پیر, مارچ 23, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 48

کانگریس کی دوسری فہرست پر کمل ناتھ کا ردعمل، ‘ایم پی میں 18 سال کی بدانتظامی جلد ختم ہوگی’

0
کانگریس-کی-دوسری-فہرست-پر-کمل-ناتھ-کا-ردعمل،-‘ایم-پی-میں-18-سال-کی-بدانتظامی-جلد-ختم-ہوگی’

بھوپال: کانگریس نے مدھیہ پردیش میں ہونے والے انتخابات کے لیے جمعرات کی رات دیر گئے اپنے امیدواروں کی دوسری فہرست جاری کی۔ اس فہرست میں 88 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے۔ فہرست جاری ہونے کے بعد ریاستی کانگریس صدر کمل ناتھ نے اپنے بیان میں تمام امیدواروں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا ’’کانگریس پارٹی کے امیدوار صرف ایم ایل اے بننے کے لیے نہیں لڑ رہے ہیں بلکہ مدھیہ پردیش کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے انتخابی میدان میں بھی اترے ہیں۔ آج کے بعد سے ہم سب اپنی پوری طاقت کے ساتھ اپنے فرائض میں شامل ہوں اور مدھیہ پردیش سے 18 سال کی بدانتظامی کو ختم کرنے کے لیے تیار رہیں۔ مدھیہ پردیش میں بھاری اکثریت کے ساتھ کانگریس پارٹی کی حکومت بنائیں۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے مدھیہ پردیش میں 230 ممبران اسمبلی کے انتخابات کے لیے ایک کو چھوڑ کر تمام امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔ ریاست میں 17 نومبر کو ووٹنگ ہوگی۔ اس سے قبل 15 اکتوبر کو پارٹی نے 144 سیٹوں کے لیے پہلی فہرست میں امیدواروں کے نام جاری کیے تھے لیکن پارٹی نے دوسری فہرست میں تین سیٹوں پر امیدواروں کو تبدیل کیا ہے۔

کانگریس نے اپنی دوسری فہرست میں دتیا، گوٹیگاؤں اور پچور سیٹوں سے امیدواروں کو تبدیل کیا ہے۔ دتیا سے اودھیش نائک کا ٹکٹ منسوخ کر کے کانگریس کے سینئر لیڈر راجندر بھارتی کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ وہ بی جے پی امیدوار اور ایم پی وزیر داخلہ نروتم مشرا سے مقابلہ کریں گے۔ پچھور میں شیلیندر سنگھ کا ٹکٹ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ اروند سنگھ لودھی کو امیدوار بنایا گیا ہے۔

اسی طرح پارٹی نے گوٹیگاؤں ایس سی اسمبلی حلقہ سے شیکھر چودھری کی جگہ نرمدا پرساد پرجاپتی کو میدان میں اتارا ہے۔ پارٹی نے رویندر سنگھ تومر کو دیمانی اسمبلی سیٹ سے امیدوار بنایا ہے۔ ان کا مقابلہ مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر سے ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس نے سنیل شرما کو گوالیار اسمبلی سیٹ سے میدان میں اتارا ہے جسے مرکزی وزیر جیوترادتیہ سندھیا کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ خیال رہے کہ مدھیہ پردیش میں 230 رکنی اسمبلی کے لیے اگلے ماہ 17 نومبر کو ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہوگی، جب کہ ووٹوں کی گنتی دیگر انتخابی ریاستوں کے ساتھ دسمبر میں ہوگی۔

بھارت: مردوں کے لیے مانع حمل انجکشن کا کامیاب تجربہ

0
بھارت:-مردوں-کے-لیے-مانع-حمل-انجکشن-کا-کامیاب-تجربہ

مردوں کے لیے ایک موثر مانع حمل کی تیاری کا خواب پورا ہوگیا ہے۔ بھارت میں بایو میڈیکل ریسرچ کے اعلیٰ ترین ادارے انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے بتایا کہ اس نے دوا کے تجربات کے تمام تینوں مراحل مکمل کرلیے ہیں۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ایک انجکشن 13سال تک مانع حمل کا کام کرسکتا ہے اور اس کے بعد اس کے اثر کو پوری طرح پلٹا بھی جاسکتا ہے۔

