منگل, مارچ 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 60

دہلی میں فضائی آلودگی، 13 ہاٹ اسپاٹ کے سلسلہ میں خصوصی حکمت عملی تیار

0
دہلی-میں-فضائی-آلودگی،-13-ہاٹ-اسپاٹ-کے-سلسلہ-میں-خصوصی-حکمت-عملی-تیار

نئی دہلی: ملک کی راجدھانی دہلی میں آلودگی کی سطح میں ہر دن کے ساتھ اضافہ درج کیا جا رہا ہے۔ آج بھی دہلی کے کئی علاقوں میں صبح کے وقت آسمان پر دھند چھائی ہوئی تھی۔ اس دوران دہلی کے چیف سکریٹری نے دہلی میں فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے خصوصی حکم جاری کیا ہے۔ دہلی کے 13 ہاٹ سپاٹ پر آلودگی کو روکنے کے لیے خصوصی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔

دہلی کے جن 13 ہاٹ سپاٹ کے لیے خصوصی حکمت عملی تیار کی گئی ہے وہ آنند وہار، وویک وہار، دوارکا، اوکھلا، وزیر پور، اشوک وہار، آر کے پورم، بوانا، نریلا، جہانگیر پوری، روہنی، منڈکا اور پنجابی باغ ہیں۔ ایم سی ڈی اور این ڈی ایم سی کے تمام ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان ہاٹ سپاٹ کے لیے ٹارگٹڈ اور مخصوص اقدامات کو تیز کریں۔

دہلی کے تمام 11 اضلاع کے لیے پہلی بار مانیٹرنگ کمیٹیاں بنائی گئی ہیں، جن کی سربراہی ایک کوآرڈینیٹر کریں گے اور ان میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، ڈی سی پی ٹریفک، ڈپٹی کمشنر ایم سی ڈی، چیف انجینئر ڈی ڈی اے اور دیگر افسران بطور ممبر شامل ہوں گے۔ مانیٹرنگ کمیٹیاں جی آر اے پی کے رہنما خطوط پر عمل درآمد کریں گی اور دیگر کاموں کے ساتھ فیلڈ وزٹ بھی کریں گی۔

ڈی ایم کے خواتین اجلاس میں شرکت کریں گی سونیا گاندھی

0
ڈی-ایم-کے-خواتین-اجلاس-میں-شرکت-کریں-گی-سونیا-گاندھی

چنئی: کانگریس کی سینئر لیڈر سونیا گاندھی ہفتہ کو ہونے والی ڈی ایم کے کی خواتین کانفرنس میں شرکت کریں گی۔ یہ کانفرنس، ‘مگلیر اورمائی مناڈو’، ڈی ایم کے کے آنجہانی سرپرست اور سابق وزیر اعلی ایم کروناندھی کی صد سالہ تقریبات کا حصہ ہے۔

ڈی ایم کے خواتین ونگ کی سربراہ اور ایم پی کنیموزی کروناندھی نے ایک بیان میں کہا کہ کانفرنس میں مرکز سے مطالبہ کیا جائے گا کہ خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ میٹنگ میں سونیا گاندھی کی شرکت کو کانگریس اور ڈی ایم کے کے درمیان ہم آہنگی کی ایک بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے اور ان کی موجودگی سے کانفرنس اور اس طرح ڈی ایم کے کو بڑا فروغ ملے گا۔

تمل ناڈو کانگریس کمیٹی (ٹی این سی سی) کے صدر اور کانگریس کے سینئر لیڈر کے ایس الاگیری نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ سونیا گاندھی پروگرام کے موقع پر پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ اور ایم ایل اے سے بھی مل سکتی ہیں۔

مہاراشٹر کے وزیر چھگن بھجبل کو جان سے مارنے کی دھمکی، پولیس نے شروع کیں تحقیقات

0
مہاراشٹر-کے-وزیر-چھگن-بھجبل-کو-جان-سے-مارنے-کی-دھمکی،-پولیس-نے-شروع-کیں-تحقیقات

