منگل, مارچ 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 61

سری نگر: ’جامع مسجد میں ایک دفعہ پھر نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی‘

0
سری-نگر:-’جامع-مسجد-میں-ایک-دفعہ-پھر-نماز-جمعہ-ادا-کرنے-کی-اجازت-نہیں-دی-گئی‘

سری نگر: انجمن اوقاف جامع مسجد سری نگر نے اس بات پر شدید افسوس اور حیرت کا اظہار کیا ہے کہ ریاستی انتظامیہ نے ایک بار پھر آج تاریخی جامع مسجد سری نگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر قدغن عائد کر دی۔

اوقاف نے کہا کہ ریاستی انتظامیہ کی طرف سے صبح سے ہی جامع مسجد کے تمام دروازے بند کر دیئے گئے اور اوقاف کی انتظامیہ کو مطلع کیا کہ آج نماز جمعہ کی ادائیگی نہیں ہوگی۔ اسکے ساتھ ساتھ اوقاف نے میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کو ایک بار پھر انتظامیہ کی جانب سے اپنے گھر میں نظر بند کرکے انکی دینی اور منصبی فرائض کی ادائیگی پر قدغن عائد کرنے کی مذمت کرتے ہوئے انتظامیہ کے اس اقدام کو حد درجہ افسوسناک قرار دیا ہے۔

بیان میں کہا گیاکہ میرواعظ جنہیں تقریباً چار سال کے زائد عرصے کے بعد ابھی گزشتہ دنوں ہی نظر بندی سے رہا کیا گیا تھا کو ایک بار پھر اپنی رہائش گاہ میں نظر بند کرنا اور ان کو اپنے منصبی فرائض کی ادائیگی سے روکنا سمجھ سے بالا تر ہے۔

دریں اثنا ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش وادی کے قرب و جوار میں جمعے کے روز سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے۔ذرائع نے بتایا کہ شمال و جنوب اور وسطی کشمیر میں چپے چپے پر سیکورٹی فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔

نامہ نگار نے بڈگام سے اطلاع دی ہے کہ وہاں پر نماز جمعہ کے بعد شیعہ آبادی والے علاقوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کی خاطر پر امن احتجاج کیا۔ مظاہرین فلسطین پر جاری بمباری کو فوری طورپر روکنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اڈانی معاملے میں کانگریس کا نیا انکشاف، 2 سال میں ملک سے باہر گئے 12 ہزار کروڑ روپے

0
اڈانی-معاملے-میں-کانگریس-کا-نیا-انکشاف،-2-سال-میں-ملک-سے-باہر-گئے-12-ہزار-کروڑ-روپے

اڈانی گروپ اور مرکز کی مودی حکومت کے درمیان سانٹھ گانٹھ کو لے کر آج کانگریس نے ایک نیا انکشاف کیا ہے۔ ہزاروں کروڑ روپے کی ہیرا پھیری کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس نے کہا ہے کہ ’’تازہ انکشافات سے اشارے ملتے ہیں کہ دو سالوں میں 12 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم ملک سے باہر نکالی گئی ہوگی۔‘‘ پارٹی نے اڈانی معاملے سے جڑے ان الزامات کو لے کر اسے جدید ہندوستان کا ’سب سے بڑا گھوٹالہ‘ قرار دیا ہے۔

دراصل کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے جمعہ کے روز اڈانی معاملے پر ایک تازہ بیان دیا ہے جس میں ایک بڑے گھوٹالے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’بی جے پی نے اڈانی گروپ کو ملکت یکجا کرنے میں مدد کی ہے۔ یہ میٹافوریکل لوٹ (استعاراتی لوٹ) نہیں بلکہ کروڑوں ہندوستانیوں کی جیب سے ’چوری‘ ہے۔‘‘ جئے رام رمیش نے برسراقتدار بی جے پی حکومت پر اڈانی گروپ کو ملکیت حاصل کرنے میں مدد کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کے پاس انتخابی بانڈ سے جمع فنڈ بھرا ہوا ہے۔ بی جے پی کے پاس اتنے پیسے ہیں جس سے اسے اپنی خواہش کے مطابق اراکین اسمبلی خریدنے اور اپوزیشن پارٹیوں کو توڑنے کا موقع ملتا ہے۔‘‘

