منگل, مارچ 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 57

مہوا موئترا نے لوک سبھا میں پیسے لے کر  سوال پوچھے! نشی کانت دوبے نےلگائے سنگین الزامات

0
مہوا-موئترا-نے-لوک-سبھا-میں-پیسے-لے-کر- سوال-پوچھے!-نشی-کانت-دوبے-نےلگائے-سنگین-الزامات

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی لیڈر مہوا موئترا پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ اس کے علاوہ نشی کانت دوبے نے سپریم کورٹ کے وکیل جئے اننت دیہادرائی کے خط کا حوالہ دیا اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

خط میں انہوں نے کہا، ’’مجھے ایڈوکیٹ جئے اننت دیہادرائی کا ایک خط ملا ہے، جس میں انہوں نے مہوا موئترا پر سوالوں کے بدلے رشوت لینے کا الزام لگایا ہے۔‘‘ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نے خط میں لکھا ہے کہ درشن مشہور کاروباری  ہیرانندانی  کی کمپنی کے کاروباری مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے سوالات پوچھے گئے۔ نشی کانت دوبے نے خط میں لکھا کہ مہوا موئترا کے حالیہ 61 سوالات میں سے 50 ایسے سوالات تھے جو درشن ہیرانندانی اور ان کی کمپنی کے کاروباری مفادات کے تحفظ یا فائدہ کے لیے پوچھے گئے تھے۔

اوم برلا کو لکھے گئے خط میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ  مہوا موئترا پر لوک سبھا میں سوال پوچھنے کے نام پر رشوت لینے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے لکھا  ہےکہ یہ ایوان کی توہین ہے۔ اس کی فوری تحقیقات ہونی چاہیے۔

نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ میں شائع خبر کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ "جب بھی پارلیمنٹ کا اجلاس ہوتا ہے، موہوا موئترا اور سوگتا رائے کسی نہ کسی بہانے ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالتے ہیں، ہر کسی کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں۔ میں اور بہت سے دیگر ممبران پارلیمنٹ ہمیشہ حیران رہتے تھے کہ موہوا موئترا ایسا کیوں کرتی ہیں ؟” ٹی ایم سی کی قیادت والی ٹی ایم سی کی چیخ و پکار بریگیڈ ایسے ہتھکنڈے اپناتی ہے جس سے دیگر اراکین کے مسائل پر بحث و مباحثہ کرنے کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب مہوا موئترا کا لوک سبھا میں سوال پوچھنے کے بجائے ایک تاجر سے پیسے بٹورنے اور دوسرے کاروباری گروپ کو نشانہ بنانے کا ارادہ بے نقاب ہو گیا ہے۔

’انڈیا‘ کی جیت خواتین کے حقوق کو یقینی بنائے گی: اسٹالن

0
’انڈیا‘-کی-جیت-خواتین-کے-حقوق-کو-یقینی-بنائے-گی:-اسٹالن

آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شکست دینے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے صدر ایم کے اسٹالن نے کہا کہ بی جے پی کو فیصلہ کن شکست دینا ہندوستان میں ہر جمہوری قوت کے لیے ایک تاریخی ضرورت ہے اور انڈیا الائنس کی جیت نہ صرف خواتین بلکہ تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔

ڈی ایم کے کی خواتین ونگ کے زیر اہتمام خواتین کے حقوق کانفرنس میں اپنے خطاب میں مسٹر اسٹالن نے پارلیمنٹ میں منظور شدہ خواتین ریزرویشن بل کو فوری نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے موجود تمام قائدین سے درخواست کی کہ وہ 2019 سے دکھائے گئے تمل ناڈو ماڈل کی پیروی کرتے ہوئے متحد ہوکر کام کریں تاکہ بی جے پی کو خواتین کے حقوق اور ملک کے لوگوں کے تحفظ کے لیے اقتدار سے ہٹایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے قانون میں ایک اہم خامی او بی سی اور اقلیتی خواتین کے لیے ریزرویشن کی کمی ہے۔ نہوں نے کہا کہ اگر انہیں اندرونی ریزرویشن دیا جائے تو ہی پسماندہ اور معاشی طور پر محروم لوگوں کی آواز اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں سنی جائے گی۔انہوں نے کہا، ”ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کو کچھ اور ہی پسند ہے۔ ’’ہمیں اسے بی جے پی کی سیاسی چال کے طور پر نہیں بلکہ ممکنہ طور پر ایک وسیع تر سازش کے طور پر سمجھنا چاہیے۔‘‘

مسٹر اسٹالن نے کہا کہ انڈیا بلاک صرف انتخابی اتحاد نہیں ہے بلکہ ایک نظریاتی اتحاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو اتحاد کے ذریعے ہی شکست دی جا سکتی ہے۔ تمل ناڈو نے 2019 کے انتخابات کے بعد سے یہ دکھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو کی طرح ہندوستان کی ہر ریاست میں مشترکہ اتحاد بنایا جانا چاہئے۔ اگر بی جے پی کے مخالفین چھوٹے چھوٹے اختلافات سے اوپر اٹھ کر متحد ہو جائیں تو ہم یقینی طور پر بی جے پی کو شکست دے سکتے ہیں جو عوام کے مفادات کے خلاف ہے۔ میں یہاں موجود اپنی بہنوں سے گزارش کرتا ہوں کہ یہ پیغام اپنی پارٹی کے لیڈروں تک پہنچائیں۔ بی جے پی کو شکست دینا ہندوستان کی ہر جمہوری قوت کے لیے ایک تاریخی ضرورت ہے۔

اسرائیل کی جارحانہ دہشت گردی کو روکنے کے لئے بین الاقوامی برادری مؤثر اقدامات کرے:ارشدمدنی

0
اسرائیل-کی-جارحانہ-دہشت-گردی-کو-روکنے-کے-لئے-بین-الاقوامی-برادری-مؤثر-اقدامات-کرے:ارشدمدنی

