پیر, مارچ 23, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 49

ہندوستان کا پہلا ’ریجنل ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم‘ بن کر تیار، پی ایم مودی کل کریں گے افتتاح

0
ہندوستان-کا-پہلا-’ریجنل-ریپڈ-ٹرانزٹ-سسٹم‘-بن-کر-تیار،-پی-ایم-مودی-کل-کریں-گے-افتتاح

ہندوستان کا پہلا ریجنل ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم (آر آر ٹی ایس) کوریڈور بن کر تیار ہو چکا ہے اور مسافروں کو 20 اکتوبر کا انتظار ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی اس کا افتتاح کریں گے۔ مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے دہلی-میرٹھ آر آر ٹی ایس تیار ہونے پر پی ایم مودی کو مبارکباد پیش کی ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کچھ تصویریں شیئر کی ہیں اور پی ایم مودی کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی 150 کلومیٹر کی دوری میں قصبوں اور شہروں کو جوڑنے کے لیے آر آر ٹی ایس کی ایک اور سوچ کی شروعات کر رہے ہیں۔ یہ پیش قدمی ہندوستان میں پہلی بار شروع کی جا رہی ہے۔‘‘

ہردیپ سنگھ پوری نے پوسٹ میں پی ایم مودی کی خوب تعریف بھی کی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ دنیا نے شاید ہی کبھی ایسا لیڈر دیکھا ہو جو غریبوں اور عام آدمی کے لیے اَربن موبیلٹی کو بہتر بنانے پر اتنی اہمیت دیتا ہو۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ کی شکل میں مودی جی نے بی آر ٹی ایس کی شروعات کی تھی جو اس بات کی بہترین مثال ہے کہ کس طرح شہری ٹرانسپورٹیشن کو کامیاب بنانے اور عام آدمی کے لیے زندگی کو آسان بنانے کا منصوبہ بنایا جانا چاہیے۔

بہرحال، دہلی-میرٹھ آر آر ٹی ایس ملک کا پہلا ریجنل ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم ہے۔ وزیر اعظم مودی 20 اکتوبر کو اس کا افتتاح کریں گے۔ اس کے بعد آر آر ٹی ایس کوریڈور کا صاحب آباد-دُہائی ڈیپو سیکٹر 21 اکتوبر سے مسافروں کے لیے کھل جائے گا۔ اس کے لیے ایک اسمارٹ ریپڈایکس کارڈ جاری کر کے بھی کیا جائے گا۔ صاحب آباد اور دُہائی ڈیپو کے درمیان پانچ اسٹیشن ہیں صاحب آباد، غازی آباد، گلدھر، دُہائی اور دُہائی ڈیپو۔

سپریم کورٹ نے مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں ستیندر جین کی ضمانت میں 6 نومبر تک توسیع کر دی

0
سپریم-کورٹ-نے-مبینہ-منی-لانڈرنگ-کیس-میں-ستیندر-جین-کی-ضمانت-میں-6-نومبر-تک-توسیع-کر-دی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں دہلی کے سابق وزیر ستیندر جین کی ضمانت میں 6 نومبر تک توسیع کر دی ہے۔ سپریم کورٹ نے 10 اکتوبر کے اپنے حکم میں ستیندر جین کو عبوری ضمانت دی تھی، جس میں اب 6 نومبر کو اگلی سماعت تک توسیع کی گئی ہے۔

ستیندر جین کو مئی میں کئی شرائط کے ساتھ طبی بنیادوں پر چھ ہفتوں کے لیے عبوری ضمانت دی گئی تھی، جس میں میڈیا سے بات کرنے اور بغیر اجازت کے دہلی چھوڑنے پر پابندی بھی شامل ہے۔ معاملہ 6 نومبر 2023 کو سہ پہر 03:00 بجے جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس بیلا ایم ترویدی کی بنچ کے سامنے فہرست بند کیا جائے گا۔

وہیں، پہلے دی گئی عبوری ضمانت کو سماعت کی اگلی تاریخ یعنی 6 نومبر 2023 تک بڑھا دیا گیا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے عدالت کو بتایا تھا کہ جین کا علاج حراست میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے طبی بنیادوں پر جین کو دی گئی ضمانت میں 8 اکتوبر تک توسیع کر دی تھی۔ جین کی 21 جولائی کو سرجری ہوئی تھی۔

