منگل, مارچ 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 62

گلوبل ہنگر انڈیکس میں ہندوستان پاکستان سے بھی نیچے! حکومت نے طریقہ کار کو ناقص قرار دیا

0
گلوبل-ہنگر-انڈیکس-میں-ہندوستان-پاکستان-سے-بھی-نیچے!-حکومت-نے-طریقہ-کار-کو-ناقص-قرار-دیا

نئی دہلی: ہندوستان 2023 کے گلوبل ہنگر انڈیکس (جی ایچ آئی) میں 125 ممالک میں سے 111 ویں مقام پر ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں چار مقام نیچے ہے۔ تاہم حکومت نے اس رپورٹ کو ناقص قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

آئرلینڈ اور جرمنی کی این جی اوز کنسرن ورلڈ وائیڈ اور ویلٹ ہنگر ہلفے کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ عالمی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2023 کے گلوبل ہنگر انڈیکس میں 28.7 کے اسکور کے ساتھ ہندوستان میں بھوکے رہنے والوں سطح تشویش ناک ہے۔ خیال رہے کہ 2022 میں ہندوستان 125 ممالک میں 107 ویں مقام پر تھا۔

خواتین اور بچوں کی ترقی کی مرکزی وزارت نے ایک بیان میں ان دعوؤں کی تردید کی اور کہا کہ یہ انڈیکس بھوک کا ایک ناقص پیمانہ ہے اور یہ ہندوستان کی اصل صورتحال کی عکاسی نہیں کرتا! جی ایچ آئی کی رپورٹ میں پاکستان 102 ویں، بنگلہ دیش 81 ویں، نیپال 69 ویں اور سری لنکا 60 ویں نمبر پر ہے۔ جنوبی ایشیا اور سب صحارا افریقہ ایسے خطے ہیں جہاں بھوک کی بلند ترین سطح پائی جاتی ہے۔

وزارت نے کہا ’’انڈیکس بھوک کا ایک غلط پیمانہ ہے اور یہ سنگین طریقہ کار کے مسائل سے دوچار ہے۔ انڈیکس کا حساب لگانے کے لیے استعمال ہونے والے چار میں سے تین اشارے بچوں کی صحت سے متعلق ہیں اور ہو سکتا ہے کہ پوری آبادی کی نمائندگی نہ کرتے ہوں۔‘‘

اس نے کہا، ’’چوتھا اور سب سے اہم اشارہ ‘ناقص غذائیت (پی او یو) آبادی کا تناسب’ 3000 کے ایک بہت ہی چھوٹے نمونے پر کی گئی رائے شماری پر مبنی ہے۔‘‘

دریں اثنا، رپورٹ نے ہندوستان کی دنیا میں بچوں کی سب سے زیادہ کمزوری شرح 18.7 فیصد کے ساتھ درجہ بندی کی، جو شدید غذائی قلت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہندوستان میں غذائیت کی کمی کی شرح 16.6 فیصد ہے اور پانچ سال سے کم عمر کی اموات کی شرح 3.1 فیصد ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 15 سے 24 سال کی خواتین میں خون کی کمی کی شرح 58.1 فیصد ہے۔

مسجد ایودھیا کا ڈیزائن تبدیل، عرب ممالک کی طرز پر ہوگی تعمیر، نام پیغمبر اسلامؐ سے ہوگا منسوب

0
مسجد-ایودھیا-کا-ڈیزائن-تبدیل،-عرب-ممالک-کی-طرز-پر-ہوگی-تعمیر،-نام-پیغمبر-اسلامؐ-سے-ہوگا-منسوب

لکھنؤ: بابری مسجد تنازعہ پر سپریم کورٹ کے 2019 میں دیئے گئے فیصلے کے تحت ایودھیا میں مسلم فریق کو دی گئی 5 ایکڑ اراضی پر مجوزہ ‘مسجد ایودھیا’ کا ڈیزائن اب تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ مسجد اب مشرق وسطیٰ اور عرب ممالک میں تعمیر کی جانے والی عظیم الشان مساجد کی طرز پر تعمیر کی جائے گی اور اس کا نام حضرت محمد ﷺ کے نام پر رکھا جائے گا۔

ایودھیا کے دھنی پور میں 5 ایکڑ اراضی پر مسجد، اسپتال اور دیگر سہولیات کی تعمیر کے لیے بنائے گئے ‘انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن’ ٹرسٹ کے چیئرمین ظفر فاروقی نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ مسجد ایودھیا کا ڈیزائن اب تبدیل کر دیا گیا ہے۔

