاری کیا۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے 3 اکتوبر کو گنیش مورتی کے وسرجن پروگرام کے دوران ڈیوٹی میں لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔ معطل پولیس اہلکاروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جامع مسجد کے سامنے پوجا کو روکنے میں ناکام رہے۔

ہندو عقیدت مندوں نے ایک گاڑی میں گنیش کی مورتی کا جلوس نکالا اور کوپل شہر کی جامع مسجد کے سامنے پوجا کی۔ معطل پولیس اہلکار موقع پر موجود تھے لیکن انہوں نے اسے نہیں روکا۔ اس واقعہ سے کشیدہ صورتحال پیدا ہوگئی۔

30 ستمبر کو نوجوانوں کی مسجد کے سامنے نعرے لگانے اور خصوصی پوجا کرنے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوا تھا۔ اس کے بعد اس سلسلے میں چار پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 3 اکتوبر کو بھی ایسا ہی واقعہ دہرایا گیا۔

این سی پی کا باس کون، شرد پوار یا اجیت پوار؟ الیکشن کمیشن میں آج ہوگی سماعت

0
این-سی-پی-کا-باس-کون،-شرد-پوار-یا-اجیت-پوار؟-الیکشن-کمیشن-میں-آج-ہوگی-سماعت

ممبئی: الیکشن کمیشن میں آج شرد پوار اور اجیت پوار دھڑے کی طرف سے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے نام اور انتخابی نشان پر دعووں کے بارے میں دائر درخواست پر سماعت کی جائے گی۔ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا تھا جب اجیت پوار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی حکومت میں شامل ہو گئے تھے۔ اس کے بعد اجیت نے بھی این سی پی پر اپنا دعویٰ پیش کیا۔

چچا شرد پوار نے اپنے بھتیجے کے اس اقدام کے خلاف الیکشن کمیشن سے رجوع کیا۔ اب دونوں گروپوں کو الیکشن کمیشن کے سامنے اپنے اپنے موقف پیش کرنا ہوں گے۔ اس سے قبل الیکشن کمیشن نے شرد پوار گروپ کے خلاف وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا تھا۔ اجیت پوار کے دھڑے کی طرف سے دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ اجیت پوار کو این سی پی کا صدر قرار دیا جانا چاہئے اور انتخابی نشان آرڈر 1968 کی دفعات کے تحت پارٹی کا نشان بھی الاٹ کیا جانا چاہئے۔

اس معاملے میں شرد پوار نے کہا کہ ’’سبھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ این سی پی کی بنیاد کس نے رکھی اور کس کی پارٹی ہے۔ اس کے بعد بھی پارٹی پر قبضہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ فیصلہ جو بھی ہو، گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ میں نے کئی بار مختلف نشانوں پر الیکشن لڑا اور جیتا۔‘‘ وہیں، اجیت پوار کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن جو بھی فیصلہ کرے گا اسے قبول کیا جائے گا۔

دہلی شراب پالیسی کیس: سنجے سنگھ کے قریبی ساتھیوں کے خلاف کارروائی، سرویش مشرا اور وویک تیاگی کو ای ڈی نے کیا طلب

0
دہلی-شراب-پالیسی-کیس:-سنجے-سنگھ-کے-قریبی-ساتھیوں-کے-خلاف-کارروائی،-سرویش-مشرا-اور-وویک-تیاگی-کو-ای-ڈی-نے-کیا-طلب

نئی دہلی: دہلی شراب پالیسی معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے اب عام آدمی پارٹی (عآپ) کے رکن راجیہ سبھا سنجے سنگھ کے قریبی لوگوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ ای ڈی نے سرویش مشرا اور وویک تیاگی کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے، جنہیں سنجے سنگھ کا قریبی مانا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ ای ڈی نے سنجے سنگھ کو بدھ کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد انہیں دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے قبول کیا کہ ای ڈی کے ذریعہ سنجے سنگھ کی گرفتاری غیر معقول یا غیر منطقی نہیں ہے۔

