ہفتہ, مارچ 21, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 419

وزیراعظم نریندر مودی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ کسانوں سے خطاب کریں گے

0

وزیر اعظم نریندر مودی سہ پہر دو بجے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کسانوں سے خطاب کریں گے۔ کسانوں کو ان کانفرنسوں میں نئے زرعی قوانین کی فائدہ مند دفعات کے بارے میں تفصیل سے معلومات فراہم کی جائیں گی۔

بھوپال: مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے ریاست میں چار سطحی کسان بہبود پروگرام اور کانفرنسوں کے حوالے سے جمعہ کو یہاں ایک اجلاس میں تفصیلی ہدایات دیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، مسٹر چوہان نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہدایت دی کہ کلکٹر ان پروگراموں کی پوری تیاری کو جنگی بنیادوں پر مکمل کرے اور کاشتکاروں کو آج ہی معلومات بھیجے۔ ریاستی سطح کی جنرل کانفرنس رائے سن میں ہوگی، جس میں وزیر اعلی شامل ہوں گے۔ دیگر کانفرنسیں ضلعی، ترقیاتی بلاک اور گرام پنچایت کی سطح پر ہوں گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کانفرنس سے خطاب بھی کریں گے۔

کسان کانفرنس کو کامیاب بنانے کے سلسلے میں کلکٹروں کو تفصیلی ہدایات

مسٹر چوہان نے کسان کانفرنس کو کامیاب بنانے کے سلسلے میں کلکٹروں کو تفصیلی ہدایات دیں۔ کسان کانفرنس میں، خریف 2020 میں فصلوں کے نقصانات کے لئے امدادی رقم کاشتکاروں کے کھاتوں میں منتقل کردی جائے گی۔ اس سے تقریباً 35 لاکھ 50 ہزار کسان مستفید ہوں گے۔ ان کاشتکاروں کے اکاؤنٹ میں تقریبا 1600 کروڑ کی رقم بھیجی جائے گی۔

مسٹر چوہان رائے سین میں ریاستی سطح کے مرکزی پروگرام میں حصہ لیں گے، جس میں تقریباً 20 ہزار کسان شامل ہوں گے۔ دوسرے اضلاع میں، وزیر ان پروگراموں میں کسانوں کو امدادی رقم تقسیم کریں گے۔ اسی طرح کے پروگرام بلاک اور دیہی سطح پر بھی ہوں گے۔

مسٹر چوہان کی کسان بہبود پروگرام کے لئے تمام تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت

مسٹر چوہان نے کہا کہ اسی طرح کے پروگرام بلاک اور دیہی سطح پر بھی ہوں گے۔ اس طرح ، مسٹر چوہان نے چار سطحی بڑے کسان بہبود پروگرام کے لئے تمام تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت دی۔

میٹنگ میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 35 لاکھ کسانوں کو 1600 کروڑ روپے کی امدادی رقم تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ مویشی پالنے والوں کو بھی فوائد فراہم کیے جائیں گے۔ کسان کریڈٹ کارڈ کی تقسیم بھی اسی عرصے کے دوران کی جائے گی۔ محکمہ زراعت، محکمہ دیہی ترقی، محکمہ ریونیو خصوصی طور پر پروگرام کی تیاریوں کو حتمی شکل دیں گے اور دیگر محکمے تعاون کریں گے۔

معاشرتی دوری پر عمل کرنے کی ہدایت

مسٹر چوہان نے ہدایت دی کہ معاشرتی دوری پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ تمام کسان ماسک کا استعمال کریں۔ پروگرام ضروری احتیاطی تدابیر کے ساتھ پورا کیا جائے۔

وزیراعظم سہ پہر دو بجے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کسانوں سے خطاب کریں گے

مسٹر چوہان کے خطاب کے بعد، وزیر اعظم نریندر مودی سہ پہر دو بجے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کسانوں سے خطاب کریں گے۔ کسانوں کو ان کانفرنسوں میں نئے زرعی قوانین کی فائدہ مند دفعات کے بارے میں تفصیل سے معلومات فراہم کی جائیں گی۔

