بدھ, مارچ 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 72

ذات پر مبنی مردم شماری کانگریس کے اولین ترجیحات میں سے ایک: سرجے والا

0
ذات-پر-مبنی-مردم-شماری-کانگریس-کے-اولین-ترجیحات-میں-سے-ایک:-سرجے-والا

نئی دہلی: کانگریس کے جنرل سکریٹری رندیپ سنگھ سرجے والا نے ہفتہ کو کہا کہ پارٹی کی مرکزی الیکشن کمیٹی (سی ای سی) کی میٹنگ میں ذات پر مبنی مردم شماری پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کیونکہ او بی سی، ایس سی اور ایس ٹی برادریوں کے لیے انصاف کو یقینی بنانا پارٹی کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔

ہفتہ کو پارٹی صدر ملکارجن کھرگے کی صدارت میں سی ای سی کی میٹنگ میں کانگریس پارلیمانی پارٹی (سی سی پی) کی صدر سونیا گاندھی، پارٹی کے سابق سربراہ راہل گاندھی اور دیگر سینئر لیڈران نے شرکت کی۔

سرجے والا، جو مدھیہ پردیش کے انچارج بھی ہیں، میٹنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سی ای سی کی میٹنگ میں انتخابی ریاست کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے کہا، ’’ہم نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ کس طرح بی جے پی اور شیوراج سنگھ چوہان حکومت نے ریاست کو ایسی حالت میں لا کھڑا کیا جہاں سرکاری نوکریاں فروخت ہوتی ہیں، جہاں عورتیں اور بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں۔ مدھیہ پردیش میں کئی مبینہ گھوٹالے ہوئے ہیں ہیں۔‘‘

کانگریس لیڈر نے کہا، "ہم نے سی ای سی سے کہا کہ ریاست میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور تبدیلی کی لہر بھی ہے، یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے شیوراج سنگھ چوہان کا نام لینا چھوڑ دیا ہے۔ وہ پچھلے 18 سالوں میں ریاست میں برسراقتدار ہیں۔ لیکن ان کے کاموں پر کوئی بحث نہیں ہو رہی۔ ایسا ایک کوئی منصوبہ نہیں جس کا ذکر وزیر اعظم کر سکیں۔‘‘

انہوں نے کہا، "سی ای سی نے مدھیہ پردیش میں اسمبلی سیٹوں کے امیدواروں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ہم نے دوبارہ ملنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا میٹنگ میں ذات پر مبنی مردم شماری پر تبادلہ خیال کیا گیا، سرجے والا نے کہا، "ذات کی مردم شماری پارٹی کی بنیادی ترجیحات میں سے ایک ہے۔ او بی سی، ایس سی اور ایس ٹی برادریوں کو انصاف فراہم کرنا مدھیہ پردیش میں کانگریس کی ترجیح ہے۔ اس معاملے پر بات ہوئی اور کمل ناتھ نے کہا کہ یہ ہمارا بنیادی ایجنڈا ہوگا۔‘‘

خیال رہے کہ کانگریس مدھیہ پردیش میں جارحانہ مہم چلا رہی ہے اور ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی اور پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اس کی قیادت کر رہے ہیں۔ تینوں سینئر لیڈروں نے پولنگ والی ریاست میں عوامی جلسوں سے بھی خطاب کیا ہے۔