صدرجمعیۃعلماء ہند ورکن رابطہ عالم اسلامی مولانا ارشدمدنی نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند بیت المقدس، فلسطین اورغزہ کے تحفظ کے لئے روز اول سے ہر ہونے والی جد وجہد کی حامی رہی ہے وہ آج بھی فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل ایک غاصب ملک ہے جس نے فلسطین کی سرزمین پر بعض عالمی طاقتوں کی پشت پناہی سے غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے اوران کی شہ پر اب اس سرزمین سے فلسطینی عوام کے وجود کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ انہوں نے غزہ پر اسرائیلی فوج کی جارحیت، وحشیانہ حملوں اورمظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے دعوی کیا کہ یہ جنگ اسرائیل کی مستقل دہشت گردی کے منصوبوں کا حصہ ہے،بالآخرفطری ردعمل کے طورپر فلسطینیوں نے انتہائی جرأت وہمت کامظاہرہ کیا(تنگ آمدبجنگ آید)اورظالم اسرائیل پر ایسا جوابی حملہ کیاجس کا اسرائیل تصوربھی نہیں کرسکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند غزہ پر حملوں کو انسانی حقوق پرہونے والاسنگین حملہ تصورکرتی ہے اوراس کی شدید مذمت کرتی ہے،افسوس کہ آج دنیا کے وہ ممالک بھی اس ظلم پرخاموش ہیں جوعالمی امن واتحاد کے نقیب ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اورانسانی حقوق کا مسلسل راگ الاپنے والے عالمی ادارے بھی چپ ہیں، ساتھ ہی انہوں نے تمام عالمی رہنماؤں سے غزہ میں جاری اندوہناک جنگ اورنہتی آبادیوں پر ہونے والی خطرناک بم باری کو فوری طورپر رکوانے کے لئے آگے آنے کی اپیل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، ورلڈ مسلم لیگ اوردوسرے بااثرعالمی ادارے کسی تاخیر کے بغیر مداخلت کریں اوروہاں امن کے قیام کے لئے مثبت اورمؤثرکوششیں کریں، اگر ایسانہیں ہواتو اس جنگ کا دائرہ بڑھ سکتاہے اوریہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

مولانا مدنی نے اس بات پر بھی سخت افسوس کا اظہارکیا کہ ایک طرف بے گناہ شہری مارے جارہے ہیں اوردوسری طرف اس پر ہونے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ میٹنگ چند بڑی طاقتوں کی بے حسی کی وجہ سے ناکام ہوگئی، انہوں نے کہا کہ فلسطین کے مسئلہ پر 75برس سے یہی ہورہاہے، اس کا تاریک پہلو تویہ ہے کہ اگر کبھی اقوام متحدہ نے کوئی قرارداد منظوربھی کی تواسرائیل نے اسے تسلیم نہیں کیا اور پوری دنیا خاموش تماشائی بنی رہی یہی وجہ ہے کہ اس مسئلہ کا اب تک کوئی قابل قبول حل نہیں نکل سکا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا کی بعض بڑی طاقتیں اپنے اپنے مفادکے پیش نظر مشرق وسطیٰ میں خطرناک کھیل کھیلتی آئی ہیں، جس کی وجہ سے فسلطین کے عوام مسلسل اسرائیل کے ناجائز تسلط اوراس کے ظلم وبربریت کا شکارہیں۔ امن کی ہر کوشش کو بھی اسرائیل سبوتاژکرتارہاہے اور75برس سے اسرائیل انہیں طاقتوں کے اشارے پر وہ نہ صرف اپنی آبادی کو پھیلارہا ہے بلکہ ایک ایک کرکے فلسطین کے تمام علاقوں پر قابض ہوتاجارہا ہے، یہاں تک کہ اردن، گولان پہاڑی وغیرہ پر بھی اس کے قبضہ کودنیا دیکھ رہی ہے، یعنی اہل وطن پر اپنے ہی وطن میں زمین تنگ ہوچکی ہے ایک مدت سے بچے، بوڑھوں اورعام شہریوں کونشانہ بنارہا ہے اوراسرائیل یہ کارروایاں، اورظلم مسلسل کرتاآرہاہے، فلسطین کے غیورعوام اپنی سرزمین آزادکرانے کے لئے برسوں سے اپنی جانوں کانذرانہ پیش کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہنداس کوفطری ردعمل مانتی ہے اوراسرائیل کی مسلسل جارحیت کو اس کا ذمہ دارقراردیتی ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ جہاں تک ہندوستان کاتعلق ہے اس نے ہمیشہ قیام امن اورفلسطینی عوام کے حقوق کی بات کی ہے، مہاتما گاندھی، پنڈت نہرومولانا ابوالکلام آزاد اوررفیع احمد قدوائی سے لیکر اٹل بہاری باجپئی تک سب نے ہمیشہ فلسطینی کازکی حمایت کی ہے لیکن وقت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ آج ہندستان کا میڈیا اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے لڑنے والے حماس کو دہشت گردقراردے رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ فلسطین کے عوام کی جدوجہد اپنے وطن کی آزادی اورقبلہ اول کی بازیابی کے لئے ہے اورتنازعہ کی اصل جڑ اسرائیل کی خطرناک توسیع پسندانہ سوچ ہے، جس کے ذریعہ وہ فلسطین کے عوام کو وہاں سے بے دخل کرکے پورے ارض فلسطین پر قبضہ جمالینا چاہتاہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ہم کو اپنے بزرگوں کے قدیم موقف پر قائم رہناچاہئے اور انصاف کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ حق کا ساتھ دیاجائے کیوں کہ فلسطین کے عوام حق پر ہیں، اور اس کا حل بھی یہی ہے کہ اقوام متحدہ کے فیصلے کے مطابق خود مختار فلسطین کی ایک آزاد ریاست قائم ہو اور اوسلو کے معاہدے کے تحت اسرائل اپنے سرحدوں پر واپس چلا جائے۔ جمعیۃ علماء ہندمظلوم فلسطینیوں کی ہمت، حوصلہ اورصبرواستقامت کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

دہلی-این سی آر میں زلزلے کے جھٹکے

0
دہلی-این-سی-آر-میں-زلزلے-کے-جھٹکے

نئی دہلی: دہلی-این سی آر میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ مقامی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 10 منٹ پر جیسے ہی زلزلہ آیا، لوگ گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے ہیں۔

قومی مرکز برائے زلزلہ شناسی کے مطابق دہلی این سی آر میں آئے زلزلہ کی شدت ریکٹر اسکیل پر 3.1 تھی اور اس کا مرکز ہریانہ کے شہر فرید آباد میں تھا۔ زلزلہ سے کسی طرح کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ کچھ دن پہلے بھی قومی راجدھانی، اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں زلزلہ آیا تھا، اس وقت زلزلے کا مرکزنیپال تھا۔