عآپ لیڈر نے منی لانڈرنگ کے معاملات میں ای ڈی کے ذریعہ ضمانت کے لئے سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا، جس میں ان کی ضمانت کی درخواست کو مسترد کرنے کے دہلی ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اپریل میں، دہلی ہائی کورٹ نے عآپ لیڈر ستیندر جین کی ضمانت کی عرضی کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ درخواست گزار ایک بااثر شخص ہے اور ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر سکتا ہے۔

غزہ پر اسرائیلی بمباری، گھروں پر حملے جاری

0
غزہ-پر-اسرائیلی-بمباری،-گھروں-پر-حملے-جاری

غزہ: اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی دوسرے ہفتے میں جاری ہے، غزہ پر مسلسل اسرائیلی بمباری اور گھروں اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں مزید فلسطینیوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ فلسطینی میڈیا کا کہنا ہے کہ جمعرات کو غزہ کے جنوب میں وسطی خان یونس میں ایک مکان پر بمباری کے نتیجے میں 8 افراد جان سے گئے اور درجنوں زخمی ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ گھر ایک گنجان آباد محلے میں واقع ہے۔ اس سے پہلے فلسطینی ٹیلی ویژن نے کہا تھا کہ شمالی غزہ کی پٹی میں جبالیہ کیمپ میں ایک مکان پر اسرائیلی بمباری میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ ٹیلی ویژن نے مرنے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد نہیں بتائی۔

یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلسطینی میڈیا نے کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز غزہ میں دیر البلح میں 3 ٹاوروں کو بم سے اڑانے کی دھمکی دے رہی ہیں۔ مکینوں کو فوری طورپر وہاں سے نکلنے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فورسز نے دیر البلح میں مدینۃ الزہرہ کے ایک ٹاور پر انتباہی میزائل داغا تاکہ اسے تباہ کرنے کی تیاری کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے انتباہی میزائل نے دوسرے ٹاور کو نشانہ بنایا جس میں رہائشی اپارٹمنٹس کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

فلسطینی میڈیا نے کل شام بدھ کو رات گئے اطلاع دی ہے کہ غزہ کے جنوب میں واقع شہر رفح کے مغرب میں اسرائیلی بمباری میں 13 شہری مارے گئے جب کہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ فلسطینی میڈیا نے بتایا کہ بمباری میں ایک خاندان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع جبالیہ کیمپ کے انڈونیشیا کے ہسپتال میں پانچ افراد مارے گئےاور 12 زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب فلسطینی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے غزہ کے مختلف علاقوں میں حملوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ پٹی کے جنوبی علاقے خان یونس میں ایک مکان کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 9 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ اسرائیل غزہ کی پٹی پر 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے شروع کیے گئے حملے کے جواب میں زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں اب تک غزہ میں تین ہزار سے زاید افراد مارے جا چکے ہیں جب کہ ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہیں۔

کرناٹک: بی جے پی سے اتحاد پر جے ڈی ایس میں گھمسان، دیوگوڑا نے کرناٹک صدر کو پارٹی سے نکالا

0
کرناٹک:-بی-جے-پی-سے-اتحاد-پر-جے-ڈی-ایس-میں-گھمسان،-دیوگوڑا-نے-کرناٹک-صدر-کو-پارٹی-سے-نکالا

لوک سبھا انتخاب سے پہلے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنا جے ڈی ایس (جنتا دل سیکولر) کے لیے مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔ پارٹی کے اندر بغاوت کی آوازیں لگاتار بلند ہو رہی ہیں اور لیڈران و کارکنان کا پارٹی چھوڑنے کا ایک سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ مخالفین میں بیشتر کا تعلق اقلیتی طبقہ سے ہے۔ اس درمیان بڑی خبر یہ سامنے آ رہی ہے کہ جے ڈی ایس کے قومی صدر ایچ ڈی دیوگوڑا نے کرناٹک کے پارٹی صدر سی ایم ابراہیم کو پارٹی سے باہر نکال دیا ہے۔

