پیر, مارچ 23, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 50

الجزائر نے فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کھیل، ثقافتی سرگرمیاں ملتوی کرنے کا اعلان کیا

0
الجزائر-نے-فلسطین-کے-ساتھ-اظہار-یکجہتی-کے-لیے-کھیل،-ثقافتی-سرگرمیاں-ملتوی-کرنے-کا-اعلان-کیا

الجزائر نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں اور ناکہ بندی کے شکار فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے حکومت کے زیر اہتمام تمام کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں کو معطل کر دیا ہے۔

الجزائر کی وزارت امور نوجوانان اور کھیل نے یہ فیصلہ "فلسطینی عوام کی حمایت” اور "غزہ کی پٹی میں متاثرین کے احترام میں” کیا ہے۔مزید برآں، ملک کی وزارت ثقافت اور فنون نے ملک بھر میں تمام ثقافتی سرگرمیوں کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا، بشمول انابا فلم فیسٹیول جو 3-9 نومبر کو ہونا تھا۔

7 اکتوبر کو فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے غزہ کی پٹی سے ملحقہ اسرائیلی فوجی اہداف اور قصبوں پر راکٹ فائر کرکے اچانک حملہ کیا، جس کے بعد غزہ پر جارحانہ اسرائیلی فضائی حملے کا سلسلہ جاری ہے۔اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازع میں دونوں طرف سے 4000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اعظم خان کو سزا کے بعد شیوپال یادو کا اظہار یکجہتی، ’آفتاب چھپ گیا تو کیا غم، صبح نو ضرور آئے گی‘

0
اعظم-خان-کو-سزا-کے-بعد-شیوپال-یادو-کا-اظہار-یکجہتی،-’آفتاب-چھپ-گیا-تو-کیا-غم،-صبح-نو-ضرور-آئے-گی‘

لکھنؤ: رامپور کی ایم پی ایم ایل اے عدالت نے فرضی برتھ سرٹیفکیٹ کیس میں اعظم خان، بیوی تنظیم فاطمہ اور بیٹے عبداللہ اعظم کو سات سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے سماج وادی پارٹی کو گہرا جھٹکا لگا ہے۔ اعظم خان ایس پی کے قدآور لیڈر ہیں۔ اکھلیش یادو کے بعد چچا شیو پال سنگھ یادو نے بھی اعظم خان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ شیوپال نے شاعری میں اعظم خاندان کی سزا کے درد کو بیان کیا۔

فیصلہ آنے کے بعد اکھلیش یادو نے کہا تھا کہ اعظم خان کو مسلمان ہونے کی سزا دی گئی ہے۔ ان کے خلاف سازشیں کی گئیں۔ پچھلے مہینے ایس پی نے اعظم خان کے گھر پر انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی کارروائی پر بھی یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔

ایس پی لیڈر شیوپال یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ’’آفتاب چھپ گیا تو کیا غم، صبح نو ضرور آئے گی، شرط بس یہی ہے کہ وقت کا تھوڑا انتظار کیجئے۔‘‘ وہیں، شکشک سمان پروگرام میں اناؤ کے دورے پر آئے ایس پی ریاستی صدر نریش اتم پٹیل نے انکم ٹیکس محکمہ کی کارروائی پر ردعمل ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت انتقامی کارروائی کر رہی ہے۔ اعظم خان ملک کے بڑے اور سینئر لیڈر ہیں۔ ان کے خاندان کو جان بوجھ کر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بدھ کو اعظم خان، تزئین فاطمہ اور عبداللہ اعظم کو 2019 کے جعلی برتھ سرٹیفکیٹ کیس میں قصوروار ٹھہرایا گیا اور انہیں سات سال قید کی سزا سنائی گئی۔

سابق ایم ایل اے عبداللہ اعظم کے خلاف دو برتھ سرٹیفکیٹس کا معاملہ 2019 کا ہے۔ بی جے پی ایم ایل اے آکاش سکسینہ نے گنج تھانے میں مقدمہ درج کرایا تھا۔ مقدمے میں اعظم خان اور اہلیہ تزئین فاطمہ کو بھی ملزم بنایا گیا تھا۔ پولیس نے تفتیش کے بعد چارج شیٹ داخل کی تھی۔ بدھ کو کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا۔ سماعت کے دوران ایس پی رہنما اعظم خان، بیٹا عبداللہ اعظم اور اہلیہ تزئین فاطمہ عدالت میں موجود تھے۔ فیصلہ سننے کے لیے بی جے پی ایم ایل اے آکاش سکسینہ بھی موجود تھے۔

