پیر, مارچ 23, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 51

’ڈریم 11‘ پر 1.5 کروڑ روپے جیتنے والا پولیس اہلکار معطل، ڈیوٹی کے دوران لاپروائی کا الزام

0
’ڈریم-11‘-پر-1.5-کروڑ-روپے-جیتنے-والا-پولیس-اہلکار-معطل،-ڈیوٹی-کے-دوران-لاپروائی-کا-الزام

ہندوستان میں کھیلے جا رہے کرکٹ عالمی کپ 2023 کو لے کر پوری دنیا میں خمار دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ہندوستان میں کرکٹ شیدائیوں کی ایک بڑی تعداد ہے، اس لیے کرکٹ کا خمار ہندوستانیوں میں کچھ زیادہ ہی ہے۔ مختلف آن لائن گیمنگ ایپ پر آن لائن سٹہ بازی بھی خوب ہو رہی ہے۔ مہاراشٹر میں پونے پولیس کے ایک سَب انسپکٹر سومناتھ جھینڈے بھی کرکٹ کے اس خمار میں ڈوبے دکھائی دے رہے ہیں، لیکن اس کا خمیازہ انھیں اپنی معطلی کی شکل میں بھگتنا پڑا ہے۔

دراصل سَب انسپکٹر سومناتھ جھینڈے نے انگلینڈ اور بنگلہ دیش میچ کے دوران ڈیڑھ کروڑ روپے جیت کر خوب سرخیاں بٹوری تھیں۔ لیکن یہ خوشی زیادہ دیر نہیں رہی، کیونکہ انھیں پولیس محکمہ کے ذریعہ معطل کر دیا گیا ہے۔ سَب انسپکٹر (پی ایس آئی) سومناتھ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ پمپری-چنچواڑ پولیس کمشنریٹ میں تعینات تھے۔ اس پولیس کمشنریٹ نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ سومناتھ کو معطل کر دیا گیا ہے۔

پونے کے پمپری-چنچواڑ پولیس کے سینئر افسر نے ایک میڈیا چینل کو بتایا کہ پی ایس آئی سومناتھ جھینڈے کی جانچ ڈی سی پی رینک کے افسر کو سونپی گئی تھی۔ اس میں انتظامی و قانونی پہلوؤں کی جانچ کی گئی۔ جانچ میں پایا گیا کہ سومناتھ جھینڈے نے ڈیوٹی پر لاپروائی کی، یعنی وہ ڈیوٹی کے دوران سٹہ بازی میں مصروف تھا۔

دراصل سومناتھ نے مہاراشٹر پولیس کے سول سروس کنڈکٹ رول کی خلاف ورزی کی ہے جس کے مطابق پولیس اہلکار کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ پولیس کی ملازمت کے علاوہ وہ ایسے کسی کام میں مصروف ہے جس سے اس کی اضافی آمدنی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ انعام جیتنے کے بعد خاکی وردی میں انٹرویو دے کر ’ڈریم 11‘ کی تشہیر کرنے اور سٹہ بازی کو فروغ دینے کا بھی ان پر الزام لگا ہے۔

آسام: وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے درگا پوجا کے پیش نظر 7000 پنڈالوں کو فنڈ دینے کا کیا اعلان

0
آسام:-وزیر-اعلیٰ-ہیمنت-بسوا-سرما-نے-درگا-پوجا-کے-پیش-نظر-7000-پنڈالوں-کو-فنڈ-دینے-کا-کیا-اعلان

اپنے متنازعہ بیانات اور فیصلوں کے لیے اکثر سرخیوں میں رہنے والے ہیمنت بسوا سرما نے درگا پوجا کے پیش نظر ایک بڑا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے درگا پوجا پنڈالوں کے لیے حکومت کا خزانہ کھول دیا ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پوری ریاست میں بنے تقریباً 7 ہزار پوجا پنڈالوں کو فنڈ دیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی صدارت میں منعقد کابینہ کی میٹنگ میں اس کا اعلان کیا گیا۔ اس تعلق سے ریاستی حکومت میں وزیر برائے سیاحت جینت مال بروا نے میڈیا کو جانکاری دی۔

