اتوار, مارچ 22, 2026
ہوم پیج بلاگ صفحہ 401

کورونا کا اصل مقام کہیں اور، پھیلا ووہان سے: روسی ماہرین

0
کورونا کا اصل مقام کہیں اور، پھیلا ووہان سے: روسی ماہرین
کورونا کا اصل مقام کہیں اور، پھیلا ووہان سے: روسی ماہرین

ووہان کا ہوانن بازار کورونا وبا کے پھیلنے کے بعد یکم جنوری 2020 کو بند کردیا گیا تھا۔ اس بازار میں سبزی کے ساتھ سمندری اور مختلف طرح کا گوشت فروخت کیا جاتا ہے۔ شروع میں کورونا سے متاثر ہونے والے لوگ بھی اسی بازار میں کام کرتے تھے۔

بیجنگ: عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) کی ماہرین کی ٹیم میں شامل روس کے ولادیمیر ڈیڈکوف نے کہا ہے کہ ووہان کے سی فوڈ بازار میں کورونا کے پھیلنے کے حالات پائے جاتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وائرس کی ابتدا یہیں سے ہوئی ہے۔

ووہان کا ہوانن بازار کورونا وبا کے پھیلنے کے بعد یکم جنوری 2020 کو بند کردیا گیا تھا۔ اس بازار میں سبزی کے ساتھ سمندری اور مختلف طرح کا گوشت فروخت کیا جاتا ہے۔ شروع میں کورونا سے متاثر ہونے والے لوگ بھی اسی بازار میں کام کرتے تھے۔ سائنس داں اگرچہ ابھی بھی کورونا وائرس پھیلنے کے بارے میں ایک واضح نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔

ڈیڈکوف نے کہا کہ ’’ہم نے ووہان کا بازار دیکھا اور میں چین کے صفائی ستھرائی کے ضابطوں سے بہت زیادہ واقف نہیں ہوں لیکن اسے دیکھنے کے بعد میں کہہ سکتا ہوں کہ بازار یقینی طور پر بالکل صحیح نہیں ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کورونا وائرس ووہان سے ہی پھیلا ہو۔ شاید وائرس دوسری جگہ پیدا ہوا ہو لیکن ووہان میں کورونا کے پھیلاؤ کے سبھی حالات موجود ہیں اس لئے یہ یہاں پھیلا‘‘۔

پٹرول – ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ، ممبئی میں پٹرول 93.20 روپے فی لیٹر

0

ملک میں پٹرول کی قیمت اس وقت ریکارڈ سطح پر ہے۔ ممبئی میں پٹرول 34 پیسے اضافے کے ساتھ 93.20 روپے فی لیٹر پر پہنچ گیا۔

نئی دہلی: پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں لگاتار سات روز تک مستحکم رہنے کے بعد جمعرات کو ایک بار پھر ان کے داموں میں اضافہ کیا گیا ہے۔

ملک میں پٹرول کی قیمت اس وقت ریکارڈ سطح پر ہے۔ ڈیزل کی قیمتیں دہلی کے علاوہ تاریخی لحاظ سےاعلی سطح پر فروخت ہو رہی ہیں۔

ملک کی سرخیل آئل مارکیٹنگ کمپنی انڈین آئل کارپوریشن کے مطابق قومی دارالحکومت دہلی میں آج پٹرول 35 پیسے مہنگا ہوا اور اس کی قیمت 86.65 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔

ممبئی میں پٹرول 34 پیسے اضافے کے ساتھ 93.20 روپے جبکہ کولکاتہ میں یہ 32 پیسے کے اضافے سے 88.01 روپے فی لیٹر پر پہنچ گیا۔ چنئی میں اس کی قیمت میں 31 پیسے کا اضافہ ہوا اور ایک لیٹر پٹرول 89.13 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔ ممبئی میں پہلی بار پٹرول 93 روپے اور چنئی میں 89 روپے فی لیٹر پہلی بار عبور کیا ہے۔

