منگل, مارچ 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 67

کیا مودی حکومت نے بھارت کی دیرینہ فلسطین پالیسی ترک کر دی؟

0
کیا-مودی-حکومت-نے-بھارت-کی-دیرینہ-فلسطین-پالیسی-ترک-کر-دی؟

بھارت میں سفارتی امور کے ماہرین اور سیاست داں وزیر اعظم نریندر مودی کے اس فیصلے پرحیرت سے کہیں زیادہ تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ آخر ایسا کیا ہوا کہ مودی حکومت نے مشرق وسطیٰ کے حوالے سے اپنی دیرینہ پالیسی یکسر تبدیل کردی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اچانک نہیں ہوا۔ بھارت دہائیوں سے دھیرے دھیرے اسرائیل سے قربت بڑھاتا رہا ہے البتہ سن 2014 میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس کی رفتار کافی تیز ہو گئی۔

غیرملکی اور مشرق وسطیٰ امور کے ماہر صحافی اسد مرزا کا کہنا ہے کہ بیشتر ممالک آج اقتصادی فائدے کو مدنظر رکھتے ہیں اور بھارت بھی اس سے مستشنیٰ نہیں ہے۔ اسد مرزا نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ بھارت کے تجارتی اور دفاعی تعلقات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ وہ ہتھیار اور ٹیکنالوجی درآمد کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت اسرائیل کے ساتھ تعلقات خراب کرنا نہیں چاہتی۔”حالانکہ اس کے مضمرات ضرور ہوں گے۔”

خیال رہے کہ سن 1971 اور 1999 کی بھارت پاک جنگ کے دوران اسرائیل نے نئی دہلی کو ہتھیار، گولہ بارود اور خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔ سن 2017 کے بعد سے اسرائیل بھارت کو ہتھیاروں کے سب سے بڑے سپلائرز میں سے ایک ہے۔ دونوں براک 8 میزائل ڈیفنس سسٹم تیار کر رہے ہیں۔ اور نئی دہلی نے اسرائیل سے پیگاسس جاسوسی سافٹ ویئر بھی خریدے، گوکہ مودی حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔

اسد مرزا کا خیال ہے کہ اسرائیل کی کھل کر حمایت کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دونوں حکومتیں دائیں بازو کی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں اور اس سلسلے میں دونوں میں کافی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اسی کی عکاسی سوشل میڈیا پر بھی ہو رہی جہاں ہندو قوم پرست اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں پر خوشی اور شادمانی کا اظہار کرر ہے ہیں۔

اسد مرزا کہتے ہیں کہ "یہ وہ لوگ ہیں جنہیں تاریخ کا ذرا بھی علم نہیں۔ انہیں نہیں معلوم کہ اسرائیل نے فلسطین پر قبضہ کیا اور فلسطینیوں کو مقبوضہ علاقے میں دھکیل دیا۔یہ لوگ اپنی جہالت میں آنکھیں بند کرکے حکومت کے موقف کی تائید کر رہے ہیں۔”

بھارت ماضی میں اسرائیل کے خلاف بعض فلسطینی گروپوں یا افراد کی طرف سے تشدد کی کارروائیوں کی مذمت کرتا رہا ہے لیکن اس نے سرکاری طورپر کبھی بھی تمام فلسطینیوں کے لیے "دہشت گرد” کی اصطلاح استعمال نہیں کی تھی۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت نے اسرائیل کی ہمیشہ حمایت نہیں کی ہے۔ بھارت نے 1948 میں اسرائیل کے قیام کی مخالفت اور فلسطینی مہاجرین کے حقوق کی حمایت کی تھی۔1967میں چھ روزہ جنگ پر "انتہائی تشویش” کااظہار اور فلسطینیوں کے "جائز حقوق” کی تائید کی تھی۔ 2006 میں لبنان جنگ میں اسرائیل کو "غیر متناسب طاقت کا استعمال” روکنے کی اپیل کی تھی اور سن 2014 میں غزہ کی جنگ میں اسرائیل اور فلسطینی گروپوں کے مابین مذاکرات پر زور دیا تھا۔ اس نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کی تفتیش کے متعلق اقوام متحدہ کے قرارداد کی حمایت بھی کی تھی۔

حتی کہ بی جے پی کے رہنما اور بھارت کے سابق وزیر اعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپئی نے سن 1977 میں بھارت کے وزیر خارجہ کے طور پر دہلی میں ایک بڑے جلسہ عام میں کہا تھا، "ہمارا یہ واضح موقف ہے کہ عربوں کی جس زمین پر اسرائیل قبضہ کرکے بیٹھا ہے وہ زمین اس کو خالی کرنی ہوگی…جو عربوں کی زمین ہے اسے خالی ہونا چاہئے۔ جو فلسطینی ہیں ان کے اپنے جائزحقوق ملنے چاہئیں۔”

