منگل, مارچ 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 59

ہر سال 23 اگست کو منایا جائے گا ’نیشنل اسپیس ڈے‘، مرکزی حکومت نے جاری کیا نوٹیفکیشن

0
ہر-سال-23-اگست-کو-منایا-جائے-گا-’نیشنل-اسپیس-ڈے‘،-مرکزی-حکومت-نے-جاری-کیا-نوٹیفکیشن

مرکزی حکومت نے 23 اگست کو ’نیشنل اسپیس ڈے‘ (قومی یومِ خلا) کی شک میں منانے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ چندریان-3 کے کامیابی کے ساتھ چاند کے جنوبی قطب پر اترنے کے ٹھیک بعد وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ کیا گیا تھا، اور اب اس سلسلے میں مرکزی حکومت نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ 23 اگست کو چاند کے جنوبی قطب پر وِکرم لینڈر کی کامیاب لینڈنگ اور پھر پرگیان رووَر کی تعیناتی کے ساتھ ہی چندریان-3 مشن کامیاب ہو گیا تھا اور پھر لینڈر ماڈیول نے چاند پر سے کئی اہم ڈاٹا بھیجے جس پر سائنسدانوں کی تحقیق جاری ہے۔ اس کامیابی کا جشن پورے ملک میں منایا گیا تھا اور اِسرو کے سائنسدانوں سے جب پی ایم مودی نے ملاقات کر انھیں مبارکباد پیش کی تھی تو اسی وقت اعلان کیا تھا کہ ہر 23 اگست کو ’نیشنل اسپیش ڈے‘ کی شکل میں منایا جائے گا۔

بہرحال، اسپیس ڈپارٹمنٹ کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ’’23 اگست کو وکرم لینڈر کی لینڈنگ اور چاند کی سطح پر پرگیان رووَر کی تعیناتی کے ساتھ چندریان-2023 مشن کی کامیابی کے ساتھ ہندوستان خلائی سفر کرنے والے ممالک کے ایک خاص گروپ میں شامل ہو گیا، جو چاند پر اترنے والا چوتھا ملک اور چاند کے جنوبی قطب کے پاس اترنے والا پہلا ملک بن گیا۔ اس تاریخی مشن کے نتائج آنے والے سالوں میں انسانی برادری کو فائدہ پہنچائے گا۔‘‘

نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’یہ دن خلائی مشنوں میں ملک کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کو آگے بڑھانے کے لیے نوجوان نسل کو ترغیب دیتا ہے اور خلائی شعبہ کو ایک اہم حوصلہ فراہم کرتا ہے۔ اس لیے حکومت ہند نے اس تاریخی لمحہ کو ہر سال اگست کے 23ویں دن کو ’نیشنل اسپیس ڈے‘ کی شکل میں منانے کا اعلان کیا ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ چاند پر زمین کے 14 دنوں کے برابر دن اور رات ہوتے ہیں۔ جب چندریان-3 کا لینڈر چاند پر 23 اگست کو اترا تھا تو چاند پر دن نکل رہا تھا۔ یہی وجہ رہی کہ 14 دنوں تک کام کرنے کے بعد لینڈر اور رووَر سلیپ موڈ میں چلے گئے تھے۔ 14 دنوں تک لینڈر ماڈیول نے بہت اچھا کام کیا اور کافی ڈاٹا اِسرو نے جمع کر لیے ہیں۔ جب چاند پر رات ہونے لگی تو لینڈر اور رووَر کو سلیپ موڈ میں ڈال دیا گیا تھا۔ امید کی جا رہی تھی کہ جب دوبارہ چاند پر سورج طلوع ہوگا تو وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر دوبارہ فعال ہوں گے، لیکن بہت کوششوں کے بعد بھی یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ لیکن چندریان-3 سے جو امیدیں وابستہ کی گئی تھیں، اس میں وہ پوری طرح کامیاب ہو چکا ہے۔

10 سالوں میں ’بھاجپا رشتہ دار سمیتی‘ نے تلنگانہ کو تباہ کر دیا، راہل گاندھی کا بی آر ایس پر شدید حملہ

0
10-سالوں-میں-’بھاجپا-رشتہ-دار-سمیتی‘-نے-تلنگانہ-کو-تباہ-کر-دیا،-راہل-گاندھی-کا-بی-آر-ایس-پر-شدید-حملہ