مسلم حکمرانوں کو جاگنے کی ضرورت ہے: مولانا پاشا

0
مسلم-حکمرانوں-کو-جاگنے-کی-ضرورت-ہے:-مولانا-پاشا

امیر ملت اسلامیہ تلنگانہ وآندھرا پردیش حضرت مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ نے غزہ میں ایک ہفتہ سے زائد جاری اسرائیلی بمباری اور معصوم و بے گناہ فلسطینیوں کی درد ناک شہادتوں پر گہرے رنج وملا ل کا اظہار کیا ہے۔

مولانا جعفر پاشاہ نے عالم اسلام کے تمام مسلمانوں سے جمعہ 20 اکتوبر کو گھروں،مساجد اور اجتماعات میں شہدا کے لئے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعاؤں کی اپیل کی ہے۔مولانا نے کہا کہ فلسطین کے حالات اس وقت تک تبدیل نہیں ہوسکتے جب تک مسلم حکمران نہ جاگیں۔ مولانا نے کہا کہ روئے زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں ان کے پاس کچھ نہ کچھ ہمدردی کے احساسات اور جذبات ہوتے ہیں لیکن ظالم اسرائیلیوں نے درندگی اور حیوانیت میں خونخوار وجنگلی جانوروں کو بھی پیچھے چھوڑدیاہے جس کا ثبوت غزہ کے اسپتال پر بھی بمباری ہے جس کے نتیجہ میں بے شمارجانیں گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حیرت اور افسوس اس بات کا بھی ہے کہ قومی وبین الاقوامی میڈیا ظالموں کی مذمت کے بجائے مظلوموں کو دہشت گرد قرار دے رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر روز صبح سے شام تک اسرائیلی فوجی معصوم وبے گناہ فلسطینیوں پر ناقابل بیان مصائب ڈھارہے ہیں اور ادھر مسلم حکمراں صدائے احتجاج بلند کرنے ابھی تک اجلاس منعقد کرنے کی تاریخ طئے کرنے میں مصروف ہیں۔

مولانا جعفر پاشاہ نے جمعہ کے اجتماعات کے علاوہ گھروں اور دیگر مقامات کے علاوہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسی مقدس سرزمینوں پر بسنے والے دردمندوں سے بھی خواہش کی کہ مظلوم فلسطینیوں کے لئے رورو کر گڑگڑاکر اللہ سے دعائیں کریں۔ مولانانے غزہ اور دیگر مقامات کے بدترین حالات اور وہاں جاری بر بریت پر کہا کہ اب تک ہزاروں عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوگئے ہیں۔ کئی دودھ پیتے بچے اپنی ماؤں کی گودسے نہ صرف محروم ہوگئے ہیں بلکہ پانی کے ایک ایک قطرہ کو ترس رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے درندگی کے تمام حدود پار کردیئے ہیں۔ یہ درندے لاشوں تک کی بے حرمتی کررہے ہیں۔

اخبارارت اور الکٹرانک میڈیا وسوشل میڈیا کی اطلاعات سے معلوم ہورہا ہے کہ لاشوں کو گھسیٹا جارہا ہے اور کُچلا جارہا ہے۔ معصوم بچوں اور ضعیفوں ونوجوانوں پر وحشیانہ مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ اسرائیلی مظالم میں ہر دن اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ اہل فلسطین کیخلاف اسرائیلی فوج کی درندگی اور وحشیانہ کاروا ئیاں ختم ہونا ضروری ہے۔سارے غزہ کو کھنڈر میں تبدیل کردیا گیا ہے اور اب فلسطینیوں کو فلسطین سے نکل جانے کو کہا گیاہے۔