لیکن لگتا ہے کہ اب پورا منظر نامہ بدل گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم مودی کی اسرائیلی ہم منصب نیتن یاہو کے ساتھ سال 2017 میں اسرائیل کے اولگا بیچ پر ننگے پاوں چہل قدمی کرتے ہوئے مناظر جن لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہیں انہیں ہندو قوم پرست جماعت کے رہنماکے بیان سے قطعی حیرت نہیں ہوئی۔

متعدد سیاسی جماعتوں نے الزام لگایا کہ حکمراں بی جے پی اسرائیل حماس کی جنگ سے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کو مزید ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بائیں بازو کی جماعت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم ایل) کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ کا کہنا تھا کہ بی جے پی بھارت میں دہشت گردانہ حملوں اور حماس کی موجودہ جارحیت کو غلط طریقے سے یکساں بتانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اور مودی حکومت ایک بار پھر فلسطین پر قبضہ اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے جرائم پر آنکھیں موند کر تازہ واقعات کو مسلم مخالف نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔

شیو سینا کے رکن پارلیمان سنجے راوت کا کہنا تھا، "جہاں تک فلسطین کا تعلق ہے تو ہمارے ملک میں ایک روایت رہی ہے۔ اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے یاسر عرفات کی حمایت کی تھی۔ رکن پارلیمان اسد الدین اویسی کا کہنا تھا کہ بھارت ہمیشہ فلسطین کے کاز کا حامی رہا ہے۔

ادھر اپوزیشن کانگریس پارٹی نے بھی اسرائیلی جارجیت پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ پارٹی نے ایک بیان میں کہا، وہ "اسرائیل کے لوگوں پر حملوں کی مذمت کرتی ہے لیکن ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ فلسطینی عوام کی عزت نفس، مساوات اور باوقار زندگی کی جائز خواہشات کو صرف بات چیت اور مذاکرات کے ذریعہ پورا کیا جانا چاہئے۔”

دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نے 13 سال پرانے معاملے میں اروندھتی رائے کے خلاف مقدمہ چلانے کو دی منظوری

0
دہلی-کے-لیفٹیننٹ-گورنر-نے-13-سال-پرانے-معاملے-میں-اروندھتی-رائے-کے-خلاف-مقدمہ-چلانے-کو-دی-منظوری

دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) ونئے کمار سکسینہ نے مشہور خاتون مصنف اروندھتی رائے کے خلاف مقدمہ چلانے کو منظوری دے دی ہے۔ یہ مقدمہ سی آر پی سی کی دفعہ 196 کے تحت اروندھتی رائے اور شیخ شوکت حسین کے خلاف چلانے کو منظوری دی گئی ہے۔ دونوں کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 153اے، 153بی اور 505 کے تحت معاملہ درج کرنے کا حکم نئی دہلی کے میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ نے 27 نومبر 2010 کو دیا تھا، جس کے بعد ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ یعنی معاملہ 13 سال پرانا ہے۔

مقدمہ چلانے کی تجویز کو منظوری دیتے ہوئے ایل جی نے اس بات کو مانا کہ دہلی میں ایک عوامی تقریب کے دوران اروندھتی رائے اور سنٹرل یونیورسٹی، کشمیر کے بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ڈاکٹر حسین کی طرف سے دیے گئے بیانات کے لیے تعزیرات ہند کی دفعات 153اے (مذہب، ذات، مقامِ پیدائش، رہائش، زبان وغیرہ کی بنیاد پر مختلف گروپوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا)، 153بی (قومی سالمیت پر منفی اثر ڈالنے والے الزامات، دعوے) اور 505 (شرارتی بیانات) کے تحت پہلی نظر میں جرم کا معاملہ بنتا ہے۔

دراصل کشمیر کے ایک سماجی کارکن سشیل پنڈت نے 21 اکتوبر 2010 کو ’آزادی-دی آنلی وے‘ (آزادی- واحد راستہ) موضوع پر ’کمیٹی فار رلیز آف پالیٹکل پریزنرس‘ کے ذریعہ منعقد ایک تقریب میں مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر کرنے والے مختلف لوگوں اور مقررین کے خلاف 28 اکتوبر کو تلک مارگ تھانہ میں شکایت درج کرائی تھی۔ شکایت دہندہ نے الزام لگایا تھا کہ جس معاملے پر اظہارِ خیالات کیے گئے وہ کشمیر کو ہندوستان سے علیحدہ کرنے پر مبنی تھے۔ شکایت دہندہ نے الزام لگایا کہ تقریر اشتعال انگیز نوعیت کی تھی جو امن اور عوامی سیکورٹی کو خطرے میں ڈالنے والی بھی تھی۔

