پیر, مارچ 23, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 43

کیا ‘ووٹوں کا دھرم یُدھ’ والا بیان ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے؟ ادھو ٹھاکرے

0
ادھو ٹھاکرے ڈومبی ولی میں انتخابی ریلی سے خطاب
ادھو ٹھاکرے ڈومبی ولی میں انتخابی ریلی سے خطاب

مہاراشٹر انتخابات کے دوران بی جے پی پر شدید تنقید، شیو سینا سربراہ ادھو ٹھاکرے نے ضابطہ اخلاق پر سوال اٹھایا

مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کی گہما گہمی اپنے عروج پر ہے، جہاں 288 سیٹوں پر 20 نومبر کو ووٹنگ ہونے والی ہے۔ جیسے جیسے انتخابات کی تاریخ قریب آ رہی ہے، سیاسی پارٹیاں ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے جارحانہ مہم چلا رہی ہیں۔ پورے ملک کی نظریں اس وقت مہاراشٹر پر جمی ہوئی ہیں، جہاں روز بروز سیاسی الزامات اور جوابی حملے شدت اختیار کر رہے ہیں۔

ہفتہ کے روز شیو سینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے بیان ‘ووٹوں کا دھرم یُدھ’ کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ بیان الیکشن کمیشن کے مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں ہے؟ ڈومبی ولی میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ادھو نے کہا، "ہمارا ہندوتوا لوگوں کے گھروں میں چولہے جلاتا ہے، جبکہ بی جے پی کا ہندوتوا لوگوں کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔”

بی جے پی پر تنقید اور انتخابی ترانہ کا ذکر

ادھو ٹھاکرے نے اپنے خطاب میں لوک سبھا انتخابات سے قبل ہونے والے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی کو اپنے انتخابی ترانے سے ‘جئے بھوانی، جئے شیواجی’ کے الفاظ ہٹانے کے لیے کہا گیا تھا، لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے دیویندر فڑنویس کے ‘ووٹوں کا دھرم یُدھ’ کے بیان کو ضابطہ اخلاق کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ وہ الیکشن کمیشن سے واضح جواب چاہتے ہیں کہ کیا یہ بیان قانونی اصولوں پر پورا اترتا ہے؟

بی جے پی کے اندرونی حالات پر حملہ

شیو سینا سربراہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی موقع پرست سیاستدانوں سے بھری ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا، "بی جے پی جو اپنے کارکنان کی قربانیوں اور محنت کے بل بوتے پر کھڑی ہوئی، اب ایک ہائبرڈ پارٹی بن چکی ہے جو موقع پرستی کی افزائش گاہ ہے۔”

مہاراشٹر انتخابات کی اہمیت

مہاراشٹر انتخابات میں شیو سینا اور بی جے پی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ریاست کی سیاست کو مزید گرم کر رہی ہے۔ انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں، اور عوام کے درمیان مذہب، ہندوتوا، اور سیاست کے امتزاج پر مباحثے تیز ہو گئے ہیں۔

این ایچ آر سی کے پروگرام کا اختتام، آٹھ ممالک کے 33 نمائندگان ہوئے شامل

0
HRC ka program, jis mein aath mulkon ke insani huqooq ke 33 numaindgan ne shirkat ki, Delhi mein 6 din tak muqaddar raha. Program mein insani huqooq, azaad intikhabat aur ma’ashi taraqqi ke hawale se mabahith aur mazaameen shamil the."
Janubi nisf kure ke taraqqi pazeer mulkon ke insani huqooq ke idaron ki salahiyat barhane ke liye ITEC program ka kamiyaab in’aqad

جنوبی نصف کرے کے ترقی پذیر ممالک کے انسانی حقوق کے اداروں کی صلاحیت بڑھانے کیلئے آئی ٹی ای سی پروگرام کا کامیاب انعقاد

قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے وزارت خارجہ کے تعاون سے چھ روزہ تکنیکی اور اقتصادی تعاون (آئی ٹی ای سی) پروگرام منعقد کیا۔ اس پروگرام کا مقصد جنوبی نصف کرے کے آٹھ ترقی پذیر ممالک کے قومی انسانی حقوق اداروں کی صلاحیت بڑھانا اور انسانی حقوق کے فروغ کیلئے عالمی تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔

یہ پروگرام 11 سے 16 نومبر 2024 تک دہلی میں منعقد ہوا، جس میں مالدیپ، منگولیا، میانمار، نیپال، فلپائن، سری لنکا، تھائی لینڈ، اور اردن کے انسانی حقوق کے اداروں کے 33 نمائندگان نے شرکت کی۔ ان نمائندگان میں انسانی حقوق کے شعبے کے ماہرین، پالیسی ساز اور انتظامی عہدیدار شامل تھے، جنہوں نے اپنے تجربات اور خیالات کو شیئر کیا۔

اہم موضوعات اور سیشنز

پروگرام کے دوران انسانی حقوق کے تحفظ اور ترقی کے حوالے سے مختلف تکنیکی موضوعات پر مباحثے اور لیکچرز منعقد کیے گئے۔ ان موضوعات میں آزاد اور شفاف انتخابات کی اہمیت، پائیدار ترقی کے اہداف، ڈیجیٹل دور میں انسانی حقوق کا تحفظ، اور قدرتی آفات کے دوران انسانی حقوق کی حفاظت جیسے مسائل شامل تھے۔
شرکاء نے اپنے اپنے ممالک میں اپنائی گئی بہترین روایات کو پیش کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ باہمی تعاون کے ذریعے ان کوششوں کو مزید مؤثر کیسے بنایا جا سکتا ہے۔

ثقافت اور وراثت کا کردار

پروگرام کے آخری دن شرکاء کو آگرہ کے تاریخی تاج محل کی سیر کرائی گئی۔ اس ثقافتی دورے کا مقصد شرکاء کو بھارت کی متنوع ثقافت اور انسانی حقوق سے جڑے وراثتی پہلوؤں سے واقف کرانا تھا۔ شرکاء نے نہ صرف تاج محل کی خوبصورتی کو سراہا بلکہ بھارت کی ثقافتی ہم آہنگی اور باہمی احترام کی قدیم روایت کو بھی قریب سے محسوس کیا۔

این ایچ آر سی کی عالمی حکمت عملی کا حصہ

این ایچ آر سی نے ایک اعلامیے میں کہا کہ یہ پروگرام انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کیلئے اس کی وسیع عالمی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس پروگرام کا مقصد مکالمے کو مضبوط بنانا، تجربات کا تبادلہ کرنا، اور عالمی جنوبی نصف کرے میں انسانی حقوق کے مسائل پر ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

افتتاح اور اختتام

پروگرام کا آغاز این ایچ آر سی کی کارگزار صدر، وجیا بھارتی سیاّنی کے خطاب سے ہوا، جنہوں نے انسانی حقوق کے تحفظ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ این ایچ آر سی کے سیکرٹری جنرل، بھرت لال نے اپنی افتتاحی تقریر میں بھارت کی تہذیبی وراثت، انسانی حقوق کے تئیں عزم، اور عدم تشدد کی طرزِ زندگی کے اصول پر زور دیا۔
اختتامی تقریب میں شرکاء نے تسلیم کیا کہ ایسے بین الاقوامی پروگرام نہ صرف تجربات کے تبادلے کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ انسانی حقوق کے فروغ میں عالمی سطح پر ہم آہنگی اور تعاون کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

عالمی تعاون کی ایک نئی راہ

شرکاء نے اس پروگرام کو انسانی حقوق کے مسائل پر تبادلہ خیال کا ایک منفرد موقع قرار دیا اور این ایچ آر سی کی اس کامیاب کوشش کی تعریف کی۔ اس پروگرام نے نہ صرف مختلف ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط کیا بلکہ انسانی حقوق کے فروغ کیلئے عالمی اتحاد کو بھی تقویت دی۔

جھارکھنڈ اسمبلی انتخاب: انڈیا اتحاد کی حکومت بننے کا دعویٰ، ملکارجن کھڑگے کا بیان

