اتوار, مارچ 22, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 403

لال قلعہ تشدد میں بی جے پی اور اے اے پی کے ورکر شامل: امریندر

0
لال قلعہ تشدد میں بی جے پی اور اے اے پی کے ورکر شامل: امریندر
لال قلعہ تشدد میں بی جے پی اور اے اے پی کے ورکر شامل: امریندر

وزیر اعلی پنجاب کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا کہ لال قلعے میں کانگریس کا ایک بھی لیڈر یا کارکن نظر نہیں آیا۔ 26 جنوری کو ہونے والے اس واقعے کے لئے کسان بھی ذمہ دار نہیں ہیں۔ یہ واقعہ سماج دشمن عناصر نے انجام دیا جنہوں نے ٹریکٹر ریلی میں دراندازی کرلی تھی۔

چندی گڑھ: وزیر اعلی پنجاب کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا ہے کہ لال قلعہ میں نشان صاحب لہراتے وقت کیمرے میں قید ہوئے چہرے کانگریس کے نہیں بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے ورکروں اور حامیوں کے ہیں۔

انہوں نے آج یہاں ایک بیان میں لال قلعہ پر تشدد کے واقعے کی ذمہ داری کسی دیگر پر ڈالنے کے لئے مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور عآپ حامیوں و کارکنان کی ملی بھگت سے یہ ہوا۔ کانگریس تو پورے معاملے میں کہیں بھی نہیں تھی۔

کیپٹن سنگھ نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب دہلی پولیس نے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سنی دیول کے قریبی دیپ سدھو کو تشدد کے بھڑکانے والوں میں سے ایک کے طور پر نشاندہی کی گئی ہے اور عآپ کا ممبر امریک مِکّی بھی تشدد کے مقام پر موجود تھا۔

انہوں نے کہا کہ لال قلعے میں کانگریس کا ایک بھی لیڈر یا کارکن نظر نہیں آیا۔ 26 جنوری کو ہونے والے اس واقعے کے لئے کسان بھی ذمہ دار نہیں ہیں۔ یہ واقعہ سماج دشمن عناصر نے انجام دیا جنہوں نے ٹریکٹر ریلی میں دراندازی کرلی تھی۔

مرکزی حکومت کو اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنی چاہیے

ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت کو اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنی چاہیے تاکہ اس میں کسی بھی سیاسی پارٹی یا کسی ملک کے ممکنہ کردارکا پتہ لگایا جا سکے۔ قصورواروں کو سزا ملے اور اصل کاشتکاروں کو بے وجہ پریشان یا بدنام نہ کیا جائے۔

راہل گاندھی کو تشدد کے لئے بھڑکانے کے الزامات پر، وزیر اعلی نے کہا کہ یہ سب بی جے پی اور عآپ کے لوگ تھے جنہوں نے یہ سب کچھ کیا۔ تشدد کی مذمت کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے واضح کیا تھا کہ تشدد کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

مسٹر جاوڈیکر کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کیپٹن سنگھ نے کہا کہ ان میں کوئی صداقت نہیں ہے، بلکہ بی جے پی قائدین اپنی پارٹی کا ہاتھ ہونے کی وجہ سے ان کو چھپانے کے لئے یہ کہہ رہے ہیں۔ بی جے پی صورتحال کو سنبھالنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے جس نے سب سے پہلے زرعی قوانین کو اپنے من مانی طریقے سے نافذ کرکے ایسی صورتحال پیدا کی۔

انہوں نے کہا کہ اگر دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کے جانے پر پابندی تھی تو پھر مرکزی حکومت کو کسانوں کو راستے میں روکنے کے لئے ہریانہ کے وزیر اعلی کو ہدایت دی جانی چاہیے تھی۔

انہوں نے مرکزی حکومت اور بی جے پی کو ضد چھوڑ کر زرعی قوانین منسوخ کرنے کامطالبہ کیا۔ اگر مرکزی حکومت دو سال کے لئے زرعی قوانین ملتوی کرسکتی ہے تو، ان کو آسان طریقے سے منسوخ کرکے کسانوں اور دیگر فریقوں سے مشورہ کرکے نئے قوانین کیوں نہیں لاسکتی۔

امریکہ نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر عائد کی پابندی

0
امریکہ نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر عائد کی پابندی
امریکہ نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر عائد کی پابندی

امریکی انتظامیہ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت دستخط کیے گئے تمام دفاعی معاہدوں کا جائزہ لینے کے بعد متحدہ عرب امارات (متحدہ عرب امارات) کو جدید ترین ایف 35 جنگی طیاروں کی فروخت عارضی طور پر معطل کردی ہے۔