کانگریس جنرل سکریٹری کا کہنا ہے کہ یہ جدید ہندوستان کا سب سے بڑا گھوٹالہ ہے۔ اس میں لالچ اور بے دردی کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے لوگوں کے تئیں بے حسی صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ اس بھروسے پر مبنی ہے کہ ایسا کوئی گھوٹالہ نہیں ہے جسے ’ممنوع‘ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ایسا کوئی ایشو نہیں ہے جسے مینیج نہیں کیا جا سکتا، یا جس سے دھیان نہ بھٹکایا جا سکے۔‘‘

جئے رام رمیش نے وزیر اعظم مودی کا نام لیے بغیر ان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’لیکن شہنشاہ غلط ہیں۔ ہندوستان پر موڈانی کا قبضہ نہیں ہوگا۔ ہندوستان کی عوام 2024 میں جواب دے گی۔‘‘ کانگریس لیڈر نے ایک اخبار کی رپورٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جدید انکشافات کے مطابق 2019 اور 2021 کے درمیان 3.1 ملین ٹن کی مقدار والے 30 اڈانی کوئلہ شپمنٹ کا مطالعہ کیا گیا۔ اس میں کوئلہ کاروبار جیسے کم مارجن والے کاروبار میں بھی 52 فیصد منافع کا مارجن پایا گیا۔

دسہرہ سے پہلے ریاستی ملازمین کی ترقی پر نتیش کابینہ کا اہم فیصلہ، 8 ایجنڈوں کو ملی منظوری

0
دسہرہ-سے-پہلے-ریاستی-ملازمین-کی-ترقی-پر-نتیش-کابینہ-کا-اہم-فیصلہ،-8-ایجنڈوں-کو-ملی-منظوری

پٹنہ: دسہرہ سے پہلے ریاستی حکومت نے سرکاری ملازمین کو بڑا تحفہ دیا ہے۔ جمعہ (13 اکتوبر) کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں کل آٹھ فیصلوں کی منظوری دی گئی ہے۔ پروموشن میں ریزرویشن کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر غور ہونے کے باوجود ریاستی حکومت نے سرکاری ملازمین کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ جانکاری دیتے ہوئے کابینی سکریٹری ایس سدھارتھ نے کہا کہ تقریباً تمام محکموں میں ملازمین اور افسران کی پروموشن طویل عرصے سے تعطل کا شکار تھی۔

مثال کے طور پر کئی جونیئر انجینئر انچارج ایگزیکٹو انجینئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح کئی جونیئر ملازمین کو سینئرز کا چارج دے کر جونیئر پے اسکیل دیا جا رہا ہے۔ اب اس پر ریاستی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی ایک عہدہ کے لیے 100 فیصد میں سے 16 فیصد درج فہرست ذات اور ایک فیصد درج فہرست قبائل یعنی 17 فیصد کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں طے کیا جائے گا اور باقی 83 میں بھی 16 فیصد ریزرویشن درج فہرست ذات اور ایک فیصد درج فہرست قبائل کو دیا جائے گا۔ جسے دیکھ کر عام پروموشن دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کابینی سکریٹری ایس سدھارتھ نے کہا کہ جن محکموں میں 17 فیصد درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل دستیاب نہیں ہیں، ان میں اس وقت کے لیے اسامیاں خالی رہیں گی۔ اس کا فیصلہ مزید ریاستی حکومت کرے گی۔ ریاستی سرکاری ملازمین اور عہدیداروں کی پروموشن 2016 سے تعطل کا شکار تھی جس کو مدنظر رکھتے ہوئے آج کابینہ میں متبادل راستہ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب سپریم کورٹ کا فیصلہ آئے گا تو اس فیصلے کی روشنی میں کام کیا جائے گا۔ اگر عدالت کے حکم کے مطابق جس شخص کو ترقی دی گئی ہے اسے ترقی نہیں دی جا رہی ہے، تو اسے اسی عہدے پر واپس لایا جائے گا جس میں اسے ترقی دی گئی تھی لیکن ریاستی حکومت اسے ترقی دینے کے بعد کی گئی ادائیگی کو واپس نہیں لے گی۔