کابینہ میں لیے گئے فیصلے کے مطابق آسام کے 6953 پوجا پنڈالوں کو حکومت کے ذریعہ 10-10 ہزار روپے کی امدادی رقم دی جائے گی۔ جینت مال بروا نے کہا کہ ’’ریاستی کابینہ نے یہ بھی فیصلہ لیا ہے کہ سبھی کابینہ وزیر 25 دسمبر سے 10 جنوری 2024 تک ایک خاص گاو۷ں میں 5 دن اور 5 رات قیام کریں گے۔ اس دوران ہائی اسکول اور ہائیر سیکنڈری اسکولوں کی 400 نئی عمارتوں کی بنیاد رکھی جائے گی۔ ان میں سے 100 چائے باغان علاقوں میں پوری طرح سے نئے اسکول ہوں گے۔ پرانے اسکولوں کی عمارتوں کی تجدید کے لیے ہر اسکول کو 7 کروڑ روپے الاٹ کیے جائیں گے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما مسلم طبقہ کے خلاف زہر افشانی کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ وہ اکثر مسلمانوں کے خلاف متنازعہ بیانات دیتےرہے ہیں۔ اب درگا پوجا پنڈالوں کے لیے فنڈ دینے کا فیصلہ ہندو طبقہ کو خوش کرنے کی کوشش تصور کیا جا رہا ہے۔

ٹائٹینک: نوادرات بچانے کا منصوبہ منسوخ

0
ٹائٹینک:-نوادرات-بچانے-کا-منصوبہ-منسوخ

ٹائٹینک جہاز کے ملبے سے نوادرات، فن پاروں و دیگر اشیاء کو بچانے کے حقوق کی مالک کمپنی نے مزید نمونے حاصل کرنے کے اپنے منصوبے کو منسوخ کر دیا ہے۔مغربی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر دستاویزات کے مطابق ایسا اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ اس مجوزہ مہم کےرہنما اب اس دنیا میں نہیں ہیں ، ان کی ٹائٹن آبدوز حادثہ میں موت ہو گئی تھی۔ اس فیصلے سے کمپنی اور امریکی حکومت کے درمیان عدالتی لڑائی پر اثر پڑ سکتا ہے، جو 2024 کے مشن کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امریکی اٹارنی کے مطابق کمپنی کے ٹائٹینک جہاز کے ہل (hull) میں داخل ہونے کے منصوبے اس وفاقی قانون کی خلاف ورزی کریں گے جس کے تحت ٹائٹینک کے ملبے کو ایک قبر کے طور پر دیکھا جاتاہے۔

فرانسیسی شہری پال-ہینری نارجیولٹ جارجیا میں قائم فرم’ آر ایم ایس ٹائٹینک ‘کے زیرِ آب تحقیق کے ڈائریکٹر تھے جو ٹائٹینک کے نوادرات اور اشیاء کی بازیابی اور نمائش کرتی ہے۔ اس سال جون میں نارجیولٹ اپنی مہارت ایک الگ کمپنی ’اوشین گیٹ ‘کو فراہم کر رہے تھے جب وہ اور چار دیگر افراد ٹائٹینک کے قریب ٹائٹن آبدوز حادثہ میں جاں بحق ہوگئے۔ واضح رہے کہ امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق اس نےگزشتہ ہفتہ ’ممکنہ انسانی باقیات‘ برآمد کر لی ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ٹائٹن آبدوز کا آخری ملبہ ہے۔ حکام نے بتایا کہ ملبہ کو امریکی بندرگاہ پر پہنچا دیا گیاہے، جہاں فہرست بنانےکے بعد اس ملبہ کاتجزیہ کیا جائے گا۔

ٹائٹن آبدوز کے اس المناک غوطہ سے پہلے، جارجیا کی اس کمپنی نے ٹائٹینک کے ملبے کی اندر اور باہر سے تصاویر لینے کا منصوبہ بنایاتھا۔ ملبے سے نوادرات کے ساتھ ساتھ کمپنی ڈوبے ہوئے سمندری لائنر سے دیگر اشیاء بھی بازیاب کرنا چاہتی تھی۔ اس مہم میں نارجیولٹ کو انچارج ہونا تھا۔ فرانسیسی بحریہ کے اس سابق افسر نے پہلے ہی 37 غوطے مکمل کرلیے تھے اور ٹائٹینک کے تقریباً 5000 نوادرات اور اشیاء کی بازیابی ان کی نگرانی میں ہوئی تھی۔ کمپنی کی نمائشوں میں چاندی کے برتنوں سے لے کر جہاز کے ہل کے ٹکڑے تک کی اشیاء دکھائی گئی ہیں۔