’اب قبر میں جانے تک کانگریس میں رہوں گا‘، گھر واپسی کے بعد عمران مسعود کا بیان

0
’اب-قبر-میں-جانے-تک-کانگریس-میں-رہوں-گا‘،-گھر-واپسی-کے-بعد-عمران-مسعود-کا-بیان

اتر پردیش کے مشہور لیڈر عمران مسعود نے گھر واپسی کرتے ہوئے کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ رواں سال 29 اگست کو بی ایس پی نے انھیں پارٹی مخالف سرگرمیوں میں شامل رہنے کا الزام لگاتے ہوئے پارٹی سے نکال دیا تھا جس کے بعد کانگریس میں شامل ہونے کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں۔ دراصل بی ایس پی نے عمران مسعود کے خلاف کارروائی اس لیے کی تھی کیونکہ انھوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی تعریف میں کچھ بیانات دیے تھے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ عمران مسعود کو بی ایس پی میں شامل ہوئے ایک سال بھی نہیں ہوا اور ان کی علیحدگی ہو گئی۔ اس سے قبل وہ سماجوادی پارٹی میں تھے جسے اکتوبر 2022 میں چھوڑ کر وہ بی ایس پی میں شامل ہو گئے تھے۔ سماجوادی پارٹی سے قبل وہ کانگریس کے قدآور لیڈر شمار کیے جاتے تھے۔ اب ایک بار پھر انھوں نے کانگریس کا دامن تھام لیا ہے اور کہا ہے کہ وہ قبر میں جانے تک کانگریس کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ کانگریس میں شمولیت کے بعد عمران مسعود نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کا شکریہ بھی ادا کیا۔

عمران مسعود کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کے بعد پورے ملک میں ایک بہتر ماحول بنا ہے۔ دوسری پارٹی میں رہتے ہوئے انھوں نے اس بات کا تذکرہ بھی کیا تھا کہ وہ تبدیلی کے خواہاں ہیں اور ملک کی سیاست کے اندر تبدیلی لانے کا کام کریں گے۔ اس کا اثر ہماچل پردیش اور کرناٹک کے اسمبلی انتخاب میں بخوبی دیکھنے کو ملا ہے جہاں پارٹی بہت بڑی اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوئی۔ اب آنے والے دنوں میں 4 دیگر ریاستوں میں کانگریس کی حکومت بننے جا رہی ہے۔

بار بار پارٹی بدلے جانے کی وجہ بتاتے ہوئے عمران مسعود نے کہا کہ کارکنان ان کی طاقت ہیں اور انہی کی وجہ سے وہ کانگریس چھوڑ کر دوسری پارٹی کے ساتھ جڑے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ’’میں نے کانگریس میں شامل ہونے سے پہلے سہارنپور میں کارکنان کی میٹنگ بلائی تھی۔ وہاں 8 سے 10 ہزار لوگ شامل ہوئے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا تھا کہ آپ سبھی لوگوں نے مجھے پینڈولم بنا دیا ہے، اب بتائیے میں کیا کروں۔ آپ لوگ کہہ رہے ہیں کہ کانگریس میں چلا جاؤں۔ میں چلا تو جاؤں گا لیکن ایک وعدہ لینا چاہتا ہوں کہ اب میرے ساتھ کوئی ظلم نہیں کرنا۔‘‘ پھر عمران مسعود نے کہا کہ وہ اب کچھ بھی ماننے والے نہیں ہیں اور قبر میں جانے تک کانگریس میں رہیں گے۔ یہی وعدہ وہ کارکنان سے لے کر کانگریس کے ساتھ آئے ہیں۔

عمران مسعود کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے کانگریس پارٹی چھوڑی تھی، اس وقت وہ پارٹی سے الگ نہیں ہونا چاہتے تھے۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کی اپنائیت ہمیشہ ان کے ساتھ رہی ہے جس کے وہ قرضدار رہیں گے۔ عمران نے یہ بھی کہا کہ کانگریس چھوڑنے کے بعد سے اب تک ان کی پرینکا گاندھی سے ملاقات نہیں ہوئی ہے، جب ان سے ملاقات ہوگی تو اپنی غلطی کے لیے معافی ضرور مانگیں گے۔

بہار میں بی جے پی کی ’کنفیوژن پالیٹکس‘ سے مقابلے کے لیے نتیش-لالو نے کھیلا ماسٹر اسٹروک!

0
بہار-میں-بی-جے-پی-کی-’کنفیوژن-پالیٹکس‘-سے-مقابلے-کے-لیے-نتیش-لالو-نے-کھیلا-ماسٹر-اسٹروک!