گجرات: موربی پل حادثہ پر ایس آئی ٹی نے سونپی 5000 صفحات کی رپورٹ، ’اوریوا‘ کو ٹھہرایا ذمہ دار

0
گجرات:-موربی-پل-حادثہ-پر-ایس-آئی-ٹی-نے-سونپی-5000-صفحات-کی-رپورٹ،-’اوریوا‘-کو-ٹھہرایا-ذمہ-دار

گجرات کے موربی میں جھولا پل ٹوٹنے کے معاملے میں ایس آئی ٹی نے گجرات ہائی کورٹ کو 5000 صفحات کی ایک تفصیلی رپورٹ سونپی ہے۔ اس حادثہ میں 135 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ منگل کے روز پیش رپورٹ میں اوریوا کمپنی کے اعلیٰ اہلکاروں کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے جو پل کے مینجمنٹ اور رکھ رکھاؤ کے لیے ذمہ دار تھی۔

ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق اوریوا کے منیجنگ ڈائریکٹر جئے سکھ پٹیل، منیجر دنیش دَوے اور منیجر دیپک پاریکھ حادثہ کے لیے سیدھے طور پر ذمہ دار ہیں۔ موربی میں مچھو ندی پر بنا جھولا پل 30 اکتوبر 2022 کی شام کو ٹوٹ گیا تھا، جس کے بعد ریاستی حکومت نے اس معاملے کی جانچ کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔

اس اہم ترین پل کے مینجمنٹ اور نگرانی کا ذمہ اوریوا گروپ کو سونپا گیا تھا۔ جانچ کے نتائج سے پل کے مینجمنٹ اور سیکورٹی پروٹوکول میں خامیوں کا ایک سلسلہ نظر آیا ہے۔ رپورٹ اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ کسی بھی وقت پل پر لوگوں کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی تھی۔

اس کے علاوہ اس میں پل کے افتتاح سے پہلے کی گئی فٹ نس رپورٹ کی غیر موجودگی اور مقامی میونسپل افسران سے اِنپٹ مانگنے میں اوریوا کمپنی کی ناکامی کو بھی نوٹ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ٹکٹوں کی فروخت بغیر کسی حد کے کی گئی۔ پل پر سیکورٹی سے متعلق مشینوں اور اہلکاروں کا ناکافی انتظام بھی اتنا ہی فکر انگیز پایا گیا۔

نیوز کلک معاملہ: دہلی کورٹ نے پرکایستھ اور چکرورتی کو 10 دنوں کے لیے عدالتی حراست میں بھیجا

0
نیوز-کلک-معاملہ:-دہلی-کورٹ-نے-پرکایستھ-اور-چکرورتی-کو-10-دنوں-کے-لیے-عدالتی-حراست-میں-بھیجا

دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے نیوز کلک کے بانی مدیر پربیر پرکایستھ اور ایچ آر ہیڈ امت چکرورتی کو 10 دنوں کے لیے جیل بھیج دیا ہے۔ ان پر غیر قانونی سرگرمی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت معاملہ درج ہے۔ معاملے کی سماعت کے دوران دہلی پولیس نے ان دونوں کی حراست نہیں مانگی، جبکہ پرکایستھ کے وکلاء نے جیل بھیجے جانے کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ صحافت کو دہشت گردانہ سرگرمی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

واضح رہے کہ پرکایستھ اور چکرورتی کو دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے 3 اکتوبر کو گرفتار کیا تھا۔ نیوز کلک پر الزام ہے کہ اس نے چین کے پروپیگنڈہ کے لیے اس سے فنڈ لیا ہے۔ دونوں کو عدالت نے 5 دن کی پولیس حراست میں بھیجا تھا جو آج (10 اکتوبر کو) ختم ہو رہی تھی۔

آج سماعت کے دوران پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج ہردیپ کور نے دونوں کو 10 دنوں کے لیے عدالتی حراست میں بھیج دیا۔ دہلی پولیس نے کورٹ کو بتایا تھا کہ فی الحال اسے ان دونوں کی حراست نہیں چاہیے۔ سماعت میں ایڈیشنل سرکاری وکیل اتل شریواستو نے کہا کہ پولیس دونوں کی عدالتی حراست کا مطالبہ کرتی ہے۔

