پیر, مارچ 23, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 52

فضائی آلودگ: پرانی گاڑی والوں پر عائد ہوگا بھاری جرمانہ، نوئیڈا پولیس نے شروع کی مہم

0
فضائی-آلودگ:-پرانی-گاڑی-والوں-پر-عائد-ہوگا-بھاری-جرمانہ،-نوئیڈا-پولیس-نے-شروع-کی-مہم

نوئیڈا: نوئیڈا پولیس 17 اکتوبر سے 15 روزہ مہم کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت جی آر اے پی (گریڈڈ ریسپانس ایکشن پلان) کے اصولوں پر عمل نہ کرنے والوں پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

پولیس کمشنر لکشمی سنگھ کے حکم کے بعد اب ہر جگہ ٹریفک پولیس کے ساتھ عام پولیس بھی اس مہم میں شامل ہو جائے گی۔ جس میں 10 سال سے پرانی ڈیزل گاڑیوں اور 15 سال سے پرانی پٹرول گاڑیوں کا چالان کاٹا جائے گا۔ اس کے علاوہ جن گاڑیوں کا آلودگی کا سرٹیفکیٹ مکمل نہیں ہے ان کو بھی بھاری جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

این سی آر میں نظر ثانی شدہ گریڈڈ رسپانس ایکشن پلان (جی آر اے پی) کی ہدایات پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ نوئیڈا پولیس کمشنریٹ میں 15 روزہ مہم چلائی جا رہی ہے جو 17 اکتوبر سے شروع ہوگئی۔ گاڑیوں کی چیکنگ کے ساتھ ساتھ پرالی جلانے اور دیگر فضائی آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

جی آر اے پی کے اصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس، ٹریفک فرسٹ اور سیکنڈ کی نگرانی میں ٹریفک انسپکٹر کی سربراہی میں چھ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ کمشنریٹ گوتم بدھ نگر میں زون کی سطح پر بھی قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

کرناٹک: کانگریس حکومت کو گرانے کی بی جے پی کی کوششوں سے واقف ہیں، ڈی کے شیوکمار

0
کرناٹک:-کانگریس-حکومت-کو-گرانے-کی-بی-جے-پی-کی-کوششوں-سے-واقف-ہیں،-ڈی-کے-شیوکمار

بنگلورو: کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بدھ کے روز کہا کہ وہ بی جے پی کی طرف سے ریاست میں کانگریس حکومت کو گرانے کی کوششوں سے واقف ہیں۔

ریاستی حکومت کو ہٹانے کی بی جے پی کی کوششوں پر سوال کا جواب دیتے ہوئے شیوکمار نے کہا، ’’میں سب کچھ جانتا ہوں۔ وہ ارکان اسمبلی میرے اور وزیر اعلیٰ سدارمیا کے پاس واپس آ رہے ہیں، اس بارے میں معلومات دے رہے ہیں کہ کس نے ان سے رابطہ کیا اور انہوں نے ان سے کہاں ملاقاتیں کیں۔‘‘

شیو کمار نے مزید کہا کہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ بی جے پی نے انہیں کیا پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے اس بارے میں معلومات ملی ہیں۔ میں اپنے ارکان سے کہوں گا کہ وہ اسمبلی کے فلور پر بتائیں کہ ان سے کس نے رابطہ کیا اور انہیں کیا پیشکش ملی۔‘‘

دونوں پارٹیوں کے ذریعہ ان پر لگائے گئے حملوں اور الزامات کا جواب دیتے ہوئے شیوکمار نے کہا، ’’بی جے پی اور جے ڈی (ایس) مشکل میں ہیں۔ انہیں ڈاکٹروں کے ذریعہ سرجری کی ضرورت ہے۔‘‘

جب سابق وزیر اعلی اور کانگریس ایم ایل سی جگدیش شیٹر اور بی جے پی کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر رمیش جارکی ہولی کی میٹنگ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ سب کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ جگدیش شیٹر نے اپنی طاقت ثابت کر دی تھی۔ انہوں نے کہا ’’میں اس کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا۔‘‘