کابینہ کی میٹنگ میں بہار حکومت نے کسانوں سے دھان خریدنے کے لیے مالی سال 2023-24 میں ربیع کی فصل کے لیے خریداری سے متعلق اداروں کو کل 8 ہزار کروڑ روپے کا قرض فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ نے آئی جی ایم ایس، پٹنہ میں کل 149 آسامیاں تخلیق کرنے کی منظوری دی ہے۔ خصوصی انفراسٹرکچر پلان برائے سال 2022-26 کے تحت عسکریت پسندی سے متاثرہ اضلاع کو 37 کروڑ 83 لاکھ روپے دینے کی منظوری دی گئی ہے۔ کابینہ نے بہار کے تمام سرکاری دانتوں کے اسپتالوں میں ہر قسم کی فیس مقرر کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کے لیے انرولمنٹ اور دیگر فیسیں ایک جیسی کر دی گئی ہیں۔

’عدالتی حکم کو نظر انداز نہ کریں‘، سپریم کورٹ مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر سے ناراض

0
’عدالتی-حکم-کو-نظر-انداز-نہ-کریں‘،-سپریم-کورٹ-مہاراشٹر-اسمبلی-اسپیکر-سے-ناراض

سپریم کورٹ نے 13 اکتوبر کو شیوسینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) اور این سی پی (شرد پوار گروپ) کی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے ایک بار پھر مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا۔ دراصل شیوسینا (یو بی ٹی) اور این سی پی (شرد پوار گروپ) کی طرف سے داخل عرضیوں میں مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کو کچھ اراکین اسمبلی کے خلاف نااہلیت کی کارروائی پر فوری فیصلہ صادر کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ان عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا کہ کسی کو مہاراشٹر اسمبلی کے اسپیکر کو مشورہ دینا ہوگا کہ وہ عدالت کے حکم کو نظر انداز نہ کریں۔ وہ ایسے عدالت کی ہدایت کو خارج نہیں کر سکتے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ گزشتہ بار ہم نے سوچا تھا کہ بہتر تال میل قائم ہوگا۔ شیڈیول کا نظریہ سماعت کو غیر یقینی مدت تک زیر التوا کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اسپیکر کو اس چیز کا احساس کرانا چاہیے کہ وہ معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ جون کے بعد سے اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ انھیں کوئی دکھاوا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ سماعت ہونی چاہیے۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اگر مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کے ذریعہ مناسب وقت-ٹیبل مقرر وقت پر نہیں ملتا ہے تو وہ ایک مدت کار معین کرنے والا لازمی حکم جاری کرے گا، کیونکہ اس کے حکم پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اسپیکر کو کم از کم اگلے انتخاب سے پہلے اراکین اسمبلی کی نااہلیت پر فیصلہ لینا چاہیے۔

دہلی شراب پالیسی: سنجے سنگھ کو 27 اکتوبر تک عدالتی حراست میں بھیجا گیا

0
دہلی-شراب-پالیسی:-سنجے-سنگھ-کو-27-اکتوبر-تک-عدالتی-حراست-میں-بھیجا-گیا

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (عآپ) کے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ کو دہلی ایکسائز پالیسی سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں 27 اکتوبر تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ دریں اثنا، چونکہ سنگھ ذیابیطس کا مریض ہے، اس لیے دوائیوں کے لیے الگ درخواست دائر کی گئی ہے۔

