منگل, مارچ 24, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 55

پی ایم مودی ہی نہیں، بی جے پی کے 25 اراکین پارلیمنٹ نے بھی راجستھانی عوام کو دھوکہ دیا: کھڑگے

0
پی-ایم-مودی-ہی-نہیں،-بی-جے-پی-کے-25-اراکین-پارلیمنٹ-نے-بھی-راجستھانی-عوام-کو-دھوکہ-دیا:-کھڑگے

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے پیر کے روز راجستھان کے باراں میں ای آر سی پی معاملے پر مرکز کی مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ای سی آر پی جن جاگرن مہم کے تحت منعقد جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ راجستھان سے بی جے پی کے 25 اراکین پارلیمنٹ ہیں اور مودی حکومت میں کئی مرکزی وزیر بھی ہیں۔ عوام نے بی جے پی اراکین پارلیمنٹ کو چن کر پارلیمنٹ بھیجا، لیکن یہ بی جے پی اراکین پارلیمنٹ راجستھان کو نہ پیسہ دلا پائے اور نہ ہی پانی۔ پی ایم مودی ہی نہیں، بلکہ بی جے پی کے 25 اراکین پارلیمنٹ نے بھی راجستھان کی عوام کو دھوکہ دیا ہے۔

کانگریس صدر نے راجستھان کی کانگریس حکومت کے فلاحی منصوبوں کی تعریف کرتے ہوئے اس کے فائدے بھی شمار کرائے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت، کانگریس کے تنظیمی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، ریاستی کانگریس انچارج سکھجندر سنگھ رندھاوا، ریاستی صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا، اسمبلی اسپیکر سی پی جوشی سمیت کانگریس کے تمام سینئر لیڈران موجود تھے۔

تقریب میں شریک زبردست بھیڑ کو خطاب کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ راجستھان میں وزیر اعظم نریندر مودی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ آبپاشی منصوبہ کے لیے پیسے دیں گے، لیکن آج تک اس کا پتہ نہیں ہے۔ راجستھان کی کانگریس حکومت خود 25 ہزار کروڑ روپے خرچ کر اس منصوبہ کو آگے بڑھا رہی ہے۔ لیکن مودی حکومت نے اس کے لیے پیسے نہیں دیے۔ راجستھان میں پانی کا مسئلہ ہے، لیکن ایسے منصوبوں میں بھی مودی حکومت مدد نہیں کرتی۔ راجستھان سے بی جے پی کے 25 اراکین پارلیمنٹ ہیں اور مودی حکومت میں کئی مرکزی وزرا ہیں۔ عوام نے جن اراکین پارلیمنٹ کو چن کر بھیجا وہ بھی راجستھان کو نہ پیسہ دلا پائے اور نہ ہی پانی۔

کھڑگے کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت غریبوں کے لیے منریگا کا پیسہ بھی ریاستوں کو نہیں دے رہی ہے۔ مشکل حالات میں بھی راجستھان کو کانگریس حکومت نے معاشی، سماجی، تعلیمی اور طبی شعبہ میں آگے بڑھایا ہے۔ غریبوں کے لیے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے کئی اقدام کیے ہیں۔ یہ سب کچھ عوام کے لیے کیا گیا ہے۔ راجستھان کی کانگریس حکومت نے 21 لاکھ کسانوں کا 16 ہزار کروڑ روپے کا قرض معاف کیا۔ کانگریس حکومت نے صحت کا حق دیا۔ راجستھان میں کئی لوگوں کو پیسہ کی کمی کے سبب علاج کرناے میں پریشانی ہوتی تھی۔ کانگریس حکومت ان کے لیے ’چرنجیوی یوجنا‘ لے کر آئی جس کے تحت 25 لاکھ روپے تک کا علاج مفت ہوتا ہے۔ کانگریس حکومت نے شہری روزگار گارنٹی منصوبہ شروع کیا، بجلی بل میں راحت دی اور سلنڈر بھی 500 روپے میں دیا۔ راجستھان حکومت نے گارنٹیاں دیں اور اس گارنٹی کو پورا بھی کیا۔ دوسری طرف وزیر اعظم مودی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہر سال دو کروڑ ملازمتیں دیں گے، 15 لاکھ روپے دیں گے، لیکن کچھ نہیں دیا۔ پی ایم مودی اپنی زبان سے پیچھے ہٹ گئے، لیکن راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے اپنے سبھی وعدے پورے کیے۔ وزیر اعظم مودی نے راجستھان میں لال ڈائری کا تذکرہ کیا تھا۔ لال ڈائری میں لکھا ہے کہ آنے والے انتخاب میں راجستھان میں پھر سے کانگریس آنے والی ہے۔

