بدھ, مارچ 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 74

مودی حکومت تحقیقاتی ایجنسیوں کا غلط استعمال کر رہی ہے: کیجریوال

0
مودی-حکومت-تحقیقاتی-ایجنسیوں-کا-غلط-استعمال-کر-رہی-ہے:-کیجریوال

عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اور وزیر اعلی اروند کیجریوال نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور مرکزی تفتیشی بیورو کے غلط استعمال پر ایک بار پھر مرکزی حکومت پرسخت حملہ کرتے ہوئے جمعہ کو کہاکہ مودی حکومت نے اپوزیشن لیڈروں، صنعت کاروں، صنعت و تجارت کے درمیان خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔

مسٹر کیجریوال نے آج غازی پور لینڈ فل سائٹ کا جائزہ کرتے ہوئے صحافیوں سے کہا، ”ہم ملک بھر میں دیکھ رہے ہیں کہ جھوٹے مقدمات درج کرکے اپوزیشن لیڈروں اور پارٹیوں کو بے اثر کرنے اور انہیں دھمکانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ بی جے پی بہت سے لوگوں کو توڑ کر اپنی پارٹی میں شامل کر رہی ہے، جو جمہوریت کے لیے اچھا نہیں ہے۔ اس میں نہ صرف اپوزیشن لیڈروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ ملک بھر کے صنعتکاروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ پچھلے5-7 سالوں میں تقریباً 12-13 لاکھ بہت امیر لوگوں نے ہندوستانی شہریت چھوڑ کر غیر ملکی شہریت لے لی ہے۔وہ ہندوستان چھوڑ گئے ہیں اور ہندوستان میں اپنا کاروبار بند کر دیا ہے۔“

انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں خوف و ہراس کا ماحول بنا ہوا ہے۔ اس سے ملک کی ترقی نہیں ہو سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ” ہم چین سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم چین کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟ چین میں گھریلو صنعتیں چل رہی ہیں۔ ہمارے ملک میں بڑی صنعتوں کو بھی چلنے نہیں دیا جا رہا اور انہیں بند کیا جا رہا ہے۔سب کے پیچھے ایجنسی کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایسی ایجنسی ایجنسی کھیل کر ہندوستان ترقی نہیں کرے گا۔‘

مسٹر کیجریوال نے کہا، ”انہوں نے ہم پر بہت ساری تحقیقات کیں، لیکن کچھ نہیں نکلا۔بولے کہ بس گھپلہ تھا، اس میں کچھ نہیں نکلا۔ بولے کہ اسکول کے کلاس رومز بنانے میں گھپلہ کیا گیا، اس سے کچھ نہیں نکلا۔ پھربولے کہ بجلی میں ہزاروں کروڑ روپے کا گھپلہ ہوگیا، اس میں بھی کچھ نہیں ملا۔ سڑک کی تعمیر میں گھپلہ ہوا، اس سے کچھ نہیں نکلا۔ پانی میں گھپلہ ہوا، اس سے بھی کچھ نہیں نکلا۔ اب یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ شراب گھپلہ بھی فرضی ہے۔“

انہوں نے کہا کہ یہ لوگ نہ خود کوئی کام کریں گے اور نہ ہی دوسروں کو کام کرنے دیں گے۔ شراب کا کوئی گھوٹالہ نہیں ہے، سب جھوٹ ہے۔ لوگوں پر تشدد کرکے جھوٹے بیانات لیے گئے ہیں۔ تمام بیانات غلط ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ان لوگوں کی نیتیں خراب ہیں۔ یہ لوگ کام نہیں کرنا چاہتے۔