فاروقی نے کہا کہ مسجد کا نام پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ کے نام پر رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ پہلے اس کا ڈیزائن ہندوستان میں بنائی گئی مساجد کی طرح سادہ تھا لیکن اب اسے تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب اسے مشرق وسطیٰ اور عرب ممالک میں تعمیر ہونے والی عظیم الشان مساجد کی طرز پر تعمیر کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پونے کے آرکیٹیکٹ نے اس کا ڈیزائن تیار کیا ہے۔ ممبئی میں ہونے والی میٹنگ میں اسے حتمی شکل دی گئی۔ سابقہ ڈیزائن کے مقابلے مسجد کی صلاحیت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ اب اس میں 5000 سے زائد نمازی بیک وقت نماز ادا کر سکیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ممبئی میں منعقدہ اجلاس میں تمام مسلم فرقوں کے تقریباً ایک ہزار علماء بشمول سنی، شیعہ، بریلوی اور دیوبندی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ مسجد میں 300 بستروں کا کینسر ہسپتال بھی بنایا جائے گا۔ بین الاقوامی فارما کمپنی ووکارڈ گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر ہابیل خوراکی والا نے ہسپتال کو خیراتی بنیادوں پر قائم کرنے اور چلانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے کچھ مہینوں سے ٹرسٹ نے اتر پردیش کو چھوڑ کر ملک کی مختلف ریاستوں میں چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کی ہے۔ ایودھیا میں عنقریب ایک عظیم الشان مسجد کی تعمیر شروع ہو جائے گی۔ تاہم مجوزہ مسجد اور ہسپتال کا نقشہ ابھی بھی ایودھیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے پاس ہے کیونکہ اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ نقشہ حاصل کرنے کے لیے مسجد ٹرسٹ کو ابتدائی طور پر اتھارٹی کو ترقیاتی فیس کے طور پر ایک کروڑ روپے ادا کرنے ہوں گے۔

اتر پردیش حکومت نے مسجد اور ہسپتال کی تعمیر کے لیے تمام ضروری سرٹیفکیٹ دے دیے ہیں۔ نومبر 2019 میں سپریم کورٹ نے ایودھیا کیس میں تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے متنازعہ جگہ کو ہندو فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی یوپی حکومت کو حکم دیا گیا کہ وہ مسلم فریق کو ایودھیا میں ایک اہم مقام پر مسجد بنانے کے لیے زمین فراہم کرے۔

چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات کے لیے عام آدمی پارٹی کی تیسری فہرست جاری

0
چھتیس-گڑھ-اسمبلی-انتخابات-کے-لیے-عام-آدمی-پارٹی-کی-تیسری-فہرست-جاری

بلاس پور: عام آدمی پارٹی (عآپ) نے چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات کے لیے 11 سیٹوں کے لیے امیدواروں کی تیسری فہرست جاری کی۔ عآپ نے جمعرات کی رات دیر یہ فہرست جاری کی۔

پارٹی کی قومی تنظیم کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر سندیپ پاٹھک، چھتیس گڑھ کی ریاستی صدر کومل ہوپینڈی اور ریاستی انچارج سنجیو جھا کے ذریعہ جاری کردہ فہرست میں ریاستی اسمبلی کی مزید 11 نشستوں کے امیدواروں کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسمبلی حلقہ وار امیدواروں کے نام درج ذیل ہیں۔

درگ دیہی – سنجیت وشوکرما، بستر – جگموہن بگھیل، جگدل پور – نریندر بھوانی، بنکتھ پور – ڈاکٹر آکاش جشوال، کٹگھورا – چندرکانت ڈک سینا، لورمی – منبھجن ٹنڈن، منگیلی – دیپک پاترے، جے جے پور – درگالال نشاد، کسڈول – لیکھرام، سادھو، جشونت سنہا اور پنڈاریا – چمیلی کُرے۔

واضح رہے کہ عآپ 90 سیٹوں والے چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات کے لیے اب تک 33 سیٹوں کے لیے اپنے امیدواروں کا اعلان کر چکی ہے۔