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے تلنگانہ میں مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والی ایک طالبہ کی مبینہ خودکشی معاملے پر ریاست کی بی آر ایس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ہفتہ کے روز راہل گاندھی نے تلنگانہ کی کے. چندرشیکھر راؤ حکومت پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس دراصل ’بھاجپا رشتہ دار سمیتی‘ ہے اور بی جے پی نے مل کر اس ریاست کو تباہ کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کر رہی 23 سالہ لڑکی نے حیدر آباد کے اشوک نگر واقع اپنے ہاسٹل کے کمرے میں مبینہ طور پر پھندا لگا کر خودکشی کر لی۔ اس کے بعد مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کر رہے امیدواروں نے علاقے میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس واقعہ کے بعد تلنگانہ کی بی آر ایس حکومت کو اپوزیشن پارٹیوں کی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اس خودکشی معاملے پر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ پوسٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’کل حیدر آباد میں ایک طالبہ کی خودکشی کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ یہ خودکشی نہیں، قتل ہے- نوجوانوں کے خوابوں کا، ان کی امیدوں اور خواہشات کا۔‘‘ پھر وہ لکھتے ہیں ’’تلنگانہ کا نوجوان آج بے روزگاری سے پوری طرح ٹوٹ چکا ہے۔ گزشتہ 10 سالوں میں بھاجپا رشتہ دار سمیتی- بی آر ایس اور بی جے پی نے مل کر اپنی نااہلی سے ریاست کو تباہ کر دیا ہے۔‘‘

اپنے پوسٹ میں راہل گاندھی نے ریاست میں کانگریس حکومت تشکیل پانے پر اہم پیش رفت کی یقین دہانی بھی کی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’تلنگانہ میں کانگریس کی حکومت جاب کیلنڈر جاری کرے گی، 1 ماہ میں یو پی ایس سی کے طرز پر ٹی ایس پی ایس سی کی از سر نو تشکیل کرے گی اور ایک سال کے اندر 2 لاکھ خالی سرکاری عہدوں کو بھرے گی۔ یہ گارنٹی ہے۔‘‘

لولو مال: ہندوستانی پرچم کی بے حرمتی کی جھوٹی خبر پھیلانے والے بی جے پی کارکن پر کیس درج

0
لولو-مال:-ہندوستانی-پرچم-کی-بے-حرمتی-کی-جھوٹی-خبر-پھیلانے-والے-بی-جے-پی-کارکن-پر-کیس-درج

لولو مال میں ہندوستانی پرچم کی بے حرمتی کی جھوٹی خبر پھیلائے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کرناٹک پولیس نے اس معاملے مین بی جے پی میڈیا سیل سے جڑی بی جے پی کارکن شکنتلا نٹراج کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ نٹراج پر الزام ہے کہ انھوں نے کیرالہ کے کوچی واقع لولو مال میں ہندوستانی پرچم کی بے حرمتی کی جھوٹی خبر پھیلائی ہے۔

ہفتہ کے روز پولیس نے اس سلسلے میں جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ شکنتلا نٹراج نے ہندوستانی پرچم کی بے حرمتی سے متعلق ایک پوسٹ سوشل میڈیا پر ڈالا تھا۔ تمکورو شہر کی جئے نگر پولیس نے بی جے پی کارکن کے خلاف از خود نوٹس لیتے ہوئے تعزیرات ہند کی دفعہ 153(بی) کے تحت کیس درج کیا ہے۔ پولیس نے ایک نوٹس بھی جاری کیا ہے جس میں انھیں پوچھ تاچھ کے لیے جانچ افسر کے سامنے پیش ہونے کے لیے کہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فیکٹ چیک وِنگ نے یہ پتہ لگا لیا ہے کہ بی جے پی کارکن کے ذریعہ شیئر کی گئی پوسٹ فرضی اور جھوٹی تھی، جس کے بعد ان کے خلاف کیس درج کیا گیا۔ شکنتلا نٹراج نے پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’’کیا آپ کے پاس جنرل نالج نہیں ہے کہ کسی دیگر ملک کا پرچم ہندوستانی پرچم سے اوپر نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ انھوں نے اس پوسٹ کو کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کو ٹیگ بھی کیا تھا اور لولو مال کا بائیکاٹ کرنے کے لیے ایک ہیش ٹیگ بھی بنایا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ لولو مال میں عالمی کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کی نمائندگی کرنے والے مختلف ممالک کے پرچم لگائے گئے تھے۔ سبھی پرچم کو یکساں اونچائی پر رکھا گیا تھا، حالانکہ تصویر ایسے زاویے سے لی گئی تھی جس میں ہندوستانی پرچم دیکھنے میں پاکستانی پرچم سے نیچے معلوم پڑ رہا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تصویر قصداً پریشانی پیدا کرنے کے لیے کھینچی گئی اور ایڈٹ کی گئی۔ انھوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پوسٹ کے ذریعہ لوگوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمین نے نائب وزیر اعلیٰ شیوکمار اور لولو مال کو جوڑنے کی کوشش کی ہے جو مناسب نہیں۔ پولیس نے کہا کہ کوچی کے لولو مال کی تصویر کا استعمال کر بنگلورو میں لوگوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کی گئی۔