کمپنی کے 2024 مہم کے اصل منصوبے میں جہاز کے مشہور مارکونی کمرے سے ممکنہ طور پر اشیاء کو بازیاب کرنا بھی شامل تھا۔ یہیں سے ٹائٹینک کے ریڈیو نے جہاز کے برف کے تودے سے ٹکرانے کے بعد فوری مدد کے لیے ڈسٹریس سگنل نشر کیے تھے۔ مورس کوڈ میں پیغامات دوسرے جہازوں اور ریسیونگ اسٹیشنوں کو موصول ہوئے تھے، جس کی وجہ سے لائف بوٹس میں سوارتقریباً 700 لوگوں کی جانیں بچانے میں مدد ملی تھی۔ انگلینڈ کے شہر ساؤتھمپٹن سے نیویارک تک ٹائٹینک کے واحد سفر میں 2208 مسافر اور عملہ سوار تھا۔

کمپنی نے عدالت کو بتایا کہ اس کے منصوبوں میں اب صرف ملبے کی جگہ پر امیجنگ اور ’مستقبل میں نوادرات کی بازیابی‘ کو بہتر بنانے کے لیے سروے شامل ہیں۔عدالت میں دائر اپنی درخواست میں کمپنی نے لکھا، نارجیولٹ اور دیگر چار افراد جو اس مقام پر ہلاک ہوئےہیں، اور ان کے خاندانوں کے احترام میں، کمپنی نے فیصلہ کیا ہے کہ اس وقت نوادرات کی بازیابی مناسب نہیں ہوگی ۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ وہ اس وقت تک ٹائٹینک کے لیے ایک اور آبدوز نہیں بھیجے گی جب تک کہ ٹائٹن آبدوز سانحہ کی وجہ کے بارے میں مزید تفتیش نہیں ہو جاتی۔ واضح رہے کہ ٹائٹن کے پھٹنے کی تحقیقات امریکی کوسٹ گارڈ کے زیر قیادت ہو رہی ہے۔

دریں اثنا، ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ منصوبوں میں تبدیلی کس طرح امریکی حکومت کے ساتھ کمپنی کی قانونی لڑائی کو متاثر کر سکتی ہے۔ عدالت میں کمپنی کے رخ سے ایسا لگتا ہے کہ وہ اب جہاز کے ہل میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتی، جس کے بارے میں حکومت کاکہنا ہے کہ ایسا کرناقانون کو توڑ دے گا۔ اس موقع پر آر ایم ایس ٹائٹینک کی سی ای او جیسیکا سینڈرز نے ایک بیان میں کہا کہ عدالت میں کمپنی کا رخ اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ اوشین گیٹ سانحہ میں ہمارے پیارے ساتھی نارجیولٹ کی موت اور جاری تحقیقات کے سبب ہم نے اس وقت صرف بغیر پائلٹ کے امیجنگ اور سروے کے کام کرنے کے لیے اپنی پچھلی درخواست میں ترمیم کی ہے ۔ دوسری جانب اس ضمن میں امریکی حکومت کے وکلاء نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔عدالتی مقدمہ وفاقی قانون اور امریکہ اور برطانیہ کے درمیان ایک معاہدے پر منحصر ہے جس کے تحت ڈوبے ہوئے ٹائٹینک کو 1500 سے زیادہ لوگوں کی یادگار کے طور پر دیکھاجاتا ہے جو مر گئے تھے۔

ٹائٹینک ملبے کی دریافت کے صرف ایک سال بعد، امریکی کانگریس نے1986 میں ٹائٹینک میری ٹائم میموریل ایکٹ کو منظوری دی ۔ اس کا مقصد بین الاقوامی برادری ، تلاش کرنے والوں اور مہم جوئیوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا تاکہ جہاز کی تباہی کے حوالے سے مناسب تحقیق، تلاش اور اگر مناسب ہو تو بچاؤ کی سرگرمیاں ممکن ہو سکیں۔ اس ایکٹ پر صدر رونالڈ ریگن نے 21 اکتوبر 1986 کو دستخط کیے تھے۔

اگست میں، امریکی حکومت نے عدالت میں دلیل دی تھی کہ’ ٹائٹینک کے کٹے ہوئے ہل میں داخل ہونا یا اس کے ملبے کو تبدیل کرنا ‘ وفاقی قانون اور برطانیہ کے ساتھ اس کے معاہدے کے ذریعے منظم کیا جاتا ہے۔ حکومت کے خدشات میں ،نوادرات اور کسی بھی انسانی باقیات کی ممکنہ خرابی ہے، جو اب بھی جہاز کے ملبے میں موجود ہو سکتے ہیں۔

