بدھ, مارچ 25, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 69

سپریم کورٹ نے این سی پی لیڈر فیضل کو عبوری راحت دی، ایم پی کے طور پر بحالی کی راہ ہموار

0
سپریم-کورٹ-نے-این-سی-پی-لیڈر-فیضل-کو-عبوری-راحت-دی،-ایم-پی-کے-طور-پر-بحالی-کی-راہ-ہموار

سپریم کورٹ نے پیر کو نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے رہنما محمد فیضل کو آنجہانی مرکزی وزیر پی ایم سعید کے داماد کے قتل کی کوشش کے مقدمے میں عبوری راحت دیتے ہوئے پارلیمنٹ میں ان کی رکنیت بحالی کی راہ ہموار کی ۔

جسٹس ہریشی کیش رائے اور سنجے کرول کی بنچ نے لکشدیپ کے ایم پی فیصل کی عرضی پر کیرالہ ہائی کورٹ کے 3 اکتوبر کے حکم پر روک لگا دی۔ سپریم کورٹ نے مسٹر فیضل کی درخواست پر یونین ٹیریٹری انتظامیہ کو نوٹس جاری کیا اور اسے چار ہفتوں کے اندر اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت کی۔

ہائی کورٹ نے ایم پی فیضل کی سزا پر روک لگانے سے انکار کردیا تھا جس کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی۔ہائی کورٹ کے 3 اکتوبر کے فیصلے کے پیش نظر لوک سبھا سکریٹریٹ نے 4 اکتوبر کو انہیں دوسری بار پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔

اس سے قبل لکشدیپ کی سیشن کورٹ کے حکم کے بعد لوک سبھا سکریٹریٹ نے انہیں 13 جنوری کو پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔ سیشن کورٹ نے اسے 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

ایم پی فیضل اور تین دیگر کو 2009 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران آنجہانی مرکزی وزیر پی ایم سعید کے داماد محمد صالح کو قتل کرنے کی کوشش کرنے کے الزام میں 11 جنوری 2023 کو لکشدیپ کے کاوارتی کی ایک سیشن عدالت نے 10 سال قید کی سزا کے ساتھ ہر شخص پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ کا فیصلہ سنایا تھا۔

اسمبلی انتخابات: کانگریس نے ’محبت‘ تو بی جے پی نے ’وقار‘ کے لیے مانگا ووٹ، آئیے جانیں کس نے کیا کہا!

0
اسمبلی-انتخابات:-کانگریس-نے-’محبت‘-تو-بی-جے-پی-نے-’وقار‘-کے-لیے-مانگا-ووٹ،-آئیے-جانیں-کس-نے-کیا-کہا!

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے پیر کے روز مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان، تلنگانہ اور میزورم میں اسمبلی انتخابات کے لیے تاریخوں کا اعلان کر دیا۔ پانچوں ریاستوں میں ووٹ نومبر کی مختلف تاریخوں میں ڈالے جائیں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی ایک ساتھ 3 دسمبر کو ہوگی۔ انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہوتے ہی قومی و ریاستی پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران کا رد عمل بھی سامنے آنا شروع ہو گیا۔ ایک طرف بی جے پی نے اپنے آفیشیل ایکس ہینڈل پر لکھا ہے ’’جس نے بڑھایا ملک کا وقار، اس بار کیجیے اس کو ووٹ!‘‘ دوسری طرف کانگریس نے ’ایکس‘ پر کیے گئے پوسٹ میں لکھا ہے ’’آپ کا ووٹ محبت کے نام۔‘‘ مختلف پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران کا بھی بیان اسمبلی انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد سامنے آیا ہے، آئیے ڈالتے ہیں کچھ بیانات پر نظر۔

بی آر ایس (بھارتیہ راشٹر سمیتی):

الیکشن کمیشن نے تلنگانہ اسمبلی انتخاب کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ 30 نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے اور 3 دسمبر کو انتخابی نتائج کا اعلان ہوگا۔ آئیے، گاڑی (انتخابی نشان) کو ووٹ دیجیے۔ آئیے اپنے تلنگانہ میں وزیر اعلیٰ کے سی آر کی ترقیات اور فلاح پر مبنی حکمرانی کو جاری رکھیں..!