0
جھارکھنڈ-اسمبلی-انتخاب:-’جھارکھنڈ-میں-پھر-بنے-گی-انڈیا-اتحاد-کی-حکومت‘،-پریس-کانفرنس-میں-ملکارجن-کھڑگے-کا-دعویٰ

جھارکھنڈ انتخابات میں ملکارجن کھڑگے کا دعویٰ، انڈیا اتحاد کی حکومت اور عوام سے کیے گئے وعدوں کی گارنٹی

جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کے حوالے سے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے رانچی میں پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا کہ پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے نتائج انڈیا اتحاد کی جیت کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ کھڑگے نے کہا، "اقتدار میں آنے کے بعد ہم ان 7 گارنٹیوں کو نافذ کریں گے جن کا وعدہ عوام سے کیا گیا ہے۔ کرناٹک اور تلنگانہ میں ہم نے عوام سے کیے وعدے پورے کر کے دکھائے ہیں۔”

ملکارجن کھڑگے نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارے اتحاد نے ’میّا سمّان یوجنا‘ کے تحت دسمبر سے خواتین کو 2500 روپے دینے کی گارنٹی دی ہے، لیکن بی جے پی اسے روکنے کے لیے عدالت کا رخ کر رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی غریب اور خواتین مخالف پارٹی ہے۔”

وزیر اعظم نریندر مودی پر طنز کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا، "وزیر اعظم جس طرح جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کے لیے مہم چلا رہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ وہ ضلع پریشد اور کارپوریشن انتخابات میں بھی یہی کریں گے۔ وزیر اعظم کو ملک کی بے روزگاری اور مہنگائی جیسے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔”

کانگریس صدر نے مزید کہا، "وزیر اعظم کو عوام کے مسائل کی فکر کرنی چاہیے، لیکن وہ اپنی کرسی بچانے کی سیاست میں مصروف ہیں۔ جھوٹے وعدے اور کانگریس کو بدنام کرنا ان کی حکمت عملی بن چکی ہے۔”

بی جے پی کی کارکردگی اور مہنگائی پر سخت تبصرہ

کھڑگے نے کہا کہ 2014 میں ڈالر کے مقابلے روپیہ 60 روپے تھا، جو اب بڑھ کر 84 روپے ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا، "بی جے پی کے پاس نہ کوئی ویژن ہے اور نہ ہی کوئی عملی منصوبہ۔ صرف تقریریں اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔”

متنازعہ نعروں اور پولرائزیشن کی سیاست پر کھڑگے کا ردعمل

کھڑگے نے بی جے پی کے متنازعہ نعرے ‘بٹیں گے تو کٹیں گے’ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بی جے پی پولرائزیشن کی سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے جھارکھنڈ کے کوئلے اور کانکنی کی رائلٹی کے بقایا جات پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ وزیر اعظم کو واضح کرنا چاہیے کہ یہ رقم کب جھارکھنڈ کو دی جائے گی۔

سرحدی تحفظ اور دیگر مسائل پر کانگریس صدر کی رائے

دراندازوں کے مسئلے پر کھڑگے نے کہا، "سرحد کی حفاظت وزیر داخلہ کی ذمہ داری ہے، لیکن وہ اپنے فرائض کو نبھانے کے بجائے راہل گاندھی اور مجھے نشانہ بناتے ہیں۔”

کانگریس صدر کے اس بیان نے جھارکھنڈ انتخابات میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے، اور ان کے دعوے انتخابات کے نتائج سے مزید واضح ہوں گے۔

ایلون مسک اور ویویک راماسوامی کو ٹرمپ حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے کی ذمہ داری