بہار کے سماجی ڈھانچہ کی تشریح کرنے کے لیے ذات سب سے بڑا عنصر ہے۔ لوگ اپنے شریک حیات سے لے کر اپنے نمائندوں کو بھی کم و بیش اپنی ذات سے ہی چنتے ہیں۔ یہاں مانا جاتا ہے کہ ایک ہی ذات کے لوگ دیگر ذات کے لوگوں کے مقابلے میں بہتر سلوک والے اور زیادہ بھروسہ مند ہو سکتے ہیں۔

سیاسی لیڈران (خصوصاً موجودہ برسراقتدار پارٹیوں میں) لوگوں کی اس ذہنیت کو سمجھتے ہیں۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ لوگوں کو ان کی حقیقی طاقت کے بارے میں بیدار کرنے کے لیے ذات پر مبنی سروے کا سہارا لیا گیا۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور آر جے ڈی لیڈر لالو پرساد یادو بہار میں ذاتوں کے ایکویشن کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ انھوں نے اپنی تعداد کے بارے میں لوگوں کے درمیان غلط فہمی کو دور کرنے کے مقصد سے 2 اکتوبر کو ذات پر مبنی سروے کے اعداد و شمار جاری کیے۔ اس رپورٹ کے بعد سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ ووٹرس کے ذہن میں تذبذب پیدا کرنے کا امکان بھی اب بہار میں پوری طرح سے ختم ہو گیا۔

بہار حکومت نے 215 ذاتوں اور ان کی حقیقی تعداد کی جانکاری حاصل کی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی کا مقابلہ کرنے کے لیے ذات کا سروے نتیش-لالو کا ماسٹر اسٹروک ثابت ہو سکتا ہے۔ نتیش اور لالو کے لیے ذات پر مبنی سروے منڈل کمیشن کی رپورٹ کے برابر ہے، جو مرکز میں اقتدار سنبھالنے کے بعد وی پی سنگھ نے لایا تھا۔ اس وقت ان کا مقابلہ کانگریس پارٹی سے تھا، جس کی نمائندگی مجموعی طور پر اونچی ذات کے لوگ کرتے تھے۔ اب اونچی ذاتیں بی جے پی کے حقیقی ووٹرس ہیں اور لالو پرساد و نتیش کمار نے بھگوا پارٹی کو شکست دینے کے لیے ذات پر مبنی سروے جاری کیا۔ دونوں جانتے ہیں کہ 2024 کا لوک سبھا انتخاب او بی سی کے ارد گرد لڑا جائے گا۔ پی ایم نریندر مودی ملک اور بہار میں ووٹرس کو لبھانے کے لیے یہ کارڈ کھیلیں گے۔

نتیش اور لالو جانتے تھے کہ بہار میں او بی سی اور ای بی سی کی تعداد زیادہ ہے اور ووٹرس کے درمیان کسی بھی تذبذب سے بچنے کے لیے وہ حقیقی تعداد کے ساتھ آئے۔ علاوہ ازیں وہ نہیں چاہتے تھے کہ بی جے پی او بی سی کے نام پر بہار میں کشمکش والی حالت پیدا کرے۔ آر جے ڈی کے قومی نائب صدر شیوانند تیواری نے کہا کہ ’’ذات پر مبنی سروے جاری ہونے کے بعد نریندر مودی ڈر گئے ہیں، اور جس طرح سے وہ اپنے الفاظ کا انتخاب کر رہے ہیں اس سے ان کی بے چینی کا پتہ چلتا ہے۔ دوسری طرف سماج کا محروم طبقہ بھی تذبذب محسوس کر رہا ہے۔ انھوں نے ملک کی تعمیر میں اپنی محنت کا تعاون دیا ہے۔ لیکن ان کی حالت دوئم درجے کے برابر ہے۔‘‘

گزشتہ کچھ سالوں میں بی جے پی کو اونچی ذاتوں کی پارٹی کی شکل میں جانا جانے لگا ہے۔ وہ بی جے پی کے اصل ووٹرس ہیں اور بہار میں 15.52 فیصد ہیں، جن میں بھومیہار 2.86 فیصد، برہمن 3.66 فیصد، راجپوت 3.45 فیصد اور کایستھ 0.60 فیصد ہیں۔

دوسری طرف نتیش کمار کے اصل ووٹر لو-کُش ایکویشن سے آتے ہیں جہاں ’لو‘ کا مطلب کرمی ہے جن کی تعداد 2.87 فیصد ہے، اور ’کُش‘ کا مطلب ہے کشواہا جو بہار میں 4.21 فیصد ہیں۔ اس کے علاوہ او بی سی اور ای بی سی ووٹرس کے درمیان ان کی مضبوط گرفت ہے۔ لالو پرساد کے پاس مسلم 17.7 فیصد اور یادو 14 فیصد ہیں۔ ایس سی 19 فیصد ای بی سی اور او بی سی کا ایک بڑا ووٹ بینک بھی لالو پرساد کی حمایت کرتا ہے۔ یعنی اس معاملے میں یہ دونوں بی جے پی سے بہت آگے ہیں۔