ملکارجن کھڑگے (قومی صدر، کانگریس):

5 ریاستوں میں انتخاب کے اعلان کے ساتھ ہی بی جے پی اور اس کے ساتھیوں کی وداعی کا راستہ بھی ہموار ہو گیا ہے۔ چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان، تلنگانہ اور میزورم میں کانگریس پارٹی مضبوطی کے ساتھ عوام کے پاس جائے گی۔ عوامی فلاح، سماجی انصاف اور ترقی پسند نظریہ ہی کانگریس پارٹی کی گارنٹی ہے۔

اشوک گہلوت (وزیر اعلیٰ، راجستھان):

پیارے راجستھانی باشندو، آج انتخاب کا اعلان ہو چکا ہے۔ آپ کے آشیرواد سے ہمیں 5 سال خدمت کرنے کا موقع ملا۔ آپ کے تعاون سے اپنی مدت کار میں ہم نے سارے کام دل سے کیے ہیں۔ بچت، راحت، سبقت کی تاریخی مفاد عامہ والی پالیسیوں کو نافذ کر سبھی تک مسکان بکھیرنے کی پورے من سے کوشش کی۔ جس سے راجستھان چار گنا رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اب ہمارا مقصد راجستھان مشن 2030 کے تحت نمبر 1 راجستھان کے عزم کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے۔ اس لیے ہماری درخواست ہے کہ ہم سبھی پورے من سے راجستھان کو اوّل بنانے میں مصروف ہو جائیں۔

بھوپیش بگھیل (وزیر اعلیٰ، چھتیس گڑھ):

ہیں تیار ہم! ’شروع ہو چکا ہے یُدھ (جنگ) ماٹی کے ابھیمان کا/نہیں رکے گا اَب یہ رتھ چھتیس گڑھیا سوابھیمان کا‘۔ نیا چھتیس گڑھ تیار کرنے کے عزم کے ساتھ ہر ایک چھتیس گڑھیا تیار ہے۔ ایک بار پھر بھروسے کے ہاتھ جڑیں گے۔ بھروسہ برقرار، پھر سے کانگریس سرکار۔

شیوراج سنگھ چوہان (وزیر اعلیٰ، مدھیہ پردیش):

الیکشن کمیشن کا شکریہ! جمہوریت کے اس تہوار میں عوام بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے، کیونکہ انتخاب کے ذریعہ سے ہی وہ اپنی اگلی حکومت چنے گی، جو مدھیہ پردیش کا مستقبل بنائے گی۔ مدھیہ پردیش ایک منکسرالمزاج ریاست ہے۔ ہمارے پاس عزت مآب وزیر اعظم نریندر مودی جی کی شکل میں ایک باوقار قیادت ہے۔ مودی جی مدھیہ پردیش کی عوام کے دل میں ہیں۔ عزت مآب قومی صدر جے پی نڈا اور عزت مآب امت شاہ کی رہنمائی ہمیں مل رہی ہے۔ ریاستی صدر وی ڈی شرما اور ہم سبھی کارکنان خوب محنت کریں گے، کوششوں بھی خوب ہوں گی اور مجھے پورا یقین ہے کہ اب تک کی سب سے بڑی جیت بی جے پی حاصل کرے گی۔

کمل ناتھ (مدھیہ پردیش کانگریس صدر):

مدھیہ پردیش کی معزز عوام گزشتہ کئی سالوں سے جس تاریخ کا انتظار کر رہی تھی، آج باضابطہ اس کا اعلان ہو گیا۔ 17 نومبر کو مدھیہ پردیش میں ووٹنگ ہے۔ یہ دن جمہوریت کو پامال کرنے والوں کو سبق سکھانے اور سچائی کی حکومت از سر نو تشکیل دینے کا دن ہوگا۔ میں کانگریس کے کارکنان اور مدھیہ پردیش کی عوام سے گزارش کرتا ہوں کہ مدھیہ پردیش کی ترقی کو اور مدھیہ پردیش کے مستقبل کو نگاہ میں رکھ کر انتخاب کی تیاری کریں اور صحیح وقت پر صحیح جگہ انگلی رکھ کر نئے مدھیہ پردیش کی تعمیر کا راستہ ہموار کریں۔ 3 دسمبر کو مدھیہ پردیش میں عوام کی حکومت کی فتح پر مہر لگ جائے گی۔

رندیپ سرجے والا:

17 نومبر کی تاریخ مدھیہ پردیش میں ’بدلاؤ کا سیلاب‘ لانے والا دن ہوگا۔ ساڑھے 18 سال سے بی جے پی اور شیوراج حکومت کی بدتر حکمرانی اور اعمال بد… لوٹ، گھوٹالوں، بدعنوانیوں اور چوطرفہ مظالم سے بھرے ’جنگل راج‘ کے خلاف… مدھیہ پردیش کے ’جوش اور غصہ‘ کے اظہار کا دن ہوگا۔ غریبوں، پسماندوں، دلتوں، قبائلیوں، کسانوں اور نوجوانوں کو انصاف کی راہ دکھانے والا دن ہوگا۔ مدھیہ پردیش کی بیٹیوں کو تحفظ اور بھروسہ دلانے والا دن ہوگا۔ جھوٹ کا اختتام اور سچ کی جیت کا دن ہوگا۔ کانگریس کے ’ہاتھ‘ کو ہر وعدہ پورا کرنے کی طاقت دینے کا دن ہوگا۔ مدھہی پردیش کی خوشحالی اور ترقی کے عزم کا دن ہوگا۔ تیار ہے مدھیہ پردیش، آ رہی ہے کانگریس۔

ڈینگو: مغربی بنگال کو خوفناک حالات کا سامنا، دہلی میں بھی بڑھ رہی مریضوں کی تعداد

0
ڈینگو:-مغربی-بنگال-کو-خوفناک-حالات-کا-سامنا،-دہلی-میں-بھی-بڑھ-رہی-مریضوں-کی-تعداد

مغربی بنگال میں ڈینگو کے مریضوں کی تعداد تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ حالات تشویشناک اور خوفناک حد تک خراب ہو رہے ہیں۔ مغربی بنگال محکمہ صحت کے پاس دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اب تک ڈینگو کے 56707 معاملے درج کیے گئے ہیں۔ ان میں سے اتوار کی شام تک گزشتہ سات دن میں ہی 10 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ ڈینگو سے ریاست میں اموات بھی ہو رہی ہیں لیکن محکمہ صحت نے اب تک اموات کی کوئی تعداد نہیں بتائی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ڈینگو سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 60 بتائی جا رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ راجدھانی دہلی سمیت ملک کی کئی ریاستوں میں مچھر سے پیدا ہونے والے امراض کے معاملے تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔ دہلی کے اسپتالوں میں ان دنوں مریضوں کی تعداد میں لگاتار اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ او پی ڈی میں ان دنوں بخار کی شکایت کے ساتھ آ رہے بیشتر مریضوں میں ڈینگو اور چکن گنیا کی تشخیص ہو رہی ہے۔ حالانکہ بیشتر مریض معمولی علاج کے ساتھ ٹھیک ہو کر گھر واپس جا رہے ہیں، لیکن ڈاکٹروں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈینگو اور چکن گنیا وغیرہ مرض کی علامات پر وقت رہتے دھیان دیں اور علاج کرائیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈینگو اور چکن گنیا دونوں کی کئی علامتیں یکساں ہو سکتی ہیں۔ ایسے میں ان کے تعلق سے لوگوں میں کنفیوژن دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ دونوں ہی بیماریاں مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتی ہیں۔ ماہرین صحت بتاتے ہیں کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں رواں سال مچھر سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا خطرہ زیادہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس کی اہم وجہ اس بار ہوئی بے موسم کی بارش ہو سکتی ہے۔

راجستھان انتخاب: بی جے پی کا بڑا داؤ، 41 امیدواروں کی پہلی فہرست میں 7 اراکین پارلیمنٹ کو دیا ٹکٹ

0
راجستھان-انتخاب:-بی-جے-پی-کا-بڑا-داؤ،-41-امیدواروں-کی-پہلی-فہرست-میں-7-اراکین-پارلیمنٹ-کو-دیا-ٹکٹ

راجستھان اسمبلی انتخاب کے لیے تاریخوں کا اعلان ہونے کے کچھ دیر بعد بی جے پی نے اپنے 41 امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کر دی۔ جیسا کہ امید ظاہر کی جا رہی تھی، پارٹی نے مغربی بنگال اور مدھیہ پردیش کے طرز پر راجستھان میں بھی اپنے سرکردہ لیڈروں کو انتخابی میدان میں اتار کر ایک بڑا داؤ کھیلا ہے۔ امیدواروں کی پہلی فہرست میں جو نام دیکھنے کو مل رہے ہیں اس کے مطابق بی جے پی نے 7 اراکین پارلیمنٹ کو اسمبلی انتخاب میں امیدوار بنایا ہے۔