آپریشن اجئے کے تحت اسرائیل سے وطن واپس پہنچے 212 ہندوستانی

0
آپریشن-اجئے-کے-تحت-اسرائیل-سے-وطن-واپس-پہنچے-212-ہندوستانی

نئی دہلی: اسرائیل میں جاری جنگ کے درمیان ‘آپریشن اجئے’ کے تحت پہلی پرواز سے 212 ہندوستانی شہری جمعہ کی صبح قومی دارالحکومت دہلی پہنچ گئے۔ پرواز صبح تقریباً 6 بجے دہلی ہوائی اڈے پر پہنچی۔ مرکزی وزیر راجیو چندر شیکھر نے وطن واپسی پر تمام ہندوستانیوں کا استقبال کیا۔ وزیر نے تل ابیب سے دہلی واپس آنے والے طلبہ سے بات چیت بھی کی۔

آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق 212 افراد کو لے کر خصوصی طیارہ جمعرات کو تل ابیب سے دہلی کے لیے روانہ ہوا تھا۔ حماس گروپ کی جانب سے گزشتہ ہفتے تل ابیب پر راکٹ حملوں کے بعد وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے کہا تھا کہ حکومت کی بنیادی توجہ وہاں پھنسے ہوئے 18000 ہندوستانیوں کو واپس لانا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’ہماری توجہ ان ہندوستانیوں کو واپس لانے پر مرکوز ہے جو اسرائیل سے باہر آنا چاہتے ہیں۔ وہاں 18000 ہندوستانی ہیں جن میں طلباء بھی شامل ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے جنگ زدہ اسرائیل سے ہندوستانی شہریوں کو واپس لانے کے لیے ‘آپریشن اجئے’ شروع کیا ہے۔ باگچی نے کہا، ’’آپریشن اجئے ہمارے ان شہریوں کی سہولت کے لیے شروع کیا گیا ہے جو واپس آنا چاہتے ہیں۔‘‘

موسم کا حال: دہلی میں سردی، لکھنؤ میں دھند، کئی ریاستوں میں شدید بارش کا الرٹ

0
موسم-کا-حال:-دہلی-میں-سردی،-لکھنؤ-میں-دھند،-کئی-ریاستوں-میں-شدید-بارش-کا-الرٹ

نئی دہلی: جنوبی اندرونی کرناٹک، تمل ناڈو اور کیرالہ میں اگلے دو دنوں تک موسلادھار بارش کی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 13 اکتوبر کی رات سے مغربی ہمالیہ کے علاقے میں ایک ویسٹرن ڈسٹربنس سرگرم ہوگا، جس کا اثر شمال مغربی ہندوستان کے میدانی علاقوں میں 14 اکتوبر کو نظر آئے گا۔ ویسٹرن ڈسٹربنس کے اثر کی وجہ سے 14 سے 17 اکتوبر کے درمیان زیریں پہاڑی علاقوں میں بارش اور اونچے علاقوں میں برف باری ہوگی۔

دہلی کے کم سے کم درجہ حرارت میں گراوٹ کی وجہ سے صبح کے وقت سردی بڑھ گئی ہے۔ تاہم دن کے وقت اچھی دھوپ کی وجہ سے گرمی کا احساس برقرار رہتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج یعنی 13 اکتوبر کو نئی دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت 17 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36 ڈگری ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ نئی دہلی میں آج مطلع صاف رہے گا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق نئی دہلی میں اتوار سے بارش ہو سکتی ہے۔

اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں آج کم سے کم درجہ حرارت 22 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 35 ڈگری ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ لکھنؤ میں آج صبح دھند چھائی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دن کے وقت آسمان صاف رہے گا۔ غازی آباد کی بات کریں تو آج یہاں کم سے کم درجہ حرارت 21 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 ڈگری ریکارڈ کیا جا سکتا ہے اور آسمان صاف رہے گا۔

موسم کی پیش گوئی کرنے والی ایجنسی اسکائی میٹ کے مطابق آج لکشدیپ میں کچھ مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش کے ساتھ موسلادھار بارش ہوسکتی ہے۔ انڈمان اور نکوبار جزائر اور جنوبی کرناٹک میں ہلکی سے درمیانی بارش ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی 14 اکتوبر کو جموں، کشمیر اور لداخ میں ہلکی بارش اور برف باری کا امکان ہے۔ 15 اکتوبر کو ہماچل پردیش کے کچھ حصوں میں برف باری ہو سکتی ہے۔

مودی راج میں ہندوستان بے حال، گلوبل ہنگر انڈیکس میں پاکستان اور نیپال سے بھی پیچھے!