ممبئی: مہاراشٹر کی ایکناتھ شندے حکومت میں خوراک اور عوامی ترسیل کے وزیر چھگن بھجبل کو ان کے ذاتی نمبر سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹ پر ایک نامعلوم فون نمبر سے جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ اس حوالے سے تھانے میں شکایت درج کرائی گئی ہے، جس کے بعد پولیس نے دھمکی دینے والے شخص کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق جمعہ کی شام نیشنلسٹ کانگریس پارٹی میں بغاوت کرنے والے اجیت پوار دھڑے کے لیڈر بھجبل کے پیغامات موصول ہوئے تھے۔ دھمکی میں لکھا تھا، ’’آپ زیادہ دیر زندہ نہیں رہیں گے۔ ہم اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب آپ کو ختم نہ کر دیں۔ بہتر ہوگا کہ آپ ہوشیار رہیں، ہم آپ کو دیکھ لیں گے۔‘‘

اس دھمکی آمیز پیغام کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ناسک این سی پی کے نوجوان لیڈر امباداس جے کھیرے نے امباڈ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے، جس کے بعد پولیس نے وزیر کو دھمکی دینے والے شخص کا سراغ لگانے کے لیے تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس دھمکی بھیجنے والے نمبر کو ٹریس کر رہی ہے۔

اس دوران پارٹی ذرائع نے بتایا کہ مقبول او بی سی لیڈر چھگن بھجبل گزشتہ چند دنوں میں مراٹھا ریزرویشن کے لیے ریاست میں جاری تحریک کے بارے میں کچھ سخت خیالات کا اظہار کرنے کے لیے اچانک سرخیوں میں آئے ہیں، جس کی وجہ سے کچھ طبقے ان سے ناراض ہیں۔ ممکن ہے جان سے مارنے کی دھمکیاں اسی سے متعلق ہوں۔

ایم پی انتخابات: بی جے پی میں بغاوت کا سلسلہ جاری، ایک اور ناراض رکن اسمبلی پارٹی سے متعفی

0
ایم-پی-انتخابات:-بی-جے-پی-میں-بغاوت-کا-سلسلہ-جاری،-ایک-اور-ناراض-رکن-اسمبلی-پارٹی-سے-متعفی

بھوپال: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم ایل اے نارائن ترپاٹھی نے پارٹی اور اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وہ پچھلے کئی مہینوں سے پارٹی سے ناراض چل رہے تھے۔ بالآخر انہوں نے پارٹی کو خیرباد کہہ دیا۔ انہوں نے اسمبلی اسپیکر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدر کو الگ الگ خط لکھ کر استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اگرچہ، انہوں نے وندھیہ جنتا پارٹی (وی جے پی) سے ایک نئی سیاسی پارٹی رجسٹر کی ہے لیکن پھر بھی ان کے مستقبل کے بارے میں کافی باتیں ہو رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نارائن ترپاٹھی کی ناراضگی کے درمیان ہی بھارتیہ جنتا پارٹی نے میہر سے ان کا ٹکٹ بھی منسوخ کر دیا ہے۔ پارٹی نے مرکزی وزیر جیوترادتیہ سندھیا کے حامی شری کانت چترویدی کو یہاں سے اپنا امیدوار قرار دیا ہے۔ نارائن ترپاٹھی کے بارے میں چرچا ہے کہ وہ ایک بار پھر سب کو حیران کر سکتے ہیں اور پارٹی بدل سکتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ نارائن ترپاٹھی نوراتری کے دوران اپنی پرانی پارٹی کانگریس میں شامل ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ نارائن ترپاٹھی اب تک ایس پی، کانگریس اور بی جے پی سے چار بار ایم ایل اے منتخب ہو چکے ہیں۔ اس مدت کے دوران، ان کے کانگریس میں شامل ہونے کی بہت سی قیاس آرائیاں تھیں لیکن وہ اسمبلی انتخابات کے اعلان تک بی جے پی میں ہی رہے۔

اب نارائن ترپاٹھی نے بالآخر بھارتیہ جنتا پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے اور کانگریس میں شامل ہونے کی قیاس آرائیاں تیز کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے اسمبلی کی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔ نارائن ترپاٹھی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی کانگریس میں شامل ہوں گے اور میہر اسمبلی سیٹ سے الیکشن لڑیں گے۔

اسرائیل سے ہندوستانیوں کو لے کر بحفاظت دہلی پہنچی دوسری پرواز، 235 لوگوں کی وطن واپسی

0
اسرائیل-سے-ہندوستانیوں-کو-لے-کر-بحفاظت-دہلی-پہنچی-دوسری-پرواز،-235-لوگوں-کی-وطن-واپسی