کمپنی نے عدالت میں حکومت کے دعووں کا براہ راست جواب نہیں دیا ہے۔ لیکن پچھلے معاملات میں، اس نے بین الاقوامی پانیوں میں ملبے کو بچانے کے اپنے حقوق کی ’خلاف ورزی‘ کرنے کی امریکی کوششوں کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا ہے۔ صدیوں سے قائم سمندری قانون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کمپنی نے دلیل دی ہے کہ یہ معاملہ صرف نورفولک عدالت کے دائرہ اختیار میں ہے ۔ اس سال کے شروع میں عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں کمپنی نے کہا تھا کہ اس کا مہم کے اصل منصوبوں کے بارے میں حکومت سے اجازت لینے کا ارادہ نہیں ہے۔ لیکن اب وہ منصوبے بدل گئے ہیں۔ کمپنی نے کہا ہے کہ وہ اس وقت نوادرات یا اشیابازیاب نہیں کرے گی، اور نہ ہی کوئی دوسری سرگرمی کرے گی جو ملبے کو تبدیل کرے ۔

چندرابابو نائیڈو کی اہلیہ نے تلگودیشم قائدین کے خلاف پولیس کارروائی کی مذمت کی

0
چندرابابو-نائیڈو-کی-اہلیہ-نے-تلگودیشم-قائدین-کے-خلاف-پولیس-کارروائی-کی-مذمت-کی

امراوتی: تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے صدر این چندرا بابو نائیڈو کی اہلیہ این بھونیشوری نے پولیس کی زیادتیوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے ذریعہ تلگودیشم قائدین اور کارکنوں کی گرفتاری تشویشناک ہے۔ انہوں نے سابق وزیر کولو رویندر کے خلاف کارروائی کرنے پر پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے سوال کیا کہ ’’ملک میں اور کہاں ایک سابق وزیر کو اپنی والدہ کی برسی میں شرکت سے روکا جاتا ہے؟ یہ کیسا قانون اور انصاف ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ چندرا بابو نائیڈو نظام کی ناکامی پر تشویش کا اظہار کیوں کرتے تھے۔

دریں اثنا، آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ کولو رویندرا کی تحویل سے متعلق تمام تفصیلات کے ساتھ حلف نامہ داخل کرے۔

ہائی کورٹ نے یہ ہدایت ان کی بیوی نیلیما کی طرف سے دائر کی گئی ہیبیس کارپس کی درخواست پر دی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کولو رویندر کو پولیس نے غیر قانونی طور پر چند گھنٹوں کے لیے حراست میں رکھا تھا۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ رویندر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اگرچہ پولیس نے انہیں نوٹس دینے کی کوشش کی لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

عدالت نے پولیس کو تمام معلومات پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ اگلی سماعت دسہرہ کی تعطیلات کے بعد ہوگی۔ خیال رہے کہ ٹی ڈی پی پولت بیورو کے رکن رویندرا کو پیر کے روز پولیس نے حراست میں لیا تھا تاکہ انہیں جیل میں بند چندرا بابو نائیڈو کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے راجمندری جانے سے روکا جا سکے۔

انہیں مبینہ طور پر دن بھر حراست میں رکھنے کے بعد شام کو رہا کر دیا گیا۔ منگل کو انہیں دوسرے دن بھی خانہ نظر بند رکھا گیا۔ پولیس نے رویندر کو اپنی ماں کی برسی کے پروگرام میں شرکت کی بھی اجازت نہیں دی۔

کرناٹک: ’بھکت بھگوا جھنڈا لگی دکانوں پر ہی جائیں‘، وی ایچ پی نے کی مسلم کاروباریوں کی مخالفت

0
کرناٹک:-’بھکت-بھگوا-جھنڈا-لگی-دکانوں-پر-ہی-جائیں‘،-وی-ایچ-پی-نے-کی-مسلم-کاروباریوں-کی-مخالفت

کرناٹک کے منگلور واقع منگلا دیوی مندر احاطہ میں ہندو اور مسلم کاروباریوں کو لے کر تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔ وی ایچ پی کارکنان نے مندر احاطہ میں موجود سبھی ہندو کاروباریوں کی دکانوں میں بھگوا جھنڈے لگا دیے ہیں اور انھوں نے بھکتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھگوا جھنڈا لگی دکانوں سے ہی سامان کی خریداری کریں۔

