منگل, مارچ 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 56

نٹھاری کانڈ : سریندر کولی اور منیندر سنگھ پنڈھیر تمام مقدمات سے بری، سزائے موت منسوخ

0
نٹھاری-کانڈ-:-سریندر-کولی-اور-منیندر-سنگھ-پنڈھیر-تمام-مقدمات-سے-بری،-سزائے-موت-منسوخ

نوئیڈا کے مشہور نٹھاری کیس میں الہ آباد ہائی کورٹ نے سریندر کولی اور منیندر سنگھ پنڈھیر کو ان تمام معاملات سے بری کر دیا ہے، جنہیں نٹھاری کیس میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے سریندر کولی کو 12 مقدمات میں اور منیندر سنگھ پنڈھیر کو دو مقدمات میں دی گئی موت کی سزا کو منسوخ کر دیا۔ ہائی کورٹ نے غازی آباد کی سی بی آئی عدالت کی طرف سے سنائی گئی موت کی سزا کو منسوخ کر دیا۔ ہائی کورٹ نے ان مقدمات میں دونوں ملزمان کو بری کر دیا۔

ہائی کورٹ نے دونوں مجرموں کی 14 درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔ سریندر کولی نے 12 مقدمات میں دی گئی سزائے موت کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ جبکہ منیندر سنگھ پنڈھیر نے دو مقدمات میں دی گئی سزا کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

ہائی کورٹ نے ثبوت اور گواہوں کی عدم موجودگی پر مجرموں کو بری کر دیا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے سی بی آئی کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ تاہم رمپا ہلدر قتل کیس میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ دونوں نے سریندر کولی کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا۔ اس ثبوت کی بنیاد پر ان دونوں کو رمپا ہلدر قتل کیس میں سزائے موت سنائی گئی۔

ہائی کورٹ کی جانب سے درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے 15 ستمبر کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ جسٹس اشونی کمار مشرا اور جسٹس ایس ایچ اے رضوی کی ڈویژن بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ واضح رہےنٹھاری سکینڈل سال 2006 میں سامنے آیا تھا۔

ہائی کورٹ میں 134 کام کے دنوں میں اپیل کی سماعت ہوئی۔ سریندر کولی کی موجودہ بارہ درخواستوں میں سے پہلی درخواست سال 2010 میں دائر کی گئی تھی۔ تاہم ان درخواستوں کے علاوہ ہائی کورٹ نے کولی کی کچھ عرضیوں کو بھی نمٹا دیا ہے۔ ایک کیس میں سزائے موت کو برقرار رکھا گیا ہے جبکہ دوسرے کیس میں تاخیر کی بنیاد پر اسے عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

ملزمان کی جانب سے عدالت میں دلیل دی گئی ہے کہ اس واقعے کا کوئی عینی شاہد نہیں ہے۔ انہیں صرف سائنسی اور حالاتی شواہد کی بنیاد پر مجرم ٹھہرایا گیا اور موت کی سزا سنائی گئی۔ سزائے موت کو منسوخ کرنے کی اپیل کی گئی۔

پسماندہ مسلم پرسنل لاءبورڈ کا قیام وقت کی اہم ضرورت: سلیم پرویز

0
پسماندہ-مسلم-پرسنل-لاءبورڈ-کا-قیام-وقت-کی-اہم-ضرورت:-سلیم-پرویز

پسماندہ مسلمان پوری طرح سے متحدہ ہوجائیں اور پسماندہ مسلم پرسنل لاءبورڈ کی تشکیل کریں۔ بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین سلیم پرویز نے کل  پٹنہ کے گاندھی سنگرہال میں سابق صدرجمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی یوم پیدائش کے موقع پر منعقد تقریب میں یہ اپیل کی۔

انہوں نے کہا کہ اپنے حقوق کی حصولیابی کے لئے پسماندہ مسلمان خود کو متحد کریں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی شخصیت عظیم تھی  اور یہی وجہ تھی کہ نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرونی ممالک میں بھی انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ جب بھی بیرون ملک گئے وہاں لوگوں نے ان کے لئے پلکیں بچھا دیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹراے پی جے عبدالکلام کے حیات و خدمات سے لوگوں کو سبق لینے کی ضرورت ہے۔ سلیم پرویز نے کہا کہ میں مرتے دم تک مدرسہ کی خدمت کرتا رہوں گا۔