عدالت نے 10 اکتوبر کو دہلی شراب پالیسی معاملے میں گرفتار سنجے سنگھ کی ای ڈی کی تحویل میں 13 اکتوبر تک توسیع کر دی تھی۔ حراست کی مدت ختم ہونے کے بعد انہیں آج دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ دراصل ای ڈی نے الزام لگایا ہے کہ دہلی ایکسائز پالیسی میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔

اس پورے معاملے میں سنجے سنگھ نے اپنی گرفتاری کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا ہے۔ سنگھ کے وکیل نے چیف جسٹس ستیش چندر شرما اور جسٹس سنجیو نرولا کی بنچ سے فوری سماعت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ای ڈی نے انہیں گرفتاری کے لیے مناسب بنیاد نہیں دی ہے۔

ای ڈی نے عآپ لیڈر سنجے سنگھ کو (4 اکتوبر) کو ان کی سرکاری رہائش گاہ پر کئی گھنٹے کے چھاپے کے بعد گرفتار کیا تھا۔ اگلے دن یعنی 5 اکتوبر کو راؤز ایونیو کورٹ نے انہیں پانچ دنوں کے لیے ای ڈی کی تحویل میں بھیج دیا۔ اس دوران مرکزی تفتیشی ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ مبینہ طور پر کچھ ڈیلرز کو فائدہ پہنچانے کے لیے رشوت لی گئی تھی۔

دہلی شراب پالیسی کیس میں اس سے قبل عآپ لیڈر اور سابق وزیر ستیندر جین اور سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔

کشمیر میں اگلے چار دنوں کے دوران برف و باراں کی پیش گوئی

0
کشمیر-میں-اگلے-چار-دنوں-کے-دوران-برف-و-باراں-کی-پیش-گوئی

سری نگر: محکمہ موسمیات نے وادی کشمیر میں اگلے چار دنوں کے دوران برف و باراں کی پیش گوئی کرتے ہوئے کسانوں سے اس دوران فصل کٹائی کرنے سے اجتناب کرنے کی تاکید کی ہے۔

متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان نے کہا کہ وادی میں جمعہ کی شام تک موسم خشک رہنے کا امکان ہے جس کے بعد مطلع ابر آلود ہونے کے ساتھ رات کو کہیں کہیں بارشیں ہوسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بعد ازاں وادی میں 14 اکتوبر سے 17 اکتوبر تک پہاڑی علاقوں میں ہلکے سے درمیانی درجے کی برف باری جبکہ میدانی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارشوں کا امکان ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس دوران وادی کے بعض پہاڑی علاقوں میں بھاری برف باری کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔

موصوف ترجمان نے کہا کہ برف وباراں کے باعث وادی کے درجہ حرارت میں نمایاں گراوٹ درج ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اس دوران زوجیلا، مغل روڈ، سنتھن ٹاپ سادھنا ٹاپ وغیرہ پر ٹریفک کی نقل و حمل متا ثر ہونے کا بھی امکان ہے۔محکمے نے کسانوں سے تاکید کی ہے کہ وہ 14 سے 18 اکتوبر تک فصل کٹائی سے اجتناب کریں۔

دریں اثنا سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت8.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ وادی کے مشہور ترین سیاحتی مقام گلمرگ میں 6.6 ڈگری سینٹی گریڈ اور دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں 3.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔

اسرائیل حماس جنگ کے درمیان جمعہ کو دہلی ہائی الرٹ پر، سکیورٹی بڑھا دی گئی

0
اسرائیل-حماس-جنگ-کے-درمیان-جمعہ-کو-دہلی-ہائی-الرٹ-پر،-سکیورٹی-بڑھا-دی-گئی

نئی دہلی: فلسطین میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان جاری جنگ کے درمیان راجدھانی دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور شہر کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ دہلی میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سیکورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