نئی دہلی: اسرائیل اور حماس کی جاری جنگ کے درمیان ہندوستان نے اسرائیل سے ہندوستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی کے لیے ‘آپریشن اجے’ شروع کیا ہے۔ انخلاء کے اس آپریشن کے تحت اسرائیل سے ہندوستانیوں کا دوسرا قافلہ دہلی پہنچ گیا ہے۔ ایک خصوصی طیارہ 235 ہندوستانی شہریوں کو لے کر دہلی پہنچا۔ وزیر مملکت برائے خارجہ امور راج کمار رنجن سنگھ شہریوں کے استقبال کے لیے ہوائی اڈے پر موجود تھے۔

ہندوستانی شہریوں کے دوسرے قافلہ میں دو نومولود بچوں سمیت 235 شہری شامل تھے۔ انہیں اسرائیل سے جمعہ (13 اکتوبر) کو بحفاظت باہر نکالا گیا تھا۔ مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے طیارے نے اسرائیل سے ٹیک آف کیا۔ اس سے ایک دن پہلے 212 ہندوستانیوں کو خصوصی طیارے کے ذریعے ہندوستان لایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ ہندوستان نے جمعرات کو آپریشن اجے کا اعلان کیا۔ اس کا مقصد اسرائیل میں رہنے والے ہندوستانیوں کی محفوظ واپسی ہے۔ اس آپریشن کے ذریعے اسرائیل سے صرف ان لوگوں کو لایا جا رہا ہے، جو وہاں سے آنے کے لیے تیار ہیں۔

اسرائیل میں ہندوستانی سفارت خانے نے کہا ہے کہ ہندوستانی شہریوں کے انخلاء کا عمل ہفتہ (14 اکتوبر) کو بھی جاری رہے گا۔ سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’سفارت خانے نے آج خصوصی پرواز کے لیے رجسٹرڈ ہندوستانی شہریوں کے اگلے بیچ کو ای میل کیا ہے۔ بعد کی پروازوں کے لیے دوسرے رجسٹرڈ لوگوں کو ایک پیغام بھیجا جائے گا۔ مسافروں کا انتخاب ‘پہلے آئیے پہلے پائیے’ کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے مسافروں کو اپنی معلومات سفارتخانے کے ڈیٹا بیس میں فیڈ کرنا ہوگی۔‘‘

اسرائیل میں رہنے والے ہندوستانیوں کی تعداد 18000 ہے۔ ان میں زیادہ تر طلباء، آئی ٹی پروفیشنلز اور ہیروں کے تاجر شامل ہیں۔ ہندوستان واپس آنے والے لوگوں کو واپس لانے کے اخراجات حکومت خود برداشت کر رہی ہے۔ ہندوستانی شہریوں کی وطن واپسی کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ حماس کے غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر حملہ کے بعد وہاں جنگ کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

طلاق اس زندگی میں تو اب ممکن نہ رہی!

0
طلاق-اس-زندگی-میں-تو-اب-ممکن-نہ-رہی!

بھارت کی سپریم کورٹ نے نواسی سالہ نرمل سنگھ کو اپنی بیاسی سالہ بیوی پرمجیت کو طلاق دینے کے قانونی حق سے محروم کر دیا ہے۔ پرمجیت کا کہنا ہے کہ وہ اس عمر میں بھی اپنی ازدواجی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے تیار ہیں۔

بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں شادی کا بندھن پاک اور معتبر ہے، اس لیے صرف ایک فریق کے مطالبے پر شادی ختم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ نرمل سنگھ نے سن 1963 میں شادی کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ سن 1984 میں ان کی شادی ناکام ہو گئی تھی۔ تب سے ہی وہ اپنی اہلیہ کو طلاق دینے کی کوشش میں تھے۔ ان کی اہلیہ پرمجیت کور کی عمر اس وقت بیاسی برس ہے۔ ناچاقی اور لڑائی جھگڑوں کے باوجود وہ طلاق نہیں چاہتی ہیں۔

بھارتی شہری نرمل سنگھ پینیسار نے پہلی مرتبہ ستائیس سال قبل کوشش کی تھی کہ وہ اپنی اہلیہ سے قانونی طور پر علیحدگی اختیار کر لیں۔ تاہم متعدد کوششوں کے باوجود اب ان پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ کم ازکم اس جنم میں تو وہ اپنی بیوی کو قانونی طور پر طلاق نہیں دے سکتے ہیں۔

