اتوار, مارچ 22, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 411

کسانوں کی تحریک 41 ویں دن بھی جاری، مطالبات پورے ہونے تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم

0
کسانوں کی تحریک 41 ویں دن بھی جاری، مطالبات پورے ہونے تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم
کسانوں کی تحریک 41 ویں دن بھی جاری، مطالبات پورے ہونے تک جدوجہد جاری رکھنے کا عزم

دارالحکومت میں کسانوں کی تحریک 41 ویں روز بھی جاری ہے۔  گزشتہکل کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین آٹھویں دور کے ہوئے مذاکرات میں کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔

نئی دہلی: زرعی اصلاحات سے متعلق تینوں قوانین کو واپس لینے اور فصلوں کی کم از کم سہارا قیمت (ایم ایس پی) کو قانونی درجہ دینے کے مطالبہ پر کسان تنظیموں کی تحریک قومی دارالحکومت میں منگل کو 41 ویں روز بھی جاری رہی۔

گزشہ تین دنوں سے خراب موسم کے باوجود کسان تنظیموں کے لیڈر اور کارکنان دارالحکومت کی سرحدوں پر دھرنا مظاہرہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کسان تنظیموں نے اپنے مطالبات کو پورا ہونے تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس تحریک کو مختلف تنظیموں کی بھی حمایت مل رہی ہے۔

کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین آٹھویں دور کی بات چیت بھی بے نتیجہ

اس درمیان کل کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین آٹھویں دور کے ہوئے مذاکرات میں کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ مذاکرات کے بعد وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ کسانوں کے ساتھ بات چیت بہت ہی اچھے ماحول میں ہوئی ہے۔ انہیں یقین ہے کہ مسئلے کا حل جلد ہی ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کے مجموعی مفاد کو مدنظر رکھ کر زرعی اصلاحات قوانین کو بنایا ہے اور اس سے اگر انہیں کوئی پریشانی ہورہی ہے تو حکومت اس پر بات چیت کے لئے تیار ہے۔

کسان تنظیمیں زرعی اصلاحات قوانین کو واپس لینے پر بضد

مسٹر تومر نے کہا کہ کسان تنظیمیں زرعی اصلاحات قوانین کو واپس لینے پر بضد ہیں جبکہ حکومت ان پر نقطہ وار بات چیت کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ جنوری کو ہونے والی میٹنگ معنی خیز ہوگی اور وہ حل تک پہنچیں گے۔ دونوں فریق کے مابین اتفاق کے بعد بات چیت کی اگلی تاریخ آٹھ جنوری طے کی گئی ہے۔

کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا ہے کہ حکومت زرعی اصلاحات قوانین پر نقطہ وار بات چیت کرنا چاہتی ہے اور اس کا ارادہ قانون میں ترمیم کا ہے جبکہ کسان تنظیمیں ان تینوں قوانین کو واپس کیے جانے پر بضد ہیں۔

گزشتہ دورکی بات چیت میں بجلی کے چارجز پر دی جارہی سبسڈی میں تبدیلی نہ کرنے اور پرالی جلانے والے کسانوں پر کارروائی نہ کیے جانے کے معاملے پر کسانوں اور حکومت کے درمیان اتفاق ہوگیا تھا۔ لیکن زرعی اصلاحات قوانین کو واپس لینے اور ایم ایس پی کو قانونی درجہ دئے جانے پر تعطل برقرار ہے۔

مرکزی حکومت کے سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کو سپریم کورٹ کی ہری جھنڈی

0
مرکزی حکومت کے سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کو سپریم کورٹ کی ہری جھنڈی
مرکزی حکومت کے سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کو سپریم کورٹ کی ہری جھنڈی

عدالت نے گزشتہ 7 دسمبر کو نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سنگ بنیاد کو منظوری دے دی تھی، لیکن موجودہ ڈھانچے میں کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ کو فیصلہ آنے تک روک دیا تھا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مرکزی سرکار کے اہم ’سنٹرل وسٹا‘ پروجیکٹ کو منگل کے روز ہری جھنڈی دے دی۔