مسٹر چوہان نے کہا کہ ان کے ساتھ ساتھ، زرعی ترقی سے متعلق کاموں کا افتتاح اور سنگ بنیاد بھی رکھا جائے گا۔ کانفرنسوں میں کسان قوانین کی دفعات کے بارے میں تفصیلی معلومات دی جائیں گی۔ ہر ضلع میں تقریباً 1000 کسان شریک ہوں گے۔ مسٹر چوہان نے کہا کہ یہ پروگرام مختلف علاقائی چینلز اور ویب کاسٹ کے ذریعہ براہ راست نشر کیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ آج کانفرنسوں کی تیاریوں کو حتمی شکل دی جائے۔

عام آدمی پارٹی کے اراکین اسمبلی نے پھاڑیں زرعی قوانین کی کاپیاں، دہلی اسمبلی میں ہنگامہ

0

مودی حکومت کے زرعی شعبے سے جڑے تین قوانین کا جمعرات کو دہلی اسمبلی میں شدید مخالفت ہوئی۔ عآپ کے ممبران نے دہلی اسمبلی میں زرعی قوانین کی کاپیاں پھاڑ دیں اور جے جوان جے کسان کا نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ جو قانون کسانوں کے حق میں نہیں ہے، اسے قبول نہیں کریں گے۔

نئی دہلی: نریندر مودی حکومت کے زرعی شعبے سے جڑے تین قوانین کا جمعرات کو دہلی اسمبلی میں شدید مخالفت ہوئی۔ برسراقتدار جماعت عام آدمی پارٹی (عآپ) کے اراکین اسمبلی کی جانب سے ایوان میں قانون کی کاپیاں پھاڑنے سے ہنگامہ ہوگیا۔
دہلی اسمبلی کا آج ایک روزہ خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
اجلاس کے آغاز میں ہی وزیر ٹرانسپورٹ اور ماحولیات کیلاش گہلوت نے ایک قرارداد خط پیش کیا، جس میں تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کی بات کہی گئی۔
تجویز پر بحث کے دوران حکمراں جماعت کے مہیندر گوئل اور سومناتھ بھارتی نے ایوان میں زرعی قوانین کی کاپیاں پھاڑیں اور جے جوان جے کسان کا نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ جو قانون کسانوں کے حق میں نہیں ہے، اسے قبول نہیں کریں گے۔
عآپ پارٹی زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ کررہے کسانوں کے ساتھ نظر آرہی ہے۔ پارٹی تینوں قوانین کو کسانوں کے خلاف بتاکر انہیں فوری واپس لینے کا مطالبہ کررہی ہے۔

سپریم کورٹ کا مشورہ کسانوں کی اخلاقی جیت: اے آئی کے ایس سی سی

0
سپریم کورٹ کا مشورہ کسانوں کی اخلاقی جیت: اے آئی کے ایس سی سی
سپریم کورٹ کا مشورہ کسانوں کی اخلاقی جیت: اے آئی کے ایس سی سی

کسان تنظیم نے کہا کہ وزیراعظم ملک کو جھوٹ کہہ رہے ہیں کہ ان قانونوں سے کسانوں کی زمین نہیں چھنے گی اور کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) جاری رہے گی۔

نئی دہلی: آل انڈیا کسان سنگھرش کورڈنیشن کمیٹی (اے آئی کے ایس سی سی) نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ تجویز کی گئی کمیٹی کا فائدہ کسانوں کو زرعی اصلاحات قانون کو واپس لینے کے بعد ہی ہوگا اور عدالت کا مشورہ کسانوں کی اخلاقی جیت ہے۔

اے آئی کے ایس سی سی نے عدالت میں اس معاملے پر ہوئی سماعت کے بعد جاری ردعمل میں کہا کہ دہلی کی تحریک تین زرعی قانون اور بجلی قانون – 2020 کی واپسی تک جاری رہے گا۔ کسان ہمیشہ اپنی رائے رکھتے رہے ہیں۔

کسان تنظیم نے کہا کہ وزیراعظم ملک کو جھوٹ کہہ رہے ہیں کہ ان قانونوں سے کسانوں کی زمین نہیں چھنے گی اور کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) جاری رہے گی- یہ دعوی لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے ہے۔ دودھ پروڈکشن کے کو آپریٹو سرکاری کمیٹیوں کو فروغ دیا، نجی کمپنیوں کو برباد کیا ہے۔