شمالی ہند میں بدلا موسم کا مزاج، پہاڑ پر ہو رہی برف باری اور میدانی علاقوں میں بارش!

0
شمالی-ہند-میں-بدلا-موسم-کا-مزاج،-پہاڑ-پر-ہو-رہی-برف-باری-اور-میدانی-علاقوں-میں-بارش!

مغربی ڈسٹربنس کے سبب پورے شمالی ہند کے موسم نے اپنا مزاج بدل لیا ہے۔ پیر کی صبح ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کی اونچی پہاڑیوں پر جہاں موسم کی پہلی برف باری ہوئی، وہیں نشیبی علاقوں میں بارش کی وجہ سے سردی نے دستک دے دی ہے۔ یوپی سمیت دیگر ریاستوں کے کئی اضلاع میں ہوئی بارش سے موسم میں اچانک تبدیلی دیکھی گئی۔ محکمہ موسمیات کی سائنسداں سوما سین کا کہنا ہے کہ شمال مغربی ہند میں ایک مغربی ڈسٹربنس فعال ہے، اس کی وجہ سے پورے علاقے میں بارش اور آندھی کے آثار ہیں۔ آنے والے دنوں میں پہاڑی علاقوں کے اوپری حلقوں میں برف باری اور نشیبی علاقوں میں بارش ہو سکتی ہے۔

دہلی اور این سی آر:

محکمہ موسمیات نے دہلی میں ہلکی بارش ہونے یا گرج کے ساتھ چھینٹیں پڑنے اور آسمان میں جزوی بادل چھائے رہنے کا اندازہ ظاہر کیا ہے۔ اس دوران کم از کم درجہ حرارت 20 ڈگری سلسیس اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 32 ڈگری کے آس پاس رہنے کی امید ہے۔ این سی آر کے حالات بھی کچھ ایسے ہی بتائے جا رہے ہیں۔ موسم میں کچھ سردی کا احساس بھی ہونے لگا ہے۔

ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ:

ہماچل میں لاہول، کلو، کنور، دھرمشالہ اور چنبا کی اونچی چوٹیاں سفید چادر سے ڈھک گئی ہیں۔ شملہ کے نارکنڈا کے پاس ہاٹو پیک، سرمور کے چوڑدھار اور منڈی کے شکاری دیوی میں بھی برف باری ہوئی ہے۔ دوسری طرف اتراکھنڈ میں کیدارناتھ مندر سمیت کیدارپوری اور بدری ناتھ دھام کی چوٹیوں پر ژالہ باری کی خبر ہے۔ علاوہ ازیں نشیبی علاقوں جوشی مٹھ، گوپیشور، پوکھری، نندانگر، پیپل کوٹی میں تیز ہوا کے ساتھ بارش اور کچھ جگہ ژالہ باری بھی ہوئی۔

ہریانہ اور پنجاب:

ہریانہ میں بھی موسم نے کروٹ لے لی ہے۔ کہیں 15 ایم ایم تو کہیں 17 ایم ایم بارش ہوئی ہے۔ ہریانہ کے فتح آباد میں پہلے تیز آندھی اور پھر گرج کے ساتھ بجلی چمکتی رہی۔ کچھ ہی دیر میں ضلع ہیڈکوارٹر کے شہری علاقے میں 15 ایم ایم بارش ہوئی۔ اس سے شہر میں کئی جگہ آبی جماؤ کا مسئلہ بھی پیدا ہو گیا۔ علاوہ ازیں اناج منڈیوں میں کھلے میں رکھی دھان کی فصل بھی بھیگ گئی۔ دوسری طرف پنجاب میں بھی موسم بدل گیا ہے۔ کئی علاقوں میں بارش ہوئی ہے۔ لدھیانہ میں صبح سات بجے اتنے بادل چھائے کہ لگا رات ہو گئی ہے۔ سیاہ بادل کے ساتھ ساتھ تیز ہوائیں اور آندھی بھی چلی۔ اس میں سب سے زیادہ پریشانی اسکول جانے والے بچوں کو ہوئی۔ اس کے بعد تیز بارش اور ساتھ چلتی ٹھنڈ ہواؤں نے درجہ حرارت میں گراوٹ لا دی۔ موگا، مکتسر، نواں شہر، جالندھر اور فرید کوٹ میں بھی بارش ہوئی ہے۔

کچھ دیگر ریاستوں میں بھی بارش اور تیز ہواؤں نے موسم کو سرد کر دیا ہے۔ اتر پردیش میں اتوار کو دو مغربی ڈسٹربنس فعال ہونے کے سبب میرٹھ سمیت مغربی اتر پردیش کے ضلعوں میں بارش ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی درجہ حرارت میں گراوٹ بھی آ گئی اور نوراتر سے ہی گلابی ٹھنڈ شروع ہو گئی۔ میرٹھ سمیت مغربی یوپی کے کئی اضلاع میں بارش سے درجہ حرارت میں کمی آئی ہے۔ سہارنپور ضلع میں تو ژالہ باری کی بھی خبر ہے۔ بجنور اور مظفر نگر میں تیز بارش جاری رہنے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔

سابق لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن گھر میں گرنے سے شدید زخمی، سر میں لگے 4 ٹانکے

0
سابق-لوک-سبھا-اسپیکر-سمترا-مہاجن-گھر-میں-گرنے-سے-شدید-زخمی،-سر-میں-لگے-4-ٹانکے

سابق لوک سبھا اسپیکر کے ساتھ اندور واقع گھر میں حادثہ پیش آیا ہے۔ وہ گرنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوئی ہیں جس کے بعد انھیں سر میں چار ٹانکے لگانے کی ضرورت پڑ گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ ہفتہ کے روز پیش آیا اور آج ان کا سی ٹی اسکین کرایا گیا ہے تاکہ چوٹ کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔

قابل ذکر ہے کہ سمترا مہاجن امریکہ کے دورے پر تھیں اور گزشتہ ہفتہ کے روز یعنی 14 اکتوبر کو ہی وطن واپس آئی ہیں۔ ہندی نیوز پورٹل ’امر اجالا‘ میں شائع ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ حادثہ ہفتہ کے روز صبح کے وقت ہوا۔ سمترا مہاجن کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ صبح میں وہ شری شری روی شنکر کی ایک تقریب سے لوٹ کر آئیں تھی جب یہ حادثہ پیش آیا۔ روزانہ کی طرح سورج کو پانی چڑھانے جا رہی تھیں تبھی ان کے پیر میں ایک رسّی الجھ گئی اور وہ گر پڑیں۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ سمترا مہاجن کے گرنے کی آواز سنائی دی اور چوٹ لگنے سے ان کی چیخ بھی نکلی جو سمترا مہاجن کے بیٹے ملند نے سنی۔ وہ فوراً ماں کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ سر سے خون بہہ رہا تھا۔ انھیں فوری طور پر قریبی پرائیویٹ اسپتال لے جایا گیا جہاں انھیں شام تک نگرانی میں رکھا گیا۔ ان کے سر پر چار ٹانکے لگائے گئے اور شام کو ان کی گھر واپسی ہو گئی۔ سر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے پیر کے روز ان کا سی ٹی اسکین کروایا گیا۔

