پیر, مئی 4, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 5

ایران کا معیشتی اور سیاسی بحران: آیت اللہ خامنہ ای کی غیرموثر حکمت عملی کی قیمت

0
ایران-کا-معیشتی-اور-سیاسی-بحران:-آیت-اللہ-خامنہ-ای-کی-غیرموثر-حکمت-عملی-کی-قیمت
ایران کا معیشتی اور سیاسی بحران: آیت اللہ خامنہ ای کی غیرموثر حکمت عملی کی قیمت

ایک خوفناک حقیقت: ایرانی عوام کا بحران

ایران، ایک ایسا ملک جس نے تاریخ کے مختلف ادوار میں مشرق وسطیٰ کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا، آج اپنے بحرانوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔ ایرانی عوام، خاص طور پر نوجوان نسل، اپنے حقوق اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث سخت اضطراب میں مبتلا ہیں۔ آج کی ایرانی حکومت کی پالیسیوں پر عوام کا غصہ عروج پر ہے، اور یہ غم و غصہ ملک کی مستقبل کی سمت کا تعین کر رہا ہے۔

بنیادی مسائل کی جانچ

ایران کی موجودہ حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی نے اسے عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔ بین الاقوامی پابندیاں، اقتصادی دشواریوں، اور مہنگائی نے عوام کی روزمرہ زندگی کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔ ایران کی معیشت حالیہ عرصے میں اس قدر کمزور ہو چکی ہے کہ عوام کی حالت زار بتاتی ہے کہ وہ کس قدر بے بسی میں زندگی گزار رہے ہیں۔

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ایرانی حکومت نے اپنے اتحادیوں سے تعلقات کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ چین اور روس جیسے طاقتور ممالک بھی اب ایران کی حمایت کرنے میں hesitant ہیں۔ ان کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایران کو صرف وقتی بنیادوں پر ہی دیکھتے ہیں، جب کہ ایران کی ضرورتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔

داخلی خلفشار اور عوامی عدم اطمینان

ایران کی معاشرتی اور سیاسی زندگی میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ واضح ہوتا ہے کہ لوگ اب حکومت کے ساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ عوامی مظاہرے، جو کہ دور دور تک پھیل چکے ہیں، اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ایرانی عوام اپنی زندگی کی بہتری کے لیے اپنی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

ایران میں موجود سیاسی طاقتیں، جیسا کہ پاسدارانِ انقلاب، بھی اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے میں ناکام ہو چکی ہیں۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جب عوامی غصہ شدت اختیار کرے گا تو وہ خود قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ کر سکتے ہیں، جو کہ ایک نرم بغاوت کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای کی حکمت عملی کی ناکامی

آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں ایران کی پالیسیوں نے نہ صرف ملکی سطح پر مسائل پیدا کیے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ملک کی حیثیت کو متاثر کیا ہے۔ کئی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خامنہ ای کی موجودہ حکمت عملی میں مایوسی اور جمود کی کیفیت نظر آتی ہے، جو ایرانی عوام کو مزید مایوس کر رہی ہے۔

یہ بات ابکھری ہوئی ہے کہ اگر ایران نے کوئی حتمی تبدیلی نہ کی تو اسے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایران کو اب ایک نئے سپریم لیڈر کی ضرورت ہے، جو عوام کے ساتھ ہم آہنگ ہو اور جو عالمی سیاست کے نئے تقاضوں کے مطابق اپنے ملک کی پالیسیوں کو ترتیب دے سکے۔

بکھرتا ہوا دفاعی نظام

ایران کے بیرونی خطرات، خاص طور پر اسرائیل کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملے، نے ایران کے دفاعی نظام کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ ایران کو اس وقت سخت چیلنجز کا سامنا ہے، جیسا کہ شام میں اسرائیلی حملے اور داخلی سطح پر بڑھتی ہوئی مخالفت۔

ایران کا دفاعی نظام، جو کبھی ایک مضبوط اور بااثر صلاحیت خیال کیا جاتا تھا، اب مایوسی کا شکار ہو چکا ہے۔ ممکنہ جنگ یا کسی بھی قسم کی طاقتور کارروائی کا خطرہ اسے مزید کمزور کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں ایران کو اقتصادی اور عسکری دونوں سطحوں پر شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مذاکرات کا امکان

ایران کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنا پڑے گا۔ تاہم، اس کے لیے ایک بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہوگی تاکہ عوامی خواہشات اور ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ نئے معاہدے یا ایٹمی ڈیل کے لیے ایرانی حکومت کو اندرونی سیاسی استحکام حاصل کرنا ہوگا، جو کہ موجودہ حالات میں ناممکن نظر آتا ہے۔

یہ تبدیلی ایران کے موجودہ لیڈر شپ کے ایک نئے نظریے پر منحصر ہے، جو عوامی جذبات کو سمجھتے ہوئے عالمی سطح پر ایک مثبت تصویر پیش کر سکے۔

ایران کی مستقبل کی راہ

ایران آج ایک نازک دور میں کھڑا ہے۔ یا تو وہ اصلاحات کی جانب بڑھے گا یا پھر داخلی انارکی میں پھنس کر اپنی علاقائی حیثیت کھو دے گا۔ اس کی عظیم تاریخ اور وسائل کو ایک جدید قیادت کی ضرورت ہے جو ملک کو ایک نئی سمت میں لے جا سکے۔

ایران کو اب بصیرت اور دانش کی ضرورت ہے، نہ کہ نظریاتی تنگ نظری کی۔ اگر ایران نے یہ تبدیلیاں نہ کیں تو یہ اپنے عظیم ماضی کو کھو دے گا اور اس کی شناخت ان بحرانوں میں دب جائے گی جو اس نے خود پیدا کیے ہیں۔

مزید معلومات کے لئے ہماری معاشی حالت اور سیاسی چیلنجز پر نظر ڈالیں۔ اس کے علاوہ، مزید تفصیلات کے لئے دیکھیں بی بی سی اور الجزیرہ۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

کیا فلسطینیوں کی نسل کشی واقعی کبھی رکے گی؟

0
کیا فلسطینیوں کی نسل کشی واقعی کبھی رُکے گی؟
کیا فلسطینیوں کی نسل کشی واقعی کبھی رُکے گی؟

فلسطین کی نسل کشی مسلسل جاری ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں جیسے امریکہ اور خطے کی اہم خلیجی مسلم ریاستیں صرف اپنے معاشی و سیاسی مفادات کے سودے کر رہی ہیں، جبکہ فلسطینی عوام کی کوئی نمائندگی، شمولیت یا آواز ان سودوں میں شامل نہیں۔

فلسطین پر حملے اور ٹرمپ کا خلیجی دورہ

جس وقت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ خلیجی ممالک کا دورہ کر رہے تھے، اسی دوران فلسطینیوں کی نسل کشی کا سلسلہ بھی پوری شدت کے ساتھ جاری رہا۔ اگرچہ یہ ظلم و ستم تقریباً 20 ماہ سے جاری ہے، غزہ کا علاقہ اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ یہاں باقی ماندہ لاکھوں افراد زندگی اور موت کی کشمکش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ بھٹکنے پر مجبور ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 سے قبل بھی فلسطینیوں کو اندھیرے میں رکھ کر سودے کیے جا رہے تھے، اور آج 20 ماہ بعد بھی بغیر ان کی شرکت کے نت نئے منصوبے پیش کیے جا رہے ہیں۔

کوئی امن کے نام پر ان کی مسلح جدوجہد کو مکمل طور پر خاموش کرنا چاہتا ہے، کوئی انہیں ان کے گھروں سے دربدر کر دینا چاہتا ہے، کوئی انخلا کا مطالبہ کر رہا ہے اور کوئی انہیں دیگر ممالک میں دھکیلنے کی سازش کر رہا ہے۔ ان سب میں ایک طرف صہیونی ظلم، طاقت اور سازشیں شامل ہیں تو دوسری طرف امریکہ جیسے عالمی "چودھری” کی سرپرستی اور مسلم مملکتوں کی مجبوری، خاموشی اور دنیاوی مفادات بھی برابر کے شریک ہیں۔

فلسطینیوں کے مستقبل کا یہ سودا ہر فریق اپنے اپنے مفاد کی عینک سے دیکھ رہا ہے — اور اصل فریق، یعنی خود فلسطینی، اس منظرنامے سے غائب ہیں۔ ایسے کسی بھی منصوبے پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