بی جے پی نے راجستھان انتخاب کے پیش نظر جاری کردہ اپنی پہلی فہرست میں سابق مرکزی وزیر اور رکن پارلیمنٹ راجیہ وردھن سنگھ راٹھوڑ کو جھوٹواڑا اسمبلی سیٹ سے، لوک سبھا رکن دیا کماری کو ودیادھر نگر سے اور لوک سبھا رکن بابا بالک ناتھ کو تجارا اسمبلی سیٹ سے، رکن پارلیمنٹ نریندر کمار کو منڈاوا سے، رکن پارلیمنٹ کروڑی لال مینا کو سوائی مادھوپور سے، رکن پارلیمنٹ بھاگیرتھ چودھری کو کشن گڑھ سے اور رکن پارلیمنٹ دیوجی پٹیل کو سانچور اسمبلی سیٹ سے امیدوار بنایا ہے۔ ان کے علاوہ پارٹی نے گنگا نگر سے جئے دیپ بہانی، بھادرا سے سنجیو بیناویل، ڈونگر گڑھ سے تاراچند سارسوت، جھنجھنو سے ببلو چودھری اور سجان گڑھ سے سنتوش میگھوال کو ٹکٹ دیا ہے۔

واضح رہے کہ انتخابی کمیشن نے آج راجستھان، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، تلنگانہ اور میزورم سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخاب کی تاریخوں کا اعلان کر دیا۔ انتخابی پروگرام کے مطابق راجستھان میں 23 نومبر کو ووٹنگ ہوگی اور 3 دسمبر کو نتائج سامنے آئیں گے۔ علاوہ ازیں میزورم میں 7 نومبر کو، چھتیس گڑھ میں 7 اور 17 نومبر کو، مدھیہ پردیش میں 17 نومبر کو اور تلنگانہ میں 30 نومبر کو انتخاب ہوں گے۔ سبھی ریاستوں کے انتخابی نتائج 3 دسمبر کو برآمد ہوں گے۔

5 ریاستوں میں انتخابات کا اعلان ہوتے ہی سیاسی ہلچل بڑھی، آئیے جانیں سبھی ریاستوں کی تفصیل

0
5-ریاستوں-میں-انتخابات-کا-اعلان-ہوتے-ہی-سیاسی-ہلچل-بڑھی،-آئیے-جانیں-سبھی-ریاستوں-کی-تفصیل

پانچ ریاستوں مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ، تلنگانہ اور میزورم میں اسمبلی انتخابات کے لیے تاریخوں کا اعلان چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار کے ذریعہ آج کر دیا گیا۔ مدھیہ پردیش میں 7 نومبر کو، راجستھان میں 23 نومبر کو، چھتیس گڑھ میں 7 اور 17 نومبر کو، تلنگانہ میں 30 نومبر کو اور میزورم میں 7 نومبر کو ووٹنگ ہوگی۔ ان سبھی ریاستوں کے نتائج ایک ساتھ 3 دسمبر کو سامنے آنے کی جانکاری چیف الیکشن کمشنر نے دی ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی سیاسی سرگرمیاں پانچوں ریاستوں میں بڑھ گئی ہیں۔ چونکہ مثالی ضابطہ اخلاق بھی مذکورہ بالا ریاستوں میں نافذ ہو گیا ہے، اس لیے اب سبھی پارٹیوں کے لیڈران سڑک اور گلیوں میں پہنچ کر ووٹرس کو لبھانے کی کوشش کریں گے۔

جن پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کا اعلان ہوا ہے، وہاں مجموعی طور پر 679 اسمبلی نشستیں ہیں۔ مدھیہ پردیش میں اس وقت بی جے پی کی حکومت ہے، جبکہ چھتیس گڑھ اور راجستھان میں کانگریس برسراقتدار ہے۔ دیگر دو ریاستوں کی بات کی جائے تو تلنگانہ میں کے. چندرشیکھر راؤ کی بی آر ایس (بھارتیہ راشٹر سمیتی) اقتدار میں ہے اور میزورم میں جورم تھنگا کی میزو نیشنل فرنٹ اقتدار پر قابض ہے۔ چونکہ 2024 میں عام انتخاب بھی ہونا ہے، اس لیے پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخاب کو ’سیمی فائنل‘ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔ بہرحال، آئیے جانتے ہیں پانچوں ریاستوں میں اس وقت کتنی اسمبلی سیٹیں ہیں، ان میں سے کتنی سیٹیں محفوظ ہیں اور یہاں کتنے ووٹرس اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

مدھیہ پردیش:

مدھیہ پردیش میں اسمبلی کی 230 سیٹیں ہیں جہاں 17 نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ انتخاب کے لیے نوٹیفکیشن 21 اکتوبر کو جاری ہوگا اور نامزدگی کی آخری تاریخ 30 اکتوبر مقرر کی گئی ہے۔ نامزدگی پرچوں کی جانچ 31 اکتوبر کو کی جائے گی اور نامزدگی پرچہ واپس لینے کی آخری تاریخ 2 نومبر ہوگی۔ مدھیہ پردیش کی 230 اسمبلی سیٹوں میں سے 35 سیٹیں ایس سی کے لیے اور 47 سیٹیں ایس ٹی کے لیے محفوظ ہیں۔ ریاست میں اسمبلی کی مدت کار 6 جنوری کو ختم ہو رہی ہے۔ یہاں تقریباً 5.6 کروڑ ووٹرس اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

