بدھ, مارچ 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 70

کانگریس کارکنا ن کو کمر کسنے کی ضرورت، گھر گھر جاکر مستقبل کا پروگرام بتانا ہوگا: کھڑگے

0
کانگریس-کارکنا-ن-کو-کمر-کسنے-کی-ضرورت،-گھر-گھر-جاکر-مستقبل-کا-پروگرام-بتانا-ہوگا:-کھڑگے

دہلی میں آج  نو تشکیل شدہ  کانگریس ورکنگ کمیٹی کا  دوسرا جلاس ہوا اور اس سے خطاب  کرتے ہوئے اپنے صدارتی خطبے میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے  نے جہاں  راہل گاندھی کے ذریعہ اٹھائے گئے مدوں کی جم کر تعریف کی وہیں ملک کو درپیش مسائل پر بھی تفصیل سے گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ’’ہم نے اجتماعی طور پر ملک کو تقسیم اور پولرائزیشن کی سیاست سے آزاد کرنے، سماجی انصاف قائم کرنے اور ایک جوابدہ، حساس اور شفاف حکومت فراہم کرنے کا عزم کیا۔‘‘ کھڑگے نے تفصیل سے بتایا کہ کس طرح حکومت نے اچانک پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کیا جس میں  حکومت خواتین ریزرویشن بل لائی۔

کھڑگے نے کہا کہ  ہمیشہ کی طرح اس بار بھی حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی اور صرف لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی حکمت عملی پر کام کیا۔ انہوں  نے کہا کہ کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں نے دل سے خواتین کے ریزرویشن بل کی حمایت کی۔ اگر مودی جی چاہتے تو اس الیکشن سے ہی خواتین کے تحفظات کو نافذ کیا جا سکتا تھا۔ اور او بی سی خواتین کو بھی جگہ مل سکتی ہے۔ کھرگے نے کہا کہ  یہ بل صرف تشہیر اور ووٹ بینک کے لیے لایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا  کہ ’’آج ملک بھر کے لوگ حیران ہیں کہ مودی نے او بی سی خواتین کو خواتین کے ریزرویشن کے دائرے میں کیوں نہیں رکھا؟ مردم شماری اور حد بندی کی شرط کو خواتین کے ریزرویشن سے کیوں جوڑ کر اسے پیچیدہ بنایا ؟ ‘‘

کانگریس صدر نے کہا کہ ذات پات کی مردم شماری بھی ایک اہم سوال ہے۔ کانگریس پارٹی ملک گیر ستح پر ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ مسلسل کر رہی ہے۔ یہ ایک اہم مسئلہ ہے لیکن حکمران جماعت اس پر خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلاحی اسکیموں میں مناسب حصہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے پاس کمزور طبقات کی حالت پر سماجی و اقتصادی ڈیٹا موجود ہو۔

کھڑگے نے کہا کہ ’’ہمارے لیے ان خدشات کو عام لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے۔ اگر ہم 2024 میں اقتدار میں آتے ہیں تو ہم او بی سی خواتین کی سیاسی شراکت کا تعین کرنے کے ساتھ خواتین کے ریزرویشن کو فوری طور پر نافذ کریں گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اب راجستھان، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، تلنگانہ اور میزورم کے اسمبلی انتخابات ہونے ہیں جس کے لیے موثر حکمت عملی بنانا ہوگی۔ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کئی مہینوں سے ان ریاستوں کا دورہ کر رہے ہیں۔ لیکن وزیر اعظم  کے پاس منی پور جانے کا وقت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے 2 مہینوں میں میں کئی ریاستوں میں عوامی جلسوں میں  وہ گئے  اور دیکھا کہ وہاں اچھا ماحول ہے۔ ہمیں ہر ووٹر کے پاس جانا ہے، مہم چلانی ہے اور ماحول بنانا ہے۔