گوتم اڈانی کی مشکلات جاری، سیبی نے ہنڈن برگ کیس میں تحقیقات کا دائرہ بڑھایا

0
گوتم-اڈانی-کی-مشکلات-جاری،-سیبی-نے-ہنڈن-برگ-کیس-میں-تحقیقات-کا-دائرہ-بڑھایا

صنعت کار گوتم اڈانی اور ان کی کمپنی اڈانی گروپ ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ دراصل امریکی شارٹ سیلر کمپنی ہنڈن برگ ریسرچ کی رپورٹ کے بعد گوتم اڈانی کے بحران کے بادل چھٹنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ سیبی کی تحقیقات پہلے سے ہی چل رہی ہے، جس کا دائرہ اب بڑھا دیا گیا ہے۔ سیبی ان ممالک کے مارکیٹ ریگولیٹرز سے بھی معلومات اکٹھی کر رہا ہے جہاں اڈانی گروپ کا کاروبار پھیلا ہوا ہے۔

صرف اتنا ہی نہیں سیبی نے تفتیشی صحافیوں کی تنظیم او سی سی آر پی سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ اڈانی گروپ سے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔ اس تنظیم نے اڈانی گروپ کے حوالے سے کئی رپورٹیں شائع کی ہیں اور ان میں کئی دستاویزات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ تاہم، او سی سی آر پی نے فی الحال کسی بھی قسم کے دستاویزات فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اڈانی گروپ کی فلیگ شپ کمپنی اڈانی انٹرپرائزز نے مطلع کیا ہے کہ کارپوریٹ امور کی وزارت نے ممبئی ایئرپورٹ سے متعلق معاملات میں کھاتوں کی جانچ شروع کر دی ہے۔ ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے متعلق کھاتوں کی چھان بین کے لیے 14 اکتوبر کو ہی وزارت سے نوٹس موصول ہوا تھا۔ وزارت نے کمپنی سے 2017 سے 2022 تک کے اکاؤنٹس کے بارے میں معلومات مانگی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ گوتم اڈانی کے اڈانی گروپ نے جی وی کے گروپ سے ممبئی ایئرپورٹ حاصل کیا تھا۔ اس وقت جی وی کے گروپ پر مجرمانہ سازش اور دھوکہ دہی کا الزام تھا۔ سی بی آئی اس معاملے میں تحقیقات کر رہی ہے۔ سیبی اڈانی اور گلف ایشیا فنڈ کے درمیان تعلقات کی بھی چھان بین کر رہا ہے۔

رائٹرز کی ایک خبر کے مطابق، مارکیٹ ریگولیٹر سیبی اڈانی گروپ کی کئی درج کمپنیوں کے ساتھ گلف ایشیا فنڈ کے تعلقات کی چھان بین کر رہا ہے۔ یہ فنڈ برٹش ورجن آئی لینڈ میں قائم کیا گیا ہے۔ سیبی اس بات کا بھی جائزہ لے رہا ہے کہ آیا اڈانی گروپ نے شیئر کی ملکیت کے کسی اصول کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں؟ گلف ایشیا فنڈ کی ویب سائٹ پر بتایا گیا کہ یہ فنڈ دبئی کے بزنس مین ناصر علی شعبان علی کا ہے۔ تاہم، یہ ویب سائٹ اب کام نہیں کر رہی ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس فنڈ نے اڈانی گروپ کی کئی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔

ادھر، کانگریس لیڈر راہل گاندھی اڈانی گروپ معاملے کو لے کر حکومت پر مزید حملہ آور ہو گئے ہیں۔ ایک غیر ملکی اخبار کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئلے کی درآمد کو لے کر گھوٹالہ ہوا ہے، جس سے اڈانی گروپ کو ممکنہ طور پر فائدہ ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے ملک میں بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ گھوٹالہ تقریباً 12000 کروڑ روپے کا ہے۔

این ایچ آر سی نے منی پور میں تشدد کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے 18 معاملے درج کیے

0
این-ایچ-آر-سی-نے-منی-پور-میں-تشدد-کے-دوران-انسانی-حقوق-کی-خلاف-ورزیوں-کے-18-معاملے-درج-کیے

امپھال: قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے گزشتہ چند مہینوں میں منی پور میں تشدد کے دوران حقوق کی خلاف ورزیوں کے 18 معاملے درج کیے ہیں۔ این ایچ آر سی کو منی پور حکومت سے آٹھ معاملات کے علاوہ تمام میں کارروائی کی رپورٹس (اے ٹی آر) موصول ہوئی ہیں۔ باقی کیسز میں بھی رپورٹس کے لیے یاد دہانی کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