بھارت: ہسپتال میں زیرعلاج مریضوں کو اب بھجن سنایا جائے گا

0
بھارت:-ہسپتال-میں-زیرعلاج-مریضوں-کو-اب-بھجن-سنایا-جائے-گا

بھارتی میڈیا میں شائع رپورٹوں کے مطابق مشرقی ریاست اوڈیشہ کے کٹک ضلعے میں ایس سی بی میڈیکل کالج اور ہسپتال کے تمام آئی سی یوز میں ڈاکٹروں کی مدد کے لیے اب زیر علاج مریضوں کو "روحانی بھجن” سنائے جائیں گے۔ ہندو دیوی دیوتاوں کی تعریف میں گائے جانے والے نغموں کو بھجن کہتے ہیں۔

ہسپتال کے ماہرین صحت کا اصرار ہے کہ عقیدت مند گیت یعنی بھجن کے موسیقی ورژن انتہائی نازک حالت والے مریضوں کے لیے "بہت موثر” ہوں گے۔ اس لیے ایس سی بی میڈیکل کالج کے حکام نے ہسپتال کے انتہائی نگہداشت والی تمام یونٹوں میں میوزک تھیراپی کے طور پر روحانی بھجن بجانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہسپتال کے حکام نے بدھ کے روز یہ فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ بھجن سے روحانی اور مثبت ماحول پیدا ہوگا اور اس سے مریض کے شفا یاب ہونے کی رفتار تیز ہو جائے گی۔

ایس سی بی میڈیکل کالج ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر ابیناش راوت کا کہنا تھا کہ،”اگر ہم آئی سی یو کے اندر سازو ں پر کچھ موسیقی بجا سکتے ہیں تو اس پرسکون آواز سے شفایابی میں مدد ملے گی۔ تجویز پر غورو خوض کرنے کے بعد ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہسپتال کے تمام آئی سی یوز کے اندر موسیقی بجائے جائیں گے۔ اس پر جلد ہی عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ سرکاری طریقہ کار کے مطابق میوزک تھیراپی فراہم کرنے کی ذمہ داری نجی فرموں کو تفویض کرنے کے لیے ٹینڈر جاری کیا جائے گا۔ بھارت میں ہسپتالوں میں میوز ک تھیراپی کے استعمال کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ سن 2020 میں کورونا وائرس کی وبا کے پہلے دور کے دوران گجرات کے ودودرا (بڑودہ) میں سر سیاجی راو جنرل ہسپتال میں مریضوں کے علاج کے حصے کے طورپر میوزک تھیراپی اور لافٹر تھیراپی استعمال کیے گئے تھے۔

میڈیکل جرنل لانسیٹ کی ایک تحقیق کے مطابق ڈپریشن بڑی عمر کے بالغ افراد کی ایک عام ذہنی صحت کی حالت ہے۔ ڈپریشن میں میوزک تھیراپی کو ایک حد تک موثر پایا گیا ہے۔ لیکن دیگر بیماریوں میں اس کے اثرات ابھی واضح نہیں ہوئے ہیں۔

راجستھان: بی جے پی نے پوسٹر میں جس کسان کو بتایا قرض دار، وہ نکلا زمیندار!

0
راجستھان:-بی-جے-پی-نے-پوسٹر-میں-جس-کسان-کو-بتایا-قرض-دار،-وہ-نکلا-زمیندار!

راجستھان میں اسمبلی انتخاب رواں سال کے آخر تک ہونا ہے اور اس کے لیے تاریخوں کا کبھی بھی اعلان ہو سکتا ہے۔ انتخاب کے پیش نظر ریاست میں سبھی سیاسی پارٹیاں سرگرم نظر آ رہی ہیں۔ خصوصاً کانگریس اور بی جے پی کے سرکردہ لیڈران لگاتار راجستھان کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس درمیان بی جے پی ایک پوسٹر معاملے میں بری طرح پھنستی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔

دراصل کانگریس حکومت کے خلاف بی جے پی نے ایک خاص مہم ’نہیں سہے گا راجستھان‘ چلا رکھی ہے۔ اس سلوگن کے ساتھ کچھ اشتہارات بھی شائع ہوئے ہیں۔ ایک پوسٹر میں کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے ’19 ہزار سے زیادہ کسانوں کی زمین نیلام، نہیں سہے گا راجستھان‘۔ پوسٹر میں ایک کسان کی تصویر بھی لگی ہوئی ہے۔ اب خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ نہ ہی اس کسان کی زمین نیلام ہوئی ہے اور نہ ہی اس کی تصویر شائع کرنے کے لیے اجازت لی گئی ہے۔

’ٹی وی 9 بھارت وَرش‘ پر شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پوسٹر پر جس کسان کی تصویر لگی ہوئی ہے اس کا نام مادھورام جئے پال ہے۔ مادھورام کا کہنا ہے کہ اس پر نہ تو کوئی قرض ہے اور نہ ہی اس کی زمین نیلام ہوئی ہے۔ وہ 200 بیگھہ زمین کا مالک ہے۔ اب کسان بی جے پی پر ہتک عزتی کا کیس کرنا چاہتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس بات کی حقیقت جاننے کے لیے ٹی وی 9 بھارت وَرش کی ٹیم نے اس کسان تک رسائی حاصل کی۔ پتہ چلا کہ جیسلمیر کے رامدیورا گاؤں کے ریکھیوں کی ڈھانی میں رہنے والے کسان مادھورام کی عمر 70 سال ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے بینر پر لگی تصویر ان کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گاؤں کے ایک نوجوان سے انھیں بینر پر اپنی تصویر لگی ہونے کے بارے میں پتہ چلا۔ ان کے گاؤں سے ایک نوجوان کچھ دن پہلے جئے پور گیا۔ اس نے وہاں کئی مقامات پر یہ بینر لگا دیکھا۔ اس نے بینر کی تصویر کھینچ کر گاؤں کے ایک واٹس ایپ گروپ میں شیئر کیا۔ اسی گروپ میں کسان کا بیٹا جڑا ہوا تھا، اس نے یہ تصویر دیکھی تو اپنے والد کو بتایا۔

مادھورام کے مطابق پہلے تو انھیں کچھ سمجھ نہیں آیا کیونکہ بینر میں زمین نیلامی کی بات تھی اور ان کی کوئی زمین ہی نیلام نہیں ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ’’میری تصویر بلاوجہ لگا دی، مجھ سے پوچھا بھی نہیں۔ میرے اوپر کوئی قرض نہیں ہے۔ اس تصویر کو ہٹاؤ۔‘‘ پھر وہ کہتے ہیں کہ ’’اگر میری زمین نیلام ہوتی یا میرے اوپر قرض ہوتا تو حکومت قرض معافی کرتی ہے یا زمین دبائے گی۔ میں بی جے پی والوں کو نہیں جانتا۔ میں نے کوئی قرض نہیں لیا۔ اگر کوئی مجھ سے کچھ مانگ رہا ہوتا تو تصویر چھاپتے، لیکن ایسا کچھ ہے ہی نہیں تو کیوں چھاپا؟ کسی کے پاس کوئی تو ثبوت ہوگا، تو پھر ثابت کرے کہ میری زمین نیلام ہوئی ہے۔‘‘

مادھورام کے بیٹے کا اس پورے معاملے میں کہنا ہے کہ بی جے پی پوسٹر/بینر سے تصویر ہٹائے، کیونکہ اس سے بدنامی ہو رہی ہے۔ کسان مادھورام جئے پال کے 3 بیٹے ہیں۔ سب سے بڑا بیٹا ہے بھورارام، ان سے چھوٹا گووندرام اور سب سے چھوٹا جگتارام۔ دو بڑے بیٹے اپنی فیملی کے ساتھ الگ رہتے ہیں اور سب سے چھوٹے بیٹے جگتارام والد کے ساتھ رہتے ہیں۔ جگتارام کا کہنا ہے کہ جب سے یہ بات سامنے آئی ہے، میرے والد ٹینشن میں رہتے ہیں۔ مجھ سے بار بار پوچھتے ہیں کہ اس تصویر کا کیا ہوا، ہٹی کہ نہیں؟ میں بی جے پی والوں سے گزارش کرتا ہوں کہ میرے والد کی تصویر پوسٹر سے ہٹا دیں۔ ہماری بدنامی ہو رہی ہے۔ لوگ طرح طرح کے تبصرے کرتے ہیں۔