جسٹس اے ایم خانولکر، جسٹس دنیش مہیشوری اور جسٹس سنجیو کھنہ کی بینچ نے 1:2 اکثریت کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پروجیکٹ کو وزارت ماحولیات کی جانب سے دی گئی ہری جھنڈی میں کوئی بے ضابطگی نظر نہیں آتی۔ جسٹس خانولکر اور جسٹس مہیشوری نے بھی دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ذریعہ زمین استعمال میں تبدیلی کے نوٹیفکیشن کو درست ٹھہرایا جبکہ جسٹس کھنہ نے اس پر عدم اتفاق ظاہر کیا۔ اس پروجیکٹ کے خلاف پانچ عرضیاں دائر کی گئی تھی، جن میں دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ذریعے زمین استعمال تبدیل کرنے کے نوٹیفکیشن اور ماحولیاتی خدشات کو نظرانداز کرنے وغیرہ معاملے شامل تھے۔

عدالت نے طویل سماعت کے بعد گذشتہ سال 5 نومبر کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

واضح رہے کہ عدالت نے گزشتہ 7 دسمبر کو نئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سنگ بنیاد کو منظوری دے دی تھی، لیکن موجودہ ڈھانچے میں کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ کو فیصلہ آنے تک روک دیا تھا۔

جنرل توشار مہتا نے مانگی تھی معافی

جسٹس خانوِلکر نے معاملے کا حتمی نمٹارہ نہ ہونے کے باوجود تعمیراتی کام آگے بڑھانے کے تعلق سے گہری ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور سالسٹر جنرل توشار مہتا سے کہا تھا ’’کوئی روک نہیں ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ ہر چیز کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں‘‘۔ بینچ کی ناراضگی کا سامنا کرتے ہوئے سالسٹر جنرل نے حکومت سے ہدایت حاصل کرنے کے لئے ایک دن کا وقت مانگا تھا، لیکن عدالت نے اسی دن سرکار سے بات چیت کر کے واپس آنے کے لئے کہا تھا اور کچھ دیر کے لئے سماعت روک دی تھی۔ تھوڑی دیر بعد مسٹر مہتا واپس آ گئے تھے اور معافی مانگتے ہوئے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ کوئی تعمیر، توڑ پھوڑ یا پیڑوں کی کٹائی نہیں ہوگی۔ سنگ بنیاد رکھا جائے گا، لیکن کوئی اور تبدیلی نہیں ہوگی۔

جسٹس خانولکر نے مسٹر مہتا کا بیان ریکارڈ پر لیتے ہوئے حکم دیا کہ 10 دسمبر کو سنگ بنیاد رکھنے کا پروگرام جاری رہے گا، لیکن کوئی اور تعمیراتی کام نہیں ہوگا۔

امریکہ نے فرانسیسی بینک پر 85 لاکھ ڈالر کا جرمانہ کیا عائد

0
امریکہ نے فرانسیسی بینک پر 85 لاکھ ڈالر کا جرمانہ کیا عائد
امریکہ نے فرانسیسی بینک پر 85 لاکھ ڈالر کا جرمانہ کیا عائد

امریکی محکمہ خزانہ نے کہا کہ اس فرانسیسی بینک نے مبینہ طور پر امریکی نامزد شامی اداروں کی طرف سے مالی لین دین کیا ہے، جس میں امریکی مالیاتی نظام کے ذریعے منتقلی بھی شامل ہے۔

واشنگٹن: امریکہ نے شام کے خلاف عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کے معاملے میں فرانسیسی بینک پر 85 لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا۔

امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے پیر کو یہاں جاری ریلیز میں بتایا گیا کہ محکمہ خزانہ کے فارن ایسٹس کنٹرول (او اے ایف اے سی) کے دفتر نے آج فرانس میں واقع یونین ڈی بینس عربس ایٹ فرانسیسی بینک (یو بی ایف)، جو یورپ اور مغربی ایشیاء، شمالی افریقہ اور افریقہ اور ایشیا کے مابین تجارت کے لئے سہولت فراہم کرتا ہے، پر شام سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پر تقریبا 85 لاکھ ڈالر جرمانہ عائد کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