خلیجی ممالک کا دورہ اور مسئلہ فلسطین پر سرد مہری

امریکی صدر ٹرمپ نے حال ہی میں خلیج کے تین ممالک کا دورہ کیا، جن میں ہمیشہ کی طرح سب سے پہلے سعودی عرب کا انتخاب کیا۔ 2017 میں بھی ان کا پہلا غیر ملکی دورہ سعودی عرب ہی تھا۔ دنیا بھر کی نظریں اس دورے پر مرکوز تھیں۔ اگرچہ ٹرمپ نے اس بار صہیونی ریاست کا سفر نہیں کیا، مگر یہ امید کی جا رہی تھی کہ وہ فلسطینی مسئلے پر کوئی سنجیدہ اقدام کریں گے، کیونکہ سعودی عرب، قطر اور کچھ حد تک متحدہ عرب امارات اس مسئلے پر ہمیشہ سرگرم رہے ہیں۔

لیکن ٹرمپ کے اس دورے کا واحد مقصد تجارت، معیشت اور اسلحہ کی فروخت تھا۔ نہ مسئلہ فلسطین کے حل میں ان کی دلچسپی نظر آئی، نہ غزہ میں جاری نسل کشی روکنے میں۔

جس امریکہ کی پشت پناہی میں اسرائیل خون کی ندیاں بہا رہا ہے، کیا اس پر دباؤ ڈال کر یہ قتل عام نہیں روکا جا سکتا تھا؟ افسوس کہ ایسا نہ خلیجی ممالک نے کیا، نہ ٹرمپ نے۔

ٹرمپ نے فلسطین سے زیادہ دلچسپی ہندوستان اور پاکستان کی کشیدگی میں لی۔ انہوں نے یہاں تک دعویٰ کر دیا کہ تجارت کے دباؤ سے انہوں نے ایک ممکنہ ایٹمی جنگ کو روک دیا۔ اس کا تذکرہ انہوں نے خلیجی دورے کے دوران کئی بار دہرایا۔

تو کیا سعودی عرب، قطر یا یو اے ای انہیں آمادہ نہیں کر سکتے تھے کہ وہ اپنے اتحادی اسرائیل کو روکے، جو ہر دن سیکڑوں بے گناہ فلسطینیوں کی جان لے رہا ہے؟

امن کا سفیر یا اسلحے کا تاجر؟

امریکہ سے امید کم ہی ہے کہ وہ فلسطینیوں کے حق میں کوئی قدم اٹھائے گا۔ اس کا واحد ہدف اسرائیل کا تحفظ اور فلسطینیوں کی دربدرگی ہے۔

ٹرمپ اگرچہ خود کو امن کا علمبردار ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور کچھ لوگ انہیں نوبل امن انعام کا امیدوار بھی سمجھنے لگے ہیں، مگر ان کے اقدامات کا رخ مختلف ہے۔

انہوں نے:

  • ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ رکوانے کا دعویٰ کیا

  • شام پر پابندیاں ہٹائیں

  • سعودی عرب میں شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات کی — وہی جن پر امریکہ نے 10 بلین ڈالر کا انعام رکھا تھا

  • ایران سے بات چیت اور نیوکلیائی امور پر مذاکرات کی امید بندھائی

  • روس اور یوکرین کے درمیان جنگ رکوانے کی ناکام کوشش کی

  • یوکرینی صدر زیلنسکی کو امریکہ بلا کر مذاکرات کیے

  • اسرائیل کو اعتماد میں لیے بغیر یمن کے حوثیوں سے خفیہ ڈیل کی

  • حماس سے درپردہ مذاکرات کیے اور ایک امریکی-اسرائیلی یرغمال عیدان الیگزینڈر کی رہائی ممکن بنائی

یہ سب کچھ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ٹرمپ نے دوسری مدت صدارت میں "جنگ” کے بجائے "کاروبار” کو ترجیح دی ہے۔

اسرائیل سے فاصلہ یا وقتی تدبیر؟

صہیونی ریاست کے قیام کے بعد شاید یہ پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی صدر نے اسرائیل کو اس قدر نظرانداز کیا ہو۔
اپنے چار روزہ مشرق وسطیٰ کے دورے میں ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر اور یو اے ای کی میزبانی قبول کی، مگر اسرائیل جانے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی۔ یقیناً یہ بات نیتن یاہو کو ناگوار گزری ہوگی۔

مگر خلیجی ممالک نے اس صورتحال سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔

اگرچہ سعودی عرب نے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کی کھلی حمایت نہیں کی، مگر اس کے باوجود ٹرمپ نے سعودی عرب سے ایک غیر فوجی نیوکلیائی معاہدہ طے کر لیا۔

خلیجی ممالک کے معاہدے اور امریکہ کا اسلحہ

اس دورے کے دوران:

  • $600 بلین ڈالر مالیت کے معاہدے کیے گئے

  • جن میں $142 بلین صرف اسلحہ کی فروخت سے متعلق تھے

  • قطر نے 200 بوئنگ طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا

  • قطر کے شاہی خاندان نے ٹرمپ کو $400 ملین مالیت کا ایک جمبو جیٹ بطور تحفہ پیش کیا

اس کے برعکس اسرائیل اب بھی امریکہ سے سب سے زیادہ مالی امداد پانے والا ملک ہے۔ 1951 تا 2022 امریکہ نے اسرائیل کو $317.9 بلین ڈالر کی امداد دی۔

اب یہ ٹرمپ پر منحصر ہے کہ وہ اس پالیسی کو جاری رکھتے ہیں یا خلیجی ممالک سے لین دین کو ترجیح دیتے ہیں۔

فلسطین کے لیے موقع یا پھر خسارہ؟

اگر ٹرمپ خلیجی ممالک سے لینے اور اسرائیل کو دینے کی پالیسی برقرار رکھتے ہیں، تو خلیجی ممالک کو بھی سوچنا ہو گا کہ وہ کب تک ایسے منصوبوں کا حصہ بنے رہیں گے جن سے بالآخر فائدہ اسرائیل کو پہنچتا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے حالیہ دورے میں جس طرح اسرائیل کو نظرانداز کیا ہے، اس سے بظاہر یہی تاثر ملتا ہے کہ وہ صہیونی ریاست سے فاصلہ اختیار کر رہے ہیں — جسے نیتن یاہو کی سیاسی ناکامی کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

اب خلیجی ممالک کی حقیقی کامیابی تب ہو گی جب وہ اپنے تجارتی اور ذاتی مفادات کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کو بھی مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لیے آمادہ کریں — اور غزہ میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کو کسی بھی قیمت پر رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

_____________________________

ڈاکٹر یامین انصاری ایک ممتاز صحافی، مصنف اور روزنامہ انقلاب کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں۔
_____________________________
یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جو ضروری نہیں کہ ادارے کے خیالات یا مؤقف کی عکاسی کرتی ہو۔ — ادارے کا ان آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

قیام پاکستان تشدد سے ہوا اور تشدد پر ہی قائم ہے

0
Pakistan-tashaddud-par-qaim
Pakistan-tashaddud-par-qaim

وزیر اعظم نریندر مودی نے دوٹوک اور واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ دہشت گردی صرف کوئی عام مجرمانہ سرگرمی نہیں بلکہ ایک اعلانیہ جنگ ہے۔ بھارت نے ان دہشت گردوں کو ہدف بنا کر انصاف کا وہ چراغ روشن کیا ہے جو برسوں سے بجھائے رکھا گیا تھا۔ یہ وہ چہرے تھے جو دہائیوں سے قانونی گرفت سے باہر تھے۔

پاکستان کے سخت گیر نظریاتی جرنل سید عاصم منیر نے حالیہ کشمیر حملے کی منظوری اس فرسودہ مگر زہریلے مفروضے کو دہرا کر دی کہ اسلام ایک قوم کی بنیاد کے لیے کافی ہے۔ برطانوی سرپرستی میں پروان چڑھنے والا دو قومی نظریہ، جس نے برصغیر کی تقسیم کی راہ ہموار کی، محض 24 برس بعد ہی 16 دسمبر 1971 کو اپنے انجام کو پہنچ گیا، جب بنگلہ دیش کے عوام نے اردو کی جگہ بنگلہ کو اپنایا اور اپنی آئینی شناخت کو لسانی بنیاد پر ازسرنو مرتب کیا۔