بھارت میں طلاق کو ایک اخلاقی برائی قرار دیا جاتا ہے۔ نہ صرف گھروالوں کی کوشش ہوتی ہے کہ میاں بیوی ناچاقی کے باوجود بھی الگ نہ ہوں بلکہ ساتھ ہی قانونی نظام میں بھی ایسی پیچیدگیاں ہیں کہ طلاق دینے کا عمل کافی زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق شاید اسی لیے بھارت میں سو میں سے صرف ایک جوڑے کے مابین ہی قانونی طور پر علیحدگی ہوتی ہے۔

نرمل سنگھ نے سن 1986 میں پہلی مرتبہ طلاق کے لیے مقدمہ دائر کیا تھا۔ ایک ڈسٹرکٹ کورٹ نے ان کی طلاق کی منظوری دے دی تھی لیکن ان کی اہلیہ پرمجیت کی درخواست پر اسی سال اس عدالتی فیصلے کو واپس لے لیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ یہ تسلیم کرتی ہے کہ یہ شادی اب درست سمت نہیں جا سکتی لیکن قانونی پیچدگیاں ایسی ہیں کہ نرمل سنگھ اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتے ہیں۔

عدالت نے اپنے تازہ فیصلے میں کہا کہ طلاق دراصل پرمجیت کے ساتھ ناانصافی ہو گی۔ اس خاتون نے عدالت سے گزارش کی تھی کہ وہ اپنی باقی ماندہ زندگی ایک طلاق شدہ عورت کا طعنہ سن کر نہیں گزار سکتی ہیں، اس لیے عدالت اس مقدمے کو خارج کر دے۔

پرمجیت نے عدالت کو یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ اس بڑھاپے میں بھی وہ اپنی تمام تر ازدواجی ذمہ دارایاں نبھانے کے لیے تیار ہیں اور اپنے بزرگ شوہر کا خیال رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں گی۔ نرمل سنگھ اور پرمجیت کے تین بچے بھی ہیں۔

یہ مقدمہ بھارتی عدالتی نظام کی سست روی کی ایک مثال بھی ہے۔ صرف اس سیول مقدمے کے فیصلے تک پہنچنے میں عدالت نے ستائیس برس کا وقت لیا۔ بھارتی حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں 43.2 ملین کیسز التوا کا شکار ہیں۔

دیوالی سے پہلے مسافروں کو ملنے والی ہے 9 وندے بھارت ٹرینوں کی خوشخبری!

0
دیوالی-سے-پہلے-مسافروں-کو-ملنے-والی-ہے-9-وندے-بھارت-ٹرینوں-کی-خوشخبری!

ہندوستانی ریلوے لگاتار نئے نئے روٹ پر وندے بھارت ٹرینیں چلا رہا ہے تاکہ مسافروں کے لیے آسانیاں میسر ہو سکیں۔ اب خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ ریلوے کی طرف سے الگ الگ ریاستوں میں مزید وندے بھارت ٹرینیں جلد شروع کرنے کا امکان ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ریلوے دیوالی سے پہلے ملک میں 9 نئے وندے بھارت ایکسپریس ٹرینوں کو الگ الگ روٹ پر شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی وندے بھارت ایکسپریس ٹرینیں سنٹرل ریلوے ڈویژن میں چلائی جا سکتی ہیں۔ حالانکہ سیمی ہائی اسپیڈ ٹرینوں کے روٹ سے متعلق فی الحال آخری فیصلہ لیا جانا باقی ہے۔ ملک کے وسطی علاقہ میں بہتر رابطہ کے لیے اب تک تین روٹ یعنی راستے تجویز کیے گئے ہیں۔ یہ روٹ ہیں ممبئی سے جالنہ، پونے سے سکندر آباد، ممبئی سے کولہاپور۔ 6 دیگر روٹ کے بارے میں جلد ہی فیصلہ لیا جا سکتا ہے، کیونکہ ٹرینوں کے رسمی طور سے چلنے سے پہلے روٹ کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

ایک طرف جہاں 9 وندے بھارت ایکسپریس روٹ کا اعلان اور تصدیق ہونا باقی ہے، وہیں دوسری طرف انڈین ریلوے وارانسی سے دوسرے سیمی ہائی اسپیڈ ٹرین شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ ٹرین 8 کوچ کے ریک کے ساتھ وارانسی اور ٹاٹانگر کے درمیان چلے گی۔ نئی وارانسی-ٹاٹا نگر وندے بھارت ایکسپریس 6 ہالٹ اسٹیشنوں پر رکے گی۔ ان میں ٹاٹا نگر جنکشن، پرولیا جنکشن، بوکارو سٹی، گیا جنکشن، پنڈت دین دیال اپادھیائے جنکشن اور وارانسی جنکشن شامل ہیں۔