0

واشنگٹن: ڈونلڈ ٹرمپ نے آئندہ سال 20 جنوری کو امریکہ کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے سے قبل اپنی ٹیم تشکیل دینا شروع کر دی ہے اور کئی اہم عہدوں پر تقرریاں کر دی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے ایلون مسک اور امریکی کاروباری شخصیت ویویک راماسوامی کو ’ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی‘ (DoGE) کا سربراہ مقرر کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد امریکی حکومت میں بیوروکریسی کو کم کرنے، غیر ضروری اخراجات میں کمی لانے اور وفاقی ایجنسیوں کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں ایلون مسک کو ’عظیم‘ اور ویویک راماسوامی کو ’امریکی محب وطن‘ قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں افراد ان کی حکومت میں اصلاحات لانے اور غیر ضروری ضوابط کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ یہ محکمہ ’سیو امریکہ‘ مہم کے لیے بھی ضروری ہے اور اس کا مقصد حکومتی کارکردگی کو عوام کے حق میں بہتر بنانا ہے۔

بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج، تشدد کی لہر جاری

0

بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کی تشکیل کے باوجود، ملک میں جاری تشدد میں کمی نہیں آ رہی۔ تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق، سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ اور چھ دیگر افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ ایک پرتشدد واقعے کے دوران ہونے والی ایک شخص کی موت کے حوالے سے ہے، جس کا تعلق گزشتہ ماہ کے دوران ہونے والے تصادم سے ہے۔ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت گرنے کے بعد یہ ان کے خلاف پہلا مقدمہ ہے، جس کی خبر منگل کو میڈیا رپورٹس میں سامنے آئی ہے۔

بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق، قتل کا یہ مقدمہ ایک جنرل اسٹور کے مالک ابو سعید کے خیر خواہوں کی طرف سے درج کرایا گیا ہے، جو 19 جولائی کو پولیس کی گولی کا شکار ہوئے تھے۔ اس مقدمے میں شیخ حسینہ کے علاوہ عوامی لیگ کے جنرل سیکریٹری عبدالقادر، سابق وزیر داخلہ اسد الزماں خان کمال اور سابق پولیس ڈائریکٹر جنرل چودھری عبداللہ المامون کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ کچھ اہم پولیس افسران بھی اس مقدمے میں ملزم قرار دیے گئے ہیں۔

دوسری جانب، بی این پی (بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی) نے محمد یونس کی قیادت میں قائم کی گئی عبوری حکومت سے اپیل کی ہے کہ خالدہ ضیا اور ان کے بیٹے طارق رحمان کے خلاف درج تمام مقدمات واپس لیے جائیں۔ خالدہ ضیا کو حال ہی میں جیل سے رہا کیا گیا ہے، اور بی این پی کی درخواست پر جلد ہی کوئی فیصلہ متوقع ہے۔

ان تمام واقعات کے دوران بنگلہ دیش میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ عبوری حکومت کی تشکیل کے باوجود، حالات میں خاصی بہتری نظر نہیں آ رہی ہے۔ تازہ ترین تشدد کا واقعہ دارالحکومت ڈھاکہ کے سیتو بھون میں پیش آیا، جہاں مظاہرین نے حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی اور وہاں کھڑی کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں ملازمتوں میں ریزرویشن کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج نے گزشتہ دنوں شدت اختیار کر لی تھی، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ سے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ بالآخر، شیخ حسینہ کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا اور وہ ملک چھوڑ کر ہندوستان چلی گئیں۔ شیخ حسینہ کی حکومت گرنے کے بعد بھی ملک میں تشدد کے دوران 230 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 550 سے تجاوز کر چکی ہے۔ فی الحال بنگلہ دیش میں نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت قائم کی گئی ہے، جو اگلے عام انتخابات کرائے گی۔ تاہم، ان انتخابات کی تاریخ کے بارے میں ابھی تک کوئی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔

کلکتہ عصمت دری اور قتل کیس: ہائی کورٹ کا پرنسپل کو طویل رخصت پر جانے کا حکم

0

کلکتہ ہائی کورٹ نے کولکاتا کے آر جی کر میڈیکل کالج اور اسپتال میں ایک خاتون ٹرینی ڈاکٹر کے ریپ اور قتل کے معاملے پر منگل، 13 اگست 2024 کو سماعت کی۔ عدالت نے ریاستی حکومت سے استفسار کیا کہ وہ اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے میڈیکل کالج کے پرنسپل کے استعفیٰ کو قبول کیوں نہیں کر رہے؟ ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ پرنسپل کو طویل رخصت پر بھیج دیا جائے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر سندیپ گھوش، جنہوں نے اس واقعے کے بعد احتجاجاً آر جی کر میڈیکل کالج کے پرنسپل کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، کو ممتا بنرجی کی حکومت نے نیشنل میڈیکل کالج کا پرنسپل مقرر کر دیا تھا۔

عدالت نے کہا، "ڈاکٹرز ہڑتال پر ہیں، اسپتالوں میں کام متاثر ہو رہا ہے اور مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ مسئلہ صرف مغربی بنگال تک محدود نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں پھیل چکا ہے۔ ہمیں ڈاکٹروں کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ ان کی ایک ساتھی کو انتہائی وحشیانہ طریقے سے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کر دیا گیا ہے۔”

عدالت نے مزید کہا کہ ریاست کے اعلیٰ افسران نے ڈاکٹروں کو اتوار تک کا الٹی میٹم دیا ہے، لیکن فی الحال عدالت کوئی رائے نہیں دے رہی۔ سرکاری وکیل کو ہدایت دی گئی کہ وہ مظاہرین ڈاکٹروں کے ساتھ بات چیت کا آغاز کریں کیونکہ ان کا احتجاج جائز ہے۔

ریاستی حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ جاری ہیں اور پولیس کے اعلیٰ افسران باقاعدگی سے اپ ڈیٹس فراہم کر رہے ہیں۔ تاہم، سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیل رہی ہیں۔

واضح رہے کہ جمعہ، 9 اگست کو آر جی کر میڈیکل کالج میں ایک ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی لاش ملی تھی، جسے زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ ملزم، جو کولکاتا پولیس کا ایک رضاکار بتایا جاتا ہے، کو پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ہفتے کی شام تک گرفتار کر لیا۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں میڈیکل کے طلباء اور ریزیڈنٹ ڈاکٹروں نے احتجاج شروع کر دیا، جن کا مطالبہ ہے کہ کیس کی تحقیقات سی بی آئی کو سونپی جائے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا ہے کہ اگر پولیس اتوار تک کیس حل نہیں کر پاتی تو اسے سی بی آئی کو منتقل کر دیا جائے گا۔ تاہم، اس یقین دہانی کے باوجود، ڈاکٹروں کی ہڑتال جاری ہے جس کے باعث طبی خدمات متاثر ہو رہی ہیں۔

"’ہائیوے کو پارکنگ نہ سمجھیں، ٹریکٹر ہٹائیں‘، سپریم کورٹ نے شمبھو بارڈر پر احتجاج کرنے والے کسانوں کو تنبیہ کی

0

سپریم کورٹ نے آج شمبھو بارڈر پر احتجاج کرنے والے کسانوں کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ہائیوے کو پارکنگ کے طور پر استعمال نہ کریں اور فوراً اپنے ٹریکٹر وہاں سے ہٹائیں۔ عدالت نے شمبھو بارڈر کو جزوی طور پر کھولنے کا حکم دیتے ہوئے یہ بیان دیا۔

پیر کے روز کیس کی سماعت کے دوران، عدالت نے کہا کہ بارڈر کو خواتین، بچوں، ایمبولنس، ضروری خدمات اور مقامی مسافروں کے لیے کھولنا ضروری ہے۔ عدالت نے پنجاب حکومت کو ہدایت دی کہ وہ کسانوں سے بات کرکے انہیں شمبھو بارڈر سے ٹریکٹر ہٹانے پر رضامند کرے۔

عدالت کی بنچ نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی کہ وہ مظاہرین کو سڑک سے ٹریکٹر ہٹانے کے لیے آمادہ کرے اور کہا کہ شاہراہ کو گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ سپریم کورٹ نے شمبھو بارڈر کو جزوی طور پر کھولنے کے لیے پنجاب اور ہریانہ کے پولیس ڈائریکٹر جنرلز کو ایک ہفتے کے اندر پڑوسی اضلاع کے پولیس سپرنٹنڈنٹس کے ساتھ میٹنگ کرنے کی بھی ہدایت دی۔