ماضی میں اونچی ذاتیں، جن کی تعداد کم تھی، او بی سی، ای بی سی اور درج فہرست ذاتوں، جن کی تعداد زیادہ تھی، پر حاوی رہتی تھی۔ لالو پرساد نے ان دبی کچلی ذاتوں کو آواز دی اور سماجی انصاف کے علمبردار بنے۔ نتیش کمار بھی اسی راہ پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ چھوا چھوت اور نسل کشی کا درد اعلیٰ اور پسماندہ ذاتوں کے لوگوں کے دماغ میں ہے۔ انھوں نے بہار میں اپنی اپنی سیاسی پارٹیاں منتخب کر لی ہیں۔ نچلی ذات کے لوگ جانتے ہیں کہ بی جے پی اونچی ذات کی پارٹی ہے اس لیے وہ اس کے ساتھ نہیں جا سکتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بی جے پی اپنے دم پر بہار میں حکومت بنانے میں ناکام رہی۔ اونچی ذاتوں کے پاس حکومت بنانے کی طاقت نہیں ہے۔ بہار میں بی جے پی اقتدار میں تو رہی، لیکن نتیش کمار کی مدد سے۔

نتیش کمار یہ بھی جانتے تھے کہ ان کی ذاتی حالت ریاست میں اقتدار محفوظ رکھنے کے لیے کافی نہیں ہوگی، کیونکہ کرمی اور کشواہا بالترتیب 2.87 فیصد اور 4.21 فیصد ہیں اور اس لیے انھوں نے بی جے پی یا آر جے ڈی کی حمایت لی۔ ذات پر مبنی سروے میں لالو پرساد سب سے بڑے استفادہ کنندہ بن کر ابھرے، ان کے حقیقی ووٹرس مسلم 17.7 فیصد اور یادو 14 فیصد تھے۔ سیاسی پارٹیوں کو کم و بیش اپنے اصل ووٹرس کی طاقت کے بارے میں پتہ تھا، لیکن ذات پر مبنی سروے رپورٹ آنے تک ووٹرس کو خود پتہ نہیں تھا۔ اب انھیں اپنی اصل طاقت کا پتہ چل گیا ہے اور اب کسی خاص پارٹی کے ذریعہ غلط فہمی پیدا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

راہل گاندھی کی مقبولیت اور قائدانہ صلاحیت سے بی جے پی خوفزدہ: ڈی کے شیوکمار

0
راہل-گاندھی-کی-مقبولیت-اور-قائدانہ-صلاحیت-سے-بی-جے-پی-خوفزدہ:-ڈی-کے-شیوکمار

کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے ہفتہ کے روز ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی راہل گاندھی کی مقبولیت اور قائدانہ صلاحیت سے ڈرتی ہے، اسی لیے سوشل میڈیا کے ذریعہ ان کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بنگلورو میں ودھان سودھا کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شیوکمار نے الزام لگایا کہ بھگوا خیمہ نے راون کی پوری کہانی جانے بغیر ہی یہ کیا ہے۔

شیوکمار نے کہا کہ ’’یہاں تک کہ شمالی ہند میں بھی راون کی پوجا کی جاتی ہے۔ اگر بی جے پی کو ہماری ثقافت کا پتہ ہوتا تو وہ اتنا نیچے نہیں گرتی۔ بھارت جوڑو یاترا کے بعد انڈیا اتحاد نے شکل اختیار کرنا شروع کیا۔ انڈیا اتحاد مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، متحد ہو رہا ہے اور اس کی حفاظت کی جائے گی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’بی جے پی راہل گاندھی کے میگا واکتھان (بھارت جوڑو یاترا) اور انڈیا اتحاد سے ڈری ہوئی ہے اور اس لیے انھوں نے انھیں 10 سر والے راون کی شکل میں پیش کیا ہے۔‘‘

کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ ’’بی جے پی کو بھگوان رام اور راون کے درمیان جنگ کو سمجھنے کے لیے پُرانوں کو جاننا چاہیے۔‘‘ پھر وہ کہتے ہیں کہ ’’راون کی شکل میں پیش کیے گئے راہل گاندھی کے پوسٹر سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی ان سے کتنی خوفزدہ ہے۔ اسے لے کر ملک بھر میں لوگ بی جے پی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ کرناٹک میں بھی احتجاجی مظاہرہ کی قیادت وزیر برائے ٹرانسپورٹ راملنگا ریڈی کر رہے ہیں۔‘‘

’اس مشکل وقت میں ہم اسرائیل کے ساتھ‘، دہشت گردانہ حملہ پر پی ایم مودی کا اظہارِ صدمہ

0
’اس-مشکل-وقت-میں-ہم-اسرائیل-کے-ساتھ‘،-دہشت-گردانہ-حملہ-پر-پی-ایم-مودی-کا-اظہارِ-صدمہ

ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل پر حماس کے ذریعہ کیے گئے حملے پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسرائیل میں دہشت گردانہ حملوں کی خبر سے گہرا صدمہ لگا ہے۔ ہماری ہمدردیاں اور دعائیں بے قصور متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں، ہم اس مشکل وقت میں اسرائیل کے ساتھ متحد ہو کر کھڑے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ حماس گروپ کے ذریعہ داغے گئے راکٹوں کے بعد اسرائیل میں جنگ شروع ہو گیا ہے۔ اس کے کچھ گھنٹوں بعد پی ایم مودی نے مذکورہ بالا بیان ایک ٹوئٹ کے ذریعہ دیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں بڑے پیمانے پر فوج کو یکجا کرنے اور جنگ کی شروعات کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ فلسطینی مسلح گروپ حماس کے سلسلہ وار حملوں کے جواب میں اسرائیل نے اس بار غزہ میں ’جنگ کی حالت‘ کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے ہفتہ کے روز کہا کہ وہ جلد ہی غزہ میں حالات کے جائزہ کے لیے سینئر فوجی اور انتظامی افسران سے ملاقات کریں گے اور حملے کا منھ توڑ جواب دیں گے۔

کناڈا میں طیارہ حادثہ، 2 ہندوستانی پائلٹ سمیت 3 افراد کی موت

0
کناڈا-میں-طیارہ-حادثہ،-2-ہندوستانی-پائلٹ-سمیت-3-افراد-کی-موت

کناڈا کے برٹش کولمبیا علاقہ میں ہفتہ کے روز ایک اندوہناک طیارہ حادثل پیش آیا۔ اس حادثہ میں دو ہندوستانی ٹرینی پائلٹس کی موت ہو گئی ہے۔ ان کے نام ابھے گڈرو اور یش وجئے راموگڑے بتائے جا رہے ہیں جو کہ ممبئی کے رہنے والے تھے۔ کناڈا کے پولیس افسران نے اس طیارہ حادثہ کی تصدیق کی ہے۔ حادثہ میں مجموعی طور پر تین لوگوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔

کناڈا کے پولیس افسران کے مطابق جو طیارہ حادثہ ہوا ہے وہ دو انجن والا ہلکا طیارہ تھا۔ اسے پائپر پی اے-34 نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ طیارہ چلیویک شہر میں ایک ہوٹل کے پیچھے درختوں اور جھاڑیوں سے ٹکرا کر حادثہ کا شکار ہوا۔ طیارہ کی ٹکر درختوں اور جھاڑیوں سے کیوں ہوئی، اس سلسلے میں فی الحال کچھ بھی مصدقہ طور پر پتہ نہیں لگ پایا ہے۔ کناڈا کے ٹرانسپورٹیشن سیکورٹی بورڈ نے حادثہ کی جانچ شروع کر دی ہے۔

’ممتا کے ساتھ کافی پیتے ہوئے مسئلہ سلجھائیں‘، سپریم کورٹ کا مغربی بنگال کے گورنر کو مشورہ

0
’ممتا-کے-ساتھ-کافی-پیتے-ہوئے-مسئلہ-سلجھائیں‘،-سپریم-کورٹ-کا-مغربی-بنگال-کے-گورنر-کو-مشورہ

سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز مغربی بنگال میں سرکاری یونیورسٹیوں کے نوتقرر عبوری وائس چانسلرز کے بھتہ پر روک لگا دی۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے مغربی بنگال کے گورنر سی وی آنند بوس سے کہا ہے کہ وہ وائس چانسلرز کی تقرری سے متعلق رخنہ کو حل کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ساتھ کافی پیتے ہوئے تبادلہ خیال کریں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں اور لاکھوں طلبا کے مستقبل کے کیریر کے مفاد میں گورنر اور وزیر اعلیٰ کے درمیان صلح کی ضرورت ہے۔

جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس دیپانکر دتہ کی بنچ نے 6 اکتوبر کو کہا کہ اگست میں تقرر عبوری وائس چانسلرز کے بھتوں پر روک ان کی تقرری کی گورنر کی کارروائی کے خلاف ریاستی حکومت کی عرضی زیر التوا ہونے تک جاری رہے گی۔ گورنر ریاستی یونیورسٹیوں کے ایکس-آفیشیو چانسلر ہوتے ہیں۔ بنچ نے گورنر کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل داما شیشادری نائیڈو سے کہا کہ برائے کرم اسے چانسلر کو بتائیں۔ ہماری گزارش ہے کہ ایک تاریخ اور وقت طے کیا جائے جو وزیر اعلیٰ کے لیے مناسب ہو اور انھیں ایک کپ کافی کے لیے مدعو کیا جائے تاکہ ان چیزوں پر بات چیت کی جا سکے اور حل نکالا جا سکے۔ اس پر جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ ہم متفق ہیں، کبھی کبھی آئینی عہدیداروں کے درمیان نااتفاقی ہوتی ہے۔ انصاف کے شعبہ میں ہم جج بھی ایک دوسرے سے غیر متفق ہوتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم ملنا اور چیزوں پر بات کرنا بند کر دیں۔

قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کلکتہ ہائی کورٹ کے 28 جون کے ایک حکم کے خلاف مغربی بنگال حکومت کی اپیل پر سماعت کر رہی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ 11 ریاستی یونیورسٹیوں میں عبوری وائس چانسلرز کی تقرری کے گورنر کے ذریعہ جاری احکامات میں کوئی عدم جواز نہیں ہے۔ ریاستی یونیورسٹیوں کو کس طرح چلایا جائے، اسے لے کر ممتا بنرجی حکومت اور گورنر کے درمیان تلخ رسہ کشی چل رہی ہے۔ جمعہ کو بنچ نے عبوری وائس چانسلرز کی نئی تقرریوں کو چیلنج دینے والی ریاست کے ذریعہ داخل ایک درخواست پر نوٹس جاری کیا اور ایک ہفتہ کے اندر گورنر دفتر سے جواب طلب کیا۔

تمل ناڈو میں زور پکڑ رہا ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ، این ڈی اے کی حلیف جماعت نے بھی اٹھائی آواز

0
تمل-ناڈو-میں-زور-پکڑ-رہا-ذات-پر-مبنی-مردم-شماری-کا-مطالبہ،-این-ڈی-اے-کی-حلیف-جماعت-نے-بھی-اٹھائی-آواز

چنئی: تمل ناڈو کی سیاسی جماعتیں، بشمول حکمراں دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) کی اتحادی جماعتیں، سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ریاست میں ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

تمل ناڈو کی ایک دلت سیاسی جماعت اور ڈی ایم کے کی حلیف ودوتھلائی چروتھیگل کچی (ویی سی کے) نے مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی حکومت ذات پر مبنی مردم شماری پر کام شروع کرے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مختلف برادریوں کے لیے ریزرویشن کی مقدار ان کی آبادی کے تناسب سے ہو۔

تمیزہگا وازوریمائی کچی (ٹی ویی کے)، جو ڈی ایم کے کا ایک اور جزو ہے، اور طاقتور ونیار برادری کے سیاسی ونگ اور پٹالی مکل کچی (پی ایم کے)، جو قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کا حصہ ہے، نے بھی ذات پات کی مردم شماری کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کوئی بھی برادری سماجی انصاف سے محروم نہ رہے۔

وی سی کے بانی رہنما اور رکن پارلیمنٹ تھول تھرومالاوان نے بھی کہا کہ ریاستوں کو اپنے علاقے میں ریزرویشن کی فیصد کا فیصلہ کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے پارلیمنٹ کے اگلے اجلاس میں اس سلسلے میں قانون لانے کا مطالبہ بھی کیا۔

