پیر, مارچ 23, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 53

’گنگا جل‘ پر جی ایس ٹی معاملے میں کانگریس نے مودی حکومت کی کھولی قلعی

0
’گنگا-جل‘-پر-جی-ایس-ٹی-معاملے-میں-کانگریس-نے-مودی-حکومت-کی-کھولی-قلعی

مرکز کی مودی حکومت کے ذریعہ ’گنگا جل‘ پر جی ایس ٹی لگائے جانے کے معاملے میں آج کانگریس نے کچھ ایسی باتیں میڈیا کے سامنے رکھیں جس نے حکومت کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ مودی حکومت نے گنگا جل پر جی ایس ٹی لگایا، اور جب کانگریس نے اس معاملے میں مخالفت والا رویہ اختیار کیا تو دباؤ میں جی ایس ٹی لگانے کا فیصلہ حکومت نے واپس لے لیا۔ اپنے دعویٰ کے حق میں کانگریس لیڈر نے کچھ ثبوت بھی پیش کیے۔

سپریا شرینیت نے آج پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’جب کانگریس کو پتہ چلا کہ ماں گنگا کو بھی نہیں بخشا جا رہا ہے اور گنگا جل پر جی ایس ٹی لگایا جا رہا ہے تو پارٹی نے اس کی سخت مخالفت کی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ حکومت کو مجبور ہو کر اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’بی جے پی ترجمان، ٹرول آرمی اور ان کے فرضی نیوز آپریٹرز نے کہا کہ گنگا جل پر کوئی جی ایس ٹی نہیں ہے کیونکہ گنگا کا پانی پوجا کے سامان کے زمرے میں آتا ہے۔ لیکن یہ پروپیگنڈہ جھوٹ پر مبنی تھا۔ میڈیا اس جھوٹ کو سامنے رکھ کر ہی خبریں چلاتا رہا۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ گنگا جل پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگایا گیا تھا۔‘‘

کانگریس ترجمان کا کہنا ہے کہ گنگا جل پر جی ایس ٹی لگانے کے پیچھنے مرکزی حکومت کا مقصد بذریعہ ڈاک گنگا کے پانی کو صارفین تک بھیج کر پوسٹ آفس کی آمدنی میں اضافہ کرنا تھا۔ پہلے 250 ملی لیٹر کی بوتل 30 روپے میں ملتی تھی، لیکن 18 فیصد جی ایس ٹی کے بعد اس کی قیمت 35 روپے ہو گئی۔ انڈیا پوسٹ نے 18 اگست کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ اطلاع دی بھی تھی۔ اس پوسٹ میں صاف لکھا گیا تھا کہ 30 روپے کی بوتل پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگے گا۔ حالانکہ حکومت کہتی رہی ہے کہ گنگا جل پوجا کے سامان کے زمرے میں آتا ہے، اس لیے اس پر کوئی جی ایس ٹی نہیں ہوگا، جو بالکل غلط تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سپریا شرینیت نے آج پریس کانفرنس میں پوجا میں استعمال کیے جانے والے سامان لے کر پہنچی تھیں۔ ان سامانوں کو دکھاتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ جی ایس ٹی کا محکمہ سی بی آئی سی کے تحت آتا ہے اور سی بی آئی سی کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ رودراکش مالا، رولی، وبھوتی، یگیوپویت، کلاوا، بغیر برانڈ والا شہد، لکڑی کا کھڑاؤں، چرنامرت، چندن تلک اور دیے کے باتی پر کوئی جی ایس ٹی نہیں ہے… باقی سب پر جی ایس ٹی ہے۔ ان ناموں میں گنگا جل شامل نہیں ہے۔ کانگریس لیڈر نے بتایا کہ ہندو مذہب میں حاملہ ہونے سے لے کر موت تک 16 رسومات ہیں اور سبھی میں گنگا کے پانی کا استعمال لازمی ہے۔ اس پر جی ایس ٹی لیا جانا قطعی مناسب نہیں تھا، اور جب ہم نے دستاویزات کے ساتھ اس کا پردہ فاش کیا تو انہوں (مرکزی حکومت) نے ٹیکس ہٹا دیا۔