اس انجکشن کا نام Reversible Inhibition of Sperm under Guidance یا RISUG رکھا گیا ہے۔ اسے بھارت کے موقر تعلیمی ادارے آئی آئی ٹی کھڑگ پور کے پروفیسر ڈاکٹر سوجوئے کمار گوہا نے ڈیولپ کیا ہے۔

بھارتی میڈیا میں شائع رپورٹوں کے مطابق ڈاکٹر گوہا کا تحریر کردہ آر آئی ایس یو جی پر پہلا سائنسی مقالہ سن 1979 میں شائع ہوا تھا۔ یعنی اس کا تجربہ مکمل ہونے میں 40سال سے بھی زیادہ کا عرصہ لگا۔ اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی اوپن ایکسس والی جرنل اینڈرولوجی میں اس تجربے کے نتائج شائع ہوئے ہیں۔ جن میں بتایا گیا ہے کہ آر آئی ایس یو جی کو مادہ منویہ والی رگوں میں انجکشن کے ذریعہ ڈالا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس میں موجود پالیمر رگوں کی اندرونی دیوار سے چپک جاتا ہے۔

یہ پالیمر جب مادہ منویہ کے رابطے میں آتا ہے تو ان کے پچھلے حصے کو تباہ کردیتا ہے، جس سے اسپرم عورت کے بیضہ دانی میں موجود انڈوں کو فرٹیلائز کرکے حمل ٹھہرانے کی اپنی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ آر آئی ایس یو جی نے 303 مردوں پر اس کا تجربہ کیا اور سات سالوں تک ان کی اور ان کی بیویوں کی صحت پر نگاہ رکھی گئی۔ اور ان میں کسی طرح کے منفی اثرات نہیں پائے گئے۔

یہ تمام مرد صحت مند، شادی شدہ اور جنسی عمل کے لحاظ سے سرگرم تھے اور ان کی عمر 25 سے 40 سال کے درمیان تھی۔ انہیں 60 ملی لیٹر آر ایس یو جی دی گئی۔ یہ تجربات نئی دہلی، جے پور، اودھم پور، کھڑگ پور اور لدھیانہ میں واقع ہسپتالوں میں کیے گئے۔ اس تجربے کے لیے مالی امداد بھارت کی وزارت صحت نے فراہم کی۔

تجربے کے دوران آر ایس یو جی کی مانع حمل صلاحیت 99.02 فیصد پائی گئی اور اس کوئی سنگین سائیڈ ایفکٹ بھی نہیں پائے گئے۔ اس کی ناکامی کی شرح بھی کنڈوم کے پھٹ جانے کی شرح سے کم پائی گئی۔ حالانکہ بعض مردوں میں بخار، سوجن، پیشاب کی نالی میں انفکشن جیسے کچھ مسائل پائے گئے لیکن ان پر بھی چند ہفتوں سے لے کر تقریباً تین ماہ کے دوران قابو پالیا گیا۔

آر ایس یو جی کا تعلق ہارمون سے نہیں ہے اس لیے جسم کے دیگر حصوں پر اس کا کسی طرح کا کوئی اثر نہیں پایا گیا۔ ریسرچ میں شامل ڈاکٹر آر ایس شرما کا کہنا ہے کہ یہ دوا بازار میں لانے کے لیے ریگولیٹری کی اجازت ملنے کے بعد اس کے لیے دوا بنانے والی کمپنی تلاش کرنا بھی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی دوا کمپنی اتنی موثر دوا فروخت کرنا نہیں چاہے گی، بالخصوص مردوں کے لیے، جو فیملی پلاننگ میں شامل ہونے سے بچتے رہتے ہیں۔

یہ سوال بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ آر ایس یو جی کو ریگولیٹری کی اجازت کب ملتی ہے اور دوا کب اور کیسے مارکیٹ میں آتی ہے۔ کتنے مرد اس دوا کو استعمال کرنے میں دلچسپی ظاہر کریں گے، یہ بھی ایک بڑا سوال ہے۔

بھارت میں فلسطین نواز مظاہرین کے خلاف کارروائیاں

0
بھارت-میں-فلسطین-نواز-مظاہرین-کے-خلاف-کارروائیاں

اسرائیل مخالف مظاہرین کے خلاف کارروائی کا تازہ ترین واقعہ بدھ کے روز ممبئی میں پیش آیا جب پولیس نے جنوبی ممبئی میں اسرائیلی پرچم کی مبینہ توہین کرنے کے الزام میں چار افراد کو گرفتار کرلیا۔