محکمہ نے کہا کہ اس بینک نے مبینہ طور پر امریکی نامزد شامی اداروں کی طرف سے مالی لین دین کیا ہے، جس میں امریکی مالیاتی نظام کے ذریعے منتقلی بھی شامل ہے۔

کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین آٹھویں دور کی بات چیت بھی بے نتیجہ

0
کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین آٹھویں دور کی بات چیت بھی بے نتیجہ
کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین آٹھویں دور کی بات چیت بھی بے نتیجہ

کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین آٹھویں دور کی بات چیت میں کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ کسانوں کی تنظیمیں گذشتہ 40 دن سے قومی دارالحکومت کی سرحدوں پر احتجاج کر رہی ہیں۔ پچھلے دو دن سے بارش کے باوجود، ان کا احتجاج جاری ہے۔

نئی دہلی: زرعی اصلاحات سے متعلق تینوں قوانین کو واپس لینے اور فصلوں کی کم از کم سہارا قمیت [ایم ایس پی] کو قانونی درجہ دینے کے مطالبے کے سلسلے میں پیر کو کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین آٹھویں دور کی بات چیت میں کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔

تقریبا تین گھنٹوں کی بات چیت کے بعد، کسان رہنما راکیش ٹکیٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت زرعی اصلاحات کے قوانین پر نکتہ وار بات چیت کرنا چاہتی ہے اور اس کا ارادہ اس قانون میں ترمیم کرنے کا ہے، جبکہ کسان تنظیمیں ان تینوں قوانین کو واپس لئے جانے پر قائم ہیں۔ حکومت اور کسانوں کے مابین اگلی میٹنگ 8 جنوری کو ہوگی۔

مسٹر ٹکیٹ نے کہا کہ وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر تینوں قوانین پر بار بار نکتہ وار بات کرنے پر اصرار کرتے رہے جس کی وجہ سے تعطل قائم رہا۔ انہوں نے کہا کہ تینوں قوانین واپس لئے جانے تک کسانوں کی انجمنوں کا احتجاج جاری رہے گا۔

کسانوں کی تنظیمیں گذشتہ 40 دن سے قومی دارالحکومت کی سرحدوں پر احتجاج کر رہی ہیں۔ پچھلے دو دن سے بارش کے باوجود، ان کا احتجاج جاری ہے۔

پچھلے دور میں ہونے والی بات چیت میں، کسانوں اور حکومت کے مابین بجلی کے نرخ پر سبسڈی دینے اور پرالی جلانے والے کسانوں پر کارروائی نہ کرنے پر اتفاق رائے ہوگیا تھا لیکن زرعی اصلاحات کے قوانین کو واپس لینے اور ایم ایس پی کو قانونی حیثیت دینے پر تعطل قائم رہا تھا۔

فوٹو شناختی کارڈ موجود نہیں ہے تو کورونا ویکسین کا ٹیکہ نہیں لگے گا

0
فوٹو شناختی کارڈ موجود نہیں ہے تو کورونا ویکسین کا ٹیکہ نہیں لگے گا
فوٹو شناختی کارڈ موجود نہیں ہے تو کورونا ویکسین کا ٹیکہ نہیں لگے گا

مرکزی وزارت صحت و خاندانی فلاح و بہبود نے کہا کہ کسی بھی فرد کے لئے نہ صرف اندراج کے لئے بلکہ ٹیکہ لگانے کے وقت بھی فوٹو شناختی کارڈ ساتھ رکھنا لازمی ہے۔ فوٹو شناختی کارڈ نہ رکھنے کی صورت میں یہ معلوم نہیں ہوگا کہ مذکورہ شخص کو ہی ٹیکہ لگایا جانا ہے۔

نئی دہلی: کورونا وائرس کووڈ ۔ 19 کے ذریعہ ٹیکے لگائے جانے والے فرد کے لئے لازمی ہے کہ وہ اپنا فوٹو شناختی کارڈ ویکسی نیشن کی مخصوص جگہ پر لائیں اور اگر وہ کسی وجہ سے اسے لے جانا بھول جاتے ہیں تو انہیں کورونا ویکسین کا ٹیکہ نہیں لگایا جائے گا۔