تمل ناڈو: شیوکاشی واقع 2 پٹاخہ فیکٹریوں میں دھماکہ، 6 خواتین سمیت 113 افراد کی موت، کئی دیگر زخمی

0
تمل-ناڈو:-شیوکاشی-واقع-2-پٹاخہ-فیکٹریوں-میں-دھماکہ،-6-خواتین-سمیت-113-افراد-کی-موت،-کئی-دیگر-زخمی

تمل ناڈو واقع وِرُدھونگر ضلع کے شیوکاشی میں منگل کے روز 2 الگ الگ پٹاخہ فیکٹریوں میں دھماکہ ہونے سے تقریباً 13 لوگوں کی موت ہو گئی۔ اس حادثہ میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنھیں مقامی اسپتالوں میں علاج کے لیے داخل کرایا گیا ہے۔ پولیس نے اس حادثہ کے تعلق سے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ مہلوکین میں 6 خواتین شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت کو لے کر جانچ کا عمل جاری ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایک ہفتہ پہلے شیوکاشی میں ہی ایک پٹاخہ یونٹ میں دھماکہ سے 7 لوگوں کی جان چلی گئی تھی۔ وِردھو نگر ضلع میں گزشتہ 15 دنوں میں پٹاخہ بنانے والی جگہ پر دھماکہ کے 5 الگ الگ واقعات میں 30 لوگوں کی جان جا چکی ہے۔ شیوکاشی کو ہندوستان میں پٹاخہ کی راجدھانی کی شکل میں جانا جاتا ہے جہاں پٹاخہ فیکٹریوں کا سالانہ کاروبار تقریباً 6000 کروڑ روپے ہے۔ لیکن لگاتار ہو رہے حادثات نے لوگوں میں فکر پیدا کر دی ہے۔

’انتخاب کے لیے فوج کا سیاسی استعمال کیا جا رہا‘، کھڑگے کا پی ایم مودی پر حملہ

0
’انتخاب-کے-لیے-فوج-کا-سیاسی-استعمال-کیا-جا-رہا‘،-کھڑگے-کا-پی-ایم-مودی-پر-حملہ

کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت پر انتخاب کے لیے سیاسی طور سے فوج کا استعمال کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے دعویٰ کیا کہ برسراقتدار پارتی نے فوجیوں کی مقبولیت کا فائدہ اٹھا کر فوج کے وقار کو ٹھیس پہنچایا ہے۔ انھوں نے ساتھ ہی کہا کہ نریندر مودی حکومت نے فوج سے ملک بھر میں سیلفی پوائنٹ لگانے کو کہا ہے جہاں فوجیوں کی بہادری کی جگہ حکومت کے منصوبوں کی تشہیر کی جائے گی۔

کانگریس صدر کا کہنا ہے کہ ملک کی حفاظت کرنے والی ہماری ہندوستانی فوج کے بہادر فوجیوں کی مقبولیت کا فائدہ اٹھا کر پی ایم مودی اپنی تشہیر کر رہے ہیں۔ انتخابات کے لیے فوج کا سیاسی استعمال کر کے مودی حکومت نے کچھ ایسا کیا ہے جو گزشتہ 75 سالوں میں کبھی نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ مودی حکومت نے سرکاری منصوبوں کی تشہیر کے لیے فوج سے ملک بھر میں 822 سیلفی پوائنٹ قائم کرنے کو کہا ہے۔ کانگریس صدر کا الزام ہے کہ سیلفی پوائنٹ پر فوجیوں کی بہادری کی کہانی سنائے جانے کی جگہ وزیر اعظم مودی کی تصویریں لگی ہوئی ہیں اور ان کے منصوبوں کی تعریف کی جا رہی ہے۔ ملکارجن کھڑگے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہماری پارٹی کو ہندوستانی فوج کی بہادری اور قربانی پر بہت فخر ہے، لیکن نیشنلزم کا سبق پڑھانے والی بی جے پی نے ہندوستانی فوج کے وقار کو ٹھیس پہنچایا ہے۔

آر بی آئی نے 2 بڑے بینکوں کے خلاف کی سخت کارروائی، 15 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد!