اس موقع پر قرارداد منظور کر مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی جینتی تمام تعلیمی اداروں میں منانے کو لازمی کیا جائے، جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کا نام ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام سے منسوب کیا جائے، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے انجینئرنگ کالج ڈاکٹر ذاکر حسین انجینئرنگ کالج کا نام بدل کر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام انجینئرنگ کالج کیا جائے، ملک کے موسیقی اداروں کا نام استاد بسم اللہ خاں، نوشاد اور محمد رفیع و موسیقی کے دیگر عظیم ہستیوں کے نام سے منسوب کیا جائے، ملک کے آرمی ادارہ کا نام عبدالحمید کے نام پر کیا جائے اور ملک کے تمام یونیورسٹیوں میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے نام پر چیئر قائم کی جائے۔

آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ نے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے تقریب کا انعقاد کیا تھا۔ اس سے خطاب کرنے والوں میں راشٹریہ جنتادل کے رکن کونسل رام بلی سنگھ، جنتادل یونائیٹیڈ کی ترجمان انجم آرا، اے این سنہا انسٹی ٹیوٹ کے حبیب اللہ انصاری، بہار اردو اکیڈمی کے سابق وائس چیئرمین پروفیسرعبدالواحد انصاری، پسماندہ مسلم محاذ کے ترجمان محمد شبیر احمد، فیاض احمد فیضی، زلیخا خاتون،ہمایوں انصاری، قاسم انصاری، سہیل انصاری، شمیم مکھیا، عارف اقبال، نورحسن آزاد، عارف انصاری (گیا) نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

آج ملک بھر میں بارش کا الرٹ، سردی کا ہونے لگا احساس

0
آج-ملک-بھر-میں-بارش-کا-الرٹ،-سردی-کا-ہونے-لگا-احساس

اب ملک بھر میں موسم کا انداز بدلنے لگا ہے۔ جہاں پہلے گرمی سے عوام کو مشکلات کا سامنا تھا اب موسم کی وجہ سے ریلیف ملنے والا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 17 اکتوبر تک کئی ریاستوں میں بارش ہونے والی ہے، جس کے بعد سردی محسوس ہوگی۔ اس کے علاوہ کیرالہ اور تمل ناڈو میں اگلے دو دنوں تک موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

دہلی-این سی آر میں صبح سے سردی محسوس ہونے لگی ہے، حالانکہ دن کے وقت چلچلاتی دھوپ کی وجہ سے گرمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پیر اور منگل کو راجدھانی دہلی سمیت این سی آر میں بارش ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 3 سے 4 ڈگری تک گر سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 32 ڈگری اور کم سے کم درجہ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہ سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آج یعنی پیر (16 اکتوبر) کو اتراکھنڈ، جموں و کشمیر، لداخ، ہماچل پردیش، پنجاب، ہریانہ، چندی گڑھ، مظفرآباد میں ہلکی بارش ہوگی۔ اس کے علاوہ کئی ریاستوں میں طوفان اور آسمانی بجلی گرنے کا بھی امکان ہے۔ یوپی اور راجستھان میں بھی آج بارش کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے پیشن گوئی کی تھی کہ یمنوتری دھام اور اونچائی والے علاقوں میں بھاری برف باری ہوگی، جس کے بعد یہ پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی اور اتوار کی دوپہر تک یمونوتری دھام کی اونچی پہاڑیوں سمیت سپت رشی کنڈ میں بھاری برفباری ہوئی۔ دوسری جانب جنوبی ریاستوں میں بھی بارش کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ کیرالہ اور تمل ناڈو میں پہلے ہی موسلادھار بارش ہو رہی ہے، جس کے بعد اب محکمہ موسمیات نے اگلے دو دنوں تک موسلادھار بارش کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے اور طوفان کا بھی امکان ہے۔