اسلام کبھی کسی سیاسی ریاست کا واحد جواز نہیں رہا۔ اگر اسلام ہی کافی ہوتا تو 22 عرب ممالک کیوں وجود میں آتے؟ ان کے پاس تو مذہب اور زبان دونوں مشترک ہیں۔ اسلام ایک عقیدہ ہے، اسے کسی سرحد میں قید نہیں کیا جا سکتا۔

1971 کے بعد پاکستان نے اپنے قیام کے نظریے کی جگہ کوئی نیا قومی بیانیہ متعارف نہیں کرایا، بلکہ ایک ایسے خلا میں چلا گیا جہاں وہ ایک پرچم تلے مختلف نسلی شناختوں کے انتشار کو قابو میں رکھنے کی لاحاصل کوشش کرتا رہا۔ گزشتہ نصف صدی سے پاکستان ایک نظریاتی بھوت کو دوبارہ زندگی دینے کی سعی میں مبتلا ہے۔

دہشت گردی جو خون آلود اور دھندلی جنگ کی ایک شکل اختیار کر چکی ہے، ایک غیر مستحکم نظریاتی ریاست کا پسندیدہ اور ناگزیر ہتھیار بن گئی ہے۔ ایسی ریاست جہاں مستقل حکمرانی بدعنوان سیاست اور ناکارہ فوجی قیادت کے ایک خطرناک امتزاج پر قائم ہو، بالآخر انہی راستوں پر چلتی ہے۔ جنرل منیر نہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے تاریخ اور عقل کو نظر انداز کر کے جغرافیہ تلاش کرنے کی کوتاہی کی، اور نہ ہی آخری ہوں گے۔

پاکستان نے اپنی عملی زندگی کے آغاز کے صرف دس ہفتے بعد ہی جدید دہشت گردی کی بنیاد رکھ دی۔ 22 اکتوبر 1947 کو، ایچ وی ہاڈسن کے مطابق، پاکستان نے تقریباً پانچ ہزار مسلح افراد کو، جنہیں "چھٹی پر گئے” پاکستانی فوجیوں کی پشت پناہی حاصل تھی، کشمیر پر حملے کے لیے روانہ کیا، تاکہ عید (جو اُس برس 26 اکتوبر کو تھی) سے قبل وادی پر قبضہ کر لیا جائے۔ ان حملہ آوروں نے راستے میں لوٹ مار کی، قتل و غارت مچائی، اور تباہی کے وہ مناظر چھوڑے جن کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ اُن کے نظریاتی وارث آج بھی سری نگر پر قبضے کا خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھے ہیں۔

پاکستان اب بھی اس خام خیالی میں مبتلا ہے کہ ایک ہی آزمودہ اور ناکام حکمتِ عملی کو دہرا کر وہ مختلف نتائج حاصل کر لے گا۔ مگر یہ سوچ بار بار ایک ہی انجام پر منتج ہوتی ہے: دہشت گردی، یلغار، جنگ، اور بالآخر شکست۔ اس فکری بانجھ پن پر حیرت ہوتی ہے۔ پاکستان کے مزاج میں یہ خمیر اس حد تک رچ بس گیا ہے کہ وہ شکست کو کبھی تسلیم نہیں کرتا، گویا شکست بھی اُس سے شکست کھا جائے۔

بھارتی وزرائے اعظم نے ہمیشہ زیادہ حقیقت پسندانہ اہداف کو ترجیح دی ہے، جن میں عوامی فلاح کے لیے معیشت کی مسلسل ترقی بھی شامل ہے۔ مگر جب بھی انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ جنگ کو واضح اہداف کے ذریعے محدود رکھا جانا چاہیے، وہ تنقید کی زد میں آ گئے۔ دہلی مستقل جنگ کا حامی نہیں۔ پاکستان خواہ ایک بند دائرے میں قید ہو، بھارت ایک وسیع دنیا کا حصہ ہے۔

محترمہ اندرا گاندھی، جنہیں بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد بی جے پی کے سرکردہ رہنما اٹل بہاری واجپئی نے دیوی درگا کے لقب سے یاد کیا تھا، اس وقت عوامی تنقید کا نشانہ بنیں جب انہوں نے 16 دسمبر 1971 کو یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا۔ حالانکہ بھارتی افواج اُس وقت پاکستان کو بری طرح شکست دے چکی تھیں اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں داخل ہونے کی پوری گنجائش موجود تھی، مگر اندرا گاندھی نے فیصلہ کن لمحے پر جنگ روک دی۔ حتیٰ کہ 1972 کے شملہ معاہدے میں بھی، جہاں پاکستان کے 93 ہزار جنگی قیدی بھارت کی تحویل میں تھے، انہوں نے مسئلہ کشمیر کے کسی مستقل اور ٹھوس حل پر زور نہیں دیا۔

اس کے برعکس، وزیر اعظم نریندر مودی نے جنگ بندی تب قبول کی جب انہوں نے پاکستان کے جوہری اثاثوں کے بالکل قریب واقع سرگودھا پر ایک حیران کن حملہ کر کے اسلام آباد کو ایک غیر معمولی اور سخت پیغام دیا۔ بھارتی میزائل خطا نہیں کرتے۔ جیسے جیسے اس حملے کی تفصیلات منظر عام پر آ رہی ہیں، بھارت کی عسکری ساکھ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان ہل کر رہ گیا، اور امریکہ نے پیغام بخوبی سمجھ لیا۔ اب دونوں اس امر سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ بھارت نہ صرف فوری اور مؤثر جوابی وار کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی فولاد جیسی ارادی قوت بھی کسی مصلحت کی محتاج نہیں۔ جیسا کہ انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو واضح الفاظ میں کہا: "اگلی بار انجام اس سے کہیں زیادہ ہولناک ہوگا۔”

امریکہ تب ہی متحرک ہوتا ہے جب خطرہ اپنی حد سے تجاوز کر جائے۔ 1999 میں، بل کلنٹن نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو صاف الفاظ میں حکم دیا کہ وہ کارگل سے فوری طور پر پسپائی اختیار کریں۔ شریف نے امریکہ کے صدر کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا۔ بعد ازاں اُن کے بھائی شہباز شریف نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے اسی عاجزانہ روش کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان اگرچہ چین کا تابع فرمان کلائنٹ اسٹیٹ ہے، لیکن ساتھ ہی وہ امریکہ کا خدمت گزار ریاست بھی ہے۔ یہ داخلی تضاد اب پاکستان کی قومی شناخت کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔

پاکستان اب ایک ایسا اسلامی ڈان کیہوتے بن چکا ہے جس کے ہاتھ میں ایٹمی نیزہ تھما دیا گیا ہے۔ 2001–2002 میں جب بھارتی پارلیمان پر دہشت گرد حملہ ہوا تو پورا برصغیر ایک ممکنہ ایٹمی تصادم کے دہانے پر جا پہنچا۔ اُس وقت وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور وزیر دفاع جارج فرنانڈس نے "کولڈ اسٹارٹ” نامی حکمت عملی تیار کی، جس کے تحت بھارت کبھی بھی پہل نہیں کرے گا، لیکن اگر جواب دینا پڑا تو وہ انتہائی شدید اور فیصلہ کن ہوگا۔ ایسا جوہری بادل پیدا ہوگا جو بغیر کوئی سرحد پہچانے صرف تباہ کن گا۔

2008 ممبئی حملہ کا وہ ایک موقع تھا جب بھارت نے پاکستانی دہشت گردی پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جب پاکستانی سرپرستوں اور دہشت گردوں کے درمیان براہ راست روابط کے ٹھوس اور ناقابل تردید شواہد دستیاب تھے اُس وقت بھی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا۔ اس کمزوری کا سیاسی خمیازہ بالآخر کانگریس پارٹی کو اٹھانا پڑا۔

اس کے برعکس وزیر اعظم نریندر مودی نے دوٹوک انداز میں واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی محض جرم نہیں بلکہ کھلی جنگ ہے، اور اب کوئی بھی فاصلہ پیدا کرنے والا عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔ گزشتہ ہفتے بھارت نے ان دہشت گردوں کو نشانہ بنا کر انصاف کیا ہے جو کئی دہائیوں سے مطلوب تھے۔ تاہم جنگ بندی کے بعد سب سے بڑا سفارتی چیلنج یہ ہے کہ ایک مؤثر انسداد دہشت گردی پروٹوکول تشکیل دیا جائے جو اس بات کا قابل اعتماد ثبوت فراہم کرے کہ آئندہ کسی بھی حملے میں پاکستانی ریاست کا کوئی براہِ راست یا بالواسطہ کردار نہیں ہوگا۔ مگر یہ وہ کام ہے جو کاغذ پر تو آسان نظر آتا ہے مگر عملی طور پر نہایت پیچیدہ اور دشوار ہوتا ہے۔