اے آئی کے ایس سی سی نے کہا ہے کہ عدالت کے ذریعہ حکومت کو مشورہ کسانوں کی اخلاقی جیت ہے۔ کسان ہمیشہ ہی اپنی رائے رکھنے کے لئے تیار رہے ہیں۔ لیکن اگر کوئی کمیٹی بنتی ہے تب بھی دہلی کی تحریک تین زرعی قانون اور بجلی قانون واپس ہونے تک جاری رہے گی۔

کمیٹی کا بننا تب فائدے مند ہوگا اگر پہلے یہ قانون واپس لئے جائیں اور اے آئی کے ایس سی سی نے کہا کہ وزیراعظم کسانوں کے اپوزیشن کے ذریعہ گمراہ کئے جانے کے پرانے راگ کو الاپ رہے ہیں۔ جبکہ سچ یہ ہے کہ وہ خود ملک کو گمراہ کررہے ہیں۔

انہوں نے اپنی پرانی وضاحت کو دہرایا ہے کہ کسان کی زمین نہیں جائے گی، ایم ایس پی سرکاری خرید جاری رہیں گے، قانون کسانوں کے لئے موقع پیدا کررہے ہیں، جبکہ ان کے سارے قدم اسے غلط ثابت کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے کیا غلط دعوی

اے آئی کے ایس سی سی نے کہا کہ وزیراعظم نے یہ غلط دعوی کیا کہ دودھ پروڈکشن کو غیر سرکاری نجی شعبہ نے فروغ دیا، جبکہ حکومت حمایت یافتہ کو آپریٹو کمیٹیوں سے دودھ کا شعبہ بڑھا اور بعد میں نجی شعبہ کے گھسنے سے دودھ کی قیمت گھٹ گئی۔

دو دن پہلے انہوں نے صنعت کاروں سے کھیتی میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے کہا تھا۔ ان کے وزیر کہتے ہیں کہ نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے حکومت نے ایک لاکھ کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔

حکومت کا دستاویز ’پٹنگ فارمرس فرسٹ‘ کہتا ہے کہ ان قانونوں سے ایگری بزنس کے لئے موقع کھلیں گے۔ ان قانونوں سے مودی حکومت کسانوں کو نہیں غیر ملکی کمپنیوں اور کارپوریٹ کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔

اے آئی کے ایس سی سی کی ورکنگ گروپ نے آئندہ 20 دسمبر کو صبح 11 بجے سے دوپہر ایک بجے تک ہر گاؤں میں اس تحریک میں شہید ہوئے پنجاب اور ہریانہ کے 30 جنگجوؤں کا یوم خراج عقیدت منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سنگھو اور ٹکری، شاہ جہاں پور اور پلول میں کسانوں کی حصہ داری بڑھ رہی ہے۔ غازی پور میں بڑی تعداد میں لوگوں کے آنے کی امید ہے۔ ایکتا کونسل، مہاراشٹر کے 1000 لوگ آج پلول پہنچیں گے اور گجرات کے 100 لوگ شاہ جہاں پور پہنچیں گے۔

افغانستان: دہشت گردانہ حملہ میں 13 سیکیورٹی فورسز ہلاک

0
افغانستان میں امریکہ کا فراہم کردہ اربوں ڈالر کے سکیورٹی آلات غائب
افغانستان میں امریکہ کا فراہم کردہ اربوں ڈالر کے سکیورٹی آلات غائب

صوبائی اسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ وزیر آباد کے علاقے میں سیکیورٹی کی ناکہ بندی پر دہشت گردوں کے حملے میں 13 سیکیورٹی فورسز ہلاک ہوگئے۔

کابل: افغانستان کے شمالی صوبے باگلان میں دہشت گردوں کے ساتھ تصادم میں کم از کم 13 سیکیورٹی فورسز ہلاک ہوگئے۔

صوبائی اسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ وزیر آباد کے علاقے میں سیکیورٹی کی ناکہ بندی پر دہشت گردوں کے حملے میں 13 سیکیورٹی فورسز ہلاک ہوگئے۔ صوبہ باگلان کے ترجمان جاوید بشارت نے حملے کی تصدیق کی ہے لیکن مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

دہشت گرد تنظیم طالبان نے بھی ابھی تک اس حملے کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

