بدھ, مارچ 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 73

راہل اور پرینکا 10 اکتوبر کو کریں گے مدھیہ پردیش کا دورہ

0
راہل-اور-پرینکا-10-اکتوبر-کو-کریں-گے-مدھیہ-پردیش-کا-دورہ

بھوپال: کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی اور جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اگلے ہفتے مدھیہ پردیش کے دورے پر ہوں گے۔

ریاستی کانگریس کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین کے کے مشرا نے آج یہاں بتایا کہ راہل گاندھی 10 اکتوبر کو شہڈول ضلع کے بیوہاری میں ایک جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ اس موقع پر ریاستی کانگریس صدر کمل ناتھ اور دیگر سینئر لیڈران بھی موجود رہیں گے۔ اجلاس دوپہر کو ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ محترمہ پرینکا گاندھی واڈرا 12 اکتوبر کو قبائلی اکثریتی منڈلا میں ایک جلسہ عام سے خطاب کریں گی۔ اس اجلاس میں بھی کمل ناتھ اور دیگر سینئر لیڈران موجود رہیں گے۔ دونوں اجلاس کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔

منریگا کی مانگ کی حوصلہ شکنی کے لیے ڈیجیٹلائزیشن پر زور دے رہی حکومت: کانگریس

0
منریگا-کی-مانگ-کی-حوصلہ-شکنی-کے-لیے-ڈیجیٹلائزیشن-پر-زور-دے-رہی-حکومت:-کانگریس

نئی دہلی: کانگریس نے ہفتہ کے روز ایک بار پھر بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ شفافیت کے نام پر جبری ڈیجیٹلائزیشن کر رہی ہے اور مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کی طلب کی حوصلہ شکنی کے لیے اسے ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

مائیکرو بلاگنگ کی وییب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج شعبہ مواصلات جے رام رمیش نے کہا ’’ایک طرف اپریل-ستمبر کے دوران ہندوستان میں گاڑیوں کی فروخت کا 48 فیصد حصہ ایس یو ویی کا تھا۔ دوسری طرف ایک مالی سال کی پہلی شش ماہی میں ہی منریگا کے تحت سال 2023-24 کے لیے مقرر کردہ 60000 کروڑ روپے کا بجٹ ختم ہو چکا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’یہ نہ صرف واضح طور پر دیہی بدحالی اور ملک بھر میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات کی نشاندہی کرتا ہے، بلکہ مودی حکومت کی ترجیحات کی بھی عکاسی کرتا ہے جو اجرتوں کی ادائیگی میں غیر معمولی تاخیر کر کے بالواسطہ طور پر منریگا کے کام کی مانگ کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے۔‘‘

حکومت پر تنقید کرتے ہوئے رمیش نے، جو کہ راجیہ سبھا کے رکن بھی ہیں، کہا، ’’معاملات کو مزید خراب کرنے کے لیے مودی حکومت نے شفافیت کے نام پر ڈیجیٹلائزیشن کے لیے مجبور کیا، جبکہ حقیقت میں اس نے لوگوں کے درمیان منریگا کی طلب کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے اس کا ایک آلے کے طور پر استعمال یا ہے۔‘‘

کانگریس ملک بھر میں منریگا کے بجٹ کو کم کرنے پر حکومت کی تنقید کر رہی ہے۔ کانگریس بے روزگاری اور مہنگائی کا مسئلہ بھی اٹھاتی رہی ہے۔

گاؤں کی بیٹیوں پر ملک کو فخر، دورالہ کی پارول، بہادر پور کی انو اور جھابیران کی پراچی کی متاثر کن کہانیاں

0
گاؤں-کی-بیٹیوں-پر-ملک-کو-فخر،-دورالہ-کی-پارول،-بہادر-پور-کی-انو-اور-جھابیران-کی-پراچی-کی-متاثر-کن-کہانیاں