دراصل سی ایم ابراہیم لگاتار جے ڈی ایس اور بی جے پی اتحاد کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے، جبکہ ایچ ڈی دیوگوڑا اس اتحاد سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایچ ڈی دیوگوڑا نے جمعرات کو اعلان کر دیا کہ پارٹی نے کرناٹک جے ڈی ایس صدر ابراہیم کو معطل کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک میٹنگ میں اتفاق رائے سے لیا گیا اور ایچ ڈی کماراسوامی کو کرناٹک میں جے ڈی ایس کا نیا ریاستی صدر منتخب کیا گیا ہے۔ میٹنگ کے بعد دیوگوڑا نے کہا کہ ’’ہم نے جے ڈی ایس کور کمیٹی کے اراکین کی میٹنگ بلائی، تبادلہ خیال کیا، سبھی کی رائے لی اور اس کے بعد سی ایم ابراہیم کو ریاستی صدر کے عہدہ سے ہٹا دیا۔‘‘

دراصل سی ایم ابراہیم نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میں پارٹی کا ریاستی صدر ہوں، تو مجھے پارٹی کیوں چھوڑنی چاہیے؟‘‘ ان کے اس رخ سے دیوگوڑا اور ایچ ڈی کماراسوامی سمیت جے ڈی ایس کے دیگر لیڈران بھی حیران رہ گئے۔ ابراہیم لگاتار جے ڈی ایس کا این ڈی اے اتحاد میں شامل ہونے کی مخالفت کر رہے تھے۔ انھوں نے سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کماراسوامی کے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کو لے کر ناراضگی ظاہر کی تھی۔ انھوں نے صاف طور پر کہا کہ ہم ایک سیکولر پارٹی ہیں اور کسی بھی وجہ سے بی جے پی سے ہاتھ نہین ملائیں گے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’میں (جے ڈی ایس کا) ریاستی صدر ہوں… ہم طے کریں گے کہ بی جے پی کو چھوڑ کر کس کے ساتھ اتحاد کرنا ہے… میں ان سے (کماراسوامی سے) واپس آنے کے لیے کہوں گا۔‘‘

واضح رہے کہ ایچ ڈی دیوگوڑا نے جب بی جے پی کے ساتھ جے ڈی ایس اتحاد کا اعلان کیا تو پارٹی کا ایک بڑا طبقہ اس سے حیران رہ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اتحاد کے فیصلہ کے بعد سے اب تک سینکڑوں لینڈران و کارکنان پارٹی کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر مسلم طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ بدھ کے روز میسور شہر کے نرسمھ راجہ اسمبلی حلقہ سے عبدالقادر سمیت 100 سے زیادہ عہدیداروں نے جے ڈی ایس سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ جے ڈی ایس کے نشان پر اسمبلی انتخاب لڑنے والے عبدالقادر نے کہا کہ ’’بی جے پی اور آر ایس ایس پورے ملک میں مسلم طبقہ کو نشانہ بنا رہی ہے۔ نفرت کی سیاست کر رہی ہے۔ وہ مسلم طبقہ کو پریشان کر رہے ہیں۔ بی جے پی لیڈران کھلے طور پر کہتے ہیں کہ وہ نہیں چاہتے کہ مسلم ووٹ دیں۔ ایسے میں ہم سبھی اس بات سے افسردہ ہیں کہ جے ڈی ایس کرناٹک میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد میں ہے۔‘‘

مسلم لیڈران کا کہنا ہے کہ ان کے دل میں جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کماراسوامی اور سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوگوڑا کے لیے احترام ہے، لیکن بی جے پی کے لیے نہیں۔ استعفیٰ دینے والے جے ڈی ایس کے اقلیتی لیڈران لگاتار کرناٹک جے ڈی ایس چیف سی ایم ابراہیم سے بھی گزارش کر رہے تھے کہ وہ فوراً استعفیٰ دے دیں۔ حالانکہ اب ایچ ڈی دیوگوڑا نے خود ابراہیم کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کر دیا ہے۔

چندرا بابو نائیڈو کی عدالتی حراست میں یکم نومبر تک توسیع

0
چندرا-بابو-نائیڈو-کی-عدالتی-حراست-میں-یکم-نومبر-تک-توسیع

وجئے واڑہ: وجئے واڑہ اے سی بی کورٹ نے جمعرات کو سابق وزیر اعلیٰ این۔ چندرا بابو نائیڈو کی عدالتی حراست میں یکم نومبر تک توسیع کر دی گئی۔ نائیڈو کو عملی طور پر راجمندری سنٹرل جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا۔ جج نے ریمانڈ میں دو ہفتے کی توسیع کر دی۔