ہندی نیوز پورٹل ’امر اجالا‘ نے اپنی رپورٹ میں سمترا مہاجن سے ہوئی بات چیت کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ سمترا مہاجن نے بتایا کہ ہفتہ کے روز گھر میں کام کے دوران توازن بگڑنے سے وہ گر گئی تھیں۔ اس کی وجہ سے سر میں چوٹ لگی اور چار ٹانکے لگائے گئے ہیں۔ ساتھ ہی سمترا مہاجن نے یہ بھی کہا کہ اب وہ کافی بہتر محسوس کر رہی ہیں اور فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔

ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت ملے گی یا نہیں؟ سپریم کورٹ کل سنائے گی فیصلہ

0
ہم-جنس-پرستوں-کو-شادی-کی-اجازت-ملے-گی-یا-نہیں؟-سپریم-کورٹ-کل-سنائے-گی-فیصلہ

ہم جنس پرستوں کی شادی کو لے کر سپریم کورٹ منگل کے روز یعنی 17 اکتوبر کو انتہائی اہم فیصلہ سنا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ میں داخل عرضیوں میں یکساں جنس کے لوگوں کے درمیان شادی (ہم جنس پرستوں کی شادی) کو بھی اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت لا کر ان کا رجسٹریشن کیے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

دراصل عرضی دہندگان نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ 2018 میں سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے ہم جنس پرستی کو جرم ماننے والی تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کے ایک حصے کو رد کر دیا تھا۔ اس کے سبب دو بالغوں کے درمیان آپسی اتفاق سے بنے ہم جنس پرستی پر مبنی رشتے کو اب جرم نہیں مانا جاتا ہے۔ ایسے مین ہم جنس پرستوں کی شادی کو بھی منظوری ملنی چاہیے۔

قابل ذکر ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کی قیادت والی آئینی بنچ نے مذکورہ عرضی پر 10 دن کی سماعت کے بعد رواں سال 11 مئی کو اس معاملے میں اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ اس آئینی بنچ میں چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کے علاوہ جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس ایس رویندر بھٹ، جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس پی ایس نرسمہا شامل تھے۔

فلسطینی سفارتخانہ پہنچے منی شنکر ایر، دانش علی اور منوج جھا سمیت کئی لیڈران، متاثرین کے تئیں اتحاد کا مظاہرہ

0
فلسطینی-سفارتخانہ-پہنچے-منی-شنکر-ایر،-دانش-علی-اور-منوج-جھا-سمیت-کئی-لیڈران،-متاثرین-کے-تئیں-اتحاد-کا-مظاہرہ

اسرائیل اور حماس کے درمیان گزشتہ دس دنوں سے جاری جنگ کے درمیان فلسطینی عوام کے تئیں ہمدردی کا اظہار دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق سابق مرکزی وزیر منی شنکر ایر، سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ، جنتا دل یو لیڈر کے سی تیاگی، بی ایس پی رکن پارلیمنٹ دانش علی اور آر جے ڈی رکن پارلیمنٹ منوج جھا سمیت کئی لیڈران فلسطین کے تئیں اتحاد کا مظاہرہ کرنے کے لیے نئی دہلی واقع فلسطینی سفارتخانہ پہنچے۔

دیپانکر بھٹاچاریہ نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم یہاں اتحاد اور فکر ظاہر کرنے آئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ امن قائم ہو۔‘‘ فلسطینی سفیر کے ساتھ میٹنگ کے بعد کے سی تیاگی اور منی شنکر ایر سمیت کئی اپوزیشن لیڈران نے مشترکہ بیان بھی جاری کیا ہے۔

دراصل فلسطینی تنظیم حماس نے 7 اکتوبر کی صبح اسرائیل پر راکیٹ سے حملہ کیا تھا۔ اس دوران دراندازی بھی ہوئی تھی۔ پھر اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے جنگ کا اعلان کر دیا اور کہا کہ ’’اس جنگ میں ہماری جیت ہوگی۔‘‘ اب اسرائیل رہ رہ کر غزہ پر ہوائی حملے کر رہا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے مطابق خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے اسرائیلی فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ میں 199 لوگوں کو یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔ یہ تعداد پرانے اندازوں سے زیادہ ہے۔ اس درمیان خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق دونوں طرف سے اب تک 4000 سے زیادہ لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ حماس کے قلعہ غزہ پٹی میں تقریباً 23 لاکھ لوگ رہتے ہیں جہاں پوری طرح سے گھیرابندی کر دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ جاری جنگ کے چلتے اسرائیل نے غزہ پٹی میں کھانا، پانی اور ایندھن کی فراہمی بند کر دی ہے۔ اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے پیر کے روز کہا کہ علاقہ کی مکمل طور سے گھیرا بندی کی جائے گی۔