وی ایچ پی کے جنوبی کنڑ ضلع چیف ایچ کے پروشوتم کا اس سلسلے میں بیان سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ تہواروں کے موقع پر ضلع کے سبھی مندروں کو چاہیے کہ وہ صرف ہندو کاروباریوں کو ہی دکان لگانے کی اجازت دیں۔ انھوں نے کہا کہ ان دنوں تہواروں کا موسم چل رہا ہے، ایسے میں منگلا دیوی مندر کی انتظامیہ کمیٹی کا شکریہ جنھوں نے تہوار کے دوران ہندو کاروباریوں کو کاروبار کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ کے ذریعہ غیر ہندو افراد کو اسٹال لگانے کی اجازت دینی ہی نہیں چاہیے تھی۔ ساتھ ہی پرشوتم نے کہا کہ ’’مذہبی مقام پر ہمارا حق ہے جہاں دوسرے طبقہ کے لوگوں کے لیے رتھ بیڑھی پر کاروبار کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں۔‘‘

واضح رہے کہ مندر احاطہ میں ہندو اور مسلم کاروباریوں کو لے کر تنازعہ کئی دنوں سے چل رہا ہے۔ جمعہ کے روز جنوبی کنڑ اور اڈوپی ضلع تہوار کاروبار کوآرڈنیشن کمیٹی نے مسلم کاروباریوں کی حمایت میں مظاہرہ بھی کیا تھا۔ اس دوران تہوار کاروباری کوآرڈنیشن کمیٹی نے مسلم کاروباریوں کے لیے اسٹال کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں کچھ مسلم کاروباریوں کو اسٹال کے لیے جگہ کی نیلامی میں حصہ لینے کی اجازت ملی تھی۔

انتظامیہ کے اس فیصلے پر ایچ کے پرشوتم نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہندو مذہبی ادارے اور مذہبی بندوبست ایکٹ 1997 کے تحت غیر ہندوؤں کو رتھ بیڑی پر کاروبار کرنے کی اجازت دینے کا کوئی التزام نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ سبھی ہندو کاروباری صرف تہواروں کے دوران ہونے والے کاروبار پر ہی منحصر ہیں جو ان کی روزی روٹی کا اہم ذریعہ ہے۔ ایسے میں سبھی بھکتوں کو انہی دکانوں پر جانا چاہیے جن پر بھگوا جھنڈے لگے ہوئے ہیں۔

ڈی وائی ایف آئی نے وی ایچ پی کے اس قدم کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ڈی وائی ایف آئی کا کہنا ہے کہ وی ایچ پی غریب ہندو اور مسلم کاروباریوں کے درمیان شگاف پیدا کر رہی ہے۔ ڈی وائی ایف آئی ضلع چیف بی کے امتیاز نے ضلع انتظامیہ سے منگلا دیوی مندر کے ساتھ ہی دیگر مندروں میں سبھی کاروباریوں کی سیکورٹی یقینی بنانے کی گزارش کی۔

آر ایس ایس ‘ہتک عزتی’ کا معاملہ، راہل گاندھی نے بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا

0
آر-ایس-ایس-‘ہتک-عزتی’-کا-معاملہ،-راہل-گاندھی-نے-بامبے-ہائی-کورٹ-سے-رجوع-کیا

ممبئی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بامبے ہائی کورٹ میں درخواست کی ہے کہ بنگلورو میں مقیم صحافی گوری لنکیش کے قتل سے آر ایس ایس کو جوڑنے کے معاملہ میں ان کے خلاف دائر 2017 کے ہتک عزتی کے مقدمہ کو منسوخ کیا جائے۔ جسٹس سارنگ کوتوال کے سامنے آنے والے اس کیس کی سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

راہل نے اپنے وکیل کشال مور کے ذریعے بوریولی مجسٹریٹ کورٹ کے 2019 کے حکم کو چیلنج کیا ہے جس میں آر ایس ایس کے نظریاتی اور وکیل دھرتیمان جوشی کی طرف سے دائر نجی ہتک عزت کی شکایت کو خارج کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔

راہل گاندھی نے کہا ہے کہ انہیں سی پی آئی-ایم کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری کے ساتھ اس معاملے میں غلط طریقہ سے ملزم بنایا گیا ہے، جنہوں نے کرناٹک میں 5 ستمبر 2017 کو گوری لنکیش کے قتل کے بعد مبینہ طور پر ایک مختلف جگہ اور وقت پر علیحدہ بیان دیا تھا۔

اس نے دلیل دی ہے کہ جوشی کی شکایت سی آر پی سی کے سیکشن 218 کی خلاف ورزی کرتی ہے جو مختلف جرائم کے لیے الگ الگ چارجز کا تعین کرتی ہے اور مشترکہ ٹرائل کا تصور نامعلوم ہے، قانون کے تحت لازمی یا منظور شدہ نہیں ہے۔