راجستھان:

راجستھان میں اسمبلی کی 200 سیٹیں ہیں جن میں سے 25 سیٹیں ایس سی کے لیے اور 34 سیٹیں ایس ٹی کے لیے محفوظ ہیں۔ یہاں انتخاب 23 نومبر کو ہوگا اور اس کے لیے نوٹیفکیشن 30 اکتوبر کو جاری کیا جائے گا۔ امیدوار 6 نومبر تک نامزدگی کا پرچہ داخل کر سکیں گے اور 7 نومبر کو اس کی جانچ ہوگی۔ نامزدگی پرچہ واپس لینے کی آخری تاریخ 9 نومبر ہوگی۔ راجستھان اسمبلی کی مدت کار 14 جنوری کو ختم ہو رہی ہے۔ اس ریاست میں 5.25 کروڑ ووٹرس ہیں جو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

چھتیس گڑھ:

چھتیس گڑھ میں اسمبلی کی 90 سیٹیں ہیں جن میں 10 سیٹیں ایس سی اور 29 سیٹیں ایس ٹی کے لیے ریزرو ہیں۔ جن پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہوا ہے، ان میں چھتیس گڑھ واحد ریاست ہے جہاں 2 مراحل میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس کے لیے 7 نومبر اور 17 نومبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں 20 سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی جس کے لیے 13 اکتوبر کو نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا اور 20 اکتوبر تک نامزدگی داخل کیے جا سکیں گے۔ پرچہ نامزدگی کی جانچ 21 اکتوبر کو ہوگی جبکہ 23 اکتوبر تک نامزدگی واپس لیے جا سکیں گے۔

دوسرے مرحلے میں باقی 70 اسمبلی سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس کے لیے 21 اکتوبر کو نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا اور 30 اکتوبر تک نامزدگی کا پرچہ داخل ہو سکے گا۔ 31 اکتوبر کو نامزدگی کے پرچہ کی جانچ ہوگی، جبکہ 2 نومبر تک نامزدگی پرچہ واپس لیے جا سکیں گے۔ چھتیس گڑھ میں مجموعی طور پر 2.03 کروڑ ووٹرس اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ اس ریاست میں اسمبلی کی مدت کار 3 جنوری کو ختم ہو رہی ہے۔

تلنگانہ:

تلنگانہ اسمبلی کی مدت کار 16 جنوری کو ختم ہو رہی ہے۔ یہاں اسمبلی کی 119 نشستیں ہیں جن میں سے 19 سیٹیں ایس سی اور 12 سیٹیں ایس ٹی کے لیے محفوظ ہیں۔ تلنگانہ میں تقریباً 3.17 کروڑ ووٹرس اپنے حق رائے دہی کا استعمال 30 نومبر کو کریں گے۔ انتخاب کے لیے 3 نومبر کو نوٹیفکیشن جاری ہوگا اور 10 نومبر تک نامزدگی کا پرچہ داخل کیا جا سکے گا۔ پرچوں کی جانچ 13 نومبر کو کی جائے گی اور 15 نومبر تک امیدوار نامزدگی واپس لے سکیں گے۔

میزورم:

میزورم میں اسمبلی نشستوں کی تعداد 40 ہے اور اس کے لیے 8.52 لاکھ ووٹرس 7 نومبر کو ووٹ ڈالیں گے۔ انتخابی کمیشن کے مطابق 13 اکتوبر کو نوٹیفکیشن جاری ہوگا، 20 اکتوبر تک نامزدگی کا پرچہ داخل کیا جا سکے گا، 21 اکتوبر کو ان پرچوں کی جانچ ہوگی اور 23 اکتوبر نامزدگی کا پرچہ واپس لینے کی آخری تاریخ ہوگی۔ میزورم میں 39 سیٹیں ایس ٹی کے لیے ریزرو ہیں اور باقی 1 سیٹ جنرل امیدواروں کے لیے ہے۔ اس ریاست میں اسمبلی کی مدت کار 17 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے۔