مرکزی وزارت صحت و خاندانی فلاح و بہبود نے کہا کہ کسی بھی فرد کے لئے نہ صرف اندراج کے لئے بلکہ ٹیکہ لگانے کے وقت بھی فوٹو شناختی کارڈ ساتھ رکھنا لازمی ہے۔ فوٹو شناختی کارڈ نہ رکھنے کی صورت میں یہ معلوم نہیں ہوگا کہ مذکورہ شخص کو ہی ٹیکہ لگایا جانا ہے۔

اس کے علاوہ ہر اس شخص کے لئے اندراج بھی لازمی ہے جو ویکسین لینا چاہتا ہے۔ اندراج کے بعد ہی انہیں ویکسینیشن کے لئے مقرر کردہ جگہ اور وقت کے بارے میں اطلاع فراہم کی جائیں گی۔

رجسٹریشن کے لئے ضروری دستاویزات

رجسٹریشن کے لئے آدھار کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، ووٹر شناختی کارڈ، پین کارڈ، پاسپورٹ، جاب کارڈ یا پنشن کیلئے دستاویزات درست ہیں۔ اس کے علاوہ وزارت لیبر، ایم جی این آر ای جی اے کارڈ، ایم پی، ایم ایل اے یا ایم ایل سی کے ذریعہ جاری کردہ سرکاری شناختی کارڈ، بینک یا پوسٹ آفس کے ذریعہ جاری کردہ پاس بک، مرکزی یا ریاستی حکومت یا پبلک لمیٹڈ کمپنی کے ذریعہ جاری کردہ شناختی کارڈ درست دستاویزات ہیں۔ یہ تمام دستاویزات تبھی درست ہوں گی جب ان میں متعلقہ شخص کی تصویر ہوگی۔

وزارت نے بتایا کہ آن لائن رجسٹریشن کے بعد مستحقین کو رجسٹرڈ موبائل نمبر پر ایس ایم ایس کے ذریعہ ویکسی نیشن کے مقام اور وقت کے بارے میں اطلاع فراہم کی جائیں گی۔

کورونا ویکسین کی مکمل خوراک کے بعد مستفید ہونے والے افراد کو رجسٹرڈ موبائل نمبر پر ایس ایم ایس بھیج کر مطلع کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی کیو آر کوڈ پر مبنی سرٹیفکیٹ بھی موبائل نمبر پر بھیجا جائے گا۔

مزید پڑھیں: 

اکھلیش کا بڑا بیان، ملک میں کہیں بھی کوئی کورونا نہیں

کسانوں کی حمایت میں نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا کی سائیکل ریلی دہلی روانہ

0
کسانوں کی حمایت میں نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا کی سائیکل ریلی دہلی روانہ
کسانوں کی حمایت میں نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا کی سائیکل ریلی دہلی روانہ

کسانوں کی آواز مضبوط کرنے کے لیے این ایس یو آئی کارکنان کی سائیکل ریلی امرجوان جیوتی سے دہلی کے لئے روانہ ہوئی۔

جے پور: راجستھان میں نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے سیکڑوں کارکنان نے سائیکل ریلی کی شکل میں کسانوں کی حمایت میں آج دوپہر جے پور سے دہلی کوچ کیا۔

کسانوں کی آواز مضبوط کرنے کے لیے این ایس یو آئی کارکنان کی سائیکل ریلی امرجوان جیوتی سے دہلی کے لئے روانہ ہوئی۔ ریاستی کانگریس صدر اور وزیر تعلیم گووند سنگھ ڈوٹاسرا نے ہری جھنڈی دکھاکر ریلی کو روانہ کیا۔

ریلی این ایس یو آئی کے قومی صدر نیرج کندن اور ریاستی صدر ابھیشیک چودھری کی قیادت میں دہلی روانہ ہوئی ہے۔ یہ ریلی دہلی کے راستے میں بہراڑ میں رکے گی اور اس کے بعد پھر دہلی کے لیے روانہ ہوجائے گی۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ ریلی 6 جنوری کو دہلی پہنچ کر کسان تحریک میں شامل ہوگی۔