ایشین گیمز میں ہندوستان نے تاریخی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمغوں کی سنچری مکمل کر لی ہے۔ ان تمغوں میں خواتین کا بھی کافی تعاون ہیں اور قوم کی بیٹیوں کی خوب تعریفیں کی جا رہی ہیں۔ ان بیٹیوں میں ضلع میرٹھ کی پارول چودھری اور انو، جنہوں نے طلائی تمغہ جیتا ہے اور ضلع سہارنپور کی پراچی چودھری بھی شامل ہیں، جنہوں نے سلور میڈل حاصل کیا ہے۔ ان تینوں کی خامیابی اس لیے خاص ہے کہ ان کا تعلق دیہی اور انتہائی پسماندہ علاقوں سے ہے اور تینوں گاؤں کیپگڈنڈیوں اور کھیتوں میں مشق کرتے ہوئے یہاں تک پہنچیں ہیں۔ ایک اور خاص بات یہ ہے کہ ان کا ابتدائی کوچ ان کے والد یا خاندان کا کوئی فرد تھا۔ پارول چودھری میرٹھ کے اکلوتا گاؤں کی، انو اسی ضلع کے بہادر پور کی، جبکہ پراچی چودھری سہارنپور کے گاؤں جھابیران کی رہنے والی ہیں۔

پارول چودھری نے اسٹیپل چیز 5000 میٹر میں گولڈ میڈل جیتا ہے۔ ان کا گاؤں دورالہ کے قریب ہے۔ گاؤں کے نوجوان اب کہہ رہے ہیں کہ ان کے گاؤں کا پتہ تو گوگل بھی نہیں بتا پاتا لیکن اب دنیا جان گئی ہے۔ پارول چودھری ایشیائی کھیلوں میں 5000 میٹر کی دوڑ میں طلائی تمغہ جیتنے والی پہلی ہندوستانی خاتون ہیں۔ پارول چودھری نے 3000 میٹر میں بھی چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ انو کا گاؤں بہادر پور پارول چودھری سے کے گاؤں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ انو نے جیولین تھرو میں گولڈ میڈل جیتا ہے۔

پارول چودھری کے والد کرشن پال سنگھ بتاتے ہیں کہ پارول نے گاؤں کی چکروڑ سے دوڑنا شروع کیا اور 24 گھنٹے کے اندر اس نے دو تمغے جیت کر پورے ملک کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ کرشن پال بتاتے ہیں کہ بعد میں پارول پریکٹس کے لیے آٹو سے میرٹھ اسٹیڈیم جاتی تھی۔ کرشن پال کا کہنا ہے کہ ’’میں نے پارول کو بیٹے کی طرح آگے بڑھنے کی مکمل آزادی اور مدد دی اور آج مجھے اس کے نام سے جانا جا رہا ہے۔ بڑے لوگوں کے فون آ رہے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ کیا آپ پارول کے والد ہیں؟ جب میں کہتا ہوں کہ ہاں میں پارول کا پاپا بول رہا ہوں تو میرا سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا ہے۔‘‘

پارول چودھری کا گاؤں اکلوتا دورالہ کے قریب ہے، جبکہ انو کا گاؤں بہادر پور سردھانہ کے علاقے میں آتا ہے۔ انو رانی نے جیولن تھرو میں طلائی تمغہ جیتا ہے۔ ایک وقت تھا جب انو رانی کے والد نے ان کی مشق کے لیے جیولن (نیزہ) خریدنے کے لیے قرض لیا تھا۔ آج انو رانی نے ملک پر قرض چڑھا دیا ہے۔ انو رانی چین میں ہونے والے ایشین گیمز سے 15 روز قبل بخار میں مبتلا تھیں۔ کمزور جسم سے صحت یاب ہوتے ہوئے گولڈ میڈل جیتنا کافی متاثر کن لگتا ہے۔ انو رانی یوں تو سچن تنڈولکر کی طرح کرکٹر بننا چاہتی تھیں اور انہوں نے کرکٹ کھیلنا بھی شروع کر دی تھا۔ انو رانی ایک باصلاحیت کرکٹر تھیں لیکن ایک دن ان کے بھائی اوپیندر نے ان کی دوسری صلاحیتوں کو پہچان لیا۔ اوپیندر نے کہا کہ ’’ایک دنن انو کھیت میں گنے پھینک رہی تھی جو بہت دور گر رہا تھا، اس کی تھرو بہت اچھی تھی۔ میں نے اسے مشورہ دیا کہ جیولین تھرو اس کے لیے بہتر آپشن ہو سکتا ہے۔ گھر میں سب سے چھوٹی انو ڈسکس، گولا اور گنے سب پھینکتی تھیں۔‘‘ انو کے والد امرپال کا کہنا ہے کہ ’’اگر بیٹیوں کو مواقع ملے تو وہ کچھ بھی کر سکتی ہیں۔ انو نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔‘‘

