اتوار, مارچ 22, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 405

فلسطینی لیڈر نے امریکہ کے نو منتخب صدر و نائب صدر کو دی مبارکباد، ساتھ مل کر کام کرنے کی ظاہر کی امید

0
فلسطینی لیڈر نے امریکہ کے نو منتخب صدر و نائب صدر کو دی مبارکباد، ساتھ مل کر کام کرنے کی ظاہر کی امید
فلسطینی لیڈر نے امریکہ کے نو منتخب صدر و نائب صدر کو دی مبارکباد، ساتھ مل کر کام کرنے کی ظاہر کی امید

فلسطینی لیڈر محمود عباس نے کہا ’’امید ہے کہ مغربی ایشیا خطہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں امن اور استحکام کے لئے ہم ساتھ مل کر کام کریں گے‘‘۔

غزہ: فلسطینی لیڈر محمود عباس نے مسٹر جو بائیڈن کو امریکہ کے صدر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ علاقے میں امن قائم رکھنے کے لئے وہ ساتھ مل کر کام کرنے کی امید کرتے ہیں۔

ڈبلیو اے ایف اے نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مسٹر عباس نے نائب صدر کملا ہیرس کو بھی مبارکباد دی اور سنگین مسائل کے حل کی سمت میں انکی کامیابی کی تمنا کی۔

فلسطینی لیڈر نے کہا ’’امید ہے کہ مغربی ایشیا خطہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں امن اور استحکام کے لئے ہم ساتھ مل کر کام کریں گے‘‘۔

پیرس آب و ہوا کی تبدیلی معاہدہ میں امریکہ ہوگا دوبارہ شامل

0
پیرس آب و ہوا کی تبدیلی معاہدہ میں امریکہ ہوگا دوبارہ شامل
پیرس آب و ہوا کی تبدیلی معاہدہ میں امریکہ ہوگا دوبارہ شامل

امریکہ ایک بار پھر پیرس کے موسمیاتی تبدیلی کے معاہدے میں شامل ہوگا۔ صدر جو بائیڈن نے ایگزیکٹو احکام پر دستخط کردیئے۔

واشنگٹن: امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے بدھ کو پیرس آب و ہوا کی تبدیلی معاہدہ اور عالمی صحت تنظیم میں امریکہ کے دوبارہ شامل ہونے کے ایگزیکٹو احکام پر دستخط کردیئے۔

مسٹر بائیڈن نے بدھ کو کہا ’’میں نے جو عہد بستگیاں ظاہر کی ہیں، اس کے مطابق ہم آج سے پیرس آب و ہوا کی تبدیلی معاہدے میں شامل ہونے جارہے ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو پیرس آب و ہوا کی تبدیلی معاہدے اور ڈبلیو ایچ او سے الگ کرلیا تھا۔

مسٹر بائیڈن نے امریکہ ۔ میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر کو ملتوی کرنے کا ایگزیکٹو احکام پر دستخط کردیئے ہیں۔

ارنب معاملے میں مجرمانہ خاموشی بھارت کے لئے ایک لمحمہ فکریہ

0
ارنب معاملے میں مجرمانہ خاموشی بھارت کے لئے ایک لمحمہ فکریہ
ارنب معاملے میں مجرمانہ خاموشی بھارت کے لئے ایک لمحمہ فکریہ

ارنب گوسوامی وہاٹس ایپ چیٹ لیک معاملہ پلوامہ اور بالا کوٹ جیسے حساس معاملوں سے وابستہ ہونے کے باوجود سیاسی گلیاروں میں خاموشی کئی سوالات کھڑے کرتی ہے۔ نہ مین اسٹریم میڈیا میں کوئی چرچہ یا مباحثہ اور نہ ہی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کوئی ایسا رد عمل کہ اس پر کارروائی کا دباؤ بن سکے