اس موقع پر مسٹر ڈوٹاسرا نے کہا کہ آج چالیس روز سے کسان تحریک کررہے ہیں لیکن مرکزی حکومت ان کی بات نہیں سن رہی ہے۔ اس دوران چالیس سے زائد کسان خودکشی کرچکے ہیں۔

مسٹر ڈوٹاسرا نے مرکزی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جس کسان کے ووٹ سے اقتدار میں آئی حکومت آج ووٹ کی نہیں سن رہی ہے وہ انداتا کی نہ ہوکر پیسے داتا کی ہوگئی ہے۔

اس موقع پر وزیر ریونیو ہریش چودھری، وزیر تعلیم بھنور سنگھ بھاٹی، ٹرانسپورٹ منسٹر پرتاپ سنگھ کھاچریاواس اور وزیرکھیل اشوک چندنا بھی موجود تھے۔

اسدالدین اویسی کی پھرپھرا شریف کے پیرزادہ سے ملاقات کے ساتھ مغربی بنگال میں نئی سیاسی تحریک کا اغاز

0
اسدالدین-اویسی-کی-پھرپھرا-شریف-کے-پیرز
اسدالدین-اویسی-کی-پھرپھرا-شریف-کے-پیرز

مغربی بنگال میں آئندہ ہونے والے انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی کو بہار کے اختر الایمان جیسے کسی مضبوط سیاسی رہنما کی تلاش ہے۔ پھرپھرا شریف کے مولانا عباس صدیقی سے اویسی کی ملاقات اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھی جا رہی ہے۔ اس پر ترنمول کانگریس نے اپنا وہی پرانا راگ الاپتے ہوئے مجلس کو بے جی پی کی بی ٹیم قرار دیا

کولکاتا: کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے اتوار کے روز مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات سے قبل ہگلی ضلع کے جنگی پورہ علاقے میں واقع پھرپھرا شریف کے بااثرعالم دین پیرزادہ عباس صدیقی سے ملاقات کی جس سے ریاست میں ایک نئی سیاسی تحریک پر قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔

گذشتہ مارچ میں صدیقی نے ایک سیاسی تنظیم شروع کرنے اور اسمبلی انتخابات لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، تب سے اب تک سمت میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

صدیقی کے ساتھ بات چیت کے بعد اسد الدین اویسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ”ہم مولانا عباس صدیقی کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں کہ انتخاب ایک ساتھ لڑنا ہے یا اپنے طور پر۔ لیکن وہ ہم سے بڑے ہیں اور ہم یہاں مل کر کام کرنا چاہیں گے۔

دریں اثنا، پھرپھرا شریف ہی کے ایک دوسرے عالم دین پیرزادہ طحی صدیقی نے کہا کہ ‘اب تک ہم نے ریاست میں ترقی کے نام پر ووٹ دیا ہے۔ چاہے ووٹ کانگریس، سی پی ایم کے حق میں دئے ہوں یا ترنمول کانگریس کے لئے، سبھی کو ترقی کے نام پر ووٹ دیا گیا ہے۔ اس بار ہم فرقہ واریت کے خلاف ووٹ دیں گے۔ ہم فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر یقین رکھتے ہیں اور ہم اس ہم آہنگی کے تحفظ کے لئے ووٹ کریں گے۔” انہوں نے کہا: "مسلم طبقہ ریاست کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں فرقہ واریت کے خلاف ووٹ ڈالے گی۔”

مجلس کے سربراہ جناب اویسی نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ ان کی پارٹی مغربی بنگال میں آئندہ اسمبلی انتخابات لڑے گی۔ ترنمول کانگریس نے ان پر الزام لگایا تھا کہ وہ بی جے پی کی مدد کے لئے اقلیتی ووٹوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی نے بہار اسمبلی کے نتائج کی نشاندہی کی تھی جہاں مشرقی بہار میں اے آئی ایم آئی ایم  () کی کارکردگی سے مہاگبتبندھن اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، اور اس طرح مجلس کے انتخابات میں حصہ لینے کی وجہ سے "بی جے پی کی مدد” کی مدد ہوئی تھی۔