ممبئی میں عظیم الشان میلاد النبی  کانفرنس منعقد

0
ممبئی-میں-عظیم-الشان-میلاد-النبی -کانفرنس-منعقد

منہاج  انٹرفیتھ  وویلفیئر فاؤنڈیشن نے ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقے ڈونگری  میں  عید میلاد النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کانفرنس منعقد کی  اس کانفرنس میں مختلف مذاہب اور مذہبی عقائد رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی۔اس کانفرنس میں عالم شہرت یافتہ ڈاکٹر  طاہر القادری کی کتاب ریلیشن مسلم اینڈ نان مسلم  کا رسم اجراء بھی عمل میں آیا۔یہ کتاب قرآن کی حدیث کی روشنی میں مسلموں کے غیر مذاہب کے ساتھ تعلقات پر مبنی ہے۔

منہاج انٹرفیتھ  وویلفیئر فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر  زبیر احمد انصاری کے مطابق یہ تنظیم مختلف مذاہب کے لوگوں کے ساتھ برابری کا سلوک  کرنے والی ایسی کانفرنسوں کو فروغ دیتی ہے۔ یہ ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں جہاں مختلف مذاہب اور عقائد کے لوگ اپنی بات رکھتے ہیں مختلف مذاہب کے متعلق معلومات ایک دوسرے سے ساجھا  کرتے ہیں ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے یہ ایک بہتر موقع ہوتا ہے۔

ممبئی کے ممبا دیوی حلقے کے رکن اسمبلی امین پٹیل  نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شمولیت کی۔ امین پٹیل نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تنظیم کی ذریعے اس طرح کے پروگرام منعقد کرنا بیحد ضروری ہے تاکہ مختلف مذاہب کے مابین اخوت اور بھائی چارہ قائم ہو۔

 اس سے ہم ایک دوسرے کی تفکری روایات کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ امن اور تعاون کی سوچ کو پروان چڑھاتے ہیں۔ اس وقت یہ بہت اہم ہے جب دنیا بھر میں مذہبی تناؤ کی شدت بڑھ رہی ہے اور ہمیں اپنے معاشرتی ، ملکی ترقی فلاح و بہبود اور روحانی مفاہمت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

کانفرنس کے عنوان کے حوالے سے مقررین نے یک آواز میں اس بات کا اقرار کیا کہ رسول اللہ  کی ذاتِ رحمت نہ کہ صرف مسلمانوں کے لئے بلکہ پوری عالم انسانیت کے لئے ہے کیونکہ  وہ محبت، ہمدردی، اور رحم کے پیغام لے کرآئے ہیں۔  یہی وہ نبی ہیں جو پوری انسانیت کو محبت اور انصاف کا پیغام دیتے رہے، جو ہر شخص کی حقوق اور عزت کی حفاظت کرتے رہے۔ انکی محبت اور رحمت کی ایک روشنی کے طور پرہمیں اپنے عقائد کے مختلف لوگوں کے ساتھ ایک ہموار راستے پر لے جاتی ہے۔ انکے پیغام کو پہنچانے کا یہ وقت ہے جب ہمیں محبت اور امن کی ضرورت ہے، اور وہ رسول  اللہ   ہیں جو ان مقاصد کی روشنی میں ہمیں راہ دکھاتے ہیں۔

کانفرنس کے اختتام پر پوری انسانیت کے لئے بالعموم اور معزز وطن ہند کی تعمیر و ترقی کے لئے خصوصی دعاوں کا اہتمام کیا گیا اور صدر منہاج انٹرفیتھ و ویلفئیر فاونڈیشن  حاجی رفیق احمد خان  کے مطابق ایسے پروگرام پورے ملک میں منعقد کئے جاتے ہیں اور کئے جائیں گے۔

کانفرنس کے اہم خطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر ارشد القادری اسلامی ریسرچ اسکالر، گراہم ہیڈن، کرائسٹ چرچ اسکول کے  پرنسپل، مفتی عمیر قاسمی،  نائب امام، فرید خان، اردو کاروان کے صدر، ڈاکٹر سوامی ویداتماویش، گروکل کانگڑی یونیورسٹی ، ڈاکٹر لکشمن شرما، نعت خوان، شاکر شہاب، جماعت اسلامی ہند کے جنرل سیکرٹری، مادھاو بروے نور، نعت خوان  ، کاظم ملک ، کیریر کونسلر شامل تھے۔