0
آر-بی-آئی-نے-2-بڑے-بینکوں-کے-خلاف-کی-سخت-کارروائی،-15-کروڑ-روپے-کا-جرمانہ-عائد!

ہندوستان کے دو سب سے بڑے پرائیویٹ بینک آئی سی آئی سی آئی اور کوٹک مہندرا کے خلاف آر بی آئی نے سخت کارروائی کی ہے۔ ان دونوں بینکوں پر مجموعی طور پر 15 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ بینکنگ سے جڑے کچھ اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آر بی آئی نے آئی سی آئی سی آئی بینک پر 12.19 کروڑ روپے کا اور کوٹک مہندرا بینک پر 3.95 کروڑ روپے کا جرمانہ لگایا ہے۔ بینکوں پر یہ جرمانہ الگ الگ اصولوں کی خلاف ورزی کے سبب لگایا گیا ہے۔ آئی سی آئی سی آئی بینک پر جرمانہ جہاں بینکنگ ریگولیشن ایکٹ کی دفعہ 20(1) پر ٹھیک سے عمل نہیں کرنے کو لے کر لگایا گیا ہے، وہیں کوٹک مہندرا پر یہ جرمانہ ریزرو بینک کی کئی گائیڈلائنس کی خلاف ورزی کو لے کر لگایا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ کوٹک مہندرا بینک نے آر بی آئی کی ریکوری ایلنٹ، بینک کے اندر کسٹمر سروس، فنانشیل سروسز کی آؤٹ سورسنگ میں جوکھم مینجمنٹ و ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ اور قرض دینے سے جڑے گائیڈلائنس پر ٹھیک طرح سے عمل نہیں کیا۔ اس لیے اس پر سنٹرل بینک نے جرمانہ عائد کیا ہے۔ بینک ان سبھی گائیڈلائنس کو لے کر سالانہ تجزیہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق کسٹمر کے سکون کے ایک بہت بڑے ایشو کی طرف بینک کی توجہ گئی ہے۔ وہ یہ کہ کوٹک مہندرا بینک یہ یقینی کرنے میں ناکام رہا ہے کہ قرض کی ریکوری کرنے والے ایجنٹ صارفین کو صبح 7 بجے سے شام 7 بجے کی حد سے باہر کال نہیں کریں۔

دوسری طرف سنٹرل بینک آر بی آئی نے آئی سی آئی سی آئی بینک پر فراڈ کا کلاسفکیشن کرنے اور اس کی جانکاری دینے میں کوتاہی برتنے کو لے کر جرمانہ عائد کیا ہے۔ آر بی آئی کا کہنا ہے کہ بینکنگ ریگولیشن ایکٹ کے تحت اسے اس طرح کی کارروائی کرنے کی طاقت ملی ہوئی ہے، جس کا استعمال کرتے ہوئے اس نے یہ کارروائی کی ہے۔ آئی سی آئی سی آئی بینک نے ایسی کمپنیوں کو قرض دیا ہے جس کے ڈائریکٹرس میں دو ایسے لوگ شامل ہیں جو بینک کے بورڈ میں بھی شامل ہیں۔ یہ کمپنیاں نان فنانشیل پروڈکٹ سیکٹر میں کام کرتی ہیں۔

آبکاری گھوٹالہ: منیش سسودیا کو راحت کا انتظار، سپریم کورٹ نے ضمانت عرضی پر فیصلہ رکھا محفوظ

0
آبکاری-گھوٹالہ:-منیش-سسودیا-کو-راحت-کا-انتظار،-سپریم-کورٹ-نے-ضمانت-عرضی-پر-فیصلہ-رکھا-محفوظ