پرکایستھ کی طرف سے پیش وکیل عرشدیپ سنگھ نے عدالتی حراست کی مخالفت کی اور ضمانت کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ دہلی پولیس کی ایف آئی آر میں کسی بھی جرم کا تذکرہ نہیں ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ میرے موکل پر کوئی ایسا الزام نہیں ہے جس میں کہا گیا ہو کہ اس نے بم بنایا یا ڈائنامائٹ لگایا یا پھر کوئی دھماکہ خیز ڈیوائس کا استعمال کیا، اور نہ ہی اس کے علاوہ کسی جرم کا الزام ہے۔ ان پر کسی کے اغوا وغیرہ کا بھی الزام نہیں ہے۔

ایڈووکیٹ عرشدیپ نے کہا کہ پرکایستھ کو صرف صحافت کے پیشے کے لیے گرفتار کیا گیا ہے، کیا یہ جرم ہے؟ انھوں نے کہا کہ کسی بھی صحافی کو سرکاری کی تنقید کے لیے سزا نہیں دی جا سکتی۔ انھوں نے عدالت کو دلیل دی کہ یو اے پی اے آئین کے آرٹیکل 19-1-اے پر روک نہیں لگاتا ہے۔ آپ ایسے تاناشاہی قانون صحافیوں پر نہیں تھوپ سکتے۔ آرٹیکل 19-1-اے کے تحت شہریوں کو بولنے اور اظہار رائے کی آزادی ملتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس آرٹیکل کے مطابق کوئی بھی حکومت کی پالیسیوں کی تنقید کر سکتا ہے۔

عرشدیپ سنگھ کی دلیلوں کے جواب میں سرکاری وکیل نے کہا کہ نیوز کلک کا مقصد حکومت کی تنقید کرنا نہیں بلکہ ملک سے نفرت رکھنے والے ایک ملک کے نظریہ کی تشہیر کرنا ہے۔ پرکایستھ کے وکیل نے یہ بھی دلیل رکھی کہ چونکہ پرکایستھ کو گرفتار کرنے کی بنیاد نہیں بتائی گئی ہے اس لیے ان کی گرفتاری غیر قانونی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک معاملہ فی الحال دہلی ہائی کورٹ میں زیر غور ہے۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ کئی قسم کی جانچ ہو چکی ہے جس میں دہلی پولیس، انکم ٹیکس محکمہ اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ جولائی 2021 میں دہلی ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ اگر منی لانڈرنگ کے معاملے میں پرکایستھ جانچ میں تعاون کرتے ہیں تو ای ڈی کو پرکایستھ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنی ہے۔

’ہندوستان مضبوطی سے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے‘، پی ایم مودی نے نیتن یاہو سے فون پر کی بات

0
’ہندوستان-مضبوطی-سے-اسرائیل-کے-ساتھ-کھڑا-ہے‘،-پی-ایم-مودی-نے-نیتن-یاہو-سے-فون-پر-کی-بات

وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے درمیان منگل کے روز فون پر اہم بات چیت ہوئی۔ بات چیت کے بعد وزیر اعظم مودی نے کہا کہ حماس کے ساتھ چل رہی جنگ کے درمیان ہندوستان کے لوگ یہودی ملک کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پی ایم مودی نے ایکس پر کہا کہ ’’فون کرنے اور موجودہ حالات پر اَپڈیٹ دینے کے لیے بنجامن نیتن یاہو کا شکریہ۔ ہندوستان کے لوگ اس مشکل وقت میں اسرائیل کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ ہندوستان دہشت گردی کے سبھی اشکال اور اظہار کی سخت اور واضح طور سے مذمت کرتا ہے۔‘‘

پی ایم او (وزیر اعظم دفتر) نے بتایا کہ وزیر اعظم مودی کو آج اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے ٹیلی فون کیا۔ وزیر اعظم مودی نے اسرائیل میں دہشت گردانہ حملوں کے نتیجہ کار مارے گئے اور زخمی ہوئے لوگوں کے تئیں گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور بتایا کہ ہندوستان کے لوگ اس مشکل وقت میں اسرائیل کے ساتھ متحد ہو کر کھڑے ہیں۔ انھوں نے دہرایا کہ ہندوستان دہشت گردی کے سبھی اشکال اور اظہار کی واضح طور پر مذمت کرتا ہے۔ وزیر اعظم نے اسرائیل میں ہندوستانی شہریوں کی سیکورٹی کے ایشو پر روشنی ڈالی۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ دونوں لیڈران رابطہ میں بنے رہنے پر اتفاق بھی ظاہر کیا۔