آج کی سماعت کے دوران، بنچ نے پنجاب اور ہریانہ حکومتوں کی تعریف کی کہ انہوں نے شمبھو بارڈر پر کسانوں سے بات چیت کے لیے غیر سیاسی افراد کے نام تجویز کیے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ شمبھو بارڈر پر مظاہرہ کرنے والے کسانوں سے بات چیت کے لیے کمیٹی کی شرائط پر مختصر حکم جاری کرے گا۔

زور دار بارشوں نے ہماچل پردیش کو شدید بحران میں مبتلا کر دیا، بجلی اور پانی کی فراہمی متاثر، سیاح بھی مشکلات کا شکار

0

ہماچل پردیش میں زور دار بارشوں نے زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ پوری ریاست میں 338 سڑکیں بند ہو چکی ہیں، جس سے نقل و حمل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ موسلا دھار بارشوں نے ریاست میں پانی کے بحران کے ساتھ ساتھ بجلی کی فراہمی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ 116 سے زیادہ پانی کی سپلائی اسکیمیں متاثر ہیں اور سینکڑوں ٹرانسفارمرز خراب ہونے کی وجہ سے عوام کو بجلی کی قلت کا سامنا ہے۔ راجدھانی شملہ میں صورتحال سب سے زیادہ سنگین ہے۔

ہماچل پردیش میں چار قومی شاہراہیں بند ہو چکی ہیں، جبکہ شملہ میں 104 اور منڈی میں 71 سڑکوں پر آمد و رفت رک چکی ہے۔ بند سڑکوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے کام جاری ہے یا متبادل راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ اس رکاوٹ کے باعث ایچ آر ٹی سی کی بس سروس بھی متاثر ہوئی ہے، شملہ شہر اور دیہی علاقوں میں کئی بس روٹس معطل ہو چکے ہیں اور مسافروں کو وقت پر منزل تک پہنچنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ نتیجتاً، سیاحوں کو بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ ایچ آر ٹی سی کو مالی نقصان کا سامنا ہے۔ بجلی کی سپلائی میں رکاوٹ کے سبب کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے ہیں۔

کنور میں حالیہ بارشوں کے بعد بادل پھٹنے سے ضلع کے ندی نالے طغیانی کا شکار ہو گئے ہیں۔ جگہ جگہ لینڈ سلائیڈز نے قومی شاہراہ اور رابطہ سڑکیں منقطع کر دی ہیں، جس سے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ستلج اور اسپیتی ندی کے سبگن کھاب اور ڈوگری کی پہاڑیوں پر بھی بادل پھٹنے سے بڑے پیمانے پر ملبہ اور پتھر گرے ہیں، جس سے پوہ کاجا راستہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے۔

"آپ کی مشکلات سے پوری دنیا واقف ہے، مگر…” بی ایس ایف افسر بنگلہ دیشی عوام کو سمجھاتا نظر آیا، ویڈیو وائرل

0

شیوسینا کے رہنما ملند دیوڑا نے ہندوستان-بنگلہ دیش سرحد پر بی ایس ایف افسران کا ایک ویڈیو شیئر کیا ہے، جس میں ایک افسر سرحد پر جمع لوگوں کو سمجھاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں کہ انہیں سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ شدید بحران کے دوران افسر کے تحمل اور نرم رویے کو انٹرنیٹ پر بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔ ‘انڈین ایکسپریس’ کے اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے دیوڑا نے کہا کہ "دل دہلا دینے والے حالات کے باوجود یہ جان کر اطمینان ہوتا ہے کہ حکومت ہندوستان کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے پُرعزم ہے۔”