پاکستانی کھلاڑیوں کے سامنے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگانا ناقابل قبول ہے: ادئے ندھی اسٹالن

0
پاکستانی-کھلاڑیوں-کے-سامنے-’جے-شری-رام‘-کے-نعرے-لگانا-ناقابل-قبول-ہے:-ادئے-ندھی-اسٹالن

چنئی: تمل ناڈو کے کھیل اور نوجوانوں کے امور کے وزیر اور ڈی ایم کے کے سینئر لیڈر ادئے ندھی اسٹالن نے احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں ہندوستان-پاکستان ورلڈ کپ کرکٹ میچ کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں کے سامنے ‘جے شری رام’ کے نعرے لگانے والے ہجوم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے۔ آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق، اسٹالن نے ہجوم کا ذکر کیا جو میچ میں پاکستانی کھلاڑی آؤٹ ہونے پر شور مچا رہے تھے اور ‘جے شری رام’ کے نعرے لگا رہے تھے۔

ایکس پر ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ڈی ایم کے لیڈر نے کہا، ’’ہندوستان اپنی کھیل اور مہمان نوازی کے لیے مشہور ہے۔ تاہم نریندر مودی اسٹیڈیم میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ ناقابل قبول ہے۔ کھیلوں کو قوموں کو متحد کرنے اور حقیقی بھائی چارے کو فروغ دینا چاہیے۔ نفرت پھیلانے کے لیے اسے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا درست نہیں ہے۔‘‘

ادئے ندھی اسٹالن کے بیان کی حمایت میں تمل ناڈو میں بہت سے کرکٹ شائقین نے اگلے دس دنوں میں چیپاک میں کھیلنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم سے محبت اور احترام کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

لکشمی نامی ایک مداح نے اپنی فیس بک پوسٹ میں کہا، “پاکستان اگلے 10 دنوں میں چیپاک میں دو میچ کھیل رہا ہے اور ہمیں بابر اعظم اور ٹیم نے احمد آباد میں جو کچھ برداشت کیا اس کا ازالہ کرنا چاہئے۔ کھیل عالمی بھائی چارے کے لیے ہیں اور کچھ لوگ اسے نفرت پھیلانے کی جگہ بنا رہے ہیں جو کہ ناقابل قبول ہے۔

خیال رہے کہ احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں ہفتے کے روز ہندوستانی ٹیم کے یک طرفہ مقابلے میں پاکستان کو سات وکٹوں سے شکست دینے کے بعد شائقین نے ‘وندے ماترم’ گایا تھا۔ پاکستان کے کپتان اور دنیا کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک بابر اعظم جب روہت شرما کے ساتھ ٹاس کے لیے باہر آئے تو شائقین نے ان کی بھی ہوٹنگ کی تھی۔

تاہم، اسٹیڈیم میں ہندوستان کے اسٹار بلے باز وراٹ کوہلی نے اپنی دستخط شدہ ہندوستانی جرسی پاکستان کے کپتان بابر اعظم کو تحفے میں دیتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

دہلی میں 3.20 کروڑ روپے لوٹ کی واردات، ای ڈی افسران بن آئے تھے مجرم

0
دہلی-میں-3.20-کروڑ-روپے-لوٹ-کی-واردات،-ای-ڈی-افسران-بن-آئے-تھے-مجرم

نئی دہلی: ملک کی راجدھانی دہلی میں مجرمانہ واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بھوگل کے جیولری شو روم میں لوٹ کے بعد اب راجدھانی میں ایک اور بڑی لوٹ کی واردات انجام دی گئی ہے۔ اب بابا ہری داس نگر علاقہ میں 3.20 کروڑ روپے لوٹ لئے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بدمعاشوں نے خود وک ای ڈی افسر ظاہر کر کے لوٹ کو انجام دیا۔

متاثرہ نے بتایا کہ وہ رات کو گھر سے کھانے کے لیے کچھ لینے گیا تھا۔ اسی دوران ایک کار میں پانچ چھ لوگ ان کے گھر آئے۔ انہوں نے اپنا تعارف ای ڈی افسر کے طور پر دیا۔ بدمعاش متاثرہ کے دو گھنٹے تک متراون اور سورکھ پور علاقے میں گھماتے رہے۔ اس دوران بدمعاشوں کے ساتھی اس کے گھر سے پیسے لے کر فرار ہوگئے۔ پولیس نے اس معاملے میں کیس درج کر لیا ہے۔ پولیس نے سونی پت کے رہنے والے ایک ملزم وکی کو گرفتار کیا ہے۔ باقی ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

’انڈیا‘سے کیوں گھبرا رہی بی جے پی؟

0
’انڈیا‘سے-کیوں-گھبرا-رہی-بی-جے-پی؟

ذات پر مبنی مردم شماری کے نتائج جاری کرکے بہار نے ملک کی سیاست کو ایک بار پھر موڑ دیا ہے۔ 70 کی دہائی میں ایمرجنسی کے خلاف جے پی تحریک ہو یا 90 کی دہائی میں شروع ہونے والی منڈل سیاست ، دونوں مواقع پر بہار نے تبدیلی کی قیادت کی تھی۔ اب جب پچھلی ایک دہائی سے قوم پرست سیاست ملک پر حاوی ہوتی نظر آرہی ہے، نام نہاد سیکولر سیاست کو بے دخل کرتے ہوئے بہار نے ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے حساب کتاب کے نتیجے میں ایسا دھماکہ کیا ہے، جس میں تبدیلی کی صلاحیت موجود ہے۔ خیر ابھی توسب اسی حساب کتاب میں مصروف ہیں کہ اگر پسماندہ اور انتہائی پسماندہ لوگ مل کر ریاست کی آبادی کا دو تہائی حصہ ہوجاتے ہیں تو اس کی کاٹ کے طور پر دوسرا کون سا جغرافیہ پیش کیا جا سکتا ہے؟