دہلی میں ڈیزل کی قیمت 35 پیسے کے اضافے سے 76.83 روپے فی لیٹر ہوگئی جو 30 جولائی 2020 کے بعد ریکارڈ سطح ہے۔ اس کی قیمت ممبئی میں 37 پیسے اضافے سے 83.67 روپے، چنئی میں 33 پیسے کے اضافہ سے 82.04 روپے اور کولکاتہ میں 33 پیسے کے اضافے کے بعد 80.41 روپے فی لیٹر ہوگئی۔

میٹرو      پٹرول          ڈیزل

دہلی —— 86.65 —— 76.83
ممبئی ——- 93.20 —— 83.67
چنئی —— 89.13 —— 82.04
کولکاتہ — 88.01 —— 80.41

امریکی پابندیوں کے خلاف ایران نے کھٹکھٹایا عالمی عدالت انصاف کا دروازہ 

0
امریکی پابندیوں کے خلاف ایران نے کھٹکھٹایا عالمی عدالت انصاف کا دروازہ 
امریکی پابندیوں کے خلاف ایران نے کھٹکھٹایا عالمی عدالت انصاف کا دروازہ 

امریکی پابندیوں کے خلاف ایران نے عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ عدالت نے کیس دائرہ اختیار سے باہر ہونے سے متعلق امریکہ کی اپیل مسترد کردی۔

ہیگ: امریکی پابندیوں کے خلاف ایران نے عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور درخواست قابل سماعت قرار دے دی گئی ہے۔

عدالت نے کیس دائرہ اختیار سے باہر ہونے سے متعلق امریکہ کی اپیل مسترد کردی۔

عالمی عدالت انصاف نے کہا کہ امریکی اقدام سے ایران کی معیشت کو نقصان پہنچا، 15 ججز نے مشترکہ فیصلہ تحریر کیا جبکہ ایک جج نے اختلاف کیا۔

ایران کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے سے امریکہ کے نکلنے کے بعد سے عائد پابندیوں کو عدالت ختم کردے۔

ادھر امریکی چینل کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار کی تیاری کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔

نرسنگ کالج کے 49 طلبہ کورونا متاثر، کالج کے ساتھ اسپتال بھی سیل

0

واقعہ کے سامنے آتے ہی اُلَّال نگر کونسل کے افسران نے کالج کے ساتھ ہی اسپتال کو بھی سیل کر دی ہے۔

منگلور: کیرالا سے امتحان دینے کرناٹک کے اُلّال کے اَبَّاکا سرکل کے پاس نرسنگ کالج میں آنے والے 49 طلبہ کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے ہیں۔ 

اس واقعہ کے سامنے آتے ہی اُلَّال نگر کونسل کے افسران نے کالج کے ساتھ ہی اسپتال کو بھی سیل کر دی ہے۔ غور طلب ہے کہ وائرس کے معاملے میں کرناٹک پورے ملک میں دوسرے مقام پر ہے۔

ریاست میں اب تک 940170 افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جن میں سے 922004 افراد کورونا کو شکست دے چکے ہیں جبکہ 12223 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ ریاست میں فی الحال 5924 فعال کیسز ہیں۔ 

کورونا کے کیسز میں فی الحال تیسرے مقام پر واقع کیرالا بھی اب کرناٹک سے بہت پیچھے نہیں ہے۔ کیرالا میں اب تک 938354 افراد کورونا متاثر ہو چکے ہیں جن میں سے 865168 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں جبکہ 3777 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ ریاست میں فی الحال 69169 فعال کیسز ہیں جو پورے ملک میں سب سے زیادہ کیسز ہیں۔

ریحانہ، گریٹا نے کسان مظاہرین کے لئے حمایت کا اظہار کیا تو کنگنا نے دیا یوں جواب

0

مشہور پوپ سنگر ریحانہ اور آب و ہوا کے سرگرم نوجوان کارکن گریٹا تھنبرگ نے کسانوں کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