ویڈیو میں، جسے مغربی بنگال کے کوچ بہار کا بتایا جا رہا ہے، بی ایس ایف کے افسران ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش کے شہری تشدد اور آتش زنی کے باعث فرار ہو رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں اقلیتی برادری کے ہندوؤں کے گھروں اور کاروبار پر مبینہ حملوں کے بعد احتجاج جاری ہے۔ سیکڑوں لوگ سرحد پر ایک ندی میں کمر تک گہرے پانی میں انتظار کر رہے ہیں۔ ویڈیو میں ایک بی ایس ایف افسر کو بنگالی زبان میں لوگوں سے خطاب کرتے سنا جا سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں، "میری بات سنو، جو میں کہہ رہا ہوں اسے غور سے سنو… ہم سب جانتے ہیں کہ آپ کن مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ پوری دنیا واقف ہے، لیکن مسائل کا حل بات چیت میں ہے، اس طرح نہیں۔ براہ کرم میری بات سنو، شور مچانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔”

ادانی گروپ نے سیبی چیف سے تجارتی تعلقات کی تردید کی

0

امریکی شارٹ سیلر فرم ہنڈن برگ ریسرچ کی حالیہ رپورٹ نے ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ اڈانی گروپ نے اس رپورٹ پر اپنا پہلا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا سیبی چیئرپرسن مادھبی پوری کے ساتھ کوئی تجارتی تعلق نہیں ہے، جیسا کہ ہنڈن برگ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا۔

اڈانی گروپ نے ہنڈن برگ کی رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا رپورٹ میں ذکر کردہ افراد یا معاملات سے کوئی تجارتی تعلق نہیں ہے۔ یہ رپورٹ، جو ہفتے کی رات جاری کی گئی، میں الزام لگایا گیا ہے کہ ونود اڈانی اور ان کے قریبی ساتھیوں نے سیبی کی چیئرپرسن مادھبی پوری کے ساتھ کچھ غیر ملکی فنڈز میں سرمایہ کاری کی تھی۔

گروپ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی کمپنیوں پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد سمجھتا ہے اور اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ اس کی غیر ملکی ہولڈنگ کا ڈھانچہ مکمل طور پر شفاف ہے۔ ہنڈن برگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اڈانی گروپ نے کمپنیوں کا جال بنا کر رقوم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا۔

یہ معاملہ نیا نہیں ہے، بلکہ ہنڈن برگ کی پہلی رپورٹ کے بعد سے تقریباً ڈیڑھ سال سے جاری ہے۔ اس رپورٹ میں اڈانی گروپ پر فنڈز میں ہیرا پھیری اور شیئر کی قیمتوں میں اضافہ کرنے جیسے سنگین الزامات لگائے گئے تھے، اور اسے کارپوریٹ دنیا کا سب سے بڑا فراڈ قرار دیا گیا تھا۔ اس رپورٹ کے بعد اڈانی گروپ کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا اور اس کی کمپنیوں کے مارکیٹ کیپ میں 80 ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی۔

مارکیٹ ریگولیٹر سیبی نے ہنڈن برگ کے الزامات کی جانچ شروع کی، جس کی نگرانی سپریم کورٹ کی طرف سے مقرر کردہ کمیٹی نے کی۔ تاہم، سیبی کی تحقیقات کے دوران ابھی تک ہنڈن برگ کے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس ثبوت نہیں ملے ہیں۔ حال ہی میں، سیبی نے ہنڈن برگ کو وجوہات بتانے کا نوٹس جاری کیا تھا۔

اب معاملہ ایک نئی سمت اختیار کر چکا ہے۔ ہنڈن برگ کا نیا الزام یہ ہے کہ اڈانی گروپ کے ساتھ سیبی چیف کے مبینہ تعلقات کی وجہ سے جانچ صحیح طریقے سے نہیں ہوئی، اور سیبی کو اڈانی گروپ کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد نہیں مل پا رہے ہیں۔ اڈانی گروپ کے ساتھ سیبی چیئرپرسن مادھبی پوری اور ان کے شوہر دھول بچ نے بھی آج صبح ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں ہنڈن برگ کی رپورٹ کو بے بنیاد اور کردار کشی کی کوشش قرار دیا گیا۔