بھارت کے تقریباً ہر وزیرِ اعظم کو دہشت گردی کی ہولناکیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 1980 اور 1990 کی دہائیاں خون میں ڈوبی ہوئی تھیں، جب پاکستان کے آمر اور سیاستدان اس خوش فہمی میں مبتلا ہو گئے تھے کہ ان کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی نے بھارت کو کمزور کر دیا ہے اور اسے ٹکڑوں میں بانٹنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ مگر وہ ایک ایسے بھارت کو سمجھنے میں ہمیشہ ناکام رہے جو قرون وسطیٰ کا کوئی اتفاقی جغرافیائی حادثہ نہیں ایک ایسا ملک ہے جو جدید قومی ریاست کا عملی نمونہ ہے۔ افسوس کہ آج بھی وہ اسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔

جنرل عاصم منیر 20 نومبر 2022 کو آرمی چیف بنے اور صرف تین دن قبل جب ان کی ریٹائرمنٹ طے تھی۔ ان کی مدت ملازمت اس برس نومبر میں مکمل ہو رہی ہے۔ دو قومی نظریے پر ان کی حالیہ تقریر سے پہلے تک ان کی قیادت خاموشی اور پردہ داری میں ڈھکی رہی۔ لیکن اکثر اوقات خاموشی میں وہ اشارے چھپے ہوتے ہیں جنہیں سننے والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔ اب وہ کھل کر نظریاتی زبان میں گفتگو کر رہے ہیں، اور یہ تبدیلی یقیناً سیاسی نتائج کی حامل ہے۔

کیا یہ نظریاتی جارحیت کسی آئندہ مارشل لا کا پیش خیمہ ہے؟ اگر جنرل منیر کو توسیع دی گئی تو کیا یہ اس بات کا اشارہ نہیں ہوگا کہ وہ حافظ سعید کی نئی سیاسی کٹھ پتلی، "پاکستان مرکزی مسلم لیگ”، کو آئندہ انتخابات کے بعد اقتدار میں لانا چاہتے ہیں، شاید کسی مفاداتی اتحاد کے ذریعے؟ یہ امر کچھ بعید از قیاس بھی نہیں، کہ جو عناصر فرقہ وارانہ دہشت گردی کو نظریاتی سرپرستی دیتے رہے ہیں، وہی آج مسلم لیگ کے نام کو دوبارہ زندہ کر کے اسے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔

بالآخر، پاکستان کی بنیاد کسی عوامی تحریک پر نہیں رکھی گئی تھی، بلکہ خالصتاً قتل عام اور فرقہ وارانہ خونریزی کی بنیاد پر رکھی گئی تھی جس کا آغاز 14 اگست 1946 کو کلکتہ کے عظیم فساد سے ہوا تھا۔

پاکستان کا جنم تشدد کے سائے میں ہوا، اور آج بھی صرف تشدد کے سہارے قائم ہے۔


ایم جے اکبر ایک ممتاز صحافی، مصنف اور سابق وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور ہیں، جنہوں نے برصغیر کی سیاست، تاریخ اور اسلام کے عالمی تناظر پر گہرے فکری شعور کے ساتھ متعدد کتب تصنیف کی ہیں۔
_____________________________
یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جو ضروری نہیں کہ ادارے کے خیالات یا مؤقف کی عکاسی کرتی ہو۔ — ادارے کا ان آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

وزیر اعظم مودی کی جانب سے فرضی خبروں کے خطرات پر کنٹرول کے لیے اہم اجلاس

0
<b>وزیر-اعظم-مودی-کی-جانب-سے-فرضی-خبروں-کے-خطرات-پر-کنٹرول-کے-لیے-اہم-اجلاس</b>
وزیر اعظم مودی کی جانب سے فرضی خبروں کے خطرات پر کنٹرول کے لیے اہم اجلاس

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے حالیہ دنوں میں فرضی خبروں اور غلط معلومات کی بڑھتی ہوئی خطرناکی کے پیش نظر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا۔ اس اجلاس میں مختلف مرکزی وزارتوں اور محکموں کے سیکریٹریوں نے شرکت کی، اور اس کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی غلط معلومات کے بہاؤ کو روکنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا تھا۔

اجلاس کا مقام: نئی دہلی میں واقع وزیر اعظم کے دفتر میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں ملک کی قومی سلامتی کی موجودہ صورتحال کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ وقت ملک کے لیے ایک خاص اہمیت کا حامل ہے، اور اس کے نتیجے میں عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے واضح مواصلات اور آپریشنل تیاری بہت اہم ہیں۔

اجلاس میں موجود عہدیداروں نے مختلف وزارتوں کی جانب سے موجودہ حالات کے بارے میں اپنی تفصیلات فراہم کیں۔ یہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ ان کے ادارے کسی بھی ہنگامی یا غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ وزیراعظم نے اس اجلاس میں کہا کہ فرضی خبروں کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ نہ صرف عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ قومی سلامتی کو بھی خطرہ ڈالتا ہے۔

اجلاس کی اہمیت

اجلاس کے دوران وزیر اعظم مودی نے چند انتہائی اہم نکات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا کیونکہ یہ عوام کے ذہنوں میں کنفیوژن پیدا کر سکتی ہیں اور عوامی امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ اس لیے سیکریٹریوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنی وزارتوں میں تیاری، مواصلاتی نظام اور ہنگامی ردعمل کے پروٹوکولز کا مکمل جائزہ لیں تاکہ کسی بھی خطرے کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ "ہمیں چاہیے کہ ہم ریاستی سطح کے اداروں اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رابطے میں رہیں تاکہ زمین پر بھی چوکسی برقرار رکھی جا سکے۔”

اجلاس میں سول سیکورٹی کے موجودہ نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی، جس میں اہم انفراسٹرکچر کی حفاظت اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے بروقت ردعمل کی تیاری شامل تھی۔

کون شریک ہوا؟

اجلاس میں کابینہ سیکریٹری ٹی وی سوماناتھن اور دفاع، داخلہ، خارجہ، اطلاعات و نشریات، بجلی، صحت، اور ٹیلی کمیونی کیشن جیسی اہم وزارتوں کے سیکریٹریوں نے بھی شرکت کی۔ ان سب نے اپنی وزارتوں کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا تفصیلاتی جائزہ پیش کیا، جس سے واضح ہوا کہ حکومت کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

اجلاس کے اختتام پر، وزیر اعظم مودی نے قوم کے سامنے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر ممکن تدبیر اختیار کرے گی تاکہ ملک میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

غلط معلومات کی حقیقت: کیوں ضروری ہے پوری قوم کو باخبر رکھنا؟

غلط معلومات کا پھیلاؤ ایک معاشرتی مسئلہ بن چکا ہے جس کے اثرات نہ صرف سماجی استحکام پر پڑتے ہیں بلکہ یہ قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے اس اجلاس میں یہ بھی واضح کیا کہ یہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر ایک شہری کا فرض ہے کہ وہ سچائی کی ترویج کرے اور فرضی خبروں کی نشاندہی کرے۔

اجلاس میں موجود سیکریٹریوں نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ وہ اپنی وزارتوں کی سطح پر ایسے اقدام کریں گے جو کہ عوام میں شعور و آگاہی پیدا کریں۔

نئی حکمت عملی کا آغاز

اجلاس میں بڑھتی ہوئی خطرات کے پیش نظر نئی حکمت عملیوں کا آغاز کیا گیا۔ اس میں یہ طے پایا گیا کہ وزارتوں کی سطح پر تربیت سیشنز منعقد کیے جائیں گے جس میں عوامی آگاہی، سوشل میڈیا کے استعمال اور غلط معلومات سے آگاہی فراہم کی جائے گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ "ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ فرضی خبریں کس طرح نفسیاتی جنگ کا حصہ بن سکتی ہیں اور ہمیں اپنی قوم کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ وہ ان کا سامنا کر سکیں۔”

اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شہریوں کو یہ سکھایا جائے کہ وہ کس طرح سچائی کی پہچان کر سکیں اور فرضی خبروں کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔

اجلاس میں جھوٹی معلومات کے خلاف آگاہی کے لیے منصوبہ بندی کا آغاز کیا گیا، جس کے تحت مختلف وزارتوں اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر بنانے کے لیے حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔

آخر میں

اجلاس میں ہونے والی گفتگو اور فیصلے نہ صرف عزم اور حکمت عملی کی علامت ہیں بلکہ یہ اس بات کے بھی عکاس ہیں کہ حکومت فرضی خبروں کے اثرات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور ان کے تدارک کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

ہندوستانی فوج نے پاکستانی آبی ذخائر پر بمباری، کشیدگی میں اضافہ

0
<h1>ہندوستانی-فوج-نے-پاکستانی-آبی-ذخائر-پر-بمباری،-کشیدگی-میں-اضافہ

ہندوستانی فوج نے پاکستانی آبی ذخائر پر بمباری، کشیدگی میں اضافہ

حملے کے بارے میں تفصیلات: کیوں، کیا، کب، کہاں، کون اور کیسے؟

پاکستان مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ہندوستانی فوج کی جانب سے کی گئی سرجیکل اسٹرائیک کے بعد ایک اور بڑی کارروائی کی گئی ہے۔ ہندوستان کی فضائیہ نے پاکستانی آبی ذخائر کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں نوسیری پشتہ متاثر ہوا ہے۔ یہ حملہ تقریباً دو بجے دوپہر کیا گیا، جہاں بم گرنے سے پشتہ کو شدید نقصان پہنچا۔

اس سلسلے میں پاکستانی فوج نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یہ کیمپ وادی نیلم کے قریب واقع ہیں، جو کہ ہندوستانی سرحد سے محض تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ہندوستان نے جیش محمد، لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین جیسے کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے کم از کم نو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب ہندوستانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی کہ یہ کارروائیاں ان علاقائی ٹھکانوں پر کی گئی ہیں جہاں پر مذکورہ دہشت گرد تنظیمیں موجود تھیں۔ ہندوستان کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ تنظیمیں دوبارہ حملوں کی تیاری میں تھیں، اور ان کے کیمپوں کو تباہ کرنا ضروری تھا۔

کیا یہ حملے محض ایک فوجی جواب ہیں یا کشیدگی کے نئے دور کا آغاز؟ یہ سوالات اب اہم بن چکے ہیں۔

حملے کا پس منظرحملے کا پس منظر اور عالمی ردعمل

یہ کارروائیاں مغربی سرحدوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ ہیں۔ پاکستان میں یہ باتیں گردش کر رہی ہیں کہ ہندوستان کی یہ کارروائیاں مزید بڑی کشیدگی کا باعث بن سکتی ہیں، خاص طور پر جب بات دونوں ملکوں کے درمیان پہلے ہی جاری تناؤ کی ہو۔

اس صورتحال کے باعث بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے اس واقعے کا مشاہدہ کر رہے ہیں، تاکہ صورتحال مزید نازک نہ ہو جائے۔ تیار کردہ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ہندوستان کی فوجی کارروائیاں خود کو دفاع کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کی جا رہی ہیں، لیکن ان کا اثر علاقائی استحکام پر پڑ سکتا ہے۔

آج کے اس حملے کے بعد پاکستان کی طرف سے جوابی کاروائی کا بھی اندیشہ ہے۔ پاکستانی فوجی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنی سرحدوں کا دفاع کریں گے۔

فوجی کارروائیاں اور دہشت گردی کی بیخ کنی

تحقیقات کے مطابق، ہندوستانی فوج کی یہ کارروائیاں اب صرف دفاع کی نوعیت کی نہیں رہیں، بلکہ یہ ایک حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کے تحت دہشت گردی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ہندوستانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ یہ اسٹرائیک ان علاقوں میں کی گئی ہے جہاں پر دہشت گردوں کے کیمپ تھے۔ اس میں جیش محمد کے 4 کیمپ، لشکر طیبہ کے 3 اور حزب المجاہدین کے 2 کیمپ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کیمپ دوبارہ حملے کی تیاری کر رہے تھے، اور ان کی فوری طور پر بیخ کنی ضروری تھی۔

علاقائی تشویش کو بڑھانے کے لیے یہ بھی ایک سبب ہے کہ یہ حملے کیسے عالمی سطح پر ردعمل کا باعث بن سکتے ہیں۔ بین الاقوامی برادری کو اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ آیا یہ کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم پیش رفت ہیں یا ایک نئے تنازع کی شروعات۔

اس وقت، دونوں ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ غیر ملکی امور کے ماہرین کی رائے ہے کہ اگر یہ تنازعہ جاری رہا تو اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

خلاصہ

یہ واضح ہے کہ ہندوستان کی جانب سے کی جانے والی یہ فوجی کارروائیاں ایک نئے دور کی شروعات کی علامت ہیں، اور ان کا اثر نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے پر پڑ سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے حکام کو سمجھنا چاہیے کہ اس قسم کی کشیدگی سے عالمی سطح پر بھی دباؤ بڑھتا ہے، اور اس کے اثرات درازمدت ہو سکتے ہیں۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

آپریشن سندور: قومی سلامتی کے امور پر کل جماعتی اجلاس کی تیاری

0
<b>آپریشن-سندور:-قومی-سلامتی-کے-امور-پر-کل-جماعتی-اجلاس-کی-تیاری</b>
آپریشن سندور: قومی سلامتی کے امور پر کل جماعتی اجلاس کی تیاری

نئی دہلی میں آپریشن سندور کی اہمیت: وزیر اعظم مودی کی صدر مرمو سے ملاقات

نئی دہلی: بدھ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی نے راشٹرپتی بھون پہنچ کر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو آپریشن سندور کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کیں۔ یہ آپریشن پاکستان اور پاکستان مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ اس ملاقات کا مقصد حکومت کے حالیہ اقدامات کے بارے میں آگاہ کرنا اور قومی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

آپریشن سندور کا آغاز منگل کی رات کو ہوا، جب ہندوستانی افواج نے پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے جواب میں 25 منٹ کی مختصر مگر شدت سے بھرپور کارروائی کی۔ اس کارروائی کے دوران، پاکستانی اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے کم از کم نو ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا۔ یہ آپریشن ہندوستان کی جانب سے ایک طاقتور پیغام سمجھا جا رہا ہے۔

حکومت نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر ملک کے شمالی اور مغربی حصے کے 18 ہوائی اڈوں پر سویلین پروازیں 10 مئی تک معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت لیہ، تھوائس، سری نگر، جموں، امرتسر اور دیگر کئی اہم ہوائی اڈے شامل ہیں۔ اس اہم اقدام کا مقصد ملک کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔

آپریشن سندور کی تفصیلات: حکومت کی جانب سے اہم فیصلے

آپریشن سندور کے حوالے سے وزیر اعظم مودی نے بدھ کو مرکزی کابینہ اور کابینہ کی سیکیورٹی امور کمیٹی کی میٹنگ بھی کی، جس میں آپریشن کے مختلف پہلوؤں پر گہرائی سے غور و خوض کیا گیا۔ اس میٹنگ کا مقصد ان تفصیلات کا جائزہ لینا تھا جو کہ قومی سلامتی کے استحکام کے حوالے سے اہم ہیں۔

حکومت نے اس کل جماعتی میٹنگ کے انعقاد کا فیصلہ بھی کیا ہے، جو کہ 8 مئی کو منعقد ہوگی۔ اس میٹنگ کا مقصد تمام سیاسی جماعتوں کو آپریشن سندور کی تفصیلات سے آگاہ کرنا ہے تاکہ قومی مفاد کے پیش نظر ایک مشترکہ موقف اپنایا جا سکے۔

پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے اس میٹنگ کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اجلاس جمعرات کو صبح 11 بجے پارلیمنٹ کمپلیکس کے لائبریری بلڈنگ میں واقع کمیٹی روم میں منعقد ہوگا۔ اس اجلاس کے دوران، حکومت کی کوشش ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں سلامتی کے مسائل پر ایک مشترکہ راہ اختیار کریں۔

آنے والے انتخابات کے تناظر میں قومی سلامتی

یہ کل جماعتی میٹنگ اس وقت انتہائی اہمیت کی حامل ہے جب کہ ملک میں عام انتخابات کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ قومی سلامتی کے معاملات پر سیاسی اتفاق رائے کو اہمیت دی جا رہی ہے، اور تمام جماعتوں کو آپریشن سندور کے پس منظر میں بریفنگ دینے کا مقصد ایک مضبوط قومی موقف بنانا ہے۔