جب سے بہار حکومت نے ذات کی بنیاد پر مردم شماری کی رپورٹ کو عام کیا ہے، مرکز کی بی جے پی حکومت میں کہرام مچا ہوا ہے،اسی وجہ سے بی جے پی کی یہ دلیل کہ قومی سطح پر ایسا کرنا عملی طور پر ممکن نہیں ہے، بے معنی ہو گیا ہے۔ اب ہر طرف یہی سوال اٹھ رہا ہے کہ جب ایک ریاست میں ایسا ممکن ہے تو دوسری ریاستوں میں اور قومی سطح پر یہ کام کیوں نہیں ہو سکتا۔ چونکہ اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں ہے، اس لیے بی جے پی لیڈروں کا بنیادی لہجہ بھی بدل گیا ہے اور اب بھگوا پارٹی کے لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ وہ ذات پر مبنی مردم شماری کے خلاف نہیں ہیں اور وہ بہار حکومت کے فیصلے میں بھی شروع سے شامل رہے ہیں۔ صاف ہے کہ بہار حکومت نے بی جے پی کی روایتی سیاست کو زمیں دوز کرنے کا کام کیا ہے۔

ذات پر مبنی مردم شماری کے معاملے پر ’مثبت‘ موقف دکھا کر بی جے پی’انڈیا اتحاد‘ کی سبقت کو متاثر کرنا چاہتی ہے مگر اب بہت دیرہوچکی ہے کیونکہ ’انڈیا‘ کا گھوڑا بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست کو پیروں تلے روندتے ہوئے کافی آگے نکل چکا ہے۔ اب تک یہی دیکھا گیا ہے کہ جس نے جس مسئلے پر پہل کی ، نسبتاً اس کوہی زیادہ فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ذات پات کی مردم شماری کے معاملے میں یہ کام جے ڈی یو اور آر جے ڈی نے کیا ہے، جو بی جے پی کے خلاف بنائے گئے ’انڈیا‘ اتحاد کا اہم حصہ ہیں۔ بی جے پی نے جس سیاست کو قائم کرنے کی کوشش کی ہے وہ اب خود اسی پارٹی کے لئے ’زہر‘بنتا دکھا دے رہا ہے کیونکہ بی جے پی کے ذریعہ پلائی گئی گھٹی نے عوام کو کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔

بہار حکومت کے اقدام سے بی جے پی کو ہونے والے نقصان پر ابھی بھگوا خیمے میں ماتم ہی ہو رہا تھا کہ کانگریس کے سابق صدرراہل گاندھی نے ’جس کی جتنی سنکھیا بھاری، اس کی اتنی بھاگیداری‘ ( جتنی زیادہ آبادی ،اتنی بڑی سیاست اور معیشت میں حصہ داری) کا نعرہ دے کر 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل ایک بڑی ہلچل مچا دی ہے۔ ماہرین کی مانیں تو ذات پر ابھرتی ہوئی سیاست 2014 کے بعد قائم کئے گئے انتخابی جغرافیہ کو تہس نہس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ ملک کے کئی حصوں میں ( کچھ میں آبادی کے نصف سے دو تہائی کے درمیان ) او بی سی کا بڑا اہم حصہ ہے ۔ ان حالات میں یہ بھی طئے ہے کہ سیاسی پارٹیاں انہیں خوش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گی۔

یہ دیکھتے ہوئے کہ قومی اور ریاستی سطحوں پر ہماری زیادہ تر فلاحی پالیسیاں مخصوص طبقات پر مرکوز ہوتی ہیں، کچھ لوگ اس بات سے متفق نہیں ہوں گے کہ تفصیلی سماجی و اقتصادی ڈیٹا پالیسی کی تشکیل اور نفاذ میں زیادہ مددگار ثابت ہوگا۔ تاہم ذات پر مبنی مردم شماری کے مطالبے سے متعلق قلیل مدتی اور درمیانی مدت کے انتخابی اثرات کئی وجوہات کی بنا پر غیر واضح ہیں۔ لیکن بہار کی نتیش حکومت نے جن حالات میں ذات پرمبنی مردم شماری کے اعداد وشمار جاری کئے ہیں، اس نے بی جے پی اور وزیر اعظم مودی کے نعرے’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘ کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگلے سال ہونے والے عام انتخابات کے پیش نظرفرقہ وارانہ سیاست میں ماہربی جے پی حواس باختہ نظرآرہی ہے۔

بی جے پی کو اعلی ذات والوں کی جماعت بھی کہا جاتا رہا ہے۔ بی جے پی اس امیج کو بدلنے کی کوشش بھی کرتی رہی ہے لیکن اس نے کبھی بھی سنجیدگی کے ساتھ پسماندہ طبقات کی بہتری کے لیے اقدامات پر توجہ نہیں دی۔ صرف وعدے اور دعوے کرتے ہوئے ان کی تائید حاصل کرنے کی کوششیں کرتی رہی۔ انتخابات میں کچھ اہمیت ضرور دی گئی اور انتخابات کا عمل مکمل ہونے کے بعد انہیں پھر سے نظر انداز کردیا گیا۔ ایسے ایک سے زائد مواقع پر ہوا ہے لیکن پارٹی اپنی روش میں کوئی تبدیلی نہیں لائی ہے اور نہ ہی جن ریاستوں میں اس کی اپنی حکومتیں ہیں وہاں ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کے لیے کوئی اقدامات کئے گئے ہیں۔ بہار میں جے ڈی یو اور آر جے ڈی و کانگریس کے اشتراک والی مخلوط حکومت نے اس سلسلہ میں پہل کرتے ہوئے دوسری ریاستوں کے لیے مثال قائم کی ہے۔

بہار میں ذات پات پر مبنی مردم شماری سے ثابت ہوگیا ہے کہ ریاست میں 84 فیصد عوام او بی سی، ایس سی اور ایس ٹی ہیں اور ان کا حصہ ان کی آبادی کے مطابق ہونا چاہئے۔ ان حالات میں اب کئی ریاستوں کی طرف سے مرکز سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ قومی سطح پر فوری ایسا سروے کرادے تاکہ سماجی انصاف یقینی ہو اور سماج کو بااختیار بنانے کے پروگرامس کو ٹھوس بنیاد فراہم ہوجائے۔ اس میں ملک میں سب بڑی آبادی والا صوبہ اترپردیش سرفہرست ہے۔ لوگوں کا کنا ہے کہ ذات پات کی مردم شماری ہمارے سماج کو متحد کرے گی۔ وہ ذاتیں جو پیچھے رہ گئی ہیں، جنہیں ابھی تک عزت اور حقوق نہیں دیے گئے اور جو سمجھتے ہیں کہ ان کی آبادی زیادہ ہے لیکن انہیں اس کے مطابق کچھ نہیں مل رہا ہے، انہیں ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری ہمارے معاشرے کو مربوط کر دے گی۔