وہیں، سہارنپور کے جھابیران کی پراچی چودھری نے 400 میٹر ریلے ریس میں چاندی کا تمغہ جیتا ہے۔ پراچی چودھری کو غذا اور دوڑنے کے جوتوں کے لیے جدوجہد کرنی پڑی تھی۔ پراچی کے لیے پہلے اسپائیک جوتے ان کے والد جے ویر سنگھ قرض پر خرید کر لائے تھے۔ پراچی مقابلے کے دن بہت دباؤ میں تھیں اور پوری رات سو نہیں پائیں۔ ان کی ماں راجیش دیوی بتاتی ہیں کہ وہ صرف یہ کہہ رہی تھی کہ ماں میں خالی ہاتھ کیسے آؤں گی؟ اب وہ چاندی لے کر آ رہی ہے۔ جے ویر نے کہا کہ بیٹی جیتنے کے بعد واپس آنے کا وعدہ کر کے گئی تھی۔ ہمارے پورے خاندان نے اس کے لیے ایک خواب دیکھا تھا اور اس نے یہ سچ کر دکھایا۔

گگن یان مشن کی تیاریاں آخری مرحلے میں، اسرو نے تصاویر کیں شیئر

0
گگن-یان-مشن-کی-تیاریاں-آخری-مرحلے-میں،-اسرو-نے-تصاویر-کیں-شیئر

نئی دہلی: انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) خلاء میں انسانی مشن بھیجنے کے لیے زور و شور سے تیاری کر رہا ہے۔ اس مشن کو گگن یان کا نام دیا گیا ہے اور اس ماہ کے آخر میں تحقیق کے لیے تیار کیے گئے خلائی جہاز (گگن یان) سے خلابازوں کو نکالنے کے لیے ‘کریو ایسکیپ سسٹم’ کی جانچ کرے گا۔ اسرو نے ایکس پر اس سے متعلق کچھ تصاویر شیئر کی ہیں اور ساتھ ہی کہا ہے کہ تیاریاں آخری مرحلے میں پہنچ گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ اسرو کا ایک خاص مشن ہے اور اگر یہ تجربہ کامیاب ہو جاتا ہے تو ہندوستان انسانی مشن کو خلا میں بھیجنے کے دیرینہ خواب کو پورا کر سکتا ہے۔ وکرم سارابھائی اسپیس سینٹر (وی ایس ایس سی) کے ڈائریکٹر ایس انی کرشنن نائر نے کہا، ’’تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ خلائی جہاز کے نظام کے تمام پرزے لانچ کے لیے سری ہری کوٹہ پہنچ چکے ہیں۔ ان کو جمع کرنے کا کام جاری ہے۔ ہم اکتوبر کے مہینے میں اسے لانچ کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘

وی ایس ایس سی خلائی محکمہ کے تحت اسرو کا بڑا مرکز ہے اور یہ ترواننت پورم میں واقع ہے۔ نائر نے کہا، "اس کرو ایسکیپ سسٹم کے ساتھ ہم ہائی پریشر اور ٹرانسونک سچوایشن جیسے مختلف حالات کی جانچ کریں گے۔‘‘

اسرو کے عہدیدار نے کہا کہ کریو ایسکپ سسٹم (سی ای ایس) گگن یان کا ایک اہم عنصر ہے۔ اسرو حکام کے مطابق اس ماہ ٹیسٹ وہیکل ٹی وی- ڈی ون کا تجربہ کیا جائے گا، جو کہ گگن یان پروگرام کے تحت چار ٹیسٹ مشنوں میں سے ایک ہے، اس کے بعد دوسری آزمائشی گاڑی ٹی وی-ڈی ٹو اور پہلے بغیر پائلٹ گگن یان (ایم ایم ویی تھر-جی ون) کا تجربہ کیا جائے گا۔ دوسرے مرحلے کے تحت ٹیسٹ وہیکل مشن (ٹی ویی-ڈی تھری اور ڈی فور) اور ایل ایم ویی تھری-جی ٹو کو روبوٹک پے لوڈ کے ساتھ بھیجنے کا منصوبہ ہے۔