تحریر: ڈاکٹر یامین انصاری

تصور کیجئے کسی شخص کی وہاٹس ایپ پر ہوئی گفتگو ( چیٹ) لیک ہو جائے۔ اور اس گفتگو میں وزیر اعظم دفتر ( پی ایم او) کا ذکر ہو، ’اے ایس‘ کا ذکر ہو، وزارت اطلاعات و نشریات کا ذکر ہو، این ایس اے کی بات ہو اور سب سے بڑھ کر پلوامہ حملے اور پھر پاک مقبوضہ علاقہ میں سرجیکل اسٹرائک پر گفتگو کی گئی ہو۔ اس کے باوجود نہ کہیں کسی کارروائی کا ذکر، نہ مین اسٹریم میڈیا میں کوئی چرچہ یا مباحثہ اور نہ ہی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے کوئی ایسا رد عمل کہ اس پر کارروائی کا دباؤ بن سکے۔

کسی عدالت کا از خود نوٹس لینے یا پوچھ گچھ کی تو کیا ہی بات کی جائے، جب سپریم کورٹ ہی اُس شخص کو ترجیحات کی بنیاد پر ضمانت دے دیتی ہے۔ در اصل ممبئی پولیس نے بدنام زمانہ اینکر اور ری پبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی کے خلاف ٹی آر پی گھپلہ معاملے میں ایک چارج شیٹ داخل کی ہے۔ اس میں ٹی آر پی کیس کے کلیدی ملزم اور ’براڈکاسٹ آڈیئنس ریسرچ کونسل‘ (بارک) کے سابق سی ای او پارتھو داس گپتا کے ساتھ وہاٹس ایپ پر ہونے والی ارنب کی بات چیت ( چیٹنگ) کے منظر عام پر آنے کے بعد سنسنی پھیل گئی ہے۔

میڈیا اس معاملے کو اُتنی اہمیت نہیں دے رہاہے جتنا یہ سنگین ہے

حالانکہ یہ سنسنی حساس اور سنجیدہ طبقوں میں ہی ہے عام نہیں ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ میڈیا کا ایک بڑا طبقہ اس معاملے کو اُتنی اہمیت نہیں دے رہاہے، جتنا سنگین یہ معاملہ ہے۔ ہاں، جو بھی رد عمل اور کارروائی کادباؤ بنایا گیا ہے، وہ سوشل میڈیا کے ذریعہ ہی بنا ہے۔ خاص طور پر ٹوئیٹر پر اس معاملے کو کافی زور وشور سے اٹھایا گیا ہے اور پچھلے کئی دنوں سے وہاں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس کے بعد ہی اپوزیشن کانگریس نے اس پر نوٹس لیا اوربیان جاری کیا۔

ارنب گوسوامی کے وہاٹس ایپ چیٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد کئی اہم سوالات پیدا ہوگئے ہیں، جن کی بنیاد پر کانگریس اور اپوزیشن کی دیگر پارٹیوں نے اس معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کی مانگ کی ہے۔

وہاٹس ایپ چیٹ کا معاملہ ہے تو بہت سنگین، لیکن ایک ’راشٹروادی‘ اینکر کی وجہ سے اس کی سنگینی کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔ حالانکہ اس معاملے میں صرف ارنب گوسوامی ہی نہیں، بلکہ مرکزی حکومت اور کئی اہم ادارے بھی کٹہرے میں کھڑے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ کیوں کہ یہ سیدھا ملک کی سلامتی سے تعلق رکھتا ہے۔

پلوامہ اور بالا کوٹ ایئر اسٹرائک کا ذکر بے حد سنسی خیز

پانچ سو صفحات پر مشتمل وہاٹس ایپ کی اس بات چیت میں جو سب سے سنسنی خیز اور سنگین معاملہ ہے وہ پلوامہ حملے اور بالا کوٹ ایئر اسٹرائک کا ذکر ہے۔ اسی لئے یہ سنگین سوال پوچھا جارہاہے کہ ارنب گوسوامی کو بالاکوٹ اور پٹھان کوٹ حملوں کی اطلاع پہلے سے کیسے تھی؟ کیوں کہ دعوی کیا گیا ہے کہ یہ بات چیت سرجیکل اسٹرائیک سے تین دن پہلے کی گئی تھی۔