نائیڈو نے جج سے کہا کہ انہیں جیل میں خطرہ ہے۔ جج نے ان سے اس بات کو تحریری طور پر دینے کو کہا۔ جج نے جیل حکام کو ہدایت دی کہ وہ نائیڈو کی طرف سے لکھے گئے خط کو عدالت کے سامنے رکھیں۔ تلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے صدر نے جج کو صحت کے مسائل سے بھی آگاہ کیا۔

جج نے جیل حکام کو چندرابابو نائیڈو کی میڈیکل رپورٹ بھی پیش کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے جیل حکام سے ان کی صحت اور علاج کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں معلومات لیں۔ سی آئی ڈی نے نائیڈو کو 9 ستمبر کو ایک مبینہ گھوٹالے میں گرفتار کیا تھا جو اس وقت ہوا تھا جب وہ وزیر اعلیٰ تھے۔ اگلے دن وجئے واڑہ اے سی بی کورٹ نے انہیں 22 ستمبر تک عدالتی حراست میں بھیج دیا۔ بعد ازاں انہیں جیل بھیج دیا گیا۔

یہ معاملہ ریاست آندھرا پردیش میں کلسٹرس آف سینٹرز آف ایکسیلنس (سی او ای) کے قیام سے متعلق ہے، جس کی کل تخمینہ لاگت 3300 کروڑ روپے تھی، جب نائیڈو وزیر اعلیٰ تھے۔ سی آئی ڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ مبینہ دھوکہ دہی سے ریاستی حکومت کو 371 کروڑ روپے کا بھاری نقصان ہوا ہے۔

اتر پردیش: پولیس کی بھرتی میں خواتین کو ملے گا 30 فیصد ریزرویشن، حکومت کا اعلان

0
اتر-پردیش:-پولیس-کی-بھرتی-میں-خواتین-کو-ملے-گا-30-فیصد-ریزرویشن،-حکومت-کا-اعلان

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے آج ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواتین سے متعلق ایک بڑا اعلان کیا۔ انھوں نے یوپی پولیس کی بھرتی میں خواتین کے لیے 30 فیصد ریزرویشن دینے کی بات کہی اور ساتھ ہی مرکزی حکومت و ریاستی حکومت کے فلاحی منصوبوں کو بھی شمار کرایا۔

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ اعلان ہاتھرس کے باگلا ڈگری کالج میدان میں منعقد ’ناری شکتی وندن‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے ساتھ ہی کہا کہ ’’2017 سے پہلے ریاست میں انارکی کا ماحول رہتا تھا، بہن بیٹیاں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی تھیں، لیکن اب خواتین خود کو محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ بی جے پی جو کہتی ہے وہ کر کے دکھاتی ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’گزشتہ ساڑھے نو سال کے اندر ایک نئے ہندوستان کو دیکھا ہے، جہاں ذات اور مذہب کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس‘ کے جذبہ کے ساتھ ملک آگے بڑھ رہا ہے۔‘‘

یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ریاست نے ساڑھے نو سال میں اتر پردیش کو بدلتے ہوئے دیکھا ہے۔ آج 55 لاکھ لوگوں کو گھر مل چکے ہیں، مفت میں بجلی کنکشن ملے ہیں۔ ’پی ایم آیوشمان یوجنا‘ کے تحت 10 کروڑ لوگوں کو فائدہ ملا ہے۔ کووڈ دور میں لوگوں کو 220 کروڑ کی مفت ویکسین لگائی گئی۔

حکومت ہند کو بیرونی ممالک کی جنگ کے تئیں اپنے موقف پر مضبوطی سے قائم رہنا چاہئے: مایاوتی

0
حکومت-ہند-کو-بیرونی-ممالک-کی-جنگ-کے-تئیں-اپنے-موقف-پر-مضبوطی-سے-قائم-رہنا-چاہئے:-مایاوتی

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سربراہ مایاوتی نے آج کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے یوکرین جنگ پر کہا تھا کہ آج کا زمانہ جنگ کا نہیں ہے۔ اب حکومت ہند کو غزہ میں جاری جنگ پر بھی اپنے اسی موقف پر قائم رہنا چاہیے۔