نئی دہلی: مشہور پوپ سنگر ریحانہ اور آب و ہوا کے سرگرم نوجوان کارکن گریٹا تھنبرگ نے گذشتہ سال 26 نومبر سے دہلی کی سرحدوں پر مظاہرہ کررہے کسانوں کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کسانوں کی تحریک والے متعدد مقامات پر انٹرنیٹ خدمات بند کردئے جانے جیسی حکومت کی کارروائی پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک اخبار کے مضمون کو شیئر کرتے ہوئے ریحانہ نے ٹویٹ کیا، ’’ہم اس بارے میں بات کیوں نہیں کررہے ہیں؟‘‘ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کسان تحریک کو ہیش ٹیگ بھی کیا۔
https://twitter.com/rihanna/status/1356625889602199552?s=19

ریحانہ کے تبصرے کے بعد، تھنبرگ بھی کسان تحریک کی حمایت میں آگے آئیں۔ اپنے ٹویٹ میں، تھنبرگ نے کہا، ’’ہم ہندوستان میں کسان تحریک کے تئیں متحد ہیں۔‘‘

 

ریحانہ کے تبصرے کے بعد کنگنا رناوت نے کی تنقید

اس دوران کسان تحریک کے سلسلے میں ریحانہ کے تبصرے کے بعد بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت نے اس کے لئے ان کی یہ کہتے ہوئے تنقید کی کہ مظاہرین کسان نہیں ہیں۔ کنگنا نے ٹویٹ کرکے کہا، ’’کوئی بھی اس لئے بات نہیں کررہا ہے کیونکہ یہ کسان نہیں، دہشت گرد ہیں، جو ہندوستان کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں تاکہ چین ہمارے ملک پر قبضہ کرلے اور یو ایس اے جیسی چینی کالونی بنا دے۔ سکون سے بیٹھو بے وقوف، ہم تمہارے جیسے بے وقوف نہیں ہیں جو ملک کو بیچ دیں۔‘‘

واضح رہے کہ دہلی میں یوم جمہوریہ کے تشدد کے بعد حکومت نے احتیاط کے طور پر سنگھو، غازی پور اور ٹھیکری سرحدوں پر کسان تحریک والے علاقوں میں ہفتے کو انٹرنیٹ خدمات معطل کردی تھیں اور بعد میں معطلی کی مدت منگل تک بڑھا دی گئی۔ ہریانہ حکومت نے بھی امن و قانون بنائے رکھنے کےلئے ریاست کے 17 ضلعوں میں 31 جنوری کی شام تک موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کردی تھی اور بعد میں اس کی مدت تین فروری تک بڑھا دی گئی۔

صحافیوں، سیاستدانوں اور کارکنوں کے خلاف درج مقدمات واپس لے حکومت: دگوجے سنگھ

0
صحافیوں، سیاستدانوں اور کارکنوں کے خلاف درج مقدمات واپس لے حکومت: دگوجے سنگھ
صحافیوں، سیاستدانوں اور کارکنوں کے خلاف درج مقدمات واپس لے حکومت: دگوجے سنگھ

کانگریس رہنما دگوجے سنگھ نے کہا کہ ملک سے غداری کا معاملہ درج کرنے والی دفعات انگریزی حکومت کے وقت کی ہیں ان کا استعمال جدید ہندوستان میں نہیں کیا جانا چاہئے۔

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما دگوجے سنگھ نے بدھ کو راجیہ سبھا میں صحافیوں، سیاست دانوں اور سماجی کارکنان پر حال ہی میں درج کئے گئے مقدمے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

مسٹر سنگھ نے ایوان میں وقفہ صفر کے دوران صحافیوں، سیاست دانوں اور سماجی کارکنان پر حال ہی میں ملک کے غداری کے الزام میں درج کی گئی ایف آئی آر واپس لینے کا مطابلہ کیا۔ انہوں نے تین ریاستوں میں چار پانچ لوگوں کے خلاف ایک جیسی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک سازش ہے۔

کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک سے غداری کا معاملہ درج کرنے والی دفعات انگریزی حکومت کے وقت کی ہیں ان کا استعمال جدید ہندوستان میں نہیں کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقدمے واپس لئے جانے چاہئے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں رہنما ششی تھرور اور کئی اہم صحافیوں اور سماجی کارکنان کے خلاف ملک سے غداری اور دیگر دفعات میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