یوپی اور بنگال کی انتخابی سیاست میں اترنے کے لئے اویسی کی جماعت تیار، چھوٹی پارٹیوں سے اتحاد کا عندیہ

0

 

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے آج لکھنؤ کے ایک ہوٹل میں سہیل دیو سماج پارٹی کے سربراہ راج بھر سے ملاقات کی اور یوپی میں چھوٹی پارٹیوں سے اتحاد کر کے الیکشن لڑنے کا عندیہ دیا۔ وہیں بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ابھی ہم نے مغر بی بنگال کے سال 2021 کے انتخابات کی تیاریاں بھی شروع نہیں کی ہیں باوجود اس کے حکمراں جماعت ٹی ایم سی خائف ہے اور اس کی سربراہ و وزیر اعلی بے بنیاد الزامات کی ایک مہم چھیڑ رکھی ہے۔

لکھنؤ: مہاراشٹر اور بہار میں پارٹی کی آبیاری کرنے کے بعد اترپردیش میں پارٹی کے لئے زمین تلاشنے کی کوشش میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے آج لکھنؤ کے ایک ہوٹل میں سہیل دیو سماج پارٹی کے سربراہ و بی جے پی حکومت میں سابق وزیر اوم پرکاش راج بھر سے ملاقات کی اور یوپی میں چھوٹی پارٹیوں سے اتحاد کر کے الیکشن لڑنے کا عندیہ دیا۔

بدھ کو لکھنؤ میں ایک ہوٹل میں راج بھر سے ملاقات کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ ہم دونوں آپ کے روبرو تشریف فرما ہیں۔ ہم ایک ساتھ ہیں اور راج بھر جی کی قیادت میں آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاری کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی الزامات کے درمیان ہمارا کارواں یوں ہی آگے بڑھے گا۔ اس موقع پر پیس پارٹی کے ریاستی صدر ڈاکٹر منان نے ایم آئی ایم کی رکنیت حاصل کی۔

پریس کانفرنس کے دوران مغربی بنگال کی وزیر اعلی پر تنقید

پریس کانفرنس کے درمیان انہوں نے مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ابھی ہم نے مغر بی بنگال کے سال 2021 کے انتخابات کی تیاریاں بھی شروع نہیں کی ہیں باوجود اس کے حکمراں جماعت ٹی ایم سی خائف ہے اور اس کی سربراہ و وزیر اعلی ممتا بنرجی بے بنیاد الزامات کی ایک مہم چھیڑ رکھی ہے۔

ممتا بنرجی پر طنز کستے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے بی جے پی سے کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا لیکن اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی بی جے پی کی حکومت میں ممتا بنرجی شراکت دار تھی۔ جب گجرات میں فسادات ہوئے تھے اس وقت انہیں اقلیتوں کی یاد نہیں آئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جو پارٹی حکومت سازی میں بی جے پی کی اتحادی رہی ہو اس سے اقلیتوں کو کتنی امید رکھنی چاہئے۔

ٹی ایم سی پر مغربی بنگال میں بی جے پی کے لئے راہ ہموار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مسٹر اویسی نے کہا کہ ٹی ایم سی مغربی بنگال میں بی جے پی کے لئے راہ ہموار کررہی ہے۔ ایسا سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں دیکھا گیا جب بی جے پی نے 17سیٹوں پر جیت درج کی۔ مسٹر اویسی ممتا بنرجی کے ذریعہ لگائے جارہے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘اسدالدین اویسی کو پیسوں سے کوئی نہیں خرید سکتا۔ ممتا کو اپنے گھر کے بارے میں فکر کرنی چاہئے۔ ان کے کافی افراد بی جے پی میں شمولیت اختیا ر کررہے ہیں۔

بی جے پی وزیر محسن رضا نے کہا، ” ملک کو توڑنے والے لوگ ایک اسٹیج پر آرہے ہیں”