اس وائرل وہاٹس ایپ چیٹ میں داس گپتا سے ارنب کہتے ہیں کہ کچھ ’بڑا‘ ہونے والا ہے۔ جس کے بعد جب ان سے کہا گیا کہ کیا وہ داؤد کے حوالے سے ہے، تو ارنب جواب دیتے ہیں ‘نہیں سر، پاکستان۔ اس مرتبہ کچھ اہم ہونے جا رہا ہے۔ داس گپتا اگلے جواب میں جب حملے کا ذکر کرتے ہیں تو ارنب کہتے ہیں ’نارمل اسٹرائیک سے بڑی اسٹرائیک ہونے والی ہے اور اسی وقت کشمیر میں بھی کچھ اہم ہو گا۔‘قابل ذکر ہے کہ۱۴؍ فروری ۲۰۱۹ء کو پلوامہ میں دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا، جس میں سی آر پی ایف کے۴۰؍ جوان شہید ہو گئے تھے۔

ہندوستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے بالا کوٹ میں سرجیکل اسٹرائیک کی تھی۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں نے پلوامہ حملے اورسرجیکل اسٹرائیک دونوں پر سوالات اٹھائے تھے اور اسے مارچ میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے سیاسی حربے کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔ ارنب اور پارتھو داس گپتاکے درمیان ہونے والی یہ بات چیت ٹی آر پی کیس میں ممبئی پولیس کی اضافی چارج شیٹ کا حصہ ہے۔

بی جے پی لیڈران کی خاموشی معنی خیز

اس پورے معاملے پر بی جے پی میں خاموشی طاری ہے۔ آخر ہو بھی کیوں نہ، دن رات بی جے پی اور سرکار کی ترجمانی کرنے والے ری پبلک چینل کے ایڈیٹر ان چیف کا معاملہ جو ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ جب ممبئی پولیس نے ارنب گوسوامی کو ایک مجرمانہ کیس میں گرفتار کیا تھا تو چھوٹے موٹے بی جے پی لیڈران کی کیا بات کی جائے۔

وزیر داخلہ سے لے کر وزیر خارجہ ور وزیر اطلاعات و نشریات نے ارنب کی گرفتاری کی مذمت کی تھی اور ٹوئیٹ کرکے اسے صحافتی اصولوں اور اظہار رائے کی آزادی پر حملہ بتایا تھا۔ لیکن پلوامہ اور بالا کوٹ جیسے حساس معاملوں پر بی جے پی قیادت کی خاموشی واقعی کئی سوالات کھڑے کرتی ہے۔ یعنی ارنب کا معاملہ جتنا سنسنی خیز ہے، اتنا ہی بی جے پی لیڈران کی خاموشی معنی خیز کہی جا سکتی ہے۔

آپ صرف سوچ کر دیکھئے کہ اگر ارنب گوسوامی کی جگہ ہم آپ جیسا کوئی معمولی انسان ہوتا، کوئی غیر جانب دار یا صحافتی اصولوں سے سمجھوتہ نہ کرنے والا کوئی اینکر ہوتا، یا پھر ’درباری‘ نہ ہو کریا گودی میڈیا سے باہر کا کوئی صحافی ہوتا تو آج ہر طرف کیا اسی طرح کی خاموشی اور سناٹا دیکھنے کو ملتا؟ اسی لئے تو سوچتا ہے بھارت۔

ارنب معاملہ پر رویش کمار کی بے باک تحریر

راقم کے اس سوال کا جواب آج بھی صحافتی اصولوں کو زندہ رکھنے والے مشہور صحافی رویش کمار کی ایک تحریر میں ملتا ہے۔ رویش کمارکو لکھنا پڑا کہ اگر ارنب گوسوامی کی جگہ وہ ہوتے تو کیا ہوتا؟

وہ لکھتے ہیں ’’آپ کس سے توقع کر رہے ہیں؟ ہندوستان کا۹۹؍ اعشاریہ ۹۹۹؍ فیصد میڈیا ’گودی میڈیا‘ ہے۔ یہ ایک پریوار کی طرح کام کرتا ہے۔ آپ اس پریوار کے محافظ اور سرپرست کا نام جانتے ہیں۔ اس فیملی کے تمام اینکر اور چینلوں کے مالک ارنب ہی ہیں۔ سب کے نام الگ ہیں، لیکن کام ارنب کا ہی ہے۔ تو کوئی کیسے اپنے ارنب ہونے کے خلاف ارنب کی پول کھول دے۔