اسے بھی پڑھیں:

کسانوں کے مسئلہ پر ہنگامہ کے سبب عام آدمی پارٹی کے تینوں ممبران پارلیمنٹ ایوان بالا سے دن بھر کیلئے معطل

کسانوں کے مسئلہ پر ہنگامہ کے سبب عام آدمی پارٹی کے تینوں ممبران پارلیمنٹ ایوان بالا سے دن بھر کیلئے معطل

0
کسانوں کے مسئلہ پر ہنگامہ کے سبب عام آدمی پارٹی کے تینوں ممبران پارلیمنٹ ایوان بالا سے دن بھر کیلئے معطل
کسانوں کے مسئلہ پر ہنگامہ کے سبب عام آدمی پارٹی کے تینوں ممبران پارلیمنٹ ایوان بالا سے دن بھر کیلئے معطل

چیئرمین ایم ونکیا نائیڈو نے وقفہ صفر کے بعد صدر کے خطاب پر مباحثہ شروع کرانے کی کوشش کی، اس کے بعد عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ، سشیل کمار گپتا اور این ڈی گپتا اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور نعرے لگانے لگے۔ انہوں نے ’زرعی قوانین ختم کرو‘ کے نعرے لگائے۔

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (عآپ) کے تینوں ممبران پارلیمنٹ سنجے سنگھ، سشیل کمار گپتا اور این ڈی گپتا کو کسانوں کے معاملے پر راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ آرائی کے سبب بدھ کے روز دن بھر کے لئے معطل کردیا گیا۔

چیئرمین ایم ونکیا نائیڈو نے وقفہ صفر کے بعد صدر کے خطاب پر مباحثہ شروع کرانے کی کوشش کی، اس کے بعد ’عآپ‘ کے سنجے سنگھ، سشیل کمار گپتا اور این ڈی گپتا اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور نعرے لگانے لگے۔ انہوں نے ’زرعی قوانین ختم کرو‘ کے نعرے لگائے۔

مسٹر نائیڈو نے کہا کہ صدر کے خطاب پر مباحثہ کے دوران کسانوں کے معاملے پر بحث کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ایسی صورتحال میں ان اراکین کا ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنا غیر مناسب ہے۔ یہ لوگ کسانوں کے معاملے پر واقعتا بحث نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے تینوں ممبران سے درخواست کی کہ وہ پرسکون ہوجائیں اور ایوان کی کارروائی کو چلنے دیں، لیکن اس پر تینوں ارکان نعرے لگاتے رہے۔

اس کے بعد مسٹر نائیڈو نے تینوں ارکان پارلیمنٹ کو ضابطہ 255 کے تحت ایوان کی کارروائی سے خارج کئے جانے کی تنبیہہ کی لیکن ان اراکین پر کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ نعرے لگاتے رہے۔ اس پر چیئرمین نے کہا کہ ان تینوں ممبروں کو دن بھر کے لئے ایوان کی کارروائی سے خارج کیا جارہا ہے، اس کے بعد انہوں نے تینوں ممبروں کو دن بھر کے لئے ایوان چھوڑنے کا حکم دیا اور ساڑھے نو بجے پانچ منٹ کیلئے ایوان کی کارروائی ملتوی کردی۔

بحث میں کسانوں کے معاملے پر بھی مباحثہ ہوں گے

اس سے قبل ایوان کی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے مسٹر نائیڈو نے ایوان کو بتایا کہ صدر کے خطاب پر تشکر کے مباحثے کا وقت بڑھا کر اب 15 گھنٹے کردیا گیا ہے، اس بحث میں کسانوں کے معاملے پر بھی مباحثہ ہوں گے۔