وہیں ریاست میں ہورہی نئی سیاسی ڈیولمپنٹ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے بی جے پی وزیر محسن رضا نے کہا کہ ملک کو توڑنے والے لوگ ایک اسٹیج پر آرہے ہیں۔ اس سے پہلے عام آدمی پارٹی نے یوپی میں انتخابات لڑنے کی بات کہی تھی۔ ان لوگوں کو چاہئے کہ یہ سبھی ایک اسٹیج پر آجائیں۔ ہمیں اس کی بالکل بھی فکر نہیں ہے۔ ان کے ایک ساتھ آنے سے یہ واضح ہوگیا کہ ملک کو توڑنے والے اب ایک اسٹیج پر آرہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ سال 2022 کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی پارٹیوں نے اپنی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ یوپی کا سیاسی پارہ کافی گرم ہوچکا ہے۔ منگل کو عام آدمی پارٹی نے بھی یوپی اسمبلی انتخابات میں میدان میں اترنے کا علان کیا تھا۔ پرگتی شیل سماج وادی پارٹی کے سربراہ شیوپال سنگھ یادو پہلے ہی اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ آئندہ انتخابات کے لئے چھوٹی و ہم خیال پارٹیوں کا ایک اتحاد تیار کرنے کی کوشش میں ہیں۔

مغربی بنگال کے مسلمان ممتا بنرجی کی جاگیر نہیں: اویسی

0
مغربی بنگال کے مسلمان ممتا بنرجی کی جاگیر نہیں: اویسی
مغربی بنگال کے مسلمان ممتا بنرجی کی جاگیر نہیں: اویسی

اسدالدین اویسی نے کہا کہ "اب تک آپ نے صرف فرمان بردار میر جعفرز اور صادقوں کے ساتھ ہی معاملہ کیا ہے۔ آپ ان مسلمانوں کو پسند نہیں کرتے جو خود سوچتے ہو اور بات کرتے ہیں۔”

کولکاتا: مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کے ذریعہ اے ایم آئی ایم کی تنقید اور بی جے پی کی بی ٹیم قرار دئے جانے کے بعد اسد الدین اویسی نے آج ممتا بنرجی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ بنگال کے مسلمان ممتا بنرجی کی جاگیر نہیں ہیں۔ ممتا بنرجی نے ایک جلسے میں کہا تھا کہ بی جے پی کروڑوں روپے خرچ کرکے حیدرآباد کی ایک پارٹی کو آئندہ اسمبلی انتخابات میں کھڑا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

مسٹر اویسی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ مسلمان جو اپنے لئے سوچتے اور بولتے ہیں، ممتا بنرجی انہیں پسند نہیں کرتیں۔ ترنمول کانگریس کی سپریموکے الزامات کا جواب دیتے ہوئے اویسی نے لکھا ہے کہ کوئی بھی انہیں پیسے سے نہیں خرید سکتا۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر نے ٹویٹ کیا، "اب تک آپ نے صرف فرمان بردار میر جعفرز اور صادقوں کے ساتھ ہی معاملہ کیا ہے۔ آپ ان مسلمانوں کو پسند نہیں کرتے جو خود سوچتے ہو اور بات کرتے ہیں۔

اویسی نے لکھا ہے کہ خود آپ اپنے لوگوں کے بکھرنے سے خوف زدہ ہیں۔ آپ کے لوگ بی جے پی میں جارہے ہیں اس لئے آپ بے چین ہیں۔ اویسی نے الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس کے رہنما نے بہار کے لوگوں کی توہین کی ہے جنہوں نے اے ایم آئی ایم کو ووٹ دیا۔

مسٹر اویسی نے کہا کہ نام نہاد سیاسی جماعتیں بی جے پی سے شکست کے لئے ہمیں مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔اپنی ناکامیوں کے لئے مجھے کیسے ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں۔

سنبھل: بس – ٹینکر میں ٹکر، 8 کی موت، 36 سے زائد افراد زخمی

0

پولیس ذرائع نے بتایا کہ علاقے کے گرام مانکپور کی مڑھیا کے نزدیک یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب علی گڑھ ڈیپو کی بس ٹینکر سے ٹکرا گئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ آدھی بس پوری طرح سے تباہ ہوگئی جبکہ ٹینکر کے اگلے حصے کے پرخچے اڑ گئے۔

سنبھل: اترپردیش کے ضلع سنبھل کے دھناری علاقے میں بدھ کو گھنے کہرے کے درمیان آگرہ ۔ مرادآباد نیشنل ہائی وے پر روڈ ویز بس اور گیس ٹینکر میں ٹکر ہوگئی۔ اس حادثے میں بس سوار آٹھ مسافروں کی موت ہوگئی، جبکہ 36 سے زیادہ افراد شدید طور سے زخمی ہوگئے۔