اسرائیل نے فلسطین پر زبردستی قبضہ کیا :شرد پوار

0
اسرائیل-نے-فلسطین-پر-زبردستی-قبضہ-کیا-:شرد-پوار

کل ممبئی کے علاقائی دفتر میں عہدیداروں کی ایک میٹنگ کے دوران این سی پی کے صدر شرد پوار نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری جنگ پر اپنا ردعمل دیا۔اس ملاقات میں انہوں نے فلسطین کی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل فلسطین جنگ عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔ وہاں کی زمینیں اور مکانات فلسطین کے تھے، اسرائیل نے ان پر قبضہ کر لیا۔

این سی پی صدر نے مزید کہا، "ملک کے سابق وزرائے اعظم جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور اٹل بہاری واجپئی کا کردار فلسطین کی مدد کرنا تھا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیراعظم نے بدقسمتی سے اسرائیل کا ساتھ دے کر اصل مالکان کی مخالفت کی ہے۔ این سی پی کا کردار واضح ہے کہ وہ اصل مالکان اور محنت کش لوگوں کے حق میں ہے۔

اسرائیل حماس جنگ کے حوالے سے ملک میں کافی سیاست چل رہی ہے۔ اس کو لے کر کانگریس نے فلسطین کی حمایت میں قرارداد پاس کی تھی جس کے بعد بی جے پی لیڈروں نے کانگریس پر حملہ کیا۔ آسام کے وزیر اعلیٰ اور بی جے پی لیڈر ہمانتا بسوا سرما نے تو کانگریس پارٹی کا موازنہ پاکستان سے کیا تھا۔ آسام کے وزیر اعلیٰ نے حماس کے حامیوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کی بات بھی کی تھی۔

حماس کے حملے کے بعد اسرائیل غزہ میں فضائی حملے کر رہا ہے۔ دریں اثناء اسرائیل نے شمالی غزہ کے شہریوں کو جنوب کی طرف جانے کی وارننگ جاری کی تاکہ وہ زمینی حملہ کر سکے۔

این سی پی پروگرام میں شرد پوار سمیت پارٹی کے کئی بڑے لیڈروں نے شرکت کی۔ اس میٹنگ میں این سی پی سربراہ شرد پوار نے کارکنوں کی رہنمائی کی۔ اس دوران این سی پی کے ریاستی صدر جینت پاٹل، جتیندر اواد، انل دیشمکھ، راجیش ٹوپے اور ممبئی کے تمام عہدیدار اور کارکنان وہاں موجود تھے۔

مہاراشٹرا میں سڑک حادثہ، 12 زائرین ہلاک ، 18 زخمی

0
مہاراشٹرا-میں-سڑک-حادثہ،-12-زائرین-ہلاک-،-18-زخمی

مہاراشٹرا ضلع کے ویجا پور تعلقہ میں سمرودھی ایکسپریس وے پر ایک بار پھر خوفناک سڑک حادثہ رونما ہوا جس میں امراوتی ضلع میں واقع مشہور صوفی سنت سیلانی بابا کی درگاہ کی زیارت کرکے لوٹے زائرین کی منی بس ہائ وے پر کھڑی ٹرک سے ٹکرا گئ جس کے نتیجے میں 12 افراد کی موقع واردات پر ہی موت واقع ہوگئی جبکہ 18 افراد زخمی ہو گئے۔

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو، وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے، مہاراشٹر کے اپوزیشن لیڑران اور دیگر نے حادثے میں مسافروں کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا۔وزیر اعظم نریندر مودی، ، نے ہر ہلاک شدگان کے لواحقین کو 2-2-لاکھ روپے اور زخمیوں کے لئے 50,000 روپے مالی مدد دینے کا اعلان کیا،جب کہ شنڈے نے مہلک متاثرین کے لئے 5-5-لاکھ روپے معاوضہ اور سانحہ میں تمام زخمیوں ے مکمل مفت علاج کا اعلان کیا-