انڈیا اتحاد پر انہوں نے کہا کہ تین میٹنگوں کے بعد، اتحاد آگے بڑھ رہا ہے۔ اس اتحاد کی طاقت کا اثر  وزیر اعظم کی تقریروں سے صاف نظر آتا ہے۔ مودی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے امیر اور غریب کے درمیان خلیج مسلسل بڑھ رہی ہے۔ آئینی اقدار اور وفاقی کردار پر حملہ ہو رہا ہے۔ سماجی تناؤ بڑھ  ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’آج جمہوریت اور آئین کو بچانا چیلنج ہے۔ چیلنج دلتوں، قبائلیوں، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو ایسے بہت سے سوالات پر غور و فکر کرنے اور کچھ ٹھوس حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک ایسی حکومت قائم کرنی ہے جو ہندوستان کے لوگوں کو درپیش ان سنگین چیلنجوں کو حل کرے گی۔ کمزور طبقات، پسماندہ طبقات، نوجوانوں، خواتین، کسانوں اور مزدوروں وغیرہ کی زندگیوں کو آسان بنا سکتے ہیں۔ اس کے لئے کانگریس  کارکنان کو  اپنی حکومتوں کی کامیابیاں گھر گھر جاکر  بتانی ہوں گی اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بھی تفصیل سے بتانا ہوگا۔

پانچ ریاستوں میں نومبر میں ہوں گے انتخابات اور 3 دسمبر کو آئیں گے نتیجے

0
پانچ-ریاستوں-میں-نومبر-میں-ہوں-گے-انتخابات-اور-3-دسمبر-کو-آئیں-گے-نتیجے

جن صوبوں کے انتخابات پر سب کی نظریں تھیں ان کی تاریخوں کا آج الیکشن کمیشن نے اعلان کر دیا ۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ پانچ ریاستوں میں انتخابی نتائج 3 دسمبر کو جاری کیے جائیں گے۔ جن ریاستوں میں انتخابات ہو رہے ہیں ان میں مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ، تلنگانہ اور میزورم شامل ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے کہا ہے کہ سب سے پہلے میزورم میں انتخابات کرائے جائیں گے۔ میزورم میں 7 نومبر کو ووٹنگ ہوگی۔ اس کے علاوہ مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بھی 7 نومبر کو ووٹنگ ہوگی۔ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ چھتیس گڑھ میں دو مرحلوں میں ووٹنگ کرائی جائے گی۔ اس میں پہلے مرحلے میں 7 نومبر کو انتخابات ہوں گے جبکہ دوسرے مرحلے کے لیے ووٹنگ 17 نومبر کو ہوگی۔واضح رہے چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے کہا کہ راجستھان میں 23 نومبر کو ووٹنگ ہوگی جبکہ تلنگانہ میں 30 نومبر کو ووٹنگ ہوگی۔

چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے کہا کہ 17,734 ماڈل پولنگ اسٹیشنوں اور 621 پولنگ اسٹیشنوں کے انتظام کی ذمہ داری پی ڈبلیو ڈی کے عملے کے پاس ہوگی۔ خواتین 8,192 پولنگ اسٹیشنوں کی ذمہ داری سنبھالیں گی۔

الیکشن کمیشن کی پریس کانفرنس میں چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پانچ ریاستوں کی 679 اسمبلی سیٹوں پر 1.77 لاکھ پولنگ اسٹیشن بنائے جائیں گے۔

مہاراشٹر میں بھی ذات کے سروے کا مطالبہ؟ سماج کا ہر طبقہ اس کے حق میں ہے: سنجے راؤت

0
مہاراشٹر-میں-بھی-ذات-کے-سروے-کا-مطالبہ؟-سماج-کا-ہر-طبقہ-اس-کے-حق-میں-ہے:-سنجے-راؤت

نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق ذات پات پر مبنی سروے کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے شیوسینا (یو بی ٹی) کے راجیہ سبھا ممبر سنجے راؤت نے دعویٰ کیا کہ ملک میں سماج کا ہر طبقہ اور اپوزیشن اتحاد ‘انڈیا’ اس کے حق میں ہے۔ بہار کی نتیش کمار حکومت نے حال ہی میں اپنے ذات پات پر مبنی سروے کے نتائج کا اعلان کیا تھا، جس میں پتا چلا ہے کہ ریاست کے 84 فیصد لوگ دیگر پسماندہ طبقات، درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل سے تعلق رکھتے ہیں۔