ایوان میں قائد حزب اختلاف غلام نبی آزاد نے کہا کہ روایت کے مطابق صدر کے خطاب پر اظہار تشکر بحث سے پہلے کسی اور مسئلے پر بات نہیں کی جاسکتی ہے۔ لہذا، اس بحث کے دوران کسانوں کے معاملہ پر بھی بات کی جائے گی۔ اپوزیشن پارٹی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بحث و مباحثے کے وقت کو پانچ گھنٹے مزید بڑھائے جائیں۔ صدر کے خطاب پر اظہار تشکر پر مباحثہ کا وقت 10 گھنٹے مقرر تھا۔ ایوان کے تمام اراکین نے اس کی تائید کی۔

ایوان کی کارروائی پانچ منٹ تک ملتوی رہنے کے بعد صدر کے خطاب پر اظہار تشکر پر بحث کا آغاز ہوا۔ اس بحث کا آغاز بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن بھونیشور کلیتا نے کیا۔

یوم جمہوریہ تشدد: حراست میں لئے گئے کسانوں کی رہائی کا مطالبہ مسترد

0
یوم جمہوریہ تشدد: حراست میں لئے گئے کسانوں کی رہائی کا مطالبہ مسترد
یوم جمہوریہ تشدد: حراست میں لئے گئے کسانوں کی رہائی کا مطالبہ مسترد

دہلی ہائی کورٹ نے یوم جمہوریہ کے موقع پر ٹریکٹر ریلی کے دوران تشدد کے سلسلہ میں زیر حراست کسانوں سمیت تمام لوگوں کو رہائی کی مانگ کرنے والی ایک مفاد عامہ کی عرضی پر غور کرنے سے منگل کو منع کردیا۔

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے یوم جمہوریہ کے موقع پر ٹریکٹر ریلی کے دوران تشدد کے سلسلہ میں 26 جنوری کو یا اس کے بعد سندھو بارڈر، ٹکری بارڈر اور غازی پور سرحد کے نزدیک ’غیرقانونی طریقہ سے‘ حراست میں لئے گئے کسانوں سمیت تمام لوگوں کو رہائی کی مانگ کرنے والی ایک مفاد عامہ کی عرضی پر غور کرنے سے منگل کو منع کردیا۔

یہ عرضی ایک لا گریجویٹ ایڈوکیٹ آشیما منڈلا اور منداکنی سنگھ کے ذریعہ دائر کی گئی تھی۔ عرضی میں الزام لگایا گیا کہ 26 جنوری کو قومی راجدھانی میں ٹریکٹر ریلی کے دوران بھڑکے تشدد کے بعد تقریبا 200 لوگ لاپتہ ہیں۔

جج ڈی این پٹیل کی صدارت والی بنچ نے عرضی گزار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ ’تشہیر سے جڑی عرضی‘ ہے اور اسے خارج کردیا۔ عدالت نے عرضی گزار کو پولیس کی غیر قانونی حراست میں ہونے کا دعوی کرنے والے تمام لوگوں کے کنبوں کی طرف سے حلف نامہ داخل کرانے کی ہدایت دی۔

عدالت نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ آج آپ دعوی کرتے ہیں کہ انہیں حراست میں لیا گیا ہے اور کل ان کے کنبہ خود کو یہاں پیش کرتے ہیں اور کچھ دیگر دعوی کرتے ہیں۔

کسان سمیت تمام لوگوں کی گرفتاری غیر آئینی

عرضی میں کہا گیا ہے کہ کسان سمیت تمام لوگوں کی گرفتاری آئین کے آرٹیکل 14,21 اور 22 کی خلاف ورزی ہے۔ عرضی میں پولیس کی طرف سے لوگوں کو حراست میں لئے جانے کو ’غیرقانونی حراست‘ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس حراست کے دوران گرفتاری میمو پر دستخط کرنے جیسی ضابطے کی رسمی کارروائی پر عمل کرنے میں ناکام رہی جس کے مطابق کنبوں کو 8-12 گھنٹے کے اندر مطلع کرنا ہوتا ہے اور مجسٹریٹ کے سامنے حراست میں لئے گئے شخص کو پیش کرنا ہوتا ہے۔