قابل ذکر ہے کہ 7 اکتوبر کو فلسطینی تنظیم حماس نے غزہ پٹی سے اسرائیل کے خلاف حملہ شروع کیا تھا۔ اس کے بعد اسرائیل نے بھی جنگ کا اعلان کر دیا، اور پھر اس کے بعد سے وزیر اعظم نریندر مودی کی یہ دوسری سوشل میڈیا پوسٹ ہے۔ حملہ شروع ہونے کے بعد پی ایم مودی نے اپنے ایکس ہینڈل پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا تھا ’’اسرائیل میں دہشت گردانہ حملوں کی خبر سے گہرا صدمہ لگا ہے۔ ہماری ہمدردیاں اور دعائیں بے قصور متاثرین اور ان کے کنبوں کے ساتھ ہیں۔ ہم اس مشکل وقت میں اسرائیل کے ساتھ متحد ہو کر کھڑے ہیں۔‘‘

بہرحال، میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کو چوتھے دن بھی جاری اسرائیل و حماس جنگ میں دونوں فریقین کے 1600 سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں، جبکہ ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی افسران کا ماننا ہے کہ سینئر فوجی افسران سمیت 150 لوگوں کو حماس نے گھرے ساحلی علاقہ میں یرغمال بنا رکھا ہے۔

مودی حکومت سیلاب متاثرہ سکم کو نظر انداز کر رہی: کانگریس

0
مودی-حکومت-سیلاب-متاثرہ-سکم-کو-نظر-انداز-کر-رہی:-کانگریس

نئی دہلی: کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت پر قدرتی آفات متاثرہ سکم کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ گورو گگوئی نے کہا کہ قدرتی آفت سے سکم کی عوام زبردست مسائل کا سامنا کر رہی ہے، لیکن مودی حکومت سکم کی مدد کرنے کے لیے ٹھوس قدم نہیں اٹھا رہی ہے۔ کانگریس نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت فوری طور پر ریاستی حکومت کی مدد کرے۔

نئی دہلی واقع کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس پارلیمانی پارٹی کے ڈپٹی لیڈر اور پارٹی ترجمان گورو گگوئی نے کہا کہ سکم میں آئی قدرتی آفت سے تقریباً 25 ہزار لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ تقریباً 7600 افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور 80 لوگوں کی جان جا چکی ہے۔ اتنا ہی نہیں، کچھ خبروں کے مطابق تقریباً 3000 سیاح اب بھی سکم میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سکم میں تقریباً 28 راحتی کیمپوں میں 6800 لوگ مقیم ہیں۔ قومی شاہراہ-10 ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکا ہے اور فوج کے 23 جوانوں کا کوئی پتہ نہیں ہے، 8 جوانوں کی تو لاشیں بھی برآمد ہو چکی ہیں۔ اس کے باوجود مودی حکومت سکم کی زمین پر سرگرم کیوں دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

گورو گگوئی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سکم کے لوگ سوال کر رہے ہیں کہ این ڈی آر ایف کی ٹیم کو متاثرہ علاقوں میں پہنچنے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔ شمالی سکم میں 14 پل ٹوٹ چکے ہیں، وہاں کے لوگ آج تاریکی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ لوگوں کو گھر اور اسپتال جانے میں پریشانی ہو رہی ہے۔

گورو گگوئی نے ہندوستان کی سیکورٹی کی طرف توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہا کہ شمالی سکم کا علاقہ ہندوستانی سرحد والا علاقہ ہے۔ سرحد کے اس پار بیرون ملکی طاقتوں کی فوج تعینات ہیں، جو ہر دن ہماری سرحد کے اندر گھسنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس کے باوجود مودی حکومت سرگرم دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ انھوں نے سوال کیا کہ مودی حکومت کا ایک بھی سینئر وزیر آج تک سکم نہیں گیا، وزیر داخلہ کے پاس وقت نہیں ہے اور وزیر اعظم مودی تو انتخابی تشہیر میں مصروف ہیں۔

گورو گگوئی نے یاد دلایا کہ جب انتخاب آتے ہیں تب وزیر اعظم مودی اور امت شاہ جی سب جگہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن جب بھی شمالی پوروانچل میں کوئی مشکل آتی ہے تو پی ایم مودی اور امت شاہ جی غائب ہو جاتے ہیں۔ انھوں نے سکم کی عوام کی ناراضگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ آج مرکزی حکومت سے مایوس ہیں اور مدد کی امید کر رہے ہیں۔ ایک ایمرجنسی آپریشن سنٹر حکومت کی طرف سے بنایا جانا چاہیے تھا لیکن یہ تبھی ہوتا اگر حکومت فعالیت کا مظاہرہ کرتی۔ کانگریس کا مطالبہ ہے کہ مودی حکومت فوراً ریاستی حکومت کی مدد کرے۔ انھوں نے یاد دلایا کہ حکومت کی مدت کار کے دوران 12-2011 میں جب سکم میں زلزلہ آیا تھا تب پورا ملک مدد کے لیے متحد ہو گیا تھا۔