دہلی کے مبینہ شراب پالیسی گھوٹالہ یعنی آبکاری گھوٹالہ اور منی لانڈرنگ معاملے میں گرفتار دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور عآپ لیڈر منیش سسودیا کو آج بھی راحت نہیں ملی۔ وہ سپریم کورٹ سے راحت کا انتظار کر رہے ہیں لیکن عدالت نے منگل کے روز ان کی ضمانت عرضی پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔

سپریم کورٹ کے ججوں جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس ایس وی این بھٹی کی بنچ نے منیش سسودیا کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل ابھشیک منو سنگھوی اور سی بی آئی و ای ڈی کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو کی دلیلیں سنیں۔ سبھی فریقین کی دلیلیں سننے کے بعد بنچ نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔

اس سے قبل پیر کے روز عدالت عظمیٰ نے سی بی آئی اور ای ڈی سے کہا تھا کہ وہ دہلی آبکاری پالیسی معاملوں میں منیش سسودیا کو ہمیشہ کے لیے جیل میں نہیں رکھ سکتے اور اے ایس جی سے سوال کیا تھا کہ ذیلی عدالت میں سسودیا کے خلاف الزام پر بحث کب شروع ہوگا؟ بنچ نے راجو سے کہا کہ ’’کسی معاملے میں ایک بار فرد جرم داخل ہو جانے کے بعد بحث فوراً شروع ہونی چاہیے۔‘‘ اے ایس جی نے دعویٰ کیا کہ منی لانڈرنگ معاملے میں اور موبائل فون کو تباہ کر ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا جرم دکھانے کے لیے ای ڈی کے پاس موافق ثبوت ہیں۔ اس لیے ضمانت نہ دی جائے۔

واضح رہے کہ دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کو فروری میں سی بی آئی نے گرفتار کیا تھا اور تب سے وہ حراست میں ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ مئی اور جولائی میں الگ الگ ضمانت عرضیوں میں ضمانت دینے سے انکار کے بعد عآپ لیڈر نے عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

اراکین اسمبلی کی نااہلیت معاملے میں مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کو سپریم کورٹ نے دیا آخری موقع!

0
اراکین-اسمبلی-کی-نااہلیت-معاملے-میں-مہاراشٹر-اسمبلی-اسپیکر-کو-سپریم-کورٹ-نے-دیا-آخری-موقع!

مہاراشٹر میں اراکین اسمبلی کی نااہلیت سے متعلق تنازعہ حل کرنے کی جانب کسی طرح کی پیش رفت نہ ہونے سے سپریم کورٹ ناراض ہے۔ اراکین اسمبلی کی نااہلیت سے متعلق عدالت میں داخل عرضیوں پر فیصلے کے لیے مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کے ذریعہ طے کردہ وقت سے عدالت عظمیٰ نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے ان سے جلد از جلد اس معاملے مٰں فیصلہ لینے کے لیے کہا ہے۔

اس درمیان سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت سے کہا کہ وہ دسہرا کی چھٹیوں کے دوران ذاتی طور پر مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر سے اس معاملے میں بات چیت کریں گے۔ پھر بھی سپریم کورٹ نے مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کو شیوسینا اراکین اسمبلی کے خلاف نااہلیت کی عرضیوں پر سماعت کے لیے حقیقی مدت کار بتانے کا آخری وقت دیا۔ عدالت نے ساتھ ہی مذکورہ عرضیوں پر سماعت کے لیے 30 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

اس سے قبل جمعہ کے روز سپریم کورٹ نے شیوسینا کے ادھو ٹھاکرے گروپ اور این سی پی کے شرد پوار گروپ کی عرضیوں پر سماعت کی تھی۔ عدالت نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے کہا تھا کہ کسی کو مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کو مشورہ دینا ہوگا کہ وہ عدالت کے احکامات کو نظر انداز نہ کریں۔ وہ اس طرح عدالتی حکم کو خارج نہیں کر سکتے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ گزشتہ بار ہم نے سوچا تھا کہ بہتر تال میل قائم ہوگا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ شیڈول کا نظریہ سماعت کو غیر یقینی مدت تک زیر التوا میں ڈالنا نہیں ہونا چاہیے۔ اسپیکر کو اس چیز کا احساس ہونا چاہیے کہ وہ معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ جون کے بعد سے اس معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جو مناسب نہیں۔ انھیں کوئی دِکھاوا نہیں کرنا چاہے بلکہ سماعت ہونی چاہیے۔