ارنب صرف ایک نیوز اینکر نہیں ہے۔ وہ ایک سماج ہے۔ ارنب کے جھوٹ کو دیکھنے اور دن رات اسے برداشت کرنے والا سماج ارنب بن چکا ہے۔ اس سماج کی سوچ میں ارنب اور ارنب کے محافظ کے فرق کی سرحد ختم ہو چکی ہے۔ اس کے محافظ اور سرپرست ہی ارنب ہے اور ارنب ہی محافظ ہے۔‘‘

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’اگر میرے بارے میں ایسی کوئی اطلاع ہوتی تو ارنب سمیت سبھی ارنب اس پر گھنٹوں مہم چلا رہے ہوتے۔ سارے وزیر پولیس کے ساتھ میرے گھر آ گئے ہوتے۔ افسر نوٹس جاری کر رہے ہوتے۔ کیوں کہ میں ارنب نہیں ہوں۔‘‘ رویش کمار کے ان الفاظ پر غور کریں تو بہت کچھ سمجھ میں آ جائے گا۔

پاکستانی رد عمل

ارنب گوسوامی اور بارک کے سی ای او کی وہاٹس ایپ کی گفتگو کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ معاملہ سامنے آنے کے بعد پاکستانی میڈیا اور وہاں کی حکومت بھی سرگرم ہو گئی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مذکورہ گفتگو سے ہندوستانی میڈیا اور مودی سرکار کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہو گیا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر سلسلہ وار ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’انتخابات جیتنے کے لیے خطرناک فوجی مہم جوئی خطے کوغیر مستحکم کرنے کا باعث بنی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی ایڈونچر پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر سکتا تھا۔’

خیر، یہ تو ہمارے دشمن ملک کی بات ہو گئی۔ لیکن کیا واقعی یہ معاملہ اتنا غیر اہم ہے کہ نہ سرکار، نہ عدالت اور نہ ہی میڈیا کا بڑا طبقہ اس پر کوئی توجہ دے رہا ہے۔ اگر یہ سب اسی طرح چلتا رہا تو یہ ملک کے مستقبل کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

حالانکہ مختلف ہائی کورٹس نے ابھی امید کی لو جلا رکھی ہے۔ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی موت سے متعلق معاملے میں ممبئی پولیس کی شبیہ خراب کرنے والے ریپبلک ٹی وی اور ٹائمز ناؤ کی کوریج کو بامبے ہائی کورٹ نے بادی النظر میں توہین آمیز قرار دیا۔

میڈیا ٹرائل کیس کی سماعت کے دوران، بمبئے ہائی کورٹ نے کہا کہ میڈیا میں اب انتہائی درجہ کی صف بندی ہوگئی ہے، ماضی میں صحافی حضرات ذمہ دار اور غیر جانبدار ہوا کرتے تھے۔

اس کےعلاوہ نیوز براڈکاسٹرس ایسوسی ایشن ( این بی اے) نے ارنب اور داس گپتا کی بات چیت پرسخت غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’گذشتہ چار برسوں میں این بی اے کی جانب سے ریٹنگ کے حوالے سے عائدالزامات کی اس سے تصدیق ہوتی ہے کہ ایک غیر این اے بی رکن نے ’بارک‘ کی اعلیٰ انتظامیہ سے مل کر ریٹنگ میں ہیرا پھیری کی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مذکورہ ادارے کیا واقعی ارنب جیسے لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی کر سکیں گے۔

[مضمون نگار انقلاب دہلی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ہیں | ای میل: yameen@inquilab.com]

ادارے کا مضمون نگار کے آراء و افکار سے متفق ہونا ضروری نہیں

آسام میں مدرسوں کو بند کرنے کا فیصلہ سرکاری دہشت گردی اور غیر آئینی: مولانا ولی رحمانی

0
آسام میں مدرسوں کو بند کرنے کا فیصلہ سرکاری دہشت گردی اور غیر آئینی: مولانا ولی رحمانی
آسام میں مدرسوں کو بند کرنے کا فیصلہ سرکاری دہشت گردی اور غیر آئینی: مولانا ولی رحمانی