0
مودی-راج-میں-ہندوستان-بے-حال،-گلوبل-ہنگر-انڈیکس-میں-پاکستان-اور-نیپال-سے-بھی-پیچھے!

مرکز کی مودی حکومت پر اپوزیشن پارٹیاں اکثر عوام مخالف پالیسیاں بنانے اور بے روزگاری پھیلانے کا الزام عائد کرتی رہی ہیں۔ مودی راج میں امیروں کے مزید امیر ہونے اور غریبوں کے مزید غریب ہونے کا ڈاٹا بھی مختلف اپوزیشن پارٹی لیڈران کے ذریعہ پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اب ایک ایسا سروے سامنے آیا ہے جو حقیقی معنوں میں مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے والا ہے۔ گلوبل ہنگر انڈیکس 2023 یعنی بھوک کے تازہ عالمی انڈیکس میں ہندوستان کو 111واں مقام حاصل ہوا ہے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے 4 مقام کمتر ہے۔ 2022 کے گلوبل ہنگر انڈیکس میں ہندوستان 107ویں مقام پر تھا۔

قابل ذکر ہے کہ یہ گلوبل ہنگر انڈیکس 125 ممالک میں حاصل ڈاٹا پر مشتمل ہے اور ہندوستان کی بدتر حالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ نیپال اور پاکستان جیسے ممالک سے بھی پیچھے ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں سب سے زیادہ چائلڈ ویسٹنگ ریٹ یعنی بچوں میں نقص تغذیہ کی حالت دیکھی جا رہے ہے جو کہ 18.7 فیصد ہے۔ 2023 کا گلوبل ہنگر انڈیکس آج ہی جاری ہوا ہے جس میں ہندوستان کا اسکور 28.7 فیصد بتایا گیا ہے جو کہ ملک کو ایسے کیٹگری میں لاتا ہے جہاں بھکمری کی حالت سنگین ہے۔

دراصل ’گلوبل ہنگر انڈیکس‘ عالمی، مقامی اور قومی سطح پر بھوک کی وسیع شکل کی پیمائش اور ٹریک کرنے کا ایک ٹول ہے۔ اس انڈیکس کے مطابق ہندوستان کے دیگر پڑوسی ممالک کو دیکھیں تو پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال بھی ہمارے ملک سے بہتر حالت میں ہیں۔ گلوبل ہنگر انڈیکس 2023 میں پاکستان 102ویں، بنگلہ دیش 81ویں، نیپال 69ویں اور سری لنکا 60ویں مقام پر ہے۔

واضح رہے کہ مرکزی حکومت کی وزارت برائے ترقیٔ خواتین و اطفال نے اس گلوبل ہنگر انڈیکس کی رپورٹ کو گزشتہ سال اور 2021 میں بھی مسترد کر دیا تھا۔ وزارت نے کہا تھا کہ عالمی بھوک کا حساب لگانے کے لیے صرف بچوں پر مرکوز پیمانہ (میٹرکس) کا استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ وزارت نے اسے بھوک کی پیمائش کا غلط طریقہ بتایا تھا۔ گلوبل ہنگر انڈیکس 2022 کے تعلق سے وزارت نے وضاحت کی تھی کہ اس میں بھوک کا حساب لگانے کے لیے جن 4 طریقوں کا استعمال کیا گیا ہے ان میں سے 3 صرف بچوں کی صحت پر مبنی ہے۔

پی ایم مودی نے پکوڑے تلنے کا مشورہ دیا تھا لیکن اب اس سے بھی نہیں چل پا رہا گھر: جئے رام رمیش

0
پی-ایم-مودی-نے-پکوڑے-تلنے-کا-مشورہ-دیا-تھا-لیکن-اب-اس-سے-بھی-نہیں-چل-پا-رہا-گھر:-جئے-رام-رمیش

کانگریس نے ملک میں گھٹتی ملازمتوں کو لے کر مرکز کی بی جے پی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ 1991 میں معیشت کے لبرلائزیشن کے ساتھ اچھی تنخواہ والی ملازمتوں کا ہندوستانیوں کا خواب 2014 میں یو پی اے حکومت ختم ہونے کے ساتھ ہی خواب ہو گیا تھا۔ کاگنریس نے کہا کہ صرف انڈیا اتحاد حکومت ہی اس تباہناک حالات کو پلٹ سکتی ہے۔