این ایچ آر سی نے ایک بیان میں کہا کہ مرکزی اور منی پور حکومتوں سے مزید رپورٹیں طلب کی گئی ہیں۔ ان سے کہا گیا ہے کہ وہ ریاست میں امن قائم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی وضاحت کریں۔ رپورٹ میں تشدد سے متاثرہ افراد کے لیے امداد، بحالی، خوراک، اسکولنگ، تعلیم، صحت اور دماغی صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کے لیے اقدامات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

این ایچ آر سی نے منی پور حکومت کے اے ٹی آر کے حوالے سے کہا کہ ریاست میں تشدد کے واقعات کے سلسلے میں کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں امن و امان کی مشینری اور سیکورٹی کو مضبوط کرنا، ریلیف کیمپ اور امن کمیٹی کا قیام، کرفیو میں نرمی، انٹرنیٹ اور بینکنگ خدمات کو بتدریج بحال کرنا، مرنے والوں کے لواحقین کے لیے ایکس گریشیا کا اعلان، زخمیوں کو امداد فراہم کرنا شامل ہیں۔ معاوضے کے پیکیج میں تباہ شدہ مکانات کی تعمیر نو شامل ہے۔

یہ بھی بتایا گیا کہ مرکز نے تنازعہ کی وجوہات تک پہنچنے کے لیے ایک انکوائری کمیشن تشکیل دیا ہے اور چھ ایف آئی آر آزادانہ تحقیقات کے لیے سی بی آئی کو منتقل کر دی گئی ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بڑی تعداد میں ریلیف کیمپ چل رہے ہیں۔

پانچ ماہ قبل ریاست میں میتئی اور کوکی برادریوں کے درمیان نسلی تشدد شروع ہونے کے بعد سے منی پور میں کم از کم 180 افراد ہلاک، 1,120 دیگر زخمی اور 32 لاپتہ ہو چکے ہیں۔ پولیس کے مطابق 4786 گھروں کو نذر آتش کیا گیا اور 386 مذہبی مقامات کو یا تو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا یا ان میں توڑ پھوڑ کی گئی۔

منی پور میں نسلی تصادم کے نتیجے میں مختلف برادریوں کے تقریباً 70000 مرد، خواتین اور بچے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے منی پور میں اسکولوں، سرکاری عمارتوں اور آڈیٹوریم میں قائم 350 کیمپوں میں پناہ لی ہوئی ہے۔ کئی ہزار لوگوں نے میزورم سمیت پڑوسی ریاستوں میں پناہ لی ہے۔

مندروں پر سے نہیں ختم ہوگا حکومتی کنٹرول، سپریم کورٹ نے عرضی کو کیا خارج!

0
مندروں-پر-سے-نہیں-ختم-ہوگا-حکومتی-کنٹرول،-سپریم-کورٹ-نے-عرضی-کو-کیا-خارج!

سپریم کورٹ نے سینئر وکیل اشونی اپادھیائے کی اس عرضی کو خارج کر دیا ہے جس میں مندروں پر سے حکومتی کنٹرول ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ اشونی اپادھیائے کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے، کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ ٹھیک اسی طرح ہندو مندروں کے انتظام و انصرام میں بھی حکومتی مداخلت نہ ہو جس طرح مسجدوں میں نہیں ہوتا۔ سپریم کورٹ نے اس عرضی کے تعلق سے واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ عرضی سماعت کے قابل نہیں ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ نے اس عرضی کے تعلق سے ایڈووکیٹ اشونی اپادھیائے کو کہا کہ آپ یہ مطالبہ پارلیمنٹ یا حکومت سے کر سکتے ہیں، نہ کہ عدالت سے۔ اس طرح کے مطالبہ کو عدالت کیسے منظوری دے سکتا ہے، آپ اپنی عرضی واپس لے لیں۔ قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بھی اشونی اپادھیائے کی عرضی کی مخالفت کی ہے۔