آسام گورنمنٹ نے پہلے اعلان کیا کہ سرکاری امداد پانے والے مدارس کو سرکاری اسکولوں میں تبدیل کرلیا جائیگا اور اب اسمبلی میں یہ تجویز منظور کی گئی ہے کہ تمام تر مدارس کو اسکول بنادیا جائیگا۔

مونگیر: آسام اسمبلی نے ایک تجویز منظور کی ہے جس کے نتیجہ میں پہلی اپریل سے تمام مدارس بند کردیئے جائیں گے۔ اسمبلی کی یہ تجویز اور مدارس بند کرنے کا فیصلہ سرکاری دہشت گردی ہے اور آئین میں موجود بنیاد ی حقوق کی دفعہ ۰۳ کی کھلی مخالفت ہے۔

ان خیالات کا اظہار ایک صحافتی ملاقات میں امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی ا سمبلی یا پارلیمنٹ کو آئین ہند کے بنیادی حقوق کی دفعات کے خلاف قانون سازی کا حق نہیں ہے۔

آسام گورنمنٹ نے پہلے اعلان کیا کہ سرکاری امداد پانے والے مدارس کو سرکاری اسکولوں میں تبدیل کرلیا جائیگا اور اب اسمبلی میں یہ تجویز منظور کی گئی ہے کہ تمام تر مدارس کو اسکول بنادیا جائیگا، مدارس کے اساتذہ کی نوکریاں باقی رہیں گی اور انہیں سہولتیں دی جائیں گی۔

جب تک بھارت کا آئین زندہ ہے حکومت مدارس کو چھو نہیں سکتی

مولانا محمد ولی رحمانی نے کہا جتنے بھی مدارس ہیں وہ آئین کے بنیادی حقوق کی دفعات ۹۲۰۳ کے دائرہ میں ہیں اور ان کی اصل حیثیت کو بدلا نہیں جاسکتا۔ جو مدارس حکومت کی امداد نہیں لیتے نہ صرف حکومت ان پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی، بلکہ سرکاری امداد پانیوالے مدارس کو بھی حکومت چھو نہیں سکتی جب تک بھارت کا آئین زندہ ہے۔

سرکاری امداد لینے والے مدارس کی زمین، مکان عام مسلمانوں کے تعاون سے کھڑے ہوئے ہیں۔ اساتذہ اور اسٹاف کی تنخواہیں بھی طویل عرصہ تک مسلم عوام نے پورے کئے ہیں۔ عوام کی طرف سے عمارتوں کے بنانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ صرف اساتذہ اور اسٹاف کی جزوی یاکلی تنخواہ دیدینے کی وجہ سے مدرسہ کی بنیادی نوعیت نہیں بدلی جاسکتی اور وہ آئین کی دفعہ ۹۲۰۳ سے باہر نہیں ہوجاتے۔

مولانا محمد ولی رحمانی نے کہا کہ آسام حکومت کی دہشت گردی کا یہ ایک نمونہ ہے اور آئین ہند کو نظر انداز کرنے کی ایک مثال ہے۔ اس صورتحال کو عدالت سے نپٹنے کی کوشش شروع ہوچکی ہے۔

امریکہ کا چین پر ایغور مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کا الزام

0
امریکہ کا چین پر ایغور مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کا الزام
امریکہ کا چین پر ایغور مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کا الزام

مائک پومپیو نے چین پر ایغوروں اور وہاں کی اصل مسلم کمیونٹی کو دبا کر نسل کشی کرنے کا الزام لگایا۔ جو بائیڈن کے مستقبل کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھی مائک پومپیو کے بیان سے اتفاق کیا ہے۔

واشنگٹن: سبکدوش ہونے والے امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے چین پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایغوروں اور وہاں کی اصل مسلم کمیونٹی کو دبا کر نسل کشی کررہی ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق صدر جو بائیڈن کے مستقبل کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھی مائک پومپیو کے بیان سے اتفاق کیا ہے۔

حقوق انسانی گروپوں نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے "ری ایجوکیشن کیمپ” کے طور پر گزشتہ کچھ برسوں سے ایغوروں کو حراست میں لے رکھا ہے۔‘‘

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین زبردستی ایغوروں کو مزدوری کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ چین کے ساتھ تناؤ امریکی صدر ٹرمپ کے دور حکومت کی خصوصیت رہا ہے۔ کورونا وبا کے دور میں دونوں ممالک کے مابین تصادم نے تجارتی پالیسیوں کو متاثر کیا ہے۔