ترنمول کانگریس نے جب مجلس کو بے جی پی کی بی ٹیم قرار دیا تواویسی نے سخت لفظوں میں سوال کیا کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے یہاں 18 سیٹیں کیسے جیت گئی، اور آخر کیوں ترنمول کے ممبران پارٹی چھوڑکر بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں۔ مغربی بنگال کے عام غیر بی جے پر ووٹرز جہاں سیکولر ووٹ کے ممکنہ بکھراؤ سے گھبرائے ہوئے ہیں وہیں دلتوں اور آدیباسیوں سے بھی خراب حالت میں زندگی گزار رہے مسلمان اب ایسی قیادت کی راہ دیھ رہے ہیں جو ان کے حقوق کے لئے آواز بلند کرے۔

اسدالدین اویسی نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) پلٹ وار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکمراں جماعت ترنمول کانگریس نے مغربی بنگال میں بی جے پی کو بڑھاوا دیا ہے۔ ترنمول کانگریس نے اویسی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے غیر بی جے پی جماعتوں کا وہی پرانا راگ الاپتے ہوئے کہا کہ یہ "بی جے پی کی بی ٹیم” ہے ۔

اس پر اویسی نے اتوار کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ایک سیاسی جماعت ہیں۔ ہم یہاں اپنی موجودگی درج کرنے اور اسمبلی انتخابات لڑنے آئے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "جب گجرات جل رہا تھا تو ممتا بنرجی کہاں تھیں؟ ہم نے 2019 میں لوک سبھا انتخابات نہیں لڑا۔ پھر بنگال میں بی جے پی نے 18 سیٹیں کیسے جیت گئی؟ کیا ٹی ایم سی نے ان کے ساتھ سمجھوتہ کر رکھا تھا؟”

اسد الدین اویسی نے مزید کہا کہ کہ "ہم نے بہار اسمبلی انتخابات میں 20 نشستیں لڑی تھیں۔ ان میں سے ہم نے پانچ میں کامیابی حاصل کی، کانگریس کے مہاگٹھ بندھن اور آر جے ڈی نے نو میں کامیابی حاصل کی اور بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے چھ حلقوں میں کامیابی حاصل کی۔ اویسی نے مزید کہا کہ ہمارے خلاف یہ الزام کہ ہم بی جے پی کی بی ٹیم ہیں بے بنیاد اور غلط ہے۔

ترنمول کانگریس سے پارٹی رہنماؤں کے حالیہ انحراف کا ذکر کرتے ہوئے مجلس کے سربراہ نے کہا کہ "ترنمول کانگریس کو اپنا محاسبہ کرنا چاہئے اور یہ معلوم کرنا چاہئے کہ وہ مغربی بنگال میں بی جے پی کو کیوں نہیں روک سکتی۔ پارٹی کو تجزیہ کرنا چاہئے کہ اس کے ممبران پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں کیوں جا رہے ہیں۔”

اسد الدین اویسی نے ایک سلسہ وار ٹویٹ میں کہا کہ "بنگال حضرت پیر صوفی ابوبکر صدیق رحمۃ اللہ علیہ کی عظیم تاریخی سرزمین ہے، میں یہاں ان کو خراج عقیدت پیش کرنے آیا ہوں، پھرپھرا شریف کے  اولیا اللہ اور بزرگان دین کی دعاؤں سے مجلس نے بنگال میں اپنا کام شروع کردیا ہے۔

ٹی ایم سی کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ سوگتا رائے نے کہا: اویسی بخوبی واقف ہیں کہ بنگال میں مسلمان زیادہ تر بنگالی بولنے والے ہیں، اردو بولنے والے نہیں۔ لہذا وہ اس کی پارٹی کی حمایت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عباس صدیقی سے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ بنگال میں مسلمان ممتا بنرجی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔

دریں اثنا ”مغربی بنگال کے بی جے پی صدر دلیپ گھوش نے کہا کہ انہیں اویسی اور ان کی پارٹیکی  ریاست میں سیاسی جگہ بنانے کی کوششوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کی فکر نہیں ہے کہ کون الیکشن لڑہا ہے کون نہیں۔ ہمارا نعرہ ہے "سب کا ساتھ، سب کا وکاس’۔ جو لوگ مسلمانوں کی خوشامدی میں مصروف ہیں وہ خوف زدہ ہیں۔ جمہوریت میں کوئی بھی الیکشن لڑ سکتا ہے۔”