موصلہ اطلاعات کے مطابق، یہ واقعہ کل رات تقریباً ایک بجے یہ حادثہ۔پیش آیا جب زائرین کی بس وائجا پور کے قریب سمرودھی ایکسپریس وے پر جبارگاؤں ٹول پلازہ کے قریب کھڑی ٹریک سے ٹکرا گئی۔اس حادثے میں چھ خواتین اور ایک چار ماہ کا بچہ سمیت بارہ افراد کی موت ہو گئی ہے اور حادثے میں 18 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ تمام مسافر ناسک ضلع کے پاتھارڈی اور اندرا نگر کے رہائشی ہیں۔زخمیوں کو چھترپتی سمبھاجی نگر اور ویجا پور کے گورنمنٹ میڈیکل کالج اور اسپتال (جی ایم سی ایچ) میں داخل کرایا گیا ہے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق زخمیوں میں شامل ایک خاتون اور ایک عمر رسیدہ شخص کی حلت تشویشناک ہیں ۔

اروند سنگھ لولی کی قیادت میں شروع ہوئی  کانگریس کی ’جواب دو حساب دو‘ مہم

0
اروند-سنگھ-لولی-کی-قیادت-میں-شروع-ہوئی- کانگریس-کی-’جواب-دو-حساب-دو‘-مہم

دہلی پردیش کانگریس کمیٹی نے آج مرکز کی بی جے پی حکومت کی عوام مخالف پالیسی اور دہلی کے ساتوں اراکین پارلیمنٹ کے ذریعہ عوام کو نظر انداز کئے جانے کے خلاف مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اروند سنگھ لولی کی قیادت میں، ہزاروں شہریوں اور کانگریس کارکنوں نے شمال مغربی دہلی پارلیمانی حلقہ بوانا میں ’جواب دو حساب دو ‘مہم کے پہلے مرحلے میں بی جے پی کو شکست دینے کے لیے نکالی گئی پرتیگیہ ریلی میں حصہ لیا اور بی جے پی کو ساتوں سیٹوں پر ہرانے، نفرت کی دکان بند کرنے اور محبت کی دکان کھولنے کا عزم  کیا ۔

پرتیگیہ ریلی کی صدرات کراری ضلع کانگریس کے صدر اور سابق ایم ایل اے سریندر کمار نے کی اور روہنی کے ضلع صدر وشال مان نے نظامت کے فرائض انجام دیے ۔ریلی میں شامل ہونے کیلئے دوپہر 2 بجے سے ہی سینکڑوں دیہاتی، کچی آبادی میں رہنے والے مزدور، کسان، خواتین اور نوجوان، بوانا کے جھنڈا چوک پر جمع ہونا شروع ہو گئے اور بی جے پی کے خلاف زوردار نعرے لگانے لگے۔ کانگریس کارکنان کے ہاتھوں میں قومی پرچم ترنگا تھے اور بوانا کی سڑکوں پر عوامی سیلاب دکھائی دے رہا تھا۔

پرتیگیہ ریلی میں ہزاروں لوگوں کے پرجوش ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے اروندر سنگھ لولی نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت اور دہلی کی عآپ حکومت نے آج دہلی کے 365 دیہات کے لوگوں کو جنہوں نے دہلی بسائی ہے انہیں مہاجر بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے دیہات میں ہاؤس ٹیکس لگانا نہ گاؤں والوں پر نہ صرف  ظلم  ہے بلکہ یہ قواعد کے بھی خلاف ہے۔

 انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ آج ریونیو ریکارڈ میں کسان اپنی ہی زمین کا مالک نہیں ہے۔ بات یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ سچ یہ ہے کہ آج ایک بزرگ کی موت کے بعد ریونیو ریکارڈ میں اس کے بچوں کے نام زمین کا اندراج نہیں ہو رہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گاؤں میں ٹیوب ویل کنکشن اور تھری فیز کنکشن دینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑھاپے کی پنشن روک دی گئی ہے اور گاؤں کو دی جانے والی سہولیات کو غیر اعلانیہ طور پر روک دیا گیا ہے۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مرکزی اور دہلی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے، لولی نے کہا کہ جو کام کانگریس کے دور حکومت میں ہوئے آج بھی دہلی کے عوام ان کو یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کانگریس پہلے لیفٹیننٹ گورنر سے مل کر گاؤں والوں کے مسائل اور ان مکانات کی الاٹمنٹ پر بات کرے گی اور اگر ان مسائل کو حل نہیں کیا گیا تو کانگریس ایک بڑی تحریک شروع کرے گی۔