جمعہ کی نماز کے دوران دہلی پولیس کے اہلکار بھاری نفری کے ساتھ سڑکوں پر موجود رہیں گے۔ یہودی مذہبی اداروں اور اسرائیلی سفارتخانے پر بھی سخت سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ دہلی پولیس نے انٹیلی جنس ایجنسیوں سے ملنے والے ان پٹ کی بنیاد پر سیکورٹی بڑھائی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نماز جمعہ کے بعد ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

دراصل، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ہونے والی اس جنگ پر ہندوستان کے لوگوں کی مختلف رائے ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ لوگ اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں اور کچھ لوگ فلسطین کی حمایت کر رہے ہیں۔ ایسی ہی صورتحال دنیا کے مختلف ممالک میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ جمعہ کو مغربی ایشیا کے کئی ممالک میں احتجاجی مظاہروں کا امکان ہے۔ اس کے پیش نظر ہندوستان میں بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

دہلی این سی آر کے علاوہ تلنگانہ، کیرالہ، اتر پردیش، مہاراشٹر، راجستھان، تمل ناڈو، جموں و کشمیر اور کرناٹک جیسی ریاستوں میں بھی سکیورٹی ایجنسیاں الرٹ ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ایسی تنظیموں پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے جو امن و امان کی صورتحال کو خراب کر سکتی ہیں اور ملک میں بھائی چارے کو بھی ٹھیس پہنچا سکتی ہیں۔ نماز کی ادائیگی کے بعد لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی قسم کے احتجاج کی اجازت ہوگی۔

چھتیس گڑھ میں انتخابات کے پہلے مرحلے کا نوٹیفکیشن جاری

0
چھتیس-گڑھ-میں-انتخابات-کے-پہلے-مرحلے-کا-نوٹیفکیشن-جاری

رائے پور: چھتیس گڑھ میں عام اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 20 اسمبلی سیٹوں کے لیے گورنر وشوبھوشن ہری چندن کے آج نوٹیفکیشن جاری کرنے سے نامزدگی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ پروگرامز کے مطابق پہلے مرحلے کے لیے کاغذات نامزدگی 20 اکتوبر تک داخل کیے جاسکتے ہیں۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 21 اکتوبر کو ہوگی اور 23 اکتوبر تک نام واپس لیے جاسکتے ہیں۔ ووٹنگ 7 نومبر کو ہوگی اور ووٹوں کی گنتی 3 دسمبر کو کی جائے گی۔

پہلے مرحلے میں پنڈاریا، کروردھا، خیر گڑھ، ڈوگر گڑھ، راج نندگاؤں، ڈوگرگاؤں، کُھجی، موہلا مان پور، انٹا گڑھ، بھانوپرتاپ پور، کانکیر، کیشکال، کونڈاگاؤں، نارائن پور، بستر، جگدل پور، چترکوٹ، دنتے واڑہ، کونٹا واڑہ اور بیجا پور سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی۔ اس مرحلے کی سبھی 20 سیٹوں کے لیے اہم اپوزیشن پارٹی بی جے پی نےامیدواروں کا اعلان کر دیا ہے جب کہ حکمراں کانگریس نے ایک بھی سیٹ کے لیے امیدواروں کا اعلان نہیں کیا ہے۔عام آدمی پارٹی، جنتا کانگریس اور کچھ چھوٹی پارٹیوں نے بھی کچھ سیٹوں کے لیے امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔

کولکاتا میں آگ لگنے سے سات گھر، ایک مل جل کر خاکستر

0
کولکاتا-میں-آگ-لگنے-سے-سات-گھر،-ایک-مل-جل-کر-خاکستر

کولکاتا: کولکاتا کے جورباگن علاقے میں آگ لگنے سے سات مکانات اور ایک مل جل کر خاکستر ہو گئی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔یہ واقعہ جمعرات کی دیر رات نیم تلہ شمشان کے قریب کاٹھگولا اسٹریٹ پر پیش آیا۔ لوگ مکانات کے تباہ ہونے سے پہلے ہی بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