عدالت نے سنجے سنگھ کو 5 دن کے لیے ای ڈی ریمانڈ پر بھیج دیا ہے۔ سنجے سنگھ پر جرم سے ہونے والی آمدنی سے براہ راست جڑے ہونے کا الزام ہے۔

دہلی کے سابق نائب وزیر اعلی منیش سسودیا اس معاملے میں پہلے ہی جیل میں ہیں۔ دراصل، سسودیا کا قریبی سمجھے جانے والا تاجر دنیش اروڑہ مبینہ گھوٹالے سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں ملزم تھا، جو بعد میں سرکاری گواہ بن گیا۔ اس نے کہا ’’اس کے بدلے میں سنگھ کے ایک ایسوسی ایٹ/ٹیم ممبر یعنی وویک تیاگی کو امت اروڑہ کی کاروباری کمپنی یعنی ارالیاس ہاسپیٹلیٹی پرائیویٹ لمیٹڈ میں حصہ دیا گیا تھا۔‘‘

تاہم عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال کا کہنا ہے کہ سنجے سنگھ نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔ انہیں جھوٹے الزامات میں پھنسایا جا رہا ہے۔ وہیں، بی جے پی کا کہنا ہے کہ وہ مبینہ شراب گھوٹالہ میں رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ کی گرفتاری سے گھبرائے ہوئے ہیں اور انہیں بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر اپنے وسائل خرچ کر رہے ہیں۔

آر بی آئی نے لگاتار چوتھی بار شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی

0
آر-بی-آئی-نے-لگاتار-چوتھی-بار-شرح-سود-میں-کوئی-تبدیلی-نہیں-کی

نئی دہلی: ریزرو بینک کے گورنر شکتی کانت داس کی قیادت میں مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی دو ماہی مالیاتی جائزہ میٹنگ بدھ کو شروع ہوئی۔ آج یعنی جمعہ کو ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر کی جانب سے میٹنگ میں لیے گئے فیصلوں کا اعلان کیا گیا۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے ریپو ریٹ کو 6.50 فیصد پر برقرار رکھا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ہوم لون، کار لون اور دیگر قرضوں کی ای ایم آئی غیر تبدییل رہے گی۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی میٹنگ میں لیے گئے فیصلے کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے آر بی آئی گورنر شکتی کانت داس نے کہا، ’’حالات پر غور کرنے کے بعد ایم پی سی کے تمام چھ اراکین نے متفقہ طور پر ریپو ریٹ کو 6.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

خیال رہے کہ پچھلی تین دو ماہی میٹنگوں میں ایم پی سی نے ریپو ریٹ کو 6.5 فیصد پر برقرار رکھا ہے۔ دو ماہانہ مانیٹری پالیسی ریویو (ایم پی سی) پیش کرتے ہوئے آر بی آئی کے گورنر شکتی کانت داس نے کہا کہ ہندوستان دنیا کے لیے اقتصادی ترقی کا انجن بنا ہوا ہے لیکن اس میں خوش فہمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

سکم: الرٹ کے بعد خالی کرایا جا رہا گلیشیر جھیل کا قریبی علاقہ، تباہی کا خطرہ

0
سکم:-الرٹ-کے-بعد-خالی-کرایا-جا-رہا-گلیشیر-جھیل-کا-قریبی-علاقہ،-تباہی-کا-خطرہ

گوہاٹی: سکم میں جنوبی لوناک جھیل پر بادل پھٹنے سے ہونے والی زبردست تباہی کے بعد منگن ضلع میں لاچین کے قریب ساکو چو جھیل سے سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ لہذا جھیل کے ساتھ والے علاقے کو خالی کرایا جا رہا ہے اور یہاں رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