ملک کی مختلف ریاستوں اور خاص طور پر ہندی بولنے والی ریاستوں میں پسماندہ طبقات کو کافی اہمیت حاصل ہے۔ تمام جماعتیں ان سے ہمدردی کا دعوی کرتی ہیں اور ان کے کاز کی چمپئن بننے کی بات کرتی ہیں۔ تاہم عملی طور پر اقدامات کی جب بات آتی ہے تو یہ جماعتیں اپنے وعدوں پر عمل کرنے میں پس و پیش کا شکار ہوجاتی ہیں اور نت نئے بہانے اختیار کئے جاتے ہیں۔ بی جے پی آج مرکز میں اور ملک کی بیشتر ریاستوں میں برسراقتدار ہے۔ وہ ملک بھر میں جہاں کہیں انتخابات ہوتے ہیں پسماندہ طبقات کے لیے کئی اقدامات کرنے کے دعوے کرتی ہے۔ انہیں سبز باغ دکھائے جاتے ہیں۔ انہیں انتخابی فائدہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن کبھی بھی ان کے جائز مطالبات کی تکمیل کے لیے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔

دراصل، ہندوستان ایک ایسا ملک ہے، جہاں کئی مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں۔ ان مذاہب میں کئی ذاتیں اور ان کے الگ الگ ریت رواج ہیں۔ ان کے طریقہ کار اور روایات بھی مختلف ہیں۔ پسماندہ طبقات میں ذات پات کی خاصی اہمیت ہونے کی بنا پر ان کی شناخت بھی الگ ہے۔ کئی صوبوں میں ذات پات کے اعداد وشمار اہم ہونے کی وجہ سے وہاں کے انتخابی نتائج پر ان کا اثر پڑتا ہے۔ اس بنا پر کئی افراد کا ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کرانے کا اصرار تھا۔ امید ہے کہ اس سے لوگوں کے ساتھ انصاف ہوسکے گا اور وہ سماجی طور پر برابری حاصل کر سکیں گے۔ انہیں اپنی تعداد کے تناسب سے تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں مناسب نمائندگی مل سکے گی۔

خواتین ریزرویشن فوری طور پر نافظ کیا جائے، خواتین کے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں! پرینکا گاندھی

0
خواتین-ریزرویشن-فوری-طور-پر-نافظ-کیا-جائے،-خواتین-کے-پاس-ضائع-کرنے-کے-لیے-وقت-نہیں!-پرینکا-گاندھی

پرینکا گاندھی: کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے تمل ناڈو کی راجدھانی چنئی میں ڈی ایم کے کی خواتین حقوق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ خواتین ریزرویشن بل کو فوری نافذ کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی خواتین کے پاس اب ضائع کرنے کے لیے وقت نہیں ہے۔ انہوں نے تمل ناڈو میں اپنے والد اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ یہ کتنا افسوسناک لمحہ تھا۔

پرینکا نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب میں 32 سال پہلے تمل ناڈو آئی اور یہاں اتری تو ہم سب رات کی تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ سب کے ذہنوں میں خوف تھا۔ میرے والد کو چند گھنٹے پہلے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس رات میں نے اپنی ماں سونیا گاندھی سے کچھ کہا جسے سن کر وہ بہت دکھی ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب میں اپنے والد کے جسم کے اعضاء اکٹھا کر رہی تھی تو مجھے کوئی خوف نہیں تھا۔ میں اس وقت بالکل اکیلی تھی۔

کانگریس جنرل سکریٹری نے بتایا کہ کس طرح نیلی ساڑی پہنے خواتین کے ایک گروپ نے انہیں گھیر لیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خواتین میری والدہ کو بازوؤں میں پکڑ کر رونے لگیں۔ درد بانٹنے کے ان آنسوؤں نے مجھے تمل ناڈو کی ماؤں اور بہنوں سے جوڑ دیا۔ پرینکا نے اپنے خطاب میں کہا کہ آپ سب میری مائیں ہیں۔ آپ سے بات کرنے کا موقع ملا، بہت خوشی ہوئی۔ میں یہ بتانے آئی ہوں کہ ہم عورتیں اس باوقار اور خوبصورت قوم کی طاقت ہیں جسے ہم اپنا مادر وطن کہتے ہیں۔

پرینکا نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کی خواتین کو کسی نہ کسی وقت محرومیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ محرومیوں اور مصائب کو برداشت کرنے کی اپنی بے پناہ صلاحیت کی بنیاد پر ہم نے اپنی استقامت اور قوت ارادی سے سب کچھ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا ’’میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ ہم اس سے بہت زیادہ ہیں۔ ہم وہ افرادی قوت ہیں جو ہمارے براعظم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی۔ ہم لاکھوں اور کروڑوں نوجوان خواتین بھی ہیں جو اپنی آنکھوں اور دلوں میں ایک بہتر مستقبل کا خواب سجاتی ہیں۔

خواتین ریزرویشن بل کے بارے میں بات کرتے ہوئے پرینکا نے کہا ’’میں خواتین ریزرویشن بل کو فوری نافذ کرنے کا مطالبہ کرتی ہوں۔ ہندوستانی خواتین کے پاس اب ضائع کرنے کا وقت نہیں ہے۔ سیاسی عمل میں حصہ لینا ہمارا حق ہے۔ میں مطالبہ کرتی ہوں کہ ہماری خودارادیت کو سمجھا جائے اور ایک سیاسی قوت کے طور پر ہماری اہمیت کو بااختیار بنانے کے لیے احترام کیا جائے۔

‘ہماچل چاہتا ہے کہ سیاح آئیں اور خوشگوار ماحول سے لطف اندوز ہوں’

0
‘ہماچل-چاہتا-ہے-کہ-سیاح-آئیں-اور-خوشگوار-ماحول-سے-لطف-اندوز-ہوں’