فائر بریگیڈ کی 10 گاڑیوں نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پا لیا۔ فائر سروس کے اہلکار آگ لگنے کی وجہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم انہیں ایک گھر کے گراؤنڈ فلور پر چائے کی دکان میں شارٹ سرکٹ کا شبہ ہے۔

مقامی کونسلر میرا ہاجرہ نے موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ مل میں انتہائی آتش گیر مواد کی موجودگی کی وجہ سے آگ اتنی تیزی سے پھیلی۔ انہوں نے کہا کہ آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ہاجرہ نے کہا کہ وہ متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے یا بحالی پر حکام سے مشورہ کریں گی۔

کھلتے ہی 350 پوائنٹس نیچے آیا سینسیکس، آئی ٹی شیئرز میں گراوٹ کے ساتھ منہ کے بل گرا بازار

0
کھلتے-ہی-350-پوائنٹس-نیچے-آیا-سینسیکس،-آئی-ٹی-شیئرز-میں-گراوٹ-کے-ساتھ-منہ-کے-بل-گرا-بازار

مقامی اسٹاک مارکیٹ نے ہفتے کے آخری دن جمعہ کو کاروبار کا آغاز خراب کیا۔ جیسے ہی مارکیٹ میں ٹریڈنگ شروع ہوئی، دونوں بڑے انڈیکس سینسیکس اور نفٹی گر گئے۔ آج کے کاروبار میں آئی ٹی شیئرز میں زبردست گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔

سینسیکس نے تقریباً 360 پوائنٹس کے نقصان کے ساتھ کاروبار شروع کیا۔ تاہم، ٹریڈنگ کے چند منٹوں میں مارکیٹ نے زوال کو روکنے کی کوشش کی۔ صبح 9.20 بجے، سینسیکس تقریباً 315 پوائنٹس کے نقصان کے ساتھ 66,100 پوائنٹس سے نیچے ٹریڈ کر رہا تھا۔ جبکہ نفٹی تقریباً 80 پوائنٹس گرا اور 19,715 پوائنٹس کے قریب تھا۔

مقامی مارکیٹ پر آج پری اوپن سیشن سے دباؤ ہے۔ پری اوپن سیشن میں، سینسیکس 375 پوائنٹس کے نقصان کے ساتھ ٹریڈ کر رہا تھا، جبکہ نفٹی تقریباً 140 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ ٹریڈ کر رہا تھا۔ ایسے اشارے ملے تھے کہ کل کے مقابلے آج مارکیٹ پر زیادہ دباؤ ہو سکتا ہے اور مارکیٹ مسلسل دوسرے دن خسارے میں جا سکتی ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو لگاتار دو دن تک مارکیٹ میں اضافے میں وقفہ تھا۔ سینسیکس تقریباً 65 پوائنٹس کے نقصان کے ساتھ 66,400 پوائنٹس کے قریب بند ہوا، جب کہ نفٹی 19,800 پوائنٹس کے نیچے بند ہوا۔ اس سے پہلے منگل اور بدھ کو لگاتار دو دن مارکیٹ میں تیزی رہی تھی جبکہ ہفتے کے پہلے دن مارکیٹ کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

دوسری سب سے بڑی آئی ٹی کمپنی انفوسس کے حصص ابتدائی تجارت میں سب سے زیادہ گرے ہیں۔ 2.50 فیصد سے زیادہ کی گراوٹ  ہے۔ وپرو تقریباً ڈیڑھ فیصد نیچے ہے۔ ٹیک مہندرا بھی ایک فیصد سے زیادہ گر گیا ہے۔ توقع سے کم کارکردگی کی وجہ سے آج آئی ٹی حصص دباؤ میں ہیں۔ دوسری طرف، ایچ سی ایل ٹیک تقریباً 2.50 فیصد مضبوط ہے۔ آئی ٹی کی سب سے بڑی کمپنی ٹی سی ایس میں بھی معمولی اضافہ ہے۔