’آپ نے تو گولڈ میڈلز کی جھڑی لگا دی‘، پی ایم مودی نے ایشین گیمز کے میڈلسٹس سے کی ملاقات

0
’آپ-نے-تو-گولڈ-میڈلز-کی-جھڑی-لگا-دی‘،-پی-ایم-مودی-نے-ایشین-گیمز-کے-میڈلسٹس-سے-کی-ملاقات

گزشتہ دنوں اختتام پذیر ایشین گیمز میں ہندوستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی تاریخی رہی۔ ان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے آج وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک تقریب میں سبھی سے ملاقات کی۔ اس دوران وزیر برائے کھیل انوراگ ٹھاکر اور کچھ دیگر اہم سیاسی لیڈران بھی موجود رہے۔ دہلی کے میجر دھیان چند اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی اس تقریب میں پی ایم مودی نے ہانگزوؤ سے لوٹے سبھی کھلاڑیوں کا استقبال کیا۔

پی ایم مودی نے تقریب میں سبھی کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ کو بھی نیک خواہشات پیش کیں۔ انھوں نے کہا کہ ہر چیز کی شروعات گھر سے ہوتی ہے اور اس کی شروعات کے لیے سبھی کھلاڑیوں کے والدین مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایشیائی کھیلوں میں ہماری تاریخی کارکردگی ظاہر کرتی ہے کہ ہم درست سمت میں جا رہے ہیں۔ انھوں نے کھلاڑیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ لوگوں نے تو گولڈ میڈل کی بارش کر دی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ہماری بیٹیاں ٹریک اینڈ فیلڈ میں سب سے آگے رہنے کے لیے اتری ہیں۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان نے اس بار ایشیائی کھیلوں میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہندوستانی کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر 107 تمغے اپنے نام کیے ہیں اور ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اس سے قبل ایشیائی کھیلوں میں ہندوستان کی بہترین کارکردگی 70 تمغے جیتنے کی تھی۔ 2018 جکارتہ میں ہوئے ایشیائی کھیلوں میں ہندوستان نے یہ 70 تمغے جیتے تھے۔ اس بار ہندوستان نے سبھی ریکارڈ توڑتے ہوئے 107 تمغے حاصل کیے۔ پی ایم مودی ایشیائی کھیلوں کے دوران لگاتار کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے تھے اور ہر تمغہ حاصل کرنے پر انھیں مبارکباد پیش کر رہے تھے۔ آج باضابطہ ملاقات کر سبھی کھلاڑیوں کو انھوں نے مبارکباد پیش کی۔

کھلاڑیوں کی عزت افزائی کے لیے منعقد تقریب میں وزیر برائے کھیل انوراگ ٹھاکر نے پی ایم مودی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’آپ نے کھلاڑیوں کو جو سہولیات دی تھیں اور جس طرح سے انھیں آگے بڑھایا تھا، اسے کھلاڑیوں نے رائیگاں نہیں جانے دیا۔ کھلاڑیوں نے اپنا پسینہ بہا کر ملک کو 107 تمغے دلائے ہیں۔ اب پیرس اولمپک میں بھی ہمارے کھلاڑی نئی تاریخ رقم کریں گے۔‘‘

اس موقع پر ایک ڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی جس میں بتایا گیا کہ 2014 کے مقابلے میں ہندوستان کا کھیل بجٹ کتنا بدلا ہے اور کس طرح ملک میں ہر کھیل کی حالت بہتر ہوئی ہے۔ 2014 کے مقابلے میں ملک کا مجموعی بجٹ تین گنا ہو چکا ہے۔ ’کھیلو انڈیا‘ جیسے منصوبوں نے ملک کے کونے کونے اور ہر گاؤں سے کھلاڑیوں کو قومی سطح پر شناخت دلائی ہے۔ علاوہ ازیں ’ٹاپس‘ جیسے منصوبوں نے قومی سطح کے کھلاڑیوں کو سبھی سہولیات دلائی ہیں، جس سے وہ ملک کے لیے تمغے جیت رہے ہیں۔