پرتیگیہ ریلی میں ریاستی صدر ارویندر سنگھ لولی کے علاوہ  سابق مرکزی وزیر کرشنا تیرتھ،  ہارون یوسف، سابق ایم پی، سابق ایم ایل اے، کانگریس لیڈر رمیش کمار، ڈاکٹر ادت راج، راج کمار چوہان، منگت ر ام سنگھل، ڈاکٹر نریندر ناتھ، دیویندر یادو، راجیش للوٹھیا ،جئے کشن، چرن سنگھ کنڈیرا، جسونت رانا، سریندر کمار، چودھری متین احمد، نیرج بسویا، بھیشم شرما، انل بھاردواج، کنور کرن سنگھ، درشنا رام کماراور کمل کانت شرما نے خطاب کیا۔

بی جےپی حکومت میں ریاست کا نظم ونسق خستہ :اکھلیش

0
بی-جےپی-حکومت-میں-ریاست-کا-نظم-ونسق-خستہ-:اکھلیش

سماج وادی پارٹی(ایس پی) کے قومی صدر و سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے اتوار کو ریاست کی بی جےپی حکومت پر تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت میں ریاست کا نظم ونسق خستہ ہے۔
خواتین و بچیوں کے ساتھ مجرمانہ واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔تمام اعداد میں اترپردیش خواتین کے خلاف  مجرمانہ معاملوں میں سب سے اوپر ہے لیکن حکومت زمینی سچائی نا جاننے اور نا ماننے کو تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی جھوٹے اعداد سے اپنی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں۔ ہر دن ریاست میں خواتین اور بچیوں کے ساتھ عصمت دری، قتل اور اجتماعی عصمت دری کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ مین پوری میں اسکوٹی سے جارہی خاتون پر چاقو سے حملہ ہوا۔ بی جے پی حکومت ریاست میں جرائم کو روک پانے میں ناکام ہے۔ بی جے پی کا نظم ونسق پر زیرو ٹالیرنس کا دعوی جوھٹا اور کوری لفاظی ہے۔

بی جےپی حکومت میں پولیس انتظامیہ نظم ونسق ٹھیک کرنے کے بجائے مخالفین کو جھوٹ معاملات میں پھنسانے اور بدعنوانی میں ملوث ہے۔پولیس بی جے پی لیڈروں کے اشارے پر کام کررہی ہے۔ عوام الناس اور غریبوں کو انصاف نہیں مل رہا ہے۔ عوام بی جے پی کی خراب حکمرانی سے عاجز آچکے ہیں۔ ریاست کی عوام بی جے پی حکومت سے بری طرح سے پریشان ہیں۔

بی آرایس کےانتخابی منشور میں اعلان:چار سو روپے میں گیس سلنڈر، ہرراشن کارڈ پر 5 لاکھ تک بیمہ

0
بی-آرایس-کےانتخابی-منشور-میں-اعلان:چار-سو-روپے-میں-گیس-سلنڈر،-ہرراشن-کارڈ-پر-5-لاکھ-تک-بیمہ

تلنگانہ کی حکمراں جماعت بی آر ایس نے انتخابی منشور جاری کردیا۔ اس میں کے سی آر بیمہ لائف انشورنس اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے جس میں ہر راشن کارڈ رکھنے والے کے لئے 5 لاکھ روپے تک لائف انشورنس کی سہولت ہوگی۔

تلنگانہ کے 93 لاکھ خاندانوں کو اس سے فائدہ ہوگا۔ دلت بندھو  بیمہ کے خطوط پر اس اسکیم پر موثر عمل کے لئے ریاستی حکومت ایل آئی سی کو مکمل پریمیم کی رقم ادا کرے گی۔ راشن کارڈ رکھنے والوں کے لئے ایک اور بڑی اسکیم تلنگانہ اناپورنا کا اعلان کیا گیا ہے جس کے ذریعہ 93 لاکھ خاندانوں کے لئے باریک چاول کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