واشنگٹن: امریکی انتظامیہ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ہونے والے تمام دفاعی معاہدوں کا جائزہ لیتے ہوئے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو جدید ترین ایف 35 جنگی طیاروں کی فروخت پر عارضی طور پر روک لگا دی ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کو گولہ بارود کی فراہمی کے معاہدے کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

خبر رساں ایجنسی بلوم برگ کے صحافی انتھونی کیپاسیو نے بدھ کے روز ایک ٹویٹ میں یہ اطلاع دی۔

انتھونی نے ٹوئٹر پر لکھا ’’محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق ٹرمپ کے دور میں ہونے والے تمام اہم دفاعی معاہدوں کا جائزہ لیا جارہا ہے، جس کے پیش نظر متحدہ عرب امارات میں جدید ترین لاک ہیڈ مارٹن ایف -35 جنگجو لڑاکا طیارہ کی فروخت پر پابندی لگادی گئی ہے۔ سعودی عرب کو کچھ مقررہ گولہ بارود کی فراہمی پر بھی غور کیا جائے گا۔

کسان مخالف قوانین صرف کسانوں کے لئے نہیں بلکہ پورے ملک کے لئے خطرناک: پرینکا

0
کسان مخالف قوانین صرف کسانوں کے لئے نہیں بلکہ پورے ملک کے لئے خطرناک: پرینکا
کسان مخالف قوانین صرف کسانوں کے لئے نہیں بلکہ پورے ملک کے لئے خطرناک: پرینکا

کسان مخالف قوانین کی وجہ سے پورے ملک کے کسان گزشتہ 63 دنوں سے راجدھانی دہلی کی سرحد پر قانون واپس لینے کی مانگ پر جدوجہد کررہے ہیں اور اپنے 157 ساتھیوں کو گنوا چکے ہیں۔

لکھنو: کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بدھ کو کہا کہ کسان مخالف قوانین صرف کسانوں کے لئے نہیں بلکہ پورے ملک کے لئے خطرناک ہیں کیونکہ یہ قانون حکومت نے اپنے چند سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے بنایا ہے۔

یوپی کانگریس کی سرجن ابھیان کے تحت امیٹھی کے دکھنوارا نیائے پنچایت میں منعقدہ میٹنگ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ خطاب کرتے ہوئے محترمہ واڈرا نے کہا کہ کسان مخالف قوانین کی وجہ سے پورے ملک کے کسانوں کے وجود پر بحران کھڑا ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پورے ملک کے کسان گزشتہ 63 دنوں سے راجدھانی دہلی کی سرحد پر قانون واپس لینے کی مانگ پر جدوجہد کررہے ہیں اور اپنے 157 ساتھیوں کو گنوا چکے ہیں۔

امیٹھی سے میرا سیاسی نہیں بلکہ خاندانی رشتہ ہے

انہوں نے کہا کہ امیٹھی سے ان کا سیاسی نہیں بلکہ خاندانی رشتہ ہے۔ تنظیم کی تعمیر کانگریس کی اولین ترجیح ہے۔ تنظیم کی بدولت پارٹی حکومت کی غلط پالیسیوں کی مضبوطی کے ساتھ مخالفت کرسکتی ہے اور کسانوں، بے روزگاروں اور مہنگائی کے خلاف ایک مضبوط فیصلہ کن لڑائی لڑسکتی ہے۔

ریاستی کانگریس کے ترجمان برجیندر کمار سنگھ نے بتایا کہ کانگریس تنظیم کو گرام پنچایت سطح تک مضبوط کرنے اور دھاردار بنانے کے زمرہ میں نیائے پنچایت کمیٹیوں کے قیام کے لئے کانفرنسوں کا اہتمام کررہی ہے۔ یہ پروگرا م ملک کے تمام 75 اضلاع اور تمام 826 بلاکوں کی تمام نیائے پنچایت سطح تک چل رہا ہے۔ اب تک تقریباً 90 فیصد سے زیادہ نیائے پنچایتیں قائم ہوچکی ہیں۔

نیائے پنچایتوں کی کانفرنس میں ریاستی کانگریس کے صدر اجے کمار للو، کانگریس کے سینئر لیڈر پرمود تیواری، سابق وزیر نسیم الدین صدیقی، سابق وزیر آر کے چودھری، مقننہ پارٹی کی لیڈر آرادھنا مشرا مونا، قانون ساز کونسل کے لیڈر دیپک سنگھ، سابق رکن پارلیمان راجہ رام پال، سابق رکن پارلیمان پی ایل پونیا سریکھے سینئر لیڈر اور پارٹی کے عہدیداران شامل ہو رہے ہیں اور کارکنوں کی حوصلہ افزائی کرکے نیائے پنچایتوں کے قیام میں ضلع وار پنچایت انچارج کی مدد میں مصروف ہیں۔