پولیس نے یہ کارروائی بھنڈی بازار علاقے میں ایک چوراہے پر اسرائیلی پرچم کی مبینہ توہین کا ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جانے کے بعد کی۔ ممبئی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ اسرائیل اور حماس میں حالیہ لڑائی شروع ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا پر خصوصی نگاہ رکھی جارہی ہے اور امن و قانون کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی معاملے سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

لیکن انتظامیہ کی جانب سے کارروائیوں کے باوجود بھارت کے مختلف ریاستوں اور اہم شہروں میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ جموں و کشمیر، کولکاتہ، بنگلورو سے بھی مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔ جب کہ متعدد جماعتوں نے جنوبی ریاست تمل ناڈو کے دارالحکومت چینئی میں مظاہروں کی اپیل کی ہے۔

بی جے پی کی حکومت والی اترپردیش ریاست کے حمیر پور میں پولیس نے ایک مسلم مذہبی رہنما کو مبینہ طورپر فلسطین کی حمایت کرنے پر "منافرت پھیلانے” کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔جب کہ ایک دیگر مسلم مذہبی رہنما کو تلاش کررہی ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ مسلم مذہبی رہنما سہیل انصاری نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ وہ فلسطین کی حمایت کرتے ہیں۔ ایک دیگر پوسٹ میں انہوں نے لوگوں کو مبینہ طور پر مسجد میں جمع ہونے کی اپیل کی تھی۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ "انہوں نے اپنی پوسٹ میں بعض ایسے تبصرے کیے تھے جو ممنوع ہیں اور جن سے امن وقانون کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔” ایک مقامی عدالت نے سہیل انصاری کو 14دنوں کے لیے عدالتی تحویل میں دے دیا ہے۔

قبل ازیں اترپردیش میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں فلسطینیوں کی حمایت میں جلوس نکالنے کے الزام میں چار طالب علموں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ خیال رہے کہ ہندو قوم پرست رہنما ریاستی وزیر اعلی یوگی ادیتیہ ناتھ نے وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل فلسطین کے تنازعے میں ایسا کوئی بیان یا کوئی عمل برداشت نہیں کیا جائے گا جو مرکزی (مودی) حکومت کے موقف کے خلاف ہو۔

بھارت ایک خودمختار اور آزاد فلسطین ریاست کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن 7 اکتوبر کو حماس کی طرف سے اسرائیل پر حملے کے چند گھنٹے کے اندر ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر پوسٹ اپنے بیان میں کہا کہ انہیں "ان دہشت گردانہ حملوں سے سخت صدمہ پہنچا ہے۔اور وہ مصیبت کی اس گھڑی میں اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ "

حالانکہ بعد میں جب اس بیان پرنکتہ چینی ہونے لگی تو بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرکے بھارت کے دیرینہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ، "بھارت ایک خودمختار،آزاد اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے براہ راست مذاکرات کے دوبارہ آغازکی وکالت کرتا ہے جہاں وہ اسرائیل کے ساتھ محفوظ اور تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر ایک دوسرے کے ساتھ امن سے رہ سکیں۔”

تجزیہ کاروں نے وزیر اعظم مودی کے بیان پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار آنند کے سہائے کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی نے "دہشت گردی کی تمام شکلوں” کی مخالفت کا ذکر بنیادی طورپر پاکستان کے پس منظر میں کیا ہے۔ لیکن یہ بھارت کی فلسطین کے حوالے سے دیرینہ پالیسی کے خلاف ہے۔

دہلی کے مشہور جنتر منتر علاقے میں بھی درجنوں افراد بالخصوص جواہر لال نہرو یونیورسٹی، دہلی یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ، اساتذہ اور دانشوروں نے فلسطین کے حق میں مظاہرے کیے۔ پولیس نے کم از کم 60 مظاہرین کو حراست میں لے لیا اور بعد میں ایک دور افتادہ جگہ پر لے جا کرچھوڑ دیا۔ مظاہرین "فلسطین کے لیے امن” اور "غزہ ہم تمہارے ساتھ ہیں” کے نعرے لگا رہے تھے۔