شملہ: ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو کا دعویٰ ہے کہ حکومت کی کوششوں سے خوفناک تباہی کے باوجود ہماچل پردیش ایک ماہ کے اندر دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے جنگی بنیادوں پر راحت اور بچاؤ کا کام کیا ہے اور ہماچل کے لوگوں نے اس میں تعاون کیا لیکن ان کا یہ شکوہ ہے کہ اس بحران کے دوران نہ تو مرکزی حکومت اور نہ ہی ہماچل پردیش کی اپوزیشن پارٹی بی جے پی نے تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ہماچل آفت کو قومی آفت قرار دینے کی تجویز کی حمایت نہیں کی۔

سکھوندر سنگھ سکھو نے کہا ہے کہ سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ریاست میں نئے شہر قائم کرنے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پالن پور اور جاکھیا دیوی میں دو نئے شہر قائم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ کانگڑا کو سیاحتی دارالحکومت کے طور پر ترقی دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ آفت سے متاثرہ لوگوں کو راحت پہنچانے کے لیے ہماچل پردیش نے ریلیف مینول میں تبدیلی کی ہے اور اس میں بیس گنا اضافہ کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ہماچل پردیش ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے جس نے اس طرح کا ریلیف پیکیج دیا ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ہماچل کے لوگوں نے ان پر بھروسہ کیا ہے اور وہ اس یقین کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

نیشنل ہیرالڈ، نوجیو اور قومی آواز کے لیے سکھوندر سنگھ سکھو کی نوجیون کے ڈیجیٹل ایڈیٹر تسلیم خان کے ساتھ گفتگو:

سوال: سوال: آپ کو حکومت کی باگ ڈور سنبھالے بمشکل چھ ماہ ہوئے تھے کہ ریاست پر یکے بعد دیگرے دو آفات آئیں لیکن تقریباً ایک ماہ میں ہماچل اپنے پیروں پر کھڑا نظر آنے لگا، آپ نے یہ کرشمہ کس طرح کیا؟

یہ کوئی کرشمہ نہیں بلکہ یہ میرا فرض تھا، میری ذمہ داری تھی۔ یقیناً جب آفت آئی تو یہ بہت بڑا بحران تھا۔ میں ہر جگہ میدان میں پہنچا، اسے محسوس کیا، حکام کو ہدایات دیں، اور تمام عہدیداروں، کابینہ کے ساتھیوں نے کام کیا۔ میں سب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ سب نے ہمارا ساتھ دیا اور اسی کی وجہ سے آج ہم دوبارہ اپنے پیروں پر مضبوطی سے کھڑے ہیں۔

انفراسٹرکچر بنانے میں ایک ڈیڑھ سال کا وقت لگے گا لیکن آج ہم نے تمام سڑکیں کھول دی ہیں اور ہم ہر قسم کے سیاحوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہماچل محفوظ ہے۔ آپ تشریف لائیں اور یہاں کے خوشگوار ماحول سے لطف اندوز ہوں۔ ہماچل پردیش میں تباہی سے جو افرا تفری پیدا ہوئی تھی وہ اب ختم ہو چکی ہے اور اب یہاں سب کچھ ٹھیک ہے۔

سوال: آپ نے میدان میں اتر کر قیادت کی اور ایک مثال پیش کی لیکن ہم وفاقی نظام ہیں، ایسی صورتحال میں مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ آفت زدہ ریاست کے ساتھ کھڑا ہو۔ مرکز سے آپ کو کتنی، کس قسم کی اور کب مدد ملی؟

دیکھیں، ابھی تک مرکزی حکومت کی طرف سے کوئی تعاون نہیں ملا ہے۔ اب تک جو کچھ ملا ہے وہ پورے ملک کی ریاستوں کے لیے پہلے سے طے شدہ ڈیزاسٹر بجٹ سے حاصل کیا گیا ایڈوانس ہے لیکن ہم جس خصوصی ریلیف کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ پیکیج حاصل ہوگا یا نہیں یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ ہم نے اپنی ہماری طرف سے (ہماچل حکومت کی جانب سے) ریاست کے لیے 4500 کروڑ روپے کا خصوصی پیکیج شروع کیا ہے۔ تاہم، مرکز کے قواعد کے مطابق ہمیں جو فنڈ ملنا چاہئے وہ بھی ابھی تک نہیں ملا۔ خصوصی پیکج کا تو ذکر ہی کیا کریں، ہمیں تو ہمارے حقوق بھی نہیں ملے۔

یہ بہت افسوسناک ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہماچل یونٹ نے اس تجویز کی حمایت نہیں کی جس میں ہم نے ہماچل میں ہونے والی تباہی کو قومی آفت قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا، ہماچل کے مفادات کو مدنظر رکھے بغیر انہوں نے ہمارے 12 ہزار کروڑ روپے کے خصوصی پیکیج کو مسترد کر دیا۔

سوال: تباہی سے ہونے والے نقصانات اور اس کی وجوہات پر واپس آتے ہیں۔ بہت باتیں ہوئیں، الزام برائے الزام کا دور بھی جاری رہا۔ آپ نے بھی کچھ باتیں کیں اور اندازہ لگانے کا ذکر بھی کیا۔ کیا تشخیص وغیرہ مکمل ہو چکی اور آفت کی وجوہات معلوم کر لی گئیں؟ اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں کہ ایسا دوبارہ نہ ہو؟

دیکھئے، ہماچل پردیش کو سب سے زییادہ نقصان بادل پھٹنے اور شددی بارشوں کی وجہ سے ہوا۔ جب پاور ہاؤسز کے ڈیم بھر گئے اور ان سے پانی چھوڑا گیا تو اس سے بھی کافی نقصان ہوا۔ بنیادی ڈھانچہ، پینے کا پانی، بجلی اور آبپاشی وغیرہ سب متاثر ہوئے ہیں۔ ان سب کا اندازہ لگانے کے بعد ہم نے محسوس کیا کہ اس سب کی عارضی طور پر مرمت کی جائے، اسی لیے ہماچل پردیش میں اتنی بڑی تباہی کے بعد بھی کوئی چیخ و پکار نہیں تھی، کوئی انارکی نہیں تھی، ہر چیز پرامن طریقے سے نمٹائی گئی۔