سیاہ زرعی قوانین کی کمیوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا جارہا ہے

انہوں نے بتایا کہ تنظیم سرجن ابھیان کے تحت ہر نیائے پنچایت میں آنیوالی گرام پنچایتوں سے گیارہ گیارہ اراکین کی فہرست ان کے پتہ اور موبائل نمبر کے ساتھ ریاستی کانگریس ہیڈکوارٹر منگائی جارہی ہے۔  کارکنوں کو کانگریس کی پالیسیوں، پروگراموں اور تحریکات کے بارے میں مکمل معلومات پہنچائی جارہی ہے۔ مرکز کی بی جے پی حکومت کی طرف سے بنائے گئے تینوں سیاہ زرعی قوانین کی کمیوں کو عوام کے درمیان پہنچایا جارہا ہے۔ بلندی پر مہنگائی اور بے روزگاری وغیرہ مسائل کے لئے عوام مخالف بی جے پی حکومت کے چہرے کو عام لوگوں کے سامنے بے نقاب کرنے کا کام کارکن کررہے ہیں۔

اسی زمرہ میں محترمہ واڈرا نے 26 جنوری کو رائے بریلی ضلع کے راہی بلاک کی راہی نیائے پنچایت میں کارکنوں سے خطاب کیا اور آج امیٹھی کے جاموں بلاک کے دکھن وارا نیائے پنچایت میں موجود کارکنوں سے خطاب کیا۔

کسان تحریک اپنی سمت سے بھٹکی، لال قلعہ کا واقعہ مذمت کے قابل: کھٹر

0
کسان تحریک اپنی سمت سے بھٹکی، لال قلعہ کا واقعہ مذمت کے قابل: کھٹر
کسان تحریک اپنی سمت سے بھٹکی، لال قلعہ کا واقعہ مذمت کے قابل: کھٹر

وزیراعلی منوہر لال کھٹر نے کہا کہ لال قلعہ پر قومی جھنڈے کے علاوہ کوئی دیگر جھنڈا لہرایا جانا کوئی بھی ہندوستانی برداشت نہیں کرسکتا۔ ایسا کرنا ان مجاہدین آزادی اور امر شہدا کی توہین ہے جنہوں نے لال قلعہ پر ترنگا لہرانے کے لئے اپنی جان تک قربان کردی۔

چندی گڑھ: ہریانہ کے وزیراعلی منوہر لال کھٹر نے دہلی میں خاص طور پر لال قلعہ پر ہوئے واقعات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسان تحریک اب اس کے لیڈروں کے کنٹرول سے باہر ہونے کے ساتھ ہی اپنی سمت سے بھٹک چکی ہے۔

مسٹر کھٹر نے منگل کی دیر شام بلائی کابینہ کی خصوصی میٹنگ کے بعد دہلی میں یوم جمہوریہ پر ہوئے واقعات کے سلسلہ میں یہ رد عمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کسانوں سے بھی اپیل کی کہ کل کے افسوسناک واقعات کے بعد وہ اپنے گھر واپس چلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری کابینہ اس بات پر ایک رائے ہے کہ اس وقت ریاست کے عوام متحد ہوکر غیر سماجی عناصر کے ناپاک ارادوں کو ناکام کریں اور ملک اور ریاست میں امن قائم رکھنے میں تعاون کریں۔

لال قلعہ پر قومی جھنڈے کے علاوہ کوئی جھنڈا لہرانا ناقابل برداشت

وزیراعلی نے کہا کہ لال قلعہ پر قومی جھنڈے کے علاوہ کوئی دیگر جھنڈا لہرایا جانا کوئی بھی ہندوستانی برداشت نہیں کرسکتا۔ ایسا کرنا ان مجاہدین آزادی اور امر شہدا کی توہین ہے جنہوں نے لال قلعہ پر ترنگا لہرانے کے لئے اپنی جان تک قربان کردی۔ انہوں نے کہا کہ مجاہدین آزادی نے آزادی اس طرح کی افراتفری پھیلانے کے لئے نہیں دلائی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کسان تنظیموں نے دہلی میں پر امن مظاہرہ کا یقین دلایا تھا لیکن اس واقعہ نے ثابت کردیا ہے کہ تحریک کی قیادت ان ہاتھوں میں چلی گئی ہے جن کے کہنے اور کرنے میں فرق ہے۔ اس لئے اب کسان بھائیوں کو اس موضوع پر باریکی سے غور و خوض کرنا چاہئے کہ تحریک کس سمت میں جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اختلافات دور کرنے کی کافی گنجائش ہے لیکن انہیں مل بیٹھ کر ہی دور کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