اقتدار میں آئے تو اڈانی کے خلاف جانچ کرائیں گے: راہل گاندھی

0
اقتدار-میں-آئے-تو-اڈانی-کے-خلاف-جانچ-کرائیں-گے:-راہل-گاندھی

کانگریس  کے سابق صدر راہل گاندھی نے ایک مرتبہ پھر اڈانی معاملے پر وزیر اعظم پر حملہ کیا اور انہوں نے کہا کہ اڈانی کو صرف ایک شخص بچا رہا ہے۔ انہوں نےلندن کے  فائننشل ٹائمس میں چھپے  کوئلہ گھوٹالے کے تعلق سے انکشافات پر صحافیوں سے خطاب کیا ۔

راہل گاندھی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو اڈانی کے تمام معاملوں کی جانچ کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ  بجلی اور غریبوں سے جڑا ہوا  ہے لیکن ہندوستانی ذرائع ابلاغ کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی دیتی۔انہوں نے کہا کہ جو کچھ لندن کے فائننشل ٹائمس میں شائع ہوا ہے  وہ  کسی بھی حکومت کو گرانے کے لئے کافی ہے لیکن اس میں بھی کسی ہندوستانی ذرائع ابلاغ کی کوئی دلچسپی نظر  نہیں آتی۔

راہل گاندھی نے کہا کہ سیبی نے حکومت سے کہا کہ ان کو دستاویزات نہیں مل رہے لیکن فاننشل ٹائمس کو تمام دستاویزات مل جاتے ہیں جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس شخص کو کسی کی حفاظت ملی ہوئی ہے۔  انہوں نے کہا کہ ہندوستانی نو جوانوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ یہ معاملہ سیدھا عوام سے جڑا ہوا ہےیعنی عوام جیسے ہی بجلی کے استعمال کے لئے سویچ دباتے ہیں فورا اڈانی کی جیب میں پیسہ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف  یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہندوستانی حکومت اڈانی کی کوئی جانچ  کیوں نہیں کرا سکتی اور وہ ان سے  کوئی سوال کیوں نہیں پوچھ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں  نے صرف وہ ہی سوال اٹھائے ہیں  جو فاننشل ٹائمس میں شائع ہوئےہیں۔

کشمیر میں برف و باراں کے بعد موسم میں بتدریج بہتری درج

0
کشمیر-میں-برف-و-باراں-کے-بعد-موسم-میں-بتدریج-بہتری-درج

محکمہ موسمیات نے وادی کشمیر میں برف باراں کے بعد موسم میں بتدریج بہتری واقع ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وادی میں 21 اکتوبر تک موسم خشک رہنے کا امکان ہے اور اس دوران دن کے درجہ حرارت میں اضافہ درج ہونے کی بھی توقع ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بعد ازاں وادی میں 22 اور 23 اکتوبر کو ایک بار پھر موسم بگڑ سکتا ہے جس کے نتیجے میں پہاڑی علاقوں میں کہیں کہیں برف باری یا بارشوں کا امکان ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وادی میں 24 سے 28 اکتوبر تک موسم ابر آلود مگر خشک رہنے کا امکان ہے۔

موصوف ترجمان نے کہا کہ وادی میں اگلے دس دنوں کے دوران وسیع پیمانے پر موسم خراب ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ان دنوں کے دوران موسم فصل کٹائی و دیگر آئوٹ ڈور سرگرمیوں کے لئے موزوں ہے۔ادھر وادی کے میدانی علاقوں میں بدھ کی صبح دھند چھائی ہوئی تھی جو دن گذرنے کے ساتھ ساتھ اوجھل ہوتی گئی۔

وادی میں برف و باراں نے موسم سرما جیسے حالات پیدا کر دئے ہیں جس نے لوگوں کو گرم ملبوسات زیب تن کرنے اور روایتی کانگڑیوں کا استعمال کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق سیاحتی مقام گلمرگ، سادھنا ٹاپ، پیر کی گلی، سمتن پاس، گریز، تلیل، سونہ مرگ، زوجیلا پاس اور دیگر پہاڑی علاقوں میں تازہ برف باری ہوئی ہے۔