اپوزیشن جماعتوں نے بھی فلسطین کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے باضابطہ بیانات جاری کرنے کے ساتھ ہی ایک 20 رکنی وفد کے ساتھ دہلی میں فلسطینی سفیر سے ملاقات کی۔ فلسطینی سفیر عدنان ابوالہیجا نے بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا،”ہمیں امید ہے کہ بھارت غزہ کے محصور کو روکنے میں اچھا کردار ادا کرے گا اور غزہ میں ہمارے لوگوں تک انسانی امداد پہنچنے میں مدد کے لیے اسرائیلی حکومت پر دباو ڈالے گا۔”

’غزہ میں حالات ٹھیک نہیں، فی الحال ہندوستانیوں کو نکالنا مشکل‘، حکومت ہند کا بیان

0
’غزہ-میں-حالات-ٹھیک-نہیں،-فی-الحال-ہندوستانیوں-کو-نکالنا-مشکل‘،-حکومت-ہند-کا-بیان

غزہ میں اسرائیل کا فضائی حملہ جاری ہے جس سے حماس-اسرائیل جنگ نے تشویشناک صورت اختیار کر لی ہے۔ اسرائیل سے تو حکومت ہند نے ’آپریشن اجئے‘ شروع کر سینکڑوں ہندوستانیوں کو وطن واپس لایا ہے، لیکن غزہ میں پھنسے کچھ ہندوستانیوں کو وہاں سے نکالنا مشکل ہو رہا ہے۔ اس درمیان حکومت ہند نے کہا ہے کہ غزہ میں 4 ہندوستانی موجود ہیں اور فی الحال جو حالات دیکھنے کو مل رہے ہیں، اس میں ان لوگوں کو وہاں سے نکالنا ٹھیک نہیں ہوگا۔

دراصل مرکزی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی کا ایک بیان سامنے آیا ہے۔ اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’غزہ میں جو حالات ہیں، اس میں کسی کو نکالنا مشکل ہے۔ لیکن اگر ہمیں موقع ملا تو ہم انھیں (ہندوستانیوں کو) ضرور باہر نکال لیں گے۔‘‘ وزارت کا کہنا ہے کہ چار ہندوستانی شہریوں میں سے ایک ویسٹ بینک میں ہے۔ یہ بھی جانکاری دی گئی کہ غزہ میں کسی بھی ہندوستان کے ہلاک ہونے یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

اس درمیان ارندم باگچی نے غزہ کے اسپتال پر ہوئے بہیمانہ حملے میں ہلاک تقریباً 500 افراد کے تئیں اپنی ہمدردی ظاہر کی اور کہا کہ ’’وزیر اعظم نے شہریوں کی اموات پر فکر ظاہر کی ہے اور کنبوں کے تئیں اظہارِ ہمدردی کی ہے۔ ہندوستان سبھی طرح کے تشدد کی مذمت کرتا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’فلسطین ایشو پر ہم نے اپنی بات دہرائی ہے۔ ہم دونوں ممالک کے آپسی حل کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘

دی وائر کے ایڈیٹرس سے ضبط کردہ الیکٹرانک ڈیوائز واپس کرنے کا دہلی کورٹ نے دیا حکم

0
’دی-وائر‘-کے-ایڈیٹرس-سے-ضبط-کردہ-الیکٹرانک-ڈیوائز-واپس-کیے-جائیں،-دہلی-کورٹ-کا-پولیس-کو-حکم

دہلی کی ایک عدالت نے مجسٹریٹ کورٹ کے اس حکم کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں نیوز پورٹل ’دی وائر‘ کے ایڈیٹرس سے ضبط کردہ الیکٹرانکس ڈیوائز کو واپس کرنے کا حکم دہلی پولیس کو دیا گیا تھا۔ مجسٹریٹ کورٹ کے اس حکم کے خلاف دہلی پولیس نے دہلی کے تیس ہزاری کورٹ میں عرضی داخل کی تھی، لیکن اسے ایڈیشنل سیشن جج پون سنگھ راجاوت نے مسترد کر دیا ہے۔