گوری لنکیش کے قتل کے بعد جوشی نے راہل گاندھی کے خلاف 6 ستمبر 2017 کو شکایت درج کرائی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹی وی پر خبریں دیکھتے ہوئے انہوں نے کانگریس کے ایک لیڈر کو پارلیمنٹ کے باہر یہ بات کرتے ہوئے سنا کہ جو بھی بی جے پی آر ایس ایس کے نظریے کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اس پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، حملہ کیا جاتا ہے یا مار دیا جاتا ہے۔

اسی طرح جوشی نے دعویٰ کیا کہ یچوری نے مبینہ طور پر میڈیا سے بات کی تھی کہ صحافی گوری لنکیش کے قتل کے لیے آر ایس ایس ذمہ دار ہے۔ جوشی نے دلیل دی کہ یہ بیانات بغیر کسی ثبوت کے دیے گئے ہیں تاکہ عام لوگوں کی نظروں میں آر ایس ایس کی شبیہ کو داغدار کیا جا سکے۔

شکایت کے بعد بوریولی مجسٹریٹ کی عدالت نے راہل گاندھی اور سیتارام یچوری کو فروری 2019 میں سمن جاری کیا۔ دونوں جولائی 2019 میں عدالت میں پیش ہوئے اور ضمانت کی درخواست کی، لیکن بعد میں دونوں نے مختلف بنیادوں کا حوالہ دیتے ہوئے شکایت کو منسوخ کرنے کے لیے درخواستیں دائر کیں۔

نومبر 2019 میں بوریولی کے مجسٹریٹ نے گاندھی اور یچوری کی طرف سے دائر کی گئی دونوں درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا۔ راہل گاندھی اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ راہل نے عدالت سے نچلی عدالت کے حکم کو کالعدم قرار دینے، ان کے خلاف کارروائی کو منسوخ کرنے اور شکایت کو خارج کرنے کی درخواست کی ہے۔

دیوالی سے قبل مرکزی حکومت نے ملازمین کو دیا تحفہ، مہنگائی بھتہ 4 فیصد بڑھانے کا اعلان

0
دیوالی-سے-قبل-مرکزی-حکومت-نے-ملازمین-کو-دیا-تحفہ،-مہنگائی-بھتہ-4-فیصد-بڑھانے-کا-اعلان

مرکزی حکومت نے اپنے ملازمین کو دیوالی سے قبل ایک بڑا تحفہ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ کابینہ نے مرکزی حکومت کے ملازمین اور پنشن حاصل کرنے والوں کے لیے ڈی اے یعنی مہنگائی بھتہ میں 4 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گویا کہ جو مہنگائی بھتہ پہلے 42 فیصد ملتا تھا، اب یہ بڑھا کر 46 فیصد کر دیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت کے اس فیصلہ سے ملازمین کی ماہانہ آمدنی میں اضافہ ہوگا اور وہ بڑھتی مہنگائی سے نمٹنے میں کافی حد تک کامیاب ہو جائیں گے۔

مرکزی حکومت کے اس قدم سے وَرک فورس کے ایک بڑے حصے کے ساتھ ساتھ سبکدوش ملازمین کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ معاشی چیلنجز کے درمیان یہ ان کے لیے بڑی راحت بھری خبر ہے۔ ڈی اے میں اضافہ کے فیصد سے متعلق فی الحال حتمی جانکاری نہیں دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں جلد ہی کوئی اعلان کیا جائے گا تاکہ ملازمین کو زیادہ وضاحت مل سکے۔

مہنگائی بھتہ میں اضافہ کے فیصلے کو تہواروں سے ٹھیک پہلے حکومت کی طرف سے مرکزی حکومت کے ملازمین کو بڑا تحفہ تصور کیا جا رہا ہے۔ بدھ کے روز کابینہ نے اس کی منظوری دی ہے۔ اب ملازمین کو 46 فیصد کی شرح سے مہنگائی بھتہ ملے گا۔ اسے یکم جولائی 2023 سے نافذ کیا گیا ہے۔ اس کا فائدہ 48 لاکھ سے زیادہ مرکزی حکومت کے ملازمین اور تقریباً 65 لاکھ پنشن حاصل کرنے والوں کو ملے گا۔