کانگریس جنرل سکریٹری اور مواصلات کے انچارج جئے رام رمیش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 2018 میں جب وزیر اعظم مودی سے ہندوستان میں بڑھتی بے روزگاری کو لے کر سوال پوچھا گیا تو انھوں نے ہمیشہ کی طرح کسی بھی مسئلہ کے ہونے سے انکار کیا اور بے حد لاپروائی کے ساتھ کہا تھا کہ پکوڑے کا ٹھیلہ لگانا بھی ایک اچھا روزگار ہے۔ یہ ملک کے لیے بڑے افسوس کی بات ہے کہ یہی ایسا وعدہ تھا، جسے وزیر اعظم مودی نے پورا کیا ہے۔

جئے رام رمیش نے کہا کہ حکومت کے ذریعہ کروائے گئے 23-2022 کے ’مدتی لیبر فورس سروے‘ (پی ایل ایف ایس) کے مطابق خود روزگار کے لیے مجبور ہونے والے لوگوں کا تناسب آج 57 فیصد کی ریکارڈ سطح پر ہے، جو پانچ سال قبل 52 فیصد تھا۔ مستقل طور سے تنخواہ پانے والے مزدوروں کا تناسب 24 فیصد سے گر کر 21 فیصد ہو گیا ہے جو درمیانے سے ذیلی متوسط طبقہ میں موجود وسیع بحران کو ظاہر کرتا ہے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ اس کے علاوہ خود روزگار کرنے والوں کے پکوڑے بھی کم فروخت ہو رہے ہیں، گزشتہ 4 سہ ماہیوں میں ان کی ماہانہ آمدنی 9.2 فیصد گر کر 12700 روپے سے 11600 روپے رہ گئی ہے۔ یہاں تک کہ دیہی علاقوں مین دِہاڑی مزدوروں کی روزانہ کی آمدنی بھی تقریباً 5 فیصد کم ہو کر 409 روپے سے اب 388 روپے رہ گئی ہے۔ دوسری طرف اسی مدت کے دوران آسائش والے سامانوں اور کاروں کی فروخت بڑھ رہی ہے۔ یہ حالت امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی نابرابری کو ظاہر کرتی ہے، جس ایشو کو بھارت جوڑو یاترا کے دوران راہل گاندھی نے بار بار اٹھایا۔

جئے رام رمیش نے کہا کہ ہندوستان کے مزدوروں کے لیے پیغام بہت واضح ہے… آپ بھگوان بھروسے ہیں۔ نوٹ بندی، جی ایس ٹی جیسی مودی حکومت کی غلط پالیسیوں اور ہر شعبہ میں بڑے، سرمایہ والے بالادستی حاصل کاروباریوں کے تئیں تفریق آمیز جھکاؤ نے اس قابل رحم حالات کو لانے میں خاص تعاون کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 1991 میں معیشت کے لبرلائزیشن کے بعد سے اچھی تنخواہ والی ملازمتوں کو ہندوستانیوں کا خواب 2014 میں یو پی اے حکومت کے جاتے ہی ٹوٹ گیا تھا۔ اب آنے والی انڈیا اتحاد کی حکومت ہی اس خوفناک حالت کو بدل سکتی ہے۔

عآپ کو پھر لگا زوردار جھٹکا، درجنوں لیڈران کانگریس میں شامل

0
عآپ-کو-پھر-لگا-زوردار-جھٹکا،-درجنوں-لیڈران-کانگریس-میں-شامل

نئی دہلی: دہلی کانگریس کے صدر اروندر سنگھ لولی کی موجودگی میں عام آدمی پارٹی (عآپ) کے درجنوں لیڈران آج کانگریس میں شامل ہوئے ہیں۔ یہ عآپ کے لیے زوردار جھٹکا ہے کیونکہ پہلے بھی درجنوں لیڈران و کارکنان عآپ کا دامن چھوڑ کر کانگریس کا ہاتھ تھام چکے ہیں۔ آج کانگریس میں شامل ہونے والے لیڈران میں گلاب سنگھ ٹھاکر، دیپک راجپوت، ندیم، ساگر جین وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ یہ سبھی اپنے درجنوں حامیوں کے ساتھ کانگریس میں شامل ہوئے ہیں۔