دہلی پولیس کی کسانوں سے واپس لوٹنے کی اپیل

محض 2 روپے سالانہ فیس پر سیکڑوں غریب بچوں کو ٹیوشن دینے والے سوجیت چٹوپادھیائے کو پدم بھوشن ایوارڈ

0
محض 2 روپے سالانہ فیس پر سیکڑوں غریب بچوں کو ٹیوشن دینے والے سوجیت چٹوپادھیائے کو پدم بھوشن ایوارڈ
محض 2 روپے سالانہ فیس پر سیکڑوں غریب بچوں کو ٹیوشن دینے والے سوجیت چٹوپادھیائے کو پدم بھوشن ایوارڈ

صرف 2 روپے سالانہ فیس پر سیکڑوں بچوں کو ٹیوشن دینے والے سوجیت چٹوپادھیائے کو حکومت ہند نے تیسرے سب سے بڑے شہری اعزاز ’’پدم بھوشن‘‘ ایوارڈ سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔

کلکتہ: بردوان ضلع کے ایک دیہی گاؤں میں صرف دو روپے سالانہ فیس پر بچوں کو ٹیوشن دینے والے سوجیت چٹو پادھیائے کو اس سال حکومت ہند نے تیسرے سب سے بڑے شہری اعزاز ’’پدم بھوشن‘‘ ایوارڈ سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔ بردوان ضلع میں تو وہ پہلے سے ہی مشہور و معروف تھے مگر اب پدم بھوشن ایوارڈ کا اعلان ہونے کے بعد ان کی شہرت بردوان سے نکل کر ملک کے دوسرے شہروں اور نیوز چینلوں اور اخبارات کی سرخیوں تک میں پہنچ گیا ہے۔

سوجیت چٹو پادھیائے 15سال قبل سرکاری ٹیچر کے عہدہ سے ریٹائر ہوگئے تھے۔ مگر ملازمت سے سبکدوش ہونے کے باوجود انہوں نے تعلیم و تعلم کا سلسلہ بند نہیں کیا۔ بردوان ضلع میں ایک سبجیکٹ کے ٹیوشن کی سالانہ فیس کم سے کم 2 ہزار روپے ہے۔ مگر سوجیت چٹو پادھیائے صرف دو روپے سالانہ کے معمولی فیس پر سیکڑوں بچوں کو پڑھاتے ہیں۔

دو روپے فیس کیوں لیتے ہیں کے سوال پر سوجیت چٹوپادھیائے کا جواب

دو روپے فیس کیوں لیتے ہیں کے سوال پر سوجیت چٹو پادھیائے کہتے ہیں کہ یہ گرودکشنا کے طور پر فیس لی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بغیر تعلیم مکمل نہیں ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب طالب علم دو روپے دیتا ہے تو وہ جھک کر آشیرواد لیتا ہے اور اس کی برکت سے وہ کامیاب ہوتا ہے اور ان بچوں کو احساس بھی ہوتا ہے کہ انہیں مفت میں تعلیم نہیں دی گئی ہے۔

سوجیت چٹو پادھیائے مشرقی بردوان ضلع کے آش گرام جوبیر بھوم ضلع سے متصل ہے کے شمالی رام نگر گاؤں کے رہنے والے ہیں۔ وہ ایک کچے مکان میں رہتے ہیں۔ اس گاؤں سے کافی دوری پر اسکول واقع ہے۔ سوجیت چٹو پادھیائے کی ابتدائی تعلیم گاؤں کے رام نگر جونیئر ہائی اسکول میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد بولپور کے باندھ گڑھ ہائی اسکول سے ہائر سیکنڈری پاس کی۔ بردوان راج کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد، انہوں نے بردوان یونیورسٹی سے ایم اے پاس کیا۔ جلپائی گوڑی سے بی ٹی پاس کی اور اپنے کیریئر کا آغاز 1985 میں 22 سال کی عمر میں کیا۔ رام نگر ہائی اسکول میں درس و تدریس کا آغاز ہوا۔ یہ گاؤں جو نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات امرتیہ سین کے آبائی گاؤں کے قریب ہے۔ تقریبا چالیس سال تک خدمت انجام دینے کے بعد 2004 میں ریٹائرڈ ہوگئے۔