راؤت نے نامہ نگاروں سے کہا، ’’بہار میں ذات پات پر مبنی سروے کیا گیا تھا۔ راجستھان میں بھی ایسا ہی ہوگا اور مہاراشٹر میں بھی اس کی مانگ ہے۔ ذات پات پر مبنی سروے وقت کی ضرورت ہے اور سماج کے تمام طبقات کے ساتھ ساتھ ‘انڈیا’ اتحاد اس کے حق میں ہیں۔

بی جے پی کے صدر جے پی نڈا کے علاقائی پارٹیوں پر تنقید کرنے کے بارے میں پوچھے جانے پر راؤت نے کہا، "این ڈی اے کیسے بنا؟ تمام جماعتیں علاقائی ہیں۔ بی جے پی بھی کچھ وقت میں علاقائی پارٹی بن جائے گی۔ 12 ریاستیں ایسی ہیں جہاں بی جے پی کی کوئی موجودگی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ 2024 میں قومی سیاست علاقائی جماعتوں کے زور پر چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ نڈا کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) ایسی جماعتوں کے تعاون سے تشکیل دیا گیا تھا۔

ہریانہ کے سیاحوں کی گاڑی کھائی میں گرنے سے سات کی موت، 24 زخمی

0
ہریانہ-کے-سیاحوں-کی-گاڑی-کھائی-میں-گرنے-سے-سات-کی-موت،-24-زخمی

ہریانہ کے حصار سے نینی تال گھومنے آنے والے سیاحوں کی گاڑی اتوار کو دیر شام کھائی میں گر گئی جس میں سات سیاحوں کی موت ہو گئی اور 24 زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو ہلدوانی کے سشیلا تیواری اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

نینی تال کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) پی این مینا کے مطابق، ہریانہ کے حصار سے سیاحوں کا ایک گروپ کچھ دن پہلے نینی تال گھومنے آیا تھا۔ سیاحوں کا گروپ آج شام دیر واپس جارہا تھا۔ اس دوران نینی تال-کالاڈھونگی روڈ پر گھاٹ گڑھ کے قریب ان کی گاڑی حادثے کا شکار ہوکر گہری کھائی میں گر گئی۔ گاڑی میں 31 افراد سوار تھے۔

اس حادثے میں سات افراد کی موت ہوگئی۔ مرنے والوں میں ڈرائیور سمیت پانچ خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔ تمام زخمیوں کو کھائی سے نکال کر سشیلا تیواری اسپتال لے جایا گیا۔ دیگر ڈرائیوروں نے پولیس کو واقعے کی اطلاع دی۔

فوری طور پر نینی تال، اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کالاڈھونگی پولیس اسٹیشن اور ہلدوانی پولیس کو موقع پر بھیجا گیا۔ ایس ایس پی مینا نے خود موقع پر پہنچ کر راحت اور بچاؤ کی کارروائیاں کیں۔ اندھیرے کے باعث امدادی کاموں میں کچھ مشکلات پیش آئیں۔

پولیس نے جنریٹر کا انتظام کیا اور راحت اور بچاؤ کی کارروائیاں کیں۔ جس کے بعد بڑی مشکل سے زخمیوں اور لاشوں کو کھائی سے باہر نکالا جا سکا۔ مہلوکین ابھی تک شناخت نہیں ہوسکی ہے جب کہ زخمیوں میں سے بیشتر حصار کے رہائشی ہیں۔ضلع مجسٹریٹ وندنا بھی زخمیوں کی حالت جاننے کے لیے سشیلا تیواری اسپتال پہنچی اور ان کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔

این سی کانگریس اتحاد نے بی جے پی کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا: عمر عبداللہ