جلپائی گوڑی میں تین گاڑیوں کی ٹکر، 13 لوگوں کی موت، 18 زخمی

0
جلپائی گوڑی میں تین گاڑیوں کی ٹکر، 13 لوگوں کی موت، 18 زخمی
جلپائی گوڑی میں تین گاڑیوں کی ٹکر، 13 لوگوں کی موت، 18 زخمی

کل رات قریب پونے دس بجے دھوپ گڑی کے قریب بولڈر سے لدے ٹرک کی دوسری سمت سے آرہی منی ٹرک سے ٹکر ہوگئی اور اسی کے فوراً بعد ایک کار بھی ٹکرا گئی۔

کولکاتہ: مغربی بنگال کے جلپائی گوڑی ضلع میں دھوپ گڑی کے نزدیک منگل کی رات کہرے کی وجہ سے تین گاڑیوں کی ٹکر سے 13 لوگوں کی موت ہوگئی جبکہ 18 دیگر زخمی ہوگئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق کل رات قریب پونے دس بجے دھوپ گڑی کے نزدیک بولڈر سے لدے ٹرک کی دوسری سمت سے آرہی منی ٹرک سے ٹکر ہوگئی اور اسی کے فوراً بعد ایک کار بھی ٹکرا گئی۔ حادثے میں 13 لوگوں کی موت ہوگئی اور 18 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد موقع پر پہنچی پولیس نے راحت اور بچاؤ کا کام شروع کیا۔ زخمیوں کو دھوپ گڑی کے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں سے انہیں جلپائی گوڑی کے اسپتال میں ریفر کردیا گیا۔
تفصیل کا انتظار ہے۔۔۔۔۔۔

جموں میں ایل او سی پر دراندازی کی کوشش ناکام، آپریشن میں 3 دہشت گرد ہلاک، 4 فوجی جوان زخمی

0
جموں میں ایل او سی پر دراندازی کی کوشش ناکام، آپریشن میں 3 دہشت گرد ہلاک، 4 فوجی جوان زخمی
جموں میں ایل او سی پر دراندازی کی کوشش ناکام، آپریشن میں 3 دہشت گرد ہلاک، 4 فوجی جوان زخمی

فوجی جوانوں اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلہ میں تین دہشت گرد مارے گئے ہیں جبکہ دیگر دو دہشت گرد یا تو واپس بھاگ گئے یا وہیں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ آپریشن کے دوران چار فوجی جوان بھی زخمی ہوگئے۔

جموں: دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع جموں کے اکھنور سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر دراندازی کی ایک کوشش کو ناکام بناتے ہوئے فوج نے کم سے کم تین مسلح دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔ جبکہ اس دوران چار فوجی جوان بھی زخمی ہوگئے ہیں۔

مذکورہ ذرائع نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اکھنور سیکٹر کے کیری باتل علاقے میں ایل او سی پر منگل اور بدھ کی درمیانی شب پانچ مسلح دہشت گردوں کے ایک گروپ نے در اندازی کرنے کی کوشش کی لیکن وہاں تعینات فوجی جوانوں نے انہیں روکا اور للکارا۔

انہوں نے بتایا کہ اس دوران فوجی جوانوں اور در اندازی کرنے والے دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں تین دہشت گرد مارے گئے جبکہ دیگر دو دہشت گرد یا تو واپس بھاگ گئے یا وہیں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔

مذکورہ ذرائع نے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران چار فوجی جوان بھی زخمی ہوگئے جنہیں علاج و معالجے کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں آپریشن ابھی جاری ہے۔

بتادیں کہ فوجی ذرائع کے مطابق سرحد پار لانچنگ پیڈس پر زائد از تین سو دہشت گرد دراندازی کرنے کی تاک میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

مذکورہ ذرائع کا کہنا ہے کہ سال 2020 میں ماضی کے نسبت دہشت گردوں کی طرف سے دراندازی کرنے کی کوششوں میں دس گنا اضافہ درج ہوا۔

امریکہ کا جرمنی سے فوجیوں کی تعداد کم کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے پر غور کرنے کا فیصلہ