دوران تدریس بھی غریب بچوں کو مفت میں ٹیوشن دیتے تھے

علاقے میں کم آمدنی والے خاندانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ جس وقت سوجیت چٹو پادھیائے تدریس سے جڑے ہوئے تھے اس وقت بھی وہ اپنے گاؤں اور آس پاس کے غریب بچوں کو مفت میں ٹیوشن دیتے تھے۔ اسکول کے ایک کمرے میں وہ چھٹی کے بعد معاشی طور پر کمزور بچے جو ٹیوشن نہیں پڑھ سکتے ہیں کو ٹیوشن دیا کرتے تھے۔ ریٹائر ہونے کے بعد انہو ں نے اسکول انتظامیہ سے درخواست دی کہ انہیں بغیر تنخواہ کے پڑھانے اور اسکول کی چھٹی کے بعد بچوں کو ٹیوشن دینے کی اجازت دی جائے۔ اسکول انتظامیہ نے اس درخواست کو منظور کرلیا۔

سوجیت چٹو پادھیائے نے فون پر بتایا کہ آس پاس کے گاؤں کے بچے ان کے یہاں ٹیوشن پڑھنے کے لئے آتے ہیں تو جب میں ان بچوں سے فیس سے متعلق بات کرتا ہوں تو ان کے چہرے کے رنگ فک ہو جاتے تھے مگر جب میں انہیں بتاتا انہیں بس سال کے اخیر میں امتحان سے قبل دو روپے فیس دینے ہوں گے ان بچوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھتے۔

اتنی کم فیس لینے سے متعلق وہ کہتے ہیں ایک ایک طالب علم کو تین سے چار ٹیوشن لینے پڑتے ہیں۔ ان میں بہت سے غریب والدین ہیں جو اس کو خرچ کو برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے ہیں۔ ٹیوشن کے علاوہ دوسرے اخراجات بھی ہیں۔ اگر میں دوسروں کی طرح ٹیوشن فیس لیتا ہوں تو وہ مشکل میں آجائیں گے۔ شاید بہت سے بچے تعلیم کا سلسلہ منقطع کردیں گے۔ میرے لئے ان بچوں کے چہرے پر مسکراہٹ کی چمک ہزاروں روپے لینے سے کہیں زیادہ بہتر ہے اور یہی میری فیس ہے ان بچوں کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ سکوں۔

بائیڈن اور پتن نے کیا کئی اہم امور پر تبادلہ خیال

0
بائیڈن اور پتن نے کیا کئی اہم امور پر تبادلہ خیال
بائیڈن اور پتن نے کیا کئی اہم امور پر تبادلہ خیال

امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادیمیر پتن نے یوکرین میں جاری تنازع کے علاوہ افغانستان اور روسی اپوزیشن لیڈر الیکسی نویلنی کو مبینہ طور پر زہر دیئے جانے سمیت کئی دیگر بین الاقوامی اہمیت کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادیمیر پتن نے تکنیکی ہتھیاروں میں تخفیف کرنے والے معالدے (نیو اسٹارٹ) کو آگے بڑھانے کے علاوہ دیگر دو فریقی اور بین الاقوامی اہمیت کے حامل امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری جین ساکی نے منگل کو صحافیوں کو اس بات کی اطلاع دیتے ہوئے کہا ’’صدر بائیڈن نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کو فون کرکے ان کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی ہتھیاروں میں کمی کرنے والے معاہدے (نیو اسٹارٹ) کو پانچ برس کے لئے آگے بڑھانے کے علاوہ دیگر دو فریقی اور بین الاقوامی اہمیت کے حامل امور پر تبادلہ خیال کیا‘‘۔

محترمہ ساکی نے کہا کہ دونوں لیڈروں نے یوکرین میں جاری تنازع کے علاوہ افغانستان اور روسی اپوزیشن لیڈر الیکسی نویلنی کو مبینہ طور پر زہر دیئے جانے سمیت کئی دیگر بین الاقوامی اہمیت کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

دہلی پولیس کی کسانوں سے واپس لوٹنے کی اپیل

0
دہلی پولیس کی کسانوں سے واپس لوٹنے کی اپیل
دہلی پولیس کی کسانوں سے واپس لوٹنے کی اپیل

ٹریکٹر ریلی کے دوران مکربا چوک، ٹرانسپورٹ نگر، آئی ٹی او اور اکشردھام سمیت دیگرمقامات پر ہوئے تصادم کے درمیان کسانوں کا ایک جتھا لال قلعہ احاطے میں پہنچ کر کسانوں کا جھنڈا لہرادیا ہے۔