’منی پور کے نظریات کو بی جے پی نے تباہ کر دیا‘، میزورم راہل گاندھی کا بیان

0
’منی-پور-کے-نظریات-کو-بی-جے-پی-نے-تباہ-کر-دیا‘،-میزورم-راہل-گاندھی-کا-بیان

میزورم میں 7 نومبر کو ہونے والے اسمبلی انتخاب سے پہلے کانگریس لیڈر راہل گاندھی پارٹی کی تشہیر کے لیے پیر کو دو روزہ دورے پر آئیزول پہنچے۔ وہاں پہنچنے کے فوراً بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ نے ریاست کی راجدھانی چانماری علاقہ سے راج بھون تک پد یاترا میں حصہ لیا، اور پھر اس کے بعد جلسہ عام سے خطاب کیا۔

راہل گاندھی نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے منی پور کے واقعات کا تذکرہ کیا اور پی ایم مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ’’کچھ ماہ پہلے میں منی پور گیا تھا۔ منی پور کے نظریات کو بی جے پی نے تباہ کر دیا ہے۔ اب یہ ایک ریاست نہیں بلکہ دو ریاست ہے۔ لوگوں کا قتل کر دیا گیا ہے، خواتین سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے، لیکن وزیر اعظم کو وہاں سفر کرنا ضروری نہیں لگتا۔

بہرحال، منگل کے روز راہل گاندھی پہلے آئیزول کلب میں ریاست کے پارٹی لیڈران کے ساتھ میٹنگ کریں گے اور پھر لنگلوئی جانے سے پہلے میڈیا کو خطاب کریں گے۔ کانگریس نے حال ہی میں دو مقامی پارٹیوں پیپلز کانفرنس (پی سی) اور زورم نیشنلسٹ پارٹی (زیڈ این پی) کے ساتھ میزورم سیکولر الائنس (ایم ایس اے) کی تشکیل کی ہے۔

ریاستی کانگریس صدر لالساوتا نے کہا کہ ایم ایس اے کی تشکیل بی جے پی کے خلاف متحد ہو کر لڑنے کے لیے کیا گیا ہے۔ ایم ایس اے کے عزائم میں کہا گیا ہے کہ ’’یہ الزام ہے کہ جب سے بھگوا پارٹی اور اس کے ساتھی 2014 میں مرکز میں اقتدار میں آئے ہیں تب سے اقلیتی طبقات، خصوصاً قبائلیوں کو تباہ کرنے اور کئی قوانین کے ذریعہ ہندو ریاست قائم کرنے کی ٹھوس کوششیں کی گئی ہیں۔ جس پر ایم ایس اے خاموش تماشائی نہیں رہنا چاہتا۔‘‘

میزورم اسمبلی انتخاب: کانگریس نے امیدواروں کی فہرست جاری کی، دیکھیں تفصیل

0
میزورم-اسمبلی-انتخاب:-کانگریس-نے-امیدواروں-کی-فہرست-جاری-کی،-دیکھیں-تفصیل

کانگریس نے میزورم میں ہونے والے اسمبلی انتخاب کے پیش نظر پیر کے روز 40 اسمبلی حلقوں میں سے 39 حلقوں کے لیے امیدواروں کی فہرست جاری کر دی۔ کانگریس نے آئیزول مشرق-1 انتخابی حلقہ سے لال سانگلورا رالتے کو میدان میں اتارا ہے جہاں سے فی الحال میزو نیشنل فرنٹ (ایم این ایف) کے صدر اور وزیر اعلیٰ جورم تھانگا رکن اسمبلی ہیں۔ امیدواروں کی یہ فہرست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب انتخابی تشہیر کے لیے کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی میزورم پہنچے ہوئے ہیں۔