سکم میں سیلاب سے 56 افراد ہلاک، 3 ہزار سیاح پھنس گئے

0
سکم-میں-سیلاب-سے-56-افراد-ہلاک،-3-ہزار-سیاح-پھنس-گئے

گنگٹوک: سکم میں تیستا ندی میں اچانک آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے اور چار دن گزرنے کے بعد بھی مٹی اور ملبے سے لاشیں مل رہی ہیں۔ نیوز پورٹل ’آج تک‘ کی رپورٹ کے مطابق اس سیلابی آفت کے سبب بڑی تعداد میں جانی نقصان بھی ہوا ہے اور اب تک 56 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ تیس سے ​​زائد لاشیں مغربی بنگال میں تیستا ندی کے طاس سے برآمد ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فوج کے 22 جوان لاپتہ ہوئے تھے جن میں سے 7 کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔ ریاست میں 3 ہزار سیاح چار دنوں سے پھنسے ہوئے ہیں لیکن خراب موسم فضائی ریسکیو آپریشن میں رکاوٹ ہے۔

مغربی بنگال حکومت کے مطابق تین اضلاع سلی گوڑی، جلپائی گوڑی اور کوچ بہار میں تیستا ندی کے طاس سے لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ سکم حکومت کے مطابق منگن سے چار لاشوں، گنگٹوک سے چھ اور پاکیونگ ضلع سے ہندوستانی فوجیوں کی سات لاشوں سمیت 16 لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ سکم حکومت کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اب تک 142 لوگ لاپتہ ہیں اور 25000 سے زیادہ لوگ اس آفت سے متاثر ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ بدھ کی صبح بادل پھٹنے کی وجہ سے سکم کے دریائے تیستا میں اچانک طغیانی آ گئی، جس کی وجہ سے 25 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہو گئے۔ سیلاب سے 1200 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ کل 13 پل بہہ گئے ہیں۔ اب تک مختلف علاقوں سے 2413 افراد کو بچایا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ ریاست بھر میں 22 ریلیف کیمپوں میں 6875 لوگوں نے پناہ لی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر علاقو کا باقی ملک سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

دریں اثنا، سینئر حکام نے بتایا کہ شمالی سکم میں پھنسے ہوئے تقریباً 3000 سیاحوں کو ابھی تک نہیں نکالا جا سکا ہے۔ فضائیہ کی جانب سے ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر بھیجنے کی کئی کوششیں کی گئیں لیکن خراب موسم کی وجہ سے وہ کامیاب نہیں ہو سکی۔ درحقیقت نشیبی علاقوں میں بادل چھائے رہنے اور لاچن اور لاچنگ کی وادیوں میں حد نگاہ کم ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ درپیش ہے۔ اس لیے ہیلی کاپٹر باگڈوگرا اور چٹن سے پرواز کرنے سے قاصر ہیں۔

وزیر اعلیٰ پریم سنگھ تمانگ نے مرنے والوں کے لواحقین کے لیے 4 لاکھ روپے اور کیمپوں میں رہنے والوں کے لیے 2000 روپے کی فوری امداد کا اعلان کیا ہے۔ سی ایم نے کہا، ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ہم ابھی نقصان کے بارے میں صحیح معلومات نہیں دے سکتے۔ ایک کمیٹی کی تشکیل اور تجزیہ مکمل کرنے کے بعد اس کی اطلاع دی جائے گی۔ ہماری اولین ترجیح پھنسے ہوئے لوگوں کو بچانا اور انہیں فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔

فیروز آباد میں وائرل و دیگر بیماریوں کی وباءمیں اضافہ

0
فیروز-آباد-میں-وائرل-و-دیگر-بیماریوں-کی-وباءمیں-اضافہ

اتر پردیش کے فیروز آباد ضلع میں آج کل وائرل بخار اور ڈینگو کے علاوہ مختلف قسم کی بیماریوں کا پھیلاؤ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں ڈسٹرکٹ ہسپتال میں مریضوں کے داخلے کے لیے بستروں کی کمی ہے۔