موصولہ اطلاع کے مطابق مرکزی حکومت کے ملازمین اور پنشن یافتگان کو اب مہنگائی بھتہ کی نئی شرحوں کے مطابق ادائیگی کی جائے گی۔ اکتوبر کی تنخواہ کے ساتھ ہی نئی شرحوں کے حساب سے ہی تنخواہ کی ادائیگی ہوگی۔ اس میں جولائی، اگست، ستمبر کا ایریر بھی شامل ہوگا۔ سال کی دوسری سہ ماہی کے لیے مہنگائی بھتہ بڑھایا گیا ہے۔ 4 فیصد کے اضافہ کے ساتھ مہنگائی بھتہ 42 فیصد سے بڑھ کر 46 فیصد ہو گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے جلد ہی اس بارے میں رسمی اعلان کیا جائے گا۔

اعظم خان، تزئین فاطمہ اور عبداللہ اعظم فرضی برتھ سرٹیفکیٹ معاملہ میں مجرم قرار، سات سات سال قید کی سزا

0
اعظم-خان،-تزئین-فاطمہ-اور-عبداللہ-اعظم-فرضی-برتھ-سرٹیفکیٹ-معاملہ-میں-مجرم-قرار،-سات-سات-سال-قید-کی-سزا

رامپور: سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کو عدالت سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بیٹے عبداللہ اعظم کے جعلی برتھ سرٹیفکیٹ کیس میں عدالت نے اعظم خان، ان کی اہلیہ تزئین فاطمہ اور بیٹے عبداللہ اعظم کو مجرم قرار دیتے ہوئے تینوں کو 7-7 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلہ رامپور کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے دیا ہے۔

فرضی برتھ سرٹیفکیٹ کا یہ معاملہ 2017 کے یوپی اسمبلی انتخابات سے متعلق ہے۔ تب عبداللہ اعظم نے ایس پی کے ٹکٹ پر رامپور کی سوار اسمبلی سیٹ سے الیکشن لڑا تھا۔ وہ یہ الیکشن بھی جیت گئے۔ لیکن انتخابی نتائج کے بعد ان کے مخالف امیدوار نواب کاظم علی ہائی کورٹ پہنچ گئے تھے۔ کاظم نے الزام لگایا کہ عبداللہ اعظم نے انتخابی فارم میں عمر کے حوالہ سے غلط بیانی کی ہے۔

کاظم نے الزام لگایا تھا کہ عبداللہ ایم ایل اے الیکشن لڑنے کے لیے عمر کے معیار پر پورا نہیں اترتے ہیں۔ تعلیمی سرٹیفکیٹ میں عبداللہ کی تاریخ پیدائش یکم جنوری 1993 ہے جب کہ برتھ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر ان کی پیدائش 30 ستمبر 1990 بتائی گئی ہے۔ یہ معاملہ ہائی کورٹ میں پہنچنے کے بعد اس پر سماعت شروع ہوئی اور عبداللہ کی جانب سے پیش کردہ برتھ سرٹیفکیٹ جعلی پایا گیا۔ اس کے بعد سوار سیٹ سے ان کا انتخاب منسوخ کر دیا گیا۔

خیال رہے کہ عبداللہ پر پہلے برتھ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر پاسپورٹ حاصل کرنے اور غیر ملکی دورے کرنے اور دوسرے سرٹیفکیٹ کو سرکاری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ ان پر اسے جوہر یونیورسٹی کے لیے استعمال کرنے کا بھی الزام ہے۔ الزام کے مطابق عبداللہ اعظم کے پاس دو مختلف برتھ سرٹیفکیٹ ہیں۔ پہلا رام پور میونسپلٹی کی طرف سے 28 جون 2012 کو جاری کیا گیا ہے، جس میں عبداللہ کی جائے پیدائش رام پور بتائی گئی ہے، جبکہ دوسرا برتھ سرٹیفکیٹ جنوری 2015 میں جاری کیا گیا ہے، جس میں لکھنؤ کو ان کی جائے پیدائش بتایا گیا ہے۔

کسانوں کے استحصال پر ٹکیت ناراض، 23 اکتوبر کو تحریک چھیڑنے کا انتباہ

0
کسانوں-کے-استحصال-پر-ٹکیت-ناراض،-23-اکتوبر-کو-تحریک-چھیڑنے-کا-انتباہ

مظفر نگر: بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے رہنما راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ کسانوں کو 23 اکتوبر کو احتجاج کے لیے تیار رہیں۔مظفر نگر کے گاؤں منڈبھر میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بی کے یو کے قومی ترجمان نے کہا کہ کسان رہنماؤں نے محکمہ بجلی کی من مانی کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ قلم اور کیمرے پر بندوق پہرا ہے، یہی وجہ ہے کہ کسانوں کی تحریک کو ہندوستانی میڈیا کے بجائے غیر ملکی میڈیا میں درست دکھایا جا رہا ہے۔