این سی پی تنازعہ: شرد پوار نے انتخابی کمیشن سے کہا ’اجیت نے فرضی دستاویز دیے‘، اگلی سماعت 9 اکتوبر کو

0
این-سی-پی-تنازعہ:-شرد-پوار-نے-انتخابی-کمیشن-سے-کہا-’اجیت-نے-فرضی-دستاویز-دیے‘،-اگلی-سماعت-9-اکتوبر-کو

این سی پی کے اصل مالک شرد پوار ہیں یا پھر اجیت پوار، اس کا فیصلہ انتخابی کمیشن کو کرنا ہے۔ آج این سی پی پر دعویٰ کرنے شرد پوار اور اجیت پوار گروپ اپنی اپنی بات رکھنے انتخابی کمیشن پہنچے۔ شرد پوار کے وکیل ابھشیک منو سنگھوی نے انتخابی کمیشن میں سماعت کے بعد اجیت پوار گروپ کو لے کر دعویٰ کیا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ اس دوران ان کے ساتھ این سی پی چیف شرد پوار بھی موجود تھے۔

ابھشیک منو سنگھوی نے اجیت پوار گروپ پر غلط اور فرضی دستاویز انتخابی کمیشن کو دینے کا الزام لگایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر کوئی غلط دستاویز دیتا ہے تو اس کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے بھی لوگوں کے دستاویزات جمع کر دیے گئے جن کی موت ہو چکی ہے۔ کئی لوگوں نے منع بھی کر دیا کہ انھوں نے دستخط نہیں کیے ہیں۔ ایک پارٹی کو غلط کاغذ کے ذریعہ توڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘‘

آج شرد پوار کے ساتھ انتخابی کمیشن جتیندر اوہاڈ اور وندنا چوہان پہنچے تھے، جبکہ اجیت پوار کی طرف سے ان کے وکیل پہنچے تھے۔ انتخابی کمیشن میں آج ہوئی سماعت کے بارے میں سنگھوی نے بتایا کہ یہ دو گھنٹے چلی جس میں انھوں نے شرد پوار کی طرف سے دلیلوں کو پیش کیا۔ این سی پی پر حق اور پارٹی کے انتخابی نشان کو لے کر انتخابی کمیشن میں اب اگلی سماعت 9 اکتوبر کو ہوگی۔

واضح رہے کہ اجیت پوار نے 30 جون کو انتخابی کمیشن میں پارٹی کےنام اور انتخابی نشان پر دعویٰ کیا تھا۔ اگلی سماعت یعنی 9 اکتوبر کو اجیت پوار گروپ اپنی بات انتخابی کمیشن کے سامنے رکھے گا۔

تلنگانہ انتخاب سے قبل بی آر ایس کو لگا جھٹکا، 2 سینئر لیڈران 100 سے زائد حامیوں کے ساتھ کانگریس میں شامل

0
تلنگانہ-انتخاب-سے-قبل-بی-آر-ایس-کو-لگا-جھٹکا،-2-سینئر-لیڈران-100-سے-زائد-حامیوں-کے-ساتھ-کانگریس-میں-شامل

تلنگانہ اسمبلی انتخاب سے پہلے ریاست میں برسراقتدار کے. چندرشیکھر راؤ (کے سی آر) کی بھارت راشٹریہ سمیتی (بی آر ایس) کو ایک زوردار جھٹکا لگا ہے۔ پارٹی کے دو سینئر لیڈران کاسیریڈی نارائن ریڈی اور ٹھاکر بالاجی سنگھ 100 سے زائد موجودہ اور سابق منتخب نمائندوں کے ساتھ آج کانگریس میں شامل ہو گئے۔ دہلی میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اپنی رہائش پر دونوں لیڈروں کو ان کے تقریباً 100 حامیوں کے ساتھ کانگریس میں شامل کرایا۔

کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’آج کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی موجودگی میں بی آر ایس لیڈران کاسیریڈی نارائن ریڈی اور ٹھاکر بالا جی سنگھ کلواکرتھی اسمبلی حلقہ کے 100 موجودہ و سابقہ منتخب نمائندوں کے ساتھ کانگریس پارٹی میں شامل ہوئے۔‘‘ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے سبھی بی آر ایس لیڈران کا کانگریس میں استقبال کیا۔

اس بارے میں تلنگانہ کانگریس صدر اے. ریونت ریڈی کا بھی بیان سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج ایم ایل سی کاسیریڈی نارائن ریڈی اور ٹھاکر بالاجی سنگھ سمیت کئی سینئر لیڈران کانگریس صدر کھڑگے، پارٹی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال کی موجودگی میں کانگریس میں شامل ہوئے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ کانگریس آئندہ اسمبلی انتخاب جیتنے جا رہی ہے۔ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا 17 دنوں تک تلنگانہ میں تھی اور اس کے بعد سی ڈبلیو سی کی میٹنگ بھی تلنگانہ میں ہوئی جس نے کانگریس کو ریاست میں مضبوط کیا ہے۔

ریونت ریڈی کا کہنا ہے کہ سونیا گاندھی اور یو پی اے حکومت نے لوگوں کے فلاح کے لیے الگ تلنگانہ ریاست بنائی۔ گزشتہ 10 سالوں میں بی آر ایس حکومت کے تحت کوئی کام نہیں کیا گیا ہے۔ ہم حکومت بنانے جا رہے ہیں اور ہم نے ریاست میں چھ گارنٹی کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ الگ ریاست کا مطالبہ کرتے ہوئے کئی لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور ریاست میں کانگریس کی حکومت بنتے ہی ان کے خواب پورے ہوں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بی آر ایس کے کئی سینئر لیڈران کانگریس میں شامل ہو چکے ہیں۔ کانگریس ریاست میں زور و شور سے انتخابی تشہیر میں مصروف ہے اور برسراقتدار ہونے کی امید کر رہی ہے۔ ریاست میں کانگریس حکومت تشکیل پانے پر پارٹی نے چھ گارنٹی کا اعلان بھی کر دیا ہے۔

شرد پوار نے ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی سے دہلی میں کی ملاقات

0
شرد-پوار-نے-ملکارجن-کھڑگے-اور-راہل-گاندھی-سے-دہلی-میں-کی-ملاقات

آج انڈیا اتحاد میں شامل دو اہم پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران کی دہلی میں ملاقات ہوئی جس نے سیاسی ہلچل کو کچھ بڑھا دیا ہے۔ دراصل آج اچانک این سی پی چیف شرد پوار کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے سے ملاقات کرنے ان کی رہائش پر پہنچ گئے۔ پھر خبر آئی کہ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی بھی کھڑگے کے گھر پہنچے ہیں۔ این سی پی اور کانگریس کے ان لیڈران کی ملاقات کی خبر پہلے سے کسی کو نہیں تھی۔

کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد انڈیا کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کے لیے این سی پی چیف نے کانگریس کے دو سرکردہ لیڈروں سے 6 اکتوبر کو ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد کانگریس صدر کھڑگے نے اپنے آفیشیل ایکس پلیٹ فارم پر کچھ تصویریں شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ملک کی عوام کی آواز مزید بلند کرنے کے لیے آج راہل گاندھی جی کے ساتھ این سی پی صدر شرد پوار جی سے ملاقات ہوئی۔ ہم ہر چیلنج کے لیے تیار ہیں۔ جڑے گا بھارت، جیتے گا انڈیا۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ شرد پوار کی ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی سے پچھلی ملاقات 31 اگست اور یکم ستمبر کو ممبئی میں ہوئی اپوزیشن اتحاد کی میٹنگ کے دوران ہوئی تھی۔ اب ذرائع کے حوالے سے خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ جلد ہی انڈیا اتحاد کی اگلی میٹنگ ہونے کا امکان ہے۔ تینوں لیڈران نے موجودہ سیاسی حالات اور اپوزیشن اتحاد سے متعلق ایشوز پر تبادلہ خیال کیا جو آنے والے اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔

یوٹیوب، ایکس اور ٹیلی گرام کو مرکزی حکومت نے بھیجا نوٹس

0
یوٹیوب،-ایکس-اور-ٹیلی-گرام-کو-مرکزی-حکومت-نے-بھیجا-نوٹس

انٹرنیٹ پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس معاملے میں اب مرکزی حکومت نے سخت رخ اختیار کر لیا ہے۔ الیکٹرانک اینڈ آئی ٹی وزارت کے ریاستی وزیر مملکت راجیو چندرشیکھر نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ اگر کسی بھی طرح کے مجرمانہ اور مضر مواد پائے جانے پر متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے کارروائی نہیں کی تو آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 79 کے تحت ان کی ’محفوظ پناہ‘ واپس لے لی جائے گی۔

وزارت کی طرف سے یوٹیوب، ایکس اور ٹیلی گرام کو ایک نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے جس میں انھیں اپنے اپنے پلیٹ فارم سے بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد کو ہٹانے کی تنبیہ دی گئی ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم اس طرح کا انتظام کریں کہ اگر بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد ڈالے جائیں تو وہ خود بخود ہی بلاک ہو جائیں۔ اس کے لیے اپنے ایلگوردم کو بدلیں اور اپنے رپورٹنگ میکانزم کی بھی اصلاح کریں۔ اگر ان ہدایات پر عمل نہیں کیا جاتا ہے تو آئی ٹی ایکٹ 2021 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 79 کے تحت انھیں قانون سے بچانے والی سیکورٹی واپس لے لی جائے گی۔

ریاستی وزیر مملکت راجیو چندرشیکھر نے بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس، یوٹیوب اور ٹیلی گرام کو نوٹس اس لیے بھیجا گیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان کے پلیٹ فارم پر بچوں کے جنسی استحصال سے جڑا کوئی مواد موجود نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو یہ یقینی بنانا ہوگا، ورنہ انھیں سنگین نتائج بھی بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔ راجیو چندرشیکھر کا کہنا ہے کہ حکومت آئی ٹی اصولوں کے تحت ایک محفوظ اور بھروسہ مند انٹرنیٹ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

چھتیس گڑھ میں دوبارہ کانگریس حکومت بنی تو کرائی جائے گی ذات پر مبنی مردم شماری: پرینکا گاندھی

0
چھتیس-گڑھ-میں-دوبارہ-کانگریس-حکومت-بنی-تو-کرائی-جائے-گی-ذات-پر-مبنی-مردم-شماری:-پرینکا-گاندھی

’’چھتیس گڑھ میں دوبارہ کانگریس حکومت بنی تو بہار کی طرح ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے گی۔ ساتھ ہی چھتیس گڑھ میں 10 لاکھ رہائش غریبوں کو دی جائیں گی۔‘‘ یہ وعدہ آج کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے چھتیس گڑھ کے کانکیر میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے اس دوران چھتیس گڑھ کی کانگریس حکومت کی تعریف بھی کی اور کہا کہ آج اس ریاست کے ترقیاتی ماڈل کا تذکرہ پورے ملک میں ہو رہا ہے۔