وارانسی-ٹاٹانگر وندے بھارت ایکسپریس کے وقت سے متعلق بات کریں تو یہ ٹرین ٹاٹا نگر جنکشن سے صبح 6 بجے کھلے گی۔ یہ دوپہر 1.50 بجے وارانسی جنکشن پہنچے گی۔ 574 کلومیٹر طویل سفر ملک کی سب سے تیز ٹرین کے ذریعہ تقریباً 7 گھنٹے اور 50 منٹ میں طے کی جائے گی۔ ٹاٹا نگر واپس جانے کے لیے ٹرین وارانسی جنکشن سے دوپہر 2.35 بجے روانہ ہوگی اور رات 10 بجے اپنی آخری منزل پر پہنچے گی۔

’فلسطین کے مسلمان مظلوم اور قابل رحم‘، مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی کا خطاب

0
’فلسطین-کے-مسلمان-مظلوم-اور-قابل-رحم‘،-مولانا-مفتی-ابوالقاسم-نعمانی-کا-خطاب

دیوبند: دارالعلوم دیوبند کے مہتمم و شیخ الحدیث مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے اپنے ایک خطاب میں فلسطین کے مسلمانوں کو مظلوم، بے بس اور قابل رحم، جبکہ اسرائیل اور اس کی سرپرست مغربی طاقتوں کو ظالم و جابر اور دشمن اسلام قرار دیا، نیز مسجد اقصی کی عظمت و اہمیت پر روشنی ڈالی۔

مولانا ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ فلسطین، مسجد اقصی اور سر زمین قدس کے ساتھ مسلمانوں کا جو ایمانی و جذباتی تعلق ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ اس کو فراموش کر دیا جائے۔ مسجد اقصی کے سلسلہ میں قرآن پاک میں اللہ تعالی نے مستقل آیتیں نازل فرمائی ہیں، مثلاً (ترجمہ) پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے، تاکہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے والا ہے۔

مولانا نعمانی نے کہا کہ اس آیت میں مسجد اقصی کا ذکر ہے نیز مسجد اقصی کے ماحول اور ارد گرد کی زمین کے مبارک ہونے کا تذکرہ بھی ہے۔ آیت کا اصل مقصد تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے سفر اسراء اور سفر معراج کو بیان فرمانا ہے، لیکن اسی کے ضمن میں اگلی آیات کے اندر یہودیوں اور بنی اسرائیل کے عروج و زوال کی داستانیں بھی بیان کی گئیں ہیں۔ مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ ’فلسطین ایک تاریخی مطالعہ‘ کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ مسجد اقصی کے ساتھ کئی اہم واقعات مربوط ہیں۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج کی پہلی منزل ہے، معراج کے موقع پر مکہ مکرمہ سے آپ مسجد اقصی تشریف لے گئے پھر وہاں سے آپ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی، واپسی میں بھی آپ مسجد اقصی تشریف لائے پھر وہاں سے مکہ مکرمہ واپس ہوئے۔ مکہ سے مسجد اقصی تک کے سفر کو اسراء اور مسجد اقصی سے آسمانوں تک کے سفر کو معراج کہا جاتا ہے۔ اسی سفر میں مسلمانوں کو پانچ وقت کی نماز کا تحفہ ملا، اسی سفر سے واپسی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد اقصی کے پاس تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی امامت فرمائی۔ مسجد اقصی سے تعلق کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ مسلمانوں کا قبلہ اول رہا، ہجرت مدینہ طیبہ کے بعد سولہ یا سترہ مہینے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد اقصی کی طرف رخ کر کے نماز ادا فرمائی۔ پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد خانۂ کعبہ کی طرف آپ نے رخ فرمایا۔