0
این-سی-کانگریس-اتحاد-نے-بی-جے-پی-کو-عبرتناک-شکست-سے-دوچار-کیا:-عمر-عبداللہ

جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہاکہ کارگل انتخابات میں نیشنل کانفرنس  کانگریس اتحاد نے بی جے پی کو بری طرح سے پچھاڑ کے رکھ دیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ الیکشن کے نتائج ان تمام جماعتوں اور قوتوں کے لئے سبق آموز ہے جنہوں نے غیر جمہوری اور غیر آئینی طریقے سے جموں وکشمیر اور لداخ کے عوام کی مرضی کے بغیر ریاست کو تقسیم کیا۔

عمر عبداللہ نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس اتحاد نے کارگل ہل ڈیلوپمنٹ کونسل انتخابات میں تاریخی جیت رقم کی ہے۔انہوں نے کہاکہ کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے مضبوط اتحاد نے بھارتیہ جنتاپارٹی کو شکست سے دو چار کیا ۔انہوں نے مزید بتایا کہ یہ جیت زنسکار، کارگل اور دراس کے لوگوں کی ہے جنہوں نے فیصلہ کن طورپر نیشنل کانفرنس اور کانگریس اتحاد کی تائید کی ، ہم تمام منتخب کونسلروں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں جو عوام کی خدمت کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔

عمر عبداللہ نے کہاکہ ہم کانگریس پارٹی کی قیادت کا ان کی غیر متزلزل حمایت کے لئے بے حد مشکور ہیں۔این سی نائب صدر نے کہاکہ یہ بی جے پی لیڈروں کے لئے چشم کشاں ہے۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں بھی جمہوری طورپر منتخب حکومت کی عوام کی جائز خواہش کو تسلیم کیا جانا چاہئے کیونکہ جمہوریت کا تقاضہ ہے کہ عوام کی آواز سنی جائے اور ان کا احترام کیا جائے۔

ہم اس موقع پر اپنے مخلص پارٹی کارکنان کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے دن رات محنت کی اور مشکل حالات میں ثابت قدم رہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کرگل انتخابات میں لوگوں نے بھارتیہ جنتاپارٹی کو مسترد کیا جس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ یہاں کے لوگ کیاچاہتے ہیں۔

راجستھان سمیت 5 ریاستوں میں بجے گا انتخابی بگل، دوپہر 12 بجےہوگا تاریخوں کا اعلان

0
راجستھان-سمیت-5-ریاستوں-میں-بجے-گا-انتخابی-بگل،-دوپہر-12-بجےہوگا-تاریخوں-کا-اعلان

الیکشن کمیشن پیر  یعنی 9 اکتوبر کو دوپہر 12 بجے پانچ ریاستوں کے انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کرنے جا رہا ہے۔ اس سال مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ، تلنگانہ اور میزورم میں اسمبلی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن دہلی میں آل انڈیا ریڈیو کے رنگ بھون آڈیٹوریم میں تاریخوں کا اعلان کرے گا۔ اس دوران چیف الیکشن کمشنر سمیت الیکشن کمیشن کے اہم حکام بھی موجود ہوں گے۔

ملک میں 2024 میں لوک سبھا انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان انتخابات سے پہلے پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کو سیمی فائنل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان میں سے تین ریاستیں ایسی ہیں جو ہندی پٹی میں آتی ہیں۔ اس میں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تلنگانہ، جنوبی ہند میں بھی انتخابی مقابلہ دیکھنے کو ملنے والا ہے۔ ساتھ ہی شمال مشرقی ہندوستان میں میزورم کو بھی انتخابی نقطہ نظر سے اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ مشرقی ہندوستان میں رائے دہندوں کی پسند بتائے گا۔

این سی-کانگریس اتحاد نےلگائی جھاڑو ، کارگل الیکشن میں 26 میں سے 22 سیٹیں جیتی

0
این-سی-کانگریس-اتحاد-نےلگائی-جھاڑو-، کارگل-الیکشن-میں-26-میں-سے-22-سیٹیں-جیتی

نیشنل کانفرنس-کانگریس کے اتحاد نے 26 رکنی لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل (ایل اے ایچ ڈی سی) کارگل کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے اور جھاڑو لگاتے ہوئے22 نشستیں حاصل کیں۔ جب سے لداخ کو 2019 میں یونین ٹیریٹری (UT) کے طور پر تشکیل دیا گیا تھا یہ پہلے انتخابات تھےواضح رہے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)  صرف دو سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی۔