تلنگانہ میں طالبہ کی خودکشی، کانگریس ریاستی حکومت پر حملہ آور ’اقتدار سے باہر کر دیں گے نوجوان‘

0
تلنگانہ-میں-طالبہ-کی-خودکشی،-کانگریس-ریاستی-حکومت-پر-حملہ-آور-’اقتدار-سے-باہر-کر-دیں-گے-نوجوان‘

نئی دہلی: تلنگانہ میں ریاستی پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں بار بار التوا اور بے ضابطگیوں کی وجہ سے 23 سالہ طالبہ کی مبینہ خودکشی کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل نظر آ رہی ہے۔ کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے ہفتہ کو تلنگانہ میں برسراقتدار بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کے چندر شیکھر راؤ حکومت کی بے حسی سے ریاست کے ہزاروں نوجوان مایوس اور ناراض ہیں اور وہ اسے یقینی طور پر اقتدار سے بے دخل کریں گے۔

کھڑگے نے ایک پوسٹ میں کہا، ’’تلنگانہ میں ایک 23 سالہ طالبہ کی خودکشی سے صدمہ اور گہرا دکھ ہوا، جس نے کمیشن کے امتحانات میں بار بار ملتوی ہونے اور بے قاعدگیوں کی وجہ سے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کا سخت قدم اٹھایا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ غم اور غصے کے اس وقت میں، "ہماری تعزیت میری پراویلیکا کے خاندان کے ساتھ ہیں۔‘‘

حیدرآباد کے آر ٹی سی چوراہے پر اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب گروپ 2 کی ایک امیدوار نے جمعہ کی رات تقریباً 8:35 بجے اپنے ہاسٹل میں چھت کے پنکھے سے لٹک کر خودکشی کر لی۔ معاملہ اس وقت مزید بڑھ گیا جب آس پاس کے طلباء اور امیدواروں نے دعویٰ کیا کہ خودکشی کی وجہ 30 نومبر کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر گروپ 2 کا امتحان ملتوی کرنا ہے۔

ہزاروں طلبہ وہاں جمع ہو گئے اور متوفی پراویلیکا کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال لے جانے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بعد پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور پھر متوفی طالبہ کی لاش کو اسپتال لے جایا گیا۔ ریاست میں اپوزیشن جماعتوں کے قائدین موقع پر پہنچے اور خودکشی کو بی آر ایس حکومت کی طرف سے کیا گیا قتل قرار دیا۔ دریں اثنا، پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبہ نے ذاتی وجوہات کی بنا پر خودکشی کی ہے۔

اسمبلی انتخابات: امیدواروں کے خرچ پر الیکشن کمیشن سخت، چائے اور سموسا تک کی قیمت طے!

0
اسمبلی-انتخابات:-امیدواروں-کے-خرچ-پر-الیکشن-کمیشن-سخت،-چائے-اور-سموسا-تک-کی-قیمت-طے!

پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی تاریخیں سامنے آ گئی ہیں۔ پارٹیاں اپنے اپنے امیدواروں کی فہرست جاری کرنے میں مصروف ہیں اور الیکشن کمیشن ہر طرح کی سرگرمی پر اپنی گہری نگاہ بنائے ہوئے ہے۔ انتخابی کمیشن کی طرف سے امیدواروں اور سیاسی پارٹیوں کو لے کر کئی اہم فیصلے لیے گئے ہیں۔ اس بار امیدواروں کے ذریعہ کیے جانے والے خرچ کی ریٹ لسٹ بھی تیار کر دی گئی ہے۔ اس لسٹ میں انتخابی تشہیر کے دوران چائے، کافی، سموسا، رس گلہ، آئسکریم سمیت ہر سامان کی قیمت طے کر دی گئی ہے۔ یہ سبھی خرچ امیدوار کے اکاؤنٹ میں جوڑا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق انتخابی کمیشن نے انتخابی مواد اور جلسہ میں استعمال کی جانے والی سبھی چیزوں کی قیمت مقرر کر دی ہے۔ کمیشن اپنی ریٹ لسٹ کے مطابق ہی امیدوار کے اخراجات کا اندازہ لگائے گا۔ دراصل انتخاب کے دوران امیدواروں لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کر دیتے ہیں، لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہو سکے گا۔ انتخابی کمیشن کی طرف سے امیدواروں کے ہر خرچ پر نظر رکھی جائے گی۔ ضلع انتخابی افسر کی طرف سے ہر امیدوار کے خرچ کی مانیٹرنگ کا انتظام کیا جائے گا۔

انتخابی کمیشن نے انتخابات کے دوران استعمال ہونے والے سامان کی ایک ریٹ لسٹ تیار کی ہے۔ اس ریٹ لسٹ کے مطابق ایک پلاسٹک کرسی 5 روپے، پائپ کی کرسی 3 روپے، وی آئی پی کرسی 105 روپے، لکڑی کی ٹیبل 53 روپے، ٹیوب لائٹ 10 روپے، ہیلوجین 500 واٹ 42 روپے، 1000 واٹ 74 روپے، وی آئی پی صوفا سیٹ 630 روپے فی روز کے حساب سے جوڑا جائے گا۔ اسی طرح انتخابی پروگرام کے دوران کھانے کی چیزوں پر بھی انتخابی کمیشن کی نظر رہے گی۔ اس میں آم کے لیے 63 روپے، کیلا کے لیے 21 روپے، سیب کے یے 84 روپے، انگور کے لیے 84 روپے فیلو کلو رقم طے کی گئی ہے۔ آر او پانی کے 20 لیٹر والے بوتل کے لیے 20 روپے اور کولڈ ڈرنک-آئسکریم کے لیے پرنٹ ریٹ جوڑے جائیں گے۔ گنے کا رَس ہر چھوٹا گلاس 10 روپے، برف کی سلّی 2 روپے اور ہر پلیٹ کھانے پر 71 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پلاسٹک جھنڈا 2 روپے، کپڑے کا جھنڈا 11 روپے، اسٹیکر چھوٹا 5 روپے، پوسٹ 11 روپے، کٹ آؤٹ ووڈن، کپڑا اور پلاسٹک کے 53 روپے فی فیٹ، ہورڈنگ 53 روپے، پمفلٹ 525 روپے فی ہزار کے حساب سے خرچ امیدوار کے کھاتے میں جوڑا جائے گا۔

انتخابی کمیشن کی ریٹ لسٹ پر مزید نظر ڈالی جائے تو امیدوار 5 سیٹر کار پر روزانہ 2625 روپے، منی بس 20 سیٹر پر 6300 روپے، 35 سیٹر بس پر 8400 روپے خرچ کر سکتے ہیں۔ ٹیمپو کا ریٹ 1260 روپے، ویڈیو ویب کا 5250 روپے، گاڑی ڈرائیور کے لیے 630 روپے روزانہ کے حساب سے امیدوار خرچ کر سکتے ہیں۔ انتخابی کمیشن کی ریٹ لسٹ کے مطابق امیدوار چائے 5 روپے، کافی 13 روپے، سموسا 12 روپے، رس گلہ 210 روپے کلو کے حساب سے خرید سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مزید کئی چیزیں ہیں جس کی قیمت انتخابی کمیشن نے طے کر دی ہیں۔

واضح رہے کہ انتخابی کمیشن کو انتخابی تشہیر میں خرچ کی گئی رقم کی تفصیل دینا لازمی ہوتا ہے۔ 2018 کے اسمبلی انتخاب میں جن امیدواروں نے انتخابی خرچ کی تفصیل نہیں دی، ان کے خلاف انتخابی کمیشن کی طرف سے بڑا ایکشن لیا گیا ہے۔ حال ہی میں انتخابی کمیشن نے راجستھان کے 46 لیڈران کو نااہل قرار دیا ہے اور ان کے انتخاب لڑنے پر روک لگائی ہے۔