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ کے تئیں ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں تعزیت پیش کی۔ زخمیوں کو بہتر علاج فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

آدھی بس پوری طرح سے تباہ

پولیس ذرائع نے بتایا کہ علاقے کے گرام مانکپور کی مڑھیا کے نزدیک یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب علی گڑھ ڈیپو کی بس ٹینکر سے ٹکرا گئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ آدھی بس پوری طرح سے تباہ ہوگئی جبکہ ٹینکر کے اگلے حصے کے پرخچے اڑ گئے۔

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس(ایس پی) چکریش مشرا نے بتایا کہ ٹینکر گیس لے کر علی گڑھ کی طرف سے مرادآباد جارہا تھا جبکہ بس مرادآباد سے علی گڑھ جارہی تھی۔ مانکپور کی مڑھیا کے نزدیک ٹینکر نے گنا لدی ٹرالی سے سائڈ لیا۔ کہرا زیادہ گھنا تھا اور ڈرائیور نے اسپیڈ بڑھا کر اوورٹیک کیا۔ اسی وقت مرادآباد کی طرف سے علی گڑی جارہی سرکاری بس سے اس کی آمنے سامنے سے ٹکر ہوگئی۔

انہوں نے بتایا کہ سڑک حادثے کی اطلاع ملتے ہی کئی تھانوں کی فورس پہنچ چکی ہے وہیں محکمہ صحت نے ہائی وے کے اسپتالوں کو الرٹ کردیا ہے۔ ایمبولنس کے ذریعہ زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ایس پی نے ابھی پانچ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ وہیں ذرائع نے بتایا کہ موقع سے آٹھ لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔ ابھی بھی مزید ہلاکتوں کا اندیشہ ہے۔ راحت رسانی کا کام تیزی سے جاری ہے۔

غریبوں سے ایک روپیہ بھی لئے بغیر تلنگانہ میں ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر: تارک راما راو

0

تلنگانہ کے وزیراعلی کے چندر شیکھر راو چاہتے ہیں کہ غریب افراد عزت نفس کے ساتھ زندگی گذاریں۔ اسی لئے غریب افراد کی عزت نفس کی علامت کے طور پر یہ مکانات تعمیر کئے گئے ہیں۔ ملک کی کسی بھی ریاست نے اس طرح کے مکانات غریبوں کیلئے تعمیر نہیں کئے ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تارک راما راو نے کہا کہ ریاست میں غریبوں کے لئے ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کا سہرا وزیر اعلی کے چندر شیکھرراو کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے شہر حیدرآباد کے ونستھلی پورم کے بھوانی نگر میں 324 ڈبل بیڈروم مکانات کا افتتاح کیا اور یہ مکانات استفادہ کنندگان کے حوالے کئے۔

اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت 9714 کروڑ روپے کے خرچ سے ایک لاکھ ڈبل بیڈروم مکانات غریبوں کے لئے تعمیر کررہی ہے۔

ڈبل بیڈروم مکانات تعمیر کرنے کا مقصد

انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعلی کے چندر شیکھر راو چاہتے ہیں کہ غریب افراد عزت نفس کے ساتھ زندگی گذاریں۔ اسی لئے غریب افراد کی عزت نفس کی علامت کے طور پر یہ مکانات تعمیر کئے گئے ہیں۔ ملک کی کسی بھی ریاست نے اس طرح کے مکانات غریبوں کیلئے تعمیر نہیں کئے ہیں۔ دہلی، کولکاتہ، ممبئی اور دیگر شہروں میں بھی غریبوں کیلئے ایسے مکانات تعمیر نہیں کئے گئے۔

ڈبل بیڈروم مکانات میں ڈبل بیڈروم، ایک ہال، ایک کچن سمیت دو باتھ روم بھی بنائے گئے ہیں۔ ایسے ایک مکان کی تعمیر پر 9 لاکھ روپے کا صرفہ ہورہا ہے۔ تقریبا 50 لاکھ روپے مالیت کے مکانات وزیراعلی نے غریب افراد کو دیئے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایک روپیہ بھی غریبوں سے لئے بغیر وزیراعلی ان کیلئے مکانات تعمیر کروا رہے ہیں۔ کمرشیل اپارٹمنٹ کی طرز پر ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر عمل میں لائی جارہی ہے۔