اس کے علاوہ، ملک کے سیکیورٹی ادارے بھی اس صورتحال کا گہرائی سے مشاہدہ کر رہے ہیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری جواب دیا جا سکے۔

آخری پہلو: آپریشن سندور اور اس کے اثرات

پاکستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف آپریشن سندور کے نتیجے میں ہندوستان نے ایک مضبوط پیغام بھیجا ہے کہ ملک اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ یہ آپریشن نہ صرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ایک مثال ہے بلکہ اس سے حوصلہ افزائی بھی ملتی ہے کہ ہندوستان اپنے قومی مفادات کے حوالے سے کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اس اقدام کے اثرات آنے والے دنوں میں دکھائی دیں گے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ آپریشن بھارتی عوام کے لیے ایک طاقتور پیغام ہے کہ ملک اپنے دفاع کے لیے تیار ہے اور کسی بھی خطرے کو نظر انداز نہیں کرے گا۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

ہندوستانی فوج کا بڑا آپریشن: دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو چکنا چور کر دیا گیا

0
<b>ہندوستانی-فوج-کا-بڑا-آپریشن:-دہشت-گردوں-کے-نیٹ-ورک-کو-چکنا-چور-کر-دیا-گیا</b>
ہندوستانی فوج کا بڑا آپریشن: دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو چکنا چور کر دیا گیا

حملے کی تفصیلات: کب، کہاں اور کیسے

نئی دہلی (یو این آئی): ہندوستان کی مسلح افواج نے بیک وقت ایک بڑی فوجی کارروائی کی ہے جس میں پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں موجود دہشت گردوں کے 9 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ آپریشن "آپریشن سندور” کے نام سے جانا جا رہا ہے، جس کی قیادت کرنل صوفیہ قریشی اور ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ نے کی۔ یہ کارروائی 25 منٹ کے اندر مکمل کی گئی، جس میں کالعدم تنظیموں جیسے لشکر طیبہ اور جیش محمد کے ٹھکانوں پر 26 میزائل داغے گئے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں 80 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ 60 سے زیادہ زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

یہ حملے مظفر آباد، کوٹلی، بہاول پور، راول کوٹ، چک سواری، بمبر، وادی نیلم، جہلم اور چکوال میں کیے گئے ہیں۔ اس آپریشن کا مقصد یہ تھا کہ دہشت گردوں کی کارروائیوں کا مؤثر جواب دیا جا سکے، خاص طور پر حالیہ پہلگام حملے کے پیش نظر۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس کارروائی میں کسی بھی پاکستانی فوجی ٹھکانے کو نشانہ نہیں بنایا گیا، بلکہ صرف دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس فوجی کارروائی کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرنا نہایت ضروری تھا، خاص طور پر جب کہ ان کے مقامی سلیپر سیل فعال ہیں اور بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

کیوں یہ کارروائی ضروری تھی؟

حکومت کی جانب سے یہ کارروائی بھارت کی سلامتی کے تحفظ اور اس کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔ حالیہ پہلگام حملے کے بعد جس میں جانی نقصان ہوا تھا، یہ واضح تھا کہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کی بیخ کنی کرنی ہوگی ورنہ ان کے حملے جاری رہیں گے۔

اس وقت سیٹلائٹ تصاویر اور انٹیلیجنس رپورٹز نے یہ ثابت کیا کہ یہ دہشت گرد اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، اس لئے ان کی موجودگی کو ختم کرنے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا۔

اس کارروائی کے دوران منصوبہ بندی کا خاص خیال رکھا گیا کہ شہریوں کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔ اور یہ کامیاب آپریشن اس سلسلے میں ایک موثر جواب پیش کرتا ہے۔

مزید یہ کہ ان حملوں سے یہ ظاہر ہو گیا ہے کہ ہندوستانی فوج کسی بھی صورت میں اپنے شہریوں کی حفاظت کے لئے تیار ہے اور دہشت گردی کے خلاف ان کے عزم میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی۔

اس کے اثرات: دہشت گردوں کا نیٹ ورک متاثر ہوا

اس آپریشن کے نتیجے میں نہ صرف بہت سے دہشت گرد ہلاک ہوئے بلکہ ان کے نیٹ ورک کی طاقت بھی کمزور ہوئی ہے۔ یہ حملے ان دہشت گردوں کے حوصلے کو توڑنے کے لئے اہم ہیں، جو بیرون ملک سے آ کر ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کارروائی کے بعد اب دہشت گردوں میں اس کی صلاحیت نہیں رہی کہ وہ مزید دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دے سکیں۔ اس کے علاوہ، خفیہ اطلاعات کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ اب ان گروہوں کے پاس اپنی موجودگی کو برقرار رکھنے کی صلاحیت نہیں رہی ہے۔

مزید برآں، یہ کارروائی بین الاقوامی سطح پر بھی ہندوستان کے عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لئے تیار ہے۔

ہ ایک واضح پیغام ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پوری دنیا کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

خلاصہ: ایک ناگزیر کارروائی

یہ "آپریشن سندور” دراصل ان تمام خطرات کا جواب ہے جو کہ ہندوستان کی سرحدوں پر موجود ہیں۔ یہ کارروائی نہ صرف ہندوستانی فوج کی طاقت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ حکومت اپنے شہریوں کی سلامتی کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لئے تیار ہے۔

ڈس کلیمر
ہم نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس مضمون اور ہمارے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فراہم کردہ معلومات مستند، تصدیق شدہ اور معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی رائے یا شکایت ہو تو براہ کرم ہم سے info@hamslive.com پر رابطہ کریں۔

پاکستان کی سرحدی فائرنگ پر عمر عبداللہ کی سخت تنقید، شہریوں کے تحفظ کی ضرورت

0
<b>پاکستان-کی-سرحدی-فائرنگ-پر-عمر-عبداللہ-کی-سخت-تنقید،-شہریوں-کے-تحفظ-کی-ضرورت</b>
پاکستان کی سرحدی فائرنگ پر عمر عبداللہ کی سخت تنقید، شہریوں کے تحفظ کی ضرورت

پاکستان خود حالات کے لیے ذمہ دار، سرحد پر عام شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول

جموں و کشمیر کے پہلگام میں حالیہ دہشت گردانہ حملے کے بعد جب ہندوستانی فوج نے ’آپریشن سندور‘ کا آغاز کیا تو اس کے نتیجے میں پاکستانی فوج میں بے چینی پھیل گئی۔ اس دوران ہونے والے فائرنگ کے واقعات نے سرحد کے قریب رہنے والی شہری آبادی کے لیے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے اس صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک میٹنگ بلائی، جس میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا بھی شریک ہوئے۔ وزیر داخلہ نے یہ ہدایت کی کہ سرحد کے قریب رہنے والی شہری آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے اور ہنگامی حالت کے لیے بنکرز تیار رکھے جائیں۔

یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب پاکستانی فوج کی جانب سے فائرنگ کے واقعات میں عام شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات آنے لگیں۔ اس معاملے پر بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم نے تمام ڈپٹی کمشنرز سے رابطہ کیا ہے اور جہاں ضرورت ہوگی، شہریوں کو نکالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کے لیے پاکستان خود ذمہ دار ہے، کیوں کہ یہ صورتحال پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد پیدا ہوئی ہے، جس میں 26 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

سرحدی کشیدگی اور اس کے اثرات

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پاکستان کے فائرنگ کے واقعات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ حالات اس دہشت گردانہ حملے کا نتیجہ ہیں جو پہلگام میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے پاکستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کارروائیاں کیں، لیکن جواب میں پاکستان کی جانب سے ہمارے شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔” انہوں نے یقین دلایا کہ ان کے حکومت کے پاس اس معاملے پر کنٹرول نہیں ہے، لیکن وہ اپنی طرف سے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔

عمر عبداللہ نے مزید کہا، "یہ صورتحال وہاں سے شروع ہوئی، جہاں بے قصور لوگ ہلاک ہوئے۔ اگر پہلگام میں یہ واقعہ نہ ہوتا تو آج ہم اس صورتحال کا سامنا نہیں کر رہے ہوتے۔” ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم امن کی خواہش رکھتے ہیں تو پاکستان کو بھی اپنی بندوقیں خاموش کرنی ہوں گی، ورنہ یہاں سے بھی فائرنگ کا سلسلہ جاری رہے گا۔