نیشنل کانفرنس  جو کہ پین انڈیا انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوسیو الائنس (انڈیا) کا ایک حصہ ہے، نے 12 نشستیں حاصل کیں، جبکہ کانگریس نے 10 نشستیں حاصل کیں۔ انڈیا کے شراکت دار بی جے پی سے ایک سیٹ پر ہار گئے جہاں انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف امیدوار کھڑے کیے تھے اور دوستانہ مقابلہ ہوا تھا۔ دو نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔

انتخابی مہم کے دوران، نیشنل کانفرنس نے 5 اگست 2019 کو مرکز کے اقدامات پر ایک ریفرنڈم کے طور پر انتخابات کو پیش کیا، جب جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی پوزیشن ختم ہو گئی اور ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ جبکہ بی جے پی نے یہ انتخابات 2019 کے بعد خطے میں شروع کیے گئے ترقیاتی اقدامات پر لڑا تھا۔

نیشنل کانفرنس  کے نائب صدر عمر عبداللہ نے انگریزی روزنامے’ دی ہندو ‘کو بتایا۔ "یہ بی جے پی کی سیاست کا زبردست انکار  ہے۔کارگل کے لوگوں نے دکھایا ہے کہ وہ 5 اگست 2019 کو ان کے ساتھ جو سلوک کیا گیاوہ  اس کی حمایت یا اس سے اتفاق نہیں کرتے۔‘‘

4 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں 74,026 رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 77.61فیصد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’یہ انتخابی نتائج بی جے پی کے لیے جاگنے کی کال کے طور پر کام کریں گے۔ اب وقت آگیا ہے کہ راج بھون اور غیر منتخب نمائندوں کے پیچھے چھپنا بند کیا جائے اور اس کے بجائے جموں و کشمیر میں جمہوری طور پر منتخب حکومت کی عوام کی جائز خواہش کو تسلیم کیا جائے۔ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ عوام کی آواز سنی جائے اور ان کا احترام کیا جائے۔‘‘

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے پارٹی کی کارکردگی کو راہل  گاندھی کے دورے کا سہرا  قرار دیا۔ مسٹر رمیش نے کہا، ’’یہ [نتائج] راہل گاندھی کا لداخ میں گزشتہ ماہ جاری ’بھارت جوڑو یاترا‘ کا براہ راست اثر ہے۔‘‘

اگرچہ نیشنل کانفرنس -کانگریس کا "قبل از انتخابات اتحاد” تھا، لیکن انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف امیدواروں کو میدان میں اتارا جسے انہوں نے "دوستانہ مقابلہ” قرار دیا۔ درحقیقت، یہ پہلا الیکشن تھا جس کا سامنا انڈیا بلاک کے شراکت داروں کو ہوا، جب سے حزب اختلاف کا  انڈیا اتحاد جولائی میں قائم ہوا تھا۔

تاہم، ایک "دوستانہ مقابلے” میں اتحاد کو کارگل کے زنسکار علاقے میں ایک نشست کی قیمت ادا کرنا پڑی۔ بی جے پی نے 177 ووٹوں کے فرق کے ساتھ، بدھ مت کی اکثریت والے سٹاکچے کھنگرال حلقہ میں، جہاں کل 2,565 ووٹ ڈالے گئے، ایک چھوٹی سی جیت حاصل کی۔ بی جے پی کی جیتنے والی امیدوار، پدما دورجے نے 1,007 ووٹ حاصل کیے، اس کے بعد کانگریس کے سید حسن کو 830 ووٹ ملے، اور این سی کے غلام حسین نے 479 ووٹ حاصل کیے، اگر وہ مل کر لڑتے تو NC-کانگریس کا اتحاد 1,309 ووٹ حاصل کر سکتا تھا۔بی جے پی نتائج سے زیادہ خوش نہیں ہے، اس حقیقت کو دیکھتے ہوئے کہ لداخ میں بی جے پی کا ایک ایم پی ہے اور اس علاقے پر 2019 سے مرکز کی براہ راست حکومت ہے۔