انہوں نے ان مکانات کے اطراف صاف ستھرے اور بہتر ماحول کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے مکانات حاصل کرنے والوں سے خواہش کی کہ وہ مکانات کے قریب کچرہ نہ ڈالیں۔ اپنے اطراف کے ماحول کو صاف رکھیں تاکہ بیماریوں سے بچا جاسکے۔ اس مقصد کے لئے کمیٹیاں بھی قائم کی جائیں۔

کسانوں کی تحریک دارالحکومت میں 20 ویں دن بھی جاری

0

دہلی کی سرحدوں پر قریب چالیس کسان تنظیموں کی جانب سے مسلسل دھرنا مظاہرہ کیا جارہا ہے اور وہ لمبے وقت تک جدوجہد کی بات کررہے ہیں۔ حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لئے کسانوں کی جانب سے کل ایک دن کی بھوک ہڑتال کی گئی تھی۔

نئی دہلی: زرعی اصلاحات قوانین کے خلاف کسان تنظیموں کی تحریک قومی دارالحکومت میں 20 ویں دن بھی جاری رہا۔ کسان تنظیموں کی جانب سے دہلی کی سرحدوں کے نزدیک دھرنا مظاہرہ جاری رہا۔
اس دوران کسان تنظیموں کے رہنماؤں نے کہا کہ حکومت کو تینوں زرعی اصلاحات قوانین کو واپس لے لینا چاہئے۔  فصلوں کے کم از کم امدادی قیمت کو قانونی درجہ دینا چاہئے۔
وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا ہےکہ کسانوں کو تحریک کا راستہ چھوڑ کر بات چیت سے مسئلہ کا حل کرنا چاہئے۔ دہلی کی سرحدوں پر قریب چالیس کسان تنظیموں کی جانب سے مسلسل دھرنا مظاہرہ کیا جارہا ہے اور وہ لمبے وقت تک جدوجہد کی بات کررہے ہیں۔
حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لئے کسانوں کی جانب سے کل ایک دن کی بھوک ہڑتال کی گئی تھی۔ کچھ کسان تنظیموں نے زرعی اصلاحات قوانین کی حمایت بھی کی ہے۔

کورونا وائرس: ڈاکٹروں کو راحت دینے کا سپریم کورٹ کا مشورہ

0

مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی کہ ڈاکٹروں کو کچھ راحت (تعطیل) دینے پر غور کرے گی۔ یہ یقین دہانی اس وقت کرائی گئی جب کچھ ججوں پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ڈاکٹروں کو چھٹی دینے پر غور کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے منگل کے روز سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کی ڈیوٹی پر تعینات طبی عملہ (ڈاکٹروں) کو کچھ راحت (تعطیل) دینے پر غور کرے گی۔

مرکزی حکومت نے یہ یقین دہانی اس وقت کرائی جب جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس آر سبھاش ریڈی اور جسٹس ایم آر شاہ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ڈاکٹروں کو چھٹی دینے پر غور کرنے کا مشورہ دیا۔

جسٹس بھوشن نے کہا کہ پچھلے سات آٹھ مہینوں سے مسلسل کورونا وائرس کے علاج میں مصروف ڈاکٹروں کی ذہنی صحت پر اثر پڑ سکتا ہے۔ لہذا انہیں راحت دینے پر غور کرنا چاہئے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت عظمی کو یقین دلایا کہ وہ (حکومت) بنچ کے مشورے پر غور کرے گی۔ عدالت کورونا کے مریضوں کے مناسب علاج اور اسپتالوں میں لاشوں کی باعزت نگہداشت کے معاملے کی سماعت کررہی تھی۔

کورونا وائرس سے متعلق ایک اور معاملے میں عدالت عظمی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ لوگوں کی بڑی تعداد ایسی ہے جو ماسک پہننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف اس بات پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا کہ کسی ریاست نے ماسک نہیں پہننے والوں سے 80 یا 90 کروڑ روپے جرمانہ وصول کرلیا ہے۔