اس موقع پر گلاب سنگھ ٹھاکر نے کہا کہ کانگریس واحد پارٹی ہے جو سب کو ساتھ لے کر چلتی ہے، اس لیے آج ہم کانگریس پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ اروندر سنگھ لولی نے پارٹی میں سب کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ تمام لوگ غیر مشروط طور پر کانگریس پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ان کی شمولیت سے کانگریس میں تبدیلی آئے گی۔ پارٹی مضبوط ہوگی اور ہم مل کر دہلی کے لوگوں کی خدمت کریں گے۔

سینئر لیڈر مکیش شرما اور جتیندر کمار کوچر نے اس موقع پر کہا کہ دہلی میں ایک بڑی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ لوگ عام آدمی پارٹی کی حکمرانی سے ناخوش ہیں اور وہ اب تبدیلی کے موڈ میں ہیں۔ بہرحال، اس تقریب میں ریاستی صدر اروندر سنگھ لولی کے علاوہ منگت رام، مکیش شرما، جتیندر کمار کوچر، نیرج بسویا، گرچرن سنگھ راجو، آصف محمد خان کے علاوہ کئی سیاسی شخصیات موجود تھیں۔

مدھیہ پردیش: ’کانگریس کی حکومت بنی تو اسکولی تعلیم مفت ہوگی‘، پرینکا گاندھی کا اعلان

0
مدھیہ-پردیش:-’کانگریس-کی-حکومت-بنی-تو-اسکولی-تعلیم-مفت-ہوگی‘،-پرینکا-گاندھی-کا-اعلان

بھوپال: کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے جمعرات کو مدھیہ پردیش کے منڈلا میں منعقد ’جن آکروش ریلی‘ سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، بلکہ کانگریس حکومت بننے کی صورت میں کئی اہم منصوبے شروع کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ پرینکا گاندھی نے طلبا کے لیے ’پڑھو اور پڑھاؤ‘ منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا جس کے تحت اسکولی تعلیم مفت کی جائے گی اور سبھی اسکولی طلبا کو 500 سے 1500 روپے ماہانہ دیے جائیں گے۔ اس منصوبہ کی تشریح کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سبھی طلبا و طالبات کو پہلی سے بارہویں درجہ تک مفت تعلیم دینے کے علاوہ پہلی درجہ سے آٹھویں درجہ تک 500 روپے، نویں اور دسویں درجہ کے طلبا کو 1000 روپے اور گیارہویں و بارہویں درجہ کے طلبا کو 1500 روپے ماہانہ دیے جائیں گے۔

پرینکا گاندھی نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اسمبلی انتخاب میں کانگریس کی کامیابی کا دعویٰ بھی کیا اور کہا کہ حکومت تشکیل پانے کے بعد کسانوں کے قرض معاف کیے جانے کا راستہ ہموار کیا جائے گا اور انھیں 5 ہارس پاور آبپاشی کی بجلی مفت ملے گی۔ عوام کے لیے 100 یونٹ بجلی مفت ملے گی اور 200 یونٹ بجلی بل ہاف ہوگا۔ سرکاری ملازمین کے لیے پرانی پنشن نافذ کرنے کا وعدہ بھی پرینکا گاندھی نے کیا اور ساتھ ہی کہا کہ گیس سلنڈر کی قیمت 500 روپے کی جائے گی۔

پرینکا گاندھی کے وعدے اتنے پر ہی نہیں رکے، انھوں نے مزید وعدے کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو 1500 روپے ماہانہ ملیں گے۔ او بی سی ریزرویشن 27 فیصد ہوگا۔ ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے گی۔ جہاں 50 فیصد سے زیادہ قبائلی آبادی ہے، وہاں چھٹی شیڈول ڈالی جائے گی۔ ایس سی، ایس ٹی کے خالی پڑے بیک لاگ عہدوں کو فوراً بھرا جائے گا۔ پی ایم رہائش منصوبہ میں شہروں کے برابر گاؤں میں بھی رقم ملے گی۔ ’پیسا‘ قانون نافذ ہوگا۔