اسدالدین اویسی کی پھرپھرا شریف کے عالم دین پیرزادہ عباس صدیقی سے ملاقات کو اسمبلی انتخابات سے قبل مغربی بنگال میں مسلم اکثریتی حلقوں میں ایک سیاسی محاذ بنانے کی کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ چونکہ ہمسایہ بہار میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں اچھا مظاہرہ رہا جس کے بعد مغربی بنگال میں پارٹی کا انتخابی آغاز ہوگا۔ اس لئے مجلس ہندی یا اردو بولنے والے مسلمانوں کے ساتھ بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے کی خواہاں ہے۔ مغربی بنگال میں مسلمانوں کی کل آبادی 30 فی صد ہے جن میں سے 24 فیصد بنگالی بولتی ہے۔

یوروپی ممالک اور امریکہ نے وینزویلا کی اپیل کردی مسترد

0
یوروپی ممالک اور امریکہ نے وینزویلا کی اپیل کردی مسترد
یوروپی ممالک اور امریکہ نے وینزویلا کی اپیل کردی مسترد

پرتگال، اسپین، برطانیہ اور امریکہ کی حکومت اور ان کے مالیاتی اداروں نے کورونا ویکسین کی خریداری کے لئے وینزویلا کے دولت پر کنٹرول کر کے اسے اپنے پاس جمع کرلیا ہے۔

بیونس آئرس: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے کہا کہ کورونا ویکسین کی خریداری کے تعلق سے ملک کے اثاثوں پر عائد پابندیاں ہٹانے کی اپیل امریکہ اور یوروپی یونین (ای یو) نے مسترد کردی ہے۔

مسٹر مادورو نے یہاں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پرتگال، اسپین، برطانیہ اور امریکہ کی حکومت اور ان کے مالیاتی اداروں نے کورونا ویکسین کی خریداری کے لئے وینزویلا کے دولت پر کنٹرول کر کے اسے اپنے پاس جمع کرلیا ہے۔ ہم نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کے توسط سے فنڈز پہنچانے ​​کا متبادل مانگا، لیکن اس کے لئے انکار کردیا۔

انہوں نے کہا ’’نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے ان ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی بات چیت کی، لیکن ان کی اپیل بھی مسترد کردی گئی ‘‘۔

واضح رہے کہ مسٹر مادورو کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی کوششوں کے امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک نے حزب اختلاف کے لیڈر جوان گوائڈو کی حمایت کی ہے اور وینزویلا پر پابندیوں کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے اثاثوں کو خود کے پاس جمع کر لیا ہے.

شام میں بسوں اور ٹرکوں پر دہشت گردوں کا حملہ، 9 افراد ہلاک

0
شام میں بسوں اور ٹرکوں پر دہشت گردوں کا حملہ، 9 افراد ہلاک
شام میں بسوں اور ٹرکوں پر دہشت گردوں کا حملہ، 9 افراد ہلاک

شام میں اتوار کی رات تقریبا 9 بجکر 30 منٹ پر ایندھن والے ٹرکوں اور تین مسافر بسوں کے قافلے کو نشانہ بنا کر دہشت گردوں نے حملہ کیا جس میں 9 افراد ہلاک اور دیگر چار زخمی ہوگئے۔

بیروت: شام کے صوبہ حماہ کے سلمیہ شہر کے نزدیک دہشت گردوں نے تین مسافر بسوں اور ایندھن والے ٹرکوں کو نشانہ بنا کر حملہ کیا جس میں 9 افراد ہلاک اور دیگر چار زخمی ہوگئے۔ صوبہ حماہ کے گورنر محمد طارق کرشتی نے یہ اطلاع دی۔

شام کے روزنامہ الوطن نے فوجی ذرائع کے حوالے سے اتوار کے روز اپنی ایک رپورٹ میں اس حملے کی جانکاری دی تھی۔ ذرائع کے مطابق یہ حملہ سلمیہ الرقہ شاہراہ پر ہوا ہے۔