دراصل ایڈووکیٹ اشونی اپادھیائے نے مندروں پر حکومت کا کنٹرول ختم کرنے کے مطالبہ کو لے کر سپریم کورٹ میں مفاد عامہ عرضی داخل کی تھی۔ انھوں نے اپنی عرضی میں مطالبہ کیا تھا کہ ہندوؤں، بودھوں، جینیوں اور سکھوں کو بھی مسلمانوں، پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ریاست کی مداخلت کے بغیر اپنے مذہبی مقامات کے مینجمنٹ کا یکساں حق ملے۔ لیکن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عرضی ناقابل سماعت ہے۔

اس معاملے میں سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ عرضی دہندہ اس تعلق سے ریپریزنٹیشن دے سکتے ہیں، کیونکہ عرضی میں حکومت کو ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اشونی اپادھیائے نے کہا کہ اس ایشو کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ کالکا جی مندر کا کنٹرول حکومت کے پاس ہے، لیکن جامع مسجد کا نہیں۔ یہی بنیادی ایشو ہے۔ حالانکہ جب چیف جسٹس نے اس عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا تو اشونی اپادھیائے نے اپنی عرضی واپس لے لی۔

بی جے پی، عآپ اور دیگر پارٹی لیڈران کا کانگریس میں شامل ہونے کا سلسلہ جاری

0
بی-جے-پی،-عآپ-اور-دیگر-پارٹی-لیڈران-کا-کانگریس-میں-شامل-ہونے-کا-سلسلہ-جاری

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر لیڈر اروندر سنگھ لولی نے جب سے دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کی کمان سنبھالی ہے تب سے دہلی کانگریس اپنی پوری طاقت کے ساتھ سرگرم نظر آ رہی ہے۔ تاہم زمینی سطح پر پارٹی کو مظبوط کرنے کے لیے بلاکوں میں میٹنگ منعقد کی جا رہی ہے، ساتھ ہی جن لوگوں نے کانگریس پارٹی سے دوری اختیار کر لی تھی ان کو دوبارہ کانگریس پارٹی میں شامل کرنے کی پالیسی پر تیزی سے کام کیا جا رہا ہے۔

اسی ضمن میں آج ریاستی صدر اروندر سنگھ لولی کی موجود گی میں عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر پرتھوی سنگھ راٹھور، راجیو ورما اور جئے پرکاش چوہان نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں کے ساتھ پریس کانفرنس میں کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ لولی نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کا تہہ دل سے استقبال کیا اور پارٹی کا پٹکا پہنایا۔ اس موقع پر موجود سکھ سنگت نے اروندر سنگھ لولی اور مکیش شرما کو اعزاز سے نوازا۔

پریس کانفرنس میں لولی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کانگریس پارٹی کے تئیں ملک اور دہلی کی عوام کا اعتماد دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے اور آج کانگریس کارکنان اپنا سر فخر سے بلند کر کے چل رہے ہیں۔ لولی نے کہا کہ آج سے وہ اپنے علاقوں میں بلاک کانگریس کمیٹی کے صدور اور مقامی کانگریس کارکنان سے بات چیت کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ میرے لئے فخر کی بات ہے کہ میں مشرقی دہلی کے لکشمی نگر اسمبلی کے چاروں بلاکس سے یہ سلسلہ شروع کر رہا ہوں جس کی نمائندگی مرحوم ڈاکٹر اے کے والیا نے طویل عرصے تک کی۔ انہوں نے کہا کہ آنجہانی ڈاکٹر والیا نے نہ صرف دہلی کی صحت کی خدمات کے لیے بے مثال کام کیا بلکہ ان کے دور میں نئے اسپتال بنائے گئے اور نئے اسپتال بنانے کے لیے زمین لی گئی۔ انہوں نے اس پروگرام کو ڈاکٹر اے کے والیا کے نام وقف کرتے ہوئے کہا کہ یہ انہیں حقیقی خراج عقیدت ہوگا۔

اس موقع پر ڈاکٹر بجیندر سنگھ نے کہا کہ اروندر سنگھ لولی کے صدر بننے کے بعد دہلی کانگریس میں نئی توانائی آئی ہے۔ آج دہلی کے کانگریس کارکنان سڑکوں پر اتر رہے ہیں اور موجودہ حکومت کی عوام مخالف پالیسی کی پرزور مخالفت میں حصہ لے رہے ہیں۔ پرتھوی سنگھ راٹھور اور راجیو ورما کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان دونوں کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ پریس کانفرنس کے بعد سینکڑوں کارکنوں کو پارٹی میں شامل کیا گیا اور اس موقع پر مکیش شرما کے علاوہ سریندر کمار اور جے پی پنوار بھی موجود تھے۔