ایلون مسک کا نیا فرمان! ٹویٹر ’ایکس‘صارفین کو سالانہ 1 ڈالر ادا کرنا ہوں گا

0
ایلون-مسک-کا-نیا-فرمان!-ٹویٹر-’ایکس‘صارفین-کو-سالانہ-1-ڈالر-ادا-کرنا-ہوں-گا

اب ’ایکس‘ یعنی ٹویٹر صارفین کو اس کے استعمال کے لیے ہر سال 1 ڈالر کی سبسکرپشن رقم ادا کرنا ہوگی۔ ایلون مسک کے اس نئے حکم نامے کے بعد ایکس کے لیے سالانہ ادائیگی نہ کرنے والے صارفین اسے استعمال نہیں کر سکیں گے۔ ایلون مسک نے اس سب کے پیچھے دلیل دی ہے کہ ایسا کرنے سے’ایکس‘ پر موجود جعلی اور خودکار بوٹ اکاؤنٹ کو بلاک کر دے گا۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایلون مسک نے ایکس پر ناٹ اے بوٹ فیچر کی جانچ شروع کردی ہے۔ اس کی جانچ فی الحال نیوزی لینڈ اور فلپائن میں شروع کی گئی ہے۔ جہاں نئے ’ایکس‘ صارفین سالانہ فیس ادا کیے بغیر ’ایکس‘استعمال نہیں کر سکتے۔ اس فیس کے بغیر آپ ’ایکس‘ پر پوسٹ، لائک، تبصرہ اور بک مارک نہیں کر سکیں گے۔

بلاگ پوسٹ کے مطابق، "یہ ’ایکس‘ پر بوٹس اور اسپامز سے لڑنے میں ہماری مدد کرنے کے لیے ممکنہ طور پر طاقتور اقدام کا اندازہ کرے گا، جبکہ پلیٹ فارم تک رسائی کو کم فیس کی رقم کے ساتھ متوازن کرتے ہوئے”۔ "اس ٹیسٹ کے اندر، موجودہ صارفین متاثر نہیں ہوتے ہیں۔”

جب سےایلون مسک نےٹویٹر  حاصل کیا ہے وہ اس کے لئے آمدنی کے نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، حصول کے بعد سے، ایلون مسک کو ایکس کے لیے ہر سال تقریباً 1.2 بلین کا سود ادا کرنا پڑتا ہے۔

ایسی صورت حال میں آمدنی کے نئے ذرائع تلاش کرنے کے لیے ایکس پر پریمیم سروسز شروع کی گئیں، جس کے لیے صارفین کو ماہانہ 7.99 ڈالر ادا کرنے پڑتے ہیں۔ ایسے میں ایکس پر ناٹ اے بوٹ فیچر کے نفاذ کے بعد ریونیو بڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

میرا بورونکر معاملے سے میراکوئی تعلق نہیں، میں ہرقسم کی انکوائری کے لیے تیار ہوں:اجیت پوار

0
میرا-بورونکر-معاملے-سے-میراکوئی-تعلق-نہیں،-میں-ہرقسم-کی-انکوائری-کے-لیے-تیار-ہوں:اجیت-پوار

سابق آئی پی ایس افسرمیرابورونکرکی کتاب میں عائد کیے گیے الزام پر نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار نے کہا ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں نے تفتیش کا مطالبہ کیا ہے، کسی بھی قسم کی تفتیش کیجیے، میں ہرتفتیش کے لیے تیار ہوں۔کچھ لوگ کتابیں لکھتے ہوئے کچھ سنسنی خیزباتیں لکھتے ہیں تاکہ انہیں الگ قسم کی شہرت حاصل ہو، یہ معاملہ بھی ایسا ہی کچھ ہوسکتا ہے۔ اجیت پوار یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کررہے تھے۔

اجیت پوار نے کہا کہ اس معاملے میں کہیں بھی میرے دستخط نہیں ہیں، میں اس میٹنگ میں بھی موجود نہیں تھا۔اس معاملے سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ کتاب میں جوباتیں درج ہیں وہ مصنفہ نے زبانی بھی بتایا ہے، جبکہ اس کتاب میں اور بھی بہت سی باتیں ہیں اس کے باوجود صرف ایک ہی معاملے کو اچھالا جارہا ہے، یہ میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرآرآبا کو میں نے کبھی بھی زمین کے متعلق کوئی بات نہیں کی۔ پونے میں ترقیاتی کاموں کے لیے سرکاری زمینیں دی گئیں ہیں، زمین فراہم کرتے ہوئے شفافیت ہونی چاہئے کیونکہ وہ بالآخر عوام کی زمین اور عوام کا ہی پیسہ ہے اورہمیں بھی عوام ہی اپنی نمائندگی کے لیے منتخب کرتی ہے۔تفتیش کا مطالبہ کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے اجیت پوار نے کہا کہ آپ کس کی تفتیش کی بات کررہے ہیں؟ وہ زمین جہاں تھی وہیں ہے۔ وہ محکمہ داخلہ کی زمین ہے اور اسی نے نوٹس جاری کی تھی۔

نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار نے کہا کہ سبھی جانتے ہیں کہ میرے کام پر تنقید بھی ہوتی ہے تو میں تنقید کا جواب دیے بغیر ہی آگے بڑھ جاتا ہوں لیکن گزشتہ تین روز سے میڈیا میں میرے بارے میں خبریں آرہی ہیں۔ میرا اس خبر سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔میں اپنا کام ایمانداری سے کرتے ہوئے آیا ہوں۔

1999سے2004کے درمیان میں پونے کا نگراں وزیرنہیں تھا لیکن جن جن حکومتوں میں میں نے کام کیا، انہوں نے پونے کی ذمہ داری مجھ ہی کوسونپی۔ یہ معاملہ اس وقت کا ہے جب میں حکومت میں بھی نہیں تھا۔ مجھے جس ضلع کی بھی ذمہ داری سونپی گئی اس ضلع کے ترقیاتی کاموں کو میں نے فوقیت دی اور نہایت ایمانداری سے کام کیا۔لیکن اب ایک سبکدوش آئی پی ایس افسر نے کتاب لکھی کہ تواتر سے خبریں آنے لگیں کہ اجیت پوار مشکل میں، اجیت پوار کی تفتیش کی جائے اور استعفیٰ تک مانگا جانے لگا ہے۔ جبکہ میں یہ بات ایک بار پھر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے جس کی بنیاد پر ہنگامہ برپا کیا جارہا ہے۔

اجیت پوار نے کہا کہ اس معاملے میں اس وقت کے ڈویژنل کمشنر دلیپ بنڈ نے تفصیلی وضاحت کی ہے۔ جب میں نے کاغذات کی جانچ کی تو معلوم ہوا کہ یہ معاملہ 2008کا ہے۔ اس معاملے میں شامل بہت سے لوگ آج اس دنیا میں نہیں ہیں۔ 19 فروری 2008 کو ریاستی محکمہ داخلہ نے ایک جی آر جاری کیا جس میں پونے شہر میں بڑھتی ہوئی صنعت کاری کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ پولیس کی اراضی کے استعمال کے سلسلے میں ایک تجویز تیار کرنے اور متعلقہ افراد کی ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ تھا۔

حکومت کے زیر غور کمیٹی کو محکمہ پولیس کے احاطے کا معائنہ کرنے اور پولیس آفس اور رہائش کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو تجویز پیش کرنے کی منظوری دی گئی۔ چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں چیئرمین ڈویژنل کمشنر پونے، ممبر کلکٹر، پولیس کمشنر، پونے میونسپل کمشنر، ایڈیشنل پولیس کمشنر ایڈمنسٹریشن، محکمہ تعمیرات عامہ کے چیف انجینئرشامل تھے۔اس وقت فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ کمیٹی تین ماہ میں اپنی تجویز حکومت کو پیش کرے۔ اس کمیٹی نے کیا فیصلہ کیا؟ اس سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی اس کمیٹی نے آٹھ ماہ بعد اپنی تجویز حکومت کو پیش کی۔ کمیٹی کی میٹنگ اس وقت کے وزیر داخلہ کے دفتر میں ہوئی۔ اجیت دادا پوار نے اس موقع پر یہ بھی معلومات دی کہ اس میٹنگ میں کون کون موجود تھے۔

نٹھاری معاملے میں سی بی آئی کی ساکھ پر سوال، وہ جرائم سے جڑے ثبوت اکٹھا نہیں کر سکی

0
نٹھاری-معاملے-میں-سی-بی-آئی-کی-ساکھ-پر-سوال،-وہ-جرائم-سے-جڑے-ثبوت-اکٹھا-نہیں-کر-سکی

الہ آباد ہائی کورٹ نے نٹھاری کیس کے ملزمان منیندر سنگھ پنڈھر اور سریندر کولی کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد دونوں ملزمان پھانسی سے بہت دور چلے گئے ہیں۔ 308 صفحات کے حکم میں ہائی کورٹ نے مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی پر بھی سخت ریمارکس کیے۔

نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق جسٹس اشونی کمار مشرا اور جسٹس ایس اے ایچ رضوی کی بنچ نے سی بی آئی کی تحقیقات کو عوام کے ساتھ دھوکہ قرار دیا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ تفتیشی ایجنسی نے غیر ذمہ دارانہ طریقے سے شواہد اکٹھے کیے اور جان بوجھ کر ایک بندے کو پھنسانے کے لیے آسان راستہ منتخب کیا۔

ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں مزید کہا کہ سی بی آئی کی جانب سے انتہائی ناقص تفتیش بھی تشویشناک ہے کیونکہ نٹھاری کیس بچوں کے قتل سے متعلق تھا۔ تاہم یہ پہلا معاملہ نہیں ہے جب سی بی آئی ملزم کے خلاف ثبوت اکٹھا کرنے میں ناکام رہی ہو۔

واضح رہے ہائی کورٹ میں سی بی آئی کے ناکام ہونے کی  4 بڑی وجوہات ہیں ۔پہلی وجہ یہ کہ سی بی آئی نے کنکالوں کی بازیابی میں قانونی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا۔ اس معاملے کو اعضاء کی تجارت کی جانچ کیے بغیرانسانی گوشت کھانے سے جوڑا گیا تھا۔ دوسرا یہ کہ سی بی آئی نے کولی کے اعتراف کو بنیاد کے طور پر قبول کیا۔ بیان کی سی ڈی ٹرانسکرپٹ پر مجسٹریٹ کے دستخط نہیں تھے۔ تیسری بات یہ کہ کولی کو گرفتار کرنے کے بعد اسے 60 دن کے ریمانڈ میں رکھا گیا، لیکن ایجنسی اس کا کوئی منطقی جواب نہیں دے سکی اور چوتھی و اہم بات یہ کہ  گھر میں کلہاڑی ملی۔ سی بی آئی یہ ثابت نہیں کر سکی کہ اسے قتل کے لیےہی  استعمال کیا گیا تھا۔

نٹھاریا سکینڈل پہلی بار دسمبر 2006 میں سامنے آیا تھا۔ دراصل نٹھاری کی رمپا ہلدر کے اہل خانہ نے الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ بتایا گیا تھا کہ نٹھاری کا بچہ D-5 بنگلے کے قریب سے لاپتہ ہو گیا تھا، لیکن پولیس اس پر پردہ ڈال رہی ہے۔کال گرل پائل کے والد نے بھی مقدمہ درج کرایا۔ پولس بھی انتہائی سستی کے ساتھ تفتیش کر رہی تھی۔ پائل کے والد نے بتایا کہ ان کی بیٹی D-5 بنگلے میں آنے کے بعد لاپتہ ہوگئی۔

کیس میں نیا موڑ اس وقت آیا جب پنڈھیر کے گھر کے پیچھے نالے میں آٹھ بچوں کے کنکال ملے۔ اس کے بعد پولیس نے مقامی لوگوں کی مدد سے D-5 بنگلے کے ارد گرد کھدائی شروع کی، جس میں مزید کئی انسانی کنکال ملنے کا دعویٰ کیا گیا۔ پولیس نے فوری طور پر اس معاملے میں D-5 بنگلے کے مالک منیندر پنڈھیر اور اس کے نوکر سریندر کولی کو گرفتار کر لیا۔

اس واقعہ سے ناراض لوگوں نے سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا۔ یہ کیس جنوری 2007 میں سی بی آئی کو سونپ دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں لاپرواہی کی وجہ سے نوئیڈا کے اس وقت کے ایس ایس پی دنیش یادو سمیت کئی سینئر پولیس افسران کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔

کیس کے سی بی آئی میں جانے کے بعد ہر روز نئے انکشافات ہونے لگے۔ ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ کولی نے 17 قتل کا اعتراف کیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق سریندر کولی قتل کے بعد لاش کو کاٹ کر کھاتا تھا۔2017 میں، غازی آباد کی خصوصی عدالت نے اس معاملے میں سریندر کولی اور پنڈھیر کو موت کی سزا سنائی، جس کے بعد یہ مقدمہ ہائی کورٹ میں چلا گیا۔

گوپال رائے نے فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے بھوپیندر یادو کو خط لکھا