ہیرو موٹوکارپ کے چیف ایگزیکٹیو افسر پون منجال کے خلاف ایف آئی آر درج

0
ہیرو-موٹوکارپ-کے-چیف-ایگزیکٹیو-افسر-پون-منجال-کے-خلاف-ایف-آئی-آر-درج

دہلی پولیس نے ہیرو موٹوکارپ کے چیف ایگزیکٹیو افسر (سی ای او) پون منجال اور کچھ دیگر عہدیداروں کے خلاف جعلسازی، دھوکہ دہی اور پانچ کروڑ روپے سے زیادہ کے فرضی بل بنانے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ منجال کے خلاف پہلے سے ہی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ منی لانڈرنگ معاملے کی جانچ کر رہا ہے، حالانکہ تازہ معاملہ اس سے متعلق نہیں ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق شکایت دہندہ برونس لاجسٹکس پرائیویٹ لمیٹڈ کے روپ درشن پانڈے نے ہیرو موٹوکارپ لمیٹڈ (ایچ ایم سی ایل) کو ملزم نمبر 1، منجال کو ملزم نمبر 2، وکرم سیتارام کو ملزم نمبر 3، ہری پرکاش گپتا کو ملزم نمبر 4 اور ڈیلائٹ ہیسکنس اینڈ سیلس لمیٹڈ میں پارٹنر منجلا بنرجی کو ملزم نمبر 5 بنایا ہے۔ سیتارام اور گپتا دونوں ہیرو موٹوکارپ میں عہدیدار ہیں۔

شکایت دہندہ نے الزام لگایا ہے کہ ملزم نمبر 1، 2، 3 اور 4 ادارہ میں عہدیدار اور اہم ایمپلائر ہیں، جبکہ ملزم نمبر 5 سال 2009 اور 2010 میں کمپنی کی منظور شدہ آڈیٹر تھیں اور اس طرح یہاں سبھی ملزمین نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر جعلسازی، دھوکہ دہی اور ہیرو موٹوکارپ کے اکاؤنٹس بک میں ہیرا پھیری کرنے کے ناجائز کام کیے ہیں۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ’’سبھی اپنے مجرمانہ اعمال اور غلطی کے مشترکہ طور سے اور الگ الگ ذمہ دار ہیں۔ شکایت دہندہ کے ذریعہ لگائے گئے الزامات کی شروعات میں یہ کہا گیا ہے کہ ملزم کمپنی نمبر 1 نے ملزم نمبر 2 اور 3 کے ساتھ مل کر 2009 اور 2010 کے کُل 59452525 روپے کے فرضی ماہانہ بل بنائے، جس میں کہا گیا تھا کہ مہینہ وار بلوں پر دستخط کیے گئے اور ان پر ’ہیرو موٹوکارپ لمیٹڈ‘ کی مہر لگی ہے۔ انھوں نے شکایت دہندہ کمپنی کے خلاف اپنے اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 59452525 روپے کا غلط ڈیبٹ بیلنس بنایا ہے اور فرضی بلوں کے خلاف 5551777 روپے کا غلط سی ای این وی اے ٹی (سروس ٹیکس) کریڈٹ حاصل کیا ہے اور انکم ٹیکس محکمہ کو دھوکہ دیا۔‘‘

الزام میں کہا گیا ہے کہ شکایت دہندہ کمپنی نے 2009 اور 2010 میں کبھی یہ بل جمع نہیں کیے تھے کیونکہ کمپنی رجسٹرار، نئی دہلی کے ذریعہ جاری سرٹیفکیٹ آف انکورپوریشن ’ہیرو موٹوکارپ لمیٹڈ‘ 27 جولائی 2011 کو وجود میں آیا تھا۔ ایف آئی آر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شکایت دہندہ برینس لاجسٹکس سالیوشنز لمیٹڈ کا تنہا مالک ہے۔ وہ برینس لاجسٹکس پرائیویٹ لمیٹڈ میں پروموٹرس بھی ہے جس کے ساتھ ایچ ایم سی ایل نے مین پاور اور متعلقہ سروسز کے لیے معاہدہ کیا تھا۔

شکایت دہندہ کمپنی نے الزام لگایا ہے کہ اس نے جعلسازی اور دھوکہ دہی کے مذکورہ بالا اعمال کی جانکاری ملزم نمبر 5 (میسرس فرگیوسن میں اُس وقت کی آڈیٹر) کو دی تھی، جس نے 16 اکتوبر 2019 کو جواب میں کہا تھا کہ اس نے 2009 اور 2010 کے ملزم کو اکاؤنٹس کا آڈٹ کیا ہے۔ حالانکہ انھوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ اکاؤنٹس میں کیا ملا ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ تھانے میں تعزیرات ہند کی دفعہ 463، 467، 468، 471، 34، 477اے، 120بی اور 406 کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے اور آگے کی جانچ جاری ہے۔