سوال: ہم نے تمام خبریں دیکھی ہیں کہ نہ صرف بڑی سڑکیں بلکہ کئی راستوں اور لوگوں کے مکانات وغیرہ کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، آپ نے اس سلسلے میں کیا کیا ہے اور ریلیف مینوئل میں آپ نے کا تبدیل کی؟

ایک مرکزی حکومت کا ریلیف مینوئل ہے اور دوسرا ریاستی حکومت کا ریلیف مینوئل ہے۔ ریاستی دستور کے مطابق گھر کے مکمل تباہ ہونے کی صورت میں ایک لاکھ روپے اور جزوی طور پر 6500 روپے کی امداد دستیاب تھی۔ ہم ملک کی پہلی ریاست ہے جہاں مکان کے پوری طرح تباہ ہونے پر ریلیف ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر سات لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ بجلی اور پانی کے کنکشن مفت کر دیے گئے ہیں۔ گھر بنانے کے لیے استعمال ہونے والے سیمنٹ سے ٹیکس ہٹا کر اسے کم کر کے صرف 280 روپے فی بوری کر دیا گیا ہے۔ 16 ہزار خاندانوں کو ریلیف دیا گیا ہے، جن میں سے 3500 خاندانوں کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، ہماچل حکومت انہیں 7 لاکھ روپے فی گھر دے گی اور جن کے گھر جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں انہیں حکومت ایک لاکھ روپے دے گی۔ حکومت ان کسانوں یا خاندانوں کو فی جانور 55 ہزار روپے دے گی جن کی گائے، بھینس وغیرہ ہلاک ہو گئیں، گھوڑا وغیرہ مرنے پر 55 ہزار روپے فی جانور، بھیڑ یا بکری مارے جانے پر 6500 روپے دیے جائیں گے۔ پورے ہندوستان میں کسی ریاست نے اتنا ریلیف پیکج نہیں دیا ہوگا جتنا ہماری حکومت نے دیا ہے۔

سوال: جب ہم دہلی سے آرہے تھے تو دیکھا کہ کئی مقامات پر پہاڑ سیدھے کاٹے گئے ہیں یعنی تقریباً 90 ڈگری پر، ماہرین نے اس بارے میں بہت کچھ کہا ہے کہ پہاڑوں کو اس طرح کاٹنا مصیبت کو دعوت دیتا ہے!

بلاشبہ۔ جب بھی سڑکیں بنتی ہیں تو لینڈ سلائیڈنگ ہوتی ہے۔ لیکن پہاڑ کو ڈھلواں کاٹنا چاہئے اور ویسے بھی پہاڑ کاٹنے پر اسے معمول پر آنے میں چار سے پانچ سال کا وقت لگتا ہے۔ انہوں نے تو اسے 90 ڈگر پر کاٹ دیا۔ ابھی ایین ایچ اے آئی کے ساتھ بات ہوئی،، انہوں نے اس پر غور کیای اور اب انہوں نے کہا ہے کہ وہ پہاڑوں کو اب ڈھلواں طریقہ سے ہی کاٹیں گے۔

سوال: اوور ٹورزم (حد سے زیادہ سیاحت) کی بات ہو رہی ہے، خاص طور پر شملہ، منالی یا دھرم شالہ جیسے شہر سیاحوں کے زیادہ دباؤ میں ہیں اور وہ سیاحوں کا دباؤ برداشت نہیں کر پا رہے ہیں۔ کیا آپ کے پاس اس پر قابو پانے کے لیے کوئی منصوبہ یا کوئی اور حل ہے؟

دیکھئے، ہمارے یہاں سیاحوں کے لیے تمام انتظامات ہیں۔ ہوم اسٹے، ہوٹل وغیرہ ہیں اوور ٹورزم کی کوئی بات نہیں۔ اور شہروں پر دباؤ کا آفت سے کوئی تعلق نہیں۔ کبھی کبھی سیاح زیادہ آتے ہیں، گاڑیاں ضرورت سے زیادہ آتی ہیں، ٹریفک کا مسئلہ ہے، حکومت اس نظام کو ٹھیک کر رہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اب تک آنے والے 1.50 کروڑ سیاحوں کی تعداد بڑھ کر پانچ کروڑ ہو جائے، اس کے لیے ہم کنسلٹنسی کر رہے ہیں۔

سوال: ایک خیال یہ بھی ہے کہ شملہ یا منالی جیسے نئے شہر آباد کئے جائیں، آپ کی حکومت اس سمت میں کیا کر رہی ہے؟

آپ نے صحیح کہا، ہماری حکومت اس سمت میں کام کر رہی ہے۔ ہم نے بات کی ہے کہ نئے سیاحتی مقامات بنائے جائیں، نئے شہر بنائے جائیں۔ ایک جاکھیا دیوی جگہ ہے جہاں ایک نیا شہر قائم کرنے کا خیال ہے۔ پالن پور میں ایک نیا شہر قائم کرنے کا خیال ہے۔ ہماچل میں 75 سالوں میں کوئی نیا شہر نہیں بنایا گیا ہے، ہم اس پر غور کر رہے ہیں۔ جہاں پانی ملے گا وہاں نیا شہر بن سکتا ہے۔

سوال: آفت کے بعد آپ نے ایک خصوصی امدادی فنڈ بنایا۔ اس کے ذریعے لوگوں کی مدد کی جا رہی ہے۔ آپ نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے اس فنڈ میں 51 لاکھ روپے کا عطیہ دیا۔ کیا دوسروں نے ترغیب حاصل کی؟

دیکھیں، چھوٹے چھوٹے بچے بھی اپنی گلک لے کر امدادی فنڈ میں چندہ دینے آ گئے۔ یہ پیسوں کا سوال نہیں تھا، احساسات اور جذبات کا سوال تھا۔ میرا رجحان کچھ ایسا ہی رہا ہے۔ اس لیے میں نے بھی اپنی پوری بچت سے 51 لاکھ روپے ریلیف فنڈ میں عطیہ کیے، میں نے کورونا کے دور میں بھی عطیہ کیا تھا۔ میرے پاس 51 لاکھ دینے کے بعد صرف 17 ہزار روپے رہ گئے لیکن میں پریشان نہیں تھا۔ ہمیں تو اگلے مہینے تنخواہ مل جاتی ہے اور اخراجات پورے ہو جاتے ہیں۔ کورونا اس وقت بی جے پی کی حکومت تھی۔ اس وقت میں نے 19 لاکھ روپے عطیہ کیے تھے اور اس اقدام کی وجہ سے ہمارے ریلیف فنڈ میں تاریخی تقریباً 200 کروڑ روپے کی رقم جمع ہوئی۔