مایاوتی نے آج ایک ٹویٹ میں کہا، ‘جب مودی جی نے روس- یوکرین جنگ کے بارے میں کہا کہ آج کا دور جنگ کا نہیں ہے، تو مغربی لیڈروں نے ان کی بہت تعریف کی تھی۔ اب ہندوستان کو غزہ جنگ کے حوالے سے بھی اپنے موقف پر مضبوطی سے قائم رہنے کی ضرورت ہے، جس کا احساس سب کو ہونا چاہیے۔”

انہوں نے کہا، ’’دنیا میں کہیں بھی جنگ کیوں نہ ہو، آج کی عالمی نظام میں زیادہ تر ممالک کی معیشتیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ یوکرین کی جنگ جاری ہے اور پوری دنیا اس سے متاثر ہے۔ اس لیے کسی کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ دنیا میں کسی بھی دوسری نئی جنگ انسانیت کے لیے کتنی تباہ کن ہوگی۔‘‘

بی ایس پی سپریمو نے کہا، ’’اپنی آزادی کے بعد سے، ہندوستان دنیا میں امن، ہم آہنگی اور آزادی اور غیرجانبداری وغیرہ کے حوالے سے بہت سرگرم رہا ہے، جس کی تحریک اور طاقت اسے اس کے مساواتی اور انسانیت پسند آئین سے ملی ہے۔ ہندوستان کی یہ امتیازی شناخت دنیا بھر میں قائم رہنی چاہیے۔‘‘

سپریم کورٹ نے یو اے پی اے معاملے میں نیوز کلک ایڈیٹر کی عرضی پر دہلی پولیس کو نوٹس کیا جاری

0
سپریم-کورٹ-نے-یو-اے-پی-اے-معاملے-میں-نیوز-کلک-ایڈیٹر-کی-عرضی-پر-دہلی-پولیس-کو-نوٹس-کیا-جاری

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو نیوز کلک کے بانی اور ایڈیٹر ان چیف پربیر پورکایستھ اور ایچ آر ہیڈ امت چکرورتی کی طرف سے دائر درخواستوں پر دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا۔ درخواستوں میں ان کی پولیس حراست کو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت کیس میں چیلنج کیا گیا ہے۔

بنچ میں جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس پی کے مشرا نے دلائل سنے اور تین ہفتوں کے اندر جواب طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا۔اس معاملے کی مزید سماعت 30 اکتوبر کو کی جائے گی۔ الزام ہے کہ نیوز پورٹل کو چین نواز پروپیگنڈہ چلانے کے لیے رقم ملی تھی۔

گزشتہ ہفتے، دہلی ہائی کورٹ نے پورکایستھ اور چکرورتی کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا اور پولیس ریمانڈ کو برقرار رکھا۔ یہ دونوں 10 اکتوبر سے عدالتی حراست میں ہیں۔

خیال رہے کہ 3 اکتوبر کو دہلی پولیس نے نیوز کلک کے دفتر اور نیوز پورٹل کے ایڈیٹرز اور صحافیوں کی رہائش گاہوں سمیت متعدد چھاپوں کے بعد دونوں کو گرفتار کیا تھا۔ ہائی کورٹ کی جانب سے درخواستوں کو مسترد کیے جانے کے بعد پورکایستھ پیر کو سپریم کورٹ پہنچے۔

تلنگانہ میں صرف ایک خاندان کا راج، لوگوں کا سی ایم سے کوئی لینا دینا نہیں: راہل گاندھی

0
تلنگانہ-میں-صرف-ایک-خاندان-کا-راج،-لوگوں-کا-سی-ایم-سے-کوئی-لینا-دینا-نہیں:-راہل-گاندھی

حیدرآباد: کانگریس لیڈر راہل گاندھی تلنگانہ میں پارٹی کی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ تلنگانہ کے بھوپال پلی سے پنور گاؤں تک کانگریس کی انتخابی مہم کے دوران لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے راہل نے بی جے پی، بی آر ایس اور اے آئی ایم آئی ایم کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’وزیر اعلیٰ کے سی آر انتخابات ہارنے والے ہیں۔ یہ لڑائی بادشاہ اور عوام کی لڑائی ہے۔ آپ تلنگانہ میں عوام کی حکمرانی چاہتے تھے لیکن یہاں صرف ایک خاندان کی حکومت ہے۔‘‘