0
امریکہ کا جرمنی سے فوجیوں کی تعداد کم کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے پر غور کرنے کا فیصلہ
امریکہ کا جرمنی سے فوجیوں کی تعداد کم کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے پر غور کرنے کا فیصلہ

امریکی نامزد وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ نو منتخب صدر بائیڈن نے ہمیں درپیش خطرات کے مقابلہ میں ہماری عالمی فوجی طاقت کا ایک جامع جائزہ لینے کا وعدہ کیا تھا۔ اگر اجازت دی جاتی ہے تو میں اس کوشش کی رہنمائی کرنے کے لئے تیار ہوں۔

واشنگٹن: امریکی انتظامیہ جرمنی سے امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرنے کے رخصت پذیر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی۔ منگل کے روز امریکی نامزد وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے یہ اطلاع سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو دی۔

انہوں نے کہا ’’نو منتخب صدر بائیڈن نے ہمیں درپیش خطرات کے مقابلہ میں ہماری عالمی فوجی طاقت کا ایک جامع جائزہ لینے کا وعدہ کیا تھا اور اگر اجازت دی جاتی ہے تو میں اس کوشش کی رہنمائی کرنے کے لئے تیار ہوں اور اس بات کی تفتیش کرنا چاہتا ہوں کہ وقت کے ساتھ اس میں کس طرح تبدیلی آنی چاہئے۔ میں نے ابھی تک اس حوالہ سے پوری طرح سے جائزہ نہیں لیا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ مجھے اس جائزہ کا حصہ بننا چاہئے۔ اگر اجازت دی جاتی ہے تو میں بھی جائزہ لینا چاہوں گا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے جرمنی سے امریکی فوج کی نمایاں تعداد میں واپس لینے کا فیصلہ کیوں کیا؟

ہندوستان نے برسبین میں تاریخ رقم کرتے ہوئے ٹیسٹ سیریز 1۔2 سے جیت لی

0
ہندوستان نے برسبین میں تاریخ رقم کرتے ہوئے ٹیسٹ سیریز 1۔2 سے جیت لی
ہندوستان نے برسبین میں تاریخ رقم کرتے ہوئے ٹیسٹ سیریز 1۔2 سے جیت لی

ہندوستان نے 1۔2 کی فتح کے ساتھ آسٹریلیائی دورے کا خاتمہ کیا۔ ہندوستان نے اس دورے میں ون ڈے سیریز 2۔1 سےہاری تھی لیکن دوبارہ واپسی کرتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی سیریز 1۔2 سے اور ٹیسٹ سیریز 1۔2 سے جیت لی۔

برسبین: نوجوان سلامی بلے باز شبھمن گل (91)، چیتیشور پجارا (56) اور باصلاحیت وکٹ کیپر بلے باز رشبھ پنت (ناٹ آؤٹ) کی بہترین بلے بازی کی بدولت ہندوستان نے آسٹریلیا کو برسبین کے گابا میدان میں منگل کے روز کھیلے گئے چوتھے اور آخری کرکٹ ٹیسٹ میچ کے پانچویں دن تین وکٹوں سے شکست دے کر نئی تاریخ رقم کردی۔ ہندوستان نے پہلی مرتبہ برسبین میں ٹیسٹ میچ جیت کر چار میچوں کی سیریز 1 ۔ 2 سے جیت لی۔

ہندوستان کو اس مقابلے کو جیتنے کے لئے 328 رنوں کا ہدف ملا تھا۔ ٹیم انڈیا نے صبح جب بنا کوئی وکٹ کھوئے چار رنوں سے آگے کھیلنا شروع کیا تو کسی کو توقع نہیں تھی کہ ہندوستان چوتھی اننگز میں اتنے مشکل ہدف کو حاصل کرلے گا لیکن ہندوستانی بلے بازوں نے وہ کرشمہ کر دکھایا جس کا کروڑوں اہل وطن کو انتظار تھا۔ انڈیا نے 97 اووروں میں سات وکٹوں کے نقصان پر 329 رن بنا کر تاریخی فتح درج کرلی۔