کانگریس حکمراں ریاستوں میں ہوگی ذات پر مبنی مردم شماری: راہل گاندھی

0
کانگریس-حکمراں-ریاستوں-میں-ہوگی-ذات-پر-مبنی-مردم-شماری:-راہل-گاندھی

مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان، تلنگانہ اور میزورم میں اسمبلی انتخاب کے لیے تاریخوں کا اعلان ہو گیا ہے۔ ان تاریخوں کے اعلان کے ساتھ ہی آج سے پانچوں ریاستوں میں مثالی ضابطہ اخلاق بھی نافذ ہو گیا۔ انتخاب کے لیے تاریخوں کے اعلان کے ٹھیک بعد دہلی میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں انتخاب سے جڑے ایشوز اور بی جے پی کو گھیرنے کی پالیسی پر تبادلہ خیال ہوا۔

کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی میٹنگ کے بعد راہل گاندھی نے میڈیا سے خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ میٹنگ میں ذات پر مبنی مردم شماری کو لے کر تبادلہ خیال ہوا اور سبھی نے اس کی حمایت کی ہے۔ راہل گاندھی نے ساتھ ہی بتایا کہ کانگریس کے وزرائے اعلیٰ اپنی اپنی ریاستوں میں ذات پر مبنی مردم شماری کرائیں گے۔ یعنی کانگریس حکمراں ریاستوں میں بہار کی طرح ذات پر مبنی مردم شماری کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔

راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’ہندوستان کے مستقبل کے لیے ذات پر مبنی مردم شماری ضروری ہے۔ ذات پر مبنی مردم شماری کے بعد ترقی کا ایک نیا راستہ کھلے گا۔ کانگریس پارٹی اس کام کو پورا کر کے ہی چھوڑے گی۔ یاد رکھیے… جب ہم وعدہ کرتے ہیں تو اسے توڑتے نہیں ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’آج دو ہندوستان بن رہے ہیں۔ ایک اڈانی والا، دوسرا سب کا۔ اس لیے ہم ذات پر مبنی مردم شماری کے بعد معاشی سروے بھی کرائیں گے۔‘‘

او بی سی کا تذکرہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ملک میں جس کی آبادی تقریباً نصف فیصد کے آس پاس ہے، حکومت میں اس کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ملک کا ایکسرے ہونا چاہیے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہندوستان میں جو شراکت داری او بی سی، قبائل کی ہونی چاہیے وہ نہیں ہے۔ ایسے میں اگر ذات پر مبنی مردم شماری ہوتی ہے تو سچائی سامنے آ جائے گی۔ راہل گاندھی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر بی جے پی ذات پر مبنی مردم شماری سے بھاگ کیوں رہی ہے۔ بی جے پی پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ انھوں نے ملک میں جو نفرت پھیلائی ہے، وہ کسی کو اچھا نہیں لگ رہا۔ ہم بی جے پی پر دباؤ بنا کر ان سے یہ (ذات پر مبنی مردم شماری) کام کرائیں گے۔ اگر بی جے پی یہ کام نہیں کرتی ہے تو وہ راستہ چھوڑ دیں۔

بدل رہا موسم کا مزاج، دہلی-این سی آر میں سردی جلد دے گی دستک، جنوبی ریاستوں میں بارش کا الرٹ

0
بدل-رہا-موسم-کا-مزاج،-دہلی-این-سی-آر-میں-سردی-جلد-دے-گی-دستک،-جنوبی-ریاستوں-میں-بارش-کا-الرٹ

ملک میں گرمی کی شدت دھیرے دھیرے کم ہو رہی ہے اور موسم کا مزاج بدلتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ سکم میں بادل پھٹنے کے بعد تیستا ندی میں اچانک آئے سیلاب کے بعد حالات بے قابو ہو گئے ہیں اور درجنوں اموات کی خبر بھی سامنے آ چکی ہیں۔ یہاں موسم میں سردی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ملک کی راجدھانی دہلی کی بات کریں تو یہاں بھی دھیرے دھیرے لوگوں کو ٹھنڈ کا احساس ہو رہا ہے۔ یہاں درجہ حرارت میں گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے۔ اس درمیان محکمہ موسمیات نے تمل ناڈو، کیرالہ، کرناٹک جیسی ریاستوں میں آج زوردار بارش کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی میں 9 اکتوبر کو کم از کم درجہ حرارت 20 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 ڈگری ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی آئی ایم ڈی کا اندازہ ہے کہ راجدھانی میں منگل کو ہلکی بارش ہوگی اور نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا، غازی آباد، فرید آباد میں چھینٹیں پڑنے کا امکان ہے۔ پہاڑی علاقوں میں برف باری بھی شروع ہونے لگی ہے جس سے ٹھنڈ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ، جموں و کشمیر، لداخ، گلگت بلتستان، مظفر آباد میں الگ الگ مقامات پر گرج اور چمک کے ساتھ درمیانے درجہ کی بارش ہو سکتی ہے۔