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہل نے کہا کہ تلنگانہ میں صرف ایک خاندان کی حکومت ہے۔ وزیراعلیٰ کو عوام سے کوئی سروکار نہیں۔ ملک میں بدعنوانی کی سب سے زیادہ سطح تلنگانہ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی، بی آر ایس اور ایم آئی ایم، تینوں ایک ساتھ ہیں۔ سی بی آئی یا ای ڈی تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے پیچھے کیوں نہیں جاتی؟ ای ڈی کو لے کر ان دنوں ملک میں کافی سیاست چل رہی ہے۔ کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ ای ڈی کو جان بوجھ کر اپوزیشن لیڈروں کے پیچھے لگایا جا رہا ہے۔

دریں اثنا، راہل گاندھی نے ذات پر مبنی مردم شماری کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا ’’ملک میں سب سے اہم مسئلہ ذات پر مبنی مردم شماری کا ہے، جس سے معلوم چلے گا ہ ملک میں کتنے دلت، او بی سی، قبائلی اور عام زمرے کے لوگ ہیں اور کس کی کتنی شراکت داری ہے۔‘‘ انہوں نے ہکا کہ یہ ایکس رے کی طرح ہے اور اس سے معلوم ہوگا ملک کی دولت کس طرح تقسیم کی جا رہی ہے۔

بجلی کے شدید بحران کا خطرہ! کوئلے کی وجہ سے کالے ہو سکتے ہیں تہوار

0
بجلی-کے-شدید-بحران-کا-خطرہ!-کوئلے-کی-وجہ-سے-کالے-ہو-سکتے-ہیں-تہوار

نئی دہلی: ملک بھر میں تہواروں کا آغاز ہو چکا ہے اور یہ سلسلہ آئندہ ایک دو ماہ تک مسلسل جاری رہے گا۔ تاہم، تہواروں کے موسم کے اختتام پر، اس بات کا خطرہ ہے کہ تقریبات ختم ہو جائیں گی۔ جوں جوں صورتحال بہتر ہو رہی ہے، خدشہ ہے کہ تہواروں کے دوران بجلی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے اور لوگوں کے گھروں کی روشنیاں بھی چل سکتی ہیں۔

روئٹرز کی ایک حالیہ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں کے دوران ملک کے پاور پلانٹس کے کوئلے کے ذخائر میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ درحقیقت بجلی کی مانگ بڑھ گئی ہے جس کی وجہ سے پیداوار بڑھانا پڑی ہے۔ مجموعی صورتحال یہ ہے کہ طلب رسد کی نسبت کم ہو رہی ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں کے دوران پاور پلانٹس کے کوئلے کے ذخائر میں جس رفتار سے کمی آئی ہے وہ دو سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں کے دوران پاور پلانٹ کے کوئلے کا ذخیرہ 12.6 فیصد کم ہو کر 20.58 ملین میٹرک ٹن پر آ گیا ہے۔ یہ نومبر 2021 کے بعد کوئلے کے ذخائر کی کم ترین سطح ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ستمبر 2021 کے دوسرے پندرھوڑے کے بعد کوئلے کے ذخائر میں یہ سب سے زیادہ کمی ہے۔

گرڈ ریگولیٹر کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں کے دوران کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس میں بجلی کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ سالانہ بنیادوں پر تقریباً 33 فیصد رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اکتوبر 2022 کے پہلے پندرہ دن کے مقابلے میں اکتوبر 2023 کے پہلے پندرہ دن میں کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کی پیداوار 33 فیصد زیادہ رہی ہے۔ اس سے پہلے ستمبر کے مہینے میں 21.6 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ ستمبر کے مہینے کے مقابلے اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں کے دوران ترقی کی رفتار تیز رہی۔

اس عرصے کے دوران قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے بجلی کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ زیر جائزہ مدت کے دوران پن بجلی کی پیداوار میں 26.8 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ بجلی کی کل پیداوار میں قابل تجدید توانائی کے ذرائع یعنی ہوا کی توانائی، شمسی توانائی وغیرہ کا حصہ اکتوبر کے پہلے پندرہ دن میں کم ہو کر 10.1 فیصد رہ گیا ہے۔ گزشتہ ماہ ستمبر میں یہ حصہ 12.1 فیصد تھا۔ یہ کمی ایسے وقت میں آئی ہے جب دوسری طرف بجلی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس میں پیداوار بڑھانے کی ضرورت پیش آئی ہے۔