بی آر ایس نے دلت بندھو اسکیم کی سالانہ رقم 10ہزار روپے میں اضافہ کرتے ہوئے ہر سال 16 ہزار روپے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران یہ رقم 12ہزار روپے ہوگی اور ہر سال اس میں 16ہزار روپے تک اضافہ ہوگا۔ آسرا وظائف کی رقم 2016روپے میں مرحلہ وار طور پر اضافہ کرتے ہوئے اسے 5 ہزار روپے کیا جائے گا۔ معذورین کے وظیفے 4,016روپے کو بڑھاکر 6,000روپے کیا جائے گا۔ مرحلہ وار انداز میں یہ اضافہ ہوگا۔

 ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں مرکز کے اضافہ کے پیش نظر بی آر ایس نے غریب خواتین اور اکریڈیشن رکھنے والے صحافیوں کے لئے 400روپے میں سلنڈر فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ سوبھاگیہ لکشمی اسکیم کے تحت ماہانہ اعزازیہ تین ہزار روپے دیا جائے گا۔ آروگیہ شری اسکیم کے تحت علاج کے لئے رقم کی حد 15 لاکھ روپے کردی جائے گی جو پہلے 10 لاکھ روپے تھی۔ وزیراعلی نے مسلسل تیسری میعاد کے لئے برسراقتدار آنے پر تمام کے لئے امکنہ کے وعدے کی یاد دہانی کروائی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے لئے قدیم وظیفہ کی اسکیم کے امکانات کا جائزہ لینے کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی جائے گی۔

ہماچل میں دارچہ-سرچو سڑک بند، نو مزدوروں کو بچایا گیا

0
ہماچل-میں-دارچہ-سرچو-سڑک-بند،-نو-مزدوروں-کو-بچایا-گیا

ہماچل پردیش کے قبائلی علاقوں لاہول اور کلّو کی اونچی چوٹیوں پر برف باری ہوئی ہے جبکہ نچلے علاقوں میں بارش ہوئی ہے۔ قومی شاہراہ 3 منالی لیہہ برف باری کی وجہ سے دارچہ اور سرچو کے درمیان بند ہے۔

اس کے ساتھ ہی دارچہ شنکولہ سڑک بھی برف باری کی وجہ سے بند ہوگئی ہے۔ پولیس نے شنکولہ میں برف باری کی وجہ سے پھنسے نو مزدوروں کو بچا لیا ہے۔ یہ کارکن رات کو برف باری میں پھنس گئے تھے۔ انہیں بچا کر بحفاظت دارچہ پہنچایا گیا۔

نیشنل ہائی وے 505 براستہ گرانفو کو برف باری کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے۔ گرانفو-کاجا-سمدو روڈ فی الحال ہر قسم کی گاڑیوں کے لیے بند ہے۔ تاہم تاندی-تندی، کلاڑ-سنساری روڈ پر گاڑیوں کی آمدورفت جاری ہے۔ لاہول اسپتی انتظامیہ نے سڑکوں کی حالت دیکھ کر ہی سفر کرنے کی درخواست کی ہے۔
شملہ سمیت ریاست کے کئی علاقوں میں موسلادھار بارش ہوئی ہے، جب کہ برف باری کے لیے اورنج الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ریاست میں 17 اکتوبر تک موسم خراب رہنے کی پیش قیاسی کی گئی ہے جبکہ 18 اکتوبر سے موسم صاف رہنے کا امکان ہے۔

موسمیاتی مرکز شملہ کے مطابق چمبہ، کلّو، کانگڑا اور لاہول اسپتی کے کئی علاقوں میں اگلے دو دنوں تک ‘اورنج الرٹ’ نافذ رہے گا۔ اس دوران ان اضلاع کے اونچائی والے علاقوں میں برف باری اور دیگر علاقوں میں بارش کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ اس دوران باقی اضلاع کے لیے ’یلو الرٹ‘ جاری کیا گیا ہے۔