دراصل بی جے پی لیڈر امت مالویہ کے ذریعہ کی گئی ایف آئی آر کو پیش نظر رکھتے ہوئے دہلی پولیس نے گزشتہ سال اکتوبر ماہ میں چھاپہ ماری کی تھی اور ’دی وائر‘ کے ایڈیٹرس کے اہم الیکٹرانک ڈیوائز کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس معاملے میں رواں سال 23 ستمبر کو چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ نے حکم دیا تھا کہ سبھی الیکٹرانک ڈیوائز کو ایڈیٹرس کے حوالے کیا جائے۔ اسی حکم کے خلاف دہلی پولیس نے عرضی داخل کی تھی، لیکن مجسٹریٹ کورٹ کے حکم کو تیس ہزاری کورٹ نے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج پون سنگھ راجاوت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’’پریس کو ہماری عظیم جمہوریت کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے، اور اگر اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے تو یہ ہماری جمہوریت کی بنیادوں کو شدید چوٹ پہنچانے والا عمل ہوگا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’الیکٹرانکس ڈیوائز کی مسلسل ضبطی‘ کر کے دہلی پولیس نہ صرف ایڈیٹرس کو بے جا مشکلات میں ڈال رہی ہے بلکہ یہ عمل ان کے پیشے کی آزادی کے ساتھ ساتھ اظہار رائے کی آزادی کے بنیادی حق کو بھی متاثر کرتا ہے۔

 

کھڑگے نے غزہ کے اسپتال پر بمباری کی شدید مذمت کی، ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ

0
کھڑگے-نے-غزہ-کے-اسپتال-پر-بمباری-کی-شدید-مذمت-کی،-ذمہ-داروں-کو-جوابدہ-ٹھہرانے-کا-مطالبہ

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے غزہ کے ایک اسپتال اور رہائشی علاقوں میں کیے گئے ہوائی حملے کو ’نامناسب اور سنگین انسانی بحران‘ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے لیے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی کھڑگے نے کہا کہ کانگریس فوری جنگ بندی کرنے اور غزہ کے پریشان حال لوگوں کو اخلاقی امداد دستیاب کرانے کی اپنی اپیل دہراتی ہے۔

کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں حزب مخالف لیڈر ملکارجن کھڑگے نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی پارٹی فوری جنگ بندی اور غزہ میں بحران کے شکار لوگوں کو اخلاقی امداد دستیاب کرانے کی اپیل کرتی ہے اور سبھی فریقین سے تشدد اور جنگ کا راستہ چھوڑ کر بات چیت و سفارتی عمل شروع کرنے کا گزارش کرتی ہے تاکہ فلسطینی لوگوں کی امیدیں پوری ہوں اور اسرائیل کی تحفظ سے متعلق فکر بھی دور ہو۔

کھڑگے نے کہا کہ غزہ میں اسپتال اور رہائشی علاقوں پر اندھا دھند بمباری کے سبب سینکڑوں بے قصور مردوں، خواتین اور بچوں کی جان چلی گئی۔ یہ ’نامناسب اور سنگین انسانی بحران ہے جس کے لیے مجرمین کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ کانگریس نے 8 اکتوبر کو اسرائیل کے لوگوں پر حماس کے ذریعہ کیے گئے ظالمانہ حملوں کی مذمت کی تھی۔ کھڑگے کا کہنا ہے کہ ’’اسرائیلی فوجوں کے ذریعہ شہری علاقوں میں اندھا دھند کارروائی بھی ناقابل قبول ہے، جس میں غزہ پٹی کی گھیرا بندی اور وہاں بمباری کی گئی ہے۔‘‘