ضلعی اسپتال میں علاج کے لیے آنے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن سنگین مریضوں کو داخل کرنے کے لیے بستروں کی کمی ہے جب کہ اسپتال کے احاطے میں نئی تعمیر ہونے والی 150 بستروں پر مشتمل عمارت سفید ہاتھی ثابت ہو رہی ہے۔

ضلع میں وائرل بخار ڈینگی مکمل طور پر پھیل چکا ہے۔ دیہی علاقوں کی حالت بہت خراب ہے۔ متاثرہ مریض ضلع اسپتال کی طرف بھاگ رہے ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ زیادہ تر مریضوں کو او پی ڈی میں بیٹھے ڈاکٹروں کی طرف سے دوائیں لکھ کر گھر بھیج دیا جاتا ہے جبکہ مذکورہ امراض میں مبتلا مریضوں کو سرکاری ٹروما سنٹر بھیجا جاتا ہے جہاں ڈاکٹر ان کو داخل کر کے علاج شروع کر دیتے ہیں۔

لوگوں کو ضلع اسپتال کے وارڈز میں داخل ہونے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے کیونکہ آن لائن سسٹم کے ذریعے بستروں کی خالی جگہ کی اطلاع ٹروما سینٹر کو دی جاتی ہے اور پھر مریضوں کو ضلع اسپتال کے وارڈوں میں بھیجا جاتا ہے۔ ضلع اسپتال میں داخل مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ضلع اسپتال میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور بستروں کی کمی کے درمیان ضلع اسپتال کے احاطے میں ہی بنائے گئے 150 بستروں کے کام نہ ہونے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

بنگلے پرعدالتی جھٹکے کے بعد راگھو چڈھا نے بی جے پی پر کیا حملہ

0
بنگلے-پرعدالتی-جھٹکے-کے-بعد-راگھو-چڈھا-نے-بی-جے-پی-پر-کیا-حملہ

عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا ایم پی راگھو چڈھا کو ایک جھٹکا دیتے ہوئے، دہلی کی ایک عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ الاٹمنٹ منسوخ ہونے کے بعد انہیں دیئے گئے سرکاری بنگلے پر قبضہ جاری رکھنے کا انہیں کوئی حق نہیں ہے۔ عدالت نے چڈھا کو دی گئی عبوری روک ختم کر دی ہے، جس کا مطلب ہے کہ راجیہ سبھا سکریٹریٹ انہیں کسی بھی وقت بنگلہ خالی کرنے کے لیے کہہ سکتا ہے۔

عدالتی حکم کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں، عآپ رہنما نے الاٹمنٹ کی منسوخی کو من مانی قرار دیا، اور الزام لگایا کہ یہ "بی جے پی کے حکم پر اپنے سیاسی مقاصد اور ذاتی مفاد کو آگے بڑھانے کے لیے” کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس طرح کی رہائش گاہوں میں رہنے والے کئی دوسرے پہلی بار ممبران پارلیمنٹ کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ وہ "مناسب قانونی کارروائی” کریں گے۔

راگھو  چڈھا کو گزشتہ سال جولائی میں ٹائپ 6 بنگلہ دیا گیا تھا اور انہوں نے راجیہ سبھا کے چیئرمین سے ایک بڑے، ٹائپ 7 رہائش کی درخواست کی تھی، جو انہیں اسی سال ستمبر میں الاٹ کیا گیا تھا۔ مارچ میں، تاہم، سیکرٹریٹ نے الاٹمنٹ کو منسوخ کر دیا تھا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ پہلی بار رکن پارلیمنٹ اس گریڈ کے بنگلے کا حقدار نہیں ہے۔

عآپ  کے رکن پارلیمنٹ کو بنگلہ خالی کرنے کے لئے کہا گیا تھا، جو وسطی دہلی کے پنڈارا روڈ میں ہے، اور اس حکم کے خلاف دہلی کی پٹیالہ ہاؤس عدالت میں چلے گئے تھے۔ عدالت نے 18 اپریل کو عبوری روک لگا دی تھی۔ جمعہ کو اسٹے کو ہٹاتے ہوئے پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے کہا کہ راگھو  چڈھا بنگلے پر قبضے کے مکمل حق کا دعوی نہیں کر سکتے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ’’مدعی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اسے راجیہ سبھا کے ممبر کی حیثیت سے اپنے پورے دور میں رہائش پر قبضہ جاری رکھنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ سرکاری رہائش کی الاٹمنٹ صرف مدعی کو دیا گیا ایک استحقاق ہے اور اس کے پاس قبضہ جاری رکھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ‘‘