جماعت اسلامی ہند نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تصادم کے بھڑکنے پر تشویش کا اظہار کیا

0
جماعت-اسلامی-ہند-نے-اسرائیل-اور-فلسطین-کے-درمیان-تصادم-کے-بھڑکنے-پر-تشویش-کا-اظہار-کیا

جماعت اسلامی ہند نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حالیہ بڑے پیمانے پر ہونے والی تصادم پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔میڈیا کو جاری بیان میں جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حالیہ بڑے پیمانے پر ہونے والے تصادم پر ہمیں گہری تشویش ہے، یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ موجودہ کشیدگی تشدد کا نتیجہ فلسطینیوں کے خلاف انتہائی دائیں بازو کی نیتن یاہو حکومت کی طرف سے شروع کی گئی اسرائیلی جارحیت کا نتیجہ ہے جس میں اب تک بچوں سمیت سینکڑوں افراد کی جانیں جا چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی علاقوں پر قبضے اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی وجہ سےحالات سنگین ہورہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو اسرائیل کے اس ظالمانہ روش پر کنٹرول کرتے ہوئے یہودی بستیوں کی توسیع کو فوری طور پر روکنا چاہیے۔ ہم عالمی برادری سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل کو ان واقعات کو غزہ میں فلسطینی شہریوں کے خلاف غیر متناسب جنگ شروع کرنے کے بہانے استعمال کرنے سے روکے۔

جماعت اسلامی ہند گاندھی جی کے اس مشہور قول پر یقین رکھتی ہے جو ہندوستان کی قدیم پالیسی کی بنیاد رہی ہے کہ ‘فلسطین فلسطینیوں کا ہے جس طرح انگلستان انگریزوں کا ہے یا فرانس فرانسیسیوں کا ہے۔‘‘ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ حکومت ہند فلسطینیوں کی حمایت کرے، فلسطینیوں کی اپنی ریاست قائم کرنے میں مدد کرے اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اپنا عالمی اثر و رسوخ استعمال کرے۔”

جسٹس جے کے مہیشوری نے ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح کیا

0
جسٹس-جے-کے-مہیشوری-نے-ایک-روزہ-بین-الاقوامی-کانفرنس-کا-افتتاح-کیا

جامعہ ہمدرد نے ہفتہ کو "تنوع اور مطابقت: ہندوستان کی تعریف” کے موضوع پر ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ریلیز میں کہا گیا کہ کانفرنس کا اہتمام جامعہ ہمدرد اور گلوبل ڈائیلاگ فورم (ایک تھنک ٹینک فورم)، نئی دہلی نے مشترکہ طور پر ایچ اے ایچ کنونشن سینٹر، جامعہ ہمدرد کیمپس، نئی دہلی میں کیا۔

جسٹس جے کے مہیشوری، سپریم کورٹ آف انڈیا نے کانفرنس کا افتتاح کیا۔ اپنے افتتاحی خطاب میں انہوں نے افراد پر زور دیا کہ وہ واقعی ایک جامع قوم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ جسٹس مہیشوری ‘تنوع اور مطابقت: ہندوستان کی تعریف’ کے موضوع پر ایک کانفرنس میں کلیدی خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے ہندوستانی آئین میں پائی جانے والی تنوع کی اقدار کے تحفظ پر زور دیا اور کہا کہ اسے صرف شمولیت کے ذریعے ہی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ”میری رائے میں سماجی شمولیت کی منزلوں کو حاصل کرنے کا راستہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ ہم انفرادی سطح پر ایک حقیقی جامع معاشرے کے لیے اپنا کردار ادا نہ کریں۔‘‘انہوں نے کہا کہ سماجی طور پر ایک جامع معاشرے کی تشکیل ہمدردی کو فروغ دینے، تعصبات کو ختم کرنے اور تنوع کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ہندوستان کے آئین کی اہمیت پر زور دیا جو تنوع اور شمولیت میں اتحاد کے لیے ایک قابل ذکر ثبوت کے طور پر کھڑا ہے۔ یہ ایک ایسی قوم کی تعمیر کے لیے اپنے فریمرز کے وژن کو سمیٹتا ہے جو اپنی بھرپور ثقافتوں، زبانوں، مذاہب اور روایات کا احترام کرے اور اسے قبول کرے۔‘‘