پارٹی کے سینئر لیڈر مکیش شرما نے کہا کہ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی سے کانگریس میں شامل ہونے والے لوگوں کی طرف سے بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جنہیں پارٹی میں منظم طریقے سے شامل کرنے سے پہلے اس بات کی تحقیق کی جا رہی ہے کہ جو لوگ پارٹی میں شامل ہونا چاہتے ہیں وہ کتنے وفادار ثابت ہوں گے۔ اس کے علاوہ پرانے کارکنان سے بھی اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے اور سبھی کی رضا مندی لی جاتی ہے۔

’شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ‘ کو ایف سی آر اے نے دی منظوری، بیرون ملکی عطیہ کا راستہ ہموار!

0
’شری-رام-جنم-بھومی-تیرتھ-چھیتر-ٹرسٹ‘-کو-ایف-سی-آر-اے-نے-دی-منظوری،-بیرون-ملکی-عطیہ-کا-راستہ-ہموار!

ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا کام آخری مرحلے میں ہے۔ اس درمیان شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ نے ایک بڑی خوشخبری دی ہے۔ ٹرسٹ نے 18 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ کر جانکاری دی کہ اسے ایف سی آر اے کی منظوری مل گئی ہے۔ یعنی اب بیرون ممالک کے لوگ بھی رام مندر کے لیے عطیہ دے سکتے ہیں۔

ٹرسٹ نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر کیے گئے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر کو غیر ملکی تعاون ریگولیشن ایکٹ 2010 کے تحت عطیہ حاصل کرنے کے لیے وزارت داخلہ، حکومت ہند کے ایف سی آر اے محکمہ نے منظوری فراہم کر دی ہے۔ ساتھ ہی ٹرسٹ نے یہ بھی لکھا ہے کہ غیر ملکی ذرائع سے حاصل ہونے والا کوئی بھی عطیہ صرف ایس بی آئی کے سنسد مارگ برانچ میں ہی قابل قبول ہوگا۔ دیگر کسی بینک اور ایس بی آئی کے دیگر کسی برانچ میں بھیجی گئی رقم قابل قبول نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ ایودھیا میں زیر تعمیر رام مندر میں آئندہ سال 2024 میں 17 جنوری سے ’پران پرتشٹھا‘ (مورتی نصب کرنے کا عمل) کا پروگرام شروع ہو جائے گا۔ گزشتہ روز رام مندر تعمیر کی نئی تصویریں سوشل میڈیا پر شیئر کر ٹرسٹ تازہ جانکاری بھی دی ہے جس سے پتہ چل رہا ہے کہ کام ہنگامی سطح پر جاری ہے۔

چھتیس گڑھ اسمبلی انتخاب: کانگریس نے امیدواروں کی دوسری فہرست جاری کی

0
چھتیس-گڑھ-اسمبلی-انتخاب:-کانگریس-نے-امیدواروں-کی-دوسری-فہرست-جاری-کی

چھتیس گڑھ اسمبلی انتخاب کے لیے کانگریس نے امیدواروں کی دوسری فہرست آج جاری کر دی۔ دوسری فہرست میں 53 امیدواروں کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ ریاست میں دو مراحل میں اسمبلی انتخاب ہونے ہیں جب رائے دہندگان 90 اسمبلی سیٹوں کے لیے اپنی پسند کا امیدوار منتخب کریں گے۔ پہلے مرحلہ کی ووٹنگ 7 نومبر کو اور دوسرے مرحلہ کی ووٹنگ 17 نومبر کو ہوگی۔ نتائج 3 دسمبر کو برآمد ہوں گے۔