ہندوستان کی گابا میدان میں سات ٹیسٹ میچوں میں پہلی جیت

ہندوستان کی گابا میدان میں سات ٹیسٹ میچوں میں یہ پہلی جیت ہے۔ ہندوستان نے اس میدان پر اپنے گزشتہ چھ ٹیسٹ میچوں میں پانچ ہارے تھے اور ایک ڈرا کھیلا تھا۔ گابا میدان میں ہندوستان کی تاریخی فتح کے تین بڑے ہیرو تھے۔ شبھمن، پجارا اور پنت نے میچ کے آخری دن ایسی بلے بازی کی جسے طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔

شبھمن نے 146 گیندوں میں آٹھ چوکے اور دو چھکوں کی مدد سے 91 رنوں کی جارحانہ اننگ کھیلی جس نے ہندوستان کو فتح کی بنیاد بنا دیا۔ پجارا نے 211 گیندوں میں سات چوکوں کی مدد سے 56 رن بنائے۔ پجارا کی اس اننگز نے ٹیم انڈیا کو مضبوطی فراہم کی اور پنت نے 138 گیندوں میں نو چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے 89 رن بنائے اور میچ میں ہندوستان کی فتح پر مہر لگادی۔

کپتان اجنکیا رہانے نے 24، مینک اگروال نے نو اور واشنگٹن سندر نے 29 گیندوں میں دو چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے 22 رن بنائے۔ آسٹریلیا اپنی شاندار گیندبازی کے باوجود ٹیم انڈیا کے حوصلوں کو پست نہیں کر پایا اور ہندوستان نے 1 ۔ 2 کی فتح کے ساتھ آسٹریلیائی دورے کا خاتمہ کیا۔ ہندوستان نے اس دورے میں ون ڈے سیریز 2۔1 سےہاری تھی لیکن دوبارہ واپسی کرتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی سیریز 1۔2 سے اور ٹیسٹ سیریز 1۔2 سے جیت لی۔

گجرات: سڑک کنارے سونے والے مزدوروں کو بے قابو گاڑی نے کچلا، 15 کی موت

0
گجرات: سڑک کنارے سونے والے مزدوروں کو بے قابو گاڑی نے کچلا، 15 کی موت
گجرات: سڑک کنارے سونے والے مزدوروں کو بے قابو گاڑی نے کچلا، 15 کی موت

درمیانی شب کے آس پاس ایک تیز رفتار ڈمپر، گنا سے لدے ایک ٹریکٹر- ٹرالی سے تصادم کے بعد غیر متوازن ہو کر سڑک کنارے سونے والے 20 مزدوروں کے اوپر چڑھ گئی۔ جس سے 15 کی موت ہو گئی۔

سورت: گجرات کے ضلع سورت میں گذشتہ دیر رات ایک بے قابو گاڑی نے سڑک کنارے سونے والے 20 افراد کو کچل دیا، جس سے ان میں سے 15 کی موت ہو گئی۔

پولیس نے آج بتایا کہ یہاں سے تقریباً 50 کلومیٹر دور کِم-مانڈوی روڈ پر کوسنبا کے پلوڈگام کے نزدیک یہ حادثہ ہوا۔

ہلاک ہونے والے بنیادی طور پر راجستھان کے ضلع بانسواڑہ کے کُشل گڑھ کے باشندے مزدور بتائے گئے ہیں۔ ہلاکتوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

درمیانی شب کے آس پاس ایک تیز رفتار ڈمپر، گنا لدے ایک ٹریکٹر- ٹرالی سے تصادم کے بعد غیر متوازن ہو کر ان مزدوروں کے اوپر چڑھ گئی۔ ان میں سے 12 کی تو موقع پر ہی موت ہو گئی۔ آٹھ زخمیوں میں سے تین نے سورت کے اسمیمیر اسپتال میں دم توڑ دیا۔

پولیس نے ڈمبپر کو ضبط کرکے اس کے ڈرائیور اور کلینر کو پکڑ لیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈرائیور نے شراب پی رکھی تھی۔ معاملے کی تفصیلی چھان بین کی جا رہی ہے۔

اس درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے اس حادثے پر تکلیف کا اظہار کرتے ہوئے ہلاکتوں کے اہل خانہ کو دو دو لاکھ اور زخمیوں کے لیے 50 ہزار روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