سابق ایم ایل اے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کی سابق عبوری جنرل سکریٹری وی کے ششی کلا کے بھتیجے ٹی ٹی وی دناکرن کی قیادت والی امّا منیترا مکل کناگم (اے ایم ایم کے) نے ڈی ایم کے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 2021 کے اسمبلی انتخابات کے دوران اپنے وعدے کو یاد رکھے اور مرکز پر زور دے کر ذات پر مبنی مردم شماری کرائے

ٹی ٹی وی دناکرن نے ایک بیان میں ڈی ایم کے حکومت سے ذات پر مبنی مردم شماری پر کام شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس طرح کی مردم شماری کے بغیر سماجی انصاف ممکن نہیں ہے۔

راہل اور پرینکا 10 اکتوبر کو کریں گے مدھیہ پردیش کا دورہ

0
راہل-اور-پرینکا-10-اکتوبر-کو-کریں-گے-مدھیہ-پردیش-کا-دورہ

بھوپال: کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی اور جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اگلے ہفتے مدھیہ پردیش کے دورے پر ہوں گے۔

ریاستی کانگریس کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین کے کے مشرا نے آج یہاں بتایا کہ راہل گاندھی 10 اکتوبر کو شہڈول ضلع کے بیوہاری میں ایک جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ اس موقع پر ریاستی کانگریس صدر کمل ناتھ اور دیگر سینئر لیڈران بھی موجود رہیں گے۔ اجلاس دوپہر کو ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ محترمہ پرینکا گاندھی واڈرا 12 اکتوبر کو قبائلی اکثریتی منڈلا میں ایک جلسہ عام سے خطاب کریں گی۔ اس اجلاس میں بھی کمل ناتھ اور دیگر سینئر لیڈران موجود رہیں گے۔ دونوں اجلاس کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔

منریگا کی مانگ کی حوصلہ شکنی کے لیے ڈیجیٹلائزیشن پر زور دے رہی حکومت: کانگریس

0
منریگا-کی-مانگ-کی-حوصلہ-شکنی-کے-لیے-ڈیجیٹلائزیشن-پر-زور-دے-رہی-حکومت:-کانگریس

نئی دہلی: کانگریس نے ہفتہ کے روز ایک بار پھر بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ شفافیت کے نام پر جبری ڈیجیٹلائزیشن کر رہی ہے اور مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ (منریگا) کی طلب کی حوصلہ شکنی کے لیے اسے ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

مائیکرو بلاگنگ کی وییب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج شعبہ مواصلات جے رام رمیش نے کہا ’’ایک طرف اپریل-ستمبر کے دوران ہندوستان میں گاڑیوں کی فروخت کا 48 فیصد حصہ ایس یو ویی کا تھا۔ دوسری طرف ایک مالی سال کی پہلی شش ماہی میں ہی منریگا کے تحت سال 2023-24 کے لیے مقرر کردہ 60000 کروڑ روپے کا بجٹ ختم ہو چکا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’یہ نہ صرف واضح طور پر دیہی بدحالی اور ملک بھر میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات کی نشاندہی کرتا ہے، بلکہ مودی حکومت کی ترجیحات کی بھی عکاسی کرتا ہے جو اجرتوں کی ادائیگی میں غیر معمولی تاخیر کر کے بالواسطہ طور پر منریگا کے کام کی مانگ کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے۔‘‘

حکومت پر تنقید کرتے ہوئے رمیش نے، جو کہ راجیہ سبھا کے رکن بھی ہیں، کہا، ’’معاملات کو مزید خراب کرنے کے لیے مودی حکومت نے شفافیت کے نام پر ڈیجیٹلائزیشن کے لیے مجبور کیا، جبکہ حقیقت میں اس نے لوگوں کے درمیان منریگا کی طلب کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے اس کا ایک آلے کے طور پر استعمال یا ہے۔‘‘

کانگریس ملک بھر میں منریگا کے بجٹ کو کم کرنے پر حکومت کی تنقید کر رہی ہے۔ کانگریس بے روزگاری اور مہنگائی کا مسئلہ بھی اٹھاتی رہی ہے۔