قوت سماعت سے محروم افراد ریزرویشن سے محروم! دہلی ہائی کورٹ میں ’کے وی ایس‘ کی سرزنش

0
قوت-سماعت-سے-محروم-افراد-ریزرویشن-سے-محروم!-دہلی-ہائی-کورٹ-میں-’کے-وی-ایس‘-کی-سرزنش

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے کیندریہ ودیالیہ سنگٹھن (کے وی ایس) کو تدریسی عہدوں کے لیے ریزرویشن کے عمل سے قوت سماعت سے محروم اور ان افراد کو جنہیں کم سنائی دیتا ہے، خارج کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ چیف جسٹس ستیش چندر شرما اور جسٹس سنجیو نرولا کی ایک ڈویژن بنچ نے کے وی ایس کے دسمبر 2022 کے بھرتی کے اشتہار میں متعلقہ اصول اور سرکاری نوٹیفکیشن کو نظر انداز کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔

بنچ نیشنل ایسوسی ایشن آف دی ڈیف (این اے ڈی) کی طرف سے اشتہار کو چیلنج کرنے والی اور اس معاملہ میں از خود نوٹ مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کر رہی تھ۔ جسٹس شرما نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ دشمنی کیوں رکھتے ہیں۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کیندریہ ودیالیہ یہ سب کچھ کرے گا۔ مجھے کیندریہ ودیالیہ تنظیم پر افسوس ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ کیندریہ ودیالیہ کی پیداوار کے طور پر انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ ان کے ذاتی تعلق نے اس معاملے کو ان کے لیے اور زیادہ معنی خیز بنا دیا ہے۔ یہ جاننے پر کہ اشتہار کے بعد بھرتی پہلے ہی ہو چکی ہے، عدالت نے حکومتی قوانین کی تعمیل کرنے کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کے وی ایس کو ہدایت دے گی کہ وہ معذور افراد کے لیے خالی آسامیوں کے بیک لاگ کو مکمل کرے۔

کے وی ایس نے استدلال کیا کہ ایک داخلی کمیٹی نے معذور افراد کے مخصوص زمرے کی خدمات حاصل کرنے کے خلاف سفارش کی تھی لیکن عدالت نے کہا کہ چونکہ مرکزی حکومت نے کے وی ایس کو معذوری کوٹہ پر عمل آوری سے استثنیٰ نہیں دیا ہے، اس لیے وہ اسے نظر انداز کرنے کے حقدار نہیں ہیں۔

عدالت نے معذور افراد کے حقوق (آر پی ڈبلیو ڈیی) ایکٹ 2016 اور حکومتی نوٹیفکیشن کی دفعات پر عمل کرنے کی کے ویی ایس کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

پاسپورٹ گھوٹالہ: مغربی بنگال اور سکم میں سی بی آئی کا چھاپہ، 16 افسران سمیت 24 کے خلاف معاملہ درج

0
پاسپورٹ-گھوٹالہ:-مغربی-بنگال-اور-سکم-میں-سی-بی-آئی-کا-چھاپہ،-16-افسران-سمیت-24-کے-خلاف-معاملہ-درج

فرضی دستاویزات کی بنیاد پر پاسپورٹ جاری کیے جانے کے الزام میں سی بی آئی نے 24 افراد کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ ان میں سرکاری افسران کے ساتھ ہی کچھ دیگر افراد بھی شامل ہیں۔ ایجنسی افسران نے 14 اکتوبر کو اس سلسلے میں جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ سی بی آئی نے پاسپورٹ گھوٹالہ معاملے میں مغربی بنگال اور سکم میں تقریباً 50 مقامات پر چھاپہ ماری کی ہے۔