نئی دہلی: دہلی پولیس نے مشتعل کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تشدد کا راستہ چھوڑیں اور امن برقرار رکھیں اور اپنے طے شدہ راستوں سے واپس لوٹ جائیں۔

دہلی پولیس نے منگل کو ایک بیان جاری کرکے کہا ہے کہ آج کی ٹریکٹر ریلی کے لئے دہلی پولیس نے کسانون کے ساتھ طے ہوئی شرائط کے مطابق کام کیا اور ضروری بندوبست کیا۔

دہلی پولیس آخر تک کافی تحمل کا مظاہرہ کیا لیکن مشتعل کسانوں نے طے شرائط کو ماننے سے انکار کردیا اور طے وقت سے پہلے ہی اپنی مارچ شروع کردی اور مظاہرین نے تشدد و توڑ پھوڑ کا راستہ چنا۔

انہوں نے بتایا کہ مشتعل کسانوں کی تخریب کاری کے پیش نظر دہلی پولیس نے امن و امان برقرار رکھنے کے لئے تحمل کے ساتھ ضروری اقدامات کیے۔ اس تحریک نے عوامی املاک کو بہت نقصان پہنچایا ہے اور متعدد پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ مشتعل افراد سے اپیل ہے کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کریں اور امن برقرار رکھیں اور اپنے طے شدہ راستوں سے واپس لوٹ جائیں۔

کسان ریلی کے دوران متعدد مقامات پر جھڑپیں

واضح رہے کہ کسان ریلی کے دوران کسانوں نے متعدد مقامات پر بیریکیڈ توڑ کر دہلی میں داخل ہوئے اور اس دوران آئی ٹی او، مقبرہ چوک، نانگلوئی سمیت متعدد مقامات پر جھڑپیں ہوئیں جس میں کچھ کسان اور پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

ٹریکٹر ریلی کے دوران مکربا چوک، ٹرانسپورٹ نگر، آئی ٹی او اور اکشردھام سمیت دیگرمقامات پر ہوئے تصادم کے درمیان کسانوں کا ایک جتھا لال قلعہ احاطے میں پہنچ کر کسانوں کا جھنڈا لہرادیا ہے۔ آئی ٹی او پر ٹکراو کے دوران بڑی تعداد میں کسانوں نے لال قلعہ احاطہ میں داخل ہوکر اپنا جھنڈا لہرا دیا۔ پندرہ اگست کو جس مقام پر جھنڈا لہرایا جاتا ہے اس کے پاس ہی کسانوں نے اپنا پرچم لگادیا۔

کسان ریلی: مکربا چوک پر جھڑپ، پولیس نے آنسو گیس کے چھوڑے گولے اور چلائیں لاٹھیاں

0
کسان ریلی: مکربا چوک پر جھڑپ، پولیس نے آنسو گیس کے چھوڑے گولے اور چلائیں لاٹھیاں
کسان ریلی: مکربا چوک پر جھڑپ، پولیس نے آنسو گیس کے چھوڑے گولے اور چلائیں لاٹھیاں

کسان ریلی: کسانوں کی مکربا چوک پر پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی۔ پولیس نے آنسوں گیس کے گولے چھوڑے اور لاٹھی چارج کی۔ اس دوران کچھ پولیس اہلکار اور کچھ کسان بھی زخمی ہوئے۔

نئی دہلی: زرعی قانون کے خلاف پچھلے دو مہینوں سے تحریک کرنے والے کسانوں کی مکربا چوک پر پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور حالات پر قابو پانے کے لئے پولیس نے آنسوں گیس کے گولے چھوڑے اور لاٹھی چارج کی۔ اس کے ساتھ اکشردھام کے پاس بھی کسانوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے پولیس نے آنسوں گیس کے گولے چھوڑے۔

کسانوں نے سنگھو بارڈر کے پاس پولیس کے ذریعہ طے وقت سے پہلے زبردستی بیریکیڈ توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ پولیس نے مکربا چوک پر بھاری بندوبست کیا تھا تاکہ کسانوں کو دوسرے راستے پر موڑا جا سکے۔ مکربا چوک پر بیری کیڈنگ توڑ کر کچھ کسان آؤٹر رنگ روڈ کی طرف کوچ کر گئے ہیں۔ اس سے پہلے سنجے گاندھی ٹرانسپورٹ نگر میں کسانوں کو تتربتر کرنے کے لئے پولیس آنسو گیس کا استعمال کیا۔