حملے کے بعد کی صورتحال

یاد رہے کہ جموں و کشمیر کے پہلگام میں 22 اپریل کو ایک دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حملے کے بعد ہندوستانی فوج نے بدھ (7 مئی) کی صبح فضائی حملہ کیا جس میں پاکستان کے زیر کنٹرول کشمیر میں موجود دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا۔ یہ کارروائی ایک منظم انداز میں کی گئی تھی اور اس کا مقصد دہشت گردوں کی موجودگی کو ختم کرنا تھا تاکہ مقامی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

اس حوالے سے وزیر اعظم مودی کی حکومت نے بھی اس بات کا عزم کیا ہے کہ وہ اس قسم کے حملوں کا سختی سے جواب دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم کسی بھی صورت حال میں اپنے شہریوں کی حفاظت کریں گے اور کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو برداشت نہیں کریں گے۔

آنے والے دنوں کی حکمت عملی

حکومتی عہدیداروں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ سرحدوں پر موجود ہنگامی حالت کے لیے تمام تیاریاں مکمل کی جائیں گی۔ امیت شاہ نے ہدایت دی ہے کہ بنکرز تیار رکھے جائیں اور شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے۔ اس کے علاوہ، سرحدی علاقوں میں عوام کو آگاہ کرنے کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ وہ ہر ممکن خطرے سے آگاہ رہیں۔

عمر عبداللہ نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ ہم جنگ نہیں چاہتے، لیکن اگر ضرورت پیش آئی تو ہم ہر ممکن اقدام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ حالات ایک بار پھر معمول پر آئیں اور جموں و کشمیر میں امن و سکون قائم ہو۔

اگرچہ صورتحال نازک ہے، لیکن حکومتی عہدیدار عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، بین الاقوامی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہونے والی اس خطرناک صورتحال پر توجہ دے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے۔

عزم و ہمت کے ساتھ، ہم امن کی جانب بڑھیں گے

آخری تجزیے میں، یہ بات واضح ہے کہ پاکستان کی جانب سے سرحدی فائرنگ کے واقعات نے نہ صرف بین الاقوامی تعلقات کو متاثر کیا بلکہ مقامی آبادی میں بھی خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ حکومت نے اس بات کا عزم کیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جائے گی۔

اس صورتحال پر مزید تحقیقات اور شفافیت کی ضرورت ہے تاکہ عوام میں اعتماد قائم کیا جا سکے۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ وہ عوام کو ہر ممکن تحفظ فراہم کریں گے اور ان کی مشکلات کا ازالہ کریں گے۔

پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف بھارت کا سخت اقدام: آپریشن سندور کا آغاز

0
operation-sindoor-india-attacks-pakistan
ہندوستان کا پاکستان پر فضائی حملہ: آپریشن سندور

ہندوستانی فضائیہ کی جانب سے پاکستان کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

حالیہ دنوں میں ہندوستانی فوج نے پاکستان کے 9 دہشت گردانہ ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں، جسے ہندوستان نے ‘آپریشن سندور’ کا نام دیا ہے۔ یہ کارروائی اصل میں پہلگام حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ اس آپریشن کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کو ایک ایسا سبق سکھایا جائے کہ وہ دوبارہ ایسے حملے نہ کرے۔ یہ کارروائی ہفتے کی صبح کی گئی، جب ہندوستانی فضائیہ نے مشن کے تحت پاکستانی سرزمین پر کارروائی کی۔

پاکستان کی دہشت گردی کے بارے میں سخت موقف

اسد الدین اویسی، جو کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ ہیں، نے اس کارروائی کی بھرپور حمایت کی ہے۔ اویسی نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ہمیں پاکستان کے دہشت گرد انہ ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی ڈیپ اسٹیٹ کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔

دوسری جانب، بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے بھی اس کارروائی کی تعریف کی ہے اور کہا کہ ہمیں اپنے بہادر جوانوں پر فخر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے۔

آپریشن کے مضمرات اور قومی یکجہتی

اس آپریشن کے بعد نہ صرف ہندوستان کے اندر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کی رہنما پرینکا چترویدی نے بھی اس پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف یہ کارروائی ایک مضبوط جواب ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہندوستانی فوج ملک کی سلامتی کے لیے ہروقت تیار ہے۔

حملے کے بعد، کئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ ہندوستان کی سختی کو ظاہر کرتا ہے اور اس سے دیگر ملکوں کو بھی ایک پیغام ملتا ہے کہ ہندوستان اپنی سرحدوں کی حفاظت میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

بھارت کی دفاعی حکمت عملی میں تبدیلی

ہندوستان کے حالیہ اقدامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس کی دفاعی حکمت عملی میں ایک نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسی کو مزید جارحانہ بنا دیا ہے۔ اسد الدین اویسی اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے کی گئی اس حمایت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر سیاسی جماعتیں اس حکمت عملی کے ساتھ ہیں۔

پاکستان کا ردعمل

جی ہاں، آپریشن سندور کے بعد پاکستان کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستانی حکام نے اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ پاکستان نے اپنے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں۔

امن کی تلاش میں

ہر انسان کا یہ خواب ہوتا ہے کہ دنیا میں امن قائم ہو، لیکن جب دہشت گردی کا مسئلہ جڑ پکڑ لیتا ہے تو اس کا علاج بھی سخت کارروائیوں کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس معاملے میں یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ کیا یہ آپریشن صرف ایک وقتی جواب ہے یا اس کا اثر طویل مدتی ہوگا۔

ملکی اور بین الاقوامی اثرات

ایسی کارروائیاں نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرونی سطح پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں تناؤ بڑھ سکتا ہے، جس کی وجہ سے مذاکراتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، دونوں ممالک کے درمیان موجودہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے امن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

آپریشن سندور کی کامیابی کے بارے میں مختلف تبصرے جاری ہیں، اور یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آیا یہ کسی نئے دور کا آغاز ہے یا ایک عارضی حل۔

آپریشن سندور کی تفصیلات اور اثرات کو دیکھتے ہوئے، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ ایک نمایاں پیش رفت ہے، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اہم تبدیلیاں لا سکتی ہے۔

حکومت کی جانب سے حمایت

حکومت ہند کی جانب سے اس آپریشن کی بھرپور حمایت کی گئی ہے، اور عوامی حمایت بھی اس کے ساتھ ہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ آپریشن صرف ایک عارضی اقدام ہے یا اس کا اثر طویل مدتی ہوگا۔

ہندوستانی فوج کی جرات اور عزم کی لازوال مثال

ادھر عام آدمی پارٹی (عآپ) کی قیادت نے بھی بدھ کی صبح کی جانے والی ‘آپریشن سندور’ کی بھرپور حمایت کی ہے، جس میں ہندوستانی فوج نے مؤثر انداز میں پاکستان اور پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردی کے نو اہم اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اس تاریخی کارروائی کا مقصد پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کا مؤثر جواب دینا تھا۔ آپریشن سندور نے نہ صرف ہندوستانی عوام کی امیدوں کو بڑھایا بلکہ اس نے دراصل ایک نئی تاریخ رقم کی ہے کہ کس طرح ہندوستانی فوج نے دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط پیغام دیا ہے۔

آپریشن سندور کی تفصیلات

عآپ کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے پیغام میں کہا، "ہمیں ہندوستانی فوج اور اپنے بہادر سپاہیوں پر فخر ہے۔” انہوں نے اس کارروائی کو ایک بہترین مثال قرار دیا، اور جمہوریہ کی حفاظت کے لیے اُن کی قربانیوں کو سراہا۔ کیجریوال نے یہ بھی کہا کہ "140 کروڑ ہندوستانی اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔”

آپریشن سندور میں تینوں افواج — بری، بحری اور فضائیہ — نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ یہ کارروائی جدید ٹیکنالوجی اور خصوصی نشانہ باز اسلحہ کا استعمال کرتے ہوئے کی گئی، جہاں نو دہشت گرد ٹھکانوں کو کامیابی کے ساتھ تباہ کیا گیا۔ ان ٹھکانوں میں سے چار پاکستان کے شہروں بہاولپور، مریدکے اور سیالکوٹ میں واقع تھے، جبکہ پانچ دیگر مقبوضہ کشمیر میں موجود تھے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق، یہ آپریشن 1971 کے بعد سے پاکستان کے اندر سب سے گہری ہندوستانی کارروائی ہے، جہاں جیشِ محمد اور لشکرِ طیبہ جیسے تنظیموں کے سرکردہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔

پاکستان کی جانب سے جواب

آپریشن کے بعد، بدھ کی علی الصبح پاکستانی فوج نے بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بلا اشتعال فائرنگ اور شیلنگ کی۔ اس پر بھارتی فوج نے کہا کہ وہ اس خلاف ورزی کا "مناسب اور مؤثر” جواب دے رہی ہے، جس کی شدت اور اثرات کا اندازہ وقت کے ساتھ ہی ہوگا۔

عآپ کے سینئر لیڈر سنجے سنگھ نے بھی اس موقع پر ہندوستانی فوج کی حوصلہ افزائی کی اور کہا، "ہمیں ہندوستانی فوج پر فخر ہے۔ 140 کروڑ ہندوستانیوں کی نیک خواہشات آپ کے ساتھ ہیں۔” انہوں نے اس آپریشن کو ملک کی حفاظت کے لئے ایک سنہری موقع قرار دیا۔

مستقبل کے چیلنجز اور قومی یکجہتی

اگرچہ آپریشن سندور کی کامیابی نے ملک میں ایک نئی اُمید پیدا کی ہے، مگر یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ آسان نہیں ہوگی۔ ہر قوم کو اپنی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہوتا ہے، اور اس کے لئے عوامی حمایت بھی ضروری ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہر ہندوستانی اپنی فوج کے اس جہاد میں یکجہتی اور اخوت کا مظاہرہ کریں۔

یہ بھی اہم ہے کہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ فوجی طاقت کی بجائے، جمہوری سوچ اور امن کو پروان چڑھانے کی ضرورت بھی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اس طرح کے آپریشنز صرف ایک گھنٹہ کی جنگ نہیں، بلکہ ان کے پیچھے ایک مربوط حکمت عملی ہے جس میں ہر ایک سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

 آپریشن سندور: ایک پیغام

آپریشن سندور نے یہ واضح کیا ہے کہ ہندوستانی فوج نہ صرف اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے پوری طرح سے تیار ہے، بلکہ وہ دہشت گردی کے خلاف بھی ایک مضبوط پیغام دیتی ہے۔ اس آپریشن نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ جب ملک کی بات ہوتی ہے تو سب کو ایک ہی صفحے پر ہونا چاہئے۔

آج ہم سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی فوج کی حمایت کریں اور ان کی کوششوں کا اعتراف کریں۔ حقیقی کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب ہم سب متحد ہو کر چلیں گے اور اپنے ملک کی سلامتی کے لئے کام کریں گے۔

مزید تفصیلات کے لیے، آپ ہماری دیگر خبروں کو بھی دیکھ سکتے ہیں جیسے کہ[ہندوستان کی مسلح افواج کے آپریشنز](https://www.hamslivenews.com) اور[پاکستان میں دہشت گردی کی صورتحال](https://www.hamslivehindi.com

ایسے موقعوں پر قومی یکجہتی اور امن کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ہم اپنے جوانوں اور ملک کے دفاع کو مضبوط بنا سکیں۔ اس دوران، ہم سب کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ امن ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے، اور ہمیں ہمیشہ اس کی تلاش میں رہنا چاہیے۔

اسٹریٹجک جوابی کاروائی: راہل گاندھی کا قومی سلامتی کے حوالے سے بیان

0
<b>اسٹریٹجک-جوابی-کاروائی:-راہل-گاندھی-کا-قومی-سلامتی-کے-حوالے-سے-بیان</b>
اسٹریٹجک جوابی کاروائی: راہل گاندھی کا قومی سلامتی کے حوالے سے بیان

نئی دہلی: راہل گاندھی کی زندہ دلانہ حمایت

نئی دہلی: حالیہ دنوں میں پاکستان اور پاک مقبوضہ کشمیر سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ہندوستانی فوج کی کاروائیوں کے دوران، کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا کے رکن راہل گاندھی نے اپنے بیان میں ملک کی مسلح افواج کی بہادری کا ذکر کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا، "ہمیں اپنی مسلح افواج پر فخر ہے۔ جے ہند!” اس بیان میں راہل گاندھی نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کی کاروائیوں کا مؤثر جواب دے۔

قومی سلامتی اور فوج کے حوالے سے یہ بیان اس وقت آیا جب پہلگام میں ایک دہشت گردانہ حملہ ہوا، جس کے بعد راہل گاندھی نے کہا کہ ان کی پارٹی ایسے ہر حملے کی جوابی کاروائی میں حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ملک کی سکیورٹی اور قوم کے مفاد کے لیے متحد ہونا چاہیے۔

حکومت کی جوابی کاروائی کا وقت

پہلگام میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے کے تناظر میں، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت قوم کے لیے متحد ہونے کا ہے۔ کھڑگے نے اپنے بیان میں کہا، "کانگریس پارٹی ملک کی مسلح افواج اور حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردی کے خلاف ہر فیصلہ کن قدم کی حمایت کرتی ہے۔”

یہ بات اہم ہے کہ راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے دونوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فوج کی قربانیوں کی قدر کرنی چاہیے اور کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے خلاف لاپرواہی نہیں برتنی چاہیے۔ کھڑگے نے مزید کہا کہ "ہمیں اپنی بہادر افواج پر فخر ہے جنہوں نے پاک مقبوضہ کشمیر میں قائم دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائیاں ہمارے عزم، جرأت اور دفاعی صلاحیت کی غماز ہیں۔”

یہ بیان اس وقت آیا ہے جب حکومت نے ان دہشت گردانہ حملوں کا مؤثر جواب دینے کے لیے آپریشنز کا آغاز کیا ہے، جس میں راہل گاندھی کی جماعت نے حکومت کی حمایت کی ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی

جے رام رمیش نے بھی اس مسئلے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور لکھا، "پاکستان اور پاک مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کے تمام ذرائع کو ختم کرنے کے لیے ہندوستان کے عزم میں کسی قسم کی نرمی نہیں ہونی چاہیے، اور یہ عزم ہمیشہ اعلیٰ ترین قومی مفاد میں پیوست ہونا چاہیے۔”

یہ اشارہ بھی واضح کرتا ہے کہ کانگریس پارٹی اپنے موقف پر پورے طور پر قائم ہے اور ملک کے مفاد کی خاطر حکومت کی ہر کوشش کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت اتحاد اور یکجہتی کا ہے۔

امن کے لیے ہمارے اقدامات

کانگریس کے رہنماؤں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت کا مؤقف ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف سخت رہا ہے۔ کھڑگے نے مزید کہا کہ "کانگریس کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ دہشت گردی کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا اور اس کے خلاف حکومت کو جو بھی قدم اٹھانا ہو، کانگریس اس کی تائید کرے گی۔”

یہ واضح ہے کہ ملک کی سیاسی قیادت اس وقت قومی سلامتی کے معاملے پر ایک ساتھ ہے اور وہ مشترکہ طور پر دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط جواب دینے کے لیے یکجا ہو رہی ہے۔

اس پس منظر میں، راہل گاندھی اور کھڑگے کی بیانات یہ بتاتی ہیں کہ قومی سلامتی کے معاملے میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر پوری قوم کو یکجا ہونے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ایک مضبوط اور مستحکم جواب دے سکیں۔

ہندوستان کی مسلح افواج: قومی افتخار

یہ بات اہم ہے کہ راہل گاندھی اور دیگر کانگریسی رہنماؤں کی فوج کی حمایت اور قومی مفادات کی حفاظت کے لیے روز بروز بڑھتا ہوئے عزم دراصل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ قوم کی مہلک صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہم سب کو یکجا ہونا چاہیے۔

یہ ایک ایسا وقت ہے جب سیاسی جماعتیں اپنی ذاتی مفادات سے آگے بڑھ کر قوم کے مفادات کو مقدم رکھیں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جیسے جیسے حالات کی شدت بڑھتی ہے، ویسے ویسے قومی اتحاد کی ضرورت بھی بڑھتی ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ صورتحال میں ہر سیاسی رہنما کا فرض بنتا ہے کہ وہ قوم کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک موقف اپنائیں۔

مزید معلومات کے لیے پڑھیں:
-[انڈین نیشنل کانگریس کی تاریخ](https://www.inc.in)
-[ہندوستانی فوج کی کامیابیاں](https://www.indianarmy.nic.in)