بی کے یو کے صدر چودھری نریش ٹکیت نے محکمہ کے افسران پر کسانوں کا استحصال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ کسان رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک ان کے مسائل حل نہیں ہوتے احتجاج جاری رہے گا۔

راکیش ٹکیت نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کے خلاف اپنا وعدہ توڑ دیا ہے۔ ان کے مطالبات بشمول آبپاشی کے لیے مفت بجلی اور گنے کے لیے زیادہ ایس اے پی کو پورا نہیں کیا گیا۔ ان مطالبات کی وجہ سے کسان حکومت کے خلاف اپنا احتجاج تیز کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ کسان اپنی پیداوار کا مناسب معاوضہ نہ ملنے پر حکومت سے بے حد ناخوش ہیں۔ گنے کے کاشتکاروں کو ان کے واجبات وقت پر نہیں مل رہے۔ انہوں نے کہا کہ بی کے یو آنے والے دنوں میں ہر ضلع میں احتجاج کرے گی۔

بی کے یو لیڈر نے غریب کسانوں کی قیمت پر کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے مرکز پر بھی تنقید کی۔ ٹکیت نے کہا کہ بی جے پی حکومت سیاسی فائدے کے لیے سرکاری ایجنسیوں کے اختیارات کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت اس مسئلے کو حل نہیں کرنا چاہتی۔

ٹکیت نے کہا کہ بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں کسانوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا – چاہے وہ لوک سبھا انتخابی منشور ہو یا اسمبلی انتخابی منشور۔

کسان لیڈر نے کہا کہ 23 ​​اکتوبر کو مظفر نگر میں ایک بڑی تحریک شروع کی جائے گی۔ سب سے پہلے وہاں میٹر جمع کیے جائیں گے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آفس کا دروازہ نہ کھلا تو ٹریکٹر سے دروازہ توڑا جائے گا۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ بڈھانہ مل کا کوئی بھی کسان مرکز پر گنے نہ پہنچائے۔ گنے کو مظفر نگر ڈی ایم آفس لے کر جائیں، گنے وہیں پر ڈالے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب گاؤں بچائیں گے ملک، کھاپ پنچایت بچائے گی۔

راکیش ٹکیت نے کہا کہ تحریک میں ہریانہ کے کسانوں کی بھی مدد لی جائے گی۔ یہ تحریک 23 اکتوبر کو مظفر نگر سے شروع کی جائے گی لیکن واپسی کی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے۔ جب تک کسانوں کے مسائل حل نہیں ہوتے کسان اپنے گھروں کو واپس نہیں جائیں گے۔

’یہ گھر نہیں آئین کو بچانے کی لڑائی ہے‘، دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد راگھو چڈھا کا بیان

0
’یہ-گھر-نہیں-آئین-کو-بچانے-کی-لڑائی-ہے‘،-دہلی-ہائی-کورٹ-کے-فیصلے-کے-بعد-راگھو-چڈھا-کا-بیان

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے رہنما راگھو چڈھا نے منگل کو کہا کہ وہ کسی گھر یا دکان کو بچانے کی لڑائی نہیں لڑ رہے، بلکہ یہ ہندوستان کے آئین کو بچانے کی لڑائی ہے۔ چڈھا دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی سرکاری رہائش گاہ کی الاٹمنٹ کو منسوخ کرنے کے ٹرائل کورٹ کے حکم کو مسترد کرنے کے بعد ردعمل ظاہر کر رہے تھے۔

رکن پارلیمنٹ نے کہا، ’’میں ٹرائل کورٹ کے اس حکم کو مسترد کرنے کے لیے دہلی ہائی کورٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جو میرے خلاف تھا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، "یہ پہلا موقع ہے کہ راجیہ سبھا کے کسی رکن کو اس طرح نشانہ بنایا گیا۔ اب تک میں نے پارلیمنٹ میں بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت کو جوابدہ ٹھہراتے ہوئے دو تقریریں کی ہیں۔ میری پہلی تقریر کے بعد میری سرکاری رہائش گاہ کی الاٹمنٹ اور میری دوسری تقریر کے بعد رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے میری رکنیت معطل کر دی گئی۔‘‘

چڈھا نے مزید کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ آخر میں سچائی اور انصاف کی فتح ہوئی۔ دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو پٹیالہ ہاؤس عدالت کے اس حکم کو مسترد کر دیا جس میں راجیہ سبھا سکریٹریٹ کو چڈھا کو قومی دارالحکومت میں ان کی سرکاری رہائش گاہ سے بے دخل کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