اس کے بعد وہاں تعینات شامی سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے مابین جھڑپ شروع ہو گئی، جس کی وجہ سے شاہراہ کو بند کرنا پڑا۔

گورنر کرشتی نے شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ اتوار کی رات تقریبا 9 بجکر 30 منٹ پر ایندھن والے ٹرکوں اور تین مسافر بسوں کے قافلے کو نشانہ بنا کر حملہ کیا گیا۔

حملے میں 9 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ چار دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ جائے وقوعہ سے تمام افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے جبکہ زخمیوں کو سلمیہ کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اس حملے میں دہشت گردوں نے چھوٹے ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے ۔

کسان تین ماہ سے احتجاج کررہے ہیں اور گڈکری کہتے ہیں ’قانون اچھے ہیں‘: نمبردار

0
کسان تین ماہ سے احتجاج کررہے ہیں اور گڈکری کہتے ہیں ’قانون اچھے ہیں‘: نمبردار
کسان تین ماہ سے احتجاج کررہے ہیں اور گڈکری کہتے ہیں ’قانون اچھے ہیں‘: نمبردار

آل انڈیا کسان سبھا کے پریس سکریٹری صوبے سنگھ بورہ نے کہا کہ کل 4 جنوری کو ہونے والی بات چیت میں حکومت نے مطالبات نہیں مانے تو کسان آر پار کی لڑائی لڑیں گے اور 6 جنوری کو کسان سبھا کی جانب سے آئندہ تحریک کا اعلان کیا جائے گا۔

حصار: آل انڈیا کسان سبھا کے ضلع حصار کے سربراہ شمشیر سنگھ نمبردار سمیت کسان رہنماؤں نے آج مرکزی وزیر نتن گڈکری کے اس بیان کی مذمت کی ہے جس میں انہوں نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ تینوں زرعی قوانین اچھے ہیں اور اب تک کوئی بھی ان قوانین کو غلط بتانے والا آگے نہیں آیا۔

یہاں ٹول پلازہ چودھریواس میں ٹول فری تحریک کے دسویں دن دھرنے کے مظاہرے کے دوران مسٹر نمبردار، سبھا کے پریس سکریٹری صوبے سنگھ بورہ اور چیف ایڈوائزر راجکمار ٹھولے دار وغیرہ رہنماؤں نے کہا کہ یہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ پچھلے تین ماہ سے ملک کے لاکھوں کسان احتجاج کررہے ہیں اور حکومت سے مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ تینوں سیاہ زرعی قوانین کو واپس لیا جائے اور مسٹر گڈکری اس قسم کا بیان دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زرعی قوانین نہ صرف کسان مخالف ہیں بلکہ ملک دشمن بھی ہیں۔ انہیں غیر جمہوری انداز میں جلدی سے منظور کیا گیا، جس کی وجہ سے ملک بھر میں احتجاج کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے بڑے وزراء نے کسان رہنماؤں کے ساتھ متعدد بار بات چیت کی ہے۔ ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کسانوں کی تنظیموں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ تینوں بلوں میں خامیاں ہیں, اس طرح مسٹر گڈکری کے بیان سے کچھ اور ہی لگ رہا ہے۔ کسان رہنماؤں نے الزام لگایا کہ اس سے مرکزی حکومت کا ارادہ ٹھیک نہیں لگتا اور مطالبہ کیا کہ حکومت کل (4 جنوری) کو کسانوں کے ان مطالبات پر سنجیدگی سے بات چیت کرکے اس پورے معاملے کو حل کرے۔

مسٹر بورہ نے کہا کہ کل ہونے والی بات چیت میں حکومت نے مطالبات نہیں مانے تو کسان آر پار کی لڑائی لڑیں گے اور 6 جنوری کو کسان سبھا کی جانب سے آئندہ تحریک کا اعلان کیا جائے گا۔

مزید اسے بھی پڑھیں:

کسان تنظیموں نے دی دھمکی، بات چیت ناکام ہونے پر کریں گے تحریک تیز