سنگھو بارڈر سے کسانوں کی ٹریکٹر ریلی یہاں پہنچی تھی۔ پولیس نے کسانون کو آؤٹر رنگ روڈ کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لئے آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور لاٹھیاں چلائیں لیکن کسان پولیس بندوبست کو توڑتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ اس دوران کچھ پولیس اہلکار اور کچھ کسان بھی زخمی ہوئے۔

واضح رہے کہ پولیس افسروں اور کسانوں کے درمیان کئی مرحلوں کی بات چیت کے بعد ٹریکٹر ریلی کو اجازت دی گئی تھی۔ اس کے لئے وقت اور راستہ بھی طے کیا گیا تھا لیکن کسان دونوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آگے بڑھے جس کی وجہ سے کچھ مقامات پر تصادم ہوا۔

مولانا وحیدالدین خان اور مولانا کلب صادق کے علاوہ 10 غیر ملکی بھی پدما اوارڈز سے سرفراز

0
مولانا وحیدالدین خان اور مولانا کلب صادق کے علاوہ 10 غیر ملکی بھی پدما اوارڈز سے سرفراز

پدما ایوارڈز 2021: سات پدم وبھوشن، 10 پدم بھوشن اور 102 پدم شری ایوارڈز کا اعلان۔ ایوارڈز میں 29 خواتین، 10 غیر ملکی اور ایک خواجہ سرا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 16 افراد کو بعد از مرگ اعزاز سے نوازا گیا ہے۔

نئی دہلی: حکومت ہند نے سال 2021 کے پدم ایوارڈز کا اعلان کیا ہے۔ ان میں سات پدم وبھوشن، 10 پدم بھوشن اور 102 پدم شری ایوارڈز شامل ہیں۔ ایوارڈز میں 29 خواتین، 10 غیر ملکی اور ایک خواجہ سرا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 16 افراد کو بعد از مرگ اعزاز سے نوازا گیا ہے۔

اس سال ملک میں کسی کو بھی بھارت رتن دینے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ بلکہ جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو آبے، مولانا وحیدالدین خان، بی بی لال، سدرشن پٹنائک، ایس پی بالا سبرامنیم، بی ایم ہیگڑے، نریندرسنکھ کپانی، بی بی لال، سدرشن ساہو کو پدم وبھوشن کا اعلان کیا گیا ہے۔

سابق لوک سبھا اسپیکر سومترا مہاجن، نرپیندر مشرا کو پدم بھوشن دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سابق مرکزی وزیر آنجہانی رام ولاس پاسوان، مولانا کلب صادق مرحوم، کیشو بھائی پٹیل اور آسام کے سابق وزیر اعلی ترون گوگوئی،ترلوچن سنگھ، رجنی کانت دیوی داس شراف،چندرشیکھر کمبرا، کے این شانتا کماری چترا وغیرہ کو پدم بھوشن سے نوازنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

بہادری، ممتاز خدمت اور قابل تحسین شراکت کے لئے 946 پولیس اہلکاروں کو یوم جمہوریت کے موقع پر پولیس میڈل سے نوازے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن میں سے دو کو صدر کے بہاری کے میڈل سے نوازاجائے گا۔

بہادری کے لئے صدر کے دونوں ہی میڈل بعد از مرگ دیئے جارہے ہیں۔ ان میڈلوں کے لئے جھارکھنڈ پولیس کے آنجہانی اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر بنوا اوراوں کو اور سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے آنجہانی اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر موہن لال کو منتخب کیا گیا ہے۔ ایوارڈز سے سرفراز حضرات کی فہرست حسب ذیل ہے:

پدم وبھوشن (سات)

شنزو آبے … پبلک خدمات
ایس پی بالاسوبرامنیم (بعد از مرگ) … فن
ڈاکٹر بیلے مونپا ہیگڑے … میڈیسن
نریندر سنگھ کپانی (بعد از مرگ) سائنس اور ٹکنالوجی
مولانا وحیدالدین خان … روحانیت
بی بی لال … آثار قدیمہ
سدرشن ساہو … فن

پدما وبھوشن (دس)

کرشنن نائر شانتا کماری چترا … فن،
ترون گوگوئی (بعد از مرگ) … پبلک خدمات
چندر شیکھر کمبارا … ادب اور تعلیم
سمترا مہاجن … عوامی خدمت،
نریپندر مشرا … عوامی خدمت
رام ولاس پاسوان (پعد از مرگ) … عوامی خدمات،
کیشو بھائی پٹیل (بعد از مرگ) … عوامی خدمات،
کلب صادق (بعد از مرگ)… روحانیت
رجنی کانت دیوی داس شراف … بزنس انڈسٹری
ترلوچن سنگھ … عوامی خدمات

پدم شری (102)