0
گوپال-رائے-نے-فضائی-آلودگی-سے-نمٹنے-کے-لیے-بھوپیندر-یادو-کو-خط-لکھا

دہلی کے وزیر ماحولیات گوپال رائے نے منگل کو مرکزی وزیر ماحولیات بھوپیندر یادو کو ایک خط لکھ کر فضائی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے این سی آر ریاستوں کے وزرائے ماحولیات کے ساتھ جلد سے جلد ایک مشترکہ میٹنگ کرنے کی اپیل کی ہے۔

مسٹر گوپال رائے نے سردیوں کے موسم میں دہلی میں فضائی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے جلد از جلد این سی آر ریاستوں کے ماحولیات کے وزراء کے ساتھ مشترکہ میٹنگ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے خط میں کہا ہے کہ دہلی کی آلودگی میں 31 فیصد حصہ دہلی کے اندر کے ذرائع کا ہے جبکہ 69 فیصد این سی آر ریاستوں کے ذرائع کا ہے۔

گوپال رائے نے تحریر کیا کہ  سردیوں کے موسم میں دہلی کے اندر فضائی آلودگی کی صورتحال سنگین ہو جاتی ہے۔ دہلی حکومت آلودگی کو کم کرنے کے لیے بہت سے اقدامات کر رہی ہے، لیکن جب تک این سی آر ریاستوں میں دہلی میں آلودگی کے عوامل کو روکا نہیں جاتا، ہماری طرف سے اٹھائے گئے تمام اقدامات کارگر ثابت نہیں ہوں گے۔ اس لیے این سی آر ریاستوں کے ماحولیات کے وزراء کے ساتھ فوری طور پر مشترکہ میٹنگ بلانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہلی میں سردی کے موسم میں آلودگی کا مسئلہ کافی بڑھ جاتا ہے۔ تمام عوامل کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس بار دہلی حکومت نے 15 فوکس پوائنٹس پر مبنی ایکشن پلان بنایا ہے جس پر حکومت کام کر رہی ہے۔

وزیر ماحولیات نے کہا کہ دہلی حکومت کے تمام اقدامات کے نتیجے میں دہلی کے اندر آلودگی کی سطح میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ دہلی حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں پچھلے آٹھ سالوں میں آلودگی کی سطح میں 30 فیصد کمی آئی ہے، لیکن جب تک این سی آر ریاستوں میں آلودگی کے عوامل کو پوری طرح سے روکا نہیں جاتا، دہلی حکومت کے یہ تمام اقدامات مؤثر نہیں ہو گا۔

کیا مہوا موئترا کی مشکلات بڑھیں گی؟ اسپیکر نے نشی کانت کی شکایت اخلاقیات کمیٹی کو بھیج دی

0
کیا-مہوا-موئترا-کی-مشکلات-بڑھیں-گی؟-اسپیکر-نے-نشی-کانت-کی-شکایت-اخلاقیات-کمیٹی-کو-بھیج-دی

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کی ترنمول کانگریس لوک سبھا رکن مہوا موئترا کے خلاف سوال پوچھنے کے بدلے رشوت لینے کی شکایت ایوان زیریں کی اخلاقیات کمیٹی کو بھیج دی ہے۔نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ پر شائع خبر کے مطابق یہ اطلاع  ذرائع نےدی ہے۔

بی جے پی ایم پی نے 15 اکتوبر کو لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو ایک خط لکھا تھا، جس میں موئترا پر پارلیمنٹ میں سوال پوچھنے کے لیے ایک صنعتکار سے رشوت لینے کا الزام لگایا تھا۔ مہوا نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور برلا پر زور دیا کہ وہ الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دیں۔ لوک سبھا کی اخلاقیات کمیٹی کے چیئرمین بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ونود کمار سونکر ہیں۔

نشی کانت دوبے نے برلا کو لکھے ایک خط میں ممبر پارلیمنٹ (لوک سبھا) مہوا موئترا پر استحقاق کی خلاف ورزی، ایوان کی توہین اور تعزیرات ہند کی دفعہ اے۔ 120 کے تحت ایک جرم میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔

دوبے نے ایک وکیل کی طرف سے موصول ہونے والے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وکیل نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) لیڈر اور ایک تاجر کے درمیان رشوت کے لین دین کے ثبوت شیئر کیے ہیں۔ بی جے پی ایم پی نے الزام لگایا ہے کہ لوک سبھا میں ان (موئترا) کی طرف سے پوچھے گئے 61 سوالات میں سے 50 اڈانی گروپ پر مرکوز تھے ۔ اڈانی گروپ ان پر لگائے گئے الزامات کی مذمت کرتا رہا ہے۔