’بی جے پی چاہتی ہے ہر فیصلہ دہلی میں ہو لیکن ہم اس کے خلاف‘، میزورم میں راہل گاندھی کا بیان

0
’بی-جے-پی-چاہتی-ہے-ہر-فیصلہ-دہلی-میں-ہو-لیکن-ہم-اس-کے-خلاف‘،-میزورم-میں-راہل-گاندھی-کا-بیان

کانگریس رکن پارلیمنٹ اس وقت میزورم میں ہیں۔ وہ مختلف تقاریب اور پریس کانفرنس میں بی جے پی کے ساتھ ساتھ میزورم کی ریاستی پارٹیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں بیشتر بی جے پی لیڈروں کے بچوں کو نسل پرست ٹھہرایا۔ انھوں نے صحافیوں سے سوال کیا کہ ’’امت شاہ، راج ناتھ سنگھ جیسے تمام بی جے پی لیڈروں کے بچے کیا کر رہے ہیں؟ آخری بار سنا تھا کہ امت شاہ کا بیٹا ہندوستانی کرکٹ چلا رہا ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ میزورم کے لوگوں کو ایک واضح پیغام دینا چاہتے ہیں۔ وہ صاف لفظوں میں بتانا چاہتے ہیں کہ کانگریس پارٹی کے پاس ایک پروگرام ہے، ایک ریکارڈ ہے۔ باقی دونوں پارٹیاں زیڈ پی ایم اور ایم این ایف تو بی جے پی اور آر ایس ایس کے ریاست میں داخل ہونے کا ایک ذریعہ ہیں۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’جب ہم ثقافت، مذہب پر حملے کی بات کرتے ہیں تو اس حملے کے ذرائع بی جے پی-آر ایس ایس اور وہ پارٹیاں ہیں جو انھیں ریاست میں داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔‘‘

راہل گاندھی نے مرکز کی مودی حکومت کے خلاف متحد ہوئی اپوزیشن پارٹیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا اتحاد ملک کے 60 فیصد حصے کی نمائندگی کر رہا ہے۔ اتحاد اپنے اقدار، آئینی ڈھانچے اور آزادی کی حفاظت کر کے ہندوستانی نظریات کی دفاع کرے گا۔ انھوں نے اپنے بیان میں آر ایس ایس اور بی جے پی کو مقامی تہذیب و نظریات کی بنیاد کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا۔

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ہم ’ڈی سنٹرلائزیشن‘ میں یقین کرتے ہیں، جبکہ بی جے پی کا ماننا ہے کہ سبھی فیصلے دہلی میں ہونے چاہئیں۔ دوسری طرف آر ایس ایس کا ماننا ہے کہ ہندوستان پر ایک نظریہ اور تنظیم کی حکومت ہونی چاہیے۔ اس کی ہم شدید مخالفت کرتے ہیں۔

مشن گگن یان: ’2040 تک چاند پر پہلا ہندوستانی بھیجنے کا ہدف‘، پی ایم مودی کا بیان

0
مشن-گگن-یان:-’2040-تک-چاند-پر-پہلا-ہندوستانی-بھیجنے-کا-ہدف‘،-پی-ایم-مودی-کا-بیان

ہندوستان خلائی شعبہ میں نئی اونچائیاں چھو رہا ہے اور نئی تاریخیں بھی رقم کر رہا ہے۔ چندریان-3 کی کامیابی کے بعد اب ہندوستانی سائنسدانوں نے اپنی پوری توجہ ’مشن سورج‘ (آدتیہ ایل-1) اور ’مشن گگن یان‘ کی طرف مرکوز کر دی ہے۔ ’مشن گگن یان‘ کو لے کر آج ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ بھی ہوئی جس میں پی ایم مودی بھی موجود تھے۔ انھوں نے ’مشن گگن یان‘ کی تیاریوں کا جائزہ لیا اور اس دوران سائنسدانوں سے کہا کہ ہندوستان کو 2040 تک چاند پر ایک انسان بھیجنے اور 2035 تک ایک خلائی اسٹیشن نصب کرنے کا ہدف رکھنا چاہیے۔ سائنسدانوں سے پی ایم مودی نے نئے اہداف کے تحت ’وینس آربیٹر مشن‘ اور ’منگل لینڈر‘ پر کام کرنے کے لیے بھی کہا۔