سوال: آپ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ آپ ہماچل کو ہندوستان کا سیاحتی دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔ یہ موجودہ انفراسٹرکچر سے ممکن ہے؟ اس کے لیے کیا کام کیا جا رہا ہے، جیسے ہوائی رابطہ وغیرہ؟

دیکھئے، میں نے کہا تھا کہ ہماچل پردیش شمالی ہندوستان کے پھیپھڑوں کی طرح کام کرتا ہے۔ اس کے 68 فیصد فارسٹ کور ہے اور اس فارسٹ کور کا ہمیں کچھ نہیں ملتا، مرکزی حکومت کو بھی اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ وفاقی ڈھانچہ، ریاستی حکومتیں جو اپنے جنگلات کا تحفظ کرتی ہیں، نئے درخت لگاتی ہیں، ماحول کو بچاتی ہیں، انہیں اس کے لیے کچھ معاوضہ ملنا چاہیے۔ اس نقطہ نظر سے میں نے یہ کہا تھا، جہاں تک سیاحتی دارالحکومت کا تعلق ہے، ہم کانگڑا کو سیاحتی دارالحکومت بنانے جا رہے ہیں لیکن اس وقت یہ بہت مشکل ہے۔

سوال: سیاست سے جڑا ایک اور سوال، انڈا اتحاد قائم ہو چکا ہے۔ پوری اپوزیشن متحد ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بی جے پی کا ردعمل مختلف شکلوں میں ہمارے سامنے ہے۔ آپ کا کہنا چائیں گے؟

دیکھئے جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ جمہوریت کے لیے اچھا نہیں ہے۔ میرا ماننا ہے کہ جو اتحاد بنا ہے وہ ملک کے مفاد میں ہے۔ اس وقت میں کہنا چاہتا ہوں کہ کانگریس سب سے بڑی پارٹی ان کی قیادت میں اتحاد کو آگے بڑھنا چاہیے، ورنہ وہ علاقائی پارٹیوں کو اسی طرح ہراساں کریں گے۔ کانگریس کے نظریات کے لوگ ہر جگہ موجود ہیں۔ کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر راہل گاندھی کو قیادت سونپی جائے اور یہ کہا جانا چاہئے کہ وہ اس اتحاد کی قیادت کریں گے۔ یہ بات یقینی ہے کہ بی جے پی اب اقتدار میں نہیں آئے گی۔

سوال: آپ کی حکومت دسمبر میں ایک سال مکمل کر رہی ہے، آفت میں کیے گئے کام کے علاوہ، آپ ایک سال کی کامیابی کے طور پر کیا کہنا چاہیں گے؟

بہت سے محاذوں پر تبدیلیاں آئی ہیں، ہم نے بہت سی چیزیں بدلی ہیں۔ ہم نے عوام کا اعتماد جیتا ہے اور ہم اسے جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لوگ ہماری باتوں پر یقین کرتے ہیں کیونکہ ہم نے کام کر کے دکھایا ہے اور کرپشن پر لگام لگائی ہے۔ تمام محکموں کے نظام میں تبدیلیاں کی گئی ہیں، جہاں کام ہونے میں مہینوں لگتے تھے، ہم نے 20 دن میں کام مکمل کرنے کے انتظامات کیے ہیں۔ بہت سی چیزیں ہوئی ہیں اور بہت کچھ کیا جا رہا ہے۔ صحت کے شعبے میں ہم کافی کام کر رہے ہیں۔

کیرالہ میں شدید بارش، نو اضلاع میں یلو الرٹ

0
کیرالہ-میں-شدید-بارش،-نو-اضلاع-میں-یلو-الرٹ

ترواننت پورم: کیرالہ کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں کے پیش نظر محکمہ موسمیات نے نو اضلاع پتھاناماتھیٹا، کوٹائم، ایرناکولم، اڈوکی، تھریسور، پالکاڈ، ملاپورم، کوزی کوڈ اور وایناڈ کے لیے یلو الرٹ جاری کیا ہے۔

موسلا دھار بارش اور تیز ہواؤں کی وجہ سے دارالحکومت ترواننت پورم کے کئی علاقوں میں سیلاب آ گیا ہے۔ شہر کے چکہ میں ترواننت پورم بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طرف جانے والی سڑک مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئی اور کئی گاڑیاں پھنس گئیں۔

نئی دہلی جانے والے ایک مسافر رمیش نائر نے آئی اے این ایس کو بتایا، ’’ایئر پورٹ کی طرف جانے والی سڑک سیلابی پانی سے بھر گئی ہے۔ میں پیدل ہی ایئرپورٹ پہنچا۔ گاڑیاں سڑک پر پھنسی ہوئی ہیں اور ٹریفک متاثر ہوا ہے۔‘‘ دریں اثنا، ترواننت پورم میں کازاکوٹم میں مشہور ٹیکنوپارک کمپلیکس، جس میں کئی سافٹ ویئر کمپنیاں ہیں، بھی ڈوب گئی۔

ایک معروف عالمی ٹیکنالوجی کمپنی میں سافٹ ویئر پروفیشنل جاب تھامس نے بتایا، ’’آج ہماری کمپنی میں چھٹی ہے لیکن ہمارے دفتر کے لوگوں نے مجھے بتایا کہ احاطے میں پانی بھر گیا ہے۔ اگر بارش اسی طرح جاری رہی تو یہ ہم سب کے لیے ایک بڑا مسئلہ پیدا کر دے گی۔‘‘

انڈین نیشنل سینٹر فار اوشین انفارمیشن سروسز (آئی این سی او آئی ایس) نے اتوار کی رات تک کیرالہ کے ساحل کے ساتھ اونچی سمندری لہروں اور سمندری پانی میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔

لوگوں کو ساحلوں پر جانے اور کشتیوں کو سمندر میں لے جانے سے منع کیا گیا ہے۔ ماہی گیروں کو بھی سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

ہندوستان کے محکمہ موسمیات نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ نشیبی علاقوں اور شہروں میں پانی جمع ہو سکتا ہے۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے عوام اور حکومتی نظام کو الرٹ رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