جج نے ریمارکس دیے کہ یہ دلیل کہ الاٹمنٹ، ایک بار ہو جائے، رکن پارلیمنٹ کے پورے دور میں کسی بھی صورت میں منسوخ نہیں کی جا سکتی "مسترد کی مستحق ہے”۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ایک رکن پارلیمنٹ کے طور پر چڈھا کو رہائش کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔

’این ڈی ٹی وی ‘ پر شائع خبر کے مطابق ایک بیان میں، راگھو  چڈھا نے کہا کہ انہیں غلط طریقے سے نشانہ بنایا گیا ہے اور بی جے پی کو ان جیسے ممبران پارلیمنٹ کی سیاسی تنقید کو روکنے کی کوشش کرنے پران کو  نشانہ بنا رہی۔

عآپ رہنما نے کہا کہ ’’میری باضابطہ طور پر الاٹ کردہ سرکاری رہائش کی منسوخی مجھے بغیر کسی نوٹس کے من مانی تھی۔ اس کی  راجیہ سبھا کی 70 سال سے زیادہ کی تاریخ میں ب کوئی مثال نہیں ملتی ہے کہ ایک موجودہ راجیہ سبھا ممبر کو اس کی باضابطہ الاٹ کردہ رہائش سے ہٹانے کی کوشش کی گئی ہے جو اس کے پاس ہے۔

راجیہ سبھا کے رکن نے کہا کہ ’’دلچسپ بات یہ ہے کہ راجیہ سبھا کے 240 میں سے تقریباً 118 ممبران اپنے استحقاق سے بالاتر رہائش گاہوں میں رہ رہے ہیں لیکن انتخابی طور پر ایسے آواز والے نمائندوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ان میں مداخلت کر رہے ہیں، جو ایوان  میں  بی جے پی کی مضبوط مخالفت کر رہے ہیں اور ایک صحت مند جمہوریت کو برقرار رکھ رہے ہیں، قوم کے حالات کے لئے  یہ افسوسناک ہے ۔‘‘

دہلی پردیش کانگریس کمیٹی نے راہل گاندھی سے متعلق پوسٹر کے خلاف کیا احتجاجی مظاہرہ

0
دہلی-پردیش-کانگریس-کمیٹی-نے-راہل-گاندھی-سے-متعلق-پوسٹر-کے-خلاف-کیا-احتجاجی-مظاہرہ

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی ایک قابل اعتراض تصویر شیئر کی ہے جس پر پارٹی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ پارٹی لیڈران اور کارکنان کا کہنا ہے کہ بی جے پی راہل گاندھی کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ سے بوکھلائی ہوئی ہے اس لیے اس طرح کی حرکتوں پر اتر آئی ہے۔

دہلی کانگریس نے اس معاملے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ارویندر سنگھ لولی کی قیادت میں جمعہ کو ہزاروں ناراض کارکنان نے بی جے پی ہیڈ کوارٹر کا گھیراو کیا۔

کانگریس کارکنان کے ہاتھوں میں ’’دہن کرو راون کی لنکا، بھیا راہل، بہن پرینکا اور راہل جی نے ’اڈانی‘ پر سوال اٹھائے اس لئے صاحب بوکھلائے، راہل گاندھی جی کی بے عزتی برداشت نہیں کریں گے کے نعروں والی تختیاں اور پارٹی کے جھنڈے ہاتھوں میں لے رکھے تھے۔‘‘

ارویندر سنگھ لولی نے ناراض مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ رامچرت مانس سندرکانڈ میں بھگوان رام کے جذبات کی عکاسی کرنے والے دوہے ”نرمل مان جان سو موہی پاوا، موہی کپت چھل چھور نہ بھاوا“ کو دوہراتے ہوئے کہاکہ بھگوان رام دل میں پیار و محبت رکھنے والے شخص سے محبت کرتے ہیں اور جھوٹ بولنے والے اور دھوکہ دینے والے لوگوں کو بھگوان رام بھی پسند نہیں کرتے ہیں۔