وزیر اعظم دفتر (پی ایم او) نے آج جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ ’مشن گگن یان‘ پر پی ایم مودی کی صدارت میں اعلیٰ سطحی میٹنگ کا انعقاد ہوا۔ اس دوران خلائی محکمہ نے مشن کا ایک وسیع پریزنٹیشن پیش کیا جس میں اب تک تیار مختلف ٹیکنالوجیز، مثلاً ہیومن-ریٹیڈ لانچ وہیکل اور سسٹم اہلیت شامل ہیں۔ پی ایم او کے مطابق ہیومن ریٹیڈ لانچ وہیکل (ایچ ایل وی ایم 3) کے تین انکروڈ مشنز سمیت تقریباً 20 اہم ٹیسٹنگ کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ میٹنگ میں مشن کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور 2025 تک اس کے لانچ کرنے کی تصدیق کی گئی۔

اس میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ہدایت دی کہ ہندوستان کو اب نئے دیرینہ اہداف پر کام کرنا چاہیے، جس میں 2035 تک ہندوستانی خلائی اسٹیشن نصب کرنا اور 2040 تک چاند پر انسان کو بھیجنا شامل ہے۔ ہندوستان کی خلائی تحقیقی کوششوں کے مستقبل پر ایک میٹنگ کے دوران پی ایم مودی نے ہندوستانی سائنسدانوں سے ’بین سیارہ مشن‘ کی سمت میں کام کرنے کی اپیل کی، جس میں ایک ’وینس آربیٹر مشن‘ اور ایک ’منگل لینڈر‘ شامل ہوگا۔

سسرال میں تشدد کا شکار بنی بیٹی کو بینڈ اور آتش بازی کے ساتھ واپس لایا باپ

0
سسرال-میں-تشدد-کا-شکار-بنی-بیٹی-کو-بینڈ-اور-آتش-بازی-کے-ساتھ-واپس-لایا-باپ

رانچی: رانچی میں ایک بارات کافی موضوع بحث ہے۔ اس بارات کے ذریعے بیٹی کی مائیکے سے الوداعی نہیں ہوئی بلکہ اسے سسرال کے تشدد سے نجات دلانے کے لیے نکالا گیا۔ باپ نے اپنی شادی شدہ بیٹی کو واپس لانے کے لیے آلات موسیقی اور آتش بازی کے ساتھ جلوس نکالا، جس کا اس کے سسرال والے استحصال کر رہے تھے۔

والد نے سوموار کو اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر 15 اکتوبر کو نکالی جانے والی اس بارات کی ویڈیو پوسٹ کی اور لکھا کہ ’’لوگ اپنی بیٹیوں کی شادی بڑے ارمانوں اور دھوم دھام سے کرتے ہیں لیکن اگر شریک حیات اور سسرال والے غلط نکلے یا غلط کام کریں تو آپ اپنی بیٹی کو عزت و احترام کے ساتھ اپنے گھر واپس لائیں کیونکہ بیٹیاں بہت قیمتی ہوتی ہیں۔‘‘

اس بہادر باپ کا نام پریم گپتا ہے جو رانچی کے کیلاش نگر کمہارٹولی کے رہنے والے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 28 اپریل 2022 کو بڑی دھوم دھام سے انہوں نے اپنی بیٹی ساکشی گپتا کی شادی سچن کمار نامی نوجوان سے کی تھی۔ وہ جھارکھنڈ الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن کارپوریشن میں اسسٹنٹ انجینئر کے طور پر کام کر رہا ہے اور سرویشوری نگر، رانچی کا رہنے والا ہے۔