کانگریس کے ذریعہ میزورم اسمبلی انتخاب کے لیے جاری امیدواروں کی فہرست میں پارٹی کی ریاستی یونٹ کے صدر للساوتا کا نام بھی شامل ہے۔ پارٹی کی طرف سے جاری امیدواروں کی فہرست کے مطابق للساوتا کو آئیزول مغرب-3 اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ دیا گیا ہے۔ آئیزول مشرق-1 سے لال سنگلورا راتلے، آئیزول مغرب-1 سے آر للبیاکتھانگا اور پلاک سے آئی پی جونیئر کو امیدوار بنایا گیا ہے۔ امیدواروں کی مکمل فہرست آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ میزورم کی سبھی 40 اسمبلی سیٹوں کے لیے 7 نومبر کو ووٹنگ ہونے والی ہے اور 3 دسمبر کو نتائج برآمد ہوں گے۔ میزورم اسمبلی کی مدت کار 17 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے۔ شمال مشرق کی اس ریاست میں میزو نیشنل فرنٹ فی الحال برسراقتدار ہے۔ اگر گزشتہ اسمبلی انتخاب کی بات کریں تو اس میں میزو نیشنل فرنٹ نے 26 سیٹیں جیتی تھیں۔ جورام پیپلز موومنٹ کو 8 اور کانگریس کو 5 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔

دہلی ہائی کورٹ سے راحت نہیں ملی تو سپریم کورٹ پہنچے نیوز کلک کے بانی پربیر پرکایستھ

0
دہلی-ہائی-کورٹ-سے-راحت-نہیں-ملی-تو-سپریم-کورٹ-پہنچے-نیوز-کلک-کے-بانی-پربیر-پرکایستھ

نیوز پورٹل ’نیوز کلک‘ کے بانی پربیر پرکایستھ اور اسی ادارہ سے منسلک امت چکرورتی اس وقت پولیس کی گرفت میں ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے گزشتہ دنوں انھیں ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اب اس معاملے پر دونوں نے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔ سینئر وکیل کپل سبل نے پربیر اور امت کی گرفتاری معاملے کو سپریم کورٹ میں رکھتے ہوئے کہا کہ 73 سالہ صحافی (پربیر) کو بغیر نوٹس کے گرفتار کیا گیا ہے اور ہائی کورٹ نے بھی راحت نہیں دی۔ کپل سبل نے گرفتاری کو جائز بتانے والے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج پیش کرتے ہوئے معاملے کی سپریم کورٹ میں جلد سماعت کی گزارش کی ہے۔ کپل سبل کی بات پر چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے معاملے پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو یو اے پی اے کے تحت پربیر اور امت کی گرفتاری اور اس کے بعد پولیس حراست میں بھیجے جانے کے معاملے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ پولیس کی کارروائی کو چیلنج کرنے والی عرضی کو خارج کرتے ہوئے جسٹس تشار راؤ گیڈیلا نے کہا تھا کہ ’’عدالت کو دونوں عرضیاں سماعت کے لیے اہل نہیں لگیں۔‘‘

واضح رہے کہ پربیر پرکایستھ اور امت چکرورتی کو دہلی پولیس کی خصوصی سیل نے 3 اکتوبر کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد ان دونوں نے گرفتاری اور 7 دن کی پولیس حراست کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی اور راحت کے طور پر فوری رِہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ذیلی عدالت نے 10 اکتوبر کو انھیں 10 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیج دیا۔