کانگریس صدر نے کہا کہ ’’کانگریس فلسطینی لوگوں کے حقوق کے لیے اپنی طویل مدتی حمایت کو دہراتی ہے۔ اپنے خود مختار ملک میں وقار، اعزاز اور برابری کی زندگی کے لیے فلسطینی لوگوں کی امیدیں طویل مدت سے چلی آ رہی ہیں اور پوری طرح سے جائز ہیں۔ ان امیدوں کو مستقل طور سے دبایا اور نکارا گیا ہے۔ لاکھوں فلسطینیوں کو بے دخل اور نقل مکانی کو مجبور کیا گیا ہے۔ وہ خوف کے ماحول میں رہ رہے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے دوران 9 اکتوبر کو اپنے قرارداد میں کانگریس نے کہا تھا کہ سی ڈبلیو سی مغربی ایشیا میں پیدا جنگ پر اپنی مایوسی اور تکلیف ظاہر کرتی ہے جہاں گزشتہ دو دن میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں۔ سی ڈبلیو سی فلسطینی لوگوں کی زمین، اپنی حکمرانی اور وقار و اعزاز کے ساتھ زندگی گزارنے کے حقوق کے لیے اپنی طویل مدت سے چلی آ رہی حمایت کو دہراتی ہے۔ سی ڈبلیو سی فوری جنگ بندی کی اپیل کرتی ہے اور سبھی زیر التوا ایشوز پر بات چیت شروع کرنے کی اپیل کرتی ہے، وہ لازمی ایشوز جنھوں نے موجودہ جنگ کو جنم دیا ہے۔

پی ایم مودی نے فلسطینی صدر محمود عباس سے فون پر کی بات، کہا ’اخلاقی امداد جاری رکھیں گے‘

0
پی-ایم-مودی-نے-فلسطینی-صدر-محمود-عباس-سے-فون-پر-کی-بات،-کہا-’اخلاقی-امداد-جاری-رکھیں-گے‘

اسرائیل اور حماس کے بیچ جنگ جاری ہے اور اسے روکنے کی کوئی بھی کوشش اب تک کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ اس درمیان ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے فلسطینی صدر محمود عباس سے فون پر بات کی۔ اس کی جانکاری خود انھوں نے سوشل میڈیا کے ذریعہ دی اور کہا کہ انھوں نے فلسطینی صدر سے غزہ کے الاہلی اسپتال میں ہوئے دھماکہ میں ہلاک ہونے والے لوگوں کے تئیں اپنی ہمدردی کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے ہندوستان-فلسطین تعلقات کو لے کر اپنا رخ بھی واضح کیا۔

پی ایم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جو پوسٹ کیا ہے اس میں لکھا ہے کہ ’’فلسطین اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ساتھ بات چیت کی۔ اس دوران میں نے غزہ کے الاہلی اسپتال میں لوگوں کی موت پر اپنی ہمدردی ظاہر کی۔ ہم فلسطین کے لوگوں کے لیے اخلاقی امداد بھیجنا جاری رکھیں گے۔ ہم نے علاقے میں دہشت گردی، تشدد اور بگڑتے سیکورٹی سے متعلق حالات پر اپنی گہری فکر ظاہر کی ہے۔‘‘ ساتھ ہی پی ایم مودی نے بتایا کہ ’’ہم نے اسرائیل-فلسطین ایشو پر ہندوستان کی طویل مدت سے چلی آ رہی اصولی حالت کو دہرایا۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ کچھ سالوں میں ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان نزدیکیاں بڑھی ہیں۔ ایسے میں پی ایم مودی کے تازہ بیان کو کافی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں بھی حکومت ہند کو فلسطین کے ساتھ کھڑے ہونے کا مشورہ دے رہی ہیں۔ دراصل حماس کے حملے کے بعد پی ایم مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے فون پر بات کی تھی۔ اس دوران پی ایم مودی نے نیتن یاہو سے کہا تھا کہ ’’ہم آپ کے ساتھ متحد ہو کر کھڑے ہیں۔‘‘ پی ایم مودی نے حماس کے حملے کو دہشت گردانہ بھی قرار دیا تھا۔ اب فلسطینی صدر سے ان کی ہوئی گفتگو کو کئی معنوں میں اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

گیانواپی تنازعہ: وضو خانہ کا سروے کرائے جانے کے مطالبہ پر سماعت مکمل، 21 اکتوبر کو آئے گا فیصلہ

0
گیانواپی-تنازعہ:-وضو-خانہ-کا-سروے-کرائے-جانے-کے-مطالبہ-پر-سماعت-مکمل،-21-اکتوبر-کو-آئے-گا-فیصلہ