عرضی گزار نے 26 جنوری کے واقعات کے بعد لاپتہ ہوئے او ر حراست میں لئے گئے 15 لوگوں کے نام بھی دیے تھے۔ عرضی میں دلیل دی گئی کہ اس طرح کی حراست کے حق میں کوئی قانونی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔

کانپور پولیس نے انسانیت کو کیا شرمسار، معذور خاتون سے 10 ہزار کا ڈلوایا ڈیزل

0
کانپور پولیس نے انسانیت کو کیا شرمسار، معذور خاتون سے 10 ہزار کا ڈلوایا ڈیزل
کانپور پولیس نے انسانیت کو کیا شرمسار، معذور خاتون سے 10 ہزار کا ڈلوایا ڈیزل

اترپردیش کی کانپور پولیس نے ایسا کارنامہ کیا جس سے خاکی شرمسار ہوگئی ہے۔ معذورخاتون سے بیٹی کو تلاش کرنے کے نام پر پولیس کی گاڑی میں 10 سے 12 ہزار روپے کا ڈیزل ڈلوایا گیا۔

کانپور: اترپردیش کی کانپور پولیس نے ایسا کارنامہ کیا جس سے خاکی شرمسار ہوگئی ہے۔ یوگی سرکار اور پولیس محکمہ کو شرمندہ کرانے کا ایسا ہی ایک معاملہ کانپور ڈی آئی جی آفس میں دیکھنے کو ملا جب ایک معذور خاتون رو رو کر اپنی بچی کو ڈھونڈنے کے لئے التماس کررہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ صاحب ایک مہینہ ہوگیا ہے اب تو ہماری بچی سے ہمیں ملوادو۔

اس نے یہ بھی کہا کہ صاحب پولیس والے بھیا ڈیزل کے پیسے مانگے تھے، میں نے وہ بھی دے دئے پھر بھی میری بچی کو ڈھونڈ کر نہیں لارہے ہیں۔ متاثرہ معذور خاتون کی بات سن کر ڈی آئی جی پریتندر سنگھ بھی دنگ رہ گئے۔ انہوں نے متاثرہ معذور خاتون کو بٹھایا اور اسے پانی پلایا اور پھر اس کا مسئلہ سنا اور جلد از جلد بچی کی تلاش کی یقین دہانی کرائی۔

معذور خاتون نے تھانہ چکیری کی چوکی سنگواں کے چوکی انچارج راجپال سنگھ پر لگائے گئے سنگین الزامات کے پیش نظر معذورخاتون کے سامنے ہی فوری اثر سے لائن حاضر کرکے محکمانہ تحقیقات کا حکم دیا۔ پھر پولیس اسکاٹ سے معذورخاتون کو گھر تک چھوڑنے کی ہدایت بھی موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کو دی۔

کانپور کے تھانہ چکیری کے تحت سنیگوان کی رہائشی معذور بیوہ بزرگ گڑیا کی نابالغ بیٹی ایک ماہ سے لاپتہ ہے، جس کی تھانے میں بھی گمشدگی بھی درج کی گئی تھی۔ معذور خاتون نے اپنے ہی دور کے ایک رشتہ داروں پر بیٹی کو غائب کرنے کا الزام لگایا تھا۔

چوکی جانے پر اسے ڈانٹ کر بھگادیا جاتا تھا

لیکن پولیس اس طرف توجہ نہیں دے رہی تھی۔ چوکی جانے پر اسے ڈانٹ کر بھگادیا جاتا تھا۔ معذور خاتون گڑیا نے بتایا کہ وہ پولیس سے مسلسل بیٹی کو تلاش کرنے کی التجا کررہی تھی لیکن پولیس نے بیٹی کو تلاش کرنے کے نام پر اس سے گاڑی میں ڈیزل ڈلوانے کی بات کہی اور اس نے وہ بھی کیا اور تقریباً 10 سے 12 ہزار روپے کا ڈیزل پولیس کی گاڑی میں ڈلوا چکی ہے۔