دوبے کا براہ راست نام لیے بغیر، موئترا نے ان پر جوابی حملہ کرنے کے لیے X پر کئی پیغامات پوسٹ کیے اور اڈانی گروپ پر تازہ حملہ کیا۔ انہوں نے کہا تھا، "فرضی ڈگری والے اور بی جے پی کے دیگر لیڈروں کے خلاف مراعات کی خلاف ورزی کے کئی مقدمات زیر التوا ہیں۔ لوک سبھا اسپیکر کے ذریعہ ان کے نمٹانے کے بعد میرے خلاف کسی بھی تحریک کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

مہوا موئترا نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کے خلاف ہتک عزتی کا کیا کیس

0
مہوا-موئترا-نے-بی-جے-پی-رکن-پارلیمنٹ-نشی-کانت-دوبے-کے-خلاف-ہتک-عزتی-کا-کیا-کیس

ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے، وکیل جئے اننت دیہادرائی اور کئی میڈیا اداروں کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں ہتک عزتی کا مقدمہ داخل کیا ہے۔ موئترا نے ان پر جھوٹے اور ہتک آمیز الزامات عائد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ موئترا نے دوبے، دیہادرائی اور کئی میڈیا آؤٹ لیٹس کو قانونی نوٹس جاری کرنے کے بعد ہتک عزتی کا مقدمہ داخل کیا ہے، جس میں کسی بھی غلط کام سے انکار کیا گیا ہے۔

اس سے قبل بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے لوک سبھا اسپیکر کے پاس شکایت درج کرائی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ موئترا نے پارلیمنٹ میں سوال اٹھانے کے بدلے میں رشوت لی تھی۔ دوبے کے مطابق یہ الزام دیہادرائی کے ذریعہ انھیں لکھے ایک خط سے پیدا ہوا ہے۔ مہوا موئترا نے مبینہ طور پر دیہادرائی کے خلاف 24 مارچ اور 23 ستمبر کو دو پولیس شکایت درج کرائی تھی اور بعد میں سمجھوتہ بات چیت کے سبب انھیں واپس لے لیا تھا۔

مہوا موئترا نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ مدعا علیہ نمبر 2 (دیہادرائی) مدعی کا قریبی دوست تھا اور حال ہی میں اس دوستی کے خاتمہ نے جلد ہی ایک خراب موڑ لے لیا۔ مدعا علیہ نمبر 2 نے مدعی کو گندے، دھمکی آمیز، فحش پیغامات بھیجنے کا سہارا لیا اور مدعی کی سرکاری رہائش میں بھی تجاوزات کیا اور مدعی کی کچھ ذاتی ملکیت چھین لی۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ مدعا علیہ نمبر 2 آگے بڑھا اور مدعی کے خلاف مضر کہانیاں چلانے کے لیے قابل اعتماد صحافی سے رابطہ کر کے مدعی کے وقار کو مندمل کرنے اور بدنام کرنے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ ایسے کسی بھی صحافی نے ان کے تعصب اور بدلے کے منصوبوں میں حصہ لینے کے لیے اتفاق کا اظہار نہیں کیا۔ عدالت میں موئترا کے ذریعہ کیے گئے ہتک عزتی کا مقدمہ جمعہ کو سماعت کے لیے فہرست بند کیا گیا ہے۔ ان کے قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ دوبے نے فوری سیاسی فائدہ کے لیے لوک سبھا اسپیکر کو بھیجے گئے خط میں انتہائی جھوٹے اور قابل اعتراض الزامات کو دہرایا ہے۔

عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دوبے اور دیہادرائی دونوں اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لیے موئترا کے وقار کو مندمل کرنے کے لیے سیدھے طور پر ذمہ دار ہیں۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ موئترا نے ایک رکن پارلیمنٹ کی شکل میں اپنی ذمہ داریوں سے متعلق کسی بھی طرح کا محنتانہ یا تحفہ کبھی قبول نہیں کیا ہے، جس میں پارلیمنٹ میں ان کے ذریعہ اٹھائے گئے سوال بھی شامل ہیں۔