اس دوران گلوبل ڈائیلاگ فورم کے چیئرمین موسیٰ منوہرن نے اپنے خطاب میں دنیا بھر میں تنوع اور مطابقت کی موجودہ مطابقت پر زور دیا کیونکہ لوگ اپنی منفرد شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے اس بات کی وضاحت کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں کہ کیا انہیں متحد کرتا ہے۔ مسٹر منوہرن نے مزید کہا کہ "جدوجہد الگ الگ اخلاقیات، جنس اور طرز زندگی پر مشتمل ہے۔”

پروفیسر (ڈاکٹر) ایم افشار عالم، وائس چانسلر، جامعہ ہمدرد نے اپنے صدارتی خطاب میں نشاندہی کی کہ ہندوستان کے لوگوں کو تنوع کو قبول کرنے اور قومی شناخت کو فروغ دینے کے درمیان صحیح توازن قائم کرنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔ "

اس دوران ڈاکٹر سیدہ سیدین حمید (سابق ممبر، پلاننگ کمیشن)؛ ڈاکٹر یوہانون مار ڈیمیٹریوس، مالانکارا آرتھوڈوکس سیریئن چرچ کے دہلی ڈائوسیز، کمال فاروقی، سابق چیئرمین، دہلی اقلیتی کمیشن، مسٹر خورشید غنی، آئی اے ایس (ریٹائرڈ) وغیرہ موجود تھے۔

بی جے پی نے جمہوریت کے لئے خطرہ پیدا کیا:اکھلیش

0
بی-جے-پی-نے-جمہوریت-کے-لئے-خطرہ-پیدا-کیا:اکھلیش

سماج وادی پارٹی(ایس پی) کے قومی صدر و سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے آج بی جے پی پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے جمہوریت کے لئے خطرہ پیدا کیا ہے۔

سماج وادی پارٹی کے ریاستی دفتر لکھنؤ کے ڈاکٹر رام منوہر لوہیا آڈیٹوریم میں سماج وادی پارٹی بابا صاحب واہنی اور سماج وادی پارٹی(ایس سی)سیل کے ذمہ داران  کی مشترکہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے اکھلیش نے کہا کہ بی جے پی بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیدکر کے بنائے آئین کو تبدیل کرنے کی تیاری میں ہے۔ محرومین، استحصال زدہ، پچھڑوں دلتوں کو حقوق سے محروم کررہی ہے۔ آوٹ سورسنگ کر کے نوکریوں کو ختم کررہی ہے۔ بی جے پی سماجی انصاف کے حق میں بھی نہیں ہے۔ وہ ذات پر مبنی مردم شماری نہیں چاہتی ہے۔ سال 2024 کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کے این ڈی اے کو پی ڈی اے(پچھڑا۔ دلت، اقلیت)ہرائےگا۔

ایس پی کے قومی صدر نے کہا کہ آج کی میٹنگ میں سماج وادی پارٹی کے اراکین اسمبلی، لیڈروں اور کارکنوں سے ملی تجاویز کو لے کر بہوجن سماج کے درمیان جائیں گے اور سماج وادی پارٹی کو مضبوط کریں گے۔ بی جے پی حکومت ای ڈی۔ سی بی آئی اور انکم ٹیکس سے جتنے چھاپے ڈلوائے گی عوام اتنا زیادہ ناراض ہونگے۔ بی جے پی لوگوں کو ڈرانے کے چھاپے ڈلوارہی ہے لیکن جمہوریت میں کوئی ڈرتا نہیں ہے۔