مولانا نعمانی نے کہا کہ مسجد اقصی اور سر زمین فلسطین متعدد انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی قیام گاہ اور ان کا مدفن ہے۔ وہاں کی مسجد حضرت سلیمان اور حضرت داؤد علیہما السلام کے ذریعہ تعمیر کی گئی ہے۔ پہلی تعمیر تو فرشتوں کے ذریعہ ہوئی، جبکہ دوسری تعمیر حضرت سلیمان اور حضرت داؤد علیہما السلام کے ذریعہ ہوئی ہے۔ اس لیے مسلمانوں کا جو تعلق سرزمین فلسطین سے، وہاں کے باشندوں سے اور مسجد اقصی سے ہے وہ انتہائی جذباتی قسم کا ہے۔ آج یورپ کی سازش کی بناء پر عین قلب عرب کے اندر جو اسرائیل کی شکل میں خنجر گھونپا گیا ہے، اس کی ٹیس اس وقت سے لے کر آج تک پورا عالم اسلام محسوس کر رہا ہے۔ چونکہ یہ ایک سازشی عمل تھا اس لیے مسلسل ہر مغربی ملک کی جانب سے اس کی پشت پناہی کی جا رہی ہے، اور نام نہاد ملک اسرائیل اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے ساتھ نہ صرف یہ کہ اپنے قدم آگے بڑھا رہاہے بلکہ فلسطین کے جو اصل باشندے ہیں ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔

مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ اہل فلسطین کی جرأت و عزیمت کو سلام پیش کرنا چاہیے۔ ابھی رمضان المبارک کے اندر جو تازہ حادثات پیش آئے ہیں، کہ عین نماز کے وقت مسجد اقصی کے مصلیوں پر ظلم ڈھایا گیا، انہیں مارا پیٹا گیا اور اس کے بعد ان کی طرف سے جو معمولی سی مزاحمت ہوئی اس کو بہانہ بنا کر غزہ کے علاقے میں بمباری کی گئی جس میں ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے، بچے اور عورتیں تک ماری گئیں لیکن نام نہاد امن پسند دنیا خاموش تماشائی بنی رہی۔ لیکن شاباشی کے قابل ہیں وہ نہتے مجاہدین جنھوں نے اپنی بے سرو سامانی کے باوجود مزاحمت کی، یہاں تک کہ اسرائیل جیسے متکبر اور سرکش ملک کو گھٹنے ٹیکنا پڑے اور وہ جنگ بندی کے لیے مجبور ہوا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ ایسی کسمپرسی کے عالم میں ’ہم کیا کریں‘، اور کہا کہ اس وقت ہمارے کرنے کے کئی کام ہیں۔ پہلا کام تو یہ ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان فلسطین کے نہتے مسلمانوں کے ساتھ اپنی ہم آہنگی اور تعاون کا اظہار کریں تاکہ انہیں یہ محسوس ہو کہ اس مسئلہ میں ہم اکیلے نہیں ہیں، بلکہ پورا عالم اسلام ہمارے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا رائے عامہ کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی عادی ہے اس لیے تمام دنیا کے مسلمان اور خاص طور سے برصغیر اور خصوصاً ہندوستان کے مسلمان فلسطین اور اہل فلسطین کی حمایت میں اپنی آواز کو بلند کریں اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کریں۔ وہ مغربی ممالک، وہ اقوام متحدہ، وہ سلامتی کونسل جو اپنے من مانے مقاصد کے لیے خود ساختہ مسائل کے لیے امن و آشتی کا ڈھنڈھورا پیٹتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں وہاں کے لوگوں پر اپنے فیصلے مسلط کر دیتے ہیں۔ ان کی نگاہوں کے سامنے فلسطینی مسلمانوں اور وہاں کے باشندوں پر ظلم ہو رہا ہے، لیکن ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ فلسطین اور باشندگان فلسطین کے حق میں اس زور و شور کے ساتھ آواز بلند کی جائے کہ سلامتی کونسل فلسطین کے مسئلے میں حق و انصاف کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہو، فلسطینیوں کو ان کا حق دلایا جائے، ان کی جو زمینیں چھین لی گئی ہیں وہ انہیں واپس کی جائیں، نیز اسرائیل اور اس کے آقاؤں کی طرف سے جو اقدامات ہو رہے ہیں ان پر بندش قائم کی جائے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ہم سب کے سب مل کر بارگاہ الٰہی میں دعا بھی کریں کہ اللہ تعالی قدس کے باشندوں کی حفاظت فرمائے، انہیں ان کا چھینا ہوا وقار واپس دلائے، مسجد اقصی کو یہودیوں کے نرغے سے نکلنے کے اسباب پیدا فرمائے۔

راجستھان انتخاب: امیدواروں کی پہلی فہرست سے بی جے پی میں ہنگامہ، صدائے احتجاج ہو رہی بلند