بہرحال، کانگریس نے چھتیس گڑھ اسمبلی انتخاب کے پیش نظر 30 امیدواروں کی پہلی فہرست گزشتہ دنوں جاری کی تھی جس میں وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل، نائب وزیر اعلیٰ ٹی ایس سنگھدیو اور کچھ دیگر سینئر لیڈران کے نام شامل تھے۔ اب جبکہ 53 امیدواروں کی دوسری فہرست سامنے آ چکی ہے، تو مجموعی طور پر کانگریس نے 83 اسمبلی سیٹوں کے لیے امیدوار طے کر دیے ہیں۔

واضح رہے کہ کانگریس میں ابھی کانگریس کی حکومت ہے اور وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل کی قیادت میں پارٹی ایک بار پھر برسراقتدار آنے کے لیے پرامید ہے۔ ریاست میں بی جے پی اپوزیشن کے کردار میں ہے اور مقابلہ انہی دونوں پارٹیوں کے درمیان سیدھا ہونے والا ہے۔ 2018 میں ہوئے اسمبلی انتخاب میں کانگریس 68 سیٹیں جیت کر 15 سال بعد ریاست میں برسراقتدار ہوئی تھی، جبکہ بی جے پی کو محض 15 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔ دونوں پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران انتخابی میدان میں سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک طرف بی جے پی ریاست میں از سر نو واپسی کرنا چاہتی ہے، تو دوسری طرف کانگریس لگاتار دوسری بار اقتدار پر قبضہ کرنا کے لیے پرعزم ہے۔

راہل گاندھی نے مہنگی بجلی کے لیے اڈانی کو ٹھہرایا ذمہ دار، 32000 کروڑ روپے گھوٹالہ کا الزام

0
راہل-گاندھی-نے-مہنگی-بجلی-کے-لیے-اڈانی-کو-ٹھہرایا-ذمہ-دار،-32000-کروڑ-روپے-گھوٹالہ-کا-الزام

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے آج ایک بار پھر اڈانی گروپ کے مالک گوتم اڈانی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر شدید الزام عائد کیا۔ انھوں نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ گوتم اڈانی نے کوئلہ کے کاروبار میں بہت بڑی بے ضابطگی کی ہے، انھوں نے اس میں 32 ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ کیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بجلی مہنگی ہوتی جا رہی ہے اور لوگوں کا بجلی بل بڑھتا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ بجلی مہنگی ہونے کا فائدہ سیدھا اڈانی کو پہنچ رہا ہے۔

دراصل راہل گاندھی نے پریس کانفرنس میں اڈانی پر الزام عائد کرنے کے لیے غیر ملکی انگریزی اخبار ’فنانشیل ٹائمز‘ کا حوالہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ فنانشیل ٹائمز نے سبھی کاغذات حاصل کیے ہیں جس سے کوئلہ کاروبار میں گھوٹالہ کا انکشاف ہو رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ’’کوئلہ کاروبار میں گھوٹالہ کی بات ہم نہیں کہہ رہے ہیں، لندن کے اخبار کے حوالے سے یہ خبر ہے۔ لیکن ان کے (اڈانی) خلاف جانچ نہیں ہوگی۔ سوال اٹھانے پر بھی اڈانی کی جانچ نہیں ہوگی۔ ہندوستان کا پی ایم اڈانی کی حفاظت کر رہا ہے۔‘‘

راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’پہلے ہم لوگ 20 ہزار کروڑ روپے گھوٹالہ کی بات کہہ رہے تھے، لیکن اب اس میں 12 ہزار کروڑ روپے مزید جوڑ دیجیے۔ یعنی اب گھوٹالہ 32 ہزار کروڑ روپے کا ہو جاتا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ آپ جو بجلی کا استعمال کرتے ہیں، بلب یا پنکھا چلاتے ہیں، اس کا پیسہ بٹن دباتے ہی فوراً اڈانی جی کی جیب میں چلا جاتا ہے۔ یہ نمبر (رقم) دھیرے دھیرے مزید بڑھے گا۔ وزیر اعظم جی اڈانی کی جانچ کیوں نہیں کرا رہے یہ پورا ملک جانتا ہے۔ سیبی کہہ رہی ہے کہ کاغذات نہیں مل رہے ہیں۔ اڈانی کو براہ راست اونچے عہدوں سے سیکورٹی ملی ہوئی ہے۔ عوام کی جیب سے پیسہ چوری کیا جا رہا ہے اور ڈائریکٹ اڈانی کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