سرکاری منصوبوں کی تشہیر کے لیے فوج کے استعمال کی کوشش خطرناک: جئے رام رمیش

0
سرکاری-منصوبوں-کی-تشہیر-کے-لیے-فوج-کے-استعمال-کی-کوشش-خطرناک:-جئے-رام-رمیش

کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت پر اپنے سیاسی فائدے کے لیے فوج کا استعمال کیے جانے کو لے کر زوردار حملہ کیا ہے۔ کانگریس لیڈر جئے رام رمیش نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں حکومت کے ذریعہ سرکاری منصوبوں کی تشہیر کے لیے فوج کا استعمال کیے جانے کو گھٹیا کوشش ٹھہرایا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے ذریعہ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے اس معاملے میں فوری مداخلت کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں ایک میڈیا رپورٹ سامنے آئی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فوج ملک بھر میں سرکاری منصوبوں کی تشہیر میں مدد کرے گی۔ اسی پر کانگریس کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس لیڈر نے اپنے پوسٹ میں اس میڈیا رپورٹ کو بھی منسلک کیا ہے جس میں اس سے متعلق خبر شائع ہوئی ہے۔

کانگریس جنرل سکریٹری (مواصلات) جئے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ہندوستانی فوج پورے ملک کی فوج ہے اور ہمیں فخر ہے کہ ہماری بہادر فوج کبھی بھی ملک کی داخلی سیاست کا حصہ نہیں بنی۔ انھوں نے مودی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ساڑھے نو سال کی حکومت کے دوران مہنگائی، بے روزگاری اور سبھی محاذ پر ناکام رہنے کے بعد مودی حکومت اب فوج سے اپنی سیاسی تشہیر کرانے کا بے حد گھٹیا کوشش کر رہی ہے۔ فوج کی سیاست کاری کرنے کی یہ کوشش بے حد خطرناک قدم ہے۔‘‘

جئے رام رمیش نے اپنے پوسٹ کے آخر میں لکھا ہے کہ ’’ہندوستانی افواج کی اعلیٰ کمانڈر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو جی سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کر کے مودی حکومت کو اس غلط قدم کو فوراً واپس لینے کی ہدایت دیں۔‘‘

اپوزیشن یکم نومبر کے مباحثہ سے بھاگ رہی ہے: مان

0
اپوزیشن-یکم-نومبر-کے-مباحثہ-سے-بھاگ-رہی-ہے:-مان

پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت سنگھ مان نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیاں اب یکم نومبر کو یوم پنجاب کے موقع پر ریاست سے متعلق مسائل پر بحث کرنے کے ان کے چیلنج سے بھاگ رہی ہیں، کیونکہ انہیں خوف ہے کہ ان کے بے نقاب ہونے کا اندیشہ ہے۔

جاری ایک بیان میں مسٹر مان نے الزام لگایا کہ اپوزیشن پارٹیوں کے رہنما  ان لوگوں کے ساتھ ملی بھگت کر رہے ہیں جو ریاست کو برباد کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اب وہ یکم نومبر کی بحث میں آنے سے گریز کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان رہنماؤں کے ہاتھ اور آتما ریاست کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ پنجاب اور پنجابیوں کے ساتھ مبینہ طور پر غداری کی ہے جسے عوام کبھی معاف نہیں کریں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ بحث اس بات پر مرکوز ہوگی کہ پنجاب کو کس نے لوٹا اور کیسے اور ریاست سے جڑے ہر معاملے بشمول بھائی بھانجے، بھانجی، جانبداری، ٹول پلازے، نوجوان، زراعت، تجارت، دکاندار، گربانی کی نشریات اور دریا کا پانی ہر معاملے میں بحث ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ان لیڈروں نے ان تمام ایشوز پر پنجاب کے ساتھ غداری کی ہے جس کے لیے انہیں عوام کے سامنے جوابدہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنما آئیں یا نہ آئیں بحث کے لیے ان رہنماؤں کی کرسیاں وہیں رہیں گی۔

مسٹر مان نے الزام لگایا کہ پچھلی حکومتوں کے دوران یہ لیڈر زبردستی لوگوں کے کاروبار میں حصہ لیتے تھے۔ یہ لیڈران اندھی لوٹ مار کے مرتکب ہوئے ہیں اور اب سچ کے سامنے آنے سے خوفزدہ ہیں اور بحث سے بچنے کے لیے ایک کے بعد ایک بہانے بنا رہے ہیں۔