خاتون نے یہ بھی بتایا کہ ایک دوبار پولیس والے گاڑی سے بیٹی کو لینے کے لئے گئے بھی تھے لیکن اسے لے کر نہیں آئے۔ اس نے بتایا کہ اب اس کے پاس پیسے نہیں ہیں اب وہ ڈیزل کہاں سے ڈلوائے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ لکھنؤ میں وزیراعلیٰ کے آفس تک شکایت کرنے کے لئے گئی تھی لیکن وہاں سے بھی کچھ نہیں ہوا اور واپس اسے پھر چوکی جانا پڑا جہاں اس کے ساتھ پولیس والے صرف گالی گلوچ کرتے ہوئے ڈانٹ کر بھگادیتے ہیں اور بیٹی پر ہی غلط ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔

اس پورے معاملے کے بارے میں، ڈی آئی جی کانپور، پریتندر سنگھ نے بتایا کہ تھانہ چکیری پر مقدمہ درج ہے لڑکی کی بازیابی کے لئے سی او کیٹ کی ہدایت میں چار ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور چوکی انچارج سنیگواں راجپال سنگھ کو لائن حاضر کرکے محکمانہ تحقیقات کا حکم دیا گیا۔

ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی دوبارہ ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی

0
ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی دوبارہ ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی
ہنگامے کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی دوبارہ ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی

اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے وقفہ صفر اور وقفہ سوالات کے دوران کسانوں کی تحریک کا معاملہ اٹھایا جس کی وجہ سے پہلی بار ایوان کی کارروائی ساڑھے دس بجے اور دوبارہ کارروائی شروع ہونے پر ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوری کردی گئی۔

نئی دہلی: راجیہ سبھا میں منگل کو اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے کسانوں کی تحریک کے سلسلے میں زوردار ہنگامہ کیا جس کے سبب ایوان کی کارروائی دوبارہ ملتوی کردی گئی۔

اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے وقفہ صفر اور وقفہ سوالات کے دوران کسانوں کی تحریک کا معاملہ اٹھایا جس کی وجہ سے پہلی بار ایوان کی کارروائی ساڑھے دس بجے اور دوبارہ کارروائی شروع ہونے پر ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوری کردی گئی۔

اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے اس دوران ایوان کے بیچوں بیچ آکر شدید ہنگامہ اور نعرے بازی کی۔ پہلی بار اسپیکر ایم وینکیا نائیڈو اور دوسری بار ڈپٹی اسپیکر ہری ونش نے کارروائی ملتوی کردی۔ ہنگامے کے دوران ارکان سے بار بار اپنی نشست پر جانے کی اپیل کی گئی اور کل کسانوں کے معاملے کو اٹھانے کی اپیل کی گئی۔

اس سے قبل اسپیکر ایم وینکیا نائیڈو کے اس معاملے پر اجازت نہ دینے پر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان واک آؤٹ کر گئے۔ اس کے بعد وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان ایوان میں آگئے اور ہنگامہ کرنے لگے۔ مسٹر نائیڈو نے کہا کہ ارکان اس معاملے پر ایوان سے واک آؤٹ کرگئے تھے اور انہیں وقفہ سوالات کے دوران ایوان میں ہنگامہ نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے ارکان سے تعاون کی درخواست کی اور کہا کہ وہ بدھ کو ایوان میں اس معاملے کو اٹھا سکتے ہیں۔

ارکان کا ہنگامہ جاری رہنے پر مسٹر نائیڈو نے ایوان کی کارروائی ساڑھے دس بجے تک ملتوری کردی۔ اسی دوران پارلیمانی امور کے وزیر پرلہاد جوشی نے بھی ارکان سے کسانوں کی تحریک پر اپنی باتیں رکھنے کی اپیل کی۔

اس سے قبل وقفہ صفر کے دوران ترنمول کانگریس کے سکھیندو شیکھر رائے، راشٹریہ جنتادل کے صدر منوج جھا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ونے وشوم اور کئی ارکان نے یہ معاملہ اٹھایا تھا۔

واضح رہے کہ کسان مرکزی حکومت کے تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج میں گزشتہ دو ماہ سے زیادہ عرصے سے راجدھانی دلی کی سرحدوں پر دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں اور تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