سی بی آئی افسران کے مطابق ایجنسی نے گنگٹوک میں تعینات ایک افسر اور ایک بچولیے کو حراست میں بھی لیا ہے۔ ان لوگوں سے پورے معاملے کو لے کر پوچھ تاچھ کی جا رہی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس میں کئی لوگوں کے نام مزید سامنے آ سکتے ہیں۔ افسران کا کہنا ہے کہ غیر مقامی باشندوں سمیت نااہل اشخاص کو رشوت لے کر جعلی دستاویزات کی بنیاد پر پاسپورٹ جاری کرنے کے معاملے میں درج کی گئی ایف آئی آر میں 16 افسران سمیت 24 اشخاص کے نام شامل ہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے بتایا کہ سی بی آئی ٹیم کو جانکاری ملی کہ سرکاری افسران کی مدد سے ایک شخص ایسے نیٹورک کا حصہ بنا ہے جو جعلی کاغذات پر پاسپورٹ جاری کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس معاملے میں چھاپہ ماری میں شامل ایک سینئر افسر نے کہا کہ ’’فی الحال تلاشی چل رہی ہے اور کئی مشتبہ افراد رڈار پر ہیں۔ ہم نے ریکٹ میں سرکاری افسران کے شامل ہونے سے جڑے دستاویزات برآمد کیے ہیں۔‘‘

دوسری طرف سی بی آئی نے جمعہ کے روز پورٹ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تحت کام کر رہے ایک ڈاکٹر کو 54000 روپے کی رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ افسر نے کہا کہ جال بچھا کر ہیلتھ افسر کو جمعرات کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھ پکڑا گیا۔ اس کے بعد اس کے خلاف ایک معاملہ درج کیا گیا۔ سی بی آئی افسران نے ملزم کے پارادیپ، کٹک اور بالاسور واقع احاطوں کی تلاشی بھی لی اور 17 لاکھ روپے کے ساتھ ساتھ 20558 امریکی ڈالر نقد ضبط کرنے کے علاوہ کئی دستاویز بھی برآم دکیے۔ ان میں اڈیشہ اور تلنگانہ کے حیدر آباد میں مختلف مقامات پر ملکیتوں کے دستاویز شامل ہیں۔

بینک میں نوکری دلانے کا جھانسہ دے کر ٹھگی کرنے والی خاتون سمیت دو گرفتار

0
بینک-میں-نوکری-دلانے-کا-جھانسہ-دے-کر-ٹھگی-کرنے-والی-خاتون-سمیت-دو-گرفتار

غازی آباد: غازی آباد کی ویو سٹی پولیس نے نوکری دلانے کے نام پر ٹھگی کرنے والی ایک خاتون سمیت دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان کے قبضے سے لیپ ٹاپ، موبائل، 17 سم کارڈز سمیت کئی دستاویزات برآمد ہوئے ہیں۔ متاثرہ اکشے تومر نے 11 اکتوبر کو شکایت درج کرائی تھی۔ جس کے مطابق ملزمان نے نوکری دلانے کا جھانسہ دے کر رقم ہڑپ کر لی۔ پولیس نے مخبر کی اطلاع پر ارشد اور پوجا کشیپ کو گرفتار کر لیا۔

تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ پوجا، عمران، ارشد، معظم فریدی گینگ بنا کر کام کرتے تھے۔ انہوں نے پلاٹینا ہاؤس، سیکٹر-58، نوئیڈا میں کرایہ پر جگہ لی تھی۔ ملزمان نوکریوں کے حوالے سے لوگوں کو فون کر کے ان سے بائیو ڈیٹا مانگتے تھے۔ پہلے لوگوں سے کم پیسے لیے جاتے تھے۔ جب ان کے پیسے آتے تو عمران اور معظم فریدی انٹرویوز کرواتے۔

انٹرویو کے بعد دوبارہ رقم وصول کی جاتی تھی اور اس کے بعد اعلیٰ عہدے کے نام پر دھوکہ دہی کرتے تھے۔ یہ گروہ لوگوں کو جعلی آفر لیٹر بھی دیتا تھا۔ تاہم متاثرین کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کرنے کے بجائے سیلز کے کام میں لگا دیا جاتا تھا۔ بہت سے لوگ تھک ہار کر کام چھوڑ دیتے تھے۔