دراصل جھیل ٹوٹنے کے دہانے پر ہے جس کے بعد حکام کو کناروں پر رہنے والے لوگوں کے لیے الرٹ جاری کرنا پڑا۔ ساکو چو برفانی جھیل تھانگو گاؤں کے اوپر ہے۔ یہ 1.3 کلومیٹر لمبی ہے، گاؤں یہاں سے صرف 12 کلومیٹر دور ہے۔ جھیل میں بڑھتے ہوئے پانی کو دیکھتے ہوئے حکام نے گنگٹوک ضلع کے سنگتم، منگن ضلع میں ڈکچو اور پاکیونگ ضلع میں رنگپو آئی بی ایم کے علاقے کو خالی کرا لیا ہے۔

گنگٹوک کے ضلع مجسٹریٹ تھوشارے نکھارے نے کہا کہ سیٹلائٹ ڈیٹا نے ساکو چو کے اوپر گلیشیر کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ دکھایا ہے۔ افسر نے کہا کہ درجہ حرارت مستحکم ہو جائے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ صبح دوبارہ علاقے کی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ نکھارے نے کہا کہ احتیاطی اقدام کے طور پر لوگوں کے لیے الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھیل میں گاد جمع ہو گئی ہے۔ پانی کی اچانک آمد سے جھیل پھٹ گئی تو لوگوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وہیں، مرکزی حکومت نے کہا کہ وہ سیلاب کا پانی کم ہونے کے بعد سکم میں پن بجلی منصوبوں کو پہنچنے والے نقصان کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ بجلی کی وزارت نے کہا کہ سرکاری ہائیڈرو پاور کمپنی این ایچ پی سی پن بجلی کے منصوبوں کو جلد از جلد شروع کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔ خیال رہے کہ منگل کو بادل پھٹنے سے آنے والے سیلاب میں اب تک 19 افراد جان بحق ہو چکے ہیں، جن میں فوج کے 6 اہلکار بھی شامل ہیں۔ 16 فوجیوں سمیت 100 افراد لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔

ممبئی: گوریگاؤں میں 7 منزلہ عمارت میں خوفناک آتشزدگی، 46 افراد جھلس گئے، 6 ہلاک

0
ممبئی:-گوریگاؤں-میں-7-منزلہ-عمارت-میں-خوفناک-آتشزدگی،-46-افراد-جھلس-گئے،-6-ہلاک

ممبئی: ممبئی کے گوریگاؤں کے آزاد نگر میں سمرتھ نامی 7 منزلہ عمارت میں گزشتہ راش خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا۔ عمارت کی پارکنگ میں صبح 2.30 سے ​​3 بجے کے درمیان لگنے والی اس آگ کی وجہ سے 6 افراد ہلاک اور 46 زخمی ہو گئے ہیں۔ دو زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے اور وہ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

یہاں عمارت کی پارکنگ میں کھڑی 4 کاریں اور 30 ​​سے ​​زائد موٹر سائیکلیں مکمل طور پر جل کر راکھ ہوگئیں، فائر بریگیڈ کی 10 سے زائد گاڑیوں کی مدد سے آگ پر قابو پایا جا سکا۔

مقامی لوگوں کے مطابق عمارت کی پارکنگ میں کافی پرانا کپڑا رکھا ہوا تھا، ممکنہ طور پر اسی میں آگ لگی ہوگی اور کچھ ہی دیر میں اس نے پوری پارکنگ اور عمارت کی پہلی اور دوسری منزل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اس حادثے میں زخمی ہونے والے تمام افراد کو دو اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ ایچ بی ٹی ہسپتال لائے گئے زخمیوں میں سے 6 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں تین خواتین اور دو بچے شامل ہیں ہیں۔ 25 زخمی اس وقت زیر علاج ہیں جن میں 13 خواتین شامل ہیں۔

وہیں، آگ میں جھلس جانے والے 15 افراد کوپر ہسپتال میں زیر علاج ہیں، جن میں 9 خواتین شامل ہیں۔ تاہم پولیس اور فائر بریگیڈ آگ لگنے کی وجہ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

خبر کے مطابق آگ لگنے کا واقعہ رات کے آخری پہر میں 3.05 بجے پیش آیا، جس کے بعد فوری طور پر فائر بریگیڈ کو اطلاع دی گئی۔ فائر بریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر کافی کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا۔