0
راجستھان-انتخاب:-امیدواروں-کی-پہلی-فہرست-سے-بی-جے-پی-میں-ہنگامہ،-صدائے-احتجاج-ہو-رہی-بلند

آئندہ ماہ 25 نومبر کو ہونے والے راجستھان اسمبلی انتخاب کے لیے بی جے پی امیدواروں کی پہلی فہرست سامنے آتے ہی پارٹی کے اندر صدائے احتجاج بلند ہونی شروع ہو گئی ہے۔ بی جے پی میں ریاست بھر میں ہر طرف سے احتجاج کی آواز بلند ہو رہی ہے۔ کئی نام غائب ہونے سے ناراض لیڈران کو منانے کا دور بھی شروع ہو گیا ہے۔ ٹکٹ تقسیم سے پارٹی میں پیدا بحران کو ختم کرنے کے لیے پارٹی کے سرکردہ لیڈران نے محاذ سنبھال لیا ہے۔

جمعرات کو مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت نے اجمیر کا دورہ کیا تھا اور جمعہ کے روز پارٹی کے سینئر لیڈران اس معاملے میں میٹنگ بھی کرنے والے ہیں۔ گجیندر سنگھ شیخاوت نے جب اجمیر کا دورہ کیا تھا تو پارٹی جنرل سکریٹری چندرشیکھر بھی جھنجھنو پہنچے اور ریاستی شریک انچارج وجیا رہاٹکر نے سانچور کا دورہ کیا۔ علاوہ ازیں حزب مخالف کے ڈپٹی لیڈر ستیش پونیا نے شری گنگا نگر اور پارٹی انچارج ارون سنگھ نے جئے پور میں ناراض لیڈران سے بات کی تھی۔

جمعہ کو پارٹی کے سینئر لیڈران ملاقات کرنے والے ہیں اور انتخاب کے تعلق سے اہم ایشوز پر وہ صلاح و مشورہ کریں گے۔ حال ہی میں ارون سنگھ نے دو بار کے وزیر اعلیٰ اور سابق نائب وزیر اعلیٰ بھیروں سنگھ شیخاوت کے داماد اور سابق رکن اسمبلی نرپت سنگھ راجوی کے ساتھ بھی میٹنگ کی تاکہ انھیں سمجھایا جا سکے کہ ان کی فکر کو اعلیٰ کمان تک پہنچایا جائے گا اور حل کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق بی جے پی انتخاب میں کانگریس کے خلاف ضرور لڑ رہی ہے، لیکن جس طرح سے وسندھرا راجے کے قریبی لیڈروں کے ٹکٹ کاٹے گئے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ سب سے پرانی پارٹی کے علاوہ وسندھرا راجے کے ساتھ سرد جنگ بھی لڑ رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آر ایس ایس بھی فہرست سے کاٹے گئے کچھ ناموں سے خوش نہیں ہے۔

اس درمیان مبینہ طور پر وسندھرا راجے اور ان کے حامی اپنے قریبی لیڈروں کے ٹکٹ رد ہونے کے باوجود دوسری فہرست کا انتظار کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ ایک صابر کھلاڑی کی طرح پرسکون اور صبر بنائے ہوئے ہیں، لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا گزشتہ ساڑھے چار سال سے مین اسٹریم میں آنے کا انتظار کر رہی وسندھرا راجے دوسری فہرست کے بعد اپنا صبر برقرار رکھ پائیں گی؟

راجستھان بی جے پی انتخابی مینجمنٹ کمیٹی کے کنوینر نارائن پنچاریا نے کہا کہ راجے مرکز میں جئے پرکاش نڈا کے بعد بی جے پی کی دوسری سب سے بڑی لیڈر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہماری پارٹی میں کوئی گروپ یا خیمہ نہیں ہے۔ صرف ’کمل‘ ہی ہماری پہچان ہے۔ راجے حال ہی میں جھارکھنڈ میں بھی علم بردار تھیں اور انھوں نے اپنا کام بہت کامیابی کے ساتھ کیا۔‘‘

’برائے کرم انتخابات کے درمیان غیر جانبدار رہیں‘، انڈیا اتحاد نے فیس بک اور گوگل کو لکھا خط

0
’برائے-کرم-انتخابات-کے-درمیان-غیر-جانبدار-رہیں‘،-انڈیا-اتحاد-نے-فیس-بک-اور-گوگل-کو-لکھا-خط