امریکہ جانے کا ارادہ رکھنے والے ہندوستانیوں کے لیے خوشخبری

0
امریکہ-جانے-کا-ارادہ-رکھنے-والے-ہندوستانیوں-کے-لیے-خوشخبری

نئی دہلی: امریکہ جانے کا ارادہ رکھنے والے ہندوستانیوں کے لیے خوشخبری ہے۔ امریکہ نے حال ہی میں ہندوستانی تارکین وطن کو ذہن میں رکھتے ہوئے امیگریشن سروسز یعنی امیگریشن کے عمل میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں، جس سے گرین کارڈ کے منتظر ہزاروں ہندوستانیوں کو راحت ملے گی۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ کچھ نان امیگرنٹ کیٹیگریز (بشمول گرین کارڈز کے منتظر افراد) کو پانچ سال کے لیے ایمپلائمنٹ اتھارٹی کارڈ فراہم کرے گا، جس سے وہاں رہنے والے لوگوں کو سہولت ملے گی۔ ہندوستان سے امریکہ جانا بہت سے نوجوانوں کا خواب ہوتا ہے۔ ہندوستان سے امریکہ جانے کے لیے انہیں بہت مشکل عمل سے گزرنا پڑتا ہے اور بہت سے اصول و ضوابط پر عمل کرنا پڑتا ہے۔

ایک بار جب آپ کو امریکی کمپنیوں سے نوکری کا آفر لیٹر مل جاتا ہے تو سب سے بڑا عمل گرین کارڈ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس عمل میں لوگوں کو بہت سے ٹیسٹوں اور انٹرویوز سے گزرنا پڑتا ہے۔ اب تک امریکہ صرف تین سال کے لیے ایسے ویزے جاری کرتا تھا جس کی تین سال بعد تجدید کروانا پڑتی تھی لیکن اب یہ اصول بدل گیا ہے۔

امریکہ نے اس کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب یہ سہولت پورے عمل کے مکمل ہونے کے بعد پانچ سال تک دستیاب رہے گی۔ اس عمل پیش رفت سے امریکہ کے متعلقہ محکمہ کو بھی فائدہ ہوگا۔ انہیں ہر ماہ لاکھوں درخواستیں موصول ہوتی ہیں اور انہیں نمٹانے میں کافی وقت لگتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس اصول کے نفاذ سے ان کے کام کا بوجھ 20 فیصد تک کم ہو جائے گا۔

گرین کارڈ امریکی حکومت کا سرکاری رہائشی کارڈ ہے۔ امریکہ دنیا کے کئی ممالک کو عارضی تارکین وطن کارڈ جاری کرتا ہے۔ اس کارڈ کے ذریعے آپ کئی سال تک امریکہ میں رہ سکتے ہیں۔ 11 لاکھ لوگوں نے ہندوستان سے امریکہ یہ کارڈ حاصل کرنے کے لیے درخواست دی ہے۔

دہلی میں فضائی آلودگی، 13 ہاٹ اسپاٹ کے سلسلہ میں خصوصی حکمت عملی تیار

0
دہلی-میں-فضائی-آلودگی،-13-ہاٹ-اسپاٹ-کے-سلسلہ-میں-خصوصی-حکمت-عملی-تیار

نئی دہلی: ملک کی راجدھانی دہلی میں آلودگی کی سطح میں ہر دن کے ساتھ اضافہ درج کیا جا رہا ہے۔ آج بھی دہلی کے کئی علاقوں میں صبح کے وقت آسمان پر دھند چھائی ہوئی تھی۔ اس دوران دہلی کے چیف سکریٹری نے دہلی میں فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے خصوصی حکم جاری کیا ہے۔ دہلی کے 13 ہاٹ سپاٹ پر آلودگی کو روکنے کے لیے خصوصی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔

دہلی کے جن 13 ہاٹ سپاٹ کے لیے خصوصی حکمت عملی تیار کی گئی ہے وہ آنند وہار، وویک وہار، دوارکا، اوکھلا، وزیر پور، اشوک وہار، آر کے پورم، بوانا، نریلا، جہانگیر پوری، روہنی، منڈکا اور پنجابی باغ ہیں۔ ایم سی ڈی اور این ڈی ایم سی کے تمام ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان ہاٹ سپاٹ کے لیے ٹارگٹڈ اور مخصوص اقدامات کو تیز کریں۔

دہلی کے تمام 11 اضلاع کے لیے پہلی بار مانیٹرنگ کمیٹیاں بنائی گئی ہیں، جن کی سربراہی ایک کوآرڈینیٹر کریں گے اور ان میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، ڈی سی پی ٹریفک، ڈپٹی کمشنر ایم سی ڈی، چیف انجینئر ڈی ڈی اے اور دیگر افسران بطور ممبر شامل ہوں گے۔ مانیٹرنگ کمیٹیاں جی آر اے پی کے رہنما خطوط پر عمل درآمد کریں گی اور دیگر کاموں کے ساتھ فیلڈ وزٹ بھی کریں گی۔