آئی ایم ڈی کے مطابق آج یعنی پیر کے روز سے لے کر 11 اکتوبر کے دوران تمل ناڈو میں کچھ مقامات پر گرج اور چمک کے ساتھ ہلکی سے بھاری بارش ہونے کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں 10 اکتوبر کو کرناٹک اور کیرالہ میں زوردار بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آئندہ دو سے تین دن کے دوران اتر پردیش، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، بہار، جھارکھنڈ، اڈیشہ، مہاراشٹر، ساؤتھ ویسٹ میں مانسون کی پوری طرح سے وداعی ہو جائے گی۔

عدالتی سماعتوں کو ورچوئل کرنے کی تیاری، سپریم کورٹ نے انفارمیشن کمیشن سے مانگا جواب

0
عدالتی-سماعتوں-کو-ورچوئل-کرنے-کی-تیاری،-سپریم-کورٹ-نے-انفارمیشن-کمیشن-سے-مانگا-جواب

سپریم کورٹ نے پیر کے روز سبھی ریاستوں کے انفارمیشن کمیشنز سے عرضی گزاروں کو سماعت کے لیے ہائبرڈ متبادل مہیا کرانے کو لے کر جواب مانگا ہے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی صدارت والی بنچ نے ملک کی سبھی ریاستوں کے انفارمیشن کمیشنز کو ہدایت دی ہے کہ وہ عرضی گزاروں کے لیے شکایتوں کی ای-فائلنگ اور سماعت کی سہولت دیں۔

چیف جسٹس کی صدارت اور جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس منوج مشرا کی رکنیت والی بنچ نے کہا کہ سبھی ریاستوں کے انفارمیشن کمیشن کو سماعت کے ہائبرڈ متبادل کے بارے میں جانکاری دینی چاہیے۔ عدالت نے مانا کہ تکنیک کی مدد سے انصاف پانے کے عمل میں تیزی آئے گی۔ اس کا کہنا ہے کہ انفارمیشن کمیشنز کو ہدایت دی گئی ہے کہ سبھی عرضی گزاروں کے لیے سلسلہ وار طریقے سے ای-فائلنگ کی سہولت یقینی بنانی چاہیے۔

یہ تبصرہ سپریم کورٹ نے ایک عرضی پر سماعت کے دوران کیا ہے۔ اس عرضی میں ریاستی انفارمیشن کمیشنز کی بہتر کارکردگی کے لیے کچھ اہم ہدایات دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عرضی گزاروں کو فزیکل (جسمانی طور پر) کے ساتھ ہی ورچوئل طریقے سے بھی سماعت کا متبادل دیا جانا چاہیے۔

5 ریاستوں میں انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی بی جے پی بریگیڈ کی وداعی کا بھی راستہ ہموار: کھڑگے

0
5-ریاستوں-میں-انتخابات-کے-اعلان-کے-ساتھ-ہی-بی-جے-پی-بریگیڈ-کی-وداعی-کا-بھی-راستہ-ہموار:-کھڑگے

انتخابی کمیشن نے راجستھان، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، تلنگانہ اور میزورم میں اسمبلی انتخاب کی تاریخوں کا اعلان کر دیا ہے۔ انتخابی تاریخوں کے اعلان کے ساتھ ہی کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔

ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 5 ریاستوں میں انتخاب کے اعلان کے ساتھ ہی بی جے پی اور اس کے ساتھیوں کی وداعی کا راستہ بھی ہموار ہو گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، راجستھان، تلنگانہ اور میزورم میں کانگریس پارٹی مضبوطی کے ساتھ عوام کے پاس جائے گی۔ کھڑگے کا کہنا ہے کہ عوامی فلاح، سماجی انصاف اور ترقی پسند نظریہ ہی کانگریس پارٹی کی گارنٹی ہے۔

واضح رہے کہ میزورم میں 7 نومبر کو، چھتیس گڑھ میں 7 اور 17 نومبر کو، مدھیہ پردیش میں 7 نومبر کو، راجستھان میں 23 نومبر کو اور تلنگانہ میں 30 نومبر کو اسمبلی انتخابات ہوں گے۔ ان سبھی ریاستوں کے نتائج 3 دسمبر کو برآمد ہوں گے۔