گلفام احمد … فن،
پی انیتا … کھیل،
رام سوامی انورپو … فن،
سبو ارموگم … فن،
پرکاش راؤ آساوادی … ادب اور تعلیم
بھوری بائی … فن،
رادھاشیام بارلے … فن،
دھرم نارائن برما … ادب اور تعلیم
لکشمی بڑوا … سماجی خدمات
بیرین کمار بساک … فن،
رجنی بیکٹر … بزنس اینڈ انڈسٹری
پیٹر بروک … آرٹ،
سنگھ کھومی لچھوآک… معاشرتی خدمات
گوپی رام بی۔برابھکت … فن،
بیجائے چکرورتی … عوامی خدمت،
سوجیت چٹواپادھیائے … ادب اور تعلیم
جگدیش چودھری (بعد ازمرگ) … سماجی کام،
تسل ٹریم چونجور … سماجی کام
موما داس … کھیل
شری کانت داتر … ادب اور تعلیم
نارائن دیب ناتھ … فن،
چٹنی دیوی … سماجی خدمات
دلاری دیوی… آرٹ۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ایوارڈ یافتگان کو ٹویٹ کرکے مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ "ہمیں ان تمام لوگوں پر فخر ہے جنہیں پدما ایوارڈز سے نوازا گیا ہے۔ ہندوستان بڑے پیمانے پر قوم اور انسانیت کے فروغ کے لئے ان کی حصہ داری کا احترام کرتا ہے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ان غیر معمولی افراد نے دوسروں کی زندگیوں معیاری تبدیلی لانے کا عظیم کارنامے انجام دیے ہیں۔”

زرعی قوانین کو ختم کرکے بجٹ اجلاس میں نیا بل پیش کیا جائے: ترنمول کانگریس

0
زرعی قوانین کو ختم کرکے بجٹ اجلاس میں نیا بل پیش کیا جائے: ترنمول کانگریس
زرعی قوانین کو ختم کرکے بجٹ اجلاس میں نیا بل پیش کیا جائے: ترنمول کانگریس

ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈر ڈیرک او برائن نے کہا کہ 29 جنوری سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں مرکزی حکومت کو تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے اور اسے ایکٹ میں تبدیل کرنے کے لئے ایک بل پیش کرنا چاہئے۔

کلکتہ: ترنمول کانگریس نے پیر کو مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے لئے آئندہ بجٹ اجلاس میں ایک نیا بل لائے۔

ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈر ڈیرک او برائن نے پیر کو میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 29 جنوری سے شروع ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سبھی جانتے ہیں کہ تینوں زرعی قوانین پر ترنمول کانگریس کا کیا موقف ہے۔ ممتا بنرجی کی زمین اور کسانوں کے معاملے سے وابستگی ہے۔

راجیہ سبھا میں جمہوریت کا قتل کیا گیا تھا

انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں مرکزی حکومت کو تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے اور اسے ایکٹ میں تبدیل کرنے کے لئے ایک بل پیش کرنا چاہئے۔ او برائن نے کہا کہ راجیہ سبھا میں جمہوریت کا قتل کیا گیا تھا۔ حکومت کو ایک بل پیش کرنا چاہئے اور تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنا چاہئے۔ ترنمول لیڈر نے وزیر اعظم کسان یوجنا کا موازنہ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس حکومت کے ذریعہ چلائے جانے والے کرشک بانڈو اسکیم سے کیا۔

او برائن نے کہا کہ کرشک بانڈو یوجنا کے تحت، ایک کسان کو ایک ایکڑ پر 5 ہزار روپئے، جبکہ وزیر اعظم کسان یوجنا کے تحت ایک کسان کو ایک ایکڑ پر 214 روپے ملتے ہیں۔ او برائن نے کسانوں کے لئے ریاستی حکومت کے ذریعہ چلانے والی اسکیم کے دیگر اہم نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بنگال میں تمام کسانوں کے لئے گنجائش موجود ہے، جب کہ مرکزی اسکیم کے تحت کسانوں کے چھوٹے طبقے کو فائدہ ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں کسان بھائیوں کی کوریج 100 فیصد ہے، جبکہ وزیر اعظم کسان کی کوریج صرف 92 فیصد ہے۔ او برائن نے کہا کہ اگر 18 سے 60 سال کے درمیان کاشتکار کرشک بندھو اسکیم کے تحت مر جاتا ہے تو اس کے کنبے کو 2 لاکھ روپے کا فائدہ ہوتا ہے، لیکن وزیر اعظم کسان یوجنا کے تحت ایسی کوئی اسکیم نہیں ہے۔