جنوبی کنڑ ضلع کے 5000 افراد اسرائیل میں پھنسے، وزیر اعلیٰ سدارمیا نے اٹھایا بڑا قدم

0
جنوبی-کنڑ-ضلع-کے-5000-افراد-اسرائیل-میں-پھنسے،-وزیر-اعلیٰ-سدارمیا-نے-اٹھایا-بڑا-قدم

اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان جاری جنگ ہر دن کے ساتھ خوفناک شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اس درمیان پتہ چلا ہے کہ کرناٹک کے جنوبی کنڑ ضلع سے تقریباً 5000 لوگ جنگ متاثرہ اسرائیل میں پھنسے ہوئے۔ وزارت خارجہ کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق ان سبھی کو محفوظ وطن واپس لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اس درمیان حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کرناٹک کی سدارمیا حکومت نے اسرائیل میں مدد کی ضرورت والے ریاست کے پھنسے لوگوں کے لیے ہیلپ لائن نمبر کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے کرناٹک ریاستی ایمرجنسی آپریشن سنٹر بھی قائم کیا ہے جو لگاتار اسرائیل میں پھنسے لوگوں کی جانکاری لے رہا ہے اور ان کے اہل خانہ کو تازہ حالات کے بارے میں بتا رہا ہے۔

اسرائیل میں جنوبی کنڑ ضلع کے تقریباً 5000 لوگوں کے پھنسے ہونے کی جانکاری دیتے ہوئے کرناٹک بی جے پی صدر اور رکن پارلیمنٹ نلن کمار کتیل نے بتایا کہ مجھے جنوبی کنڑ ضلع کے تقریباً 5000 لوگوں کے اسرائیل میں ہونے کی جانکاری ہے۔ میں نے وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کو خط لکھا ہے۔ ان سبھی کو بحفاظت وطن واپس لایا جائے گا۔

نلن کمار کتیل نے کہا کہ وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہم یقینی بنائیں گے کہ کسی کو نقصان نہ ہو اور مرکزی حکومت انھیں ہندوستان واپس لائے گی۔ میں نے مرکزی وزیر مملکت برائے خارجہ اور پارلیمانی امور کے وزیر وی مرلی دھرن سے بھی بات کی ہے۔ میں نے جنوبی کنڑ کے انچارج ڈپٹی کمشنر کو پھنسے ہوئے لوگوں کی پوری تفصیل حاصل کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔

نل کتیل نے کہا کہ اسرائیل میں پھنسے لوگوں کے گھر والے فکرمند ہیں۔ اسرائیل میں محفوظ ہونے کے باوجود بھی ایک خوف کا ماحول ہے۔ روس-یوکرین جنگ کے دوران بھی ایسی ہی حالت تھی۔ ہم یہاں ان طلبا کی رہائش گاہوں پر گئے تھے جو یوکرین میں پھنس گئے تھے۔ تب مودی حکومت نے ہندوستانیوں کو بچایا تھا۔ انھوں نے کہا کہ میں اس معاملے پر سفارتخانہ کے رابطے میں ہوں۔

مدھیہ پردیش کی عوام بدعنوانی اور قبائلیوں کی بے عزتی کا بوجھ مزید نہیں اٹھانے والی: راہل گاندھی

0
مدھیہ-پردیش-کی-عوام-بدعنوانی-اور-قبائلیوں-کی-بے-عزتی-کا-بوجھ-مزید-نہیں-اٹھانے-والی:-راہل-گاندھی

مدھیہ پردیش کے شہڈول واقع بیوہاری اسمبلی میں آج کاگنریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ’جن آکروش ریلی‘ سے خطاب کیا۔ اس دوران راہل گاندھی نے ریاست کی بی جے پی حکومت پر جم کر حملے کیے۔ انھوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش کی زمین گزشتہ 18 سالوں سے کسانوں کی خودکشی، بے لگام بدعنوانی اور قبائلیوں کی بے عزتی کا بوجھ اٹھا رہی ہے۔ لیکن اب اور نہیں۔ آنے والے انتخاب میں مدھیہ پردیش کی عوام بی جے پی حکومت کو سخت جواب دے گی۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس کھوکھلے وعدے نہیں کرتی۔ ہم ’پیسا‘ قانون لائے، جنگلاتی حقوق قانون لے کر آئے، ہم نے قانون بنایا تھا کہ اگر کسی صنعت کو قبائلی کی زمین چاہیے تو اسے گرام سبھا کے سامنے ہاتھ جوڑ کر زمین مانگی ہوگی۔ لیکن بی جے پی نے اس ’پیسا‘ قانون کو رد کر دیا۔

راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں مہاکال لوک میں گھوٹالے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں بھگوان سے چوری کی جاتی ہے۔ اسکول یونیفارم میں چوری کی جاتی ہے۔ ویاپم میں نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔ راہل گاندھی نے پیشاب واقعہ کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی کے لیڈران قبائلیوں کے اوپر پیشاب کرتے ہیں۔ راہل گاندھی نے قبائلی اور وَنواسی لفظ کے درمیان کا فرق بھی واضح کیا اور بتایا کہ ہم کانگریسی اپنے خطاب میں آپ کو قبائلی مخاطب کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ سب سے پہلے آئے۔ اس ملک کی پانی-جنگل-زمین پر آپ کا حق ہے، لیکن وَنواسی لفظ کا مطلب ہے کہ آپ کا زمین پر کوئی حق نہیں بنتا۔

کانگریس کے سابق صدر نے اپنے خطاب میں ذات پر مبنی مردم شماری کا بھی تذکرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو 90 افسران چلاتے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے فیصلے یہی افسران لیتے ہیں۔ بجٹ کے پیسے کا کیسے استعمال کریں، یہی افسر طے کرتے ہیں۔ ان میں سے 3 افسر صرف او بی سی کے ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اگر حکومت 100 روپے خرچ کرتی ہے، تو قبائلی افسر صرف 10 پیسے کا فیصلہ لیتے ہیں۔ قبائلی طبقہ کو کتنی حصہ داری ملنی چاہیے، او بی سی طبقہ کو کتنی حصہ داری ملنی چاہیے، یہ سب ذات پر مبنی مردم شماری سے ممکن ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم مودی پر سوال کھڑتے ہوئے کہا کہ پہلے پی ایم مودی تقریروں میں وَنواسی لفظ کا استعمال کرتے تھے۔ میں نے ان کو منع کیا تو اب وہ پھر سے قبائلی بولنے لگتے ہیں، لیکن ان کے دل میں اب بھی وَنواسی لفظ ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ہم ’پیسا‘ قانون لے کر آئے، لیکن بی جے پی نے اس کو رد کر دیا۔ بی جے پی حکومت نے ڈرا دھمکا کر آپ سے زمین چھین لی۔ آپ نے مخالفت کی تو سرکاری طاقت کا استعمال کر آپ کو ہٹایا گیا۔ میں گارنٹی سے آپ کو کہتا ہوں کہ جو آپ کا حق ہے، اسے ہم آپ کو دے کر رہیں گے۔

عتیق احمد کے دونوں بیٹے 221 دن بعد چلڈرن ہوم سے چھوٹے، والد کی قبر پر پہنچ کر زار و قطار روئے

0
عتیق-احمد-کے-دونوں-بیٹے-221-دن-بعد-چلڈرن-ہوم-سے-چھوٹے،-والد-کی-قبر-پر-پہنچ-کر-زار-و-قطار-روئے

پریاگ راج کے راجروپ پور واقع چلڈرن ہون میں 221 دن سے بند عتیق احمد کے دونوں بیٹے (اہزام اور آبان) پیر کے روز چھوڑ دیے گئے۔ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی نے دونوں کو ان کی بوا پروین قریشی کے حوالے کیا ہے۔ فی الحال دونوں کو ہٹوا واقع رشتہ دار کے گھر میں رکھا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں پیر 9 اکتوبر کو ہی چلڈرن ہوم سے باہر آ گئے تھے اور رات تقریباً 9 بجے دونوں کساری-مساری قبرستان پہنچ کر والد (عتیق) اور چچا (اشرف) کی قبر سے لپٹ کر زار و قطار روئے۔ اس دوران وہاں موجود لوگوں نے انھیں عتیق اور اشرف کے قتل کی ویڈیو بھی دکھائی۔

واضح رہے کہ 24 فروری کو امیش پال قتل واقعہ کے بعد 2 مارچ کو عتیق کے پانچ میں سے دو نابالغ بیٹوں کو چلڈرن ہوم میں داخل کر دیا گیا تھا۔ حالانکہ انھیں پولیس کہاں لے گئی ہے، اس سلسلے میں کچھ بھی وضاحت نہیں کی گئی تھی۔ اس کے لیے عتیق کی بیوی شائستہ پروین نے ضلع عدالت سے دونوں بچوں کا پتہ لگانے اور ان کی سیکورٹی یقینی کرنے کی گزارش کی تھی۔ جواب میں دھومن گنج پولیس نے کورٹ کو بتایا تھا کہ دونوں چکیا میں لاوارث ہال میں گھومتے ملے تھے جنھیں چلڈرن ہوم میں رکھا گیا ہے۔