مرکز کی مودی حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے پر آمادہ اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ نے فیس بک کے چیف ایگزیکٹیو افسر مارک زکربرگ اور گوگل کے چیف ایگزیکٹیو افسر سندر پچائی کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں ملک کے اندر فرقہ وارانہ نفرت کو فروغ دینے میں ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مبینہ شراکت داری کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اس خط کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ انڈیا اتحاد کی پارٹیوں نے فیس بک پر سماج میں نفرت پھیلانے اور فرقہ واریت پر مبنی نفرت کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی انڈیا اتحاد نے سوشل سائٹس سے انتخابات کے درمیان غیر جانبدار رہنے کی گزارش بھی کی ہے۔

اپوزیشن اتحاد نے خط کے ساتھ واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ منسلک کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح مبینہ طور سے سوشل میڈیا سائٹس کے ذریعہ ملک میں نفرت کو فروغ دیا گیا ہے۔ اپوزیشن نے زکربرگ کو لکھی چٹھی میں اس بات پر زور دیا ہے کہ انڈیا اتحاد میں 28 سیاسی پارٹیاں شامل ہیں جو مشترکہ اپوزیشن اتحاد کی قیادت کرتے ہیں۔ ان میں شامل پارٹیوں کی 11 ریاستوں میں حکومت ہے جو مجموعی ہندوستانی ووٹرس میں نصف کی نمائندگی کرتے ہیں۔

کانگریس صدر کھڑگے نے واشنگٹن پوسٹ کی اس تحقیقاتی رپورٹ کا حوالہ دیا ہے جس میں بی جے پی اراکین اور حامیوں کے ذریعہ فرقہ وارانہ نفرت کو فروغ دینے میں واٹس ایپ اور فیس بک کے کردار کا انکشاف کیا گیا تھا۔ انھوں نے ’’ہندوستان کے دباؤ میں فیس بک نے تشہیر اور نفرت پھیلانے والی تقریر کو پنپنے دیا‘ عنوان سے ایک دیگر مضمون کا بھی حوالہ دیا جس میں مبینہ طور سے برسراقتدار نظام اور فیس بک انڈیا کے افسران کے درمیان سانٹھ گانٹھ کا انکشاف ہوا تھا۔ انڈیا اتحاد کی پارٹیوں میٹا پر برسراقتدار پارٹی کے مواد کو فروغ دینے کے دوران ایلگوردم ماڈریشن اور اپوزیشن لیڈران کے مواد کو دبانے کا الزام عائد کیا۔

خط میں ان سوشل میڈیا سائٹس سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی غیر جانبداری کو برقرار رکھیں اور خاص طور سے انتخابات کے درمیان اس کا خاص خیال رکھیں۔ خط میں ہندوستانی جمہوریت میں اس طرح کے سائٹس کا استعمال اور ان کے افسران کی اقتدار کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کی تنقید کی گئی ہے۔ انڈیا اتحاد کا مطالبہ ہے کہ فیس بک یہ یقینی کرے کہ ان کے پلیٹ فارم کا ہندوستان میں نفرت پھیلانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ سماجی بدامنی پھیلانے میں کسی طرح کا تعاون نہ کرے۔ جمہوری اقدار پر عمل کرے اور اپنی ذمہ داری نہ بھولے۔

گوگل سی ای او سندر پچائی کو لکھے گئے خط میں بھی اپوزیشن اتحاد نے واشنگٹن پوسٹ کے ایک مضمون کا حوالہ دیا جس میں یوٹیوب نے ہندوستانی مسلمانوں پر حملوں کا براہ راست نشریہ کرنے والے یوٹیوبر کو ایوارڈ دیا تھا۔ انھوں نے یوٹیوب پر بی جے پی اراکین اور حامیوں کے ذریعہ نفرت آمیز، فرقہ وارانہ طور سے تخریب کاری پر مبنی پیغام پھیلانے اور ہندوستانی سماج کو تقسیم کرنے کا الزام لگایا۔ انھوں نے یوٹیوب پر ہندوستانی سماج میں نفرت پھیلانے اور فرقہ وارانہ نفرت کو اکسانے کا الزام لگایا۔ علاوہ ازیں یوٹیوب پر برسراقتدار پارٹی کے لیڈران کے مواد کو پروموٹ کرنے اور اپوزیشن لیڈران کے مواد کو دبانے کا الزام بھی عائد کیا۔