وارانسی میں گیانواپی مسجد کا وضو خانہ اس وقت بند ہے کیونکہ اس کے اے ایس آئی سروے کرائے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس مطالبہ کو منظور کیا جائے گا یا نہیں، اس سلسلے میں فیصلہ 21 اکتوبر کو صادر کیا جائے گا۔ دراصل وضو خانہ کا اے ایس آئی سروے کرانے کے لیے راکھی سنگھ کی طرف سے داخل عرضی پر 19 اکتوبر کو سماعت مکمل ہو گئی ہے۔ دونوں فریقین کی دلیلیں سننے کے بعد ضلع جج کی عدالت نے حکم کے لیے 21 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ماں شرنگار گوری کیس کی عرضی گزار راکھی سنگھ نے گزشتہ 29 اگست 2023 کو وکیل سوربھ تیواری اور انوپم دویدی کے ذریعہ سے گیانواپی کے سیل وضو خانہ کے اے ایس آئی سروے کے لیے 64 صفحات کی درخواست داخل کی تھی۔ مسجد کمیٹی نے راکھی سنگھ کی طرف سے داخل عرضی پر سخت اعتراض درج کرتے ہوئے وضو خانہ کے سروے کی مخالفت کی ہے۔

مسجد کمیٹی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے 17 مئی 2022 کو وضو خانہ کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے اسے سیل کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم سے بالاتر جا کر وضو خانہ کے اے ایس آئی سروے کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔ اس معاملے میں بھی اعتراض داخل کیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے 17 مئی 2022 کو وضو خانہ اور شیولنگ علاقہ کو مھفوظ کرنے کا حکم ضلع مجسٹریٹ کو دیا تھا۔

بہرحال، عدالت کو جانکاری دی گئی ہے کہ اے ایس آئی کے سائنسی سروے سے ڈھانچہ کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ وضو خانہ پوری طرح سے محفوظ رہے گا اور سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق موجودہ حالت بنی رہے گی۔ جمعرات کو ہوئی سماعت میں دونوں فریقین کے وکلا نے دلیل پیش کی۔ عدالت نے پورا معاملہ سننے کے بعد حکم کے لیے 21 اکتوبر کی تاریخ طے کی ہے۔

تلنگانہ: راہل گاندھی نے ذات پر مبنی مردم شماری کا کیا وعدہ، مودی-کے سی آر پر ہوئے حملہ آور

0
تلنگانہ:-راہل-گاندھی-نے-ذات-پر-مبنی-مردم-شماری-کا-کیا-وعدہ،-مودی-کے-سی-آر-پر-ہوئے-حملہ-آور

تلنگانہ اسمبلی انتخاب کے پیش نظر سبھی پارٹیاں انتخابی تشہیر میں مصروف ہیں۔ کانگریس نے جمعرات کو بھوپال پلی ضلع میں کئی نکڑ اجلاس منعقد کیے جس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے وعدہ کیا کہ ریاست میں اقتدار میں آنے کے بعد کانگریس پارٹی ریاست میں ذات پر مبنی مردم شماری کرائے گی۔ انھوں نے ذات پر مبنی مردم شماری کو ملک کا سب سے بڑا ایشو بتاتے ہوئے اس پر وزیر اعظم مودی اور وزیر اعلیٰ کے. چندرشیکھر راؤ کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔

تلنگانہ میں دوسرے دن انتخابی تشہیر کر رہے راہل گاندھی نے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری ایک ایکسرے کی طرح ہوگی جو یہ مقرر کرے گی کہ ملک میں پسماندہ طبقات کی آبادی صرف 5 فیصد ہے یا نہیں۔ ہندوستان کے بجٹ کے صرف 5 فیصد حصے پر او بی سی کا قبضہ ہے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ملک میں او بی سی آبادی صرف 5 فیصد ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس پہلے ہی چھتیس گڑھ، راجستھان اور کرناٹک میں ذات پر مبنی مردم شماری کا حکم دے چکی ہے۔ اگر ہماری پارٹی تلنگانہ میں اقتدار میں آتی ہے تو سب سے پہلے ہم یہاں تلنگانہ کا ایکسرے کریں گے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ’ایکسرے‘ سے یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ وزیر اعلیٰ کے کنبہ نے تلنگانہ کے لوگوں کا کتنا پیسہ لوٹا۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ کانگریس غریبوں، کسانوں اور مزدوروں کی حکومت دے گی۔

راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ تلنگانہ میں ایک کنبہ کی حکومت چل رہی ہے۔ ملک کی سبھی ریاستوں میں سب سے زیادہ بدعنوانی تلنگانہ میں ہے۔ بدعنوانی کا تلنگانہ ماڈل دوسری ریاستوں میں برآمد کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے لیے تحریک کے دوران لوگوں کو امید تھی کہ نئی ریاست میں عوام کی حکومت آئے گی، لیکن ریاست کی تشکیل کے بعد وزیر اعلیٰ نے خود کو لوگوں سے دور کر لیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آپ کا خواب عوام کی حکومت کا تھا، لیکن آپ نے پایا کہ ایک کنبہ آپ پر حکومت کر رہا ہے۔‘‘

کانگریس لیڈر نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ کے سی آر واقعی میں بی جے پی کے خلاف لڑ رہے تھے تو ان کے خلاف سی بی آئی، ای ڈی یا کسی دیگر مرکزی ایجنسیوں نے جانچ کیوں نہیں کی۔ بی جے پی اپوزیشن کو مقدمات سے ڈراتی ہے۔ چونکہ میں بی جے پی سے لڑتا ہوں، اس لیے انھوں نے میرے خلاف 24 معاملے درج کرائے۔ انھوں نے میری لوک سبھا رکنیت رد کر دی اور میرا گھر چھین لیا۔ اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میری لڑائی بی جے پی اور آر ایس ایس کے خلاف ایک نظریاتی لڑائی ہے۔

راہل گاندھی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ آئندہ ماہ کا اسمبلی انتخاب ’راجہ‘ اور ’پرجا‘ (عوام) کے درمیان کی لڑائی ہے۔ انھوں نے پیشین گوئی بھی کی کہ اگلے ماہ کے انتخاب میں بی آر ایس کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ساتھ ہی راہل گاندھی نے ایک بار پھر یہ دہرایا کہ بی آر ایس، بی جے پی اور اے آئی ایم آئی ایم ایک ساتھ ہیں۔ یہ بھی الزام لگایا کہ بی آر ایس نے پارلیمنٹ میں سبھی ایشوز پر بی جے پی کو حمایت دی۔

’نوکیا‘ کمپنی میں 14000 ملازمین کی نوکری کو خطرہ، جلد مل سکتی ہے بری خبر!

0
’نوکیا‘-کمپنی-میں-14000-ملازمین-کی-نوکری-کو-خطرہ،-جلد-مل-سکتی-ہے-بری-خبر!

موبائل بنانے والی مشہور کمپنی ’نوکیا‘ مبینہ طور پر تقریباً 14 ہزار ملازمین کو نوکری سے نکالنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ امریکہ جیسے بازاروں میں 5جی پروڈکٹس کی دھیمی فروخت کے سبب تیسری سہ ماہی میں اس کی مجموعی فروخت 20 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔ اس گراوٹ کے بعد کمپنی اپنی لاگت میں تخفیف کے لیے 14000 لوگوں کو ملازمت سے نکالنے کے منصوبہ پر کام کر رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملازمین کی تعداد میں کمی کر نوکیا اپنی لاگت میں 2026 تک 800 ملین یورو سے 1.2 بلین یورو تک کی تخفیف کرنا چاہتی ہے۔ کمپنی 2026 تک اپنی آپریٹنگ مارجن کم از کم 14 فیصد رکھنا چاہتی ہے۔ فی الحال نوکیا کے پاس 85 ہزار ملازمین ہیں اور کمپنی کا ہدف یہ تعداد 72000 سے 77000 تک کرنے کا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں نوکیا نے امید سے کمزور کمائی درج کی ہے۔ تیسری سہ ماہی میں کمپنی کا آپریٹنگ پروفٹ 467 ملین ڈالر رہا تھا۔ فی شیئر ایڈجسٹ آمدنی 5 سینٹ پر پہنچ گئی ہے جو تجزیہ کاروں کے اندازہ 7 سینٹ سے کم ہے۔ اس درمیان نوکیا کے چیف ایگزیکٹیو افسر پیکا لُنڈمارک نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’سب سے مشکل کاروباری فیصلے وہ ہیں جو ہمارے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔ نوکیا میں ہمارے بے حد باصلاحیت ملازمین ہیں اور ہم اس عمل سے متاثر ہونے والے سبھی لوگوں کی حمایت کریں گے۔‘‘