ارویندر سنگھ لولی نے راہل گاندھی کو بھگوان رام کا پیروکار بتاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی بھگوان رام کو ووٹوں کے لیے استعمال کرتی ہے اور راہل گاندھی بھگوان رام پر سچا یقین رکھتے ہیں۔ اس لیے مودی حکومت اور بی جے پی کو معافی مانگنی چاہیے اور رام چرت مانس پڑھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور لوگ راہل گاندھی کے خیالات سے متاثر ہو رہے ہیں ۔تاہم مودی حکومت اور بی جے پی سبھی طبقات اور مذاہب کے لوگوں میں راہل کی مقبولیت سے خوفزدہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح سے راہل گاندھی غریب طبقوں تک خاص طور پر ان کے کاروباری مقامات پر پہنچ رہے ہیں، اس سے ایک بار پھر ملک کے عام لوگوں سمیت کاروباری طبقے میں کانگریس کے تئیں اعتماد پیدا ہوا ہے۔

اس موقع پر جیسے ہی ہزاروں ناراض کانگریس کارکنان راجیو بھون سے بی جے پی ہیڈکوارٹر کا گھیراﺅ کرنے نکلے درمیان میں ہی پولیس نے آگے جانے سے روک دیا اور پولیس کے ساتھ کارکنان کی گہما گہمی بھی ہوئی۔ اس موقع پر لولی کے علاوہ سبھاش چوپڑا، ہارون یوسف، رمیش کمار، مسز کرشنا تیرتھ، ہارون یوسف، راجکمار چوہان، کرن والیا، ڈاکٹر نریندر ناتھ، منگترام سنگھل، رماکانت گوسوامی، منیش چترتھ، دیویندر یادو،الکا لامبا اور مکیش شرما نے بھی خطاب کیا۔

بی جے پی پر سیدھا حملہ کرتے ہوئے لولی نے کہاکہ اگر بی جے پی نے چوتھے درجے کی سیاست بند نہیں کی تو ایک دن ایسا وقت آئے گا جب ملک اور دہلی کے لوگ بی جے پی کو سڑکوں پر گھیر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی میں ذرہ برابر بھی اخلاقیات باقی ہے تو انہیں اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے اس قابل اعتراض پوسٹ کو ہٹا دینا چاہئے اور ملک کے عوام سے معافی مانگنی چاہئے۔

مکیش شرما نے کہا کہ پولیس کی جانب سے کارکنوں کو کئی مقامات پر احتجاج میں آنے سے روکنے کے باوجود ہزاروں لوگوں کا بی جے پی ہیڈکوارٹر کے گھیراؤ میں ہوئے مظاہرے میں شامل ہونا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بی جے پی دہلی میں اپنا اعتماد کھو چکی ہے۔دہلی اور ملک کے لوگ بی جے پی کی نفرت اور منفی سیاست سے تنگ آچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس مسئلہ پر خاموش نہیں رہے گی اور اگر ضرورت پڑی تو دہلی میں چکہ جام کیا جائیگا۔

منی پور حکومت نے انٹرنیٹ خدمات پر پابندی میں 11 اکتوبر تک توسیع کر دی

0
منی-پور-حکومت-نے-انٹرنیٹ-خدمات-پر-پابندی-میں-11-اکتوبر-تک-توسیع-کر-دی

امپھال: منی پور حکومت نے موبائل انٹرنیٹ خدمات پر پابندی میں 11 اکتوبر تک توسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔

کمشنر (ہوم) ٹی رنجیت سنگھ نے اپنے حکم میں موبائل انٹرنیٹ خدمات پر پابندی میں 11 اکتوبر تک توسیع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ’’اس بات کا خدشہ ہے کہ کچھ سماج دشمن عناصر عوامی جذبات کو بھڑکانے والی تصویریں، نفرت انگیز تقاریر اور ویڈیو پیغامات پھیلانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے سوشل میڈیا کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے ریاست منی پور میں امن و امان کی صورتحال پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘‘

خیال رہے کہ طلباء کے زبردست احتجاج کے بعد منی پور حکومت نے 143 دن کے بعد پابندی ہٹائے جانے کے دو دن بعد 26 ستمبر کو موبائل انٹرنیٹ ڈیٹا سروسزکو پانچ دن کے لیے معطل کر دیا تھا اور پھر اسے 6 اکتوبر تک بڑھا دیا تھا۔ اب پابندی کو مزید پانچ دن بڑھا کر 11 اکتوبر تک کر دیا گیا ہے۔

ذات پات کے تشدد سے متاثر منی پور میں گزشتہ ہفتے 17 سالہ طالبہ ہیزام لِنتھوئنگمبی اور 20 سالہ طالب علم فِزم ہیمجیت کے قتل کے خلاف طلبہ کا زبردست احتجاج دیکھنے میں آیا تھا۔ مہلوکین کا تعلق بشنو پور ضلع سے تھا اور وہ 6 جولائی کو ذات پات کے تشدد کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے۔

دو مقتول طلباء کی تصاویر 25 ستمبر کو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوئیں۔ جس سے شدید احتجاج شروع ہوا، جس میں کم از کم 100 طالبات بشمول لڑکیاں سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہوئے، جنہوں نے انہیں وزیر اعلیٰ کے بنگلے کی طرف مارچ کرنے سے روک دیا۔

دریں اثنا، منی پور میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کی معطلی پر ناراض سینا پتی ضلع کی ایک طلبہ تنظیم نے جمعرات کی شام سے غیر معینہ اقتصادی ناکہ بندی نافذ کر دی ہے، جس سے سامان سے لدی کئی گاڑیاں منی پور-ناگالینڈ سرحد پر پھنسی ہوئی ہیں۔ طلباء کے احتجاج کے بعد، ریاستی حکومت نے تمام سرکاری، سرکاری امداد یافتہ اور نجی اسکولوں کو بھی بند کردیا تھا، جو جمعہ کو دوبارہ کھلے تھے۔

عوام بی جے پی کو  راہل گاندھی کے خلاف غیرذمہ دارانہ قدم کا منھ توڑ جواب دیں گے: کانگریس

0
عوام-بی-جے-پی-کو- راہل-گاندھی-کے-خلاف-غیرذمہ-دارانہ-قدم-کا-منھ-توڑ-جواب-دیں-گے:-کانگریس

کانگریس نے کہا ہے کہ پارٹی لیڈر راہل گاندھی کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی کی غیر ذمہ دارانہ کارروائی اسی کے لیے مہلک ثابت ہوگی اور ملک کے عوام بی جے پی کو اس حرکت کا منھ توڑ جواب دیں گے۔

کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے جمعہ کو کہا کہ مسٹر گاندھی کے خلاف بی جے پی نے جو غیرذمہ دار حرکت کرتے ہوئے پوسٹر شائع کرکے انہیں راون بتایا ہے ، اس کا خمیازہ بی جے پی کو بھگتنا پڑے گا اور ملک کے لوگ اسے اس کی سخت سزا دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ "مسٹر راہل گاندھی جی ہمارے قابل احترام لیڈر ہیں اور انہیں دنیا بھر میں اربوں لوگ پسند کرتے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ مسٹر گاندھی کی آسمان چھوتی مقبولیت سے بی جے پی کو آہستہ آہستہ اپنی طاقت کا احساس ہورہا ہے، لیکن انہیں یہ پتہ ہونا چاہئے کہ مسٹر گاندھی کے خلاف ان کی غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک قدم کی بی جے پی کو قیمت چکانی ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی اس حرکت سے نہ صرف قومی راجدھانی دہلی بلکہ ریاستی دارالحکومتوں میں بھی کانگریس کارکن ناراض ہیں اور احتجاج میں سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ بی جے پی کی اس حرکت کے خلاف پارٹی کارکن غصے میں ہیں اور پولیس کے لیے احتجاجی کارکنوں کو روکنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ پارٹی لیڈر کے خلاف بی جے پی کے اس رویے کو لے کر کانگریس کارکنوں میں زبردست غصہ ہے، لیکن ہر جگہ کارکن پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