تقریب میں موجود زبردست بھیڑ کو خطاب کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ پنچایتوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن کاگنریس حکومت نے دیا تھا۔ کانگریس نے پنچایتی راج نافذ کر کے عوام کے ہاتھ میں اقتدار سونپا تھا۔ چھتیس گڑھ کی کانگریس حکومت نے پنچایتوں کو مزید مضبوط بنا کر ترقی کا بہترین ماڈل پیش کیا ہے۔ بی جے پی حکمراں ریاستوں میں پنچایتوں کے مالیاتی حقوق کم کیے جا رہے ہیں۔ لیکن چھتیس گڑھ کی کانگریس حکومت نے قانون پاس کر کے پنچایتی نمائندوں کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ آج مقامی بلدیوں کے لیے ترقیاتی کاموں کا بھومی پوجن اور اجرا کیا گیا ہے۔

اس دوران پرینکا گاندھی نے چھتیس گڑھ کی کانگریس حکومت کے کاموں کی بھرپور تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس حکومت میں چھتیس گڑھ تیزی کے ساتھ ترقی کر رہا ہے۔ بستر میں ایشیا کا سب سے بڑا ملیٹ پروسیسنگ پلانٹ ہے۔ کودو، کٹکی، راگی، جوار کی زراعت کسانوں کی آمدنی بڑھا رہی ہے۔ بستر سیاحتی علاقہ بن چکا ہے، اس سے روزگار مل رہا ہے۔ چھتیس گڑھ میں 60 سے زیادہ جنگلاتی پیداوار کی آج ایم ایس پی پر خریداری ہو رہی ہے۔ 40 لاکھ لوگوں کو غریبی سے باہر نکالا گیا۔ چھتیس گڑھ حکومت نے آنگن باڑی کارکنان کے لیے رقم میں اضافہ کیا۔ میتانن بہنوں کو ماہانہ 2200 روپے اضافی مل رہے ہیں۔ دائی دیدی کلینک شروع ہوئے ہیں۔ سوامی آتمانند اسکول میں خواتین کو 50 فیصد ریزرویشن ملا۔ سرکاری کالجوں میں لڑکیوں کو گریجویشن تعلیم مفت مل رہی ہے۔ بی پی ایل فیملی کو 5 لاکھ روپے تک مفت علاج ہو رہا ہے۔ گئوٹھان یوجنا سے آوارہ مویشیوں کا مسئلہ ختم ہو گیا۔ کسانوں کے قرض معاف ہوئے۔ جنرک دوائیوں پر 50 سے 75 فیصد تک چھوٹ مل رہی ہے۔

پرینکا گاندھی نے چھتیس گڑھ کی گزشتہ بی جے پی حکومت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت میں تشدد، خوف اور استحصال کا ماحول تھا۔ بستر آنے سے لوگ ڈرتے تھے۔ بے قصور قبائلیوں کو جیل میں ڈال دیا جاتا تھا۔ پھر جب کانگریس حکومت آئی تو بہت محنت کے بعد چھتیس گڑھ کو خراب ماحول سے نکالا گیا۔ کانگریس حکومت نے دیہی معیشت، کسان، غریب، پسماندہ، دلتوں، قبائلیوں کو مضبوط کرنے کا کام کیا ہے۔

وزیر اعظم تقریروں کے ذریعے بڑی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں: کھڑگے

0
وزیر-اعظم-تقریروں-کے-ذریعے-بڑی-ناکامیوں-کو-چھپانے-کی-کوشش-کر-رہے-ہیں:-کھڑگے

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے دیہی علاقوں میں بے روزگاری اور لوگوں کی معاشی حالت کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنایا۔ کھڑگے نے کہا کہ وزیر اعظم اپنی تقریر کے ذریعے اصل مسائل کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کانگریس صدر نے کہا کہ آپ جتنا چاہیں کانگریس کو گالی دیں لیکن غریبوں کا حق نہ چھینیں۔

ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا، ’’دیہی ہندوستان میں معاشی بحران اتنا گہرا ہے کہ ستمبر میں منریگا کی مانگ 4 سالوں میں 30 فیصد بڑھ گئی ہے۔ اس کے بارے میں کچھ کرنے کے بجائے وزیر اعظم انتخابی ریاستوں میں اپنی ناکامیوں کو تقریروں کے ذریعے چھپانے کے لیے کانگریس کو کوس رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’گھریلو آمدنی میں زبردست کمی اور مہنگائی کی وجہ سے کروڑوں لوگ منریگا کے تحت کام کی تلاش میں گھر گھر بھٹکنے پر مجبور ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ منریگا بجٹ میں صرف 4 فیصد فنڈز باقی ہیں۔ ملک کو یاد ہے کہ بجٹ 2023 میں مودی سرکار نے منریگا کے بجٹ میں 33 فیصد کی کٹوتی کی تھی، جس کے نتیجے میں غریب خاندان متاثر ہو رہے ہیں، اپوزیشن کی حکومت والی ریاستوں کے فنڈز بھی بقایہ ہیں۔ کانگریس کو جو بھی برا کہنا چاہیں کہو، غریبوں کا حق نہ چھینیں۔‘‘

خیال رہے کہ دیہی روزگار گارنٹی اسکیم منریگا کے تحت روزگار کے خواہاں لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اکنامک ٹائمز میں شائع رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024 کی پہلی ششماہی میں منریگا کے تحت کام کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے میں آنے والے دنوں میں صنعتی بہتری کی امیدوں کو بڑا دھچکا لگا ہے اور ملک میں روزگار کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مالی سال 2024 میں دیہی علاقوں میں منریگا کی بڑھتی ہوئی مانگ معیشت کے لیے ایک بری علامت ہے۔

راجستھان کو ملے 3 نئے اضلاع، اسمبلی انتخاب سے قبل وزیر اعلیٰ گہلوت کا بڑا فیصلہ

0
راجستھان-کو-ملے-3-نئے-اضلاع،-اسمبلی-انتخاب-سے-قبل-وزیر-اعلیٰ-گہلوت-کا-بڑا-فیصلہ

راجستھان میں اسمبلی انتخاب کے لیے تاریخوں کا اعلان کبھی بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن اس سے ٹھیک پہلے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے تین نئے اضلاع کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ دوسری بار ہے جب وزیر اعلیٰ گہلوت نے اپنی مدت کار میں نئے اضلاع بنانے کا اعلان کیا۔ انھوں نے نئے اضلاع کے فیصلہ سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کے مطالبہ پر کیا جا رہا ہے۔ اعلیٰ سطحی کمیٹی نے بھی اس کا مشورہ دیا ہے۔

وزیر اعلیٰ گہلوت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کیے گئے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’عوام کے مطالبہ اور اعلیٰ سطحی کمیٹی کے مشورے کے مطابق راجستھان میں تین نئے ضلعے مزید بنائے جائیں گے۔ پہلا مالپورہ، دوسرا سجان گڑھ اور تیسرا کچامن سٹی ہے۔ اب راجستھان میں 53 ضلعے ہو جائیں گے۔ آگے بھی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سفارشات کے مطابق حد بندی وغیرہ  پریشانیوں کو دور کیا جاتا رہے گا۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ رواں سال اگست میں وزیر اعلیٰ گہلوت نے 19 نئے اضلاع بنائے جانے کا اعلان کیا تھا۔ ان نئے اضلاع کے نام رکھے گئے تھے ڈیگ، دودو، گنگاپور سٹی، جئے پور، جئے پور دیہی، کوٹ پوتلی (بہروڑ)، بالوترا، بیاور، انوپ گڑھ، ڈیڈوانا (کچامن)، کھیرتھل، نیمکاتھانا، جودھپور، جودھپور دیہی، کیکڑی، شاہپورہ، پھلودی، سلومبر، سانچور۔