پرینکا گاندھی نے اپنے خطاب میں مدھیہ پردیش میں کانگریس حکومت کی ڈیڑھ سالہ مدت کار کی حصولیابیوں کا بھی شمار کرایا۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے 27 لاکھ کسانوں کے قرض معاف کیے تھے۔ سماجی سیکورتی پنشن بڑھا کر 600 روپے کی گئی تھی۔ ایک کروڑ کنبوں کو 100 روپے میں 100 یونٹ بجلی دی گئی تھی۔ ایک ہزار گئوشالائیں کھولی گئی تھیں۔ قبائلیوں کے لیے 12 ہزار برتن بینک کھلے تھے۔ او بی سی ریزرویشن 14 فیصد سے بڑھا کر 27 فیصد کی گئی تھی۔ عوام کو مضبوط کرنے کے لیے کانگریس منریگا اور کھانے کا حق لے کر آئی، کانگریس جنگلی حقوق لے کر آئی، کانگریس نے پنچایت نظام کو مضبوط کیا، جبکہ بی جے پی حکومت نے سرپنچوں کے حقوق میں تخفیف کی، منریگا نافذ نہیں کیا گیا، زمینیں چھینی گئیں، پیداوار کی صحیح قیمت نہیں دی گئی، جنگل کے حقوق ختم کیے گئے۔ اتنا ہی نہیں، کمل ناتھ کی قیادت والی 15 مہینے چلی کانگریس حکومت میں جو پٹّے دلوائے، وہ بی جے پی حکومت نے روک دیے۔

تہواروں سے قبل عوام کو ملی راحت، ستمبر میں خوردہ شرح مہنگائی گھٹ کر 5 فیصد پر پہنچی

0
تہواروں-سے-قبل-عوام-کو-ملی-راحت،-ستمبر-میں-خوردہ-شرح-مہنگائی-گھٹ-کر-5-فیصد-پر-پہنچی

خوردنی ایشیا کی قیمتوں میں گراوٹ کے سبب ستمبر 2023 میں خوردہ شرح مہنگائی میں گراوٹ درج کی گئی ہے۔ ستمبر ماہ میں خوردہ مہنگائی کی شرح گر کر 5.02 فیصد پر آ گئی ہے جو اگست ماہ میں 6.83 فیصد رہی تھی۔ اس سے پہلے جولائی 2023 میں خوردہ شرح مہنگائی 15 ماہ کی اعلیٰ سطح 7.44 فیصد پر جا پہنچی تھی۔

راحت کی بات یہ ہے کہ ستمبر ماہ میں خوردہ شرح مہنگائی آر بی آئی کے ٹولرنس بینڈ کی اعلیٰ سطح 6 فیصد سے اب نیچے آ گئی ہے۔ وزارت برائے شماریات کے ذریعہ دیے گئے ڈاٹا کے مطابق ستمبر ماہ میں خوردنی اشیا کی شرح مہنگائی میں بھی بڑی گراوٹ آئی ہے۔ ستمبر میں خوردنی اشیا کی شرح مہنگائی گھٹ کر 6.56 فیصد پر آ گئی جو اگست میں 9.94 فیصد رہی تھی۔ حالانکہ دیہی علاقوں میں مہنگائی اب بھی لوگوں کو پریشان کر رہی ہے۔ دیہی علاقوں میں خوردہ شرح مہنگائی 5.33 فیصد ہے تو خوردنی اشیا کی شرح مہنگائی 6.65 فیصد پر بنی ہوئی ہے۔

ستمبر ماہ میں سبزیوں کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے جس کے سبب سبزیوں کی مہنگائی شرح گھٹ کر 3.39 فیصد پر آ گئی ہے جو اگست میں 26.14 فیصد پر تھی۔ ھالانکہ دالوں کی شرح مہنگائی بڑھی ہے۔ ستمبر میں دالوں کی شرح مہنگائی بڑھ کر 16.38 فیصد رہی جو اگست ماہ میں 13.04 فیصد رہی تھی۔ مسالوں کی شرح مہنگائی میں معمولی گراوٹ آئی ہے اور یہ 23.06 فیصد رہی ہے جو اگست میں 23.19 فیصد تھی۔ دودھ اور اس سے جڑی مصنوعات کی شرح مہنگائی میں بھی کمی آئی ہے اور یہ گھٹ کر 6.89 فیصد پر آ گئی ہے جو اگست میں 7.73 فیصد رہی تھی۔ اناج اور اس سے جڑی مصنوعات کی شرح مہنگائی بھی کم ہوئی۔ ستمبر میں یہ 10.95 فیصد رہی ہے جو اگست میں 11.85 فیصد رہی تھی۔