ان کا الزام ہے کہ کچھ دنوں بعد بیٹی کو سسرال والوں نے ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ کبھی کبھار اس کا شوہر اسے گھر سے نکال دیتا تھا۔ تقریباً ایک سال بعد ساکشی کو معلوم ہوا کہ جس شخص کے ساتھ اس کی شادی ہوئی ہے وہ پہلے ہی دو شادیاں کر چکا ہے۔ اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔

ساکشی کا کہنا ہے کہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی میں نے ہمت نہیں ہاری اور کسی طرح رشتہ بچانے کی کوشش کی۔ لیکن، جب اسے لگا کہ استحصال اور ہراسانی کی وجہ سے اس کے ساتھ رہنا مشکل ہے، تو اس نے رشتہ کی قید سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔

والد اور مائیکے والوں نے ساکشی کے فیصلے کو منظور کیا اور باقاعدہ بینڈ اور آتش بازی کے ساتھ اس کے سسرال سے بارات نکالی اور اسے واپس لایا گیا۔

پریم گپتا کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ قدم اس خوشی میں اٹھایا کہ ان کی بیٹی کو استحصال سے نجات مل گئی ہے۔ ساکشی نے طلاق کے لیے عدالت میں کیس دائر کیا ہے۔ لڑکے نے ناق نفقہ دینے کی بات کہی ہے۔ توقع ہے کہ جلد ہی طلاق کو قانونی طور پر منظور کر لیا جائے گا۔

منی لانڈرنگ کیس: جموں میں 8 مقامات پر ای ڈی کے چھاپے

0
منی-لانڈرنگ-کیس:-جموں-میں-8-مقامات-پر-ای-ڈی-کے-چھاپے

جموں: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منگل کی صبح جموں میں سابق وزیر لال سنگھ کی اہلیہ اور سابق سرکاری آفیسر کے ذریعے چلائے جا رہے ایجوکیشن ٹرسٹ کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں آٹھ مقامات پر چھاپے مارے۔

ذرائع نے بتایا کہ ایجوکیشن ٹرسیٹ کے قیام کی خاطر زمین کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ سامنے آنے کے بعد ای ڈی نے تحقیقات شروع کی ہے۔اطلاعات کے مطابق ای ڈی نے منگل کی صبح جموں ، کٹھوعہ ، پٹھان کورٹ میں آر بی ایجوکیشن ٹرسٹ کی جانب سے مبینہ بے ضابطگیوں کے بعد چھاپے مارے۔

ذرائع نے بتایا کہ آر بی ایجوکیشن ٹرسٹ کی چیرپرسن سابق وزیر لال سنگھ کی اہلیہ کانتا اندوترا ہے ۔منی لانڈرنگ کا یہ کیس اکتوبر 2021 میں درج کیا گیا اور سی بی آئی نے اس ضمن میں چار ج شیٹ بھی عدالت مجاز میں پیش کی ہے۔سی بی آئی چارج شیٹ کے مطابق ایجوکیشن ٹرسٹ کو پانچ جنوری اور سات جنوری 2011 میں 329 کنال اراضی غیر قانونی طورپر فراہم کی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ ای ڈی کی تحقیقات کے دوران منکشف ہوا کہ ایجوکشن ٹرسٹ کو جو 329 کنال اراضی فراہم کی گئی اس کو تجارتی مقاصد کی خاطر استعمال میں لایا گیا جبکہ اس اراضی پر دہلی پبلک سکول بھی چل رہا ہے جو قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

ذرائع کے مطابق منگل کی صبح ای ڈی نے چیئرپرسن اور اس ایجوکیشن ٹرسٹ سے منسلک دوسرے عہدیداروں کے ساتھ ساتھ اس وقت کے محکمہ مال کے آفیسران کے گھروں کو بھی کھنگالا۔ آخری اطلاعات موصول ہونے تک چھاپہ ماری کا سلسلہ جاری تھا۔ اس سلسلے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